جس عرصے میں امریکہ جنگ بندی کے ڈرامے کے ذریعے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو طول دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، اسی عرصے میں مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں ایک اور جنگ بھی جاری ہے۔
گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل نے مغربی کنارے میں اپنی ’’انسدادِ بغاوت کارروائیوں‘‘ (Counter Insurgency Operations)میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جن کا مقصد بقول اس کے، ’’فلسطینی دہشت گردی‘‘ کو ناکام بنانا ہے۔ ’’انسدادِ بغاوت کارروائیاں‘‘ جیسی اصطلاحات کا استعمال اتفاقی نہیں۔ اسرائیل فوجی اصطلاحات کو اپنے ارادوں پرپردہ ڈالنے اور ایک من گھڑت حقیقت قائم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ آپریشن آئرن وال (Operation Iron Wall) سے لے کر آپریشن سمر کیمپس (Operation Summer Camps) اور آپریشن فائیو اسٹونز (Operation Five Stones) تک، اور حال ہی میں الخلیل (ہیبرون) میں ہونے والی ’’انسدادِ دہشت گردی‘‘ کارروائی تک، ان سب کو عارضی، محدود اور ردِعمل پر مبنی اقدامات کے طور پر پیش اور رپورٹ کیا جاتا ہے۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فوجی جارحیت میں اضافہ، جس کے ساتھ آبادکار ملیشیاؤں کا تشدد، انفراسٹرکچر کی تباہی، گھروں کی مسماری، اور سڑکوں پر بڑھتی ہوئی رکاوٹیں اور چیک پوسٹوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، کا مقصد زمین پر ایسے حقائق پیدا کرنا ہے جو فلسطینیوں کے لیے زندگی کو ناممکن بنا دیں، بالکل غزہ کی طرح۔
مغربی کنارے کے جنگی علاقے
۲۰۲۵ء میں مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی یلغار کے نتیجے میں فلسطینیوں کو ۱۹۶۷ء کے بعد سب سے بڑی جبری بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں تقریباً پچاس ہزار فلسطینیوں کو تشدد کے ذریعے اپنے گھروں سے نکال دیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے جنین اور طولکرم کے مہاجر کیمپوں کو تباہ کر دیا اور ان کے رہائشیوں کو واپس آنے کا حق دینے سے انکار کر دیا۔ اب ان دونوں کیمپوں کو شمال میں اپنے فوجی ہیڈکوارٹرز میں عملاً تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے سڑکوں، نکاسیٔ آب کے نظام اور پاور گرڈ سمیت انفراسٹرکچر کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کیا۔ جنین شہر کی کم از کم ستّر فیصد سڑکیں بلڈوز کر دی گئیں، اور چند ہی ہفتوں میں جنین اور طولکرم میں پانی کی بیشتر پائپ لائنیں اور سیوریج نیٹ ورک تباہ ہو گئے، جس سے لاکھوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔
پورے ضلع میں ہزاروں گھرانوں کا پانی اور بجلی دونوں منقطع کر دیے گئے۔ آج بھی بے دخل خاندان ایسے علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں پہنچنا مشکل ہے اور شہری بنیادی سہولیات تقریباً ناپید ہیں۔
اسی کے ساتھ اسرائیلی فوج نے اپنے تشدد کے دائرۂ کار کو وسیع کر دیا ہے۔ اب اسرائیلی فوج مغربی کنارے کے وسطی شہروں، مثلاً رام اللہ اور اریحا (جریکو)، اور جنوب میں الخلیل (ہیبرون) اور بیت لحم میں بھی باقاعدہ چھاپے مارتی ہے۔ ان حملوں میں فلسطینیوں کو محاصرے میں لیا جاتا ہے، خوف زدہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اسرائیلی فوج مکمل استثنا کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہیں بے دریغ قتل بھی کر دیتی ہے ۔
اسی ہفتے اسرائیلی فوج نے قانون و نظم قائم کرنے کے بہانے الخلیل (ہیبرون) میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔ پورا شہر لاک ڈاؤن کے تحت ہے، اسرائیلی ٹینک سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں، جبکہ مردوں اور لڑکوں کو حراست میں لے کر موقع پر تفتیش کی جا رہی ہے اور ان سے نہایت ظالمانہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
لیکن اسرائیلی تشدد صرف فوجی چھاپوں اور آپریشنز تک محدود نہیں۔ جہاں فوج جاتی ہے، وہاں آبادکار اس کے پیچھے پیچھے آتے ہیں۔ استعماری آبادکارانہ سوچ کے تحت فوج راستہ ہموار کرتی ہے تاکہ اسرائیلی آبادکار ملیشیائیں فلسطینی عوام اور ان کی املاک پر حملے کر سکیں اور زمین کے الحاق کو آگے بڑھایا جا سکے۔ گزشتہ دو برسوں میں مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر رہنے والے اسرائیلیوں کو امریکی ساختہ ایم–۱۶ رائفلوں سے لے کر پستولوں اور ڈرونز تک فوجی درجے کے ہتھیار فراہم کیے گئے ہیں، اور وہ انہیں کھلے عام استعمال کر رہے ہیں۔
اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیل کی ’’انسدادِ بغاوت کارروائیاں‘‘ میدانِ جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ آباد کاروں کے ساتھ مل کر مغربی کنارے کے جغرافیائی اور معاشرتی ماحول کو ازسرِ نو تشکیل دینے کی ایک مربوط کوشش ہے، تاکہ کسی بھی قسم کے اختلافِ رائے یا مزاحمت کی گنجائش باقی نہ رہے۔
جب ایک قابض طاقت شہری آبادی پر انسدادِ بغاوت کی منطق لاگو کرتی ہے تو گھر، گلیاں اور روزمرہ معمولات سب کنٹرول کے آلات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
خوف کا انفراسٹرکچر
گزشتہ جنوری میں اسرائیلی آباد کاروں نے مغربی کنارے کی مرکزی سڑکوں پر بڑے بڑے بل بورڈز نصب کیے۔ موٹے اور نمایاں حروف میں لکھا تھا: ’’فلسطین میں کوئی مستقبل نہیں‘‘۔ فلسطینیوں نے اسے سمجھ لیا کہ یہ جنگ کا اعلان ہے۔ اور اب ہم اسی جنگ کے عین درمیان ہیں۔
ہر ہفتے اوسطاً ۹ فلسطینی شہید کیے جاتے ہیں، ۸۸ زخمی ہوتے ہیں، ۱۸۰ گرفتار کیے جاتے ہیں، اور درجن بھر افراد کو موقع پر تفتیش کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اوسطاً ا۰۰ اسرائیلی آبادکار حملے، ۳۰۰ فوجی چھاپے اور حملے، اور ۱۰ فلسطینی گھروں اور املاک کو مسمار کیا جاتا ہے۔ یہ سب محض ایک ہفتے کی کارگزاری ہے۔
یہ اعداد و شمار صرف تشدد کی شدت ہی نہیں بلکہ اس کی تکرار کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اس شدت کا مقصد فلسطینیوں کی زندگی سے معمول کے ہر احساس کو ختم کرنا ہے۔
ایک سال کے دوران ہزاروں چھاپے، بستیوں کی توسیع، نئی بائی پاس سڑکیں، سیکڑوں نئی فوجی چیک پوسٹیں، اور منظم نگرانی، یہ سب وقتی واقعات نہیں، بلکہ انہوں نے تشدد کو استثنا کے بجائے معمول بنا دیا ہے، اور خلل کو حکمرانی کا معمول بنا دیا ہے۔
استعماری نوآبادیاتی تشدد فلسطینیوں کی زندگیوں کا تعین کرتا ہے۔ یہ طے کرتا ہے کہ لوگ کب سوتے ہیں، بچے کہاں کھیلتے ہیں، وہ کب اسکول جا سکتے ہیں، کاروبار کھلیں گے یا نہیں، اور مستقبل کا تصور کیسے کیا جائے۔ یہ مسلسل ازسرِ نو منصوبہ بندی کی ضرورت مسلط کرتا ہے جو انسان کو نچوڑ ڈالنے اور تھکا دینے والا عمل ہے۔
پورے مغربی کنارے میں فلسطینی روزمرہ زندگی، پرتشدد رکاوٹوں کے گرد منظم ہو چکی ہے۔ اسرائیل صرف عملی الحاق کے ذریعے نقشہ ازسرِ نو نہیں بنا رہا، بلکہ خوف کو ایک انفراسٹرکچر کے طور پر استعمال کر کے یہ بھی طے کر رہا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے کہاں رہنا محفوظ ہے۔
اس کا اثر زندگی کے ہر پہلو پر پڑتا ہے۔ ایک فلسطینی صحافی کی حیثیت سے، جب بھی میں سڑک پر نکلتی ہوں تو ایک مانوس مگر مفلوج کر دینے والی بے چینی میرا استقبال کرتی ہے کہ کیا ہو سکتا ہے۔ میں شاذ ہی ایک ہی راستہ دوبارہ اختیار کرتی ہوں۔ ایک دن کوئی گاؤں بند ہوتا ہے، اگلے دن پورا شہر۔ ایک گھنٹے کا سفر تین، کبھی چار گھنٹوں میں بدل جاتا ہے۔ میں بار بار پہاڑوں کے راستوں سے مڑتی ہوں، کیونکہ ہر فلسطینی گاؤں اور قصبے کے ہر داخلے اور اخراج پر اسرائیلی دروازے اور چیک پوسٹیں نمودار ہو جاتی ہیں۔
مغربی کنارے میں ہماری زندگی چکروں اور متبادل راستوں میں ناپی جاتی ہے۔ یہ صرف اسرائیل کی منظم اور تیز رفتار، زمین اور زندگی برقرار رکھنے والے وسائل کی چوری کو نمایاں نہیں کرتے، بلکہ وقت چھین لیتے ہیں اور سماجی و معاشی صلاحیت کو ختم کر دیتے ہیں۔ اسرائیل نے نہ صرف مغربی کنارے کے علاقائی تسلسل کو توڑا ہے، بلکہ سماجی زندگی، نفسیاتی استحکام اور سیاسی امکانات کو بھی تباہ کر دیا ہے۔
یوں، جہاں کچھ فلسطینیوں کو بندوق کی نوک پر نکالا جا رہا ہے، وہیں باقیوں کو خوف کے اس انفراسٹرکچر کے ذریعے آہستہ آہستہ باہر دھکیلا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے کامیابی سے ایسا معاندانہ ماحول پیدا کر لیا ہے جہاں چند ہی منٹوں میں گھر بھی میدانِ جنگ بن سکتے ہیں۔ اسی دوران مسلح اسرائیلی ملیشیاؤں کا تشدد اور آؤٹ پوسٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد نابلس، رام اللہ، بیت لحم اور الخلیل (ہیبرون) جیسے شہری علاقوں کا گلا گھونٹ رہی ہے۔
اسرائیلی فوج نے کرنسی ایکسچینج کی دکانوں میں منظم لوٹ مار اور گھروں سے سونا چاندی جیسی قیمتی اشیا چرانا بھی شروع کر دیا ہے۔ یہ روزمرہ دہشت جتنا ہی اہم ہے، کیونکہ اسرائیل صرف طبیعی انفراسٹرکچر کو تباہ نہیں کر رہا بلکہ بحالی اور تعمیر نو کو بھی ناممکن بنا رہا ہے۔
ایک قوم کی تقسیم
منقطع زمین، منقطع قوم کو جنم دیتی ہے۔ مغربی کنارے کے فلسطینی شہر سکڑ رہے ہیں اور ایک پھیلتی ہوئی اسرائیلی نوآبادیاتی ریاست میں نگلے جا رہے ہیں۔
گزشتہ سال اسرائیل نے غیرقانونی E1 بستی کے منصوبے کو باضابطہ شکل دی، اور اس سال بیت المقدس کے نزدیک، وادیٔ اردن میں اور پورے رام اللہ کے اطراف بستیوں کی توسیع کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کا امکان ہے۔ یہ پیش رفت عملی طور پر مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کو مغربی کنارے سے اور شمال کو جنوب سے کاٹ دے گی۔ اسرائیلی آبادکار اب فلسطینی سڑکوں اور گھروں پر فتح کی علامت کے طور پر اسرائیلی پرچم لگا رہے ہیں۔
مغربی کنارہ یہ سمجھنے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ جنگ ہمیشہ بموں کے ساتھ نہیں آتی، بعض اوقات یہ چیک پوسٹوں، اجازت ناموں، زوننگ پابندیوں، ریاستی سرپرستی میں تشدد، اور زندگی برقرار رکھنے والے وسائل کو فلسطینیوں سے موڑ کر آباد کار بستیوں کی طرف منتقل کرنے کی صورت میں آتی ہے۔ یہ صرف نوآبادیات کی تیاری میں زمین کی تقسیم نہیں، بلکہ مقامی آبادی کی اجتماعی طور پر وجود برقرار رکھنے کی صلاحیت کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کرنا ہے۔
مغربی کنارہ وہ جگہ ہے جہاں جنگ سرخیوں کی حد سے نیچے، بغیر کسی واضح محاذ کے، اپنی گرفت مضبوط کرتی ہے۔
[یہ مضمون ایک معاصر روزنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



