بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ملا محمد عمر مجاہد حملہ آور امریکہ کی عالمی فوجی و سیاسی قوت کے بارے میں لاعلم تھے۔ آپ امریکہ کو خطرہ نہیں سمجھتے تھے، اس لیےامریکہ کے مطالبے پر شیخ اسامہ بن لادن سمیت باقی مہاجرین کو امریکہ کے حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ دوسری بات یہ کہ شیخ اسامہ بن لادن افغانستان پر امریکی حملے کا سبب بنے۔ لیکن حقیقت یہ نہیں۔
ملاصاحب کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ آپ کو اس بات کا اندازہ تھا کہ امریکہ اپنی پوری قوت کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوگا۔ جی ہاں! پھر وہ کیا اہم عوامل تھے جس کی بدولت ملاصاحب نے اتنے بڑے خطرے کو اپنے سر لیا لیکن غیر ملکی مجاہدین اور مہاجرین کو تسلیم کرنا قبول نہیں کیا؟
ملا محمد شیرین اخوند1 (جو اس دور میں امارت کے سکیورٹی انچارج تھے اور ملا محمد عمر مجاہد کے قریبی ساتھی تھے) اس بارے میں اپنا آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا حال بیان کرتے ہیں جو یقین کی حد تک امریکی حملے کے حوالے سے ملاصاحب کی فکر اور موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ملا محمد شیرین اخوند کہتے ہیں:
’’ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد جب امریکہ ایک بڑی جنگ شروع کرنےکی تیاریوں میں لگا ہوا تھا، امریکی جنگی بحری بیڑے بحرِ ہند کی طرف رواں دواں تھے اور میڈیا پر مستقل افغانستان پر امریکہ کے حملہ کرنے کے حوالے سے باتیں گردش کر رہی تھیں۔ ان دنوں ملاصاحب کے پاس کافی لوگ ملنے آتے تھے اور آپ کے ساتھ مختلف قسم کے مشورے اور درخواستیں کرتے تھے۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں کو امریکہ کے حوالے کیا جائے اور بعض اس کے خلاف مختلف قسم کے مشورے دیتے تھے۔
ان ایام میں جب ہر رات امریکی حملے کا خدشہ موجود تھا، تو ملاصاحب کچھ احتیاط کرتے ہوئے عام ملاقاتوں سے گریز کرتے تھے۔ ایک دن علمائے کرام کا ایک گروہ ملاصاحب سے ملنے آیا، میں نے ان کے ساتھ ملاقات کی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ ’ہمارے مشورے ملاصاحب تک پہنچا دیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ملاصاحب اسامہ بن لادن کو امر کریں کہ وہ افغانستان سے نکل کر کسی دوسرے ملک مثلاً تاجکستان منتقل ہوجائیں اور ادھر سے سیٹلائٹ فون پر میڈیا کو یہ پیغام دیں کہ میں افغانستان میں نہیں ہوں۔ اس طرح امریکہ کو رابطے کی لوکیشن معلوم ہوجائے گی، ان کو پتہ چل جائے گا کہ اسامہ بن لادن افغانستان میں نہیں ہے اور وہ حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیں گے‘۔
میں نمازِ عصر کے وقت ملاصاحب کی جگہ پر چلا گیا۔ بعد از نمازِ عصر ملا صاحب سے ملا قات ہوئی اور ان کو کہا کہ آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ آپ مسجد کے پیچھے چلے گئے، وہاں پتھر کے اوپر بیٹھ گئے۔ میں نے علما کے وفد کی باتیں تفصیل سے بیان کردیں۔
میری گفتگو کے بعد ملاصاحب نے بڑے حوصلے سے مجھے مفصل جواب دیا۔ ملاصاحب نے آغازِ گفتگو میں مجھ سے سوال کیا کہ ’اگر امریکہ نے ہم پر حملہ کر دیا تو ہماری حکومت کتنا عرصہ مزاحمت کر سکے گی؟‘۔
میں نے کہا ’میرے علم میں نہیں‘۔ ملاصاحب نے اپنے سوال کا خود جواب دیا اور کہا’ میرے خیال میں اگر ہم مزاحمت کریں تو مزاحمت صرف اور صرف دو مہینے چلے گی، اس کے بعد امریکہ ہم پر غلبہ پالے گا۔ بمباریاں، حملے، گھروں اور شہروں کی تباہی، مسلمانوں کی شہادتیں اور گرفتاریاں واقع ہوں گی۔ پھر امارت کا ہر فرد امریکہ کو مطلوب ہوگا اور ان کو مختلف قسم کی سزائیں دی جائیں گی۔ اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے لیے، یا اپنے بیٹے، قرابت داروں اور ساتھیوں کے لیے زمین کے اوپر ایک بالشت بھی امن کی جگہ نہیں بنائی اور نہ ہی میرے پاس کوئی پناہ گاہ ہے۔ تو اگر یہ صورتحال ہے تو اس حملے میں تو میں خود، میری اولاد اور گھرانہ تباہ ہوجائے گا۔تو اگر یہ ساری مشکلات ہمارے راستے میں ہیں اور اس کو روکنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ میں اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردوں، تو اس صورت میں مَیں کیوں نہ شیخ اسامہ کو امریکہ کے حوالے کروں؟ پھر کیوں میں یہ سارے مصائب اپنے لیے قبول کر رہا ہوں اور یہ ایک کام نہیں کر رہا؟‘۔
پھر ملا صاحب نے اپنی گفتگو آگے بڑھائی اور کہا’ دیکھیے دو باتیں ہیں، ایک یہ کہ میں اس دنیا میں ہر تکلیف، شہادتوں اور دربدریوں سمیت سب کچھ قبول کر سکتا ہوں مگر آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی اور شرمندگی قبول نہیں کرسکتا۔ میں دنیا میں اس کے لیے حاضر ہوں کہ میری حکومت اور ہر چیز ختم ہوجائے لیکن روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے سامنے ملامت و رسوائی قبول کرنا میرے لیے مشکل ہے۔ مجھ سے اللہ تعالیٰ ضرور پوچھے گا کہ ان مسلمانوں کو کس دلیل پر کافروں کے حوالے کردیا۔
دوسری بات یہ کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ابھی شیخ اسامہ کو پکڑ کے امریکہ کے حوالے کر دو پھر بھی یہ امریکہ ہمیں نہیں چھوڑے گا۔ امریکہ کی دشمنی ہمارے ساتھ اسامہ کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کو اس نظام سے مشکل ہے اور جس بہانے سے بھی ہو وہ اس نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
امریکہ ایک مکار عورت کی مانند ہے۔ اگر ہم نے یہ مطالبہ اس کا قبول کیا تو فوراً دوسرا مطالبہ رکھے گا، اگر ہم نے دوسرا قبول کیا تو اگلا مطالبہ رکھے گا۔ یہاں تک کہ آخر میں ہمیں مجبور کر دے گا کہ ہم نہ اس کو جواب دیں اور نہ ہی اس کا مطالبہ قبول کریں۔ اگر ہم نے ابھی یہ مطالبہ قبول کیا، تو اس کے بعد فوراً کہے گا کہ اسلامی قوانین کو معطل کردیں ورنہ ہم حملہ کرنے والے ہیں، دوسرے دن دوسرا مطالبہ چلے گا، اور آخر میں ہمیں اس حد تک پہنچادے گا کہ ہم اس کے مطالبات کو رد کردیں۔ تو اگر ہم نے بعد میں جاکر ان کے مطالبات کو رد کرنا ہے تو شروع میں کیوں نہ ان کو جواب دے دیں۔ ہم کیوں ان کو مسلمانوں کی کمزوری اور بے ہمتی دکھائیں۔ میرا اس بات پر یقین ہے کہ امریکہ اس وقت تک ہمیں نہیں چھوڑے گا جب تک ہم پورے اسلامی نظام کے قیام سےپیچھے نہ ہٹ جائیں‘۔‘‘
گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد جب امریکہ حملے کی دھمکیاں دے رہا تھا اور ذرائع ابلاغ بھی مسلسل افغانیوں کو خوفزدہ کرنےکی غرض سے جنگ اور حملہ کرنے کی خبریں نشر کر رہے تھے۔ ملاصاحب نے ان مصائب و آلام سے بھرے حالات میں شریعت کی ہدایات کی روشنی میں معاملہ کیا اور امریکہ کے سامنے سر جھکانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور اور شریعتِ محمدیﷺ کی طرف رجوع کیا اور ان آزمائش کے مراحل سے نکلنے کا راستہ اللہ رب العزت کی رہنمائی سے طلب کیا۔
ملا صاحب نے ایک عمومی نصائح بھرے پیغام کو نشر کرتے ہوئے اپنے مومن ہم وطنوں اور خصوصاً امارت اسلامیہ کے کارکنوں کو نصیحت کی کہ اس آزمائش کے مرحلے سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کے لیے ختمِ قرآن کریں، نمازِ فجر میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں اور اللہ تعالیٰ کے حضور عجز و انکساری کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ رب العزت ہمیں اس آزمائش و امتحان سے سرخرو نکالے۔
کابل میں علمائے کرام کا اجلاس
چونکہ مسئلہ سنگین تھا اور دینی اعتبار سے اس مسئلے پر مشورے کی ضرورت تھی، ملاصاحب نے قبل از حتمی فیصلہ علمائے کرام کا ایک بڑا اجلاس منعقد کرنے کا فرمان صادر کیا۔ تاکہ اس مسئلے کے تمام موضوعات پر تفصیلی شرعی بحث ہو اور اس کے بعد امارت ِ اسلامیہ کو ایک شرعی فتویٰ دیا جائے اور اس فتوے کی روشنی میں امارت اپنا شرعی موقف بیان کرے۔
امارت اسلامیہ کے دور میں علمائے کرام کی طرف سے بڑے اور فوق العادۃ مسائل پر غوروفکر اور حتمی فیصلہ صادر کرنے کی غرض سے بڑے اجلاس منعقد کیے جاتے تھے۔ پہلا اجلاس قندھار میں منعقد ہوا جس میں علمائے کرام کے فیصلے کے بعد امارت ِ اسلامیہ کو ایک حاکم شرعی نظام کے طور پر قبول کیا گیا اور ملا محمد عمر مجاہد کو ایک شرعی زعیم کی حیثیت سے امیر المومنین کا لقب دیا گیا۔
علمائے کرام کا دوسرا اجلاس اُس وقت کابل میں منعقد ہوا جب مزار شریف میں ایرانی سفارت کاروں کے قتل کا واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد ایران نے افغانستان پر حملے کی دھمکی دی اور افغانستان کی سرحدات پر فوجی نقل و حرکت تیز کردی۔ اس وقت بھی امارت ِ اسلامیہ یہ اہم سمجھتی تھی کہ ایک رسمی شرعی موقف پیش کرنے کے لیے دینی علمائے کرام سے مشورہ اور فتویٰ لیا جائے تاکہ آنے والے حالات کے بارے میں شریعت کی روشنی میں قدم اٹھانے میں آسانی ہو۔
۱۷ ستمبر ۲۰۰۱ء کو ملک بھر سے علمائے کرام کابل کی طرف آنا شروع ہوگئے۔ یہ اجلاس کابل کے مشہور حکومتی مہمان خانے انٹر کانٹیننٹل ہوٹل میں منعقد ہوا۔ ۱۹ ستمبر کو ایک ہزار علما کی موجودگی میں اس کا آغاز ہوا۔ اجلاس میں امارت ِ اسلامیہ کے ریاست الوزراء کے معاون ملا محمد حسن اخوند2 سمیت امارت ِ اسلامیہ کے کئی منصوبین نے شرکت کی اور سٹیج کے فرائض وزیرِ تعلیم و تربیت ملا امیر خان متقی نے سنبھالے۔ اجلاس کے لیے ملا محمد عمر مجاہد کی طرف سے بھی پیغام بھیجا گیا تھا جس میں شیخ اسامہ کے موضوع کے اوپر امریکہ کے ساتھ گرما گرمی، اب تک امارت ِ اسلامیہ کی طرف سے اقدامات اور موضوع کے حوالے سے مزید وضاحتیں بیان کی گئی تھیں۔ اور آخر میں علمائے کرام سے گزارش کی گئی تھی کہ اس موضوع کے حل کے لیے امارت ِ اسلامیہ کو شریعتِ مقدسہ کی روشنی میں فتویٰ دے دیجیے تاکہ مستقبل میں اس پر عمل ہو۔
یہ اجلاس دو دن تک جاری رہا۔ اجلاس کے آخر میں اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے اہم نکات درجہ ذیل ہیں:
افغانستان کے علما مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکہ میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اقوامِ متحدہ اور اسلامی کانفرنس تحقیقات کرلے تاکہ اصلی حقائق سامنے آئیں اور بے گناہ لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے روکا جا سکے۔
اقوامِ متحدہ اور اسلامی کانفرنس امریکہ کے صدر کی اس بات پر غور کرے جو اس نے کہا کہ یہ جنگ ایک صلیبی جنگ ہوگی۔ اس بات نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے احساسات کو ابھارا ہے اور دنیا کو ایک بڑے خطرے میں مبتلا کیا ہے۔
موجودہ تنازع کوختم کرنے اور آئندہ ان جیسے واقعات پیش آنے کی صورت میں بدگمانی کاراستہ روکنے کے لیے علمائے کرام کی یہ بڑی شوریٰ امارت اسلامیہ کو گزارش کرتی ہےکہ شیخ اسامہ بن لادن کو تشویق و اختیار دے کہ ان کے لیے ممکن ہو تو اپنی خواہش پر افغانستان سے نکل جائیں اور اپنے لیے کسی دوسری جگہ کا انتخاب کریں۔
اوپر ذکر کیے گیے فیصلوں پر روشنی ڈالنے کے باوجود اگر امریکہ اپنی بات پر ڈٹا رہا اور افغانستان پر حملہ کیا تو مقدس شریعت کی روشنی میں اس کا حکم مندرجہ ذیل نقاط پر مشتمل ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے:
ہمارے فقہا نے لکھا ہے کہ اگر کفار مسلمانوں کے کسی ملک پر حملہ کریں تو اس ملک کے مسلمانوں پر جہاد فرضِ عین ہے۔ قرآن کریم کی آیات، احادیثِ مبارکہ اور فقہ کی کتابیں مسلمانوں کو جہاد کا امر دیتی ہیں:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ(سورۃ التوبہ: ۱۲۳)
’’اے ایمان والو! ان کافروں سے لڑو جو تم سے قریب ہیں۔ اور ہونا یہ چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی محسوس کریں اور یقین رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘‘
وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ(سورۃ التوبہ: ۱۹۰)
’’اور ان لوگوں سے اللہ کے راستے میں جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔‘‘
اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ (سورۃ الحج: ۲۲)
’’جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انھیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے۔‘‘
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا؛ ’’مشرکین سے اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں سے جہاد کرو ‘‘۔(ابوداود، نسائی)
امام سرخسیؒ نے مبسوط میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے قتال کا حکم دیا ہے ان مشرکین کے ساتھ جو جنگ میں پہل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے حکم دیا گیا ہے ان مسلمانوں کو جن کے ساتھ جنگ کی جارہی ہے، سبب اس کے کہ بے شک ان پر ظلم ہوا ہے۔ یعنی ان کو اپنی دفاع کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر یہ کفار تمہارے ساتھ لڑائی کرتے ہیں تو تم بھی ان کے ساتھ لڑائی کرو اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر انہوں نے صلح کی طرف رجوع کرلیا، تو تم بھی صلح کی طرف رجوع کرلو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا؛ مجھے حکم ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کافروں کے ساتھ جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا اِلہ الا اللہ کا اقرار کریں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ذکر آیا ہے کہ عام مشائخ رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ جہاد ہر حالت میں فرض ہے لیکن نفیرِ عام سے قبل کفایہ ہے اور نفیرِ عام کے بعد فرضِ عین ہے اور یہ روایت صحیح ہے۔
اگر کفار نے کسی اسلامی ملک پر حملہ کردیا اور اس ملک کے باسی تنہا مقابلے کی سکت نہ رکھتے ہوں تو دنیا بھر کے مسلمانوں پر جہاد فرضِ عین ہوجاتا ہے:
فتاویٰ ہندیہ میں ذکر ہے: پس جب ثابت ہوجائے نفیرِ عام تو جہاد کفایہ سے فرض (عین) ہوجاتا ہے تمام اہلِ اسلام پر مشرق تا مغرب تک، اگر نفیرِ عام کی خبر ہوجائے تو تحقیق کے ساتھ جہاد فرض ہوجاتا ہے ان پر جو دشمن کے قریب ہوں اور جہاد پر قادر ہوں۔ اور وہ مسلمان جو دشمن سے دور ہیں، ان پر جہاد فرضِ کفایہ ہے نہ کہ فرضِ عین، ان کے لیے جائز ہے کہ وہ جہاد چھوڑ دیں۔ لیکن جب دور رہنے والے مسلمانوں کی ضرورت پڑے، ایسے وقت میں جب دشمن کے قریب رہنے والے مسلمان مقابلہ کرنے سے عاجز ہوں یا سستی میں پڑجائیں یا جہاد کو ترک کردیں، پھر جہاد فرضِ عین ہے ان پر جو دشمن کے قریب ہیں ترتیب کے ساتھ، یہاں تک کہ جہاد فرضِ عین ہوجائے گا تمام مسلمانوں پر مشرق تا مغرب۔
رد المحتار میں ذکر آیا ہے کہ ہر وہ جگہ جس پر دشمن کے حملے یا تسلط کا خوف ہو تو امیرِ وقت یا اس جگہ کے رہنے والوں پر فرض ہے کہ اس زمین کی حفاظت کریں اور اگر وہاں کے باسی زمین کی حفاظت پر قادر نہ ہوں تو قریب کے لوگوں پر فرض ہے کہ ان کی مدد کریں یہاں تک کہ دشمن سے مقابلے کے لیے کفایت کرنا ثابت ہوجائے۔
اگر کفار مسلمانوں کی سرزمین پر حملہ کریں تو وقتِ ضرورت مسلمان اسلامی اور غیر اسلامی حکومتوں سے مدد حاصل کرسکتے ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اسلامی احکام غالب اور واضح ہوں گے جیسا کہ ہماری فقہی کتابوں لکھا ہے:
اعلاء السنن کے مصنف نے اپنی کتاب میں شرح السیر الکبیر سے نقل کیا ہے:
اس میں کوئی حرج نہیں کہ مسلمان مدد مانگیں مشرکین سے مقابلے میں جب کفار پر اسلام کا حکم غالب اور ظاہر ہو۔کیونکہ رسول اللہﷺ نے یہود کے بنی قینقاع سے مدد مانگی تھی بنوقریظہ کے ساتھ لڑائی میں۔ صفوان نبی کریمﷺ کے ساتھ نکلا، حنین اور طائف کی لڑائی میں موجود تھا، حالانکہ صفوان مشرک تھا۔ تو یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس میں حرج نہیں کہ ان سے مدد لی جائے کفار کے خاتمے میں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کتوں کو استعمال کیا جائے کفار کے خاتمے کے لیے اور اس کا نبی کریمﷺ نے اشارہ کیا اس بیان کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی نصرت کرتا ہے ایسے لوگوں کے ذریعے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
اعلاء السنن کے مصنف کہتے ہیں کہ شرح السیر الکبیر کی عبارت سے کفار سے مدد لینا جائز معلوم ہوتا ہے جب کافروں پر اسلام کا حکم غالب ہو، چاہے کفار مشرکین ہوں یا اہلِ کتاب۔
اگر امریکی کارروائیوں کے دوران کوئی مسلمان چاہے وہ افغانی ہو یا غیر افغانی، کفار کے ساتھ مدد و معاونت یا ان کے لیے جاسوسی کرے، تو وہ فرد بھی خارجی متجاوزین کے حکم میں آتا ہے اور واجب القتل ہے۔ جیسا کہ رد المحتار میں یہ مسئلہ ذکر شدہ ہے۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ أعلم
کابل میں منعقد علمائے کرام کی شوریٰ نے اپنے اعلامیہ میں شیخ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں کو امر نہیں دیا کہ وہ افغانستان سے نکل جائیں، البتہ انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی پسند سے چاہیں تو افغانستان سے ان کا نکلنا فائدہ مند ہے۔3
بش کی سرکردگی اور وائٹ ہاوس کے جنگ چاہنے والے حکمرانوں نے اس اعلامیہ کے فوراً بعد یہ اعلان کیا کہ طالبان افغانستان سے اسامہ بن لادن کو نکالنے کے باوجود بچ نہیں پائیں گےکیونکہ ان کا یہ فیصلہ اسامہ بن لادن کو ایک پناہ گاہ سے دوسری پناہ گاہ منتقل کردے گا۔
۲۱ ستمبر، جب کابل میں علمائے کرام کے اجلاس کا آخری دن تھا، امریکہ کے صدر بش نے کانگریس کے سامنے اپنی گفتگو میں افغانستان پر حملے کو ایک ’صلیبی جنگ‘ کا عنوان دیا اور دنیا والوں کو بڑے غرور کے ساتھ کہا کہ ’’یا ہمارا ساتھ دو گے یا دہشت گردوں کا‘‘۔ صدر بش نے اسامہ بن لادن کے حوالے سے طالبان کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’اسامہ مجھے زندہ یا مردہ چاہیے!‘‘۔
ملا محمد عمر مجاہد کے دفتر کے ایک کارکن نے کہا کہ:
جب ملاصاحب نے ریڈیو کے ذریعے بش کے کبروغرور سے بھری یہ بات سنی کہ ’اسامہ مجھے زندہ یا مردہ چاہیے‘ تو آپ نے اسی وقت جواباً کہا کہ ’واللہ! نہ تم مجھ سے اسامہ کو زندہ لے سکوگے نا مردہ!‘۔
ملاصاحب کے دفتر کے ایک کارکن کے بقول اسامہ بن لادن کے موضوع کے بارے میں پڑوسی اور دوسرے اسلامی ممالک کے دینی علما وقتاً فوقتاً ملاصاحب سے ملاقات کے لیے آتے تھے۔ اگرچہ ان میں سے بعض سیاسی دباؤ کی وجہ سے قندھار تک آتے تھے لیکن ملاصاحب ان علمائے کرام سے ملاقات اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے۔ ملاصاحب ہمیشہ اس مسئلے کا شرعی حل ان کے سامنے پیش کرتے لیکن آنے والے علمائے کرام میں ایک بھی ایسا فرد نہیں ملا جس نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بارے میں ملاصاحب کو شرعی فتویٰ دیا ہو۔ اس لیے علمائے کرام کے سامنے امارت ِ اسلامیہ کا شرعی موقف مزید واضح ہوجاتا اور ملا محمد عمر مجاہد کی حقانیت پر ان کا یقین مزید قوی ہوجاتا۔
[ماخوذ از کتاب: عمرِ ثالث، اردو ترجمہ: جلال الدین حسن یوسف زئی]
٭٭٭٭٭
1 حالیہ امارت اسلامیہ افغانستان میں وزارتِ دفاع کے رئیسِ استخبارات
2 حالیہ امارت ِ اسلامی افغانستان کے رئیس الوزراء
3 یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ بعداً شیخ اسامہ اور ان کے ساتھی افغانستان سے اسی سال (۲۰۰۱ء)نکل گئے، لیکن شیخ اسامہ کے نکلنے کے ساتھ امریکہ افغانستان سے نہیں نکلا، بلکہ دس سال بعد ۲۰۱۱ء میں ایبٹ آباد پاکستان میں شیخ اسامہ کی شہادت کے بعد بھی امریکہ نے مزید دس سال افغانستان میں جنگ جاری رکھی۔ گویا امیر المومنین ملا عمر رحمہ اللہ کی بات پوری ہوئی (جو پچھلی سطور میں آ چکی ہے)کہ امریکہ کو اصل مسئلہ شیخ اسامہ سے نہیں بلکہ افغانستان میں قائم نظام(شریعت) سے ہے۔ (ادارہ)






