جنرل کیانی کے حکم پر جی ایچ کیو کی قدیم مسجد شہید کی گئی۔ |
کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جی ایچ کیو میں 47ء کی تعمیر کردہ مسجد شہید کروائی، کیونکہ جی ایچ کیو میں جب داخل ہوتے ہیں تو سامنے وہ مسجد تھی۔ جنرل کیانی فوج کا یہ امیج نہیں دکھانا چاہتا تھا۔ اس لیے یہ مسجد شہید کروائی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے ان کی ایکسٹینشن چیلنج کی تھی جس کی مجھے قیمت چکانا پڑی۔
دسمبر 2020ء میں وزارت دفاع نے جاسوسی کا الزام لگا کر کرنل (ر) انعام الرحیم کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا تھا اور ایک ماہ نو دن حراست میں رکھنے کے بعد 22 جنوری 2022ء کو انہیں عدالتی حکم کے باعث رہا کیا گیا تھا۔ ان کی جبری گمشدگی کو میڈیا میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ خود بھی لاپتہ افراد کے لیے وکالت کرتے رہے تھے۔ وہ فوج کے حراستی مراکز میں قید افراد کے مقدمات لڑنے کے علاوہ فوجی عدالتوں اور فوجی سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر چکے ہیں۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ فوج میں رہتے ہوئے پرویز مشرف کے ناقدین میں شامل تھے۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے تمغہ امتیاز ملٹری وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ پرویز مشرف اور دیگر عسکری شخصیات کے اثاثوں سے متعلق انعام الرحیم نیب سے بھی رجوع کرتے رہے۔ پرویز مشرف کے اثاثوں کے بارے میں انہوں نے مختلف فورمز پر درخواستیں بھی دیں۔
پارلیمانی وفد کی سرکاری خرچ پر روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری |
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ تجویز میں کہا گیا کہ روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے لیے پارلیمانی وفد سرکاری خرچ پر بھجوایا جائے، جو پاکستان کے عوام کا سلام عرض کرے۔ کمیٹی کے مطابق وفد پہلے بھی پاکستانی عوام کی طرف سے سلام عرض کرنے روضہ رسول ﷺ جا چکا ہے، اب پارلیمانی وفد ہر سال مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ جائے گا، وفد میں شامل ارکان کے اہل خانہ بھی ہمراہ جا سکیں گے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے عمرہ ادا کریں گے۔ رکن کمیٹی اعجاز الحق کی تجویز پر کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ وفد کے لیے تعداد 7 کے بجائے 10 کی جائے، اسپیکر قومی اسمبلی وفد کے ارکان نامزد کریں گے، اسپیکر کی غیر موجودگی میں چیئرمین وفد کی سربراہی کر سکیں گے۔ چیئرپرسن کمیٹی شگفتہ جمانی کا کہنا تھا کہ اسپیکر 15، 15 لوگوں کے وفود لے کر جاتے ہیں، اس پارلیمانی وفد کے اخراجات قومی اسمبلی اٹھائے، خود تو کبھی بھی جا سکتے ہیں۔ کمیٹی ارکان نے حمایت کی کہ ہم چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی یہ خرچ اٹھائے۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ پاکستان ہاؤس کی سعودی عرب میں تعمیر تک وفد کو سرکاری خرچ پر ہوٹل میں ٹھہرایا جائے۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ وفد کو سٹیٹ گیسٹ ظاہر کرنے کے لیے دفتر خارجہ کے نمائندے کو بلایا جائے۔ وزیر مذہبی امور سردار یوسف کی جانب سے کمیٹی کی تجاویز کی حمایت کی گئی۔ بلوچستان سے ایک صارف سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں ان کے محکمے میں ان افسران کو عمرے پر بھیجا گیا ہے جو نہ صرف فوج و خفیہ اداروں کے غیر قانونی احکامات پر عمل درآمد کرواتے ہیں بلکہ کروڑوں روپے کی رشوت و خرد برد میں ملوث ہیں۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ محکمہ یا محکمے کی ڈوریاں ہلانے والی شخصیات ان کرپٹ افسران کی خرد برد سے حاصل ہونے والی آمدن میں اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پھر اس تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے بطور انعام ہی ان کرپٹ افسران کے لیے سرکاری خرچ پر عمروں کا انتظام کروا رہے ہیں۔
پشین بلوچستان میں ثالثی کے لیے بھیجے جانے والے افراد بھی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں قتل |
بلوچستان کے ضلع پشین سے تعلق رکھنے والے سید طفیل شاہ نے اپنے خاندان کے دو عمر رسیدہ افراد سید عبدالرحیم شاہ اور سید عبد القدیم شاہ کی موت کو خاندان کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔ یہ افراد پشین کے علاقے کلی کربلا میں سی ٹی ڈی کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔ ان افراد کے رشتہ داروں اور علاقہ مکینوں کے مطابق یہ دونوں افراد ان چھ ثالثوں میں شامل تھے جو متعلقہ حکام کی اجازت سے ملزمان سے بات چیت کے لیے گئے تھے تاکہ ان کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کو سختی سے مسترد کیا کہ قدیم شاہ اور رحیم شاہ حکومت کو مطلوب افراد کا ساتھ دینے کے لیے گئے تھے بلکہ وہ صرف ایک خیر خواہ کی حیثیت سے گئے تھے تاکہ خواتین اور بچے محفوظ ہوں اور یہ معاملہ ’پُرامن طریقے سے حل ہو۔‘ انہوں نے بتایا کہ ہمارے دونوں سفید ریش بزرگ کسی بھی مقدمے میں مطلوب نہیں تھے بلکہ وہ پورے علاقے میں خیرخواہ کی حیثیت سے مشہور تھے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ثالثی کے لیے جانے والے افراد ملزمان کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کر چکے تھے اور سی ٹی ڈی کو فائرنگ روکنے کی درخواست کرتے رہے مگر سی ٹی ڈی فائرنگ روکنے کو تیار ہی نہ تھی۔ بلوچستان میں جعلی مقابلے تو روز کا معمول ہیں البتہ یہ درندگی کی انتہا ہے کہ پولیس نے جنہیں بطور ثالث بھیجا تھا انہیں بھی قتل کر ڈالا اور پھر اس جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے مقتولین پر جھوٹے الزامات لگائے کہ وہ بھی پولیس کو مطلوب تھے۔
اردن فلسطینی کارکنوں کے فون ہیک کرنے کےلیے اسرائیلی سافٹ ویئر استعمال کرنے لگا |
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اردن اسرائیلی کمپنی کے فون کھولنے والے ٹول کا استعمال کرتے ہوئے غزہ کے حامی کارکنوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ یہ خبر کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے منسلک تحقیقاتی ادارے Citizen Lab کی ایک تفصیلی تحقیق پر مبنی ہے، جس کا عنوان ہے “From Protest to Peril: Cellebrite Used Against Jordanian Civil Society”۔ تحقیق میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اردنی سکیورٹی اداروں نے اسرائیلی کمپنی سیلیبرائٹ کے بنائے ہوئے فورنسک ایکسٹریکشن ٹولز کا استعمال کر کے غزہ کی حمایت کرنے والے اور اسرائیل پر تنقید کرنے والے کارکنوں کے موبائل فونز سے ڈیٹا نکالا۔
سیلیبرائٹ ایک اسرائیلی کمپنی ہے جو پولیس اور سکیورٹی اداروں کے لیے ڈیجیٹل فورنسک ٹولز بناتی ہے۔ یہ ٹولز فون ہاتھ میں ہونے پر لاک کھول کر مکمل ڈیٹا نکال لیتے ہیں۔ یہ اسپائی ویئر (جیسے Pegasus) کی طرح ریموٹلی نہیں کام کرتے، بلکہ فون ضبط کرنے کے بعد استعمال ہوتے ہیں۔ نکالا جانے والا ڈیٹا: تصاویر، ویڈیوز، چیٹس، میسجز، لوکیشن ہسٹری، محفوظ پاس ورڈز، ویب ہسٹری، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، واٹس ایپ/دیگر ایپس کا ڈیٹا، اور بعض اوقات ڈیلیٹ کیا گیا ڈیٹا بھی۔ اردنی سول سوسائٹی کے اراکین، جن میں دو سیاسی کارکن، ایک طالب علم آرگنائزر، اور ایک انسانی حقوق کا کارکن شامل ہیں۔ ان کے فونز گرفتاری کے دوران ضبط کیے گئے۔ کل کم از کم 7 کیسز میں اس ٹول کا استعمال ثابت ہوا۔ سیٹیزن لیب تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ استعمال بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں (خاص طور پر ICCPR) کی خلاف ورزی ہے جس پر اردن نے دستخط کیے ہیں۔ سیاسی مخالفین اور سول سوسائٹی کو بغیر مناسب جواز یا عدالتی احکام کے نگرانی کرنا ممنوع ہے۔ اردن کے سائبر کرائم لاء (جسے 2023 ءمیں وسعت دی گئی) کے تحت بھی یہ کیسز چلائے گئے۔
تجارتی معاہدوں میں انڈونیشیا کی جانب سے امریکی مطالبے مسترد |
انڈونیشیا نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں امریکی بنائے گئے ڈرون خریدنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ یہ ڈرون جنوبی چین سمندر کے قریب پانیوں میں نگرانی کے لیے تھے، لیکن انڈونیشیا نے اسے اپنے آئین کی خلاف ورزی اور قومی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے انکار کر دیا۔ اسی طرح جنوبی چین کے سمندر کی پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی مسترد کیا گیا، کیونکہ یہ تجارتی توازن سے تعلق نہیں رکھتا۔ تاہم، انڈونیشیا نے دیگر امریکی شرائط پر اتفاق کیا ہے، جن میں شامل ہیں: سنگاپور کی بجائے امریکہ سے زیادہ ایندھن درآمد کرنا، امریکی معیارات والے آٹو موبائلز کو بغیر انڈونیشیائی ٹیسٹ کے درآمد کی اجازت دینا، آئی ٹی، میڈیکل آلات اور ڈیٹا سینٹرز میں مقامی مواد کی ضروریات جیسی غیر ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنا، امریکی الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کے لیے نکل کے خام مال کی فراہمی، بدلے میں امریکہ انڈونیشیا کی اشیا پر ٹیرف کو 32 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کرے گا (انڈونیشیا کا امریکہ کے ساتھ تقریباً 18 بلین ڈالر کا تجارتی سرپلس ہے)۔ انڈونیشیا کے حکام نے زور دیا کہ مذاکرات صرف تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار پر مرکوز رہیں گے، غیر تجارتی مسائل (جیسے دفاعی یا خارجہ پالیسی) میں نہیں جائیں گے۔
انڈونیشیا نے ترکی کے تیار کردہ ففتھ جنریشن KAAN فائٹر جیٹ خریدنے کی شرط رکھتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ طیارہ مکمل طور پر امریکی پارٹس (components) سے پاک ہو، یعنی ان میں کوئی بھی ایسا پارٹ نہ ہو جو امریکی برآمد کنٹرول قوانین (خاص طور پر ITAR – International Traffic in Arms Regulations) کے تحت آتا ہو۔ یہ شرط اس لیے رکھی گئی ہے کہ انڈونیشیا اپنے دفاعی اثاثوں میں مکمل خودمختاری اور سیاسی آزادی چاہتا ہے۔ امریکی قوانین کی وجہ سے مستقبل میں آپریشنز، اپ گریڈز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر یا مرمت میں امریکہ کی منظوری کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جو انڈونیشیا کے لیے قابل قبول نہیں۔ گزشتہ سال ترکی اور انڈونیشیا کے درمیان تقریباً 15 بلین ڈالر کا فریم ورک معاہدہ ہوا تھا، جس میں KAAN جیٹس کی خریداری، مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی تعاون شامل ہے۔ ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز (TAI) کے سی ای او محمد دمیراوغلو نے بتایا کہ ڈیل تین مراحل میں ہو گی: پہلا مرحلہ فریم ورک معاہدہ ہے، جبکہ دوسرے اور تیسرے مراحل 2026ء میں متوقع ہیں۔
فی الحال KAAN میں امریکی بنائے ہوئے جنرل الیکٹرک (GE) انجن استعمال ہوتے ہیں، جو ITAR کے تحت آتے ہیں۔ بعد میں ترکی اپنا مقامی انجن استعمال کرے گا۔ انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ وہ ITAR-free ورژن کا انتظار کرے گا، چاہے اس میں وقت لگے (ممکنہ طور پر 2030ء کی دہائی تک تاخیر ہو سکتی ہے)۔ یہ خبر انڈونیشیا کی دفاعی حکمت عملی کی بھرپور عکاسی کرتی ہے، جہاں وہ مختلف ملکوں (ترکی، جنوبی کوریا، فرانس وغیرہ) سے طیارے دیکھ رہا ہے تاکہ کسی ایک ملک پر انحصار نہ ہو۔ مذاکرات جاری ہیں، اور انڈونیشیا نے واضح کر دیا ہے کہ بغیر امریکی اجزاء کے KAAN ہی خریدے گا۔ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جنکو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد ممالک کے رہنما دفاعی معاہدے اور خرید و فروخت کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں حالت یہ ہے کہ تجارتی و دفاعی معاہدے کرتے ہوئے نہ ملکی خودمختاری کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور نہ ہی معاشی مفادات دیکھے جاتے ہیں۔ کمیشن اور مغربی آقاوں کی گڈ بک میں رہنا انکا اولین ہدف ہوتا ہے۔
افریقی ملک گیمبیا کا میانمار کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ |
گیمبیا ایک چھوٹا مسلم اکثریتی مغربی افریقی ملک ہے جس نے 2019ء میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (ICJ) میں میانمار کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ میانمار نے روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف نسل کشی کی ہے، جو 1948ء کی نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ جنوری 2026ء میں دی ہیگ (ہالینڈ) میں ICJ میں اس مقدمے کی مکمل سماعتیں (merits phase) شروع ہوئیں۔ 12 جنوری سے شروع ہونے والی ان سماعتوں میں گیمبیا کے وزیر انصاف اور اٹارنی جنرل داودہ جالو نے کہا کہ روہنگیا کو نشانہ بنایا گیا اور ان پر ’’خوفناک تشدد‘‘ کیا گیا۔ میانمار کی فوج نے 2016 2017 میں شدید کارروائیاں کیں، جس سے لاکھوں روہنگیا مارے گئے، عصمت دری کی گئی، گھر جلا دیے گئے اور تقریباً 750,000 روہنگیا بنگلہ دیش بھاگ گئے۔ گیمبیا جو او آئی سی کا رکن ہے، اسے سابق آمر یحییٰ جامیہ کے دور میں ظلم و ستم کا سامنا رہا، اس لیے وہ انسانی حقوق اور انصاف کی حمایت کرتا ہے۔ یہ ایک ’’تھرڈ پارٹی‘‘ مقدمہ ہے، یعنی گیمبیا خود متاثر نہیں لیکن عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی حفاظت کے لیے آگے آیا ہے۔ ICJ نے 2020ء میں عارضی حکم دیا تھا کہ میانمار نسل کشی روکے، لیکن روہنگیا اب بھی امتیازی سلوک اور مشکلات کا شکار ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ مقدمہ تاریخی ہے کیونکہ یہ ICJ میں ایک غیر متاثر ملک کی طرف سے نسل کشی کا پہلا بڑا کیس ہے، اور اس کا نتیجہ دیگر مقدمات (جیسے جنوبی افریقہ بمقابلہ اسرائیل) پر اثر ڈال سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے جان بوجھ کو بچوں کو اپنا عادی بنایا؟ |
امریکہ میں شروع ہونے والا مقدمہ قانونی مثال قائم کر سکتا ہے کہ آیا سوشل میڈیا کمپنیوں نے جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارمز بچوں کو عادی بنانے کے لیے تیار کیے تھے؟ اس مقدمے میں فریقِ مخالف الفابیٹ، بائٹ ڈانس اور میٹا ہیں، جو یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مالک ہیں۔سینکڑوں مقدمات میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے نوجوان صارفین کو ایسے مواد کا عادی بنایا جس کی وجہ سے وہ مایوسی، کھانے پینے کے مسائل، نفسیاتی ہسپتالوں میں داخلے اور یہاں تک کہ خودکشی تک پہنچ گئے۔ مدعیوں کے وکلاء واضح طور پر وہی طریقے اپنا رہے ہیں جو 1990ء اور 2000ء کی دہائیوں میں تمباکو کی صنعت کے خلاف استعمال کیے گئے تھے، جب اسے بھی اسی طرح کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تھا جن میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ کمپنیوں نے ناقص مصنوعات فروخت کیں۔ اس مقدمے کا مرکز یہ الزامات ہیں کہ ’کے جی ایم‘ کے نام سے پہچانی جانے والی ایک 19 سالہ لڑکی کو سوشل میڈیا کی لت کی وجہ سے شدید ذہنی نقصان پہنچا۔ سوشل میڈیا وکٹمز لا سینٹر کے بانی میتھیو برگ مین، جن کی ٹیم اس طرح کے 1000 سے زائد کیسز پر کام کر رہی ہے، نے کہا کہ ’یہ پہلی بار ہے کہ کسی سوشل میڈیا کمپنی کو بچوں کو نقصان پہنچانے پر جیوری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘ یہ سینٹر ایک قانونی ادارہ ہے جو سوشل میڈیا کمپنیوں کو انٹرنیٹ پر نوجوانوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے وقف ہے۔ برگ مین کا کہنا تھا کہ ’یہ حقیقت کہ اب کے جی ایم اور ان کا خاندان دنیا کی سب سے بڑی، طاقتور اور امیر ترین کمپنیوں کے برابر عدالت میں کھڑے ہو سکتے ہیں، بذاتِ خود ایک بہت بڑی جیت ہے۔ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ مقدمات مشکل ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ٹھوس شواہد کے ذریعے ثابت کریں کہ کے جی ایم کو ان کمپنیوں کے ڈیزائن سے متعلق فیصلوں کی وجہ سے نقصان پہنچا، یہ وہ ذمہ داری ہے جو ہم خوشی سے قبول کرتے ہیں۔ برگ مین کے مطابق، اس مقدمے کا حتمی فیصلہ اسی طرح کے بہت سے کیسز کو ایک ساتھ حل کرنے کے لیے ایک ’مثال‘ بن سکتا ہے۔ سنیپ چیٹ نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی کہ اس نے اس سول مقدمے سے بچنے کے لیے ایک معاہدہ کر لیا ہے جس میں اس پر میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس معاہدے کی شرائط ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔ انٹرنیٹ کی بڑی کمپنیوں نے یہ دلیل دی ہے کہ انہیں امریکی کمیونیکیشنز ڈیسنسی ایکٹ کے سیکشن 230 کے تحت تحفظ حاصل ہے، جو انہیں سوشل میڈیا صارفین کی پوسٹس کی ذمہ داری سے آزاد کرتا ہے۔ تاہم، اس مقدمے میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ وہ کمپنیاں ایسے کاروباری ماڈلز کی ذمہ دار ہیں جو لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچنے اور ایسے مواد کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں جو آخر کار ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ ’ہم انہیں اس لیے قصوروار ٹھہرا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز بچوں کو عادی بنانے کے لیے ڈیزائن کیے اور ایسے الگورتھم بنائے جو بچوں کو وہ نہیں دکھاتے جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ وہ دکھاتے ہیں جس سے وہ نظریں نہیں ہٹا سکتے۔‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نوجوان صارفین کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمات شمالی کیلی فورنیا کی فیڈرل کورٹ اور ملک بھر کی ریاستی عدالتوں میں بھی زیرِ سماعت ہیں۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا نے نوجوانوں پر سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرتے ہوئے، دنیا کا پہلا کریک ڈاؤن شروع کیا جس کا مقصد بچوں کو فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی عادت سے روکنا ہے۔
چینی سینیئر ترین جنرل پر امریکہ کو جوہری معلومات فراہمی کا الزام |
چین کے سینیئر ترین جنرل ژانگ یوکسیا پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی حساس معلومات امریکہ کو فراہم کیں اور سرکاری عہدوں کے تقرر کے بدلے بھاری رشوتیں وصول کیں۔ یہ الزمات چین کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی بریفنگ میں لگائے گئے۔ جنرل ژانگ کبھی صدر شی جن پنگ کے سب سے قابل اعتماد عسکری اتحادی سمجھے جاتے تھے۔ تحقیقات میں ان کی زیر نگرانی ایک طاقتور ایجنسی بھی شامل ہے جو فوجی ساز و سامان کی تحقیق، ترقی اور خریداری کی ذمہ دار ہے۔ بریفنگ سے واقف افراد کے مطابق، جنرل ژانگ پر الزام ہے کہ انہوں نے اس بڑے بجٹ والے خریداری نظام میں عہدوں کی فروخت کے بدلے بھاری رقم وصول کی۔ تاہم بریفنگ میں سب سے حیران کن الزام یہ سامنے آیا کہ جنرل ژانگ نے چین کے جوہری ہتھیاروں کی بنیادی تکنیکی معلومات امریکہ کے حوالے کیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین میں بدعنوانی کے خلاف مہم کے تحت دیگر اعلیٰ فوجی افسران بھی زیر تفتیش ہیں۔ جنرل ژانگ 20 نومبر کے بعد عوام میں نہیں دکھائی دیے، انہیں آخری بار ماسکو میں روس کے وزیر دفاع سے ملاقات کی تھی۔ اگرچہ چین دہائیوں سے کسی جنگ میں شریک نہیں ہوا، لیکن وہ متنازع ایسٹ چائنا سی اور ساؤتھ چائنا سی اور تائیوان کے حوالے سے اپنی عسکری پوزیشن مضبوط کر رہا ہے، جس پر چین دعویٰ کرتا ہے۔ بیجنگ نے پچھلے سال تائیوان کے اردگرد اب تک کی سب سے بڑی فوجی مشقیں بھی کیں۔
چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مجموعی طور پر کم ہوئی ہے، کیونکہ 2025ء کے آخر میں دونوں رہنماؤں (ٹرمپ اور شی جن پنگ) کے درمیان ٹریڈ وار پر ایک سالہ معاہدہ (truce) ہوا تھا، جو اکتوبر 2025ء میں جنوبی کوریا میں ملاقات کے بعد طے پایا۔ تاہم، کچھ اہم مسائل اب بھی موجود ہیں، جن میں تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت، وینزویلا میں امریکی کارروائی (جہاں چین نے مخالفت کی)، اور امریکہ کی جانب سے چین پر جوہری معاہدوں ؍ٹیسٹنگ کے الزامات شامل ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ سال دسمبر میں تائیوان کو $11.1 بلین کے سب سے بڑے ہتھیاروں کا معاہدہ کیا، جس پر چین نے شدید احتجاج کیا اور تائیوان کے گرد بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کیں۔ شی نے ٹرمپ کو احتیاط کی ہدایت کی۔ امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو قوانین اور اصول و ضوابط پامال کرتے ہوئے اغوا کیا تو چین نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ’’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ چین نے مادورو کی حمایت کی تھی اور اب تیل کی خریداری روک دی ہے۔
چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے (2025ء میں تقریباً 1.38 ملین بیرل یومیہ، جو ایران کی 80% برآمدات ہیں)۔ امریکہ کی نئی پابندیوں (فروری 2026ء میں shadow fleet اور ایرانی تیل ٹریڈرز پر) کے باوجود چین نے بارٹر سسٹم اور خفیہ ادائیگیوں کے ذریعے تیل کی درآمد جاری رکھی ہے۔ یہ ایران کی معیشت کے لیے لائف لائن ہے۔ امریکہ نے چین کی کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگائیں، لیکن چین نے اسے نظر انداز کیا۔ چین نے ایران کو ایئر ڈیفنس سسٹم (جیسے HQ-9B)، اینٹی شپ میزائلز، بیلسٹک میزائل کمپوننٹس اور ڈوئل یوز آئٹمز فراہم کیے ہیں۔ 2025ء-2026ء میں ایران کی میزائل اور ایئر ڈیفنس کی بحالی میں چینی مدد کی رپورٹس ہیں۔ جنوری 2026ء میں چین نے ایران میں سائبر سکیورٹی اور انٹیلی جنس سپورٹ بڑھائی، مغربی ٹیکنالوجی کو چینی سسٹمز سے تبدیل کرنے میں مدد کی۔ چین، ایران اور روس کے درمیان جوائنٹ نیول ڈرلز اور اسٹریٹجک ایگریمنٹ بھی ہوئے ہیں۔ تاہم، چین نے براہ راست فوجی مداخلت سے انکار کیا ہے۔
بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں اضافہ |
روئٹرز کی خبر کے مطابق واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقاتی ادارہ India Hate Lab, جو Center for the Study of Organized Hate کا پروجیکٹ ہے، نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2025ء میں بھارت میں اقلیتوں (خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں) کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ کل 1,318 نفرت انگیز تقریریں ریکارڈ کی گئیں، جو 2024ء میں 1,165 اور 2023ء میں 668 تھیں۔ یعنی 2023ء سے اب تک تقریباً 97 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ تقریریں سیاسی ریلیوں، مذہبی جلوسوں، احتجاجی مارچوں اور ثقافتی اجتماعات میں ہوئیں۔ اوسطاً روزانہ 4 واقعات ریکارڈ ہوئے۔
ان میں سے 98 فیصد (تقریباً 1,289) تقریریں مسلمانوں کو نشانہ بناتی تھیں (1,156 میں صرف مسلمان، اور 133 میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائی بھی)۔عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں 162 تھیں (تقریباً 12 فیصد)، جو 2024ء کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہیں (2024ء میں 115 تھیں)۔
1,164 واقعات (تقریباً 88 فیصد) بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے زیرِ حکومت ریاستوں یا مرکزی علاقوں میں پیش آئے، جہاں بی جے پی براہ راست یا اتحادیوں کے ساتھ حکومت کر رہی ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ اپریل 2025ء میں دیکھا گیا، جہاں 158 واقعات ریکارڈ ہوئے۔ ان میں سے تقریباً 100 ایک مخصوص مدت (22 اپریل سے 7 مئی) میں ہوئے، جو کشمیر میں ایک حملے اور بھارت پاکستان کے درمیان سرحدی تناؤ کے بعد تھے۔
رپورٹ میں ’’جہاد‘‘ سے متعلق سازشی نظریات (جیسے love jihad, land jihad, population jihad وغیرہ) کا بھی ذکر ہے، جو نفرت انگیز تقریروں کا بڑا حصہ ہیں۔ تقریباً 50 فیصد تقریریں ایسی سازشی تھیوریوں پر مبنی تھیں۔ بعض ریاستوں میں انتخابی مہموں کے دوران نفرت انگیز تقریریں بطور الیکشن ٹول استعمال کی گئیں، جیسے اتراکھنڈ کے میونسپل الیکشن میں چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی سمیت بی جے پی لیڈروں کی طرف سے۔ رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز تقریروں میں تشدد کی کالز بھی شامل تھیں (23 فیصد واقعات میں)۔ یہ رپورٹ ہیومن رائٹس گروپس (جیسے ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل) کی جانب سے 2014ء سے جاری تنقید کا حصہ ہے، جو کہتے ہیں کہ نریندر مودی کے اقتدار میں اقلیتوں (خاص طور پر مسلمانوں) پر زیادتیاں بڑھی ہیں۔ رپورٹ میں شہریت قانون، مذہب تبدیل کرنے کے قوانین، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور جائیدادوں کی تباہی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
سندھ اسمبلی میں شراب کی خریدوفروخت پر پابندی کی قرارداد مسترد |
سندھ اسمبلی نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کر دیا۔ شراب خانوں پر پابندی کی قرارداد ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی حکومت نے مخالفت کی۔ قرارداد میں صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کرنے اور تمام لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ شراب خانوں پر پابندی عائد کرنے سے معاشرے کے مختلف طبقات متاثر ہوں گے، اسی لیے حکومت اس تجویز کی حمایت نہیں کر سکتی۔ بحث کے بعد اسمبلی نے قرارداد کو مسترد کر دیا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ شراب پر پابندی کی قرارداد مسترد کی گئی اس سے قبل بھی ایک ہندو رکن اسمبلی کی جانب سے یہ کہہ کر قرار داد پیش کی گئی تھی کہ شراب ہندو مذہب میں بھی منع ہے برائے مہربانی ہمارے مذہب کے نام پر اس کی فروخت کی اجازت نہ دی جائے۔ حیرانگی ہوتی ہے کہ اسمبلی کے ایسے تماشے دیکھ کر بھی کوئی اس پلیٹ فارم کو اسلام کے لیے ناگزیر اور واحد راستہ سمجھتا ہے۔ وہ پلیٹ فارم جو دشمنان اسلام کو آزادی فراہم کرتا ہے کہ وہ جس مرضی حرام کام کا مطالبہ کریں ۔
مری بریوری پاکستان کی سب سے پرانی (1860ء میں قائم) اور سب سے بڑی الکوحل (شراب/بیئر) کی پروڈیوسر ہے۔ اس کی بنیادی پیداوار راولپنڈی (پنجاب) اور ہٹار (خیبر پختونخوا) میں ہوتی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں ایکسپورٹ بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چینی کمپنیوں کو بھی شراب کی پیداوار کے لیے لائسنس جاری کیے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک بڑی مقدار سمگل ہو کر آتی ہے جن کے بھتے کی وصولیوں کے لیے باقاعدہ روٹس اور تھانے متعین ہیں۔
سعودی عرب کا صومالیہ اور مصر سے فوجی اتحاد اور متحدہ عرب امارات سے کشیدگی |
سعودی عرب صومالیہ اور مصر کے ساتھ ایک نیا فوجی اتحاد قائم کرنے کے عمل میں ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بحیرہ احمر کی سکیورٹی کو مضبوط بنانا، فوجی تعاون کو مضبوط کرنا اور علاقے میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمد جلد سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں تاکہ اس معاہدے کو حتمی شکل دی جائے۔ یہ اتحاد بحیرہ احمر اور خلیج عدن کی بحری سلامتی پر توجہ مرکوز کرے گا اور تینوں ممالک کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون بڑھائے گا۔ سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان تناؤ حالیہ مہینوں میں شدید ہو گیا ہے، خاص طور پر یمن میں۔ سعودی عرب نے یو اے ای پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی یمن کے علیحدگی پسند گروپ جنوبی ٹرانزیشنل کونسل (STC) کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ سعودی عرب نے یو اے ای کو یمن سے اپنی فوجیں ہٹانے کا حکم دیا۔ 30 دسمبر 2025ء کو سعودی عرب نے یمنی بندرگاہ مکالہ پر محدود بمباری کی، جسے سعودی حکام نے یو اے ای سے STC کے لیے آنے والے ہتھیاروں کی کھیپ روکنے کے لیے ’’قومی سلامتی کا سرخ لکیر‘‘ قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد سعودی اور اماراتی سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور جھگڑا ہوا، اور یمن کی صدارتی قیادت کونسل نے یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے اماراتی فورسز سے نکلنے کا مطالبہ کیا۔
صومالیہ نے بھی یو اے ای کے ساتھ تمام سکیورٹی اور بندرگاہوں کے معاہدے منسوخ کر دیے ہیں، کیونکہ الزام ہے کہ یو اے ای نے صومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی۔
یو اے ای نے صومالیہ کے علیحدہ ہونے والے علاقے صومالی لینڈ اور پنٹ لینڈ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے ہیں، جہاں اس نے بربریا اور بوساسو جیسی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اسرائیل نے بھی دسمبر 2025ء میں صومالی لینڈ کو تسلیم کیا، جس کی سعودی عرب اور مصر نے شدید مذمت کی۔ سعودی عرب صومالیہ کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور یو اے ای کے مقابلے میں صومالیہ کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتا ہے۔ مصر اور سعودی عرب کے تعلقات بھی حال ہی میں بہتر ہوئے ہیں۔ مصری ذرائع کے مطابق قاہرہ نے سعودی عرب کو یمن اور سوڈان میں یو اے ای کی سرگرمیوں کی انٹیلی جنس شیئر کی ہے۔
مالدار مصری فوج کا مقروض مصری حکومت کو مدد دینے سے انکار |
مصر کی مسلح افواج نے دسمبر میں حکومت کی قرضوں کے بحران کو کم کرنے میں مدد کی درخواستوں کو سختی سے مسترد کر دیا، حالانکہ فوج کے پاس اربوں ڈالر کے خفیہ ذخائر موجود ہیں جو شہری حکومت کے لیے ناقابل رسائی ہیں۔ یہ انکشاف سینئر بینکنگ اور حکومتی افسران نے مڈل ایسٹ آئی کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا۔ یہ دعوے اس وقت سامنے آئے جب مصر شدید مالی دباؤ کا شکار ہے، غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور گھریلو لیکویڈیٹی سخت ہو گئی ہے۔ مصر کو دسمبر کے آخر تک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو تقریباً 750 ملین ڈالر کے قرض کی قسطیں ادا کرنی تھیں، لیکن ملک اس ڈیڈ لائن پر پورا نہ اتر سکا۔ آخری حل کے طور پر اصولاً طے پایا کہ یہ رقم اگلی آئی ایم ایف قسط سے کاٹ لی جائے گی (سود سمیت)، لیکن درست شرائط واضح نہیں کی گئیں اور حکومت اور آئی ایم ایف نے تفصیلات خفیہ رکھی ہیں۔ حکام کے مطابق حکومت نے دسمبر تک تین ٹریلین مصری پاؤنڈ (تقریباً 63.7 بلین ڈالر) قرض لینے کی کوشش کی، مگر مقامی بینکوں نے محدود لیکویڈیٹی کی وجہ سے انکار کر دیا۔ پھر حکومت نے فوج سے رجوع کیا، لیکن فوج کی مالی و انتظامی اتھارٹی کے سربراہ نے درخواست ٹھکرا دی حتیٰ کہ دفاع کے وزیر سے معاملہ اٹھانے کے بعد بھی۔
ایک سینئر بینکر نے دعویٰ کیا کہ فوج کے پاس ڈالرز کے بہت بڑے ذخائر ہیں جو مصر کے کل بیرونی قرض (161 بلین ڈالر) سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ یہ فنڈز نیشنل بینک آف ایجپٹ اور بینک مصر میں فزیکل طور پر موجود ہیں، مگر شہری حکام ان تک نہیں پہنچ سکتے۔ بینکر کا کہنا تھا کہ یہ رقوم ’’حقیقی اور محفوظ‘‘ ہیں لیکن انہیں قرض ادائیگی یا دیگر استعمال کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ فوج کی آمدنی کے اہم ذرائع میں، مصری سونے کی کانوں کی پیداوار کا 50 فیصد حصہ براہ راست فوج کو جاتا ہے (تقریباً 500 ملین ڈالر سالانہ)۔ سونے کی درآمد، پروسیسنگ اور دوبارہ برآمد سے اربوں ڈالر کی آمدنی۔ بڑے انفراسٹرکچر پراجیکٹس، ٹول گیٹس، زمینوں کی فروخت، اور دیگر کاروباری سرگرمیاں۔ فوج کو ٹیکس چھوٹ، سستی زمین اور فوجی جوانوں کو سستی لیبر ملتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوج نظریاتی طور پر مصر کے بیرونی اور ملکی قرضے ادا کر سکتی ہے اور سخت کرنسی بحران حل کر سکتی ہے، مگر وہ معیشت پر کنٹرول چھوڑنے کو تیار نہیں۔ 2022ء میں ڈالر کی شدید کمی کے وقت فوج نے 10 بلین ڈالر انجیکٹ کیے تھے، مگر اب بار بار قرض ادائیگی میں حصہ ڈالنے کی تجاویز مسترد کی جا رہی ہیں، حتیٰ کہ فوج کے اپنے نام پر لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کی بھی۔ آئی ایم ایف نے جولائی میں رپورٹ میں کہا تھا کہ فوج کے زیر کنٹرول معاشی ماڈل نجی شعبے کی ترقی روک رہا ہے، سرمایہ کاروں کو روک رہا ہے اور ملک کو قرضوں کے چکر میں پھنسائے رکھ رہا ہے۔ فوج کی کمپنیاں ٹیکس چھوٹ، سستی زمین اور ترجیحی سرکاری کنٹریکٹس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ الزامات مصری فوج کے معیشت میں غیر شفاف اور بے قابو کردار کو مزید نمایاں کرتے ہیں، جہاں مالیاتی ریکارڈز صرف صدر سیسی اور فوج کے اعلیٰ افسران تک محدود ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ پاکستان ہی کی کہانی کا ری پلے ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں یہ خیال آیا تو صحیح کہ فوج کی آمدن سے کچھ مانگا جائے جبکہ یہاں یہ سوچنا ہی محال ہے۔
٭٭٭٭٭








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



