جب میں ظالم و وحشی درندوں کے آہنی پنجروں میں بند تھا، تو کبھی کبھی درد و الم کا احساس مجھ پر حاوی ہو جایا کرتا ، اور پھر یہ درد و الم میرے دل کی دنیا میں برداشت سے باہر ہو جاتا تھا۔ کبھی کبھی میں اپنے تصور کے رنگ و نور کی دنیا میں، ہمت و غیرت کے راستے پر اپنے قدم ڈال دیتا۔ پھر میں ابطالِ امت کے سجائے مزاحمت و مقاومت کرتے سنگروں پر جا پہنچتا اور وہاں سے بے دین و بے حمیت شیطان نما انسانوں سے جنگ کیا کرتا۔ میں ان مورچوں پر زخمی مجاہدوں کی مرہم پٹی کیا کرتا اور شہید ہو جانے والے بہادروں کے خون سے پھوٹتی قیمتی مشک کو سونگھتا، ایک عظیم جذبہ میرے دل میں پیدا ہو جاتا اور پھر میں آسمان جیسے بلند ایثار و قربانی کے احساس کا مزہ پاتا۔
کبھی کبھی میں عشق کے کوہِ طور پر چلا جاتا، وہاں امت کے بے حس نوجوانوں کا سوچتا اور پھر اس عشق کے کوہِ طور پر بیٹھ کر اپنے رب سے ان جوانوں کا شکوہ کرتا اور ان کے لیے اپنے رب کے سامنے آنسو بہاتا!
کبھی کبھی میں پابہ سلاسل اور زنجیروں میں جکڑی عافیہ صدیقی اور اپنی دیگر غیرت مند بہنوں کے پنجروں کے سامنے جاتا اور چیخ چیخ کر روتا اور ان کے سامنے بے غیرت اور بے غم جوانوں کی شکایت کرتا۔
کبھی کبھی میں زندان کے اندھیرے اور وحشت ناک پنجروں کی فضا میں، اپنے دل کی روشن دنیا میں بیٹھ کر اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے جوانوں سے گِلے کرتا تو کبھی ان قیمتی نوجوانوں کو نصیحتیں۔
اے مسلمان نوجوان!
کیا تم جانتے ہو کہ اگر ایک نوجوان کے احساس و وجدان کو بے غیرتی و ذلت کی زنجیروں سے جکڑ دیا جائے اور یہ نوجوان خواہشاتِ نفسانی کے اندھیرے اور بد بخت قید خانے میں شام و سحر کرتا ہو تو یہ کتنا تکلیف دہ امر ہے؟ ایسی زندگی کیسی ذلت آمیز اور کیسی بد مزہ ہو گی؟
اے آرام دہ زندگی کے خوگر مسلمان نوجوان!
کیا تم جانتے ہو کہ کہ ایک طرف وہ باشعور نوجوان ہے جو زنجیروں در زنجیروں میں جکڑی ہوئی زندگی کے باوجود ایک آزاد اور غیرت مند ضمیر رکھتا ہے اور اپنے مظلوم مسلمان قیدیوں بالخصوص قیدی بہنوں کی خاطر آنسو بہاتا ہے اور خود کو اور اپنے اوپر بیتتے ظلم کو ،ستم کو بھول جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایک ایسا نوجوان ہے جو بدقسمتی سے آزاد ہے، راحتوں سے بھری آسودہ زندگی گزارتا ہے، اس کے پاس صحت بھی ہے، مال بھی ہے اور بہت سی اور نعمتیں بھی ، لیکن اس کا ضمیر مغرب کے خطرناک میڈیا اور نفسانی خواہشات کی سیاہ اور میلی گرد تلے دبا ہوا ہے اور یہ سب اسے مظلوموں کے دفاع میں کھڑا ہونے نہیں دیتے، یہ نوجوان اس سب ظلم کا ادراک ہی نہیں رکھتا!!!
اے امتِ محمدؐیہ کے پشتی بان نوجوان!
جاؤ کسی پر سکون جگہ پر جابیٹھو! پھر وہاں بیٹھ کر تصور کی آنکھ سے دیکھو کہ تمہاری اپنی سگی بہن، تمہاری ماں یا تمہاری بیوی زنجیروں اور ہتھ کڑیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ پھر اس کی چیخیں سنو اور وحشی درندوں کا اس پر ٹوٹتا ظلم دیکھو…… اب اپنا وجود دیکھو، اپنی طاقت دیکھو، اپنی صحت دیکھو، اپنا علم دیکھو، اپنے کمالاتِ فن دیکھو اور سوچو کہ تمہیں اپنے گھر کی ان عورتوں کے دفاع اور ان کو چھڑوانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
یہ سب سوچنے اور تصور کرنے کے بعد بھی اگر تمہارے احساس اور ضمیر کی غیرت نہیں جاگی اور اگر تم ’وا معتصماہ‘ کے نعرے پر لبیک کہنے کو آمادہ نہیں ہوئے اور اگر تم نے اب بھی فرعون کو غرق کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تو سن لو!!!
’تم دنیا کے بے حس ترین اور بے غیرت ترین نوجوان ہو اور تمہارے لیے ’’نوجوان‘‘ کا لفظ استعمال کرنا ظلم اور ننگ ہے!‘
وہ کمزور مرغی تم سے بہتر ہے جو اپنے چوزوں کے دفاع میں اپنے سے قوی تر دشمن کےسامنے ڈٹ جاتی ہے!
تمہیں امت کے نوجوانوں کی صف سے بے دخل کر دینا چاہیے کہ ایک با شعور انسان جب ’مسلمان نوجوان‘ کی اصطلاح سنتا ہے تو اس کے ذہن میں ’غیرت‘، ’شجاعت‘، ’قربانی‘ اور ’جرأت‘ کی تصویر بننے لگتی ہے۔
تم اپنی زبان سے خالد ابن الولیدؓ، اسد اللہ حمزہ بن عبد المطلبؓ، سلمان فارسیؓ اور طارق ابنِ زیادؒ کا ذکر نہیں کرتے؟ اس لیے کہ وہ غیرت مند جوانان تھے اور تم ان جیسے نہیں ……او کجا تو کجا؟ تم اس لائق ہی نہیں کہ ان سے اپنے آپ کو منسوب کرو!
مختلف حیلوں بہانوں سے جان بچائے بیٹھے، جہاد سے رُو گرداں نوجوان!
محشر کےسخت ترین دن جب خوف کے مارے دل حلق میں آ جائیں گے اور دل ایسی تنگی کا شکار ہوں گے کہ یہ سب بیان سے باہر ہے …… اس سخت ترین روز جب قاضیٔ متعال ربّ کے سامنے تمہاری مظلوم بہنیں زنجیروں میں بندھی، بیڑیوں میں جکڑی پیش ہوں گی تو وہ تمہاری شکایت اپنی چیخوں کی زبانی اپنے رب کے سامنے کریں گی اور تمہارے گریبان میں ہاتھ ڈالیں گی اور کہیں گی :
’’یا اللہ! یہ نوجوان اپنی آرام دہ زندگی میں مگن تھا اور ہم اس کے سامنے وحشی کافروں کے ہاتھوں بے عزت کی جارہی تھیں، لیکن اس کی زبان سے ایک حرف بھی ہمارے حق میں نہ نکلا! یا اللہ! تو اس سے ہمارا حساب لے کہ اگر ہمیں کسی سے شکوہ ہے تو اسی بے حس نوجوان سے ہے۔ یا اللہ! یہ ہمارا دینی بھائی تھا، ہمارا بے غیرت و بے حس بھائی ……جو ہم سے زیادہ آرام و سکون اور راحت والی زندگی سے محبت کرتا تھا!‘‘
میرے نوجوان بھائی! ذرا اس روزِ محشر کا یہ تصور کرو اور پھر سوچو کہ اس روز ان مظلوموں کو اور اپنےعظیم رب کو کیا جواب دو گے؟
اے گھر میں بیٹھے نوجوان!
قیامت کے دن قربانیاں پیش کرنے والا بہادر جوانوں کا ایک ایسا گروہ ہو گا، جو اپنے خالق کے سامنے اس حال میں آئے گا کہ انہوں نے خالق کی رضا اور مظلوموں کے دفاع میں بارود کو اوڑھ پہن کر اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہوں گے اور ان کا جسم جلا ہوا ہو گا، کچھ ایسے بھی ہوں گے جو رسیوں میں بندھے اور زنجیروں میں جکڑے پیش ہوں گے……ایسے میں یہ مظلوم، یہ مظلوم قیدی بہنیں ان کی طرف بڑھیں گی اور ان پر فخر کریں گی اور خالق ان سے اپنی رضا کا اعلان کر دے گا۔
لیکن تم ایک ایسے گروہ کے ساتھ اٹھو گے جس نے تمام عمر کچھ نہ کیا ہو گا۔ تم نے اپنی زندگی آرام و سکون اور اپنے نفس کی اطاعت میں گزاری ہو گی۔ خالق تم پر غضب ناک ہو گا اور مظلوم تم سے حساب مانگیں گے…… سوچو اس روز تمہارا کیا حال ہو گا؟
ہاں……!
اس روز کا تصور ہی ایک حساس انسان کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے، انسان غم و الم کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے، دنیا کا ہر سکون اور دنیا کی ہر راحت اس تصور ہی سے بدمزہ ہو جاتی ہے تو حقیقت میں وہ دن کتنا تکلیف دہ ہو گا……فالعیاذ باللہ!
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ. رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ.
’’ اے ہمارے رب تو نے ہمیں جو ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما۔ بے شک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جو بےانتہا بخشش کی خوگر ہے۔ ہمارے پروردگار تو تمام انسانوں کو ایک ایسے دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ بےشک اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ‘‘
٭٭٭٭٭





