اڑتیسویں وجہ: تکبر اور غرور
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ ﴾(سورۃ الاعراف: ۱۴۶)
’’میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، اور وہ اگر ہر طرح کی نشانیاں دیکھ لیں تو ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اگر انہیں ہدایت کا سیدھا راستہ نظر آئے تو اس کو اپنا طریقہ نہیں بنائیں گے، اور اگر گمراہی کا راستہ نظر آ جائے تو اس کو اپنا طریقہ بنا لیں گے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، اور ان سے بالکل بے پروا ہو گئے۔‘‘
امام سعدی فرماتے ہیں:
’’میں انہیں تکوینی اور خود ان کے اندر پائی جانے والی نشانیوں پر غور و فکر کرنے سے پھیر دوں گا۔ اور وہ قرآن کریم کی آیتوں کو سمجھنے سے بھی قاصر رہیں گے۔
﴿فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ ﴾(سورۃ یونس:۲۳)
’ لیکن جب اللہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔‘
یعنی اللہ کے بندوں پر تکبر کرنے لگتے ہیں۔ حق پر اور حق بات لانے والوں پر تکبر کرنے لگتے ہیں۔ اب جس کی صفت یہ بن جائے تو اللہ اسے بے شمار بھلائیوں سے محروم کر دیتا ہے۔ اسے رسوا کرتا ہے۔ وہ اللہ کی آیات سے کوئی ایسی بات نہیں سمجھ پاتا جو اسے فائدہ پہنچا سکے۔ بلکہ ممکن ہے کہ اسے تمام حقائق الٹے نظر آنے لگیں اور وہ بری چیز کو اچھا جاننے لگے۔‘‘
حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں (عمرو بن شعیب بن محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن العاص ) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ، يَغْشَاهُمْ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ، فَيُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمَّى بُولَسَ، تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ، يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ، طِينَةَ الْخَبَالِ.1بروایت ترمذی، شیخ البانی نے حسن قرار دیا ہے۔
’’قیامت کے دن متکبرین چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی صورت میں اٹھائے جائیں گے ۔ہر طرف سے ذلت انہیں ڈھانپ لے گی ۔ پھر وہ لوگ جہنم کے ایک قید خانے کی طرف دھکیلے جائیں گے جس کا نام بُولَسَ ہے ۔ ان پر آگ چھا جائے گی اور انہیں دوزخیوں کی پیپ پلائی جائے گی جو سڑا ہوا بد بو دار کیچڑ ہے۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن مسعود نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ. قَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَکُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً. قَالَ: إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ.2بروایت مسلم
’’جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا بھی اچھا ہو؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند کرتا ہے ، تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔‘‘
حضرت سفیان بن عیینہ نے فرمایا:
’’جس شخص کا گناہ اس کی خواہش نفس کی بنا پر ہو تو اس کے لیے توبہ کی امید رکھو۔ کیونکہ آدم علیہ السلام سے خواہش نفس کی بنا پر معصیت سرزد ہوئی اور ان کی مغفرت کر دی گئی۔ لیکن جس کا گناہ تکبر کی بنا پر ہو تو اس پر لعنت سے ڈرو ۔ کیونکہ ابلیس نے تکبر کی بنا پر معصیت کی تو اس پر لعنت ہوئی۔‘‘
امام غزالی نے احیاء علوم الدین میں لکھا ہے کہ:
’’سعادت مندی کی کنجی بیداری اور فطانت ہے اور شقاوت کا سر چشمہ تکبر اور غفلت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر ایمان اور معرفت سے زیادہ عظیم نعمت کوئی نہیں۔ اور نورِ بصیرت کی بدولت انشراح صدر کے علاوہ اللہ تک وسیلے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ کفر اور معصیت سے بڑھ کر کوئی بد بختی نہیں اور ظلمتِ جہالت کے سبب دل کے اندھے پن کے سوا کفر اور معصیت پر ابھارنے والی کوئی چیز نہیں۔ تو سمجھ دار وہ ہیں جن کی ہدایت اللہ کو منظور تھی، اس لیے ان کے سینوں کو اسلام اور ہدایت کے لیے کشادہ کر دیا۔ جبکہ متکبر وہ ہیں جنہیں اللہ گمراہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور ان کے سینوں کو تنگ اور اتنا زیادہ تنگ کر دیتا ہے جیسے انہیں زبردستی آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔ پس متکبر وہ ہے جس کی بصیرت اتنی بھی نہ کھلی کہ خود ہدایت پانے کے لائق ہو جائے۔ اور جب وہ اندھے پن کا شکار رہا تو اس نے خواہشات کو رہنما اور شیطان کو اپنا رہبر بنا لیا۔
پس تکبر ایک عظیم اور ہولناک آفت ہے۔ اسی میں خواص الناس برباد ہو جاتے ہیں۔ عوام الناس کو تو چھوڑیے ،عبادت گزاروں، زاہدوں اور علماء میں سے کم لوگ ہی اس سے چھٹکارا حاصل کر پاتے ہیں ۔ اور اس کی آفت عظیم کیوں نہ ہو جبکہ آپ ﷺ نے فرمایا:
’جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔‘
تکبر جنت اور بندے کے درمیان اس لیے حائل ہو گیا کیونکہ وہ بندے کو تمام مومنانہ اخلاق سے دور رکھتا ہے، جبکہ یہی اخلاق تو جنت کے دروازے ہیں اور تکبر ان دروازوں کو بند کر دیتا ہے۔ کیونکہ ایسے شخص میں جب تک تکبر کا شائبہ ہو تو وہ مومنوں کے لیے وہ نہیں پسند کر سکتا جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ایسی کوئی بری صفت نہیں جسے متکبر، اپنے تکبر کو بچانے کے لیے، اپنانے پر مجبور نہ ہو۔ اور ایسی کوئی اچھی صفت نہیں جسے اپنانے سے متکبر قاصر نہ ہو اس ڈر سے کہ کہیں اس کی عزت اور طاقت میں کمی نہ آ جائے۔ اسی لیے جس شخص کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوتا ہے وہ جنت میں نہیں داخل ہو گا۔ تمام رذیل اخلاق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند مذموم اخلاق لازما دیگر پر ابھارتے ہیں۔ تکبر کی سب سے بری قسم وہ ہے جو علم سے مستفید ہونے، حق کو قبول کرنے اور اس کی پیروی کرنے سے روکے۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ جب جبلہ بن ایہم بن ابو شمر غسانی نے ارادہ کیا کہ وہ مسلمان ہو تو اس نے حضرت عمرؓ بن الخطاب کو اس معاملے کی اطلاع لکھ بھیجی اور حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ حضرت عمر اور سب مسلمان اس بات پر خوش ہوئے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے جواب میں لکھا:
’’تم آؤ۔ تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے لیے ہیں۔ اور تم پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہم پر ہیں۔‘‘
چنانچہ جبلہ پانچ سو گھڑ سواروں سمیت نکلا۔ مدینہ کے قریب پہنچا تو اس نے اپنا تاج پہن لیا اور اپنے سپاہیوں کو سونے اور چاندی سے بنے ہوئے کپڑے پہنائے۔ مدینہ میں داخل ہونے کے وقت کوئی ایسا شخص باقی نہ رہا جو اسے دیکھنے کے لیے نہ نکلا ہو۔ یہاں تک کہ عورتیں اور بچے بھی نکل پڑے۔ جب وہ حضرت عمر ؓکے پاس پہنچا تو انہوں نے اسے خوش آمدید کہا اور مجلس میں اپنے قریب کیا۔
پھر جب حضرت عمر نے حج کا ارادہ کیا تو جبلہ بھی اُن کے ساتھ روانہ ہوا۔ طواف کے دوران بنی فزارہ کے ایک شخص کا پاؤں جبلہ کے تہبند پر آ گیا جس سے تہبند کھل گیا۔ جبلہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور ایک تھپڑ رسید کیا جس سے اس شخص کی ناک زخمی ہوگئی۔ بنو فزارہ کے اس شخص نے حضرت عمرؓ سے مطالبہ کیا کہ وہ جبلہ سے اس کو بدلہ دلائیں۔ تو حضرت عمر نے جبلہ کو بلایا اور کہا : اے جبلہ تمہیں کس چیز نے مجبور کیا کہ تم بنی فزارہ کے اس بھائی کو مارو اور اس کی ناک توڑ ڈالو؟
جبلہ نے کہا: اس نے میرے تہبند پر پاؤں رکھ کر اسے کھول دیا، اگر مجھے بیت اللہ کی حرمت کا خیال نہ ہوتا تو میں اس کی گردن اڑا دیتا۔
حضرت عمر نے فرمایا: اب تو تم نے اقرار بھی کر لیا ہے، اب یا تو اسے راضی کرو اور یا میں اس کو تم سے بدلہ دلاؤں گا۔
جبلہ نے کہا: آپ مجھ سے اس کو بدلہ دلائیں گے جبکہ میں بادشاہ ہوں اور وہ ایک عام انسان ہے؟
حضرت عمر نے فرمایا: اے جبلہ! تمہیں اور اسے اسلام نے اکٹھا کر دیا ہے۔ اب ما سوائے تقویٰ اور عافیت کے تمہیں اس پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔
جبلہ نے کہا: واللہ، مجھے امید تھی کہ اسلام میں مجھے جاہلیت سے زیادہ عزت ملے گی۔
حضرت عمر نے فرمایا: یہ باتیں چھوڑو۔ اگر تم نے اس شخص کو راضی نہ کیا تو میں اسے بدلہ دلاؤں گا۔
جبلہ نے کہا: تو پھر میں عیسائی بن جاتا ہوں۔
حضرت عمر نے فرمایا: اگر عیسائی بنے تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔
جبلہ نے کہا: اے امیر المومنین مجھے کل تک کی مہلت دیں۔
حضرت عمر نے فرمایا: منظور ہے۔
جب رات ہوئی تو جبلہ اپنے ساتھیوں سمیت مکہ سے نکل پڑا اور قسطنطنیہ جا کر عیسائی ہو گیا۔ کفر کی حالت میں جب جبلہ پر ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو وہ اپنی حالت پر غور و فکر کر تے ہوئے رونے لگا اور چند اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے:
’’اشرافیہ ایک تھپڑ کےعار سے عیسائی ہو گئے
حالانکہ اگر وہ صبر کرتے تو اس تھپڑ کا نقصان نہ ہوتا
ہٹ دھرمی اور غرور نے اس تھپڑ سے مجھے دور رکھا
لیکن اس کی خاطر میں تندرست آنکھ کو بیچ کر کانا بن گیا
کاش میری ماں مجھے نہ جنتی،
کاش میں اس بات کو قبول کر لیتا جو مجھے عمر نے کہی
کاش میں بیابان کی تکالیف جھیل لیتا،
کاش میں ربیعہ اور مضر کے درمیان گھومتا پھرتا
کاش میں شام میں معمولی سی زندگی گزار سکتا،
لیکن اپنی قوم میں ہی رہتا چاہے بینائی اور شنوائی سے محروم ہی کیوں نہ ہو جاتا۔‘‘
پس متکبر شخص ذلیل رہتا ہے چاہے وہ اپنے آپ کو لوگوں سے اونچا تصور کیوں نہ کرے۔ جبکہ عاجزی اختیار کرنے والا لوگوں کو اگرچہ کم تر نظر آئے لیکن اس کا مرتبہ اور مقام اونچا ہوتا ہے۔
[شعر کا ترجمہ]:
’’عاجزی اختیار کرو تو اُس ستارے کی طرح بن جاؤ گے جو دیکھنے والے کو پانی کی سطح پر نظر آتا ہے حالانکہ وہ خود بہت اونچا ہوتا ہے
اس دھوئیں کی طرح نہ بننا جو خود کو آسمان کی تہوں پر چڑھاتا ہے
چاہے اپنے آپ میں جتنا ہی ہیچ ہو۔ ‘‘
٭٭٭٭٭
- 1بروایت ترمذی، شیخ البانی نے حسن قرار دیا ہے۔
- 2بروایت مسلم





![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



