النازعات: خطۂ شام کے اندر اور باہر بہت سے نوجوان مجاہدین اس وقت شام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے مایوس اور الجھن کا شکار ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس کچھ مجاہدین شام پر جہادی کنٹرول کی بین الاقوامی قبولیت کی حد سے حیران ہیں، حتیٰ کہ بعض نے تو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ شمال مغربی افریقہ اور صومالیہ کے مجاہدین کے لیے شام کے انقلاب اور اس کے معزز مجاہدین کے منتخب کردہ طریقے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ آپ کے خیال میں ۸دسمبر ۲۰۲۴ء کو ہونے والی فتوحات سے متاثر ہونے والے شام کے اندر یا باہر کے مجاہدین کو کیا موقف اختیار کرنا چاہیے، جو صحیح و صواب ہو؟ آپ کا ان کو کیا مشورہ ہے؟
استاذ عبدالعزیز الحلاق: اس کا جواب، اللہ کے فضل سے، جزوی طور پر گزشتہ دو حصوں میں دیا جا چکا ہے اور میں نے اس میں شام میں تبدیلی کی وسعت، اس کی شکل، اس کے مستقبل اور اللہ کی مدد سے حاصل ہونے والی فتح کی مقدار کا ذکر کیا ہے، لیکن آپ کے سوال کے جواب میں، میں یہاں یہ اضافہ کرتا ہوں کہ صحیح موقف، جو مجھے یقین ہے کہ ہر با شعور مجاہد کو اپنانا چاہیے، یہ ہے کہ وہ ایسا مضبوط نظریاتی، منہجی اور شرعی طریقۂ کار اختیار کرنے پر یقین رکھے، جسے اللہ تعالیٰ فتح و نصرت کے حصول کے لیے پسند کرتا ہے۔ اگر منہج اور طریقۂ کار کو اس طرح مضبوط کیا جائے تو آپ کو کوئی ایسا حقیقی ربّانی مجاہد نہیں ملے گا جو ٹیڑھے طریقوں سے حاصل ہونے والے نتائج کی رفتار سے، یا جو راستہ صہیونی صلیبی مغرب نے ہمارے لیے ہموار کیا ہے، اس سے حیران ہوا ہو۔
مایوسی، الجھن اور حیرانی تب ہی ہوتی ہے جب ایک متذبذب مجاہد کا ذہن اپنے منہج پر استقامت سے محروم ہو جاتا ہے اور پھر اس کے نزدیک، منہجِ حق اور اچانک پیش آنے والے واقعات کے درمیان، ایک فکری تضاد پیدا ہوتا ہے۔ تاہم، آپ کو کبھی کوئی ایسا، قرآنی طریقۂ کار کو سمجھنے والا ربانی مجاہد نہیں ملے گا جو اپنے منہج اور فکری استقامت پر مضبوطی سے قائم ہو اور پھر ناگہانی واقعات کے نتیجے میں کسی مایوسی، الجھن یا حیرانی سے مغلوب ہو جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے اپنے رب پر بھروسہ اور پختہ یقین ہے کہ ایمانی اور شرعی طور پر جائز طریقوں سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں، خواہ ان کا وقت طویل ہو اور ان پر عمل کرنے والوں کی تعداد قلیل ہو اور دشمن ان کو ناکام بنانے اور ان سے لڑنے کی سازشیں کرتے ہوں، وہ سنت کے مطابق مؤثر ترین ، شریعت کے موافق ترین اور اللہ کی رضا کے قریب ترین ہیں۔
ربانی مجاہد کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں واضح راستے پر چھوڑا ہے، جس کی رات بھی اس کے دن کی طرح روشن ہے اور جس سے وہی انحراف کرتا ہے جو خود حق سے منحرف ہو۔ میری یہ بات اس صحیح حدیث کے مطابق ہے جس میں ہمارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ، وَمَنْ يَعِشَ مِنْكُمْ، فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ.1ابن ماجہ (۴۳) اور احمد (۱۷۱۴۲)۔
’’میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستے پر چھوڑا ہے، جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستے سے، میرے بعد، صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا، تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت سے جو کچھ تمہیں معلوم ہے اس کو لازم پکڑنا۔‘‘
اس لیے جب ایک ربّانی مجاہد، موجودہ دور میں جہاد سے منسوب گروہوں کی طرف سے اپنائے جانے والے راستوں کے بارے میں اپنے بھائیوں کو ابہام اور الجھن میں دیکھتا ہے کہ ان میں سے کون زیادہ صحیح اور مؤثر راستے پر ہے جس کے حصول کے لیے انہوں نے ہتھیار اٹھائے تھے، تو اسے اپنے منہج میں مضبوطی اور اپنے رب کی شریعت اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کے فہم کی بنا پر اس کا جواب آسان اور سادہ ملے گا۔ تخت اور اقتدار پر قابض ہونے کے لیے ہتھیار اٹھانا، اقامتِ دین کے لیے اسلحہ اٹھانے جیسا نہیں ہے، کیونکہ اللہ کا دین قیمتی ہے اور یہ جہادی پگڑیاں باندھنے والے ہر ایرے غیرے کے ذریعے قائم نہیں ہو گا۔ اسی طرح ہمارے زمانے میں، جبکہ صہیونی صلیبی دشمن اور اس کے اتحادیوں نے ہم پر اور ہماری سرزمینوں پر اس طرح حملہ کیا ہے جیسے بھوکے لوگ کھانے پر حملہ کرتے ہیں، نبوی منہج پر مبنی ایک صالح اسلامی نظام کی تشکیل ایک، دو یا تین نسلوں میں ممکن نہیں ہے، بلکہ ہماری امت کو اس کے ڈھانچے کی تکمیل کے لیے، اس کے ستونوں کو قائم کرنے کے لیے اور جس قدر ممکن ہو اس کی مضبوطی کے لیے، کئی نسلیں درکار ہیں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مخلص اہلِ جہاد کو نہ صرف اپنی نسل کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی جہادی راستے کی حفاظت کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اور صحیح جہادی راستے کے نشانات اور منہجِ سلیم کی بنیادیں قائم کرنی چاہییں۔ تاہم، یہ ضروری ہے کہ احتیاط سے ایسے رجالِ کار اور ایسی قیادت کا انتخاب کیا جائے جو جہادی عَلم کو یکے بعد دیگرے اٹھائیں تاکہ امت ان کے نقش قدم پر چل سکے۔
ایک ثابت قدم ربانی مجاہد، حقائق و واقعات کے ساتھ دیانت داری سے معاملہ کرنے میں الجھن یا ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتا اور وہ حق بات کو چھپاتا نہیں، چاہے غالب جماعت عادل اور مہربان ہو یا وہ ایک قوی جماعت ہو جب کہ وہ خود کمزور ہو اور اس کی مخالفت کرنے سے قاصر ہو۔ اس کے باوجود اس کے پاس ایک قرآنی ذہن ہے جو جہادی لوگوں کی اقسام کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے وہ جانتا اور پہچانتا ہے کہ جہاد کے تناظر میں، ’’معذور‘‘ کون ہیں اور ’’سستی کرنے والے‘‘، ’’روکنے والے‘‘ کون ہیں، ’’ڈرانے والے‘‘، ’’منافق‘‘ اور ان جیسے ان کے دوسرے ہم نوا کون ہیں۔ ان لوگوں کے برعکس جو جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہیں اور اپنے لیے جو وہ دیکھتے ہیں اس حقیقت کا جواز پیش کرتے ہیں تاکہ اگر ان کے لیے حالات مشکل ہو جائیں تو انہیں عارضی صورت حال کے ساتھ گزارا کرنے کا موقع مل سکے۔ ایسے ڈگمگانے والے لوگوں کو، الجھن اور ہچکچاہٹ کی لہریں، اچھال کر دائیں بائیں پھینک دیں گی اور وہ ایک دن اپنے آپ کو ہدایت کے بغیر بھٹکتے ہوئے پائیں گے اور یہ کہ انہوں نے اپنے آپ کو اندھیروں میں ڈال دیا ہے جس میں وہ اپنے قدموں کو بھی نہیں دیکھ سکتے کہ کہاں پڑ رہے ہیں۔ جبکہ ثابت قدم اور مخلص مجاہدین کا صحیح موقف، قرآن اور احادیث کے سچے وعدوں، ان کے پورا ہونے کے مکمل یقین اور اللہ اور یومِ آخرت پر ان کے گہرے ایمان سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سب کے باوجود وہ لوگوں میں حق کو قائم کرتے ہیں، اس کا اعلان کرتے ہیں اور اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
ہاں، ان کی نسل کے ربانی مجاہدین شاید وہ چیز حاصل نہ کر سکیں جس کے لیے انہوں نے جہاد کیا تھا اور وہ سب کے سب اپنے خوابوں اور امیدوں کو پورا ہوتے دیکھے بغیر فنا ہو سکتے ہیں، لیکن اس میں کوئی حرج اور نقصان نہیں ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ انہوں نے دو بہترین چیزوں میں سے ایک ضرور حاصل کی ہے۔ داعیانِ دین اور ان کے مدعیان کے لیے، اصحاب الاُخدود (خندق والوں) کی کہانی، ایمان کا ایک ایسا نمونہ پیش کرتی ہے جس میں ان لوگوں کے لیے مکمل تسلی اور ایک جامع اطمینان ہے جنہوں نے اس دنیا میں اپنی محنت کا پھل نہیں دیکھا یا جنہوں نے اپنے ایمان کے سائے میں زندگی بسر کی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر و ثواب ہر اس شخص کے لیے ہے جو قربانی دیتا ہے، نیک ہے اور صبر کرتا ہے۔ جہاں تک اپنے لیے اور راہِ جہاد اور منہجِ حق پر چلنے والے بھائیوں کے لیے نصیحت کا تعلق ہے تو میں کہتا ہوں کہ آج کا اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ جن باتوں میں لوگوں میں اختلاف ہوا ہے ان میں حق و صواب راستے کو تلاش کیا جائے اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور حق راستے پر قائم رہنے کی دعا مانگی جائے، پھر مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم رہا جائے۔ میں اپنے تمام بھائیوں کو صبر کرنے اور جلد بازی نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہوں اور انہیں صبر کرنے، حوصلہ رکھنے، پُرسکون اور پُریقین رہنے کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ معاملات اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ہی چلتے ہیں اور اس کی قضا و قدر نافذ ہو کر رہتی ہے۔ لہٰذا انہیں چاہیے کہ انتظار کریں اور دیکھتے رہیں کہ خدا نے اُن کے لیے اپنے لطیف فیصلوں میں کیا مقدر کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل، اپریل ۱۹۹۲ء میں کابل کی پہلی فتح کے بعد، خاص طور پر برہان الدین ربانی کی قیادت میں مجاہدین کی حکومت کے قیام کے بعد، افغانستان میں نوجوان مجاہدین اسی طرح کی الجھن اور تذبذب کا شکار تھے۔ جہادی دھڑوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم پر اختلافات نے مہاجرین و انصار دونوں قسم کے مجاہدین کو ان کے ذہنوں، تصورات اور منہج کی کمزوری کے مطابق اپنی پوزیشنوں اور صف بندیوں میں تقسیم کر دیا۔ اس دوران آپ نے گلبدین حکمت یار کے ساتھ عرب مجاہدین کو، عبدالرب الرسول سیاف کے حامی عرب مجاہدین سے لڑتے ہوئے دیکھا۔ پریشانی اور ہچکچاہٹ کا شکار بے خبر نوجوانوں نے سات جہادی دھڑوں کے رہنماؤں، خاص طور پر حکمت یار اور سیاف کا ساتھ دیا۔ ہر ایک نے اس لیڈر کی حمایت کی جسے وہ پسند کرتا تھا اور ہر ایک اس کے بارے میں جنونی تھا جسے وہ ’’فاتح قائد‘‘ سمجھتا تھا۔ لہٰذا وہ فاتح رہنماؤں کی حمایت میں بے گناہ خون کے فتنے میں مبتلا ہو گئے حالانکہ یہ فاتحین اس لائق نہیں تھے کہ ان کے اقتدار کی بقا کے لیے جانیں قربان کی جاتیں۔ انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ خدا نے ان کے لیے کیا چھپا رکھا ہے، کیونکہ جنگجو ذہن کا غالب مروجہ نظام یہ ہے کہ وہ صرف وہی دیکھتا ہے جو اس کے پاؤں کے نیچے ہے، اور جنگجو ہر وقت اور جگہ پر، فوری فتح کے لیے بے چین رہتا ہے۔ آج بد قسمتی سے تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ ہم بعض سے سنتے ہیں کہ ’’القائد الفاتح‘‘ ان سب میں بہتر ہے جو موجود ہیں، گویا اہلِ جہاد کے لیے لکھ دیا گیا ہے کہ انہوں نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھنا اور عبرت نہیں حاصل کرنی۔ میری نصیحت کا خلاصہ یہ ہے کہ مجاہدین کے درمیان تصورات کو درست کرنے، منہجِ حق کو پھیلانے اور اللہ کی طرف دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس کی شریعت، اس کے نفاذ کی ضرورت اور ان متبادلات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے جو ہماری معاصر حقیقت کے لیے موزوں ہیں، یہ اس مرحلے پر ربانی مجاہد کا کام ہے۔
النازعات: بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ فتح و کامیابی، ہر لحاظ سے، اس اختیار کردہ منہج کی درستگی کی علامت ہے، مثلاً برادر جہادی جماعتوں پر قابو پانے کے جواز کے لحاظ سے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ اتحاد اور ان کے ساتھ انتہا پسندوں اور سخت گیر عناصر کے خلاف تعاون کرنے کے جواز کے لحاظ سے، صلیبیوں کی طرف سے دہشت گردی کی فہرست میں شامل گروہوں کے ساتھ ’’تعلقات منقطع‘‘ کرنے کے جواز کے لحاظ سے اور صہیونی صلیبی تسلط سے نمٹنے میں عقلیت پسندی کے لحاظ سے، غرض ہر لحاظ سے اس منہج کی درستگی کی علامت ہے۔ پس چونکہ یہ فتح و کامیابی اسی منہج سے حاصل کی گئی ہے، لہذا اسے دوسرے میدانوں اور محاذوں پر بھی اسی طرح کے نتائج کے حصول کے لیے نافذ کیا جانا چاہیے۔ کیا آپ اس تجویز سے متفق ہیں؟
استاذ عبدالعزیز الحلاق: پیارے بھائی! مجھے یقین ہے کہ یہ تجویز ہمارے بہت سے نوجوانوں اور سرزمینِ شام میں ہمارے مجاہد بھائیوں کے درمیان منہجی اضطراب اور فکری بگاڑ کا ایک مظہر ہے۔ میں نے اپنے پچھلے جواب میں بالکل یہی مطلب بیان کرنے کا ارادہ کیا تھا جب میں نے ٹیڑھے طریقوں سے حاصل شدہ نتائج کی رفتار سے پیدا ہونے والے صدمے کی وجہ سے فکری تضاد کے مسئلے کا ذکر کیا تھا، خاص طور پر وہ جو ہنگامی سیاسی حالات کے وقوع پذیر ہونے کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ جب صہیونی صلیبی ارادہ، ہمارے شرعی جہادی ارادے سے ہمکنار ہو جائے، پھر عالمی کفر یہ دیکھتا ہے کہ اسے اپنے دوسرے بڑے مفادات کی خاطر، جہادیوں کو ان کے کچھ اہداف حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہو گا، اس کے بعد یہاں اچانک وقوع پذیر ہونے والے واقعات کے ساتھ تضاد اور اتار چڑھاؤ آتا ہے جو اس کے تمام سابقہ مستقل امور اور ثوابت پر شک پیدا کرتا ہے۔
لیکن جس کے پاس قرآنی ذہن ہے، اس کے پاس ایک منہجی اور فکری قوتِ مدافعت اور ربانی ذہانت ہے جس سے وہ واقعات کو چھان سکتا ہے، ان میں فرق کر سکتا ہے اور ان کے رازوں کو واضح طور پر ظاہر کر سکتا ہے۔ ہر فتح و کامیابی، منہج اور راستے کی درستی کی علامت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہمارے لیے ایک عظیم مثال پیش کی ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اسے سمجھیں اور فہم و شعور کے ساتھ اس کا احاطہ کریں، یہ قارون کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰي فَبَغٰى عَلَيْهِمْ ۠ وَاٰتَيْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْۗاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِي الْقُوَّةِ ۤ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ (سورۃ القصص: ۷۶، ۷۷)
’’قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقت ور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں۔ جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اِتراؤ مت کہ خدا اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا، اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کرو اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلاؤ اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالبِ فساد نہ ہو۔ کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘
پس غور کریں کہ قارون کی پہلی وابستگی کیسی تھی، پھر ان کے خلاف اس کی سرکشی کو دیکھیں، پھر ان خزانوں اور کامیابیوں پر غور کریں جو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی قوم اور بھائیوں پر سرکشی کے باوجود آزمائش اور فتنے کے طور پر عطا فرمائی تھیں۔ اپنی قوم کی طرف سے اس کی سرکشی پر انکار اور ان کی طرف سے کی گئی نصیحت و ہدایت پر غور کریں۔ آج کتنے ہی لوگ ہیں جو نصیحت و ہدایت کو نظر انداز کرتے ہیں!
پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ کس طرح قارون اپنی سوچ، عقل اور ہنر میں ظالم تھا اور جب وہ اپنی قوم کے سامنے زیب و زینت کے ساتھ آیا تو کتنا مغرور و متکبر تھا اور لوگ اس کی کامیابیوں کے بارے میں موقف قائم کرنے میں دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے، پختہ عقیدے والے ثابت قدم لوگ اور دنیا پرست ڈگمگانے والے۔
قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ۭ اَوَلَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّاَكْثَرُ جَمْعًا ۭ وَلَا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ فَخَـــرَجَ عَلٰي قَوْمِهٖ فِيْ زِيْنَتِهٖ ۭ قَالَ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا يٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ قَارُوْنُ ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۚ وَلَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ (سورۃ القصص: ۷۸، ۷۹، ۸۰)
’’بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے، کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں، جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں، ہلاک کر ڈالی ہیں، اور گناہ گاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا؟ تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کہ جیسا (مال و متاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحبِ نصیب ہے، اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس! مومنوں اور نیکوکاروں کے لیے (جو) ثواب اللہ(کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا۔ ‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے اس تمام فتح، کامیابی اور طاقت کے بعد قارون کے انجام کا ذکر کیا، تب اس کے پیروکار اور حامی پانی میں نمک کی طرح پگھل گئے، پس اس دن شکست خوروں کی کیا حیثیت ہو گی؟
فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ ۣ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۤ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ وَاَصْبَحَ الَّذِيْنَ تَمَـــنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ يَقُوْلُوْنَ وَيْكَاَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ ۚ لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا ۭوَيْكَاَنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ (سورۃ القصص: ۸۱، ۸۲)
’’پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہو سکی، اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔ اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے، صبح کو کہنے لگے، ہائے شامت! اللہ ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے خرابی! کافر نجات نہیں پا سکتے۔ ‘‘
یہاں، ہر مومن کو اس عظیم قرآنی تمثیل کے آخر میں بیان کردہ الٰہی نصیحت پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں اللہ کی سنت اور خدائی قانون کا بیان ہے جو کبھی تحویل یا تبدیل نہیں ہو گا:
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۭ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ مَنْ جَاۗءَ بِالْحَـسَـنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (سورۃ القصص: ۸۳، ۸۴)
’’وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اُسے اُن لوگوں کے لیے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے۔ جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر (صلہ موجود) ہے اور جو برائی لائے گا تو جن لوگوں نے برے کام کیے ان کو بدلہ بھی اسی طرح کا ملے گا جس طرح کے وہ کام کرتے تھے۔‘‘
النازعات: محترم ابو اسامہ! اب اس موضوع کی طرف رجوع کرتے ہیں جسے ہم نے عجلت میں مختصراً سابقہ قسط میں چھوا تھا، جو اصحابِ ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ اور اصحابِ ’’ردع العدوان‘‘ کے درمیان انضمام کا موضوع ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اتفاق رائے اور انضمام مستقبل قریب میں ممکن ہے، خاص طور پر حماس کے رہنما اسامہ حمدان کے قابل تعریف بیانات کے بعد؟ اور وہ کون سے طریقہ ہائے کار ہیں جن کے ذریعے یہ جہادی اتفاق رائے اور انضمام عظیم تر شام میں ہو سکتا ہے؟
استاذ عبدالعزیز الحلاق: جی ہاں! مجھے یقین ہے کہ ایسا ممکن ہے اور ایسا ہونے کا بہت امکان ہے، لیکن صرف اس شرط پر کہ دونوں جماعتیں امت کے مفادات اور اس کی امنگوں کو ترجیح دیں تاکہ خلافت علی منہاج النبوۃ کے مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔ اس کے لیے رابطے کے پُل تعمیر کرنے اور برادرانہ ملاقاتوں کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پورے ادب اور نرمی کے ساتھ اس حقیقت کا جائزہ لیا جائے اور اس بات پر بحث کی جائے جو اس انضمام پر منطبق ہو سکے اور امتِ مسلمہ کے لیے اسٹریٹیجک گہرائی اور وفادار حلیف ثابت ہو سکے اور ساتھ ساتھ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں وسیع تعاون بھی ہو۔ تاہم، اگر یہ ابتدائی بنیاد حاصل نہیں کی جاتی ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے عزائم اور خواب پورے ہوں گے، خصوصاً مشرقی اور مغربی کیمپوں میں پیدا شدہ قطبیت (پولرائزیشن) کی موجودگی میں۔ پس آج، مشرقی محور، اپنے ایرانی اتحادی کے ذریعے، اپنے کیمپ کے اندر اصحابِ ’’طوفان الاقصی‘‘ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اگرچہ صرف رسمی طور پر ہی ہو۔ جبکہ مغربی محور اپنے ترک اتحادی اور اس کے چھوٹے بھائی ’’قطر‘‘ کے ذریعے اپنے کیمپ کے اندر اصحابِ ’’ردع العدوان‘‘ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، خصوصاً چونکہ ان کے پاس مشرقی کیمپ کے خلاف نیزے ہیں، جیسے حزبِ اسلامی ترکستان کے ہمارے مجاہدین بھائی اور روس کی سرحد سے متصل اسلامی ممالک (چیچنیا، داغستان وغیرہ) کے ہمارے مجاہدین بھائی۔ لہٰذا صہیونی صلیبی مغرب، ترکستانی اور چیچن مجاہدین کو شام میں کچھ وقت تک محفوظ رکھنا چاہتا ہے تاکہ اگر موقع ملے تو وہ ان مجاہدین سے، چین اور روس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کام لے سکیں۔ پس ’’طوفان الاقصی‘‘ اور ’’ردع العدوان‘‘ کے معمار مجاہد بھائیوں کو اس سے بچنا چاہیے کہ وہ مشرق یا مغرب کے قابو میں آ کر ان کے منصوبوں کا حصہ بنیں۔ انہیں مشرقی اور مغربی دونوں محوروں سے یکساں طور پر اپنے تعلقات منقطع کر دینا چاہییں اور ہندوستان اور پاکستان سے لے کر مالی اور شمال مغربی افریقہ میں اسلامی مغرب تک، اسلامی جہادی محور تک پہنچنے کے لیے اپنی امتِ مسلمہ، اس کے عظیم لوگوں اور اس کے ہراول جہادی دستے یعنی مخلص مجاہدین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے چاہییں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ ہم انہیں کبھی بھی شدید تصادم اور اندھی لڑائی میں نہ دیکھیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں کو اور ہم سب کو ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں اور ان کو صفوں میں اتحاد اور کلمہ توحید کے تحت اتفاق عطا فرمائے اور بکھرے ہوئے اور منتشر لوگوں کو اکٹھا کرے، کیونکہ وہی اس پر نگہبان اور ایسا کرنے پر قادر ہے۔
النازعات: استاذِ محترم! ہم اس سلسلۂ انٹرویو اور اس کی آخری قسط میں آپ کے ساتھ آخری سوال کے دہانے پر ہیں۔ شاید میں اس وقت آپ کی توقعات کے بارے میں پوچھوں گا کہ ملکِ شام اور مجموعی طور پر عظیم تر شام میں مستقبل قریب میں کیا ہو گا؟ کیا آپ غزہ میں جنگ کی واپسی کی توقع رکھتے ہیں، خاص طور پر رمضان کے مہینے میں؟ اور غزہ میں اپنے بھائیوں کی حمایت کے لیے شامی موقف میں کیا تبدیلی ضروری ہے؟ اور اس سلسلے میں باقی امت کے مجاہدین کی ذمہ داری کیا ہے؟
استاذ عبدالعزیز الحلاق: واللہ، پیارے بھائی! مجھے یقین ہے کہ یہ غزہ ہمارے لیے، تمام مجاہدین کے لیے، ہماری پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے اور در حقیقت پوری انسانیت کے لیے ایک مشکل امتحان ہو گا۔ جی ہاں! میں توقع کرتا ہوں کہ لڑائی غزہ میں نہ صرف واپس آئے گی بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ لوٹے گی۔2یہ انٹرویو گزشتہ رمضان سے قبل لیا گیا تھا اور استاد حلاق کی یہ پیشن گوئی بھی پوری ہوئی (مترجم) اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ غزہ اور فلسطین میں ہمارے لوگوں کو ثابت قدم رکھے اور تمام مجاہدین کو جان و مال سے ان کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں واقعی امید کرتا ہوں کہ ملکِ شام جنگ کے دائرے سے باہر ہی رہے گا تاکہ وہ خود کو دوبارہ تعمیر کر سکے، کیونکہ فلسطین کو ایک مضبوط، مربوط، اسلامی، جہادی شام کی ضرورت ہے جو اس کا پشت پناہ ہو۔ تاہم، میں دیکھ رہا ہوں کہ غزہ کے حوالے سے، خدا ہمارا اور ہر ایک کا امتحان لینا چاہتا ہے اور دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ گویا اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانفال کی یہ آیات ہمارے لیے ہی نازل فرمائی ہیں:
وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ (سورۃ الانفال:۷، ۸)
’’اور (اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار) ہے وہ تمہارے ہاتھ آ جائے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے۔‘‘
پس جنگ غزہ کی طرف لوٹتی ہے یا نہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں صورتوں میں، علماء و فقہائے کرام کا اجماع ہے کہ قابلِ شرف اہلِ غزہ کی حمایت و مدد اور حملہ آور غاصب صہیونی دشمن کو پسپا کرنے کی جنگ میں ان کے ساتھ شریک ہونا ہر مسلمان پر بقدرِ استطاعت فرضِ عین ہے۔ جہاں تک شام کا تعلق ہے تو یہ فرضِ عین دوسروں سے زیادہ اس پر عائد ہوتا ہے کیونکہ اس کے جنوبی علاقوں پر بھی اسی صہیونی دشمن کا قبضہ ہے۔ مزید برآں، آج وہ صہیونیوں کے ساتھ سرحدی اتصال میں آ چکے ہیں، اس لیے کسی بھی صورت میں جارح صہیونیوں کے خلاف جنگ ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اللہ سے مدد طلب کریں، اس کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور اپنی پوری طاقت اور ذمہ داری کے ساتھ جنگ لڑیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ امت کے نوجوان، ان کے ساتھ اور ان کے پیچھے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے ذریعے فتح عطا فرمائے اور انہیں متقی مجاہدین کا امام بنائے۔ جہاں تک امت کے باقی مجاہدین کا تعلق ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ صہیونیوں اور ان کے امریکی اتحادیوں کو دنیا بھر میں نشانہ بنائیں، کیونکہ مسئلۂ فلسطین کا حل ’عالمی جہاد‘ کے علاوہ کہیں نہیں ہے، اور یہ امت کا، آئندہ آنے والا، مقدر ہے اور عالمی کفر کے سرغنہ امریکہ سے لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے تاکہ اسرائیل کی مدد و حمایت کی شریان کو کاٹا جا سکے۔ اس کے بعد اہلِ جہاد، یہودیوں کو پورے خطۂ شام سے نکال باہر کریں گے اور پھر ہم ان شاء اللہ، اپنے پیارے نبی ﷺ کے مقامِ اسراء و معراج کو فتح کریں گے اور مسجدِ اقصٰی کو اور اسیران کو صہیونیوں کے قبضے سے آزاد کرائیں گے۔ اس لیے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اور ہماری امت کے نوجوانوں کو، صہیونیوں اور صلیبیوں کو دنیا بھر میں نشانہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تیروں کو نشانے پر لگائے اور اللہ ہی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔
النازعات: بارک اللہ عزیز استاذ عبد العزیز! اور اللہ تعالیٰ ہمارے لیے وقت نکالنے میں آپ کی مہربانی اور سخاوت کا آپ کو اجر دے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مکالمے کو نفع بخش بنائے اور اس میں ہمارے اور تمام مسلم نوجوانوں کے لیے ہدایت، نصیحت اور رہنمائی شامل کرے۔ میں آپ سے معذرت خواہ بھی ہوں کہ میں نے آپ کے ساتھ بے تکلف سوالات میں بے باکی کا مظاہرہ کیا، لیکن اللہ جانتا ہے کہ اس کا مقصد ہمارے حالات، ہمارے نظریات اور ہمارے مروجہ افکار کے بارے میں کچھ بے تکلفی اور حقیقت کے بارے میں کھلے پن کے ساتھ گفتگو کو تقویت دینا تھا۔ بہر حال، اللہ کا شکر ہے کہ آپ نے ہمیں یہ مکالمہ کرنے کا موقع دیا اور میں اپنے اور آپ کے لیے مزید کامیابی اور رہنمائی کے لیے دعا گو ہوں۔ آمین۔
استاذ عبدالعزیز الحلاق: ایسا نہیں ہے پیارے بھائی! دراصل اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھے آپ سے بات کرنے اور اپنے سوالات کے ساتھ مجھے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا۔ بارک اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کے حسنِ ظن اور مہمان نوازی کا اجر دے۔
اس کے ساتھ ساتھ میں ’ادارہ النازعات‘ میں اپنے معزز بھائیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے امت میں بیداری پیدا کرنے، مسلم نوجوانوں میں نیکی پھیلانے اور انہیں صحیح منہج کی طرف دعوت دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میں خدائے بزرگ و برتر، عرش عظیم کے مالک سے دعا گو ہوں کہ جو کچھ کہا گیا ہے اسے ہمارے حق میں حجت بنائے، نہ کہ ہمارے خلاف، اور مجھے اور آپ کو اس دین کے لیے خلوص نیت سے کام کرنے والوں میں شامل فرمائے اور ہمیں اور آپ کو اپنے نیک بندوں میں شامل فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
٭٭٭٭٭
- 1ابن ماجہ (۴۳) اور احمد (۱۷۱۴۲)۔
- 2یہ انٹرویو گزشتہ رمضان سے قبل لیا گیا تھا اور استاد حلاق کی یہ پیشن گوئی بھی پوری ہوئی (مترجم)





![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



