اس تحریر میں مختلف موضوعات پر کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کی آرائ پیش کی جاتی ہیں۔ ان آراء اور کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کے تمام افکار و آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ادارہ)
عالمی امن بورڈ اوراس کا غزہ پلان |
ٹرمپ کی سربراہی میں بورڈ آف پیس کا قیام اور اس بورڈ کے تحت غزہ کے لیے جاری کیا جانے والا ڈویلپمنٹ پلان غزہ کے باسیوں سے ایک انتہائی بھونڈا مذاق ہے۔ اس بورڈ کا تاحیات سربراہ خود ٹرمپ ہے جس کے پاس ہر طرح کے فیصلے کا مکمل اختیار ہے۔ اس کے ماتحت ایک ایزیکٹو بورڈ (executive board) ہے جو ٹرمپ کے منتخب کردہ لوگوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ ایک جنرل بورڈ (general board) ہے، جو ممبر ممالک پر مشتمل ہو گا۔وہ ممبر ممالک جو ۳ سالہ عارضی ممبرشپ پر ہوں گے یا ایک بلین ڈالر دے کر مستقل ممبر بننا چاہیں گے۔
مضحکہ خیز بات یہ بھی ہےاس نام نہاد بورڈ آف پیس کے ۱۱ صفحات پر مبنی چارٹر میں غزہ یا فلسطینیوں کے حقوق کا کوئی ذکر نہیں۔ بلکہ جن لوگوں کو ایگزیکٹو بورڈ میں شامل کیا گیا ہے وہ تمام وہی صہیونی ہیں جنہوں نے غزہ میں پچھلے دو سال سے جاری نسل کشی میں بڑھ چڑھ کر اسرائیل کی حمایت کی۔ جنوری کے آخر میں ڈیوس (سوئٹزرلینڈ) میں اس بورڈ کی افتتاحیہ تقریب ہوئی جس میں ٹرمپ کے داماد یہودی جیرڈ کشنر نے غزہ کی تعمیر نو سے متعلق تصوراتی پلان پیش کیا۔ جہاں خود فلسطینیوں کو کوئی نمائندگی نہ دی گئی وہاں اسرائیل کو باقاعدہ بورڈ کا حصہ بنایا گیا۔ جبکہ افسوس کی بات تو یہ کہ پاکستان سمیت کئی مسلمان ممالک نے اس میں ممبر شپ حاصل کی۔ اگرچہ اس موضوع پر تنقیدی مباحث میڈیا میں زیر گردش رہے لیکن اس خوش فہمی کی ذرہ برابر کوئی گنجائش نہیں کہ مسلمان ممالک کا کردار اس بورڈ میں ٹرمپ صہیونی فیصلوں کی حمایت کرنے کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتا ہے اور ٹرمپ کے لیے، جیسا کہ وہ کافی دفعہ ذکر بھی کر چکاہے، غزہ کی اہمیت ساحلِ سمندر کے ساتھ ایک لگژری ریزورٹ اور رئیل اسٹیٹ بزنس سے کچھ زیادہ نہیں۔اس کے اپنے الفاظ میں:
“I’m a real estate person at heart, and it’s all about location,… and I said, look at this location on the sea, look at this beautiful piece of property, what it could be for so many people.”
اس بورڈ میں موجود ٹرمپ کے منتخب کردہ لوگ کون ہیں اور ٹرمپ کے اصل مقاصد کیا ہیں اور اس کے غزہ پلان کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس متعلق مڈل ایسٹ آئی پر ایک پوڈ کاسٹ میں تجزیہ کیا گیا۔ جس میں سے منتخب اقتباسات قارئین کے لیے پیش ہیں:
Trump is running Gaza, and the world, like a Mafia Boss | David Hearst
’’باقی ماندہ عقل رکھنے ولای دنیا میں، جو کچھ بھی باقی رہ گئی ہے، ’بورڈ آف پیس‘ کو درست طور پر اسی طرح سمجھا جاتا ہے جو وہ اصل میں ہے۔ یعنی اقوامِ متحدہ کو پسِ پشت ڈالنے کی ایک کوشش۔ جہاں تک غزہ کا تعلق ہے، تو بورڈآف پیس کو ایک بانی ایگزیکٹو بورڈ کا تعاون حاصل ہے، جو ایسے افراد سے بھرا ہوا ہے جو اس بات کے انکاری ہیں کہ غزہ میں نسل کشی ہو رہی تھی، یا ہو رہی ہے۔ ان میں امریکہ کا وزیرِ خارجہ مارکو روبیو،، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ٹرمپ کا داماد جیرڈ کشنر نیز وال اسٹریٹ کی مالیاتی شخصیت مارک روون جیسے لوگ شامل ہیں، جس نے امریکی یونیورسٹیوں پر فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں پر پابندی لگانے کے لیے دباؤ ڈالا۔
یہ افراد غزہ اور مغربی کنارے کی تاریخ میں ہونے والی سب سے زیادہ انتہا پسندی اور تشدد کی کی لہر کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ لوگ ’عظیم تر اسرائیل‘ کے تصور پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی تمام تر قوت اسرائیل کو خطے کی غالب فوجی قوت کے طور پر قائم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، اس کے علاوہ ان سب میں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں گہرے تجربے کی کمی بھی مشترک ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ میں واحد شخص جسے خطے کا کچھ تجربہ ہے، اگر آپ عراق پر حملہ کرنے اور ایک تباہ کرن سترہ سالہ خانہ جنگی بھڑکانے کو تجربہ کہیں، تو وہ برطانیہ کا اپنا ٹونی بلیئر ہے۔ تاہم بلیئر کسی اور کی نمائندگی نہیں کرتا سوائے اپنی ذات کے۔ برطانوی حکومت نے اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور خود کو اپنے سابق وزیر اعظم سے دور کر کے یہ بات واضح کی ہے……
……محاصرے کو منظم کیا جائے گا۔ اسرائیلی افواج غزہ کے نصف سے زیادہ حصے پر قابض رہیں گی اور نہ کوئی بین الاقوامی افواج آ کر اس گند کو صاف کریں گی، نہ ہی دو ملین سے زیادہ فلسطینیوں کو خیموں سے باہر زندگی گزارنے کی کوئی امید ہو گی۔ بلیئر ان پالیسی سازوں میں سے ایک تھا جس نے حماس کو اس وقت تک مذاکرات سے باہر رکھنے کی پالیسی مرتب کی تھی، جب تک کہ وہ اسرائیل کو تسلیم نہ کر لے۔ اُس بین الاقوامی معاہدے کی بنیاد پر اسرائیل نے ۲۰۰۶ء میں وہ تباہ کن محاصرہ شروع کیا تھا جب حماس نے فلسطین کی تاریخ میں ہونے والے واحد انتخابات جیت لیے تھے۔غزہ کی تباہی کےبعد انہی افراد کو جنہوں نے اسرائیل کی توسیع کی حمایت کی ’بورڈ آف پیس‘ میں مدعو کرنا ایسا ہی ہے جیسے سربیا کے لیڈروں ’سلودیان ملاسووچ یا رادوان کراڈک یا راڈکو ملاڈک جیسے بوسنیا میں نسلی تطہیر کرنے والوں اور سریبرینیتسا (Srebrenica) میں نسل کشی کے معماروں کو ڈیٹن امن مذاکرات کے لیے مدعو کیا جائے۔
جہاں تک بات ہے ٹرمپ کی تو یہ شخص فلسطینیوں، انصاف، انسانی حقوق یا سردی سے مرنے والے بچوں کے بارے میں فکر مند ہونے کا دکھاوا تک نہیں کرتا۔ ٹرمپ ایک مافیا ڈان ہے جو مطالبہ کرتا رہتا ہے کہ اس کا احترام کیا جائے اور باقاعدگی کے ساتھ ادائیگی کی جائے۔ اپنی ایک پر فریب ٹیم بنا کر اسے ’بورڈ آف پیس‘ کہہ کر، ٹرمپ ساری دنیا ویسے چلانا چاہتا ہے جیسے وہ امریکہ چلا رہا ہے۔ وہ ایک غنڈہ ہے اور دنیا کی سب سے بڑی فوج اور مغربی بنکاری نظام کا بدمعاش سردار بھی۔ اور اسے لوگوں کا اس کی دھمکیوں کے آگے سر جھکانا بہت پسند ہے۔ اگر ٹرمپ کی ترکیبیں گرین لینڈ والوں اور کینیڈا والوں کو نہیں ڈرا پائیں، تو وہ فلسطینیوں کو بھی نہیں دھمکا سکتیں جنہوں نے ٹیرف سے کہیں زیادہ کچھ دیکھا ہے۔انہوں نے استعماریت کو ، بین الاقوامی مینڈیٹ کو، جلا وطنی کو، فوجی حکومت کو، علیحدگی کی جنگوں کو، اپنے گھروں کے انہدام کو، اپنی زمینوں کی ضبطی کو اور اب نسل کشی کو بھگتا ہے۔ اور اس سب کے باوجود انہوں نے اپنی قومی شناخت کو برقرار رکھا ہے۔فلسطین کا قضیہ ہر فلسطینی کے دل میں اب پہلے سے بھی زیادہ شدت سے دھڑکتا ہے۔ فلسطینی اس ’بورڈ آف پیس‘ کو تاریخ کے کچرے دان میں پھینک دیں گے پھر وہ یہی کچھ خود ٹرمپ کے ساتھ بھی کریں گے۔ ‘‘
[Middle East Eye]
جیرڈ کشنر کے مطابق جب تک حماس غیر مسلح نہیں ہو جاتی تب تک غزہ میں کسی قسم کا تعمیراتی کام شروع نہیں ہو گا۔ ذرا غور کریں کس طرح اسرائیل کی زرد لکیر (Yellow Line) تک موجودگی کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا جبکہ سیز فائر ڈیل کے مطابق جب اسرائیل غزہ کے قبضہ شدہ علاقے خالی کر دے گا تو حماس بھی غیر مسلح ہو جائے گی۔ اور حقیقت میں اسرائیل زرد لکیر (Yellow Line) کو آہستہ آہستہ آگے بڑھا کر مزید علاقہ قبضہ میں لے رہا ہے اور اب تک ساٹھ فیصد سے زیادہ علاقہ ہتھیا چکا ہے۔
ڈاکٹر رمزی بارود اس بورڈ کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں:
Not a Trump anomaly: The Board of Peace and America’s crisis-driven power plays | Dr. Ramzy Baroud
’’یہ اقدام تعمیرِ نو یا انصاف کے لیے نہیں، بلکہ غزہ کے مصائب کا استحصال کر کے امریکی قیادت میں ایک نئے عالمی نظام کو مسلط کرنے کی کوشش ہے، پہلے مشرقِ وسطیٰ میں اور پھر بتدریج باقی دنیا میں۔
غزہ کو، جو صرف ۳۶۵ مربع کلومیٹر پر مشتمل ایک محصور خطہ ہے، کسی نئے سیاسی ڈھانچے کی ضرورت نہیں جس میں درجنوں عالمی رہنما شامل ہوں اور جن میں سے ہر ایک مبینہ طور پر ایک ارب ڈالر کی رکنیت فیس ادا کرے۔ غزہ کو تعمیرِ نو درکار ہے، اس کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیے جانے چاہییں، اور اسرائیل کے جرائم کا احتساب ہونا چاہیے۔ اس کے لیے درکار طریقۂ کار پہلے ہی موجود ہیں: اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی قانون، دیرینہ انسانی ہمدردی کے ادارے، اور سب سے بڑھ کر خود فلسطینی عوام، جن کی خودمختاریٔ عمل، ثابت قدمی اور اسرائیلی یلغار کے مقابل بقا کی جدوجہد ایک مثال بن چکی ہے۔
’بورڈ آف پیس‘ ان سب کو نظر انداز کر کے ایک کھوکھلا اور عجلت میں گھڑا گیا ڈھانچہ پیش کرتا ہے، جو ٹرمپ کی غیر مستحکم انا کی تسکین اور امریکہ و اسرائیل کے سیاسی و جغرافیائی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ عملاً یہ اقدام فلسطین کو ایک صدی پیچھے دھکیل دیتا ہے، اس دور میں جب مغربی طاقتیں یکطرفہ طور پر اس کی تقدیر کا فیصلہ کرتی تھیں، اور یہ فیصلے فلسطینیوں اور مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں نسلی تعصبات پر مبنی مفروضات کے زیرِ اثر ہوتے تھے، وہی مفروضات جنہوں نے خطے کی تا حال جاری تباہ کاریوں کی بنیاد رکھی۔
تاہم بنیادی سوال پھر بھی باقی ہے: کیا یہ واقعی صرف ٹرمپ کی انفرادی سوچ کا مظہر ہے؟
نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اگرچہ اسے مہارت سے اس انداز میں ڈھالا گیا ہے کہ ٹرمپ کے اپنی بڑائی کے پھولے ہوئے احساس کو تقویت ملے، مگر یہ دراصل ایک جانا پہچانا امریکی حربہ ہے، خاص طور پر شدید بحرانوں کے ادوار میں۔ اس حکمتِ عملی کی جامع توضیح Naomi Klein نے اپنی کتاب The Shock Doctrine میں کی ہے، جس میں استدلال کیا گیا ہے کہ سیاسی و معاشی اشرافیہ اجتماعی صدمے، جنگوں، قدرتی آفات اور معاشرتی انتشار، کو استعمال کر کے ایسے بنیادی پالیسی اقدامات نافذ کرتی ہے جن کو عام حالات میں عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔
ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ اسی فریم ورک میں پوری طرح فٹ بیٹھتا ہے: یہ غزہ کی تباہی کو انصاف یا احتساب کی پکار کے طور پر نہیں بلکہ سیاسی حقائق کو اس انداز میں ازسرِ نو ترتیب دینے کے موقع کے طور پر دیکھتا ہے جو امریکی غلبے کو مضبوط کرے اور بین الاقوامی اصولوں کو پسِ پشت ڈال دے۔‘‘
[Middle East Monitor]
کشنر نے جو غزہ کی تعمیر نو کے متعلق پلان پیش کیا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ غزہ ساحل کے کنارے ایک بے آباد زمین کا ٹکرا ہے نہ کہ جنگ زدہ تباہ حال ملبے کا ڈھیر اور لاکھوں زخمی و لاچار بنیادی سہولتوں سے محروم خیمہ زن فلسطینیوں کا گھر۔ یہ سرزمین، جس کی تعمیر و ترقی کے بہانے اس پر قبضہ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، فلسطینیوں کی ملکیت ہے، جس کی حفاظت کے لیے پچھلے اٹھہتر سال سے اسے وہ اپنے خون سے سیراب کرتے آئے ہیں۔ یہ بات پچھلے شماروں میں بھی بار بار سامنے آئی تھی کہ اسرائیل غزہ کے جنوب میں بہت تیزی سے ملبہ صاف کر رہا ہے اور غزہ کے لوگوں کے لیے ایک کنسنٹریشن کیمپ تعمیر کر رہا ہے، ایک ایسا ہائی سکیورٹی زون جہاں اہل غزہ کو غزہ نہ چھوڑنے کے جرم میں قید کر دیا جائے گا۔ مڈل ایسٹ مانیٹر میں ایک لکھاری لکھتی ہیں:
What is Israel planning for Palestinians in Gaza and the West Bank? | Dr Sania Faisal El-Husseini
’’اسرائیلی حکومت نے کسی بھی تعمیرِ نو کے آغاز کو غزہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبوں کی پیش کش اور تعمیرِ نو کی مالی اعانت کے ضوابط سے مشروط کر دیا ہے۔ وہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ نہ تو وہ خود تعمیرِ نو کی مالی ذمہ داری اٹھائے گی اور نہ ہی اسے انجام دے گی، یہ مؤقف دانستہ طور پر اُس تباہی کی ذمہ داری سے پہلو تہی ہے جو محصور علاقے پر اس نے ڈھائی۔
اسی دوران، اسرائیلی افواج گزشتہ دو ماہ سے جنوبی غزہ کی پٹی میں وسیع پیمانے پر زمین ہموار کرنے اور صفائی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، بالخصوص مشرقی رفح میں ملبہ ہٹانے کا عمل بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ گزشتہ جولائی میں اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے تصدیق کی کہ اس نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ رفح میں ایک کیمپ تیار کیا جائے تاکہ غزہ کی آبادی کو وہاں رکھا جا سکے۔
یہ اقدامات اُس وقت سامنے آ رہے ہیں جب غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے میں فلسطینیوں کے لیے ایک بڑے کیمپ کے قیام کے اسرائیلی منصوبوں پر گفتگو تیز ہو رہی ہے، جو جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی سے لیس ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی قیادت کی جانب سے بارہا ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں جن سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑتے دیکھنا چاہتا ہے۔
نیتن یاہو نے حال ہی میں رفح کراسنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’دونوں سمتوں میں کھلی‘ ہو گی، اور زور دے کر کہا کہ کسی بھی غزہ کے باشندے کو علاقے سے نکلنے سے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی۔ تاہم اسی کے ساتھ اس نے واضح کیا کہ غزہ میں داخلے کی ’کھلی چھوٹ‘ نہیں ہو گی۔ فلسطینیوں کو سخت اسرائیلی جانچ پڑتال سے گزرنا ہو گا، جبکہ رفح پر مکمل سکیورٹی کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس ہی رہے گا۔‘‘
[Middle East Monitor]
مسلم ممالک خصوصا پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت |
جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق جن ممالک نے اس میں شمولیت اختیار کی وہ یا تو چھوٹی اور کمزور ریاستیں ہیں جیسا کہ ارجنٹائن، آرمینیا، بیلاروس، بلغاریہ، ہنگری وغیرہ یا پھر مسلمان و عرب ریاستیں انڈونیشیا، سعودی عرب، مصر، اردن، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات وغیرہ۔ یورپی و مغربی اقوام جیسا کہ فرانس، برطانیہ، جرمنی کینیڈا وغیرہ نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا۔ اور اپنے ان خدشات کا اظہار کیا کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ اور نیٹو کی جگہ لینا چاہ رہا ہے اور ٹرمپ کو ہر طرح کے اختیارات کا کلی مالک بناتا ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ اس بورڈ میں شمولیت سے انکار ان ریاستوں نے کیا ہے جو خود امریکہ کی اتحادی ہیں۔ جبکہ جن ممالک نے شمولیت اختیار کی وہ کمزور ریاستیں ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی خوشامد میں اور اس کے ٹیرف کے اقتصادی حملوں سے بچنے کے لیے اس میں شمولیت اختیار کی۔ بظاہر تو مسلمان ممالک خصوصاً پاکستان میں بھی یہی عام کیا جا رہا ہے کہ پاکستان امریکہ کی طرف سے ٹیرف کا متحمل نہیں ہو سکتا اسی لیے پاکستان نے اس بورڈ میں شمولیت اختیار کی۔ مشہور تجزیہ نگار عاصمہ شیرازی نے بھی یہی بات کہی:
’’پاکستان ٹرمپ کو ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، پاکستا ن ٹیرف برداشت نہیں کر سکتا…… اگر پاکستان کو لگتا ہے کہ پاکستان کو حماس یا کسی بھی مسلح تنظیم کو غیر مسلح کرنے کے لیے پریشر ڈالا جا رہا ہے تو پاکستان اس سے نکل سکتا ہے۔‘‘
لیکن صرف یہی ایک وجہ نہیں، پچھلے دو سال میں جب اسرائیل غزہ میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا تھا اور امریکہ نہ صرف علی الاعلان اس کی حمایت کر رہا تھا بلکہ جنگی ساز و سامان اور مہلک ہتھیاروں کی رسد مستقل پہنچاتا رہا تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں کوئی کمی نہ رہ جائے، تب بھی یہ تمام ممالک امریکہ ہی کے آگے سربسجود رہے۔ یہ غلام حکمران اسی لیے تو مسلمانوں پر مسلط کیے گئے ہیں کہ ظلم کے خلاف کوئی اٹھنے کے جسارت تک نہ کر سکے۔ یوں تو پورے پاکستان میں اسی بیانیے کو بار بار دہرایا جا رہا ہے کہ پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت دراصل فلسطینیوں کی حمایت کے لیے ہے (ایسے بورڈ میں شمولیت جس میں خود فلسطینیون کی کوئی نمائندگی نہیں )۔ یہاں اس متعلق دو کالموں سے دو مختلف آراء قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں:
گل پلازہ آگ ، غزہ امن بورڈ میں شمولیت | عبدالحمید
’’امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹھہرے پانی میں مسلسل پتھر مار کر ہیجان پیدا کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ پہلے ہی بہت کمزور ہے، ایسے میں امریکی صدر کا اقوامِ متحدہ کے مقابلے میں اپنی سربراہی میں ایک نیا فورم بنانا عالمی انارکی پھیلانے کے مترادف ہے۔ اس وقت چین اور روس کے علاوہ دنیا کا کوئی اور ملک ٹرمپ کو ناراض نہیں کر سکتا۔ وینزویلا کے صدر کا حال سبق آموز ہے۔ پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کر لی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ شمولیت فلسطینی کاز کو تقویت دے گی۔ یہ تو ظاہری Rationaleہے لیکن دراصل پاکستان اس پوزیشن میں نہیں کہ ٹرمپ کو انکار کر سکے۔
فرانس کے صدر میکرون نے امن بورڈ میں شمولیت نہ کرنے کا عندیہ دیا تو ٹرمپ نے فرانس پر 200فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔ پاکستان کی کوئی بھی حکومت ہوتی یہی فیصلہ کرتی۔ صدر ٹرمپ بیمار لگتے ہیں، وہ جلد Dysfunctionalہو سکتے ہیں۔ امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج ٹرمپ کے لیے بھیانک ہو سکتے ہیں۔ ان کا وقت بہت دیکھ بھال کر گزارنا ہو گا۔ پاکستان کی معیشت اتنی کمزور ہے کہ ایک بڑا جھٹکا اسے بے پناہ مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔ آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک امریکی بی ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں۔
ایف اے ٹی ایف بھی امریکی دانت ہے۔ پاکستان کے پاس یہ آپشن ہی نہیں تھی کہ وہ شمولیت کے علاوہ اور کوئی فیصلہ کرتا۔ موجودہ صورتحال میں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔ فلسطینیوں کے لیے اگر کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے تو وہ ٹرمپ کی رائٹ سائڈ پر رہ کر ہی حاصل ہو گا۔ اور تو فی الحال کچھ ممکن نظر نہیں آتا البتہ ٹرمپ کے پلان سے فلسطینیوں کا قتلِ عام ضرور رک جائے گا اور یہ بہت حوصلہ افزا بات ہو گی۔ پاکستان جہاں اور جس صورت میں ہو گا، فلسطینی کاز کو مدد ہی ملے گی۔
صدر ٹرمپ کے قائم کردہ امن بورڈ میں پاکستان اور ترکیہ سمیت آٹھ اسلامی ممالک ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان مضبوط افواج رکھنے کی وجہ سے مل کر ایک مؤثر قوت اور آواز بنتے ہیں۔ غزہ میں جو ہونے جا رہا ہے اس سے ٹرمپ کے خاندانی کاروبار کو بڑھاوا ملے گا۔ دوسرا غزہ تو ایک بہانہ ہے ،اصل مقصد اقوامِ متحدہ کے مقابلے میں ایک متبادل ادارے کا ممکنہ قیام لگتا ہے۔ اس ابتدائی عمل میں پاکستان کی شمولیت اچھے نتائج لا سکتی ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ ہماری شمولیت پاکستان اور فلسطین دونوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہو گی۔‘‘
[روزنامہ ایکسپریس نیوز]
غزہ امن بورڈ یا مسئلہ فلسطین کی لوح ِ مزار؟ | عارف بہار
’’غزہ امن بورڈ کا قیام عمل میں آ گیا ہے۔ یہ بورڈ ٹرمپ کا انتخاب، ٹرمپ کی قیادت اور ٹرمپ کے مقاصد پر مبنی ہے۔ ٹرمپ ہی اس بورڈ کا اوّل بھی ہے اور آخر بھی۔ اس کے مقاصد کا تعین بھی وہی کر رہے ہیں اور اس کے اندر داخلے کی اجازت کا فیصلہ بھی انہی کے ہاتھ ہے۔ وہ اس کے تا حیات سرپرست ہیں۔ اس بورڈ کی رکنیت کے لیے ٹرمپ نے ایک ہی سلیبس مقرر کیا ہے۔ اہلیت کا ایک ہی پیمانہ ہے کہ وہ جو حماس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور وہ جو حماس کو صفحۂ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ جن کے بارے میں بھی کسی دور میں ٹرمپ کو یہ شک گزرا کی حماس کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث رہے ہیں انہیں ٹرمپ نے اس بورڈ کے قریب پھٹکنے نہیں دیا اور جن کے بارے میں یہ گمان تھا کہ ماضی میں اچھے بچے بن کر رہے ہیں اور آئندہ بھی اس معاملے میں ہر خدمت بجا لائیں انہیں اس بورڈ کی بیرونی پرت کا حصہ بنایا گیا۔ قضیے کا سب سے مظلوم مگر سب سے مضبوط حصہ فلسطینی عوام اس بورڈ سے اچھوت کی طرح دور رکھے گئے ہیں۔ بورڈ میں ایک کے سوا تمام ارکان امریکی ہیں۔ وہ بھی ایک برطانیہ کے ٹونی بلیئر ہیں۔ بورڈ میں کسی مسلمان اور کسی فلسطینی کو رکنیت کا اہل نہیں سمجھا گیا۔ گویا کہ اسرائیل کے پسندیدہ اور امریکہ کے چنیدہ مسلمان ملکوں کے نمائندوں کا رول کسی قوال کے ہمنواؤں سے زیادہ نہیں۔ ہر سْر اور تال پر انہیں شامل بھی ہونا ہے اور تالی بھی بجائی جانی ہے۔ ترکی اور قطر وہ دو ممالک تھے جن کی اس بورڈ میں شمولیت پر اسرائیل نے اس بنا پر اعتراض کیا تھا کہ ان ملکوں کے حماس کی قیادت کے ساتھ تعلقات تھے۔
……ٹرمپ ایک پورے عالمی ادارے کے مقابل اپنے رشتہ داروں اور دوستوں پر مشتمل ایک نیا پول کھڑا کر بیٹھا ہے تو دوسرا ایک مسلمہ عالمی تنازعے کو انتقال آبادی کے ذریعے حل کرنے کا نیا اصول اپنایا جانے لگا۔ ہم تو بزعم ِ خود غزہ امن بورڈ میں فلسطینیوں کو بچانے جا رہے ہیں مگر کیا ٹرمپ نے اس بورڈ کے اغراض و مقاصد میں فلسطینیوں کو بچانا اور ان کی خواہشات کا احترام اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ذکر کیا ہے؟ ٹرمپ جیسا منہ پھٹ آدمی تو کہہ رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے باہر کے ایک ملک نے حماس کو غیر مسلح اور حزب اللہ کو تباہ کرنے کا یقین دلایا ہے۔ اس کا اشارہ کس جانب ہے؟ یہ پتا نہیں مگر شکوک کے بادل تو منڈلا رہے ہیں۔ غزہ امن بورڈ جو حقیقت میں فلسطینیوں کی لوح ِ مزار ہے، میں دھوم دھام سے شرکت کرنے والے تاریخ کی غلط سمت میں جا کھڑے ہوئے ہیں۔ اس پر چند دن قبل المشہد ٹی وی پر سعودی اور امارات کی رواں کشمکش کے دوران ایک سعودی تجزیہ نگار العانی کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں ’جب ہماری ریفائنری پر حملہ ہوا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم نے امریکہ سے کیا کہا اس نے کچھ نہیں کیا۔ آج جب ہم ایران کے ساتھ امن اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں امریکہ مشکوک اقدامات کر رہا ہے۔ امریکہ جنگ کی سلطنت ہے اور جنگ کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا‘۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ ہم جنگ کی اس سلطنت کے ساتھ نتھی ہو کر رہ گئے ہیں اور کسی بھی بے جا فرمائش پر حرف ِ انکار بلند کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔‘‘
[روزنامہ جسارت]
مغربی کنارے کے علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے لیے قانون سازی |
اسرائیل اپنے صہیونی ایجنڈے کو نافذ کرنے اور پورے فلسطین پر مکمل قبضے کے لیے ہمہ جہتی اقدامات کر رہا ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مسلمان قبلۂ اول کی حفاظت اور فلسطینیوں کی آزادی کے لیے صہیونی قابضوں کے ہر فعل پر نظر رکھیں، غزہ کی جنگ کے ساتھ ساتھ غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں بھی فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے اقدامات میں بھی تیزی آ گئی۔ اس سلسلے کی حالیہ پیش رفت نئے توسیعی قوانین ہیں جو اسرائیل نے فوری نافذ العمل قرار دے دیے ہیں۔ یہ قوانین کیا ہیں اور فلسطینیوں کی املاک اور زمینوں پر کیسے اثر انداز ہوں گے، مختصراً نکات میں واضح کرتے ہیں:
یہ قانون مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں میں موجود فلسطینی املاک، زمینوں اور تعمیرات کو ، پچھلے تمام قوانین منسوخ کر کے اسرائیلی حکومت کے اختیار میں دے دیتا ہے۔ ۱۹۹۵ء کے اوسلو معاہدے کے تحت مغربی کنارے کو تین علاقوں زون A, B اور C میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جس میں زون Aجو ۱۸ فیصد رقبے پر محیط ہے، فلسطینیوں کی بیس لاکھ کی آبادی کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہے( وہاں کے بڑے شہروں میں رام اللہ، نابلس، جنین اور بیت لحم وغیرہ ہیں) اوسلو معاہدے کے تحت وہاں فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول ہونا چاہیے۔ زون B جو ۲۲ فیصد رقبہ پر محیط ہے وہاں چھوٹے گاؤں اور ارد گرد کے علاقوں میں فلسطینی آباد ہیں وہاں کا انتظامی کنٹرول فلسطینی اتھارٹی اور سکیوڑی اسرائیلی فوج کے ہاتھ میں ہے۔ زون C جو ۶۰ فیصد حصے پر محیط ہے، یہ علاقہ اسرائیلی قبضے میں ہے جہاں ۷ لاکھ یہودی آبادکار رہتے ہیں اور ہر طرح کے وسائل سے مالا مال ہے۔
نئے قانون کے تحت اب تک جو فلسطینی علاقوں اور املاک کا انتظامی کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے پاس تھا اب وہ اسرائیلی حکومت کے پاس ہو گا۔ پرانے قانون کو منسوخ کر دیا گیا ہے جو فلسطینیوں کو اپنی اراضی یہودیوں کو فروخت کرنے کو ناممکن بناتا تھا۔
فلسطینیوں کی املاک کے ریکارڈ کو اب تک پوشیدہ اور یہودیوں کی پہنچ سے دور رکھا گیا تھا۔ اب تمام زمینی ریکارڈ عوامی طور پر دستیاب ہو گا۔ جو صہیونی آبادکاروں کو زمین کی ملکیت کی تفصیلات جاننے اور خریداری کرنے میں مدد کرے گا۔ اس طرح جو غیر قانونی قبضے کیے جا رہے تھے انہیں دھوکہ دہی اور طاقت سے قانونی شکل دے دی جائے گی۔
مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاریوں اور ابراہیمی مسجد کے ارد گرد کے علاقوں میں تعمیراتی اجازت نامے کا اختیار فلسطینی انتظامیہ سے چھین کر صہیونیوں نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی عمارتوں کو ماحولیاتی، آثار قدیمہ یا ورثہ کی حفاظت کے نام پر گرانے کا اختیار بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
زمین کی خرید و فروخت کے لیے درکار حکومتی اجازت نامہ کی شق کو ختم کر دیا گیا ہے جس سے اب صہیونی بغیر نگرانی کے زمین حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ اقدامات رہی سہی فلسطینی زمینوں پر قانونی طور پر قبضہ کر کے فلسطینیوں کو مکمل طور پر بے دخل کرنے کی سازش ہے جیسا کہ صہیونی وزیر سموٹرخ نے کہا: ’’اس طرح ہم فلسطینی ریاست کے تصور کو ہی دفن کر دیں گے‘‘۔
What is Israel planning for Palestinians in the West Bank? | Dr Sania Faisal El-Husseini
’’حالیہ برسوں میں، خصوصاً نیتن یاہو کی موجودہ دائیں بازو کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد، آبادکار تحریک کا سیاسی اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ اس کے نظریات کناروں سے نکل کر مرکز میں آ چکے ہیں، سرکاری پالیسی کی تشکیل اور ریاستی عمل داری کی سمت متعین کر رہے ہیں۔ آبادکاری کے منصوبے اب زمین کے تنازعے کو فلسطینیوں کے خلاف فیصلہ کن طور پر نمٹانے کی کوشش کا اشارہ دے رہے ہیں۔
آبادکار بستیوں کی تعمیر کا پیمانہ تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے، جبکہ غیر مجاز آبادکار چوکیوں (آؤٹ پوسٹس) کو بعد ازاں قانونی حیثیت دینا ایک معمول بنتا جا رہا ہے، یہ سب کچھ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیلی حکام نے اُن علاقوں میں، جو ایریا سی کے طور پر نامزد ہیں، فلسطینیوں کو ایک بھی تعمیراتی اجازت نامہ جاری نہیں کیا۔ اسی وقت وہ بغیر اجازت تعمیر کیے گئے گھروں اور اداروں کو منظم انداز میں منہدم کر رہے ہیں، یہ اجازت نامے ان علاقوں میں فلسطینیوں کے لیے عملاً حاصل کرنا ناممکن ہیں۔ ایریا سی میں فلسطینی انفراسٹرکچر کے خلاف سالانہ انہدامی احکامات کی تعداد اب ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
مشرقی بیت المقدس میں بھی یہی طرزِ عمل جاری ہے، جہاں زمینوں کی ضبطی اور انہدام کی کارروائیاں اس شدت سے بڑھ رہی ہیں کہ شہر کے فلسطینی آبادی کے انفراسٹرکچر کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ بیت المقدس میں اسرائیلی حکام نے طویل عرصے سے معطل ای ون منصوبے (E1 Project) پر بھی عمل درآمد شروع کر دیا ہے، یہ منصوبہ امریکی اور بین الاقوامی مخالفت کے باعث دو دہائیوں تک منجمد رہا تھا۔ یہ منصوبہ عملی طور پر مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے، شہر کو اس کے فلسطینی مضافات سے جدا کر دیتا ہے، اور وسیع فلسطینی اراضی کو اسرائیلی کنٹرول میں لے آتا ہے۔
مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی حکام نے ایک خطرناک تبدیلی کا آغاز کیا ہے: زمینوں کی منظم رجسٹریشن کا عمل، جسے اسرائیلی لینڈ رجسٹری یا ’’تابو‘‘ (Tabu) میں اندراج کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے زمین کو اسرائیلی دائرۂ اختیار کے تحت درج کیا جاتا ہے اور اس کا حتمی قانونی مالک مقرر کیا جاتا ہے، جسے قطعی اور ناقابلِ اپیل سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ اسرائیلی فیصلے، جن میں فلسطینی اراضی کی ’’تسویہ‘‘ یعنی اسرائیلی قانون کے تحت رجسٹریشن کو ترجیح دی گئی ہے، بنیادی طور پر ایریا سی پر مرکوز ہیں،جو مغربی کنارے کے تقریباً دو تہائی حصے پر مشتمل ہے، اسی طرح مشرقی بیت المقدس بھی اس دائرے میں شامل ہے۔ یہ طریقۂ کار اب ایریا بی تک بھی پھیلنا شروع ہو گیا ہے، جو زیرِ قبضہ زمین کی خودمختاری پر براہِ راست تجاوز کے مترادف ہے۔
۱۹۶۷ء میں مغربی کنارے پر قبضے کے بعد اسرائیل نے ۱۹۶۸ء میں زمینوں کی رجسٹریشن منجمد کر دی تھی۔ مشرقی بیت المقدس میں بھی شہر پر قبضے کے بعد زیادہ تر اراضی غیر رجسٹرڈ رہی، جس کی بڑی وجہ اس کے بعد پیدا ہونے والے پیچیدہ سیاسی حالات تھے۔ آج اسرائیلی حکام زمین کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے سخت اور اکثر ناقابلِ عمل شرائط عائد کرتے ہیں۔ جب مالکان ان شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو زمین ریاستی ملکیت میں منتقل کر دی جاتی ہے۔ حال ہی میں Knesset میں پیش کیے گئے ایک بل کے تحت اسرائیلی یہودیوں کو ایسی زمین حاصل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ اقدامات فلسطینیوں کو ان کی زمین سے منظم طور پر محروم کرنے، ملکیت کو قابض حکام کے حوالے کرنے، اور زمینی حقائق پر ناقابلِ واپسی کنٹرول کو مستحکم کرنے کی سمت واضح اشارہ دیتے ہیں۔
……مغربی کنارے میں اس پیش رفت کی روشنی میں، خودمختاری کے کسی باضابطہ اعلان یا الحاق کی کارروائی محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہے۔ قابضین نے کسی سرکاری اعلان سے بہت پہلے ہی عملاً اپنا کنٹرول مستحکم کر لیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں حالیہ واقعات بھی اتنے ہی معنی خیز ہیں۔ غزہ کے لیے ایک انتظامی کمیٹی کی تقرری، درجنوں بین الاقوامی انسانی ہمدردی اور غیر سرکاری تنظیموں کو بند کرنے کا فیصلہ، اور رفح کراسنگ کو ایک تحقیر آمیز انداز میں دوبارہ کھولنا،م جو براہِ راست قابض قوت، اختیار اور انتظام کے تحت ہو، یہ سب اس کردار کو عیاں کرتے ہیں جو اسرائیل غزہ میں سنبھالنا چاہتا ہے۔ یہی کردار وہ مغربی کنارے میں بھی اپنانا چاہتا ہے اور جسے مسلط کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
چنانچہ یہ سوال ناگزیر ہے کہ کیا کوئی متحد اور مربوط فلسطینی، عرب اور بین الاقوامی مؤقف موجود ہے جو قابض کے ان منصوبوں کا مقابلہ کر سکے، جو اب پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آ چکے ہیں؟
یورپ نے یوکرین پر ڑوس کے حملے کے مقابلے میں یہ دکھایا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے دفاع میں ایک مضبوط اور متحد مؤقف اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح، گرین لینڈ کے معاملے میں بھی اس نے یہ ظاہر کیا کہ جب امریکہ کی خواہش اس کے اپنے مفادات اور خودمختاری کے تصور سے متصادم ہو تو وہ امریکہ کے مؤقف کو چیلنج کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
آج سوال یہ ہے کہ کیا یورپ اپنے مؤقف پر ازسرِنو غور کرنے، فلسطینیوں کے ساتھ انصاف کرنے، اور اسرائیل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، ایک ایسے قضیے میں جس کی قانونی و اخلاقی حیثیت کو دنیا کا کوئی بھی ملک معتبر طور پر رد نہیں کر سکتا، اور نہ ہی اُس تاریخی ناانصافی سے انکار کیا جا سکتا ہے جس کی قیمت ایک پوری قوم نے نسل در نسل ادا کی ہے۔‘‘
[Middle East Monitor]
الجزیرہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں ایسے مہلک ترین تھرموبیرک بموں کا استعمال کیا ہے کہ تقریباً تین ہزار فلسطینیوں کی لاشیں مکمل فضا میں تحلیل ہو گئیں۔ الجزیرہ کے مطابق یہ امریکی ساختہ MK-84, BLU-109, GBU-39 جیسے بم ہیں جن سے پیدا ہونے والی ۳۵۰۰ ڈگری سنٹی گریڈ کی تپش سے انسانی جسم کے سیال مادے بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں اور جسم راکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ غزہ سول ڈیفنس کے مطابق انہیں بمباری کی جگہوں پر تلاش کے باوجود انسانی باقیات نہیں ملیں بلکہ صرف خون کے آثار ملے ہیں۔ یہ اور اس جیسے کتنے ہی کیمیائی ہتھیاروں کا تجربہ ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں پر ان شیطانی ریاستوں نے کیا ہو گا اس کا تو ابھی تک کوئی ریکارڈ تک نہ آ سکا۔
صلیبی و صہیونی طاقتیں پورے خطے میں بہت تیزی سے اپنی چالیں چل رہی ہیں۔ چاہے غزہ ہو یا مغربی کنارہ ، لبنان، اردن ہو یا شام۔ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل کے لیے کوئی بھی ان کے راستے کی رکاوٹ نہیں۔ ایسے میں جب منافق اور خائن ہمارے حکمران ہوں تو ساری امیدیں ان مٹھی بھر مردانِ حق سے ہے جو صہیونیوں کے مد مقابل خون کے آخری قطرے تک ڈٹے ہوئے ہیں۔
ایپسٹین فائلز |
جیفری ایپسٹین اور اس کے نجی جزیرے ’’لیٹل سینٹ جیمز‘‘ کے حوالے سے جو ہوشربا اور انسانیت سے گرے ہوئے تعفن زدہ شیطانی انکشافات سامنے آئے ہیں اس متعلق صرف چند رپورٹیں پڑھ کر ہی مغرب کے ’’مہذب‘‘ کہلانے والے معاشرے کا گندہ وجود آشکار ہو گیا ہے، یہ ایسے انکشافات ہیں جنہیں پڑھ کر ہی متلی ہونے لگتی ہے۔
یہ لاکھوں کی تعداد میں فائلز ان ای میلز، دستاویزات، ویڈیوز اور تصاویر کا ایک ایسا پلندہ ہیں جس سے مغرب کے شیطانی نظام، ان کے قبیح معاشرے اور دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کے گھناؤنے کردار سامنے آئے ہیں۔ جیفری ایپسٹین خود تو ایک درندہ صفت شیطان تھا ہی، لیکن وہ اس شیطانی جال میں صرف ایک کردار تھا، ایک بہت بڑے اور شیطانی نظام کا ایک کارکن۔
جہاں پوری دنیا میں اس شخص سے لوگ اظہار نفرت کر رہے ہیں، وہیں دنیا کے بڑے اور طاقتور لوگ اپنا نام سامنے آنے پر اپنے خلاف ہر بات سے انکاری ہیں۔ ٹرمپ ہو یا ایلون مسک، بل گیٹس ہو یا پرنس اینڈریو۔ اور بھی ان گنت نام ہیں جو ایپسٹین کے گاہک رہے ہیں اور اس کی فراہم کردہ ’’سروسز‘‘ ماضی میں لیتے رہے ہیں۔
دیسی لبرلز جو اسلام اور اسلامی شعائر کے متعلق زبان درازی کرتے نہیں تھکے، اب یا تو منہ چھپائے کہیں بیٹھے ہیں یا کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک دیسی لبرل مبشر زیدی ہے جس کا کہنا ہے کہ جرم تو صرف جیفری ایپسٹین کا تھا جس کی سزا اسے مل گئی، بڑے طاقتور لوگ تو اس کی محفلوں میں ’’نیٹ ورکنگ‘‘ اور ’’ریلیشن شپ بلڈنگ‘‘ کے لیے جاتے تھے۔ اقتباس ملاحظہ کریں:
ایپسٹین فائلز اور سچ جھوٹ| مبشر علی زیدی
’’یہ ضرور ہے کہ ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر برطانوی بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈریو سے شاہی خاندان کے خطاب اور مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔ بعض ای میلز اور تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کچھ غلط فیصلے کیے۔ ان کے علاوہ ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر لیری سمرز، سلواکیہ کے قومی سلامتی کے مشیر مائرواسلاو لائچاک اور برطانوی سفیر لارڈ پیٹر مینڈیل سن مستعفی ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ فیصلہ سیاسی اور سماجی دباؤ پر کیا، کسی قانونی کارروائی کی وجہ سے نہیں۔
ان فائلز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، صدر کلنٹن، ان کی اہلیہ ہلیری، صدر جارج بش سینئر، ایلون مسک، بل گیٹس اور درجنوں اہم شخصیات کے نام ہیں۔ لیکن کسی ای میل میں نام آنے یا کسی گروپ فوٹو کا حصہ ہونے پر کسی کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا۔ صدر ٹرمپ کے خلاف ان کے سیاسی مخالفین بہت شور مچا رہے ہیں لیکن ایسے کوئی شواہد نہیں نکلے جن کی بنا پر ان کے خلاف عدالت جا سکیں۔ صدر ٹرمپ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی ایپسٹین سے دوستی رہی۔ لیکن بقول ان کے وہ دوستی بہت سال پہلے ختم ہو گئی تھی اور انہیں علم نہیں تھا کہ ایپسٹین جنسی جرائم میں ملوث تھے۔ جیفری ایپسٹین کے تعلقات امراء اور سیاست دانوں سے تھے اور ایلیٹ کلاس کے لوگ جنسی جرائم کے لیے نہیں، نیٹ ورکنگ اور ریلیشن شپ بلڈنگ کے لیے اس کی محفلوں میں جاتے تھے۔ ایپسٹین نے ورجن آئی لینڈز میں دو جزیرے خریدے ہوئے تھے جن میں محفلیں ہوتی تھیں۔ ایلون مسک کی ای میلز سے پتا چلتا ہے کہ وہ ان جزائر پر آ کر بڑے لوگوں سے میل ملاقات چاہتے تھے۔ لیکن شاید وہ کبھی وہاں نہیں جا سکے۔‘‘
[روزنامہ جنگ]
کچھ لکھاریوں نے دنیا کا نظام چلانے والے طاقتور لوگوں کے کردار اور ان کی شیطانی چالوں پر تنقید کی ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو روزنامہ جسارت کے ایک کالم سے اقتباس:
مغرب کی گندی تہذیب کے بدبو دار کردار | عارف واجد
’’کیا واقعی یہ وہی مغرب ہے جسے ہم ترقی، تہذیب اور انسانی حقوق کا علم بردار سمجھتے ہیں؟ کیا یہ وہی مہذب دنیا ہے جو ہمیں صبح و شام عورتوں کے حقوق، بچوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا بھاشن دیتی ہے؟ گزشتہ چند دنوں سے جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) کی خفیہ فائلوں نے جو طوفان برپا کیا ہے، اس نے مغرب کے اس چمکتے ہوئے بت کے اندر چھپے تعفن کو پوری دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔ یہ صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں ہیں، یہ اس جدید اور نام نہاد لبرل نظام کا وہ بھیانک نوحہ ہے جس پر انسانیت شرما گئی ہے۔
قصہ کیا ہے؟ یہ ایپسٹین فائلز دراصل عدالتی دستاویزات کا وہ پلندہ ہیں جو امریکی فنانسر اور جنسی درندے جیفری ایپسٹین اور اس کی ساتھی غزلین میکسویل کے گرد گھومتی ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جنہوں نے ایک جزیرے لٹل سینٹ جیمز کو اپنی عیاشی کا اڈہ بنایا ہوا تھا۔ لیکن ٹھہر یے! یہ کہانی صرف ایک امیر شخص کی عیاشی کی نہیں ہے۔ ان فائلوں میں جن لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں، وہ کوئی عام لوگ نہیں ہیں۔ یہ دنیا کے حکمران ہیں، یہ سابق امریکی صدور ہیں، یہ برطانیہ کے شہزادے ہیں، یہ ہالی وڈ کے سپر اسٹارز ہیں اور وہ سائنسدان ہیں جنہیں دنیا عقل کا دیوتا مانتی ہے۔ بل کلنٹن ہو یا ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر، شہزادہ اینڈریو ہو یا اسٹیفن ہاکنگ کا حوالہ، ان دستاویزات نے ثابت کیا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے یہ لوگ رات کے اندھیروں میں کس قدر گھناؤنے کھیل کھیلتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز دراصل طاقت، دولت اور جنسی جرائم کے اس گٹھ جوڑ کی دستاویزی جھلک ہیں جسے برسوں سے پردوں میں رکھا گیا۔ جیفری ایپسٹین کوئی معمولی مجرم نہ تھا۔ وہ ایک نظام تھا۔ ایسا نظام جس میں طاقت ور نام، خفیہ میل جول، نجی پروازیں، بند دروازے، اور خاموشی کے سودے شامل تھے۔ آج جب عدالتوں اور تفتیشی عمل کے ذریعے کچھ فائلیں، رابطہ فہرستیں اور دستاویزات سامنے آئیں تو سوال صرف یہ نہیں کہ کن کے نام آئے، اصل سوال یہ ہے کہ برسوں تک یہ سب کیسے چلتا رہا۔
……کیا اب بھی ہمارے دیسی لبرلز مغرب کی اس روشن خیالی پر فخر کریں گے؟ کیا اب بھی ہم ان کی تہذیب کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھیں گے؟ ایپسٹین کی کہانی نے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں خدا کا خوف اور آخرت کی جوابدہی کا احساس نہ ہو، وہاں انسان کتنا ہی پڑھ لکھ جائے، کتنا ہی امیر ہو جائے، وہ اندر سے ایک درندہ ہی رہتا ہے۔ پاکستانی قوم کے لیے اس میں ایک بڑا سبق ہے۔ ہمیں احساس کمتری سے نکلنا ہو گا۔ ہمارا خاندانی نظام، ہماری شرم و حیا اور ہماری دینی اقدار وہ ڈھال ہیں جو ہمیں اس گندگی سے بچائے ہوئے ہیں۔ مغرب کی چمک دمک کے پیچھے چھپی اس غلاظت کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگائیے اور شکر ادا کیجیے کہ ہم اس تہذیب کا حصہ نہیں جہاں معصومیت کا سودا اقتدار کے ایوانوں میں ہوتا ہے۔ یہ لیڈر دنیا کو کیا امن دیں گے جو اپنی ہوس کے ہاتھوں خود امن کھو بیٹھے ہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب قوموں کے خواص اس درجہ اخلاقی پستی کا شکار ہو جائیں، تو پھر قدرت کا کوڑا برستے دیر نہیں لگتی۔ یہ تماشائے عبرت ہے، اگر کوئی سمجھنے والا ہو۔‘‘
[روزنامہ جسارت]
یوں تو ان فائلز میں کئی ایسے معاملات، لوگ ، سازشیں اور شیطانی رسومات سامنے آئی ہیں جن پر الگ الگ بحث کی جا سکتی ہے۔ لیکن ایک اہم موضوع ایپسٹین کے پس پردہ اسرائیل کا کردار ہے۔ حالانکہ اسرائیل کے کردار کو پوشیدہ رکھا گیا، اور اس پر بہت زیادہ معلومات نہیں پبلک کی گئیں لیکن اپسٹین کے تانے بانے صہیونیوں سے ملتے ضررور ہیں۔ روزنامہ ڈان میں زاہد حسین لکھتے ہیں:
Epstein’s Creepy World | Zahid Hussain
’’حالیہ جاری کی گئی فائلوں سے ایپسٹین کے اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ روابط بھی زیادہ واضح ہو گئے ہیں۔ ان دستاویزات نے سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود بارک کے ساتھ ایپسٹین کی ملاقاتوں اور روابط کی تفصیلات آشکار کی ہیں، نیز اسرائیلی گروہوں کو اس کی مالی معاونت، جن میں Friends of the Israeli Defense Forces بھی شامل ہے، اور اسرائیل کی بیرونِ ملک انٹیلی جنس سروس کے ارکان سے اس کے تعلقات بھی سامنے آئے ہیں۔
ایپسٹین کا پورا معاملہ مغرب میں اُن حلقوں کی منافقت کو بے نقاب کرتا ہے جو اخلاقی برتری کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ایک بد کردار جنسی مجرم سے روابط بھی برقرار رکھتے ہیں۔ وہ اگرچہ مر چکا ہے، لیکن اس کے تعلقات کے وسیع جال کو ظاہر کرنے والی دستاویزات کے اثرات اب بھی امریکہ اور دیگر ممالک کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔‘‘
[Daily Dawn]
اسی طرح مڈل ایسٹ مانیٹر پر ایک آرٹیکل نشر ہوا جس میں امریکی اور اسرائیلی سربراہوں اور موساد کے کردار کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس تحریر سے لیے گئے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
Epstein’s Creepy World | Zahid Hussain
’’بحرِ اوقیانوس کے اُس پار، امریکی سینیٹروں نے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ 2019ء میں چکر شومر (Chuck Schumer)، جو اُس وقت امریکی سینیٹ میں اقلیتی قائد تھے، نے کہا: ’’ایپسٹین کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ دولت اور روابط کس طرح انصاف کو مسخ کر سکتے ہیں۔ ہمیں اس میں ملوث ہر فرد کی مکمل تفصیلات درکار ہیں۔‘‘ اس کے الفاظ اس امر کی (امریکہ کی) دونوں جماعتوں کی سطح پر موجود پہچان کی عکاسی کرتے تھے کہ ایپسٹین کا اثر و رسوخ ایک معاشرتی ناسور بن چکا تھا۔ بل گیٹس، ڈانلڈ ٹرمپ، اور بل کلنٹن سب ہی ایپسٹین سے اپنے روابط کے حوالے سے جانچ کی زد میں آئے، اگرچہ ہر ایک نے کسی بھی بد کاری کی تردید کی ہے۔ تاہم یہ حقیقت کہ ایسے بااثر نام ان فائلوں میں موجود ہیں، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ایپسٹین نے خود کو محض ایک شکاری کے طور پر نہیں بلکہ اثر و رسوخ کے سوداگر کے طور پر پیش کیا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف کے تفتیش کاروں کے پاس موجود لاکھوں دستاویزات کی بنیاد پر وہ اس اسکینڈل کے حجم سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ معاملہ صرف زیادتی کا نہیں بلکہ ’’اثر و رسوخ‘‘ کا بھی تھا۔ ایپسٹین راز جمع کرتا تھا، اور راز ایک کرنسی ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ کرنسی محض ذاتی مفاد تک محدود نہیں رہی بلکہ ایسے طریقوں سے استعمال ہوئی جو جغرافیائی سیاسی جوڑ توڑ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اسرائیلی پہلو
ایپسٹین کے اسرائیلی انٹیلی جنس سے ممکنہ تعلقات کے بارے میں قیاس آرائیاں شدت اختیار کر چکی ہیں۔ اگرچہ قطعی ثبوت تا حال سامنے نہیں آئے، مگر قرائن قابلِ توجہ ہیں۔ ایپسٹین کی قریبی ساتھی گسلین میکس ویل، میڈیا ٹائیکون رابرٹ میکس ویل کی بیٹی تھی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ موساد کے لیے کام کرتی تھی۔ انٹیلی جنس ماہرین کے مطابق ایپسٹین کی سرگرمیوں میں ایک کلاسیکی ’’کومپروماٹ‘‘ (kompromat) اسکیم کی جھلک ملتی ہے: بااثر افراد کو قابل اعتراض حالت میں پھنسانا، شواہد محفوظ کرنا، اور پھر انہیں دباؤ یا سودے بازی کے لیے استعمال کرنا۔
اگر واقعی ایپسٹین کسی اسرائیلی اثاثے (asset) کے طور پر کام کر رہا تھا، تو اس کے مضمرات نہایت گہرے ہیں۔ شاہی خاندانوں کے افراد، سفیروں اور عرب تاجروں کو کمزور پوزیشن میں لا کر اسرائیل کو سفارتی مذاکرات، تجارتی معاہدوں اور سکیورٹی انتظامات میں غیر معمولی برتری حاصل ہو سکتی تھی۔ ایک ایسے خطے میں جہاں اتحاد تیزی سے بدلتے رہتے ہیں، اس نوعیت کی برتری طاقت کے توازن کو بظاہر غیر محسوس مگر فیصلہ کن انداز میں جھکا سکتی ہے۔
نتائج اور احتساب
ایپسٹین اسکینڈل کے اثرات دیرپا ہیں۔ لوگوں کی ساکھ تباہ ہوئی، اداروں کی قلعی کھلی، اور اتحادوں پر سوال اٹھے۔ مگر احتساب اب بھی دھندلا ہے۔ شہزادہ انڈریو منظرِ عام سے پیچھے ہٹ چکا ہے، مگر اس پر کوئی فوجداری فردِ جرم عائد نہیں ہوا۔ امریکی اشرافیہ بدستور کسی بد کاری سے انکار کرتی ہے۔ کئی بین الاقوامی رہنما اب تک غیر نامزد ہیں۔ اور اگر واقعی اسرائیل کو ایپسٹین کی سرگرمیوں سے فائدہ پہنچا، تو اسے بھی کسی باضابطہ چھان بین کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
چک شومر کا ’’تمام ملوث افراد کی مکمل تفصیلات‘‘ کا مطالبہ تا حال جواب کا منتظر ہے۔ کئیر سٹارمر (Keir Starmer) کی ’’احتساب اور شفافیت‘‘ کی اپیل بھی خاموشی میں گم ہو چکی ہے۔ محکمۂ انصاف کی جانب سے اس اعتراف کے باوجود کہ ایپسٹین راز جمع کرتا تھا، ان افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی جنہوں نے اسے ممکن بنایا۔ دنیا کے حصے میں سچ کے کچھ ٹکڑے ضرور آئے ہیں، مگر انصاف نہیں۔
نتیجہ: باقی رہ جانے والے سائے
ایپسٹین فائلیں محض ایک اسکینڈل نہیں بلکہ اس بات کی کیس سٹڈی ہیں کہ طاقت، رازداری اور استحصال کس طرح باہم جڑتے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کو بے نقاب کرتی ہیں جس میں اشرافیہ کو کمزور بنایا گیا، انصاف کو مسخ کیا گیا، اور جغرافیائی سیاست کو بلیک میلنگ کے ذریعے متاثر کیا گیا۔ آیا ایپسٹین واقعی اسرائیلی اثاثہ تھا یا نہیں، شاید کبھی قطعی طور پر ثابت نہ ہو سکے۔ مگر قرائن، سٹریٹیجک منطق، اور ممکنہ جغرافیائی سیاسی نتائج سب اسی سمت اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
[Middle East Monitor]
یہاں ایک اہم اور دل دہلا دینے والا انکشاف جو ان فائلز سے ہوا وہ خانہ کعبہ کے مقدس ترین غلاف ’’کسوہ‘‘ کے تین ٹکڑوں کا شیطانی درندے ایپسٹین کو بھجوایا جانا ہے۔ جو ایک سعودی عورت نے اسے بھجوائے۔ اس مقدس غلاف کی اس قدر بے حرمتی ایک ’’مسلمان‘‘ کہلائی جانے والی عورت کیسے کر سکتی ہے؟ اس بات کا کوئی جواب نہیں سمجھ آتا، یہ شیطان کے چیلے ہیں جو مسلمان بنے ہمارے درمیان گھوم رہے ہیں، جنہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ ان فائلز سے یہ بات بھی عیاں ہو گئی کہ اس کے جزیرے پر ناپاک شیطانی رسوم ادا کی جاتی تھیں اور ان رسوم کے لیے شیطان کے گھٹیا سے گھٹیا اور گھناؤنے مطالبات پورے کیے جاتے تھے۔ اور اسی سے اپنی طاقت اور اثر و رسوخ میں اضافہ کیا جاتا تھا۔
لیکن یہ دجالی طاقتوں پر مشتمل، جھوٹ اور فریب پر مبنی اور پستیو ں میں گری ہو کھوکھلی مغربی تہذیب جتنی مرضی سازشیں کر لے، امت کے مردان حر، بلند اخلاق و کردار کے مالک، حق پر ڈٹے ہوئے، دلوں میں خوف خدا لیے اللہ کے دین کے مجاہدوں پر ان کا زور نہیں چل سکتا، جو اس دجالی تہذیب کے آگے بند باندھے صف آرا ہیں۔ امت میں اب بھی ایسی ماؤں کی کمی نہیں جو اپنی اولاد کو اسلام کے دیے گئے پاک، شفاف اور خوبصورت معاشرے میں ڈھال رہی ہیں۔
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، نا پائیدار ہو گا
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



