ہندتوا کا سایہ آہستہ آہستہ کشمیر پر پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ مساجد اور مدارس کی حالیہ پروفائلنگ، اور ایک میڈیکل کالج کی اس بنیاد پر بندش کا فیصلہ کہ اس میں داخلہ پانے والے زیادہ تر طلبہ مسلمان تھے، اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ کشمیر میں جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ الگ تھلگ واقعات نہیں، بلکہ سرکاری سرپرستی اسلاموفوبیا کے ذریعے بھارت کے مسلمانوں کی منظم انداز میں بے دخلی اور انہیں ’’غیر‘‘ بنانے کے وسیع تر نظام کا حصہ ہیں۔ ہندُتوا کے پنجے اب بھارت کے سیاسی ڈھانچے اور سماجی ساخت میں گہرائی تک پیوست ہو چکے ہیں۔
بھارت کی سیکولر جمہوریہ کو زعفرانی رنگ دینے کی کوششیں نئی نہیں، مگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اقتدار پر مضبوط گرفت اور میڈیا کے بڑے حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد، ان کوششوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ زعفرانیت یا ہندوآئزیشن اسلاموفوبیا، اور بھارتی مسلمانوں کو بے دخل کرنے اور گھیٹوائزیشن (Ghettoization) سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ بارہا واضح کیا جا چکا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے لیے پُر امن بقائے باہمی اب کوئی سیاسی ترجیح نہیں رہی۔ مسلمان ہندوتوا کی نفرت انگیز مشینری کا اولین ہدف بن چکے ہیں، چاہے وہ گاؤ رکھشا کے نام پر غنڈہ گردی ہو، ’’لو جہاد‘‘ اور ’’لینڈ جہاد‘‘ جیسے سازشی بیانیے ہوں، مساجد کی شہادت، ماب لنچنگ، یا غریب مسلم محلّوں میں گھروں پر بلڈوزر چلانا۔
اب کشمیری مسلمان اس منصوبے کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ بھارت کے دیگر حصوں کے برعکس، کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اس کے باوجود ہندُتوا کی خوف، دھمکی اور بے دخلی کی سیاست مسلسل انہیں ایک مشکوک قابو میں رکھی جانے والی اور حاشیہ نشین آبادی میں تبدیل کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں جموں و کشمیر پولیس نے وادی بھر میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بناتے ہوئے ایک جارحانہ پروفائلنگ مہم شروع کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کثیر الصفحاتی فارم تقسیم کیے گئے جن میں ائمہ، دینی اساتذہ اور مسجد کمیٹیوں سے ذاتی اور مالی تفصیلات طلب کی گئیں۔ حکام اسے انسدادِ دہشت گردی کا اقدام قرار دیتے ہیں، مگر کشمیر میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ مشق سکیورٹی سے زیادہ اجتماعی طور پر مشتبہ ٹھہرائے جانے کا احساس دیتی ہے، جہاں روزمرہ دینی زندگی بھی پولیس کی نگرانی کا موضوع بن گئی ہے۔
دینی رہنماؤں، سول سوسائٹی گروپوں اور منتخب نمائندوں نے اس اقدام کو مذہبی آزادی اور پرائیویسی کی آئینی ضمانتوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ دینی اداروں کی نگرانی پوری برادری کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اس کے ایمان اور عبادت گاہوں کو ریاست شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
جموں میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کی بندش بے دخلی کی ایک اور، یکساں تشویشناک جہت کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس کے پہلے ایم بی بی ایس بیچ(batch) میں داخلہ پانے والے 50 میں سے 42 طلبہ مسلمان نکلے، جو بھارت کے قومی داخلہ امتحان کے ذریعے خالصتاً میرٹ پر منتخب ہوئے تھے، تو دائیں بازو کے ہندو گروہوں نے یہ کہہ کر احتجاج شروع کر دیا کہ مسلمانوں کا ایک ہندو مزار سے منسلک ادارے سے فائدہ اٹھانے کا ’’کوئی حق نہیں‘‘۔ اس کے فوراً بعد نیشنل میڈیکل کمیشن نے کالج کی منظوری واپس لے لی، اور انفراسٹرکچر کی کمیوں کا حوالہ دیا، جنہیں طلبہ اور آزاد مبصرین کے مطابق یا تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا یا وہ سرے سے موجود ہی نہیں تھیں۔
ان واقعات کو یکجا دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مسلم زندگی اور کامیابی کو ایک مسئلہ سمجھ کر قابو میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں یہ سب ایک ایسے ماحول میں ہو رہا ہے جو پہلے ہی چھاپوں، چیک پوسٹوں اور مستقل نگرانی سے تشکیل پایا ہے۔
نومبر 2025ء میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے جموں و کشمیر میں بھارت کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر خطرے کی گھنٹی بجائی۔ اپریل 2025ء کے پہلگام حملے کے بعد تقریباً دو ہزار آٹھ سو افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل تھے۔ رپورٹس میں من مانی گرفتاریاں، تشدد، بغیر مقدمے کے طویل حراست، مواصلاتی بلیک آؤٹ، تادیبی طور پر گھروں کی مسماری، اور پورے بھارت میں کشمیری طلبہ کو ہراساں کیے جانے کے واقعات درج کیے گئے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات اجتماعی سزا کے مترادف ہیں اور بھارت کے آئین اور بین الاقوامی قانون دونوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
کشمیر کوئی استثنائی صورتحال نہیں بلکہ ایک قومی رجحان کی عکاسی کر رہا ہے۔ آج کا بھارت فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت انگیز تقاریر کے بے مثال بحران سے دوچار ہے۔ سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم (Center for the Study of Society & Secularism) کی رپورٹ کے مطابق 2024ء میں فرقہ وارانہ تشدد میں 84 فیصد اضافہ ہوا، اور ہلاکتوں کی اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اسی سال ریکارڈ ہونے والے 59 فرقہ وارانہ فسادات میں سے 49 بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں ہوئے۔ 2009ء سے 2019ء کے درمیان مذہب کی بنیاد پر ہونے والے نفرت انگیز جرائم میں سے تقریباً 90 فیصد 2014ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد پیش آئے۔
نفرت انگیز تقاریر نے بھی یہی رخ اختیار کیا ہے۔ انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق صرف 2025ء میں تیرہ سو سے زائد نفرت انگیز تقاریر کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن کی بھاری اکثریت بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں میں تھی، اور ان کا ہدف مسلمان اور بتدریج عیسائی بھی بنتے جا رہے ہیں۔ گاؤ رکھشا کے جتھے، ’’بلڈوزر انصاف‘‘، اور شہریت و مذہب میں تبدیلی سے متعلق امتیازی قوانین نے اجتماعی سزا اور استثنیٰ (impunity) کو معمول بنا دیا ہے۔
کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بے دخلی اور خوف پر پنپنے والے ہندُتوا منصوبے کا منطقی تسلسل ہے۔ مسلمان جو پہلے ہی مستقل محاصرے اور نگرانی میں زندگی گزار رہے ہیں، انہیں اب مذہب کی بنیاد پر سماجی اور ادارہ جاتی طور پر مزید کنارے لگایا جا رہا ہے۔
موجودہ حالات میں بھارت کے مسلمانوں کا مستقبل روشن دکھائی نہیں دیتا۔ پروجیکٹ ہندُتوا بیک وقت خاموشی سے اور بے رحمی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، اداروں اور ذہنوں پر قبضہ کرتا جا رہا ہے۔ ایسے میں امید کی کرن کہیں نظر نہیں آتی۔
[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)
٭٭٭٭٭




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



