یہی حاصل ہماری جا بجا رسوائیوں کا ہے
یہاں صلّے علی، صلّے علی سے کام ہوتا ہے
”اس لیے کہ ہماری تلوار ہمارے ہاتھ میں ہے!“ |
ایک ساتھی نے بتایا کہ امارتِ اسلامیہ کے کسی ذمہ دار سے ایک سعودی سفارت کار کی ملاقات ہوئی۔ سعودی سفارت کار نے کہا:
”آپ (امارتِ اسلامیہ) کے جھنڈے میں سعودی عرب کے جھنڈے کی طرح تلوار کیوں نہیں ہے؟“
امارتِ اسلامی کے ذمہ دار:
”اس لیے کہ ہماری تلوار ہمارے ہاتھ میں ہے!“
محبوب سے باتیں…… |
اللہ پاک کا سورۃ طہ میں ارشاد ہے:
﴿ وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَى ﴾
”اور یہ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ؟“
علماء کہتے ہیں کہ اللہ پاک موسیٰ علیہ السلام سے یہ بھی پوچھ سکتے تھے کہ ”ما ھذا“ یہ کیا ہے؟ یا کوئی اور مختصر جملے پر مبنی سوال۔
لیکن جب محبت ہو تو محبوب سے لمبی بات کی جاتی ہے۔ اللہ پاک نے لمبا سوال فرمایا۔ اور دوسری طرف محبوب کو دیکھیے انہوں نے بھی بس یہ نہ کہا کہ یہ لاٹھی ہے۔ بلکہ فرمایا:
﴿هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَآرِبُ أُخْرَىٰ ﴾
”یہ میرا عصا ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو میں اس سے لیتا ہوں۔“
عشاق جانتے ہیں کہ محبوب سے باتیں کرنا اور اس کی باتیں سننا کس قدر پسندیدہ عمل ہوتا ہے۔
کیا ہمیں اپنے محبوب مالک سے ایسی محبت ہے؟ کیا ہم اس کی باتیں یعنی قرآن زیادہ زیادہ اور اس سے باتیں یعنی نمازیں لمبی لمبی پڑھتے ہیں؟
شاعر و ادیب |
ایک شاعر و ادیب مجاہد سے آج صبح ملاقات ہوئی تو کہنے لگا:
ہم نے سوچا تھا کہ شاعر بنیں گے، یا ادیب……
کسی دن اردو بازار لاہور کی گلیوں میں بھٹکیں گے……
کچھ صبحیں، کوئی شامیں اردو بازار کی کسی ظاہر میں تنگ عرض لیکن باطن میں کشادہ دامن دکان میں گزاریں گے…… شاید مکتبہ سید احمد شہید میں……
کوئی ادبی فن پارہ نہ سہی، کوئی شعری ہائیکو ہی سہی، قلم سے برآمد ہو گا……
مگر ہمارا شوق پیچھے رہ گیا، اور ہمیں بھی کچھ اچھے لوگوں کے ساتھ، ہم پر عائد فریضہ…… کشاں کشاں صحراؤں، دشتوں، پہاڑوں اور وادیوں کی جانب لے آیا۔
وما توفیقی الا باللہ!
ملا بریڈلی |
وقت کے ”ملا بریڈلی“ کو مغربی اداروں کا بار بار ”ملا عمر“ باور کروانا اور ملا بریڈلی کا بھی امریکی اتحاد میں با ضابطہ شمولیت کے بعد کچھ کچھ ”جہادی“ ایکشن دکھانا اور کچھ ہو نہ ہو مسلمانِ سادہ کو اس دھوکے میں مبتلا رکھنے کی خاطر ہے کہ یہ سب اسلامی انقلاب ہے، ورنہ اسلامی انقلاب نہ خمینی رافضی–مجوسیت کے ساتھ لایا (کفرِ بغضِ شیخین کے ساتھ لایا جا سکتا ہی نہیں ہے) نہ ملا بریڈلی اینٹی–رافضیت ”بیانیے“ کے ساتھ آج لایا ہے!
ابراہیم تا نبینا محمد علیہم الصلاۃ والسلام نے ہر کفرِ ظاہر و باطن اور ہر شرکِ اصغر و اکبر سے قولی و فعلی براءت کی۔
اللہ کی شریعت ظاہر پر پرکھ کر فیصلہ کرتی ہے، قلبومیٹر کسی کے پاس نہیں کہ کوئی امریکی اتحادی بن جائے، LGBTQ+ کے حامیوں کو اپنا وزیر و مشیر بنائے، شریعت کی جگہ جمہوریت نافذ کرے، اس سب کو pragmatism کہے اور ہم اس کے ہاتھوں خلافۃ علی منہاج النبوۃ کے قیام کی امیدیں رکھیں۔
بڑی بڑی بڑھکیں ضیاء الحق تا اردگان اس امت نے بہت سے سرابوں سے پہلے ہی بہت سن رکھی ہیں۔
آج کے دانش ور ہوتے تو ابراہیم علیہ السلام کو بھی سمجھاتے، ان دانش وروں کی سنی جاتی تو یحییٰ علیہ السلام تا حسین رضی اللہ عنہ، کسی کا سر کاٹ کر طشتریوں میں رکھ کر حکمرانوں کو پیش نہ کیا جاتا۔
یہ دنیا جائے امتحان ہے، یہاں مقصدِ اصلی اللہ کی عبادت ہے، پھر اس عبادت سے دینُ اللہ نافذ ہو جائے تو کیا کہنے، ورنہ pragmatic اپروچ کے ساتھ مسلمانوں کی حکومت (نہ کہ اسلامی حکومت) قائم کرنا مسلمانوں کی مکلفیت نہیں۔
منافق! |
آج کل کے حکمرانوں کو ایوانِ حکومت میں شریعت کے بجائے سیکولر ازم، جمہوریت و سرمایہ داری نافذ کرتے، امریکی تحالف (اتحاد) کا حصہ بنتے، طائفۂ منصورہ کے علماء و مجاہدین کو قتل کرتے اور پھر ساتھ ہی عالمِ اسلام کی تاریخی مسجدوں میں ختمِ قرآن کرتے اور محرابوں میں خوش الحانی سےنمازوں کی امامت کرتے دیکھ کر مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان ذہن میں گونجنے لگتا ہے:
«أكثرُ منافقي أمتي قُرّاؤها» (مسند أحمد)
”میری امت کے منافقوں کی اکثریت قراء (یعنی ان قرآن پڑھنے والوں جن کا عمل تعلیماتِ قرآنی سے خالی ہو گا) میں سے ہوگی۔“
ابو عبیدہ شہید سے ایک ملاقات |
علی الصباح #ابو_عبيدة سے ملاقات ہوئی۔
اس نے حال پوچھا۔
میں نے کہا: دل چاہتا ہے کہ آج تمہاری شہادت کے بعد میں منوں مٹی تلے ہوتا، تمہارے بعد جینا بھی بھلا کوئی جینا ہے؟!
ابو عبیدہ نے کہا:
میرا پیغام تو جہاد ہے: فتح یا شہادت۔ اگر جہاد سے تائب ہو گئے ہوتو سچ کہتے ہو، بنا جہاد کے اس مٹی کے جسم کو ڈھونے سے بہتر ہے کہ منوں مٹی تلے جا کر سو جاؤ۔ لیکن اگر میری راہ کے سالک ہو، مجاہد فی سبیل اللہ ہو تو بدر و احد والی اس راہ پر ڈٹے رہو اور اس بدر و احد کے بعد منوں مٹی تلے نہیں، عرش تلے معلق قندیلوں میں آ بسنا۔
میرے احباء یا تو جہادی وردی میں لڑتے ملیں گے یا مر کر بھی جو نہ مریں کے زمرے میں۔
تم پر تو اپنی کرنی کرنا لازم ہے، تم اپنا جہاد جاری رکھو، وإنه لجهاد نصرٌ أو استشهاد!
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تُو ہے! |
ہم سنتے ہیں کہ فلاں موقع پر، فلاں عمر کے حصے میں، فلاں وقت میں، ایسے حالات میں، وغیرہ یہ اور یہ ممکن نہیں۔
اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو تب اولاد دی جب وہ بوڑھے تھے اور سارہ علیہا السلام بانجھ ہو چکی تھیں۔
یہی حال حضرت زکریا علیہ السلام کا تھا جب ان کو یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی گئی۔
مریم علیہا السلام غیر شادی شدہ تھیں تو ان کو عیسیٰ علیہ السلام عطا کیے گئے۔
جب مالک، اللہ ﷻ ہے تو پھر اس کے عطا کرنے میں نہیں، ہمارے مانگنے اور طلب کرنے میں کمی ہے۔
اپنے اپنے شہید |
امت کے حالیہ غموں، پریشانیوں اور مسائل میں سے ایک ہر قوم، ہر تنظیم، ہر مسلک اور ہر مکتبۂ فکر کے افراد کا ”محض“ اپنے اپنے شہداء کو promote کرنا بھی ہے۔ یہ پروموٹ کرنا اگر صرف پروموٹ کرنا ہوتا تو شاید حرج نہ تھا۔
لیکن، اس کے ساتھ دیگر کو negate کرنا یا ان کی قربانی کو قربانی نہ جاننا اصل مسئلہ ہے۔
شاید اس رویے کا اصل سبب تعصب ہے۔ وہ تعصب جس سے ہمارے شہداء پاک تھے (نحسبھم کذلک)سید قطب سے عزام تک اور اسامہ سے سنوار تک، سبھی کا مقصد غاصبوں کی بربادی اور اسلام کا غلبہ تھا۔
ناکامی کے چند اسباب |
چھوٹی بات کو بڑا اور بڑے مسائل کو معمولی سمجھ لینا۔ دسویں درجے کے کام کو اوّلین ترجیح دینا، اور اوّلین درجے کے کام کو دسویں نمبر پر ڈال دینا۔ پسند و ناپسند کی خاطر ہر اصول اور ہر قانون توڑ دینا۔ تربیت کے بجائے جبر، اور اصلاح کے بجائے سختی اختیار کرنا۔اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے خدائی کا اعلان کرنا۔ اپنے آپ کو معذور، اور دوسروں کو مجبور و مکلف سمجھنا۔ اپنے جرم کو معاف کر دینا، اور دوسرے کو گناہ پر مستحقِ سزا ٹھہرانا۔
(لطف اللہ خیر خواہ کی ایک ٹویٹ کا ترجمہ)
کفر فحاشی سے بڑا جرم ہے! |
جب سٹیفن ہاکنگ مرا تو سوشل میڈیا پر یہ اختلاف چھا گیا کہ کیا اس کے لیے رحمت کی دعا (RIP) کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اور کچھ لوگ یہ کہہ کر جواز پیش کرتے رہے کہ وہ ”اچھا آدمی“ تھا اور ”مسئلۂ فلسطینی کے بارے میں اس کا موقف اچھا تھا“!
یہ حقیقت کہ اس آدمی کی اولین ترجیحات میں لوگوں کو ”جعلی سائنس“ کے ذریعے اس بات پر قائل کرنا شامل تھا کہ نہ کوئی خدا ہے اور نہ آخرت… مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ قائل کرنے کے لیے کافی نہ تھی کہ یہ شخص لائقِ احترام نہیں اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہے۔
اب، جب ہاکنگ کی اخلاقی گراوٹ کا انکشاف ایپسٹین کی دلدل میں ہوا، تو وہ سب کے نزدیک مذاق، ٹھٹھا اور گالی بن گیا ہے، اور اب کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا ناممکن ہو گیا ہے جو اس کا دفاع کرے یا زبردستی اسے جنت میں داخل کرنے کی کوشش کرے!
اس ہلاک شدہ شخص کی اخلاقی گراوٹ پر لوگوں کا غصہ اچھی بات ہے، لیکن اگر اللہ کے انکار کی اس کی دعوت پر ان کا غصہ اس سے زیادہ شدید نہ ہو تو یہ ہمارے میزانِ عدل میں بگاڑ کی نشانی ہے۔
میزانِ حق اللہ حکیم و علیم کا میزان ہے۔
اللہ کے میزان میں، اگر یہ ہلاک شدہ شخص ہزاروں بے گناہ جانیں بھی قتل کر دیتا تو یہ اس کے کفر کی نسبت ہلکا جرم ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: والفتنة أشد من القتل (اور کفر کا فتنہ قتل سے شدید تر ہے)۔
پس لوگوں کو اللہ پر ایمان سے پھیرنا اور اس کے انکار کی دعوت دینا، انہیں قتل کرنے اور Epstein Files کی فواحش سے کہیں زیادہ شدید، زیادہ قبیح اور زیادہ بڑا جرم ہے۔
(شیخ ایاد قنیبی کی ایک تحریر کا ترجمہ)
یومِ یکجہتیٔ کشمیر |
پانچ فروری، علی الصباح، آج سے پچیس سال قبل، اسلام آباد میں (تب کی) اسلام آباد ہائی وے پر ایک بچہ اپنے والد کے ساتھ گاڑی پر سفر کر رہا تھا، ہوا میں خنکی تھی۔ G-7 و G-8 کی طرف سے (اس زمانے کے) زیرو پوائنٹ کی طرف گاڑی چل رہی تھی۔
دائیں بائیں کچھ زمین میں گڑے کتبے لگے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے، یومِ یکجہتیٔ کشمیر، کشمیر بنے گا پاکستان، وغیرہ وغیرہ۔ یہ بچہ گزشتہ رات بھی یہاں سے گزرا تھا تب یہاں کوئی کتبہ نہ تھا۔
بچے نے حیرت سے اپنے والد سے سوال کیا: ’’ابو! یہ کتبے یہاں راتوں رات کون لگا گیا ہے؟‘‘، جواب ملا:’’بیٹا! وہ لوگ جو کشمیر کو آزاد ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے‘‘۔
بچہ حیران ہوا اور پھر تب سے اب تک اس کی سمجھ میں بہت بہت کچھ، آہستہ آہستہ، آتا گیا۔
پچیس سال قبل کے اس پانچ فروری کا قصہ ختم ہوا، لیکن کشمیر سے غداری کا قصہ ابھی جاری ہے، بلکہ یہ غداری اب اسلام سے غداری بن چکی ہے۔ جہادِ کشمیر کو abandon کرنے سے ’’وار آن ٹیرر‘‘ اور اب ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی صورت میں غزہ، فلسطین، القدس اور مسجدِ اقصیٰ سے دغا کا سلسلہ جاری ہے۔
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



