نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

جمہوریت اپنے آئینے میں | پہلا حصہ

by مولانا سیّد محمد میاں
in جنوری 2022, جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
0

اسلامی مملکت میں جملہ اختیارات ایک ہی کو دیے جاتے ہیں۔اس کو امام کہا جاتا ہے، جو پوری مملکت کا واحد سربراہ ہوتا ہے۔ قرآنِ پاک کی تعلیم یہ ہے کہ وہ سربراہ اقتدار میں سب سے اعلیٰ ہو تو تقویٰ، پرہیزگاری اور خدا ترسی میں بھی اس کو سب سے بلند ہونا چاہیے۔

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (سورة الحجرات:۱۳)

’’ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ ‘‘

علما نے امام کے لیے چند شرطیں اسی لیے قرار دی ہیں کہ حتی الامکان قرآن پاک کی تعلیم کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ مثلاً عاقل، بالغ، تندرست، صحیح الحواس، صاحبِ ہمت، صاحبِ حوصلہ، صائب الرائے، سیاسی امور کا واقف و ماہر، جنگ و صلح کے نشیب و فراز سے باخبر، خلقِ خدا کا ہمدرد، عوام کا خیر خواہ، مختلف طبقات کےمزاجوں سے واقف ہونے کے علاوہ اہم شرط یہ ہے کہ اس میں عدل ہو۔ یعنی پابندِ شرع ہو۔ اسلامی اخلاق کا حامل ہو، کبائر کا مرتکب نہ ہوتا ہو۔ بتقاضائے بشریت گناہ ہو جائیں تو فوراً توبہ کر لے، کسی گناہِ صغیرہ کا بھی عادی نہ ہو، عالم ہو اور اسلامی علو م میں بصیرت رکھتا ہو۔1

وزیرِ اعظم کی جو حیثیت ہندوستان جیسے آج کے جمہوری ممالک میں ہے کہ پارلیمنٹ یا اسمبلی میں جس سیاسی پارٹی کو اکثریت حاصل ہو ، اس کا لیڈر وزیر اعظم یا چیف مِنسٹر ہو، اسلامی تعلیمات میں اس طرز کی اگر ممانعت نہیں کی گئی تو اس کی ہدایت بھی نہیں کی گئی۔

جمہوریت پر ایک نظر

کوئی بھی موسم ہو اس میں اس موسم کے خاص پھل کی بہار ہوتی ہے۔ زبانوں پر ا س کا تذکرہ ہوتا ہے، دلوں میں اس کی رغبت اور خواہش، بازار اور منڈیوں میں اس کی کثرت ہوتی ہے۔ تجربہ نے چہرۂ جمہوریت کے خوشنما اور دلکش غازے کو بڑی حد تک کھرچ دیا ہے، مگر تقریباً چالیس سال پہلے کا دور وہ تھا جس میں یورپ کی استعمار پسند حکومتیں دنیا پر چھائی ہوئی تھیں۔ وہ دور تصورِ جمہوریت کا موسمِ بہار تھا۔

شکنجۂ استعمار میں کسی ہوئی قوموں کے مضطرب جذبات تصورِ جمہوریت کا استقبال کر رہے تھے۔اور یہ تصور اہلِ دانش، اہلِ نظر اور اصحابِ فکر کی عقل و دانش پر یہاں تک چھایا ہوا تھا کہ وہ کھینچ تان کر اسلام کو بھی اپنی ہی صف میں کھڑاکرنا چاہتے تھے کہ جمہوریت کے جس تخیل کو وہ متاعِ بے بہا سمجھ رہے ہیں، اسلام بھی اس کی تعلیم دیتا ہے اور بازارِ سیاست میں اس کا خریدار ہے۔

لیکن اگر ہم جذبات سے بالا ہو کر حقیقت کو سامنے رکھیں تو حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مذہب جمہوریت کی موافقت نہیں کر سکتا۔ جس طرح جمہوریت……اگر صحیح معنی میں جمہوریت ہے تو وہ مذہب کے تابع نہیں ہو سکتی۔کیونکہ ہم جمہوریت کے ثناخواں و مدّاح اس لیے ہوتے ہیں کہ اس میں عوام کو آزادی میسر آتی ہے۔ رائے کی آزادی، فکر کی آزادی، تحریر کی آزادی، تقریر کی آزادی، مطلق العنان حریت یعنی بے لگام آزادی۔ حالانکہ کوئی بھی مذہب اس مطلق العنان، بے لگام اور منہ چھوٹ آزادی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ہر ایک مذہب اخلاق کا طوقِ زرّیں انسان کے گلے میں ڈالتا ہے۔ اس کا اصل اصول ہوتا ہے پابندی، فرمانبرداری، ضبط و کنٹرول، ایثار اور قربانی۔ اس کے برعکس مطلق العنان آزادی جو جمہوریت کا طرّۂ امتیاز مانی جاتی ہے، رفتہ رفتہ آوارگی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

آپ تحقیق فرمائیں تو مہذّب ترین جمہوری ممالک کاروباری ضابطوں اورقاعدوں میں وہ خواہ کتنے ہی با اصول ہوں ، مگر اخلاق، کردار، روحانیت، خوفِ خدا اور خدا پرستی کے لحاظ سےوہ آوارہ اور شورہ پشت ہیں۔

بے شک جمہوریت کا یہ رخ قابلِ قدر ہے کہ اصولاً ایک فرقے کو دوسرے پر مسلّط نہیں کرتی۔ اگرچہ عملاً اس سے نجات بھی نہیں مل سکتی۔ کیونکہ اکثریت اگر کسی ایک فرقے سے تعلق رکھتی ہےتو وہ لامحالہ اپنی چھاپ جمہوریت پر ڈال دیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھنے لگتی ہے کہ جمہوریت کے معنی ہیں اکثریت کے ہم رنگ ہونا۔

فریبِ نظر اور طلسم

جمہوریت اور ڈیموکریسی کے ثنا خواں جمہوریت کی خوبی یہ بیان کرتے ہیں کہ جمہوریت میں اقتدارِ اعلیٰ جمہور کو حاصل ہوتا ہے۔ حکومت جمہور کی ہوتی ہے، اصل اختیارات جمہور کو حاصل ہوتے ہیں، وہ اپنےلیے اپنی مرضی کے مطابق دستورِ اساسی(constitution) اور قانون تجویز کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت پسندانہ نظر ڈالی جائے تو یہ تمام الفاظ طلسم اور جادو کے منتر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ جو دماغوں کومسحور ضرور کر لیتے ہیں ، مگر حقیقت اور واقعیت سے آشنا نہیں ہوتے۔

جمہور کے پاس ووٹ کی طاقت ضرور ہوتی ہے، مگر کیا اس حقیقت سے انکار ہو سکتا ہےکہ جس طرح گِری نکال دینے کے بعد بادام کا چھلکا، کوڑا کرکٹ یا ایندھن بن جاتا ہے، ووٹ دینے والے بھی ووٹ دینے کے بعد بے مغز پوست بلکہ گردِ پا بن جاتے ہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ مغز ہی اصل ہے، بادام کی گِری ہی بادام کا حاصل ہے۔ اگر گری کام آ رہی ہے تو بادام بے کار نہیں گیا اور ضائع نہیں ہوا۔ عوام کے نمائندے اگر قانون بنا رہے ہیں تو وہ قانون عوام ہی کا بنا ہوا قانون ہے۔ اگر وہ نمائندے حکومت کر رہے ہیں تو وہ عوام ہی کی حکومت ہے۔

مگر کیا واقعی یہی ہوتا ہے کہ قانون عوام کے نمائندے بناتے ہیں اور عوام کے نمائندے ہی حکومت کرتے ہیں؟ کون نہیں جانتا کہ ۸۰ فیصد نمائندے وہ ہوتے ہیں جو قانون بنانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ سینکڑوں ممبروں کے ایوان میں چند افراد کی کمیٹی بنا دی جاتی ہےجو قانون کا مسودہ تیار کرتی ہے۔ اصل واضعِ قانون یہ کمیٹی ہوتی ہے۔ دس پندرہ فیصد وہ ہوتے ہیں جو قانون کو سمجھتے ہیں، باقی تعداد جو سینکڑوں کی ہیبت انگیز اور مرعوب کن تعداد ہوتی ہے، اس دس فیصد کی تقلید کرنے والی ہوتی ہے۔

مثلاً جمہوریۂ ہند کا دستورِ اساسی جس پر مفکرینِ ہند کو ناز ہے اور جس کا وہ ساری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، بے شک وہ مجلسِ دستور ساز کا منظور کردہ ہے جس کے ارکان کی تعداد تقریباً پانچ سو تھی جس میں اقلیتوں کو بھی مناسب نمائندگی دی گئی تھی، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کا مسوّدہ ایک کمیٹی نے تیار کیا اور کمیٹی کے ارکان نےبھی سہولت کارکے لیے تدوین اور ترتیب کا کام ایک قابل شخص(ڈاکٹر امبیدکر) کے سپرد کر دیا تھا۔ مسوّدہ تیار کرنے میں کمیٹی کے ارکان بھی وقتاً فوقتاً ان کی مدد کر دیتے تھے۔ بے شک وہ مسوّدہ ارکان کے سامنے پیش کیا گیا،اسمبلی کے اجلاس میں اس کی ایک ایک دفعہ پڑھی گئی۔ اس میں ترمیمات بھی ہوئیں ، لیکن یہ سب نقش و نگار کی تبدیلیاں تھیں۔ بنیادی ستون وہ رہے جن کی بنیاد ڈاکٹر امبیدکر نے ڈالی تھی۔

اور اگر ہم اس نمائش ہی کو حقیقت گردان لیں اورتسلیم کر لیں کہ دستورِ اساسی دستور ساز اسمبلی ہی کے ارکان نے مرتب کیا تھا اور ہر ایک رکن وضع قانون اور ترتیب دستور اساسی کی پوری صلاحیت رکھتا تھا، اور اس نے تدوین و ترتیب میں پوری توجہ اور دماغ سوزی سے کام لیا۔ تب بھی ظاہر ہے کہ اس دستور اساسی اور اس کی دفعات کی منظوری اکثریت کی رائے پر موقوف تھی اور ایوان میں اگرایک پارٹی مثلاً کانگریس کی اکثریت تھی تو یہ دستورِ اساسی ایک پارٹی کا دستور ہوا اور جمہوریت کا مصداق صرف یہی اکثریت ہوئی۔2

یہ دستورِ اساسی کے وضع و ترتیب کی صورت تھی جس کو تمام قوانین میں بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ جملہ قوانین اس ڈھانچے کا گوشت پوست ہوتے ہیں جو دستور ساز اسمبلی دستورِ اساسی کی صورت میں تیار کرتی ہے۔

دستورِ اساسی کے علاوہ عام قانون جو اجلاسوں میں پیش ہو کر منظور ہوتے رہتے ہیں اور جمہوریت کے نام پر انہیں جمہور کے سر تھوپا جاتا ہے، ان کے واضعین درحقیقت وہ چند افراد ہوتے ہیں جو کابینہ(cabinet) کے رکن ہوتے ہیں۔ کابینہ کا پیش کردہ مسوّدۂ قانون پارٹی کو لامحالہ منظور کرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس کو مسترد کرنے کے معنی ہوتے ہیں گورنمنٹ پر بے اعتمادی ظاہر کرنا۔مختصر یہ کہ عوامی حکومت اور جمہور کے اقتدارِ اعلیٰ کے نعرے صرف نمائشی ہوتے ہیں اور حقیقت یہ ہوتی ہےکہ اقتدارِ اعلیٰ چند افراد کے چھوٹے سے حلقے میں سمٹ کر رہ جاتا ہے۔

بے شک اسلام جمہوریت کا حامی ہے، بلکہ بانی ہے مگر اس کے معنی یہ ہیں:

  • تمام انسان درجۂ انسانیت میں مساوی ہیں، وہ کالے ہوں یا گورے، عرب ہوں یا عجم،مشرقی ہوں یا مغربی، سب ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔

  • ایک انسان کا درجہ دوسرے انسان سے اگر بلند ہے تو وہ رنگ ، نسل، دولت، ثروت یا کسی جغرافیائی بنیاد پر نہیں، بلکہ درجہ اگر بلند ہو سکتا ہے تو صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر اور اللہ تعالیٰ کے یہاں درجہ کی بلندی تقویٰ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

  • بادشاہت، اقتدارِ اعلیٰ کو نسل اور خاندان کے تابع کرتی ہے کہ باپ بادشاہ تھا تو بیٹا بھی بادشاہ ہو گا۔ اسلام اس سے نفرت کرتا ہے۔ ملک الاملاک اور شہنشاہ جو دنیا میں سب سے زیادہ با عظمت لفظ ہے، اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ قابلِ نفرت ہے3۔ وہ اقتدارِ اعلیٰ کو صلاحیت اور قابلیت کے تابع کرتا ہے۔(البقرۃ آیت ۲۴۷)

  • ہر شخص ذمہ دار ہے، وہ اپنی ذمہ داری کے بارے میں جوابدہ ہے، غریب ہو یا امیر، حاکم ہو یا محکوم۔

  • امام (سربراہِ مملکت) مملکت کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے، مگر وہ مشورے کا پابند ہے اور مسلمانوں کے تمام معاملات مشورے سے طے پاتے ہیں۔

وضعِ قانون

اگر کسی ایک شخص کو یہ حیثیت نہیں دی جا سکتی کہ وہ خلقِ خدا کا مالک ہو اور جو کچھ وہ کہہ دے، قانون بن جائے، اگر اس کو استبداد اور جبر و قہر کہا جاتا ہے تو چند افراد کو بھی یہ حیثیت نہ ملنی چاہیے کہ وہ قانون ساز بن کرخلقِ خدا کی جانوں اور ان کی ملکیتوں میں تصرف کریں۔ واضعِ قانون خود تصرف نہیں کرتا، کسی کو پھانسی، کسی کی جان بخشی، کسی کے قید و بند، کسی کے مال ضبط کر لینے اور کسی پر جرمانہ کر دینے کا عمل وہ خود نہیں کرتا، مگر جب ان امور کے ضابطے اور قاعدے مقرر کر کے تصرف کرے والے کے تصرف کو جائز قرار دیتا ہے تو یہ خود ایسا عمل ہے جس کا دائرۂ اثر اس کے اپنے تصرف سے بھی زیادہ وسیع ہے۔

کسی کا گلا گھونٹ کر مار ڈالنا ظالمانہ تصرف ہے۔ مگر اس کا مظلوم یعنی اس سے متاثر ہونے والا صرف ایک شخص ہے، مگر ایسا ضابطہ بنا دینا کہ فلاں عمل کرنے والے کو گولی مار دی جائے اور فلاں عمل کرنے والے کی جائیداد ضبط کر لی جائے، ایسا تصرف ہے جس کا تختۂ مشق ایک دو نہیں بلکہ لاتعداد اوربے شمار انسان ہوتے ہیں، کون نہیں جانتا کہ کسی آرڈیننس کا جاری کر دینا ایسا تصرف ہے جو پورے ملک کے تمام باشندوں کو متاثر کرتا ہے۔

اسلام جس طرح ملوکیت اور شہنشاہیت کو انسانی بھائی چارے اور انسانی مساوات کے خلاف سمجھتا ہے، وہ افرادِ انسان کی کسی جماعت یا کسی کمیٹی کو بھی وضع دستور اساسی کا اختیار دینا مساواتِ انسانی کے خلاف سمجھتا ہے۔

ان کا علم محدود، مستقبل کی ان کو خبر نہیں، حال پر بھی ان کا پورا اختیار نہیں، وہ انسانی طبقات کے مختلف جذبات سے ناواقف، فطری رجحانات جو ایک ہی نوع کے مختلف حلقوں میں ہوتے ہیں، ان سے بھی وہ پوری طرح باخبر نہیں۔ وہ اپے جیسے انسانوں کے لیے قانون بنائیں اور ان کی گردنیں دستوری دفعات کے شکنجے میں کسیں۔ مساواتِ انسانی کا نازک نظریہ اس کو برداشت نہیں کرتا۔ اسی لیے وہ وضعِ قانون کا اختیار صرف اس کو دیتا ہے جو حقیقی مالک ہے۔ اور چونکہ وہ خالق ہے لہٰذا وہ ان تمام جذبات و رجحانات سے واقف ہے جو انسانوں کے مختلف طبقات اور نوعِ انسانی کی مختلف صنفوں میں ہوتے ہیں اور چونکہ وہ خالق و مالک ہے، اس کو حق ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے بارے میں جو چاہے فیصلہ کرے اور جو چاہے ان کے لیے دستور بنائے۔

انسان کا انسان کے لیے قانون بنانا سراسر بے محل اور ایک طرح کا جبر و قہر ہے، اس لیے قرآن حکیم ان سب کو ظالم و فاسق یا کافر قرار دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مرتّب کردہ دستورِاساسی کے خلاف کوئی دستوربنائیں یا ایسے دستور کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلۂ خداوندی کے خلاف کوئی فیصلہ صادر کریں۔(سورۃالمائدۃ: آیت ۴۴ تا ۴۷)

اس نظریہ اور فکر کے بموجب جب انسان کو قانون سازی کا حق نہیں ہےتو ظاہر ہے کہ اس کے دائرۂ اقتدار میں نہ دستور ساز اسمبلی ہو گی، نہ آئین ساز کونسل، نہ ان کے انتخابات ہوں گے اور نہ وہ بے پناہ مصارف ہوں گے جو پارلیمنٹ، کونسل، ان کے عہدیداروں، وزرا اور مِنسٹروں پر ہوتے ہیں یا ان کے انتخابات کے سلسلے میں برداشت کیے جاتے ہیں۔

دستورِ اساسی

اسلامی نقطۂ نظر سے قرآن حکیم دستورِ اساسی ہے جس کی تشریح آنحضرتﷺ کے ارشادات، پھر حضرات خلفائے راشدین کے طریقہ ہائے کار اور جماعتِ صحابہ کے طرزِ عمل نے کی۔ اسی کا نام الشریعۃ، الدین اور السنۃ ہے۔

اسی دستورِ اساسی کی موجودگی میں کوئی اور دستور وضع نہیں کیا جائے گا۔ البتہ پیش آنے والے معاملات کے مطابق اسی دستور کے اصولِ مسلمہ سے ضابطے اور قاعدے اخذ کیے جائیں گے اور ان کی روشنی میں معاملات کے فیصلے ہوں گے۔

مجلسِ آئین ساز کے بجائے عدالتِ عالیہ

اپنی جان، اپنامال، غیر کی جان اور اس کا مال، رشتہ دار، پڑوسی، شہری، ملکی غیر ملکی، غیر مسلم وغیرہ کے حقوق، فرائض جرائم کی حیثیت، ان کی سزائیں، جنگ و صلح کے بنیادی ضابطے، خرید و فروخت، ہبہ، عاریت، اجارہ، تحفظ، نسل، ازدواجی تعلقات وغیرہ کے ضابطے اور اصول قرآن حکیم اور سنت نبویہ(علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) نے مقرر کر کے نوعِ انسان کو وضعِ دستور اور قانون سازی کی الجھنوں سے آسودہ اور اس کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا ہے۔ صرف وہ کام باقی ہےجو کسی قانون کے پیشِ نظر عدالت کو کرنا پڑتا ہے۔

پیش آنے والے معاملات میں ہماری عدالتیں، پارلیمنٹ یا اسمبلی کے وضع کردہ دستور یا قانون کو تلاش کرتی ہیں، اس کا منشا سمجھتی ہیں اور اس کی رہنمائی میں فیصلہ کرتی ہیں۔ اسلامی عدالتیں قرآن اور سنّت کی روشنی میں فیصلہ کریں گی۔

اراضی کی ملکیت، ملکیت کی نوعیت، واجبات یعنی پیداوار کے سلسلے میں سرکاری مطالبات، افتادہ اراضی، کانوں اور چشموں کی حیثیت، پہاڑ، دریا، ان کی قدرتی پیداوار وغیرہ کے متعلق سوالات پیدا ہوئے۔ امام ابو یوسفؒ نے کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ کی روشنی میں ایک مجموعۂ قانون مرتب کر دیا جو کتاب الخراج کے نام سے مشہور ہے۔ خلافتِ عباسیہ کے دور میں اسی نے آئین کی حیثیت اختیار کر لی۔ پیش آنے والے سوالات کے متعلق مجلسِ قانون ساز کی ضرورت نہیں ہوئی بلکہ اسی آئین کے مضمرات سے جوابات اخذ کیے گئے اور انہیں کو بائی لاز (by-laws) اور ضمنی قوانین کی حیثیت دی گئی۔

اسلامی نظامِ حکومت کا مقصد

دستورِ اساسی (کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ) اور عدالتِ عالیہ کےبعد معاملہ صرف نفاذکا رہ جاتا ہے، جس کے لیے انتظامی عملے کی ضرورت ہے،مقنّنہ کی نہیں۔ اسلامی حکومت کا پورا نظام اس لیے ہوتا ہےکہ قانونِ اسلامی کو نافذ کرے اور جو حکومت اس مقصد کے لیے ہو، وہی اسلامی حکومت ہے۔

تشکیلِ حکومت اور سربراہِ مملکت

قرآن حکیم یا احادیثِ مقدسہ نے تشکیلِ حکومت کے لیےکوئی خاص ضابطہ مقرر نہیں کیا۔ صرف ایک بنیادی تعلیم دی ہے کہ سربراہ کا تقرر نسل اور خاندان کی بنا پر نہ ہو، اہلیت اور صلاحیت کی بنا پر ہو۔یہ سربراہ کس طرح بنایا جائے، کتاب و سنّت نے اس کو بھی موضوعِ بحث نہیں بنایا، البتہ سربراہ کے اوصاف بیان کر دیے ہیں اور اس کے فرائض مقرر کر دیے ہیں۔ اب

  • اسلامی مملکت کا سربراہ عوام کی آرا سے بھی منتخب کیا جا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ مدارِ انتخاب وہ اوصاف ہوں جو اسلامی مملکت کے سربراہ میں ہونے چاہییں، جو آغازِ مضمون میں بیان کیے گئے ہیں۔

  • یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سربراہ جو ان اوصاف کا حامل ہو انتخاب کے قصّے میں نہ پڑے اور خود اپنی جانب سے اپنا کوئی ایسا قائم مقام نامزد کر دے جو اِن اوصاف کا حامل ہو اور عوام میں متعارف ہو۔

  • یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سربراہ جو اوصافِ سربراہی کا صحیح طور پر حامل ہو ، اپنی جانب سے کچھ اہل الرائے حضرات کو نامزد کر دے کہ وہ آئندہ کے لیے کوئی سربراہ نامزد کر دیں جو اوصافِ سربراہی سے متصف ہو۔

اسلام جبر و قہر کی اجازت نہیں دیتا، لیکن اگر کوئی اپنی طاقت کے بل بوتے پر سربراہ بن جائے تو مسلمان اس کی قیادت تسلیم کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے اور ایسے اوصاف کا حامل ہو جوفرائض ادا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

مشورہ اور ارکانِ مشورہ( شوریٰ)

اسلام نے جس طرح تشکیلِ حکومت کو کسی خاص نوعیت کے ساتھ مخصوص بیان کیا اسی طرح ارکانِ شوریٰ کے انتخاب یا نامزدگی کا بھی کوئی ضابطہ مقرر نہیں فرمایا اور واقعہ یہ ہے کہ جن امور کا تعلق الٰہیات (اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات) اور عبادات سے نہیں ہے ، بلکہ ان کا تعلق تجربات اور مشاہدات سے ہے، اسلام نے ایسے امور میں فکرِ انسانی کو آزاد چھوڑا ہے۔ بہر حال اگرچہ ارکانِ شوریٰ کے انتخاب وغیرہ کے بارے میں کوئی ضابطہ مقرر نہیں کیا، مگر سربراہ پر یہ لازم کر دیا ہےکہ وہ اپنے ہر ایک منصوبے کے متعلق مشورہ کرے، عمل کرنے کا عزم اس وقت کرے جب پہلے مشورہ کر لے……پہلے مشورہ……پھر خدا پر بھروسہ……ان دو کے بیچ میں عزم ہونا چاہیے۔(سورۃ آلِ عمران آیت ۱۵۹)

پھر مشورہ کو یہاں تک اہمیت دی ہے کہ اس معاملہ کو مسلمانوں کا معاملہ ہی نہیں قرار دیا جو آپس کے مشورے سے طے نہ ہو۔(سورۃ الشوریٰ آیت ۳۸)

جب کہ مجلسِ شوریٰ کے لیے کوئی ضابطہ مقرر نہیں، تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ:

  1. ارکانِ شوریٰ کا انتخاب عوام کی رائے سے ہو۔ بشرطیکہ مدارِ انتخاب ان کے وہ اوصاف ہوں جو اسلامی مملکت کے مشیر کے ہونے چاہییں۔

  2. اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ الگ الگ انتظامی حلقے ہوں اور ان حلقوں کے سربراہ پوری مملکت کے سربراہ کا انتخاب کریں۔

آنحضرت ﷺ کے دورِ مسعود میں کچھ حلقے ہوتے تھے، ان حلقوں کے سربراہ کو نقیب کہا جاتا تھا۔آنحضرت ﷺ نے اسیرانِ ہوازن کے متعلق عوام کی رائےمعلوم کرنی چاہی تو مجمعِ عام میں پکار دیا گیا تھا کہ ’’ہم راضی ہیں‘‘، اس پر اعتماد نہیں فرمایا بلکہ ان عرفاء (امیرانِ قبیلہ یا محلّہ) کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے طور پر اپنے اپنے حلقے میں فرداً فرداً ہر ایک کی رائے معلوم کریں ۔ جب ان کی رپورٹیں موصول ہو گئیں تب آنحضرتﷺ نے فیصلہ فرمایا4۔

  1. اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سربراہِ مملکت ان لوگوں کو خود نامزد کر دے جو ووٹنگ کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے اخلاق، کردار، اپنی قابلیت، صلاحیت اور خدمات کی وجہ سے اوپر آ چکے ہوں اور بہتر کردارکے مالک ہونے کی وجہ سے وہ ممتاز شخص بن چکے ہوں۔

  2. ایک شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نامزد یا منتخب کسی کو بھی نہ کیا جائے بلکہ ہر پیش آنے والے معاملے میں، اس معاملے سے تعلق رکھنے والے صاحبِ بصیرت اور تجربہ کار حضرات کو دعوت دی جائے اور ان سے فیصلہ کرایا جائے۔

کتاب و سنت کے اشارات کے بموجب سب سے اہم اور سب سے بنیادی بات سربراہ کا تقویٰ ہے۔ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ نوعِ انسانی اور خدا کا ہمدرد ہو، صاحبِ بصیرت، دیانتدار، باحوصلہ اور بیدار مغز ہو اور فرائض کی لگن رکھتا ہو۔

اگر مملکت کو اس طرح کا سربراہ میسر آ گیا ہو تو نہ اس کو پارلیمنٹ کی ضرورت ہے، نہ مجلسِ وزرا کی۔ خصوصاً نمبر ۳ و نمبر ۴ والی صورتیں اس وقت صحیح قرار دی جا سکتی ہیں، جب سربراہ میں اخلاص، کردار اور پاکبازی ہو۔ مقصد یہ ہے کہ باخدا اور خدا ترس ڈکٹیٹر ہزاروں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں سے بہتر ہے۔ خوفِ خدا نہ ہو تو سب بیکار۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)


1 ازالۃ الخفاء، حجۃ اللہ البالغہ و شرح عقائد نسفی وغیرہ

2 آج ہندوستان میں بی جے پی یہی دعویٰ کر رہی ہے اور بی جے پی بھی جو قوانین و اصلاحات لا رہی ہے اس کی بہت سی دیگر پارٹیاں مخالف ہیں لیکن بی جے پی کے پاس اکثریت کا ’اختیار‘ ہے۔ (ادارہ)

3 صحیح البخاری

4 صحیح البخاری

Previous Post

بھارت کی ہندُتوا تحریک نسل کشی کی تیاری کے مراحل میں

Next Post

عافیہ صدیقی، مظلوم بہنو اور اے امت کے نوجوانو!

Related Posts

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | بارہویں اور آخری قسط

14 جولائی 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط

9 جون 2025
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | دسویں قسط

26 مئی 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | نویں قسط

31 مارچ 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | آٹھویں قسط

14 مارچ 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | ساتویں قسط

15 نومبر 2024
Next Post

عافیہ صدیقی، مظلوم بہنو اور اے امت کے نوجوانو!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اکتوبر ۲۰۲۵ء

اکتوبر 2025ء

by ادارہ
4 نومبر 2025

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2025 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version