نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home طوفان الأقصی

قبلۂ اوّل سے خیانت کی داستان (سعودی عرب)

by نعمان حجازی
in فروری 2026ء, طوفان الأقصی
0

قبلۂ اوّل سے خیانت کی داستان کے ان کرداروں میں جو آج بھی اپنے چہروں پر مختلف نقاب سجائے بیٹھے ہیں اور امت مسلمہ کو مستقل دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں، ان میں شاید سب سے زیادہ فریبی کردار خود کو ’’خادم الحرمین الشریفین‘‘ کہلانے والے سعودی عرب کے حکمران ہیں۔  ان کے اسی لقب کے سبب پوری امت مسلمہ میں آغاز سے ہی ان حکمرانوں کے حوالے سے عقیدت و احترام موجود رہا ہے۔ اگرچہ ولی عہد محمد بن سلمان کے ’’کارناموں‘‘ کے سبب اس عقیدت میں اب بڑی حد تک کمی آئی ہے لیکن آج بھی  سعودی عرب کو پورے عالمِ اسلام میں نمایاں اہمیت اور مقام حاصل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات  بھی باقی سب سے زیادہ پیچیدہ ہیں اور اسرائیل کے حوالے سے سعودی حکمرانوں کا دوغلا پن واضح نظر آتا ہے۔ ایک طرف تو سعودی حکمران اسرائیل کے خلاف سخت بیان دیتے آئے ہیں اور آج تک اسرائیلی ریاست کی رسمی حیثیت تسلیم نہیں کی، لیکن دوسری طرف  سعودی عرب کے قیام سے لے کر آج تک کبھی اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان کوئی عسکری تصادم یا جھڑپ پیش نہیں آئی اور یہ مخالفت اور دشمنی ہمیشہ محض بیان بیازیوں اور تقریروں تک ہی محدود رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے متعدد بار اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان امن قائم کرنے، تعلقات بہتر بنانے اور چند مخصوص شرائط کے عوض اسرائیلی ریاست کو تسلیم کروانے کے لیے نمایاں کوششیں کی ہیں۔ بیشتر مواقع پر دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ مفادات اور خطرات کے پیش نظر خاموش  ہم آہنگی، خفیہ رابطہ کاری اور  انٹیلی جنس تعاون سامنے آیا۔

نتیجتاً اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات آج ایک منفرد نوعیت کے حامل ہیں۔ بظاہر دشمنی، سخت بیانات  نظر آتے ہیں لیکن پس پردہ مشترکہ مفادات، انٹیلی جنس تعاون، خفیہ رابطے اور حکمت عملی کی ہم آہنگی جاری ہے، یہاں تک کہ یہ حکمران موقع آنے پر مسئلۂ فلسطین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے بھی  نہیں ہچکچائے۔ یہ کہانی ’’خادمین الحرمین الشریفین‘‘ کے خوشنما  پردوں میں چھپے انہی بد نما  خائنین کی ہے۔

 عبدالعزیز   بن عبد الرحمن آل سعود (ابن سعود)

امیر نجد اور معاہدۂ دارین

پہلی جنگ عظیم کے دوران  جب  شریفِ مکہ اور امیرِ حجاز  حسین بن علی نے طاقت و اقتدار کی ہوس میں برطانیہ کا ساتھ دیتے ہوئے پورے خطۂ عرب میں خلافتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا تو اس وقت نجد کے علاقے پر آل سعود خاندان کی حکومت تھی اور اس کا حکمران عبد العزیز آل سعود تھا جو ’’ابن سعود‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ نجد اور اس سے ملحقہ علاقوں پر آل رشید خاندان کا بھی دعویٰ تھا جو کہ خلافت عثمانیہ کا حلیف تھا اور خلافتِ عثمانیہ آل سعود خاندان کے خلاف آل رشید کی مدد کر رہی تھی۔ یہی وجہ  تھی کہ ۱۹۱۵ء میں نجد کے حکمران ابن سعود نے خلافت عثمانیہ کے خلاف برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدے کو معاہدۂ دارین کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ابن سعود نے نجد سمیت اپنے قبضے کا تمام علاقہ عملی طور پر برطانیہ کے تسلط میں دے دیا۔ برطانیہ نے ابن سعود  کا پانچ ہزار پاؤنڈ ماہانہ1آج کل یہ تقریباً آٹھ لاکھ امریکی ڈالر ماہانہ  کی مالیت بنتی ہے۔ وظیفہ مقرر کیا۔ معاہدے کی دیگر شرائط ویسی ہی تھیں جیسی دیگر عرب قبائل کے ساتھ معاہدوں کی تھیں یعنی  یہ حکمران برطانیہ کی اجازت کے بغیر نہ تو اپنی زمین سے متعلق کوئی معاملہ کسی غیر ملکی فریق کے ساتھ کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی غیر ملکی فریق کے ساتھ برطانیہ کی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کا کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں۔ بدلے میں برطانیہ ’’بیرونی دشمن‘‘ کے خلاف آل سعود کی حفاظت کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت برطانیہ نے آل سعود کے زیر قبضہ تمام علاقے کو آل سعود کا ’’آبائی علاقہ‘‘ قرار دیا اور یہ بھی طے کیا کہ اس علاقے کی حکومت آئندہ ہمیشہ اسی خاندان کے پاس ہی رہے گی۔ بدلے میں برطانیہ نے ابن سعود کو خلافت عثمانیہ کے حریف آل رشید کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کا کہا اور اس مقصد کے لیے  اسے بیس ہزار پاؤنڈ قرض،  چار مشین گنیں اور تین ہزار رائفلیں بھی فراہم کیں۔ ۱۹۲۲ء تک ابن سعود نے آل رشید کے تمام علاقوں پر قبضہ کر کے ان کی امارت جبل شمر  کا خاتمہ کر دیا۔

حجاز پر قبضہ

برطانیہ ایک طرف امیر نجد ابن سعود کی حمایت کر رہا تھا تو دوسری طرف شاہ حجاز حسین بن علی کی بھی حمایت کر رہا تھا، لیکن  حسین بن علی پورے عرب کا بادشاہ بننے کا خواب دیکھ رہا تھا اور اسے یہ گمان تھا کہ برطانیہ ایسا کرنے میں اس کی مدد کرے گا لیکن برطانیہ نے  بالفور اور سائکس پیکو معاہدوں کے ذریعے سے حسین بن علی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جس کی وجہ سے اس کے اور برطانیہ کے تعلقات خراب ہوتے چلے گئے۔ یہی وجہ تھی کہ جب ۱۹۲۵ء میں ابن سعود نے مکہ پر قبضہ کیا تو اسے برطانیہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔  ۸ جنوری ۱۹۲۶ء کو مکہ، مدینہ اور جدہ کے سرکردہ رہنماؤں نے ابن سعود کو ’’شاہ حجاز‘‘ قرار دے دیا اور مسجد حرام میں اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

جدہ معاہدہ اور سعودی عرب کا قیام

۲۰ مئی  ۱۹۲۷ء کو  برطانیہ نے ابن سعود کے ساتھ ’’جدہ معاہدہ‘‘ کیا جس کے نتیجے میں برطانیہ نے ابن سعود کی حجاز اور نجد سمیت   تمام زیر قبضہ علاقوں  پر حکومت کو تسلیم کر لیا جبکہ ابن سعود نے  برطانیہ کی کھینچی گئی سرحدی حدود اور ان حدود سے دوسری طرف موجود علاقوں (عراق اور کویت) پر برطانوی تسلط کو تسلیم کیا۔ اس معاہدے کے ساتھ معاہدہ دارین ختم ہو گیا۔

۲۳ ستمبر ۱۹۳۲ء کو ابن سعود نے نجد اور حجاز کی سلطنتوں کو ملا کر سعودی عرب کی سلطنت کا اعلان کر دیا اور خود کو سعودی عرب کا پہلا بادشاہ مقرر کر دیا۔

فلسطین میں برطانیہ کے خلاف  بغاوت روکنے میں کردار

برطانیہ کے زیر تسلط فلسطین میں اپریل ۱۹۳۶ء میں  برطانوی حکومت کی طرف سے بڑی تعداد میں یہودیوں کو لائے جانے کے سبب فلسطینیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کا مطالبہ تھا کہ یہودیوں کی فلسطین میں ہجرت کو روکا جائے، صہیونی تنظیموں کو زمینیں فروخت کرنے پر پابندی لگائی جائے اور فلسطین کی آزادی کا اعلان کیا جائے۔

اکتوبر ۱۹۳۶ء میں  برطانیہ کے کہنے پر عبد العزیز ابن سعود نے دیگر عرب رہنماؤں کے ساتھ مل کر فلسطینی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بغاوت کو ختم کر دیں  اور ’’برطانوی حکومت پر اعتماد‘‘ کریں کہ وہ اس مسئلے کو حل کرے گی۔ ابن سعود کی دینی شناخت اور مکہ اور مدینہ کے حکمران ہونے کے سبب فلسطینی قیادت اسے احترام کی نظر سے دیکھتی تھی جس کے سبب انہوں نے ابن سعود کی بات تسلیم کر لی اور تحریک ختم کر دی۔

پیل کمیشن  کی سفارشات پر رد عمل

جواب میں برطانیہ نے لارڈ پیل کی قیادت میں معاملے کے حل کے لیے پیل کمیشن قائم کیا جس نے جولائی ۱۹۳۷ء میں اپنی سفارشات پیش کیں جس میں پہلی بار فلسطینی سرزمین کی تقسیم اور وہاں یہودی ریاست کے قیام  کی تجویز پیش کی گئی۔ ابن سعود کو فلسطینی سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں تھا، بلکہ اس کا اعتراض باقی فلسطینی علاقے کو حسین بن علی کے بیٹے عبد اللہ بن حسین کے زیر تسلط دینے پر تھا۔

سعود بن عبد العزیز آل سعود

پہلی عرب اسرائیل جنگ میں کردار

۱۹۴۵ء میں  ابن سعود نے اپنے بیٹے سعود بن عبد العزیز کو ولی عہد مقرر کیا اور زیادہ تر حکومتی اختیارات اس کے حوالے کر دیے ۔ ۱۹۴۸ء کی پہلی عرب اسرائیل جنگ میں  سعودی عرب نے اپنے ایک ہزار کے قریب افراد مصر کی فوج کے ساتھ اسرائیل کے خلاف جنگ کے لیے بھیجے جن میں زیادہ تر رضاکار تھے۔ یہ جنگ میں سعودی عرب کی محض ایک علامتی شرکت تھی، اور ان افراد نے جنگ میں عملی طور پر کوئی حصہ نہیں لیا۔ ان افراد کو بھیجنے کے علاوہ بھی سعودی عرب نے جنگ میں کوئی شرکت نہیں کی۔ لیکن  عرب لیگ کی جانب سے نافذ کیے گئے اسرائیل کے مکمل بائیکاٹ میں سعودی عرب بھی شامل ہوا  اس کے بعد اگرچہ بائیکاٹ دہائیوں تک جاری رہا لیکن جہاں کہیں مشترکہ مفادات سامنے آئے تو ان کے حصول کے لیے خاموش تعاون ضرور موجود  رہا۔

یمن جنگ میں تعاون

۱۹۵۳ء میں شاہ عبد العزیز ابن سعود کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا سعود بن عبد العزیز سعودی عرب کا بادشاہ بنا۔ یہ وہ دور تھا جب جمال عبد الناصر کا عرب قوم پرستی کا بیانیہ اپنے عروج پر تھا اور پورے عرب خطے کو متاثر کر رہا تھا۔ جمال عبد الناصر کو سعودی عرب کے آل سعود اور اردن کے آل ہاشمی دونوں اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے تھے، اس لیے اس مشترکہ خطرے نے ان دونوں حکمران خاندانوں کی پرانی دشمنی کو ختم کر دیا۔ ۱۹۶۲ء میں مصر نے یمن میں فوجی بغاوت کی حمایت کی جس نے یمن کی حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں جمہوریہ کا اعلان کر دیا۔ سعودی سلطنت نے اس بغاوت کے خلاف یمنی بادشاہت کے ساتھ تعاون شروع کیا۔ جمال عبد الناصر اسرائیل کے لیے بھی خطرہ تھا اس لیے یمن میں اس کی حمایت یافتہ حکومت اسرائیل کو بھی قبول نہیں تھی اس لیے اس نے بھی یمنی سلطنت کے ساتھ تعاون شروع کیا۔ اس طرح سعودی سلطنت اور اسرائیل کے مشترک مفادات کے پیش نظر سعودیہ نے اسرائیلی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود  خاموشی سے بغیر اعلان کیے کھول دیں جس کے ذریعے اسرائیل  یمنی سلطنت کو اسلحہ اور دیگر امدادی سامان مہیا کر رہا تھا۔

فیصل بن عبد العزیز آل سعود

یمن میں جاری مشترکہ مفادات

۱۹۶۴ء میں شاہ سعود کے بھائی فیصل بن عبد العزیز نے اس کا تختہ الٹ دیا اور خود بادشاہت سنبھال لی۔ شاہ فیصل  پورے عالمِ اسلام میں سعودی عرب کا سب سے مقبول حکمران رہا کیونکہ اس نے جمال عبد الناصر کی عرب قوم پرستی کے مقابل اسلامی وحدت کا نعرہ لگایا۔ لیکن دیگر تمام عرب حکمرانوں کی طرح شاہ فیصل کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا کہ جہاں دو دشمنوں میں سے ایک کے خلاف دوسرے کے ساتھ تعاون  کا معاملہ آیا تو دیگر تمام عرب حکمرانوں کی طرح شاہ فیصل نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعاون کا ہی انتخاب کیا چاہے دوسرا کلمہ گو ہی کیوں نہ ہو۔

یہ معاملہ یمن میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے پیش آیا۔ اسرائیل کے انٹیلی جنس ریکارڈز میں سے ایک خفیہ رپورٹ منظر عام پر آئی جس کے مطابق ۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیل جنگ سے کچھ عرصہ قبل برطانوی انٹیلی جنس کے تعاون سے شاہ فیصل، اردن کے شاہ حسین اور اسرائیل کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا جس میں  مصری فضائیہ کے جہازوں کو یمن پہنچنے سے روکنے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان تعاون پر اتفاق کیا گیا تھا۔

۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ اور خرطوم اعلامیہ

۱۹۶۷ء میں جب عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو اس بار شاہ فیصل نے علامتی طور پر بھی اپنا کوئی فرد جنگ میں شمولیت کے لیے نہیں بھیجا اور اس جنگ سے خود کو دور ہی رکھا۔ جنگ کے بعد اگست ۱۹۶۷ء میں  سوڈان کے شہر خرطوم میں عرب لیگ کا اجلاس ہوا جس میں اسرائیل کا بائیکاٹ مزید سخت کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ نہ تو اسرائیل کو تسلیم کیا جائے گا نہ ہی اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کیے جائیں گے۔ شاہ فیصل نے بھی اس اعلامیے کی حمایت کی لیکن ساتھ ہی ساتھ اس نے اپنی یہ رائے بھی رکھی کہ براہ راست مذاکرات نہ ہوں لیکن بالواسطہ طور پر ثالثوں کے ذریعے سفارتی کوششوں کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔

اسرائیل سعودی عرب بالواسطہ معاشی تعاون

۱۹۶۷ء کی جنگ  سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک بالواسطہ معاشی تعاون کی وجہ بھی بن گئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا ۔ سعودی عرب کی لبنان کے لیے تیل کی پائپ لائن اسی علاقے سے گزرتی تھی جس پر  اسرائیل نے قبضہ کیا۔ اسرائیل نے امریکہ کی ثالثی کے بعد سعودی  تیل کی لبنان فراہمی کو جاری رہنے دیا اور اپنے زیر قبضہ علاقے سے پائپ لائن گزرنے کی بغیر کسی معاوضے کے اجازت دے دی۔ یہاں تک کہ ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران بھی اسے نہیں روکا گیا۔

۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ اور تیل کی برآمدات پر پابندی

۱۹۷۰ء میں جمال عبد الناصر کے مرنے کے بعد جب مصر میں انور سادات کی حکومت آئی تو سعودی عرب اور مصر کے تعلقات میں بہتری آئی اور ان میں تعاون میں اضافہ ہوا۔

لیکن پھر بھی ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران شاہ فیصل نے جنگ میں بس اتنی ہی شمولیت اختیار کی کہ اردن میں تعینات اپنے ایک ہزار فوجیوں کو جنگ کے بالکل آخری دنوں میں اردن سے  شام میں تعینات کر دیا۔  شاہ فیصل کی طرف سے  بس یہی ایک علامتی شمولیت تھی اور ان فوجیوں نے بھی جنگ میں کوئی حصہ نہیں ڈالا۔

لیکن جنگ کے فوراً بعد شاہ فیصل نے کسی درجے سنجیدہ اقدام اٹھایا اور اور امریکہ اور ہالینڈ کو تیل کی فروخت میں پابندیاں لگا دیں۔ ان پابندیوں میں ان دونوں ملکوں کو تیل کی برآمدات میں ماہانہ  پانچ فیصد کمی کرنا اور فی بیرل تیل کی قیمت میں اضافہ کرنا شامل تھا۔ بعد میں یہ پابندیاں بڑھا کر برطانیہ، پرتگال اور جنوبی افریقہ پر بھی لگا دی گئیں۔ شاہ فیصل نے اعلان کیا کہ یہ پابندی اس وقت تک نہیں ہٹائی جائے گی جب تک یہ تین شرائط پوری نہ ہو جائیں:

  1. اسرائیل تمام مقبوضہ علاقوں سے انخلا کرے۔
  2. فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے۔
  3. بیت المقدس پر عربوں کا حق تسلیم کیا جائے۔

شاہ فیصل کے اس اقدام نے عالمِ اسلام میں اس کی شہرت کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور اسے امت مسلمہ کا ایک ہیرو تصور کیا جانے لگا اور اس کی حیثیت دیگر عرب حکمرانوں میں بھی بہت اوپر چلی گئی۔ حالانکہ یہ ایک معمولی علامتی پابندی تھی، جس کی حیثیت ایک سیاسی تماشے سے زیادہ نہیں تھی جو صرف چار ماہ جاری رکھنے کے بعد ایک بھی مطالبہ تسلیم کروائے بغیر ختم کر دی گئی۔

شاہ فیصل کا قتل

۲۵ مارچ ۱۹۷۵ء کو شاہ فیصل کے بھتیجے شہزادہ فیصل بن مساعد نے شاہ فیصل کو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ شاہ فیصل کے قتل کو بہت سے سازشی نظریات کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے اور اس کے قتل کے پیچھے سی آئی اے اور موساد کی سازش ثابت کرنے کی بھی کوشش کی جاتی رہی ہے حالانکہ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے قتل کا محرک ذاتی تھا اور اس کے مقابل موجود ممکنہ سی آئی اے یا موساد کی کسی قسم کی مداخلت کے بارے میں پچھلے پچاس سال  میں کوئی دلیل سامنے نہیں۔

شاہ فیصل کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے ملک کو جدیدیت کی طرف گامزن کیا جس میں دیگر اصلاحات کے ساتھ ساتھ ملک میں ٹیلی ویژن کا آغاز بھی تھا۔ ملک کے دیندار حلقوں میں بڑے پیمانے پر اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ شاہ فیصل کے بھائی مساعد بن عبد العزیز کا بڑا بیٹا خالد بن مساعد بھی اس فیصلے کے خلاف تھا اور اس نے ۱۹۶۵ء میں اس اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹیلی ویژن سٹیشن پر  حملہ کر دیا۔ جہاں پر اسے سکیورٹی گارڈز نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ فیصل بن مساعد اپنے بھائی کے قتل کا براہ راست ذمہ دار شاہ فیصل کو سمجھتا تھا اور اسی لیے اس نے شاہ فیصل پر قاتلانہ حملہ کیا۔

فہد بن عبد العزیز آل سعود

  بین الاقوامی امن کانفرنس کے لیے کوششیں

۱۹۷۵ء میں شاہ فیصل کے قتل کے بعد اقتدار اس کے بھائی خالد بن عبد العزیز کے پاس چلا گیا  لیکن وہ دل کا مریض تھا اس لیے اس کے پورے دور میں اختیار عملی طور اس کے بھائی اور ولی عہد شہزادہ فہد بن عبد العزیز کے پاس ہی رہا اور اس نے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی خاطر نمایاں کوششیں کیں۔

۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد  اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان امن مذاکرات کئی سالوں تک تعطل کا شکار رہے۔ جنوری ۱۹۷۷ء میں جب  جمی کارٹر امریکہ کا صدر بنا تو اس نے امن مذاکرات کی بحالی اور فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی خواہش کا اظہار کیا جس میں اسرائیل، عرب ممالک میں سے مصر، شام اور اردن جبکہ فلسطین سے فلسطینی مزاحمتی اتحاد ’’پی ایل او ‘‘، امریکہ اور کچھ یورپی مبصرین نے شرکت کرنی تھی۔

لیکن اس کانفرنس کے لیے اس نے شرط یہ رکھی کہ پہلے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔ اور اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ پی ایل او تھا جو اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ جمی کارٹر نے  اس سلسلے میں سعودی حکمرانوں  کی خدمات حاصل کیں کہ وہ پی ایل او کو راضی کریں۔

سعودی عرب  شاہ فیصل کے دور سے ہی پی ایل او بالخصوص اس میں شامل سیکولر تنظیم الفتح کے ساتھ مالی تعاون کر رہا تھا۔  شہزادہ فہد نے اپنی اس حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ایل او پر دباؤ ڈالا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد ۲۴۲ کو تسلیم کرتے ہوئے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کر لے تاکہ اس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر سکے۔ لیکن اس کی کوششوں کے باوجود پی ایل او نے یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے یہ کانفرنس منعقد نہ ہو سکی۔

مصر اسرائیل امن مذاکرات کے لیے کوششیں

اگرچہ یہ کانفرنس تو نہ ہو سکی  لیکن سعودی عرب نے اپنا ثالثی کا کردار ختم نہیں کیا اور عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان امن  مذاکرات بحال کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں، جس نے ۱۹۷۸، ۱۹۷۹ء میں مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کی راہ ہموار کی  جس کے بعد مصر نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کر کے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کر لیا۔

شہزادہ فہد ثالثی کے اس عمل کے دوران مصر میں انور سادات، اسرائیل میں وزیر اعظم میناخم بیگن اور وزیر خارجہ موشے دیان  اور امریکی حکام کے ساتھ مستقل رابطے میں رہا۔

شہزادہ فہد کے  آٹھ نکات

شاہ فاہد کی  کاوشیں کیمپ ڈیوڈ معاہدوں پر ہی ختم نہیں ہوئیں۔ اگست ۱۹۸۱ء میں مراکش میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں شہزادہ فہد نے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان امن کے قیام کے لیے آٹھ شرائط رکھیں:

  1. اسرائیل مشرقی بیت المقدس سمیت ان تمام علاقوں سے انخلا کر لے جو اس نے ۱۹۶۷ء کی جنگ میں قبضے میں لیے ہیں۔
  2. ۱۹۶۷ء کے بعد مقبوضہ علاقوں میں جو بھی اسرائیلی بستیاں آباد ہوئی ہیں وہ ختم کر دی جائیں۔
  3. مقدس مقامات پر تمام مذاہب کو عبادت کی آزادی کی ضمانت دی جائے۔
  4. فلسطینی عربوں کو اپنے گھروں کو لوٹنے کی یقین دہانی کروائی جائے۔
  5. اسرائیلی انخلا کے بعد مغربی کنارے اور غزہ میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک عبوری حکومت قائم کی جائے جس کا دورانیہ کچھ مہینوں سے زیادہ کا نہ ہو۔
  6. ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دار الحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
  7. خطے کی تمام ریاستیں امن کے ساتھ رہ سکیں۔
  8. اقوام متحدہ یا اس کی رکن ریاستیں ان نکات پر عمل درآمد کی ضمانت دیں۔

اگرچہ  یہ نکات پہلی نظر میں بہت اچھے اور عملی لگتے ہیں  لیکن بین السطور دو انتہائی اہم باتیں  ان نکات میں موجود ہیں۔

سب سے پہلی یہ کہ  چھٹے اور ساتویں نکتے کی رو سے  اسرائیل کو بھی ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے گا اور فلسطینی سرزمین پر دو ریاستیں فلسطین اور اسرائیل ہوں گی۔ اگرچہ دو ریاستی حل کا خیال اس سے قبل شاہ فیصل بھی پیش کر چکا تھا لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے ایک رسمی فورم پر دو ریاستی حل کی تجویز پیش کی۔

دوسری اہم بات جو   پہلے اور دوسرے نکتے سے سامنے آتی ہے وہ یہ تجویز ہے کہ ۱۹۶۷ء کی جنگ سے قبل جتنے بھی علاقوں پر اسرائیلی ناجائز ریاست قبضہ کر چکی ہے اس پر اس کا جائز تسلط تسلیم کیا جائے گا  اور اس عرصے میں فلسطینی سرزمین پر جتنی بھی یہودی بستیاں آباد ہوئیں انہیں جائز تسلیم کیا جائے گا۔ یہ واضح طور پر فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی ناجائز قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی تجویز تھی۔

شہزادہ فہد کے ان آٹھ نکات کے پیچھے سعودی عرب کے کچھ داخلی مفادات کا بھی عمل دخل تھا۔ سعودی عرب امریکہ سے آٹھ عشاریہ دو ارب ڈالر کا اسلحے کی خریداری کا ایک معاہدہ کرنا چاہتا تھا جس میں پانچ E-3 AWACS طیارے اور F-15 طیاروں کی اپ گریڈ شامل تھا۔ امریکی صدر رانلڈ ریگن نے اسلحے کی خریداری کا یہ معاہدہ جون  ۱۹۸۱ء میں سینٹ کے سامنے پیش کیا جہاں سے اس کی منظوری کا انتظار تھا۔ شہزادہ فہد نے اپنا آٹھ نکاتی امن منصوبہ اگست ۱۹۸۱ء میں پیش کیا جس کے بعد  ریگن انتظامیہ نے سینٹ میں سعودی عرب کے حق میں بھرپور لابنگ کی، جس کے نتیجے میں اکتوبر ۱۹۸۱ء میں سینٹ نے اس معاہدے کی منظوری دے دی۔

۱۹۸۱ء کے عرب لیگ کے اس اجلاس میں شہزادہ فہد کے ان نکات کو پزیرائی نہیں ملی اور اس کی سخت مخالفت کی گئی لیکن شہزادہ فہد نے اپنی بیک ڈور سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔

جون ۱۹۸۲ء کو دل کا دورہ پڑنے سے شاہ خالد کا انتقال ہو گیا اور فہد بن عبد العزیز سعودی عرب کا باقاعدہ بادشاہ بن گیا۔ شاہ فہد نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے آٹھ نکاتی منصوبے کو تسلیم کروانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں جن  کے نتیجے میں ستمبر ۱۹۸۲ء میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں ان نکات کو اس اضافے کے ساتھ تسلیم کر لیا گیا کہ پی ایل او  کو فلسطینی عوام کا رسمی و قانونی نمائندہ تسلیم کیا جائے۔  ان نکات کو پھر تمام عرب ریاستوں کا رسمی موقف قرار دے دیا گیا۔

اگرچہ اسرائیل نے ان نکات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لیکن تمام عرب ممالک نے  شاہ فہد کے ان نکات کو اپنا رسمی موقف قرار دے کر در حقیقت  پہلی بار اسرائیل کو ایک جائز ریاست،   ۱۹۶۷ء کی جنگ سے قبل کے  اس کے تمام قبضوں  کو اس کا جائز حق  اور دو ریاستی حل کو مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کا واحد راستہ تسلیم کر لیا۔

مصر کی عرب لیگ میں رکنیت  کی بحالی

عرب لیگ کی جانب سے ان نکات کو تسلیم کرنے اور اپنانے کا بالواسطہ طور پر ایک اور نتیجہ بھی نکلا۔  کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کے بعد سے عرب لیگ نے مصر کی رکنیت معطل کر دی تھی اور اپنا ہیڈ کوارٹر بھی  قاہرہ سے تیونس منتقل کر دیا تھا۔ جون ۱۹۸۱ء میں انور سادات کے قتل کے بعد مصر میں حسنی مبارک کی حکومت آئی جس کے پہلے سے شاہ فہد کے ساتھ بہت قریبی تعلقات تھے۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ فہد کے ان آٹھ نکات میں حسنی مبارک کا مشورہ بھی شامل تھا۔ ان نکات کے تسلیم کیے جانے کے بعد شاہ فہد نے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں کہ مصر کی رکنیت دوبارہ بحال کروا لی جائے جس کے نتیجے میں ۱۹۸۹ء میں  ناصرف اس نے مصر کی عرب لیگ میں رکنیت بحال کروا لی بلکہ عرب لیگ کا ہیڈ کوارٹر بھی واپس قاہرہ منتقل کروا لیا۔

خفیہ سفارتی رابطہ کاری کا ایک واقعہ

اگست ۱۹۸۱ء میں شہزادہ فہد کی جانب سے یہ آٹھ نکات پیش کیے جانے کے ایک ماہ بعد ایک واقعہ کے پیش نظر اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان خفیہ سفارتی رابطہ قائم ہوا۔ فنی خرابی کے سبب اسرائیل کا ایک میزائل بردار بحری جہاز سعودی ساحل پر خشکی پر آ کر پھنس گیا۔ اسرائیل نے امریکہ کے ذریعے سعودی حکام کو یقین دلایا کہ یہ کوئی جارحانہ اقدام نہیں تھا اور اپنا جہاز اور اس کا عملہ بلا سعودی مداخلت کے نکالنے کی اجازت طلب کی۔ سعودی حکام نے ایک شرط پر اس کی اجازت دے دی کہ یہ سارا معاملہ جب تک ختم نہیں ہو جاتا اس وقت تک خفیہ رکھا جائے اور اسرائیل اس کے لیے بھاری مشینری کا استعمال نہ کرے۔

خلیج جنگ  اور مشترکہ دشمن

۱۹۹۰ء کی پہلی خلیج جنگ میں سعودی عرب اور اسرائیل امریکہ کی سربراہی میں ایک ’’مشترکہ دشمن‘‘ صدام حسین کے خلاف صف آراء تھے۔ امریکی وزیر خارجہ  جیمز بیکر دونوں ملکوں کے درمیان چینل کا کام کر رہا تھا جس کے ذریعے اس جنگ میں اسرائیل اور سعودی عرب آپس میں رابطہ رکھ رہے تھے۔ شاہ فہد نے اس امر پر رضامندی کا اظہار کیا کہ اگر صدام حسین اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو ’’اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہو گا‘‘ اور وہ عراق پر حملہ کرنے کے لیے سعودی فضائی حدود کا استعمال کر سکتا ہے۔ جیمز بیکر کے مطابق اس جنگ میں کیے جانے والے تعاون کے بعد شاہ فہد نے اس کو بتایا کہ اگر فلسطینیوں کے لیے ایک وطن کا بندوبست ہو جائے تو وہ اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی اور معاشی تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد سعودی حکام نے  رسمی طور پر یہ تجویز پیش کی کہ اگر اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں نئی بستیاں آباد کرنے کا کام روک دے تو سعودی عرب اسرائیل کا دہائیوں سے جاری بائیکاٹ ختم کر دے گا۔ لیکن اسرائیلی حکومت نے ان مطالبات کو رد کر دیا۔

میڈرڈ کانفرنس اور رسمی ملاقاتوں کا آغاز

 ۱۹۹۱ء میں  امریکہ اور سوویت یونین نے مشترکہ طور پر سپین کے شہر میڈرڈ میں مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کانفرنس منعقد کی جس میں  اسرائیل ، مصر ، اردن، لبنان اور شام سمیت مختلف عرب ممالک اور ساتھ میں PLO  کو بھی مدعو کیا گیا کیونکہ پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات نے ۱۹۸۸ء میں اسرائیلی ریاست اور ۱۹۶۷ء سے پہلے کے علاقوں پر اسرائیل کا حق تسلیم کر لیا تھا۔ سعودی حکام نے اعلان کیا کہ اس امن کانفرنس میں خلیج تعاون تنظیم کی جانب سے بھی ایک مبصر شرکت کرے گا۔ امریکہ میں سعودی سفیر شہزادہ بندر بن سلطان کو خلیج تعاون تنظیم کے نمائندے کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اس کانفرنس میں پہلی بار رسمی طور پر  اسرائیلی اور سعودی حکام کی ملاقات ہوئی ، جس کے بعد دوسری ملاقات امریکی وزارتِ خارجہ کے دفتر میں ہوئی اور اس کے کچھ عرصے بعد اسرائیلی وزارتِ  خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل یوری ساور  نے بندر بن سلطان سے واشنگٹن میں ملاقات کی۔

اس کانفرنس کے کچھ ماہ بعد ۱۹۹۲ء میں سعودی عرب نے مذاکرات میں شرکت کی جہاں اسرائیلی نائب وزیر خارجہ یوسی بیلن نے سعودی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔

اوسلو مذاکرات اور  مفتی اعظم کے فتاویٰ

۱۹۹۳ء میں جب پی ایل او اور اسرائیل کے درمیان اوسلو مذاکرات کا آغاز ہوا تو سعودی عرب نے ان امن مذاکرات کی حمایت کی، صرف یہی نہیں بلکہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے حق میں فتویٰ جاری کیا اور اسے  صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی۔ اس کے ساتھ ساتھ  انہوں نے یہ فتویٰ بھی دیا کہ اسرائیلی قبضے میں ہونے کے باوجود  پوری دنیا سے مسلمانوں کو  مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کے لیے جانا چاہیے کیونکہ یہ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

اس فتوے میں   ایک ایسی ناجائز ریاست کے ساتھ امن معاہدے کو صلح حدیبیہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس نے مسلمانوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر کے وہاں سے لاکھوں مسلمانوں کو بے دخل کیا ، ان کی املاک کو لوٹا اور لاکھوں کی تعداد میں ان کو شہید کیا۔ ایسی ریاست کے ساتھ امن معاہدہ اس کے وجود کو تسلیم کرنا اور ہتھیائی گئی زمین  کو اس کی ملکیت تسلیم کرنا ہے۔ اسی طرح اسرائیلی قبضے میں موجود مسجد اقصیٰ میں غیر فلسطینی مسلمانوں کا جانا اور نماز ادا کرنا بظاہر بہت اچھا نظر آتا ہے لیکن در حقیقت اگر غیر فلسطینی مسجد اقصیٰ میں جائیں گے تو وہ قانونی طریقے سے جائیں گے اور قانونی طریقے سے جانے کے لیے اسرائیل کا ویزہ لیں گے۔ اس طرح اسرائیل  کی سیاحت بہتر ہو گی اس کی معیشت مضبوط ہو گی، اس کے ساتھ مسلمانوں کے تعامل میں اضافہ ہو گا  اور اسے ایک جائز قانونی ریاست تسلیم کر لیا جائے گا۔2اس موضوع پر شیخ ابو محمد المصری شہید کی کتاب   عملیات 11 سبتمبر : بین الحقیقۃ والتشکیك ملاحظہ کی جائے، جس میں شیخ شہید نے اس زمانے کے حالات اور سعودی علماء کے نام مجاہدین کے پیغامات نقل کیے ہیں۔

عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے بالواسطہ  بائیکاٹ کا خاتمہ

اوسلو مذاکرات کے دوران ہی اکتوبر ۱۹۹۴ء میں سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں خلیج تعاون تنظیم نے اسرائیل کا بالواسطہ بائیکاٹ ختم کر دیا۔ بالواسطہ کا مطلب یہ کہ اس سے قبل اسرائیل کی کمپنیوں کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ دوسرے درجے میں ان کمپنیوں کا بائیکاٹ بھی کیا گیا تھا جو اسرائیل کے ساتھ تجارت کرتی ہیں اور پھر تیسرے درجے میں ان کمپنیوں کا بائیکاٹ بھی کیا گیا تھا جو اسرائیل کے ساتھ تجارت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تجارت کرتی ہیں۔ ۱۹۹۴ء میں ان دونوں درجوں کے بائیکاٹ ختم کر دیے گئے اور صرف براہ راست اسرائیلی کمپنیوں کا بائیکاٹ برقرار رکھا گیا۔

عبد اللہ بن عبد العزیز آل سعود

۱۹۹۵ء میں شاہ فہد بن عبد العزیز کو دل کا دورہ پڑا جس کے بعد  وہ حکومتی امور سے کنارہ کش ہو گیا اور حکومت کی باگ ڈور اس کے بھائی ولی عہد عبد اللہ بن عبد العزیز نے سنبھال لی۔

عرب امن اقدام(Arab Peace Initiative)

فروری ۲۰۰۲ء میں ولی عہد  عبد اللہ نے شاہ فہد کے آٹھ نکات کی طرز پر ہی ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا جس کی تمام شرائط الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ وہی تھیں جو شاہ فہد کے آٹھ نکات کی تھیں سوائے ایک شرط کے۔ شاہ فہد کے آٹھ نکات میں سے ایک فلسطینی مہاجرین کی اپنے گھر واپسی کی یقین دہانی بھی شامل تھی جبکہ  عبد اللہ کے امن منصوبے میں اس نکتے کو مبہم کر دیا گیا۔ بجائے واضح الفاظ میں کہنے کے یہ کہا گیا کہ فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کا  اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ’’منصفانہ حل‘‘ تلاش کیا جائے۔ مارچ ۲۰۰۲ء میں عرب لیگ نے اس معاہدے کی، کچھ معمولی اضافوں کے ساتھ،  توثیق کر دی اور اسے ’’عرب امن اقدام‘‘ (Arab Peace Initiative) کا نام دیا گیا۔

اس اقدام کے تحت اسرائیل سے بنیادی طور پر تین مطالبات کیے گئے:

  1. اسرائیل ۴ جون ۱۹۶۷ء کی سرحدوں تک  مقبوضہ علاقوں بشمول گولان کی پہاڑیوں اور ۱۹۶۷ء  کی جنگ کے بعد قبضے میں لیے گئے جنوبی لبنان کے علاقوں سے  مکمل انخلا کرے۔
  2. اسرائیل اقوام متحدہ کی قرارداد ۱۹۴ کی روشنی میں فلسطینی مہاجرین کے  مسئلے کے منصفانہ حل پر اتفاق کرے۔
  3. اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں  ۴ جون ۱۹۶۷ء کے بعد قبضے میں لی گئی فلسطینی سرزمین پر ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔

اسرائیل کے ان مطالبات کو تسلیم کرنے کے جواب میں تمام عرب ریاستوں کی جانب سے درج ذیل اقدامات کا وعدہ کیا گیا:

  1. عرب اسرائیل تنازع کا مکمل خاتمہ تصور کیا جائے گا اور اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا جائے گا جس کے تحت پورے خطے میں امن قائم ہو گا۔
  2. جامع امن کے فریم ورک کے تحت اسرائیل کے ساتھ تمام ریاستی تعلقات، بشمول سفارتی و معاشی، قائم کر لیے جائیں گے۔

حسب توقع اسرائیل نے اس منصوبے کو بالکل گھاس نہیں ڈالی اور اس کا کسی قسم کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ منصوبہ پیش کیے جانے کے پس پردہ ایک اہم مقصد تو یہ تھا کہ ۲۰۰۰ء میں شروع ہونے والا دوسرا انتفاضہ شدت اختیار کر چکا تھا اور اس کو قابو میں کرنا اسرائیل کے ساتھ ساتھ عرب ریاستوں کے بھی مفاد میں تھا ، لیکن اس سے بھی بڑی وجہ یہ تھی کہ گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کے بعد سعودی عرب امریکہ اور مغرب میں اپنی ساکھ بہتر بنانا چاہتا تھا کیونکہ گیارہ ستمبر کے حملہ آوروں میں سے پندرہ  سعودی عرب کے شہری تھے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کی دوسری برسی کے موقع پر شہزادہ عبد اللہ نے امریکی صدر جارج بش کو ایک خط لکھا جس کے اختتامی الفاظ کچھ یوں تھے:

’’خدا تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق اہل ایمان کی آزمائش کے لیے ایسی آفات وقوع پذیر ہونے دیتا ہے۔ لیکن اپنی رحمت میں وہ ہمیں ایمان کے ذریعے وہ عزم اور حوصلہ بھی عطا فرماتا ہے، جس کی بدولت ہم ایسی ہولناک مصیبتوں کو عظیم کامیابیوں میں بدل سکتے ہیں، اور وہ بحران جو ابتدا میں کمزور کر دینے والے لگتے ہیں، انسانیت کی ترقی کے مواقع میں بدل جاتے ہیں۔ میری یہی دعا اور امید ہے کہ آپ کی قیادت اور تعاون کے ساتھ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ملبے سے ایک نیا عالمی منظر نامہ ابھرے گا، ایک ایسا عالم جو آزادی، امن، خوشحالی اور ہم آہنگی کے اعلیٰ اصولوں سے مزین ہو۔‘‘

اگست ۲۰۰۵ء میں شاہ فہد کے مرنے پر عبد اللہ بن عبد العزیز سعودی عرب کا بادشاہ بن گیا۔

مشترکہ دشمن ایران  اور لبنان جنگ

ایران میں آنے والے انقلاب کے بعد سے سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات میں اونچ نیچ مستقل آتی رہی ہے۔ ابتدائی سالوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے اور شدید مخالفت رہی۔ عراق ایران جنگ میں دیگر عرب ملکوں کے ساتھ سعودی عرب نے بھی صدام حسین کا ساتھ دیا۔ لیکن پہلی خلیج جنگ میں معاملہ بدل گیا۔ اس جنگ میں ایران اور سعودی عرب دونوں  کی نظر میں صدام حسین دشمن تھا اور اس مشترکہ دشمن کی وجہ سے تعلقات میں بہتری آئی، اور پھر ایک دہائی تک تعلقات میں خاص تناؤ پیدا نہیں ہوا۔ لیکن جب ۲۰۰۳ء میں عراق میں امریکہ نے حملہ کیا اور صدام حسین کی حکومت گرائی تو  اس کی جگہ پر ایرانی حمایت یافتہ گروہ حکومت میں آ گئے تو سعودی عرب کو ایران کے عزائم سے خطرہ محسوس ہوا جس کے بعد سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ایک بار پھر تیزی سے خراب ہونے لگے۔ شاہ عبد اللہ کی رائے تھی کہ عرب اسرائیل تنازع عربوں کو تقسیم کر رہا ہے اور اس تقسیم سے ایران فائدہ اٹھا رہا ہے۔  اسی لیے جب ۲۰۰۶ء میں  اسرائیل اور لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم ’’حزب اللہ‘‘ کے درمیان جنگ چھڑی تو  سعودی عرب نے حزب اللہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حزب اللہ کی لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا خمیازہ پورے لبنان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر بعض بڑے سعودی علماء نے فتویٰ بھی جاری کیا کہ حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف کاروائیاں شرعی طور پر حرام ہیں اور  انہیں صلح حدیبیہ کی طرز پر یہودیوں کے ساتھ ایک امن معاہدہ کر لینا چاہیے۔

لبنان جنگ میں عرب حکمرانوں بشمول سعودی عرب کا ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ تعاون کھل کر سامنے آ گیا۔ یہاں تک کہ سعودی حکام کی طرف سے اس حد تک بھی بیان دیا گیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل  حزب اللہ کو شدید سبق سکھائے تاکہ ایران کی ساکھ تباہ ہو جائے۔

انٹیلی جنس آن لائن کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۶ء کی لبنان جنگ کے بعد اسرائیل، اردن، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے درمیان ایران کے خلاف  مشترکہ انٹیلی جنس تعاون میں تیزی آئی۔ اس سلسلے میں ستمبر ۲۰۰۶ء میں اس  وقت موساد کے سربراہ میر دگان نے اردن میں اردن انٹیلی جنس کے سربراہ سے اور سعودی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان سے ملاقات کی۔  اس ملاقات میں تینوں ممالک نے ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس تعاون میں تیزی لانے پر اتفاق کیا گیا۔

ایران کے خلاف سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ نے اسرائیلی حکومت کی سوچ شاہ عبد اللہ کے ’’عرب امن اقدام‘‘ کے بارے میں تبدیل کر دی اور اسرائیل نے کھل کر اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ۔ نومبر ۲۰۰۶ء میں اسرائیلی وزیر اعظم یہود آلمرٹ  نے  محمود عباس کو مذاکرات کے لیے مدعو کیا اور یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے  مصر، اردن، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں سے بھی مدد حاصل کرے گا۔ مارچ ۲۰۰۷ء میں ریاض میں شروع ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس سے چند دن قبل  یہود آلمرٹ نے شاہ عبد اللہ کی قائدانہ صلاحیتوں اور شخصیت کی خوب تعریف کی  اور کہا کہ شاہ عبد اللہ کی کوششوں کی وجہ سے عین  ممکن ہے کہ اسرائیل آئندہ پانچ سالوں میں اپنے دشمنوں کے ساتھ امن معاہدے کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اسرائیلی صدر شیمون پیریز  نے ۲۰۰۸ء میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ ۱۹۶۷ء میں خرطوم میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں اسرائیل کے خلاف جو موقف اپنایا گیا تھا اس کی جگہ اب شاہ عبد اللہ کے عرب امن اقدام نے لے لی ہے۔ اس نے شاہ عبد اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس اقدام کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں تاکہ ایک جامع امن کا قیام عمل میں آ سکے۔ شیمون پیریز نے  شاہ عبد اللہ سمیت تمام عرب حکمرانوں کو بیت المقدس آ کر امن مذاکرات شروع کرنے کی دعوت بھی دی۔

امریکی سفارتی کیبلز کی افشا شدہ دستاویزات کے مطابق اپریل ۲۰۰۸ء میں شاہ عبد اللہ نے عراق کے لیے امریکی سفیر ریان کروکر (Ryan C. Crocker) سے کہا کہ امریکہ کو اس سانپ کے سر (ایران) کو کاٹ دینا چاہیے۔ اس عرصے میں واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر کے مطابق شاہ عبد اللہ بار بار امریکہ پر زور دیتا رہتا تھا کہ وہ ایران پر حملہ کرے اور اس کا ایٹمی پروگرام ختم کر دے۔  شاہ عبد اللہ نے امریکی سفیر سے ملاقات میں اس سے ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متکی سے اپنی ملاقات کا احوال ذکر کیا۔  شاہ عبد اللہ کے مطابق اس کی ایرانی وزیر خارجہ سے کافی سخت بحث ہوئی اور شاہ عبد اللہ نے متکی سے ایران کی ’’عرب معاملات‘‘ میں مداخلت پر بات کی۔  شاہ عبد اللہ کے مطابق جب اس نے متکی سے پوچھا کہ ایران ’’حماس‘‘ کے معاملات میں کیوں ٹانگ اڑا رہا ہے  تو متکی نے غصے سے جواب دیا کہ یہ مسلمانوں کا معاملہ ہے عربوں کا نہیں۔ اس پر شاہ عبد اللہ نے  جواب دیا :

’’تم فارسی ہو اور تمہیں عربوں کے معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں‘‘۔

وکی لیکس کی افشا کردہ دستاویزات کے مطابق ۲۰۱۰ء میں موساد کے سربراہ نے سعودی حکام سے سعودی عرب میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سعودی حکام نے اسرائیل کو ایران کے خلاف  جاسوسی اور ممکنہ حملے کی خاطر سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ جون ۲۰۱۸ء میں سابق  اسرائیلی وزیر اعظم یہود آلمرٹ نے اپنے ایک انٹرویو میں ۲۰۱۰ء میں  موساد کے سربراہ کی سعودی عرب میں ہونے والی اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  سعودی عرب اسرائیل کو عسکری اور معاشی دونوں سطحوں پر ایک سنجیدہ ممکنہ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا تھا اور اس وقت سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعاون کے سلسلے میں بہت زبردست کام ہو رہے تھے جن میں موساد کے سربراہ کا سعودی عرب کا دورہ ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

سلمان بن عبد العزیز آل سعود

امریکہ ایران ایٹمی معاہدے پر رد عمل

جنوری ۲۰۱۵ء میں شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کے مرنے پر ولی عہد سلمان بن عبد العزیز سعودی عرب کا بادشاہ بنا۔ اسی عرصے میں امریکی صدر بارک اوبامہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب تھا۔ اپریل ۲۰۱۵ء میں  امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی معاہدے پر دستخط ہوئے  اور اسرائیل، سعودی عرب اور کئی دیگر عرب ریاستوں نے اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کی۔ ان سب کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ اس معاہدے کی بدولت ایران کی معاشی صورتحال بہتر ہو گی جس کے نتیجے میں وہ خطے میں اپنی حمایت یافتہ تنظیموں کو بھی مضبوط کرے گا جو پورے خطے کے لیے خطرے کی بات ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ معاہدے کے باوجود خفیہ طور پر اپنا ایٹمی پروگرام بھی جاری رکھے گا۔ اس معاہدے نے عرب ریاستوں بشمول سعودی عرب کو اسرائیل کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب کر دیا۔ معاہدے پر دستخط سے قبل مارچ ۲۰۱۵ء میں نیتن یاہو نے امریکی کانگریس میں تقریر کرتے ہوئے اس معاہدے کے خلاف احتجاج کیا۔ نیتن یاہو کی اس تقریر کو سعودی حکومت کی طرف سے خوب سراہا گیا۔

حوثیوں کے معاملے میں اسرائیل سعودی عرب تعاون

اسی عرصے میں یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروہ نے صدر منصور ہادی  کی حکومت کا تختہ الٹ کر صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ مارچ ۲۰۱۵ء میں سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر  یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔

اس فوجی کاروائی کے دوران اسرائیل نے خفیہ طور پر حوثیوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں اور دوران جنگ اسرائیلی ڈرونز اور دیگر سرویلنس ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی۔

محمد بن سلمان آل سعود

جب شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالا تھا تو  اس نے اپنے چھوٹے بھائی مقرن بن عبد العزیز کو ولی عہد مقرر کیا تھا لیکن  تین ماہ بعد اسے ہٹا کر اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد جبکہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد  مقرر کر دیا۔ محمد بن سلمان کو ساتھ میں وزیر دفاع بھی مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن جون ۲۰۱۷ء میں  شاہ سلمان نے محمد بن نائف کو ولی عہد کے ساتھ ساتھ تمام عہدوں سے ہٹا دیا اور اس کی جگہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کر دیا۔

شاہ عبد اللہ کے آخری سالوں میں جب سلمان ولی عہد تھا اسے دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد سے اس کے دونوں بازوؤں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اقتدار سنبھالنے کے کچھ عرصہ بعد وہ بھولنے کی بیماری (dementia) کا شکار بھی ہو گیا۔ اس لیے جب ۲۰۱۷ء میں محمد بن سلمان  ولی عہد مقرر ہوا تو اس نے عملی طور پر ملک کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لے لی۔ پھر ستمبر ۲۰۲۲ء میں اس نے وزیر اعظم کا اختیار بھی اپنے پاس لے لیا جو اس سے قبل شاہ اپنے پاس رکھتا تھا۔ اس طرح اگرچہ محمد بن سلمان رسمی طور پر ولی عہد  ہے لیکن عملی طور پر سعودی عرب کا سربراہ اسے ہی تصور کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کے بارے میں میڈیا حکمت عملی میں تبدیلی

ولی عہد بننے سے قبل ہی محمد بن سلمان کی کوششوں سے ۲۰۱۶ء میں سعودی عرب کے میڈیا میں اسرائیل کے حوالے سے نمایاں تبدیلی آنا شروع ہو گئی تھی جس میں اس کے ولی عہد بننے کے بعد تیزی آئی۔  میڈیا پر اسرائیل یا یہود مخالف کچھ بھی چلانے پر پابندی لگا دی گئی اور ایسے پروگرام کیے گئے جن میں ملک کے اندر یہود اور اسرائیل مخالف سوچ پر تنقید کی گئی اور یہ بیانیہ پیش کیا گیا کہ ایران اصل میں اسرائیل سے کہیں زیادہ بڑا اور خطرناک دشمن ہے، اس لیے ایران کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ  اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جائیں۔ اس کے علاوہ  مقامی صحافی اور تجزیہ کاروں نے اخباروں اور میگزینز میں کالم اور مضامین لکھنے شروع کیے جن میں اسرائیل کی حمایت اور تعریف کی جانے لگی جبکہ فلسطینی مزاحمتی تحریک پر تنقید کی جانے لگی۔

اردن میں انٹیلی جنس اجلاس

جون ۲۰۱۸ء میں  ایک انٹیلی جنس اجلاس منعقد ہوا جس میں اسرائیل، اردن، مصر، سعودی عرب اور فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس سربراہان نے اور امریکی نمائندوں نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے موساد کے سربراہ یوسی کوہن،  اردن کے انٹیلی جنس چیف عدنان الجندی، مصر کے انٹیلی جنس چیف عباس کامل، سعودی عرب کے انٹیلی جنس چیف خالد بن علی الحمیدان، فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس چیف ماجد فرج نے شرکت کی جب کہ امریکہ کی جانب سے ٹرمپ کے سینئر مشیر  جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے جیسن گرین بلاٹ نے شرکت کی۔

اس اجلاس کا مقصد امریکی سربراہی میں مشرق وسطیٰ کے انٹیلی جنس سربراہان کو جمع کرنا اور ایران، حزب اللہ اور حماس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔

اسرائیل کے لیے  طیاروں کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت

مار چ ۲۰۱۸ء میں سعودی عرب نے ہندوستانی فضائی کمپنی ’’ایئر انڈیا‘‘ کو، مسافر طیاروں کی نئی دہلی سے تل ابیب پروازوں کے لیے، سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد پہلی بار تھا جب اسرائیل  کا سفر کرنے والے کسی مسافر طیارے کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ اسرائیلی وزیرِ ٹرانسپورٹ اسرائیل کارٹز نے اسے ایک تاریخی اقدام قرار دیا۔

اس کے بعد ۲۰۲۰ء میں جب ابراہام معاہدوں پر دستخط ہو گئے تو سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان پروازوں کو بھی سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ جبکہ  ۲۰۲۲ء میں سعودی عرب نے ہر طرح کی پروازوں کو اسرائیل آنے جانے کے لیے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

مشہور امریکی جریدے کو انٹرویو

اپریل ۲۰۱۸ء میں محمد بن سلمان نے مشہور امریکی جریدے The Atlantic کے صحافی  جیفری گولڈ برک کو انٹرویو دیا۔ انٹریو میں جیفری گولڈ برگ نے سوال کیا کہ کیا اسرائیل کو  اپنی آبائی سرزمین پر  ایک قومی ریاست بنانے کا حق حاصل ہے؟ اس کے جواب میں محمد بن سلمان نے کہا:

’’میں سمجھتا ہوں کہ فلسطینیوں اور اسرائیلوں کو  اپنی زمین پر رہنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن ایک امن معاہدہ ضرور ہونا چاہیے جو سب کے لیے استحکام  کا باعث اور رسمی تعلقات کا سبب بن سکے۔‘‘

اس نے مزید کہا:

’’ہمارے اسرائیل کے ساتھ بہت سے مشترکہ مفادات ہیں اور اگر امن معاہدہ ہو جاتا ہے تو اسرائیل کے خلیج تعاون تنظیم میں شامل ممالک کے ساتھ بہت سے مشترکہ مفادات حاصل ہو سکتے ہیں۔‘‘

محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کا ایک مشترکہ دشمن ہے جسے دونوں ممالک ایک سنجیدہ اور بڑھتا ہوا خطرہ تصور کرتے ہیں اور وہ ہے ایرانی حکمران۔

نیتن یاہو اور موساد چیف کا سعودی عرب کا دورہ

نومبر ۲۰۲۰ ء میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور موساد چیف  یوسی کوہن نے سعودی عرب کے شہر ’’نیوم‘‘ میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں  امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو بھی شریک تھا۔

اس ملاقات کا مقصد ایران اور خطے میں اس کی حمایت یافتہ تنظیموں کے خلاف تعاون  پر تبادلہ خیال اور اسرائیل سعودی عرب امن معاہدے اور نارملائزیشن کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنا تھا۔

یہ ملاقات خفیہ رکھی گئی تھی اور سعودی عرب نے یہ ظاہر کیا تھا کہ جیسے محمد بن سلمان نے صرف امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہو لیکن اسرائیلی حکام نے ملاقات کا احوال میڈیا پر افشا کر دیا۔ جس پر سعودی حکام نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور موساد سربراہ یوسی کوہن کے طے شدہ اگلے دورے کو ملتوی کر دیا۔

امن معاہدے کا اشارہ اور طوفان الاقصیٰ آپریشن

۲۰ ستمبر ۲۰۲۳ء کو محمد بن سلمان نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دیگر خلیجی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے بعد اب  سعودی عرب مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارملائز کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ’’ہم ہر روز معاہدے کے مزید قریب پہنچ رہے ہیں‘‘۔  اس نے مزید کہا کہ مذاکرات بہت سنجیدگی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور شاید یہ سرد جنگ کے بعد سب سے بڑی تاریخی ڈیل ہو گی۔

اس انٹرویو سے قبل پچھلے دو ماہ سے ایسے اشارے مل رہے تھے کہ  اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان امن معاہدہ  کا اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ چند ماہ سے سعودی عرب سرکاری وفود اعلانیہ طور پر آنا شروع ہو گئے تھے جس سے ایسا لگ رہا تھا کہ امن معاہدہ عملی طور پر ہو چکا ہے اس کا صرف اعلان کرنا باقی ہے۔

  • جولائی ۲۰۲۳ء میں  سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں ویڈیو گیمز کا عالمی مقابلہ FIFA Nations Cup 2023  منعقد ہوا جس میں اسرائیل سے سرکاری طور پر ویڈیو گیمرز کی ایک ٹیم نے شرکت کی۔ مقابلوں کی افتتاحی تقریب میں اسرائیلی قومی ترانہ بھی چلایا گیا اور اسرائیلی ٹیم نے اسرائیلی پرچم بھی لہرایا۔
  • ۱۰ ستمبر ۲۰۲۳ء کو ایک اسرائیلی سرکاری وفد ریاض میں UNESCO کی World Heritage Committee  کے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب آیا۔ وفد میں ۱۲ افراد شامل تھے جن میں وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔
  • ۲۶ ستمبر ۲۰۲۳ء کو  اسرائیلی وزیر سیاحت حائم کاٹز سرکاری وفد کے ہمراہ  اقوام متحدہ کی تنظیم برائے عالمی سیاحت کے اجلاس میں شرکت کے لیے ریاض پہنچا۔ یہ اسرائیلی کابینہ کے کسی رکن کا سرکاری وفد کے ہمراہ پہلا اعلانیہ دورہ تھا۔ دورے کے اختتام پر  حائم کاٹز نے تبصرہ کیا کہ ’’ریاض میں ماحول بہت گرم جوشی والا تھا  اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں تل ابیب میں ہی پھر رہا ہوں‘‘۔
  • ۲ اکتوبر ۲۰۲۳ءکو  اسرائیلی وزیر مواصلات شلومو کارھی نے ریاض میں اقوام متحدہ کے ’’عالمی ڈاک اتحاد‘‘ کے اجلاس میں  شرکت کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس کے وفد میں ۱۴ ارکان شامل تھے۔ وزیر مواصلات نے اجلاس کے دوران  خطاب بھی کیا۔  اسرائیلی وفد کے اس دورے کے دوران ریاض میں اسرائیلی جھنڈے بھی لہرائے گئے۔ وزیر مواصلات نے ریاض میں اپنے ہوٹل میں  یہودی عبادت کا اہتمام کیا جہاں تورات پڑھی گئی۔

یہ کوئی اتفاقی امر نہیں تھا کہ اچانک ان دنوں میں متعدد عالمی کانفرنسیں اور اجلاس ریاض میں ہو رہے تھے جن میں شرکت کے لیے اسرائیلی وفود سعودی عرب آ رہے تھے بلکہ یہ پوری منصوبہ بندی کے تحت اسرائیل سعودی عرب نارملائزیشن کے اعلان کے لیے سٹیج تیار کیا جا رہا تھا۔ لیکن سعودی حکمرانوں اور اسرائیل کی امیدیں، توقعات اور منصوبے اس وقت خاک میں مل گئے جب فلسطینی مجاہدین نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو آپریشن طوفان الاقصیٰ برپا کیا۔ اس آپریشن کے بعد جس جنگ کا آغاز ہوا اس میں محمد بن سلمان کے لیے اسرائیل سے نارملائزیشن کرنا اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھودنے کے برابر تھا۔ اس لیے اس نے اعلان کیا کہ جب تک یہ جنگ ختم نہیں ہو جاتی اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ نہیں ہو سکتا۔

طوفان الاقصیٰ کے بعد کے تعلقات

طوفان الاقصیٰ کی وجہ سے اگرچہ امن معاہدے کا معاملہ تو معطل ہو گیا لیکن جہاں تک پیش رفت ہو چکی تھی اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اسرائیلی پروازوں کے لیے سعودی  فضائی حدود کے استعمال کی اجازت بھی قائم رہی، کاروباری اور  تکنیکی وفود کا اسرائیل سے سعودی عرب اور سعودی عرب سے اسرائیل آنا جانا بھی ہوتا رہا، بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کے لیے اسرائیلی سرکاری وفود کا بھی سعودی عرب آنا ہوتا رہا۔

اس عرصے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایران، حزب اللہ، حوثیوں اور حماس کے   خلاف نہ صرف یہ کہ انٹیلی جنس شیئرنگ جاری رہی بلکہ اس میں مزید تیزی آئی۔

محمد بن سلمان نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے جنوری ۲۰۲۴ء میں ہونے والی ملاقات میں امن معاہدہ نہ کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا:

’’اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا مجھے ذاتی طور پر فلسطین کے مسئلے کی کوئی پرواہ ہے؟ تو مجھے بالکل نہیں ہے! لیکن میرے لوگوں کو ہے۔‘‘

ایک اور موقع پر  اگست ۲۰۲۴ء میں امریکی قانون دانوں سے بات کرتے ہوئے  کہا کہ اسے خطرہ ہے کہ اگر وہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات نارملائز کر دیتا ہے تو اس کے اپنے لوگ ہی اسے قتل کر ڈالیں گے۔ اس نے انور سادات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی قانون دانوں سے سوال کیا کہ انور سادات نے جب اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا تو اس کے دو سال بعد ہی اسے مار ڈالا گیا۔ امریکہ نے سادات کی اس تاریخی ڈیل کے بعد اس کے تحفظ کے لیے کیا اقدام کیے؟

۲۰۲۴ء میں اسرائیل سعودی عرب کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا پھر سے آغاز ہو گیا۔ ایک سال گزرنے کے بعد  جب یہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو ۲۰۲۵ء کے اواخر میں امریکہ کے کہنے پر حکمت عملی میں  تبدیلی لائی گئی۔ اب ہدف  براہ راست امن معاہدے کی بجائے بتدریج اس تک پہنچنے کا ہے جس سے پہلے ہدف سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی اور تجارتی معاہدے ہیں۔

اختتامیہ

قبلۂ اوّل سے خیانت کی داستان کے اس کردار سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی اس پوری تاریخ میں جو چیز ہر جگہ مشترک نظر آتی ہے  وہ ہے ’’مشترکہ دشمن‘‘۔ کہنے کو تو دشمن اسرائیل اور سعودی عرب بھی آپس میں ہمیشہ رہے ہیں لیکن جب بھی کسی ایسے مسلمان ملک کی حکومت سعودی حکومت کے مفادات سے ٹکرائی جو اسرائیل کی بھی دشمن تھی تو سعودی حکمرانوں نے ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ اتحاد کرنے کو ہی ترجیح دی۔

جب جمال عبد الناصر کی عرب قوم پرسی ان کے اقتدار کے لیے خطرہ بنی تب اس کے خلاف  اسرائیل سے اتحاد کر لیا، جب صدام حسین کا کویت پر حملہ ان کی طبیعت پر ناگوار گزرا تو اس کے خلاف اسرائیل سے اتحاد کر لیا،  جب ایران کی توسیع پسندی سے ان کی کرسی کے پاؤں لرزنے لگے تو اس کے خلاف اسرائیل سے اتحاد کیا اور آج تک چل رہا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو واضح تھی کہ انہیں اسرائیل سے اپنے اقتدار کو براہ راست کوئی خطرہ  نہیں تھا جبکہ ان ’’مشترکہ دشمنوں‘‘ سے ان کے اقتدار کو براہ راست خطرہ تھا، رہ گیا فلسطین کا مسئلہ تو اس کی حیثیت اپنی عوام کو رام رکھنے کے لیے ایک سیاسی نعرے سے زیادہ کچھ نہیں۔ غزہ میں جاری پچھلے ڈھائی   سال سے زیادہ کی جنگ نے اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیا ہے۔

اگر یہ مسئلۂ فلسطین سے رتی برابر بھی مخلص ہوتے تو ’’مشترکہ دشمن‘‘ نہ جمال عبدالناصر ہوتا، نہ صدام حسین اور نہ ہی ایران بلکہ یہ اتحادی ہوتے اور مشترکہ دشمن اسرائیل ہوتا۔ لیکن ایسا کرنے میں ایک اور چیز بھی مانع تھی جو اس مسئلے کی اصل جڑ ہے، اور وہ یہ کہ سعودی حکمرانوں سمیت امت مسلمہ کے تمام طاغوتی حکمرانوں نے الله وحده لاشريك کی بجائے امریکہ کو اپنا خدا  بنا لیا ہے  اور اللہ تعالیٰ  کے دربار میں سر بسجود ہونے کی بجائے امریکہ کے در پر ماتھا ٹیکتے ہیں۔ جمال عبد الناصر ہو، صدام حسین ہو یا ایران، ان کے خلاف اسرائیل سے اتحاد اس لیے کرتے ہیں کہ اسی میں امریکہ کی رضا ہے اور امریکہ کی رضا میں ہی ان کے اقتدار کی بقا ہے۔

ابن سعود سے لے کر محمد بن سلمان آل سعود تک سعودی عرب کے حکمرانوں کی یہی کہانی  ہے۔ بس محمد بن سلمان اور اس کے پیشروؤں میں فرق صرف اتنا ہے  انہوں نے خود پر دین و مذہب،  عقیدہ و توحید اور خادم الحرمین الشریفین کے لبادے اور نقاب ڈال کر اپنی ایک جھوٹی عزت اور مقام امت مسلمہ کی عوام کے دلوں میں بنا رکھا تھا جبکہ محمد بن سلمان نے یہ سارے جھوٹے لبادے اور نقاب اتار پھینکے اور اپنی حقیقی اور مکروہ شکل ساری دنیا کے سامنے عیاں کر دی۔

قبلۂ اوّل سے خیانت کرنے والے اس خاندان کی تاریخ اس حقیقت کو عیاں کر دیتی ہے کہ  یہ آل سعود چاہے اپنے لیے کتنے ہی اسلامی القابات چن لیں، اور چاہے اہل فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے کتنے ہی کھوکھلے نعرے لگا لیں انہیں درحقیقت اپنے خاندانی اقتدار، معاشی مفادات اور علاقائی بالادستی سے آگے کچھ نظر نہیں آتا۔ جب مفادات کا سوال آیا تو یہ خاندان اہل فلسطین کے خون کا سودہ کرنے اور قبلہ اوّل سے خیانت کرنے سے کبھی نہیں ہچکچائے۔ لیکن افسوس مسلمان عوام آج بھی ان کے ’’خادم الحرمین الشریفین‘‘ کے دھوکے میں مبتلا ہے۔

٭٭٭٭٭

  • 1
    آج کل یہ تقریباً آٹھ لاکھ امریکی ڈالر ماہانہ  کی مالیت بنتی ہے۔
  • 2
    اس موضوع پر شیخ ابو محمد المصری شہید کی کتاب   عملیات 11 سبتمبر : بین الحقیقۃ والتشکیك ملاحظہ کی جائے، جس میں شیخ شہید نے اس زمانے کے حالات اور سعودی علماء کے نام مجاہدین کے پیغامات نقل کیے ہیں۔
Previous Post

کفار کا معاشی بائیکاٹ | آٹھویں قسط

Next Post

عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد

Related Posts

یہودی ہو تو بری، فلسطینی ہو تو پھانسی
طوفان الأقصی

یہودی ہو تو بری، فلسطینی ہو تو پھانسی

1 مئی 2026
اسرائیل کے زمینی قبضے کو ممکن بنانے والے مذاکرات
طوفان الأقصی

اسرائیل کے زمینی قبضے کو ممکن بنانے والے مذاکرات

1 مئی 2026
اسرائیل کا سزائے موت کا قانون: فلسطینی وجود کو مٹانے کی کوشش
طوفان الأقصی

اسرائیل کا سزائے موت کا قانون: فلسطینی وجود کو مٹانے کی کوشش

1 مئی 2026
زخم خوردہ قلم سے جواب……
طوفان الأقصی

زخم خوردہ قلم سے جواب……

8 مارچ 2026
غزہ کا لڑکھڑاتا ہوا رمضان
طوفان الأقصی

غزہ کا لڑکھڑاتا ہوا رمضان

8 مارچ 2026
ایران جنگ کے تناظر میں القاعدہ کی مرکزی قیادت کا بیان
عالمی منظر نامہ

ایران جنگ کے تناظر میں القاعدہ کی مرکزی قیادت کا بیان

8 مارچ 2026
Next Post
عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد

عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version