نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | گیارہویں قسط

امارت اسلامیہ افغانستان کے مؤسس عالی قدر امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد﷬ کی مستند تاریخ

by عبد الستار سعید
in اکتوبر ۲۰۲۵ء, افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
0

قندھار میں علمائے افغانستان کا تاریخی اجتماع

۱۹۹۶ء کی بہار تک ہی طالبان نے افغانستان کے ساڑھے چھ لاکھ مربع کلو میٹر طویل رقبے پر تسلط حاصل کرلیا تھا جو پورے ملک کے نصف سے زیادہ رقبہ تھا، جنوب، مغرب اور مرکزی افغانستان کے بڑے بڑے شہروں بشمول قندھار، ہرات اور غزنی کے ساتھ ساتھ جنوب مغرب اور جنوب مشرقی صوبوں پر مکمل کنٹرول کے علاوہ دارالحکومت کابل کو بھی تین اطراف سے گھیرا ہواتھا۔ موسمِ بہار کے ان ابتدائی ایام میں قندھار شہر میں ۱۵۰۰ علمائے کرام اور بااثر افراد کے لیے ایک بڑے اجتماع کا بندوبست کررکھا تھا۔

۶ ذو القعدہ ۱۴۱۶ھ بمطابق ۲۵ مارچ ۱۹۹۵۶ء کو تحریک اسلامی کی عالی شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ افغانستان کے علمائے کرام کے ساتھ عالی شوریٰ کی جانب سے کیے گیے وعدے کے مطابق ذوالقعدہ میں پورے افغانستان کے جید علمائے کرام کو قندھار میں مدعو کیا جائے، تاکہ وہ اسلامی تحریک کی تمام تر سرگرمیوں کا جائزہ لیں، آئندہ کا لائحہ عمل متعین کریں اور تحریک کے سیاسی مؤقف کے حوالے سے بنیادی فیصلے کریں۔

ایک ہفتے کے اندر اندر افغانستان کے مختلف صوبوں اور پاکستان میں افغان مہاجر کیمپوں سے دینی علماء جوق در جوق قندھار کی طرف رواں دواں تھے، تاکہ اس اہم اجتماع میں شرکت کرسکیں۔ قندھار میں آنے والے مہمان علمائے کرام اور بزرگوں کے استقبال کے لیے منظم انداز میں انتظامات کیے گئے تھے۔ شہر کے بیچوں بیچ (ٹیکنیکل کالج) کی ایک بڑی عمارت، جس میں کافی کمرے اور ایک بڑا ہال تھا، علماء کی رہائش اور اجتماع کے لیے مختص کردی گئی۔ آنے والے مہمان علمائے کرام کے نام اور ضروری معلومات اور رہائشی کمرے کے اندراج کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی، جو استقبالیہ کا کام سرانجام دیتی اور تمام مہمانوں کو ان کے لیے مقررہ جگہوں کی طرف رہنمائی کرتی۔ ایک صوبے کے علمائے کے لیے ایک ساتھ یا قریب قریب رہائش کا بندوبست کیاگیا، اس کے علاہ سرکاری مہمان خانہ(گورنر ہاؤس) اور شہداء چوک سے متصل میوند ہوٹل بھی مہمانوں کے لیے خالی کردیا گیا تھا۔

چند روز بعد قندھار شہر کے ہر چوک چوراہے پر علمائے کرام اور مشائخ عظام اپنے علمی وقار کے ساتھ نظر آتے، شاید یہ قندھار اور افغانستان کی تاریخ میں دینی علمائے کرام کا سب سے پہلا عظیم الشان اور روح پرور اجتماع تھا۔

قندھار میں اس وقت چھپنے والے اخبار ’’طلوع افغان‘‘ کے ایک لکھاری میرویس باوری نے اس پورے ماحول کی عکاسی کچھ یوں کی ہے:

’’قندھار کو اپنی قدیم تاریخ کے باعث کئی بار بڑے بڑے اجتماعات کا فخر حاصل رہا ہے، اب ایک بار پھر تحریکِ اسلامی کے مرکز کے طور پر ملک کے عظیم اور مجاہد علمائے کرام کی میزبانی کا شرف حاصل کر رہا ہے۔ اگر ایک طرف بہار کی فرحت بخش ہوا چل رہی ہے اور جس پھول پر سے گزرتی ہے، اسے کھلادیتی ہے، دوسری طرف شہر کے گلی کوچوں، پارکوں، خصوصی مہمان خانوں، حکومتی اداروں اور مساجد میں مہمان علمائے کرام کی آمد، اپنے پیارے ملک کے مستقبل سے متعلق ان کی محفلیں، مشورے اور فیصلے، اس دوران اذانِ بلالی کی آواز اور اللہ کے گھروں کی طرف مسلمانوں کا رواں دواں ہونا اس ماحول کو مزید پُرکیف بنارہا ہے۔‘‘

اس طرح سے قندھار سینکڑوں علمائے کرام کا میزبان بنا، یہ علمائے کرام مختلف قوموں، مختلف زبانوں اور علاقوں سے تھے، سب کی خواہش بس یہی تھی کہ ایک بھلا دیے گئے الہٰی فریضے اسلامی نظام کے اعادے کا ایک تاریخ ساز فیصلہ کیا جائے اور دینی عالم کی حیثیت سے نبوی وراثت کا کما حقہ حق ادا کیا جائے۔

اجتماع کے ابتدائی ایام

روزنامہ طلوع افغان کی رپورٹ کے مطابق یہ اجتماع ۱۱ ذو القعدہ (۳۰ مارچ) سے شروع ہو کر ۱۵ ذو القعدہ (۳اپریل) تک پانچ دن جاری رہا۔

پہلے دن اجتماع کا آغاز قاری محمود شاہ صاحب کی جانب سے قرآن کریم کی تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد اجتماع کا لائحہ عمل سنایا گیا۔ اس کے بعد اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ملا امیر خان متقی نے اسلامی تحریک کی عسکری، سیاسی، علمی، عمرانی ودیگر شعبوں میں حاصل کردہ کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے حاضرین کو معلومات فراہم کیں۔ ان کے بعد اسلامی تحریک کے نائب ملا محمد ربانی نے تفصیلی خطاب کیا اور اسلامی تحریک کے قیام اور اہداف پر بات کی اور اسلامی نظام کے قیام میں علمائے کرام کی مسؤلیت کو اہم قراردیا۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے فرمایاکہ علمائے کرام کو یہاں اس لئے مدعو کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی تحریک کو اپنے مشورے پیش کریں۔ ہم آپ کے مشوروں پر عمل کریں گے اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی یہی نظام نافذ کریں گے۔

ملا محمد ربانی کے بیان کے بعد مہمان علمائے کرام کے بیانات کا سلسلہ شروع ہوا اور ہر علاقے کے علمائے کرام کی نمائندگی کرتے ہوئے کوئی ایک نامور عالمِ دین بیان کرتا۔ صوبہ بدخشان سے عالم دین مولوی محبوب اللہ نے تقریر کرتے ہوئے کہاکہ برہان الدین ربانی ہمارے صوبے سے تعلق رکھتاہے، لیکن اس کا نظام برحق نہیں، طالبان تحریک کے بارے میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ پشتونوں کی تحریک ہے، لیکن میں ایک غیر پشتون ہوتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ یہ تحریک واقعی ایک اسلامی تحریک ہے اور اس میں کوئی عصبیت اور قوم پرستی نہیں۔ اس کے بعد لغمان کے مولوی سعیدالرحمن، جوزجان کے مولوی عبدالصمد، غزنی کے مولوی سید حفیظ اللہ، بلخ کے مولوی عبدالجبار، ننگرہار کے مولوی سید رسول اور دیگر علمائے کرام نے تقریریں کیں۔

اجتماع کے دوسرے روز افتتاحی بیان قندھار کے گورنر ملا محمد حسن اخند نے کیا، ان کے بعد ہرات کے مولوی جلیل اللہ مولوی زادہ، عالی شوریٰ کے رکن مولوی احسان اللہ احسان، لوگر کے علماء کی نمائندگی کرتے ہوئے مولوی فضل احمد، بغلان سے مولوی محمد یعقوب، مولوی جلال الدین حقانی کے نمائندے الحاج حبیب اللہ منگل، فاریاب سے مولوی مفتی عبداللہ، علمائے کابل کی نمائندگی کرتے ہوئے مولوی نور محمد ثاقب، صوبہ ارزگان سے مولوی سلطان محمد، صوبہ لغمان سے مولوی نقیب احمد دیوبندی، پکتیا سے مولوی عبداللہ مدنی اور دیگر علمائے کرام نے اپنی آراء مجلس میں پیش کیں۔ اسلامی تحریک کی جانب سے شرکائے اجتماع سے مشورے لینے کے لیے تمام حضرات کو خاص پرچے دیے گئے، جن میں نظامِ حکومت کی اصلاح و ترقی کے لیے مختصر سوالات درج تھے۔ علمائے کرام نے اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات لکھ کر مسؤل حضرات کے سپرد کیے۔

اجتماع اور مجالس کے دوران ملک کے جید اور ممتاز علمائے کرام روزانہ کی بنیاد پر اپنے مشورے اور تجاویز پیش کرتے، کابل سے شیخ الحدیث مولوی ترہ خیل، ہلمند سے مولوی محمد خواص، میدان وردگ سے یوسف خیل کے اخندزادہ، ننگرہار سے مولوی محمد الیاس، مولوی جلال الدین شینواری اور مولوی محمد اکرم، تخار سے مولوی عبدالعزیز، بلخ سے مولوی احمد مزاری، غزنی سے مولوی گل محمد، قندوز سے مولوی عبدالحی زعفرانی اور دیگر جید علمائے کرام اجتماع کو اپنی علمی و فقہی باتوں سے دلکشی اور وقار بخش رہے تھے اور اسلامی تحریک کے مسؤلین بھی روزانہ کی بنیاد پر اس اجتماع میں شرکت کرتے۔

اجتماع کا آخری دن اور قرارداد

۱۵ ذو القعدہ ۱۴۱۶ھ بمطابق ۳ اپریل ۱۹۹۶ء بروز بدھ اس تاریخی اجتماع کا آخری اور اہم فیصلوں کے اعلان کا دن تھا۔ اسی دن ملا محمد عمر مجاہد اس روح پرور اجتماع میں شریک ہوئے، انہوں نے اسلامی تحریک کی تاسیس اور ضرورت پر بات کی، یہ وہی بیان ہے جو بعد میں ریڈیو میں نشر ہوااور کافی مشہور ہوا۔ اس بیان کی تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے یہاں نقل کیا جارہا ہے:

ملا محمد عمر مجاہد کا اجتماع میں تاریخی خطاب

اعوذباللہ من الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللھم صل علی سیدنا ونبینا و مولانا محمد وعلی آل سیدنا ونبینا ومولانا محمد وبارک وصل وسلم علی جمیع الانبیاء والمرسلین علی کل ملائکۃ المقربین وعلی عباداللہ الصالحین۔

اعوذباللہ من الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَالْعَصْرِ۝ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۝ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۝

محترم علمائے کرام اور مشائخ عظام!

اگرچہ میرے لیے مناسب نہیں کہ آپ حضرات کے سامنے کچھ کہوں، لیکن تذکیر کی بنیاد پر کچھ عرض کردیتا ہوں۔

بات یہ ہے کہ طلبہ کرام نے جب یہ تحریک شروع کی اور اس کام میں مشغول ہوئے تو انہوں نے کافی بڑا دعویٰ کیا تھا۔ صحافیوں، عوام و خواص حتی کہ کسی ملک نے بھی ان سے پوچھا کہ آپ کی اس تحریک کا مقصد اور ہدف کیا ہے؟ اس کے جواب میں طلبہ کہتے کہ ہمارا مقصد اسلامی نظام کا قیام، شرعی احکام اور حدوداللہ کا نفاذ ہے۔

ابتدائے تحریک سے لے کر آج تک یہی جواب ہے، اب بات یہاں تک پہنچ چکی ہےکہ طلبہ نے تو قربانی دے دی، اور اب بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کررہے، لیکن علماء سے میں پوچھنا چاہتا ہوں، جو علماء یہاں موجود ہیں، اور ان علماء سے بھی جو یہاں نہیں، ان تک بھی میری بات پہنچادی جائے، ہر علاقے کا عالمِ دین اپنے علاقے کے علماء تک میری بات پہنچادے! اس حوالے سے علماء کرام میں کسی قدر غفلت پائی جاتی ہے!

ہم طلبہ جو دعویٰ کررہے ہیں کہ ہم اللہ کا دین اللہ کی زمین پر نافذ کریں گے، یہ اللہ کی حدود ہیں، انہیں کون نافذ کرے گا؟

طلبہ کرام نے تو بندوق ہاتھ میں اٹھائی ہوئی ہے، چلے جارہے ہیں، آج زندہ ہیں، کل زخمی یا شہید، لیکن انہوں نے عزم کیا ہوا ہےکہ زمین کو فساد سے، فساق وفجار سے صاف کرکے رہیں گے۔ یہی ان کی خدمت ہے، ان کا کام ہے!

یہ دعوی کہ ’’ ہم زمین پر حدوداللہ کو نافذ کریں گے‘‘۔ یہ دعوی تو وہ علماء کے بل بوتے اور ان کے ارشادات کی روشنی میں کررہے ہیں، یہ دعوی تو اس لیے کررہے ہیں کہ ہماری پشت پر علمائے کرام موجود ہیں، ہم علمائے کرام کی رہنمائی میں شریعت کا نفاذ کریں گے۔ اب شریعت کا نفاذ اور اس کا طریقہ کار تو علماء کو معلوم ہے، طلبہ کو اس کی تفصیلات کا کوئی علم نہیں۔ یہ تو بدیع المیزان، قطبی، کندیہ کے طلبہ ہیں، اس حوالے سے انہیں کیا معلوم؟ انہیں صرف ضروریاتِ دین کا علم ہے کہ یہ حق ہے اور یہ باطل۔ مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل کون حل کرے گا؟ حدوداللہ کا نفاذ کون کرے گا؟

بعض علماء نے اس حوالے سے خدمت کی ہے، اور بعض علماء کا گمان ہے کہ ’’لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔‘‘ میں چاہتا ہوں کہ اس آیت کا حقیقی مصداق ڈھونڈیں!

میں ایک مدرسے میں تھا، ایک چھوٹا سا مدرسہ تھا، پندرہ یا بیس ساتھی تھے، ہم درس وتدریس میں مشغول تھے، پورے ملک میں اندھیر نگری، چوری چکاری، قتل وقتال کا بازار گرم تھا۔ یقیناً! یہ گزرے ہوئے حالات سے آپ حضرات باخبر تھے، کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ اس فساد کا تدارک کیسے کیا جائے گا؟

اگر دیکھا جائے کہ میں ایک طالب علم تھا، مجھ سے یہ سب کچھ برداشت نہ ہوا اور میں اٹھ کھڑا ہوا، اگر میں بھی اس آیت کو پڑھتا تو کیا میرے لیے یہ آیت کافی نہ ہوتی؟ اگر میں اسی طرح تصور و فکر کرتا، تو میری قدرت میں کچھ تھا؟ کیا میرے لیے یہ آیت (لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا) کافی نہیں تھی؟ میں نے تو محض توکل سے کام لیا، کیونکہ توکل محض ناکامی سے دوچار نہیں ہوتا! توکل محض بہت مشکل کام ہے، میں علمائے کرام سے اسی کی توقع رکھتاہوں!

لوگ کہیں گے کہ یہ تحریک کب سے جاری تھی، کس طرح سے تھی، خفیہ تھی، اسے کہاں سے امداد مل رہی تھی، کہاں سے ان کی رہنمائی ہوتی، کہاں سے ان کی تربیت کی جاتی؟

اس تحریک کی ابتدا اس مدرسے سے ہوئی، یہاں میں نے کتاب بند کی، اپنے ایک ساتھی مولوی صاحب کے ساتھ ہم سنگسار کے علاقے سے زنگاوت گئے، وہاں ہم نے سرور نامی ایک بندے سے موٹر سائیکل خریدی، اپنے ساتھی کو اپنے پیچھے بٹھایا، یہ اس تحریک کی کل ابتدا تھی۔ آج بھی وہاں سے گزر رہا تھا تو اس دن کا تصور کرنے لگا تھا۔

میں نے اپنے ساتھی مولوی صاحب سے کہا: چلیں، ان مدرسوں کا چکر لگائیں، ان طلبہ کرام سے مل لیتے ہیں۔ ہم زنگاوت سے تلوکان گئے، وہاں پہنچتے پہچتے شام ہوچکی تھی، ہم اس وقت جھاڑیوں کے پاس سے گزر رہے تھے، میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ یہ وقت اور ان جھاڑیوں کو یاد رکھنا، عنقریب ایک انقلاب آنے والا ہے، ان شاءاللہ!

وہاں سے ہم ایک مدرسے میں گئے، وہاں ۱۴ طلبہ تھے، انہیں اکٹھا کیا، معزز حضرات! توکل محض سے کام لیں!

ان ۱۴ طلبہ کو ایک دائرے کی شکل میں کھڑا کیا اور ان سے کہا:

میرے بھائیو! آپ دیکھ رہے ہیں کہ خدا کا دین پائے مال ہورہا ہے، فساق وفجار نے پورے علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے، چوری چکاری کا بازار گرم ہے، عام شاہراہ پر لوگوں کی عزت وآبرو کو تار تار کیا جارہا ہے، لوگوں کے مال لوٹے جارہے ہیں، معصوم لوگوں کو شاہراہ ِعام پر قتل کرکے انہیں زندہ انسان کی طرح پتھر سے ٹیک کر بٹھادیا جاتاہے، ارد گرد گاڑیاں گزرتی ہیں لیکن انہیں کفنانے والا کوئی نہیں ہوتا۔

ہم نے ان سے کہاکہ ان حالات میں اس درس وتدریس کا کیا فائدہ؟ اب زندہ باد، مردہ باد سے کام چلنے والا نہیں۔ ہم اب ان حالات کو برداشت نہیں کرسکتے، ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہوگا، اصلاح کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی، اگر آپ حضرات اس حوالے سے خدمت کرنا چاہتے ہیں تو یہ اسباق ودروس چھوڑنے ہوں گے!

ہمیں اس حوالے سے کسی سے ایک روپے افغانی امداد کی امید نہیں، نہ ہی کسی نے ہم سے وعدہ کیا ہے، اس حوالے سے ہم چندے سے کام لیں گے، کوئی دے یا نہ دے، ہمیں اپنے کام کو آگے بڑھانا ہوگا۔

اور یہ بات یاد رکھیں کہ یہ کام ایک دن، ایک ہفتے اور ایک سال کا نہیں، آپ حضرات میں سے کون کون اس خدمت کے لیے تیار ہے؟

میں نے ان کی ہمت بڑھاتے ہوئے کہاکہ (اس وقت گرمی کا موسم تھا) آج ایک فاسق، فاجر اس گرمی میں اللہ کی دشمنی کو مول لے کر دھوپ میں بیٹھا ہے اور علانیہ یہ کام کررہا ہے۔ کیا ہم اور آپ جو اپنے آپ کو مسلمان اور دیندار لوگ سمجھتے ہیں، کیا اس دین کی خدمت اعلانیہ نہیں کرسکتے؟ آج ایسی غفلت کی گنجائش نہیں۔

ان طلبہ کرام کے سامنے اس کام کو کافی بھاری کرکے پیش کیا کہ اگر ہم کسی علاقے کو فتح کرکے اپنے کنٹرول میں لیں گے تو پھر کبھی اسے نہیں چھوڑیں گے، آج کے بعد درس و تدریس کو خیرباد کہہ دیں۔

ہمارے پاس اس وقت اسلحہ ہے نہ پیسے، نہ ہی کسی نے ہم سے وعدہ کیا ہے تعاون کا۔ لہذا ہم چندہ کرکے اپنی ضروریات پوری کریں گے۔ یہ ساری باتیں کرنے کے بعد ہم نے ان سے پوچھا کہ اس کام کے لیے آپ لوگ تیار ہو؟

تو ان میں سے کسی ایک نے بھی مثبت جواب نہ دیا، بلکہ انہوں نے کہا کہ اگر شبِ جمعہ کو کوئی کام ہوا تو ہم تیار ہیں۔

میں نے کہا کہ جمعے کے دن کے بعد یہ کام کون کرے گا؟

میری اس بات پر اللہ گواہ ہے، قیامت کے دن میں اس کی گواہی دوں گا۔

اگر میں اس مدرسے اور اس کے طلبہ پر دیگر مدارس کو بھی قیاس کرلیتا تو میں واپس اپنے مدرسے آکر خاموش بیٹھ جاتا۔ لیکن میں نے اپنے رب سے وعدہ کیا تھا کہ میں یہ کام ضرور کروں گا، میں یہاں کہنا چاہتا ہوں کہ توکل محض سے کام لیا جائے!

میں مایوس نہیں ہوا، دوسرے حلقے (مدرسے) میں گیا، وہاں پانچ یا ساتھ طلبہ تھے، ان سے اسی طرح بات کی تو وہ اس کام کے لیے تیار ہوگئے اور فورا سے اپنے نام لکھوادیے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ پہلے مدرسے اور اس مدرسے کے طلبہ میں کوئی فرق نہ تھا، سب مسلمان تھے، سب عاقل بالغ تھے، ایسا نہ تھا کہ وہ چھوٹے اور یہ بڑے تھے، یا وہ بوڑھے اور یہ نوجوان تھے، یا وہ عورتیں اور یہ مرد تھے۔

یہ ابتدائی مرحلہ تھا، ایک امتحانی دورہ تھا، مجھ پر پہلی بار آزمائش آئی تھی۔

لہذا یہ تحریک کی ابتدا تھی۔ موٹرسائیکل پر گھومتے گھومتے اگلے دن عصر تک ہم نے ۵۳ افراد تیار کرلیے۔ ان افراد کی تیاری صرف اور صرف توکل محض سے ہوئی، عصر کے بعد جب میں واپس آرہا تھا تو میں نے ان طلبہ سے کہا کہ آپ حضرات نے کل فلاں مسجد آنا ہے۔ یہ لوگ کل کے بجائے اسی رات کو ایک بجے وہاں پہنچ گئے۔ (اس بات پر ملا صاحب کی ہچکی بندھ گئی۔ ایک فرد نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فضا میں اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر کی صدا گونجنے لگی۔)

یہ تھی تحریک کی ابتدا۔ چوبیس گھنٹے نہیں گزرے کہ مذکورہ افراد آدھی رات کو ہماری مسجد آگئے، ہمارے ساتھی مولوی صاحب جو اس مسجد کے امام تھے، وہ جب فجر کی نماز کے لیے مسجد پہنچے تو یہ طلبہ مسجد میں موجود تھے، نماز کے بعد ایک مقتدی نے امام صاحب سے کہا کہ امام صاحب! رات کو میں نے بہت مبارک خواب دیکھا ہے! امام صاحب نے کہا کہ: کیسا خواب تھا؟

اس نے کہا: سنگ حصار علاقے میں فرشتے آئے تھے…… (یہاں ملا صاحب کی ہچکی بندھ گئی)، ان کے نرم و گداز ہاتھ تھے…… تو…… میں نے ان سے کہا کہ میرے سر پر بھی اپنے ہاتھ پھیرو۔ (ملا صاحب پھر رونے لگے، تکبیر کے نعرے بھی بلند ہوئے۔)

یہ تھی تحریک کی ابتدا، چوبیس گھنٹے کی کوشش تھی، جس کے نتیجے میں مذکورہ طلبہ راتوں رات ہی مقررہ جگہ پہنچ گئے۔ ہم نے حاجی بشر سے گاڑیاں مانگیں تو انہوں نے صبح دس بجے دو گاڑیوں کا بندوبست کردیا، ایک ہینو اور ایک بائفور ہمیں دی، وہاں سے ہم کشک نخود علاقے کی طرف روانہ ہوگئے۔

کشک نخود پہنچ کر ہماری تعداد میں اضافہ ہوتاگیا، وہاں ہم نے چندہ کرکے پانچ عدد بندوقوں کا بندوبست کرلیا۔

یہ تھا توکل محض کا ثمرہ!

توکل محض، کبھی ناکامی سے دوچار نہیں کرتا، ہم علمائے کرام سے بھی توکل محض کی امید رکھتے ہیں۔

اللہ نہ کرے کہ ہمارا یہ دعویٰ، دعوے تک ہی رہ جائے اور کامیاب نہ ہو۔(یہ ہمارا بہت بڑا دعویٰ ہے کہ ہم اس ملک میں اسلامی نظام نافذ کریں گے، حدود اللہ قائم کریں گے)

آپ حضرات کو یقیناً معلوم ہے کہ حدود اللہ اور اسلامی نظام کا قیام علمائے کرام کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا! علماء ہی جانتے ہیں کہ اسلامی نظام کا قیام کیسے اور کیونکر قائم ہوسکتاہے؟ علمائے کرام کو جان لینا چاہیے کہ یہ نظام کن درجات اور کن اصولوں پر قائم ہوتا ہے؟

لہذا علمائے کرام کو چاہیے کہ اس کے لیے عزمِ مصمم کریں اور اخلاص سے کام لیں، اللہ نا کرے کہ ہماری صفوں میں ایسی کمزوری در آئے کہ کل کلاں فرض نماز ہی میں غلطی وکوتاہی ہونے لگے، ایسی غفلت ہوجائے کہ ہم طلبہ سے نماز ہی بھول جائے۔

نسلِ نو تربیت کی محتاج ہے، اس تحریک میں اخلاص کی شدید ضرورت ہے، ہمیں عالم سے وہی عذر قبول ہے جو عنداللہ قابلِ قبول ہو(شرعی عذر ہو)۔

زبان سے کوئی شخص معذور نہیں گردانا جاسکتا، کہ خود کہے کہ میں معذور ہوں، میں کہتا ہوں کہ میں بھی شرعی عذر قبول کرتا ہوں، باقی معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔

علماء سے وہی عذر قابلِ قبول ہے جو شرعی ہو، جو عنداللہ عذر نہ ہو، پورے افغانستان کے کسی عالم سے قبول نہیں کروں گا، ہر عالم کو اس ملک وملت کی خدمت کرنی ہوگی، ایسی خدمت کرنی ہوگی جو بار آور ہو۔

بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ قضا کا کام تو اتنا اہم کام نہیں، کوئی دوسری نوکری مل جائے، جس میں نام ونمود ہو، جہاں اپنی قوم میں معتبر ٹھہرایا جاؤں۔ مگر میں علمائے کرام سے خصوصاًکہنا چاہتا ہوں(اگرچہ مناسب نہیں) مگر الٰہی مسؤلیت سے ڈرتا ہوں، میں آج اور ابھی اس ذمہ داری اور مسؤلیت کا بار آپ حضرات کو سونپنے کے لیے تیار ہوں، ہم سے جو کچھ ہوسکا، وہ ہم کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے، وہی کام جو زور و بندوق کا کام ہے۔ ہم جس دعوے کے علمبردار ہیں کہ حدوداللہ کو جاری کریں گے اور اسلامی نظام نافذ کریں گے۔

یاد رکھیں! یہ نظام علماء کے علاوہ کوئی نافذ نہیں کرسکتا۔ اللہ کے واسطے اس آیت’’لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا‘‘ کا صحیح مصداق ڈھونڈیں، غلط تعبیر سے بچیں۔ یہ آیت میرے لیے بھی کافی تھی، اگر اسی تعبیر سے مان لیتا، لیکن میں نے یہ تعبیر قبول نہیں کی اور نہ ہی اس تفسیر کا قائل ہوں۔ بندے کا کام ہے کہ کوشش کرے، کم ہو یا زیادہ، اللہ اس میں برکت ڈال دیتا ہے۔

لہذا آپ علماء حضرات سے ہماری گزارش ہے کہ شریعتِ الٰہی کے قیام کے لیے سنجیدگی سے کام لیں، عزمِ مصمم کریں، جس ملک میں حدوداللہ کا قیام ونفاذ ہوتا ہے، وہاں کے امراء بھی فساد کا شکار نہیں ہوتے، خیانت، فسق وفساد کی روک تھام ہوتی ہے۔ آج اگر کوئی عالم مجھ میں کوئی کمزوری، کمی کوتاہی دیکھ کر مجھے معزول کردے، میں اسی وقت استعفاء دے دوں گا، مجھے اس حوالےسے کچھ بھی اعتراض نہ ہوگا۔

یہ طلبہ کرام، جو اپنے آپ کو اہلِ حق قراردیتے ہیں، انہوں نے حق پر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اب کے بعد سے فساق وفجار کا دور ختم ہوچکا ہے، انہیں اگر کوئی عالم نصیحت کرتا تو وہ نہیں سنتے تھے، اب طلبہ کرام کا دور دورہ ہے۔ طلبہ یہ وعدہ کریں گے کہ اگر کوئی عالم ان سے کہے کہ تمہارے اندر فلاں کمی کوتاہی ہے، تو اس کی اصلاح کرنی ہوگی یا پھر اس صف سے نکلنا ہوگا۔

علمائے کرام کی ہرجگہ تک رسائی ہے، علماء کو چاہیے کہ اس راہ میں استقامت اختیار کریں، ورنہ روزِ محشر میں ان علماء کا گریبان پکڑوں گا، میں انہیں نہیں چھوڑوں گا۔ اگر مجھ سے اس کام میں کوئی خرابی پیدا ہوئی تو وہ بھی علماء ہی کی وجہ سے ہوگی، میں روزِ محشر انہیں گریبان سے پکڑوں گا، حدوداللہ کے قیام کی ذمہ داری علماء ہی کا کام ہے، ان کے علاوہ کوئی اس نظام کو نافذ نہیں کرسکتا، طلبہ نہ احکام الٰہی کا پورا علم رکھتے ہیں، نہ ہی اسے نافذ کرسکتے ہیں۔

علماء پر لازم ہے کہ اس راہ میں مضبوطی سے قائم رہیں، نئے افکار وتصورات سے لوگوں میں آگاہی پھیلائیں، پرانے خیالات وتصورات اگر ہیں بھی تو انہیں چھوڑدیں، اس حوالے سے تجدید کی ضرورت ہے، انہیں روزِ محشر حاضر ہونا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے، وہاں ہر ایک نے اپنا حساب دینا ہے، اس آیت ’’لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا‘‘ کا صحیح مصداق بتانا ہوگا، وہاں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا جاسکے گا۔

میں یہ باتیں اس لیے کررہا ہوں کہ اگر مجھ سے کوتاہی ہوئی، ہم سے کوئی گناہ سرزد ہوا تو یہی علماء ہماری اصلاح کریں گے، یہی علماء ہمارے رہبر وراہنما ہیں، انہیں صبر واستقامت سے کام لینا ہوگا، اس کے علاوہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ یہی بات تھی جو علماء کو پہنچانی تھی، وہ پہنچا چکا، یہ بات آپ حضرات کے پاس امانت ہے، آپ حضرات یہ بات ان لوگوں تک بھی پہنچائیں جو یہاں حاضرنہیں۔

وما علینا الا البلاغ

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Previous Post

وقت قریب آ رہا ہے!

Next Post

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: سینتیس (۳۷)

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | اکتوبر 2025

16 دسمبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | نویں قسط

4 نومبر 2025
امنیت (سکیورٹی) | پہلی قسط
الدراسات العسکریۃ

امنیت (سکیورٹی) | چوتھی قسط

4 نومبر 2025
شام میں جہاد کا مستقبل | حصہ دوم – دوسری قسط
علیکم بالشام

شام میں جہاد کا مستقبل | حصہ سوم – پہلی قسط

4 نومبر 2025
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: سینتیس (۳۷)

4 نومبر 2025
وقت قریب آ رہا ہے!
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

وقت قریب آ رہا ہے!

4 نومبر 2025
Next Post
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: سینتیس (۳۷)

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اکتوبر ۲۰۲۵ء

اکتوبر 2025ء

by ادارہ
4 نومبر 2025

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2025 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version