قرآنِ کریم ہم سب پڑھتے ہیں، مگر ہمارا مزاج ایسا بن چکا ہے کہ ہم دین کو اپنی پسند اور خواہش کے مطابق قبول کرتے ہیں، جہاں حکم ہمارے نفس کو موافق ہو، وہاں سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں، اور جہاں آزمائش، قربانی یا مشقت ہو، وہاں تاویلات اور بہانے تلاش کرنے لگتے ہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ (سورۃ البقرۃ: ۱۸۳)
’’تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔‘‘
یہ حکم ہم سب قبول کرتے ہیں، شوق سے روزے رکھتے ہیں، اس کی فضیلتیں بیان کرتے ہیں۔ مگر اسی سورہ میں آگے فرمایا گیا:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ (سورۃ البقرۃ: ۲۱۶)
’’تم پر قتال فرض کیا گیا۔‘‘
تو یہاں قدم ڈگمگانے لگتے ہیں، دلوں میں ہچکچاہٹ پیدا ہوتی ہے، اور ہم پہلو تہی اختیار کرنے لگتے ہیں۔
حالانکہ ہم ایسے نہ تھے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے، مگر باطل کی سازشوں، مادہ پرستی، اور وہن (دنیا کی محبت اور موت کے خوف) نے ہمیں کمزور کر دیا ہے، ہم سہولت کے دین کے عادی ہو گئے ہیں، آزمائش کے دین سے گھبرانے لگے ہیں۔
لیکن ہر دور میں اللہ کے وہ بندے موجود ہوتے ہیں جن کا ایمان راسخ ہوتا ہے، وہ احکامِ الٰہی کو چن چن کر نہیں مانتے، بلکہ پورے خلوص اور استقامت کے ساتھ ان کی تکمیل کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک دین خواہش نہیں، امانت ہے۔ ان ہی احکامِ الٰہیہ یعنی قتال اور ہجرت پر عمل کرنے والے ہمارے بھائی، سیف اللہ ، فرمان ، باشا، معاویہ، عادل، مطابر رحمہم اللہ تھے۔
۲۲ فروری ۲۰۲۶ء، بمطابق پنجم رمضان المبارک ۱۴۴۷ ہجری: کشتواڑ کے علاقے چھترو میں تین اللہ کے سپاہیوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ آئیے، آج ان کے تذکرے سے اپنے قلوب کو منوّر کریں۔
یہ جانباز مجاہدین سال اپریل؍مئی ۲۰۲۴ء میں ایل او سی عبور کر کے وادی میں داخل ہوئے تھے اور تب سے تادمِ شہادت مسلسل ہندو فوج سے نبرد آزما رہے۔
سرحد کے پار جا کر، خونِ جگر جلا کر
اس دین کے علم کو اونچا کیا جو ہم نے
ان کی داستان بھی کچھ ایسی ہی تھی کہ ایل او سی پار کر کے، ان دشوار گزار راستوں سے گزر کر وہ وادی میں داخل ہوئے۔ ان بھائیوں نے اپنے والدین کی شفقت، اپنے پیاروں کی محبت اور زندگی کی تمام تر آسائشوں کو قربان کر کے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، یہ پہلے نہیں تھے اور ان شاء اللہ آخری بھی نہیں ہوں گے، لیکن کچھ لوگ اپنی داستانیں رقم کر جاتے ہیں، یہ عظیم مجاہدین اس وقت وادی میں آئے جب کفر کا بول بالا ہے، جب حق کمزور ہو چکا ہے اور بد قسمتی سے بہت سے لوگ بھٹک چکے تھے۔ ان کی قربانیوں کا بدلہ چکانا ممکن نہیں۔
اِس دستے کی قیادت کمانڈر سیف اللہ بھائی کے ہاتھوں میں تھی، اِس قافلے میں ایک دو مجاہدین کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا جبکہ بقیہ جانباز خیبر پختونخواہ کے باسی تھے۔
وہی سیف اللہ، جس کی ہیبت سے ہندو فوج لرز اٹھتی تھی، وہی جس کی دشمنانِ دین اور ان کے زیرِ اثر میڈیا نے ایسی ہیبت ناک اور مبالغہ آمیز تصویر پیش کی کہ یوں محسوس ہوتا تھا گویا وہ کوئی قد آور، بھاری بھرکم اور غیر معمولی طاقت کا حامل انسان ہو۔
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ وہ تو سادہ سا اللہ کا بندہ تھا، یاروں کا یار، حافظِ قرآن، دل موہ لینے والی خوبصورت آواز کا مالک، بے شمار خوبیوں سے آراستہ، مگر مزاج میں ایسی انکساری کہ کبھی اپنے بڑے ہونے کا احساس تک نہ ہونے دیتا۔ خود آگے بڑھ کر اپنے ساتھیوں کے کام سنبھالنے والا، محبت اور اخلاص کا پیکر۔ چہرے پر مسکراہٹ، زبان پر خیر، اور دل میں امت کا درد، بس خدمت کا جذبہ اور اللہ کی رضا کی فکر۔
۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۵ء تک انہوں نے کئی کامیاب کارروائیاں کیں،ان کی ضربیں کاری اور فیصلہ کن تھیں، جس نے دشمنوں کے دلوں میں دہشت بٹھا دی۔ وہ بے باکی اور مؤثر طریقے سے حملے کرتے اور غائب ہو جاتے۔ کفار کو مکمل طور پر بد حواس اور ذلیل چھوڑ جاتے۔ ایک پورا سال یہ گروپ نا قابلِ گرفت اور ناقابلِ شکست رہا، جس سے دشمن کی صفوں میں خوف اور تباہی پھیل گئی۔
ان کے نام افسانے بن گئے، کہا جانے لگا کہ سیف اللہ جادوگر ہے، غائب ہو جاتا ہے۔ آخر اس گروپ کا نام بھی دلچسپ تھا، ’’عزرائیل گروپ‘‘۔ یعنی کفار کے لیے موت کا فرشتہ بننے والا گروپ اور یقیناً بنے بھی۔ انہوں نے بے شمار حملے کیے ساٹھ سے اسّی تک ہندو فوجیوں کو جہنم واصل کیا، ایسا لگتا تھا کہ یہ ہمیشہ ایسے ہی سرفراز رہیں گے، اور رہتے بھی کیوں نہ، سیف اللہ کی زبانی ہی ان کا حامی تو اللہ تھا، جس نے انہیں اپنی قدرت کے معجزات دکھائے۔
سیف اللہ بھائی کہتے ہیں کہ جب میں کشمیر پہنچا تو میرے پاس صرف دو سو گولیاں اور پانچ گرنیڈ تھے اور میں نے تقریباً تین سو گولیاں چلائی ہیں، اور میرے پاس ابھی بھی دو سو باقی ہیں! میں نے بارہ گرینیڈ استعمال کیے، لیکن چارابھی بھی میرے پاس ہیں۔
ایک بار میں اور میرا ساتھی زخمی ہو گئے تھے، مسلسل بارہ دنوں تک، ایک ریچھ ہر شام ہماری حفاظت کو آتا تھا اور صبح کو چلا جاتا تھا۔ اگر یہ اللہ کے وعدوں کی تکمیل نہیں، تو اور کیا ہے؟ یہ اللہ کی خاص مدد تھی۔
ایک دن ہم ایک کھلی وادی میں تھے اور بھارتی فوجیوں نے ہم پر فائرنگ کر دی، گولیاں ہمارے سروں کے اوپر، ہمارے پیروں کے پاس سے سیٹیاں بجاتی ہوئی گزر گئیں، لیکن ایک بھی نہیں لگی۔
ایک بار تو ہمیں پانچ سو فوجیوں نے گھیر لیا تو ایک بکرے نے ہمیں وہاں سے نکلنے میں مدد کی، اگر یہ اللہ کا معجزہ نہیں، تو اور کیا ہے؟
مزید کہتے ہیں کہ ایک دن ہم ان کے فوجی کو قتل کر رہے تھے، میرا ہتھیار ایک طرف پڑا تھا، اور میرا ساتھی میری مدد کر رہا تھا، دو ہندو فوجی قریب ہی بیٹھے دیکھ رہے تھے، حالانکہ ان کے پاس ہتھیار تھے، وہ دو گولیاں بھی نہیں مار سکے تاکہ ہمیں مار سکیں، ان کے ہاتھ خوف سے کانپ رہے تھے۔
آگے کہتے ہیں میں ایک گھر میں گیا، اور گھر والوں نے بتایا کہ بھارتی کمانڈر نے انہیں حکم دیا تھا: ’’اگر سیف اللہ آئے تو اسے کھانا دے دینا اور اس سے ہمارا ذکر نہ کرنا۔‘‘
مگر اپریل ۲۰۲۵ء کے بعد، ہندوستان کے آپریشن سندور کے نتیجے میں، پار بیٹھے ہینڈلرز نے ان ساتھیوں کو واضح ہدایت دیں کہ مزید کارروائیاں نہ کی جائیں، اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ پاکستانی حکام و فوج کو ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کا مزید تناؤ نہیں چاہیے تھا، اور یوں انہیں جان بوجھ کر پیچھے دھکیلا گیا، حالانکہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ یہاں کا محاذ کیسا ہے، جہاں زندہ رہنا (survive کرنا) مشکل ہو وہاں دفاعی موڈ میں جانے کا کیا جواز ہے؟
آڈیو بیان میں سیف اللہ بھائی خود اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ ہمیں دشمنوں سے ہر وقت الجھے رہنا چاہیے، مگر جب جہاد کسی ملک کی خارجہ پالیسیوں کے زیر اثر ہو جائے، تو پھر جہاد کے مفاد نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
۲۰۲۵ء–۲۰۲۶ء کے دوران یہ ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہوتے رہے۔ ان کی عظمت و بہادری کا یہ عالم تھا کہ دفاعی موڈ میں رہنے کے باوجود انہوں نے دشمن کو نقصان پہنچایا، اور آخر کار، تمام بھائی شہید ہو گئے۔
آپ بتائیں، ان کی شہادت کا قصوروار کون ہے؟ ان کے ساتھ دھوکہ کس نے کیا؟
اللہ تعالیٰ ان شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے، یہ عظیم جوان مخلص تھے، منافق تو آئی ایس آئی کے ہینڈلرز ہیں ، طلحہ عبد الرحمٰن بھائی کے الفاظ میں، اگر اس جہاد کو دبانے والا ایک ہاتھ گائے کے پجاری کا ہے تو دوسرے ہاتھ پر اپنے ہی ’محسنوں‘ کی کارستانی ہے۔ یہ حقیقت وقت کے ساتھ ساتھ واضح ہوتی رہی ہے۔
ہماری سپلائی لائن بند کرنے والے منافقین اب سرزمین انبیائے کرام کے عظیم مجاہدین کا اسلحہ چھیننے کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل ہو چکے ہیں۔ اہالیان کشمیر کو آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ جو فلسطین کے نہ ہوئے ، وہ ہمارے کیا ہوں گے؟ یہ جہاد اس وقت تک ثمر آور نہیں ہو سکتا جب تک اس کی قیادت خالصتاً اللہ کے احکامات کے مطابق نہ ہو، جب تک یہ ملکی مفادات اور ایجنڈے کے زیر اثر رہے گا، تب تک محض دھوکہ دہی اور فریب ہی دیکھنے کو ملے گا۔
میں اہالیان پاکستان سے بھی یہ درخواست کرتا ہوں کہ ہماری باتوں کو سمجھیں، جب ہم پاکستان کے خلاف بولتے ہیں، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اس ملک یا اس کے لوگوں کے خلاف ہیں، ہم آپ کے قرض دار ہیں، مگر ہم پاکستان کے موجودہ نظام سے برات کرتے ہیں، ہم پاکستان کی حکومت، فوج، اور ایجنسیوں سے لاتعلق ہیں، کیونکہ انہوں نے کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی تباہ کر دیا ہے، یہ سب غلام ہیں، یہودیوں کے غلام۔ پردے اٹھ چکے ہیں، کفار و منافقین یکجا ہو چکے ہیں، بس اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے ہم کس طرف ہیں۔
امید ہے آپ ان نکات پر غور کریں گے، اللہ تعالیٰ اس تحریر میں جو خیر ہے اسے قبول کرے اور لغزشوں کو معاف فرمائے۔ پچھلے کچھ ایام بڑے سخت گزرے ہیں، آپ سب سے دعاؤں کی درخواست ہے۔
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



