ہفتے بھر کا جائزہ لینے بیٹھیں تو سبھی شہ سرخیوں پر ایک ہی شخص کے مچائے فتنے، فتور، دنگے، فساد، بلوے، غدر اتنے بے پناہ ہوتے ہیں کہ پورا کالم اسی کی نذر ہو جاتا ہے۔ ٹرمپ کے عنوان سے تاریخِ عالم میں بہت سے محاورے، اصطلاحیں، ادب میں بے ادبی کے بہت سے شاہکار تصنیف ہوں گے۔ ہلاکو، چنگیز خان اس کے سامنے خود کو بونا پائیں گے۔ یوں بھی ان کے پاس’ ٹرمپ سوشل‘ ……معاف کیجیے ’ٹروتھ سوشل‘ تو نہ تھا! زبان، قلم، دو انگلیوں کی زد میں پوری دنیا۔ رہی سہی کسر ہر آن بگڑتے چہرے کے تاثرات جو بچوں کو ڈرانے کے کام آ سکتے ہیں اور کبھی ہنسانے کے بھی۔ قربِ قیامت کی ہولناک نشانیوں میں کتنا کچھ ہو گا ہمیں اتنا اندازہ نہ تھا۔ بیک وقت بے شمار کٹے کھولے بیٹھا ہے۔ لاطینی، جنوبی امریکہ، وینزویلا کا قضیہ، ٹیرف کا قصہ، غزہ ؍اسرائیل ( اعصاب شکن)، امریکہ میں امیگریشن کے جھگڑے اور عین ٹرمپی نوعیت کی پولیس ’ ICE‘، گرین لینڈ، یورپ سے نیٹو پر فساد، غزہ پر امن بورڈ کا فسانہ، جس سے ضمناً اقوامِ متحدہ کا خاتمہ کرنے کا عزم کر بیٹھا، کینیڈا کو چھیڑ دیا کھری کھری اس سے سننے کے بعد……! امریکہ کو خود بحران در بحران کا سامنا ہے۔
اس وقت تو ٹرمپ کے مذکورہ اٹھائے گئے سیٹیاں بجاتے طوفانوں، جھکڑوں، گردبادوں نے عملاً برسرِزمین اللہ کی گرفت دکھا دی ۔ برفانی ہواؤں، یخ بستہ تیز بارشوں، برف باریوں نے بیس ریاستوں کو گھیر رکھا ہے۔ اموات مسلسل بڑھ رہی ہیں، ہزاروں پروازیں منسوخ، زمینی آمدورفت و کاروبارِ زندگی معطل، لاکھوں گھر بجلی سے محروم ،ٹیکساس تا نیویارک شدید برف باری سے مفلوج ہو گیا، موسمیاتی ایمر جنسی جابجا نافذ، رائٹر کے مطابق سب کچھ منجمد، قطب شمالی کی طرح برفانی ہو چکا! تم گرین لینڈ پر قبضہ چاہتے تھے؟ لو! تمہیں یہیں بیٹھ کر قطب شمالی کا ہمسایہ گرین لینڈ بنا دیا، میکائیلی کارکنانِ الٰہی نے بحکمِ ربی۔ گلیشیرز کی سی سرزمین! قوم کی قلفی جمادی، مگر اس گلیشیر تلے معدنیات نہ ہوں گی جس کے تم در پے تھے! منی سوٹا، مینا پولس میں کارفرما حکومتی غنڈوں، ICE کی طرح اب ہر شہر میں منجمد کرنے اور پھسل کر خدانخواستہ ہڈیاں تڑوانے والی آئس آ گئی۔ تم نے دوبے گناہوں کو قتل کیا، پورے امریکہ میں آئس پولیس کے قتل اور درندگی (روتے چلاتے بچے قید خانوں میں ماؤں سے جدا کر کے) پر مظاہرے شروع ہیں۔ اللہ نے گویا از خود نوٹس لے کر تمہیں اپنی ڈال دی۔ اب بورڈ آف پیس کی جگہ تم جا بجا لخت لخت، ٹکڑوں میں بکھرتی اپنی حکمرانی اور معیشت سنبھالو۔ امریکی قرضے پہلے ہی دو لاکھ انتیس ہزار ڈالر فی گھرانہ ہیں، اب جو تباہی ملک بھر میں اس طوفانِ عظیم سے آ رہی ہے، مزید مقروض کرے گی،( پاکستان اور امریکہ قرض شریک بھائی ہیں، ہما را بھی ہر بچہ مقروض ہے۔)اب تک سو ارب ڈالرکا نقصان ہو چکا جو مزید بڑھ رہا ہے۔
اب آئیے غزہ امن پلان کی حقیقت پہ ،جواب پرت در پرت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ایک بھاری امتحان پوری انسانیت اور ضمیر عالم کے سامنے سات اکتوبر ۲۰۲۳ ء سے آیا۔ آخرت پر ایمان تینوں بڑے مذاہب کا بنیادی عقیدہ ہے، ان کے پیغمبروں اور آسمانی کتب کی رو سے (جس میں بھر پور جھوٹ کی آمیزش سے زمینِ غزہ ادھیڑ ڈالی گئی، اسرائیل اور ٹرمپ کی ملی بھگت سے)، یہ کہ ہر انسان زمین پر امتحان دینے آتا ہے، فرشتے اعمال (Guardian Angels) ریکارڈ کرتے ہیں، قبر، یا جنت کا باغ یا دوزخ کا گڑھا بنتی ہے اعمال کی بنیاد پر، آخرت آنی ہے، حضورِ رب تعالیٰ پیشی، سوال جواب، حساب کتاب ہوگا، جس کے مطابق ابدی ٹھکانہ بنے گا۔ یہی کچھ چرچوں، کنیساؤں میں کسی نہ کسی صورت پڑھایا جاتا ہے۔ اس وقت جو بھاری قتل عام، نسل کشی پوری دنیا نے دیکھی، وہ ایک مذہبی جنگ ہے، جسے یہود نے اپنے ’خداداد حق‘ کے نام پر دیوانہ و وحشیانہ وار نہتی آبادی پر مسلط کیا۔ کمال یہ ہے کہ پوری دنیا اس پر ہلا ماری گئی۔ کوئی ایک ملک بھی یورپ، افریقہ، آسٹریلیا، کسی براعظم سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا نہ ہو ابلکہ وہ پوری دنیا سے تمام تر نفرت اور ملامت کا نشانہ ہی بنا۔ کوئی بھی یہودی، عیسائی نہ ہوا (ٹرمپ کو دیکھ کر!) بلکہ فلسطینیوں کو دیکھ کر بے حساب نے ہر جا اسلام قبول کیا، نوکریاں، ڈگریاں بہت کچھ داؤ پر لگایا۔ اب بالآخر اس جنگ کے تصفیے کو ٹرمپ نے امن بورڈ بنا یا ہے۔ ہر مسلمان پر یہ واضح رہے کہ قبلۂ اول( تئیس لاکھ فلسطینیوں کی بے بہا قربانیوں کے ساتھ) کے تقدس اور شہداء و لواحقین کے ساتھ مبنی بر انصاف فیصلے میں فرد، فرد کا حصہ اور عند اللہ جواب دہی ہے۔ حکمرانوں، سیاست دانوں، سرمایہ کاروں، نوجوانوں، صحافیوں، عوام الناس ہر ایک کا اخروی مستقبل اس سے نتھی ہے۔ یہ سیاسی نہیں ایمانی معرکہ تھا اور ہے۔ تاریخ ساز بین الاقوامی احتجاجوں، مظاہروں، قربانیوں کے بعد یہ مرحلہ آیا۔ یہ امن بورڈ (BoP) ایک تنظیمی ڈھانچہ ہے جو بظا ہر یو این سکیورٹی کونسل کی قرار داد ۲۸۰۳ کے تحت غزہ میں قیام امن کے لیے بنایا گیا، مگر عملاً اب غزہ کا نام بھی غائب ہے اور یو این کو بھی یہ ہڑپ کرنا چاہتا ہے! بورڈ کا سربراہ ٹرمپ ہے، مکمل آمرانہ اتھارٹی ویٹو پاور کے ساتھ، ایگزیکٹو بورڈ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وٹ کاف، کشنر، بلیئر اور اسی نوع ؍ قماش کے دیگر صہیونی، صہیونی نو از حضرات موجود ہیں ــ مکمل اسرائیلی کنٹرول!
کمال یہ ہے کہ سوا دو سال قیامتوں سے گزرنے والا غزہ، آخر میں ایک کمزور کمی کمین، مزدور، کارکن کی حیثیت میں کھڑا ہے۔ جسے بارات کا دولہا ہونا تھا ، اس کی قسمت کا فیصلہ دنیا کے بڈھے چودھری نے یک طرفہ چکا دیا۔ عملاً اس پورے فسانے میں ــجس سے یورپ، روس، چین سبھی قابل ذکر قوتیں اور ممالک باہر ہیںــ دنیا بھر سے چھوٹے ممالک، ڈکٹیٹروں، بادشاہوں، غیر مقبول آمریتوں کے اکٹھ سے اعداد و شمار تو بن گئے مگر حماس اسے قبول کرنے کو تیار نہیں، کٹنے مرنے پر رضا مند، مگر بے ہتھیار ہونے کا سوال نہیں۔
پلان رفح سے شروع ہو چکا۔ اطالوی صحافی نے تلخ حقائق بیان کیے ہیں، رفح میں بلڈوزروں سے ملبہ صاف کر کے اجسادِ خاکی کے ٹکڑوں سمیت، ایک تعمیراتی مقام بنانا ہے۔ پروگرام عین وہی ہے جس کا ٹرمپ نے ارادہ ظاہر کیا تھا، یعنی غزہ کے ساحلِ سمندر پر ایک زبردست سیاحتی مرکز، عشرت گاہ بنانے کا۔ لوگوں نے اسے محض سہانا ؍ڈراؤنا خواب سمجھا، اب اس کی تعبیر تیار ہے، مقتولین پر زمین پاٹ کر خواب پورا کرنے کا یہ پلان ہے۔ اہل غزہ پر بھوک، محاصرہ، سردی، کیچڑ، پھٹے ٹینٹ، فاقہ زدگی کے سارے ہتھیار آزما لیے گئے۔ ’اختیار‘، ’انتخاب‘ اہل غزہ کا حق ہے، چاہو تو اس جہنم سے یہ سمجھ کر نکل جاؤ کہ دوبارہ کبھی نہ آؤ گے، کیونکہ تمہارا ٹوٹا ہوا گھر اب رئیل اسٹیٹ کا ایک (قیمتی) پلاٹ بن چکا ہے، مقبروں پر اب تعمیر نو ہو گی۔
رہی مسلمان ممالک کی بین الاقوامی استحکام فورس (ISF)، جس پر ہماری پارلیمنٹ میں شدید تنقید کی بوچھاڑ ہوئی، اس کی حقیقت خود اسرائیل کے چینل ۱۱ نے بتا دی۔ کریات کمانڈ سینٹر تل ابیب میں امریکی ملٹری نے تصاویر (ویڈیوز بھی) پوسٹ کیں جو مصر کی درخواست پر ہٹا دی گئیں(مصری فوجی اسرائیلی سینٹر میں ان کے شانہ بشانہ ISFکی تربیت لے رہے ہیں!)، مصری فوج کی وہاں موجودگی کا ثبوت مشکل کھڑی کر دیتا۔ مگر بہر طور بلی تھیلے سے باہر آ چکی، ویڈیوز موجود ہیں، جو چپ رہے گی زبانِ خنجرلہو پکارے گا آستین کا۔ دنیا سے چھپنے کے سامان یہاں کام نہیں آئے تو اللہ کے ہاں تو یہ مناظر سکرینوں پر چلیں گے۔ انجام اسی کے ساتھ ہو گا (حدیث کے مطابق) جس سے محبت کرو گے؍ شانہ بہ شانہ چلو گے! مخفی کچھ بھی نہیں، نہ آج نہ کل!
سپین تو بورڈ کا ممبر بننے سے انکاری ہو کر نکل گیا، کیا ہم قدس کے محافظوں کے سر پر ISF کا حصہ بن کر کھڑے ہوں گے؟ اسرائیل کے علاوہ آگے بڑھ کر بورڈ ممبری کے دستخط کرنے والے ہم ہی تو تھے۔
ٹرمپ کے ساتھ کشنر کا کردار اور جس طرح اس نے شاہی استعماری انتظامات کی سلائیڈیں دکھائیں۔ واضح رہے کہ بورڈ میں ایک بھی فلسطینی شامل نہیں۔ دیواروں اور بند گیٹوں کے پیچھے صنعتی زونز کو اپار تھائیڈ نظام کے مزدور فراہم کریں گے۔ لیبل بدل کر صدیوں پرانا نظام اسی غلامی کو رائج کر ے گا۔ کشنر صہیونیت کا مایہ ناز سپوت، گریٹر اسرائیل کے تخلیق کاروں میں سے ایک، امریکہ میں اسرائیل کا وائسرائے، ہر مسلمان پر حقائق واضح رہنا ضروری ہیں۔ فیصلے سوچے سمجھے کیے جائیں!
ترے بلند مناصب کی خیر ہو یا رب
کہ ان کے واسطے تو نے کیا خودی کو ہلاک
[یہ مضمون ایک معاصر روزنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



