تمام تعریفیں اس جلیل القدر اللہ تعالیٰ کے لیے، جس نے محکم کتاب میں ارشاد فرمایا:
وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا ۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ (سورۃ الحج: ۴۰)
’’اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کے شر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گا ہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کر دی جاتیں۔ اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔ ‘‘
اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول پر، آپ کی پاکیزہ آل پر، آپ کے نیک صحابہ پر، اور ان سب پر جو قیامت کے دن تک آپ کی سنت کی پیروی اور آپ کے راستے میں جدوجہد کرتے رہے۔ اما بعد!
یہ ہے وہ صہیونی صلیبی معاصر جنگی مہم، جس کی قیادت اس دور کا فرعون، امریکہ کر رہا ہے۔ یہ جنگی مہم ایک بار پھر اپنے صلیبی منصوبے کی تکمیل کے لیے صف آرا ہو چکی ہے، جس کی بنیاد اس نے موجودہ صدی کے آغاز میں رکھی تھی اور جس کا اس نے کھلے الفاظ میں اعلان بھی کیا تھا۔ اسی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے گیارہ ستمبر کو مبارک جہادی حملے کیے گئے، تاکہ اس صہیونی صلیبی منصوبے کو اس کے مقاصد تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ جن میں اہلِ اسلام کا محاصرہ، مسلم ممالک پر قبضہ، ان کی دولت و وسائل کی لوٹ مار، ان کی تقسیم، امتِ مسلمہ کے معاشروں کو پارہ پارہ کرنا، اور پورے خطے میں تباہی و بربادی پھیلانا شامل تھا۔
ان صلیبی افواج کے بارے میں شرعی مؤقف بالکل واضح ہے جو پورے خطے پر قبضے کی نیت سے جمع ہوئی ہیں، نہ کہ کسی ایک حکومت سے جنگ کے لیے۔ ان کے خلاف جہاد اور قتال فرض ہے، اور انہیں نشانہ بنانہ واجب ہے اس سے پہلے کے ان کے قدم سرزمینِ اسلام پر پڑیں۔ ہمارے بہترین اخلاق والے اور مسکرانے والے مگر جنگ میں سخت رسول ﷺ، تبوک کے دن ان صلیبیوں کے آباء و اجداد کی طرف اس لیے نکلے کہ ان کی افواج کو مسلمانوں کی سرزمین تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا جائے، تاکہ دین، عزت اور حرمتوں کی حفاظت ہو۔
آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ صلیبی یلغار کی واپسی کے آثار ہیں، جیسا کہ سیدنا عمرو بن العاص نے فرمایا تھا کہ ’’وإنهم لأسرع الناس كرةً بعد فرةٍ‘‘ یعنی وہ بار بار پلٹ کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ آج صلیب ایک بار پھر فرار کے بعد لوٹ آئی ہے، نئے نعروں کے ساتھ امت سے جنگ کرنے کے لیے، اس کے بعد کہ گزشتہ دو دہائیوں میں وہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نعرے کو خوب استعمال کر چکی ہے۔ کل افغانستان تھا، آج غزہ ہے، اور کل پھر افغانستان، ترکی، پاکستان، مصر، جزیرۂ عرب اور دیگر مسلم ممالک ہوں گے، جیسا کہ مجرم یہودی نیتن یاہو نے خود کہا۔
ہم صہیونی صلیبیوں کا کوئی راز فاش نہیں کر رہے، بلکہ یہ تو ان کی تاریخ، ان کا موجودہ عمل، اور ان کی اپنی زبانوں کے اعترافات ہیں۔
پس اے اہلِ اسلام!
اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ(سورۃ الاعراف: ۱۲۸)
’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری انجام پرہیزگاروں ہی کے حق میں ہوتا ہے۔‘‘
اے ہماری امتِ عزیز! یہ بات ٹرمپ نے بھی پوری بے باکی اور صراحت سے کہی، جو اس صلیبی مہم کا علم بردار اور قائد ہے، کہ وہ دوبارہ بگرام اڈے پر قبضہ کرے گا۔ مگر اسے کیا خبر کہ بگرام، امارتِ اسلامیہ اور اس کے حریت پسند ابطال تک اس کی رسائی ناممکن ہے۔ اس ظالم نے سوچا، اندازے لگائے، دھمکیاں دیں، پھر منہ موڑ کر تکبر کیا، اور آخرکار ان صلیبی لشکروں کو عالمِ اسلام کی طرف روانہ کر دیا تاکہ اسے گھیرے میں لے اور اس سے جنگ کرے۔
اگرچہ امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خطے کی اقوام و افراد کی مدد کے لیے آیا ہے، جیسے کل وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر آیا تھا، مگر حقیقت جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ صلیب کی نظریں خراسان کی سرزمین پر جمی ہوئی ہیں، تاکہ امارتِ اسلامیہ کے زیرِ سایہ ابھرتے ہوئے اسلامی نظام کو کچلا جا سکے۔ اس حقیقت میں شک صرف جاہل یا ہٹ دھرم ہی کر سکتا ہے۔
یہ واقعات جو آج عالمِ اسلام میں رونما ہو رہے ہیں، ہم سب سے تعلق رکھتے ہیں، بلکہ اس خطے کے ہر مسلمان سے۔ ایسے میں کسی غیرت مند، مظلوم اور با وقار مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ خاموش تماشائی بنا رہے۔ ہم سب اور ہمارا وطن، زمین اور وسائل نشانے پر ہیں۔ وینزویلا میں جو کچھ ہوا، وہ کوئی پرانا واقعہ نہیں۔ فیصلہ سازوں میں موجود اہلِ خرد پر لازم ہے کہ وہ ملک و ملت کے دفاع میں حکمت اور دانائی سے کام لیں۔
آج صہیونی صلیبی اتحاد تکبر اور غرور کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خطے کے تمام حکمران یہودی صہیونیت کے غلام بن جائیں۔ مگر یہ بات جان لیں کہ ظالم حکمران بھی اسی انجام سے دوچار ہوں گے جس سے ان سے پہلے دوسرے ہوئے۔ اگر ان میں عقل کی رمق باقی ہوتی تو وہ اہلِ اسلام اور اس کے نوجوانوں کو دین و ملت کے دفاع کا موقع دیتے، اور صہیونی صلیبوں کو ہر جگہ نشانے پر رکھتے۔
ہم پوری امتِ مسلمہ کو بالعموم اور نوجوانانِ اسلام کو بالخصوص اللہ کے راستے میں جہاد و قتال کے لیے پکارتے ہیں، اور اس بات پر ابھارتے ہیں کہ ان صلیبی افواج اور ان کے مفادات کو ہر جگہ نشانہ بنایا جائے، اس سے پہلے کہ پچھتاوے اور ندامت کا وقت آ جائے۔ اگر آج یہ صہیونی صلیبی مہم طیارہ بردار جہازوں کے ساتھ آئی ہے، تو اہلِ ایمان اس جہاز کو غرق کر سکتے ہیں، کہ شہسوارانِ اسلام نے اس سے پہلے بھی ایمان و حکمت کی سرزمین یمن میں کول نامی بحری بیڑے کو تباہ کیا تھا، اور اس میں موجود امریکی بحری افواج کو قتل کیا تھا، اس کے علاوہ خطے میں موجود مسلمان و عرب ممالک میں ان کے طیارہ بردار جہازوں کے علاوہ ایسے اڈے بھی ہیں جو سمندر میں نہیں بلکہ خشکی پر ہیں۔
ہم یہ بات اللہ، امت اور تاریخ کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ گزشتہ دہائیوں میں مجاہدینِ امت نے، اللہ کے فضل سے، ایک مضبوط ڈھال کا کردار ادا کیا، جس کے پیچھے سب نے پناہ لی، یہاں تک کہ مشرق کے بڑے بڑے ممالک نے اس سے فائدہ اٹھایا تاکہ واحد سپر پاور کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔
مگر افسوس کہ اہلِ اسلام اس تاریخی کردار کی قدر نہ کر سکے، یہاں تک کہ آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ پرامن جماعتوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا، اسلامی نسبت رکھنے والی حکومتوں کو گرا دیا گیا، امتِ مسلمہ کی دولت لوٹی گئی، اس کے عقائد اور فطرت سے کھیلا گیا، اور گمراہ نظریات پھیلائے گئے، حتیٰ کہ ایک نیا شیطانی دین گھڑ لیا گیا جسے ’’دینِ ابراہیم‘‘ کا نام دیا گیا۔
لیکن:
وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ (سورۃ الانفال: ۳۰)
’’وہ اپنے منصوبے بنا رہے تھے اور اللہ اپنا منصوبہ بنا رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر منصوبہ بنانے والا ہے ۔‘‘
پس اے اہلِ اسلام! اللہ کی یقینی نصرت پر بھروسہ رکھو، اور دشمنوں کے خلاف اللہ کی طرف سے آنے والی تدبیر پر خوش ہو جاؤ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کی چالوں کو انہی کی ہلاکت کا سبب بنائے، اور گردشِ زمانہ کو انہی کے خلاف کر دے۔
آمين والحمد لله رب العالمين
شعبان ۱۴۴۷ھ بمطابق جنوری ۲۰۲۶ء
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



