ہر مسلمان جو اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی ہونے پر راضی ہے، اور ان جملوں کے حقیقی معانی سے آگاہ ہے،اسے مکمل طور پر اس بات کا ادراک ہوگا کہ دین اسلام فی ذاتہٖ ایک مکمل دین ہے، اس میں کوئی کمی یا نقص نہیں کہ جس کی تکمیل کی جائے، اور یہ ایسا دین ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے،اس کے دامن میں انسانیت کی فلاح و بہبود کا تمام سامان موجود ہے، لہٰذا اسے کسی دوسرے نظریے کے ساتھ خلط ملط کرنے کا نہ تو کوئی جواز ہے اور نہ ضرورت۔
یہ دین عقائد کے اعتبار سے بھی کامل ہے اور احکامات کے لحاظ سے بھی مکمل۔ اسی طرح عبادات، معاملات ، سیاسیات، عدل و انصاف، اخلاقیات اور اقدار…… غرض ہر معاملے میں مکمل اور واضح ہے اور اپنے تمام ضابطوں اور ان کے حصول و تنفیذ کے لیے یہ کسی خارجی معاون کا محتاج نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (سورۃ المائدہ : ۳)
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ، اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین پسند کر لیا۔‘‘
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
’’انی قد ترکت فیکم ما ان اعتصمتم بہ فلن تضلوا أبداً، کتاب اللہ و سنۃ نبیہ.‘‘ (الحدیث رواہ الحاکم)
’’یقیناً میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم اس سے چمٹے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے ، اللہ کی کتاب اوراس کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت۔‘‘
اور یہ دینِ اسلام کے مکمل ہونے کا ثبوت ہے جس کی بناپر ہر اختلاف کی صورت میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، کیونکہ اگر کسی اور چیز کی ضرورت ہوتی اورکتاب و سنت کامل نہ ہوتے تو پھر ان کی طرف رجوع کرنے کا حکم بے معنی اور لغو ہوتا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوااللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا (سورۃالنساء: ۵۹)
’’اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اولوالامر (صاحبان اختیار) کی جو تم میں سے ہوں ، البتہ جب کسی چیز میں تمہارے درمیان اختلاف و تنازع پیدا ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو ، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر اور انجام کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے ۔‘‘
علمائے کرام بیان فرماتے ہیں اللہ کی طرف لوٹانے کا معنی اس کی کتاب کی طرف لوٹانا ہے، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹانے کا مطلب ان کی سنت کی طرف رجوع کرنا ہے ۔ اور اللہ کا فرمان ہے :
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہٗٓ اِلَی اللّٰہ (سورۃالشوریٰ:۱۰)
’’ اور تم جس چیز میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے ہوگا ۔‘‘
لہٰذا شریعتِ اسلامی سے ہٹ کر جس چیز کی بھی اتباع کی جائے وہ خواہشاتِ نفس کی اتباع ہی کہلائے گی ، خواہ اُسے کوئی خوب صورت نام دے کر اس میں کیسی ہی خوبیاں کیوں نہ گنوائی جائیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ (سورۃ الجاثیہ: ۱۸)
’’ پھر ہم نے تمہیں دین کے کھلے راستے پر(قائم) کر دیا تو اسی (راستے) پر چلو اور نادانوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا۔‘‘
اور فرمایا :
فَلِذٰلِکَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُم(سورۃ الشوریٰ:۱۵)
’’تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اسی (دین) کی طرف( لوگوں کو)بلاتے رہنا اور جیسا تمہیں حکم ہوا ہے (اسی پر ) قائم رہنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔‘‘
اور فرمایا:
وَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِیْٓ ئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْن(سورۃ یونس :۴۱)
’’تو اگر یہ آپ کی تکذیب کریں تو کہہ دیجیے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے،تم میرے عمل سے برّی اور میں تمہارے عمل سے برّی ولا تعلق ہوں۔‘‘
راہ حق صرف ایک ہے، جو انتہائی واضح اور ثابت شدہ ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے بطور دین پسند فرمایا ہے، اور اس کے سوا کوئی راہ بھی عند اللہ مقبول نہیں ہے، اور اس واحد راہ کا نام ’’دینِ اسلام‘‘ ہے۔ اس کے بر عکس گمراہی و خواہشات کی بہت سی راہیں اور طریقے ہیں۔ جن کی پیداوار اور نوعیت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی اور پھیلتی جارہی ہے ،لیکن دین اسلام کے سوا تمام راہیں یکسر غلط و باطل ہیں، خواہ وہ کسی بھی نام یا بہروپ کے ساتھ سامنے آئیں۔ باطل بہر حال باطل ہی کہلاتا ہے خواہ اس کا نام حق ہی کیوں نہ رکھ دیا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن(سورۃ الانعام :۱۵۳)
’’ اور (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! ان سے کہہ دیجیے) کہ یقیناً میرا راستہ سیدھا راستہ ہے، پس تم اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دیگر راستوں کی پیروی مت کرو کہ وہ تمہیں اس راہ (حق) سے ہٹا دیں گے ،اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات کی وصیت کرتا ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور پھر فرمایا :
’’یہ اللہ کا راستہ ہے۔‘‘
پھر اس کے دائیں بائیں کچھ لکیریں کھینچیں اور فرمایا :
’’ یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر ایک پر شیطان بیٹھا ہے جو لوگوں کو اِن کی طرف دعوت دے رہا ہے۔‘‘
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:
وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن۔‘‘(مسند احمد )
جب تک امت مسلمہ نے اس راہ حق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا اور عملی طور پر اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھا، تب تک آسمانوں سے مدد اور نصرت اترتی رہی، خلافت و تمکن حاصل ہوئے، اور دشمنوں پر اس کی ہیبت بیٹھی رہی۔ مگراس کے برعکس امت نے جب بھی حق سے منہ موڑا تو اللہ کی نصرت اور خلافت و تمکین کا استحقاق بھی کھو دیا۔ اگر کسی کو اس بات میں شک ہو تو شریعت کا مطالعہ کرکے یہ حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ اور اس پر بھی تسلی نہ ہو تو امتِ مسلمہ کی سابقہ تاریخ اور موجودہ حالتِ زار کا مشاہدہ کرنے کے بعد تو کچھ تذبذب بھی باقی نہیں رہتا۔
ہر مسلمان کے پیشِ نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ اس حوالے سے ادنیٰ سا اضطراب اور اس حقیقت کے فہم اور علم میں تھوڑا سا تذبذب بھی گمراہی در گمراہی کا باعث بن سکتاہے۔ ایک قدم پر انحراف کا نتیجہ ہر اگلے قدم پر ایک اور انحراف کی صورت میں نظر آتا ہے۔ ایک بگاڑ سے مزیدبگاڑ پیدا ہوتے ہیں، ایک فتنے سے دوسرا فتنہ جنم لیتا ہے، اور پھر گمراہی کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔
اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں راہ ِ ہدایت اور ہدایت یافتہ لوگوں کی سنت کو تھامنے کا حکم دیا ہے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نت نئی گمراہیوں اور بدعات سے دور رہنے کا حکم بھی دیا ہے ۔حدیث میں آتا ہے :
’’فانہ من یعِش منکم فسیریٰ اختلافاً کثیراً فعلیکم بسنتي و سنۃ الخلفآء الراشدین المھدیین تمسکوا بہا و عضوا علیہا بالنواجذ وایاکم و محدثات الأمور فأن کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ.‘‘(مسند احمد، ابو داود)
’’جو تم میں سے زندہ رہا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا۔ تو اس وقت تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت (طریقے) کو تھام لینا اور اس کو اپنی داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑ لینا۔اور دین میں نئی باتوں سے خود کوبچالینا۔ کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ ‘‘
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنے دل کی گہرائیوں میں بسالے!
فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِلَیْک اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم(سورۃ الزخرف:۴۳)
’’ پس تم اس بات کو مضبوطی سے تھام لو جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے ،پھر یقیناً تم صراط مستقیم پر ہوگے۔‘‘
مومن کوچاہیے کہ اسی صراطِ مستقیم کو اپنے لیے صد افتخار سمجھے ،اسی کی طرف لوگوں کو دعوت دے ، اسی کے لیے ہر قسم کی قربانی دے اور اس کے نشرو اعلان کے لیے ہر قسم کی تکلیف و صعوبت برداشت کرے۔اس کے ماسوا کی طرف ادنیٰ سے التفات سے بھی بچے ۔ خواہ اس کے ثبوت کے لیے کیسی ہی ملمع ساز دلیلیں کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ ترکِ حق کے بعد تو صرف باطل ہی باقی بچتا ہے۔ باطل کی طرف بلانے والوں کی خوش رنگ باتوں اور جمہوری دلدل میں ڈوبتے لوگوں کی کثرت دیکھ کر کسی فتنے کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ نہ ہی اس بات کو خاطر میں لائیں کہ کتنے ممالک، انجمنیں اور تنظیمیں اس باطل کے نفاذ و ترویج کے لیے کو شاں ہیں۔ باطل باطل ہی ہے چاہے کوئی بھی اس کی طرف بلائے یا اس کی تابعداری کی دعوت دے۔ اور کوئی مانے نہ مانے، حق تو حق ہی ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَاھُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(سورۃالبقرہ :۱۳۷)
’’تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں اور اگر منہ پھیر لیں تو (جان لوکہ) وہ گمراہی میں ہیں۔ سو ان کے مقابلے میں تمہیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ وَاحْذَرْھُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْک فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّصِیْبَھُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِھِمْ وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْن(سورۃ المائدۃ: ۴۹)
’’ اور ان کے درمیان اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ کیجیے ، اور ان کی خواہشات کی پیروی مت کیجیے اورمحتاط رہیے کہ یہ آپ کو اللہ کی طرف سے نازل کردہ کسی حکم سے بہکا نہ دیں،پھر اگر یہ روگردانی کریں تو جان لیجیے کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالنا چاہتا ہے، اور یقیناً بہت سے لوگ نافرمان ہیں ۔‘‘
اور جس نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا اور خالی الذہن ہوکر خالص شرعی نکتۂ نگاہ سے اِسے سمجھ لیا اور خواہشات کی لپیٹ میں آنے سے بچ رہا تو اس کے لیے نت نئے نظریات اورسیاسی و انتظامی افکار کو صحیح تناظر میں سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ممکن ہے کہ بغیر کسی تردد یا تحیّرکے ان پردرست حکم لگا سکے۔ تاکہ جسے ہلاک ہوناہو وہ واضح دلیل کی روشنی میں ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کی برکت سے زندہ رہے۔
عصرِ حاضر کی عظیم ترین مصیبت اور دینِ اسلام کو درپیش بڑی آزمائش مغرب کا یہ کفری نظام ہے جسے جمہوریت کہا جاتا ہے۔ اس کی پیدائش سر تا پا کفر میں غرق مغرب میں ہوئی، اس کی پرورش مغرب کے حیا سے عاری ماحول نے کی ……اور فسق و فجور میں ڈوبی اس دنیا میں ہی یہ نظام اوجِ کمال تک پہنچا۔ اور آج یہ نظام مسلمانوں کی غفلت ، ان کی حکومت کے ارتداد اور ان کے معاشروں کی کمزوری کے باعث مسلمان معاشروں میں پھیل چکا ہے۔ اس کے پھیلاؤ میں علماکی خاموشی اور عوام کی جہالت نے بھی گہرا حصہ ڈالا ہے،الا من رحم اللہ۔
معاشرے میں صالح قوتوں کے فقدان کی وجہ سے جمہوریت کو مسلم علاقوں میں اپنے جھنڈے گاڑنے اور زہریلے عقائد پھیلانے کا موقع ملا۔ ہمارے ہاں دو قسم کے لوگوں نے اس کے لیے اپنا دامن پھیلا دیا اور بسروچشم اسے قبول کیا۔ ایک تو بیوقوف اور نادان لوگ جو اس کفری نظام کے خوش نما دعوؤں سے دھوکے کا شکار ہوگئے اور دوسری قسم دھوکے باز مفسدین کی ہے جنہوں نے جان بوجھ کر اپنی قوم کوہلاکت کی راہ پر ڈال کر ان کو جان کنی کی حالت تک پہنچا دیا۔ لہٰذا شوریٰ کے نام پر کفر اکبر نے رواج پکڑا، آزادی کے نعروں میں فحاشی پروان چڑھی، آزادیٔ اعتقاد کے بھیس میں الحاد و زندقہ نے جڑ پکڑی، حریتِ فکر کے نام پر جاہلوں میں دین پر طعن و تشنیع کی جرأت پیدا ہوئی اور آرا کے تنوع وتعدّد کی دلیل پر یہ امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ اور ان تمام قباحتوں کے باوجود اس دینِ جدیدکی حمایت میں منبر و محراب تک سے آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ ہر قسم کے پڑھے ،سنے اور دیکھے جانے والے وسائلِ نشر و توزیع لوگوں کو اس دینِ جدید کو قبول کرنے کی دعوت دے رہے ہیں اور فوجوں کی فوجیں اس دین کی حمایت اور تنفیذ کی خاطرجمع کی جارہی ہیں۔
اللہ کی قسم !یہی دینِ جمہوریت عصرِ حاضر کا سب سے بڑا بت اورفتنہ ہے جس کی آگ نے اسلام کے روشن چہرے کو گہنا دیا ہے اور اس شفاف چشمۂ ہدایت کو گدلادیا ہے اور اگر فساد فی الارض سے روکنے والے کچھ بچے کھچے اہل علم و ایمان نہ ہوتے، تو اس دینِ متین کو اس کے نام لیواؤں ہی کے ہاتھوں اکھیڑا جاچکا ہوتا اور اس عظیم محل کی بنیادیں تعمیر کرنے والی کدالوں ہی سے اسے زمین بوس کردیا جاتا۔ لیکن اللہ ربّ العزّت کا ارادہ یہی ٹھہرا کہ اپنے دین کی حفاظت کرے اور اپنی شریعت کو باقی رکھے اور اس مقصد کے لیے اپنے کچھ ایسے بندوں کو کھڑا کرے جو اپنی زبان اور تلوار سے اس دین کے دفاع کا فریضہ سر انجام دیتے رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مصداق بنیں:
’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا، انہیں بے یارو مددگار چھوڑنے والے اوران کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امرِ(قیامت) آ جائے گا جبکہ وہ لوگوں پر غالب ہوں گے۔‘‘
باقی رہی یہ بحث کہ جمہوریت آخر ہے کیا چیزجسے مغربی سیاستدان ہم پر لاگو کرنا چاہتے ہیں ، سیکولر طبقے اس کے فروغ کے لیے تڑپے جا رہے ہیں اور جاہل مسلمان بھی اس کے پیچھے سرپٹ بھاگے جارہے ہیں۔ بلکہ ان میں بہت سے مدعیانِ علم تو اس اجنبی اورمتعفن نظام کو ’اسلامیا‘ کرکے اسے شرعی سہارا دینا چاہتے ہیں۔ اس کج فہمی کی وجہ سے، کہ اسلام اور جمہوریت ایک ہی حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں ہمیں کئی عجیب کلمات سننے کو ملتے ہیں۔ جیسے جمہوری اسلام…… یا اسلامی جمہوریت، یہ اور ایسی ہی دیگر عبارات جو جہلِ مرکب کی پیداوار ہیں اگرچہ ان کے قائلین اعلیٰ فہم و فراست کے دعوے دار ہی کیوں نہ ہوں۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



