نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home صحبتِ با اہلِ دِل!

مع الأُستاذ فاروق | بیسویں نشست

by معین الدین شامی
in جنوری 2021, صحبتِ با اہلِ دِل!
0

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمام تعریفیں، بلا شبہ اللہ ہی کے لیے ہیں۔وہ اللہ جو ہمارا ربّ ہے،ہمارا ہے،ہمارا اللہ ہے!اسی نے ہمیں پیدا کیا اور وہی ہمیں موت دیتا ہے اور بلا شبہ اس نے موت و حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ دیکھےکہ ہم میں سے کون ہے جو بہترین عمل کرتا ہے۔

مع الأستاذ فاروق، استاذ احمد فاروق کے ساتھ چند ملاقاتیں، ان کی چند یادیں، ان کی قیمتی باتیں، ان کی بعض ایسی باتیں جو مجھے خاص طور پر اچھی لگیں۔ حضرتِ استاذ سے آج تک جتنی ملاقاتیں رہیں، سب کا احوال اور سب کی سب تو یاد نہیں، لیکن جتنی ذہن میں تازہ ہیں سب ہی لکھنے کا ارادہ ہے کہ یہ ان شاء اللہ توشۂ آخرت ہوں گی، مجھ سمیت حضرتِ استاذ کے محبّین کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہوں گی۔اللہ تعالیٰ صحیح بات، صحیح نیت اور صحیح طریقے سے کہنے والوں میں شامل فرما لے۔نوٹ: ان سلسلہ ہائے مضامین میں جہاں بھی ’استاذ‘ کا لفظ آئے گا تو اس سے مراد شہید عالمِ ربّانی استاد احمد فاروق رحمہ اللہ ہوں گے۔


جواد عارف شہید[۱]

ألحمد للہ وکفیٰ والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء.

أللّٰھم وفقني کما تحب وترضی والطف بنا في تیسیر کل عسیر فإن تیسیر کل عسیر علیک یسیر، آمین!

سلسلۂ مع الأستاذ ہی کی طرز پر مصعب بھائی کا کچھ ذکر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مصعب بھائی کا اصل نام جواد عارف تھا، اولاً جہاد میں معوّذ کے نام سے معروف تھے، پھر مصعب کے نام سے اور قلمی نام ابنِ عفراء تھا۔

مصعب بھائی کا ذکر پہلی بار میں نے راہیٔ ہجرت بننے سے قبل سنا۔ میں اپنے شہر میں ایک ساتھی کے گھر میں بیٹھا تھا( اللہ اکبر، اس محفل میں میرے علاوہ تین ساتھی تھے اور تینوں آج امریکی غلام آئی ایس آئی کی خفیہ جیلوں میں ہیں، اللہ پاک ان سب کو رہائی عطا فرمائے اور ہمیں ان کی رہائی کا سبب بنائے کہ ہم ان امریکی غلاموں کے سروں پر ضربِ حدید لگائیں کہ یہ اس کے سوا اور کوئی زبان نہیں سمجھتے، آمین)، ہم کھانا کھا رہے تھے اور ایسے میں ایک نیکی کی صفت کا بیان ہوا۔ اس محفل میں سب سے بڑے اور سب سے زیادہ پرانے داعی و مجاہد فی سبیل اللہ نے اس نیک صفت کا ذکر ’مصعب‘ بھائی کی نسبت سے کیا۔ یہ صفت، نیکی کے معاملے میں سبقت اور نیکی کی بات کو زیادہ سوچ بچار کے بغیر اس پر عمل کرنے سے متعلق تھی۔ یوں میں مصعب بھائی سے پہلی بار متعارف ہوا، لیکن تعارف بس یہی تھا اور نام معوّذ ذکر ہوا۔

ارضِ ہجرت میں میری جائے آمد میران شاہ، شمالی وزیرستان تھی اور مصعب بھائی سے جائے ملاقات وانا، جنوبی وزیرستان۔ ان دو مقامات کے درمیان میرے سفر کی مدت تین ماہ ہے۔ ان تین ماہ میں بھی میں نے مصعب بھائی کی نیکی ہی کا سنا، ذکر معوّذ کے نام سے ہی ہوتا۔ اکثر ذکر یوں ہوتا کہ ’عمر میں چھوٹے ہیں لیکن نیکیوں میں بڑے ہیں‘۔

پہلی ملاقات وانا میں ہوئی، بلکہ کئی ملاقاتیں ہو گئیں، لیکن مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ جن مصعب بھائی سے میں تعلقِ محبت قائم کر چکا ہوں، یہی معوّذ ہیں جن کو میں ایک سال قبل سے غائبانہ جانتا ہوں۔

مصعب بھائی کو میں نے اپنے گرد موجود مسلمانوں کا قدر دان پایا، ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال رکھنے والا، ان کے لیے سامانِ راحت بہم کرنے والا اور ارد گرد کے لوگوں کو تکلیف نہ پہنچانے والا۔

مصعب بھائی بعض اصولوں پر سختی سے کاربند ہوتے اور عمومی انسانی مزاج میں اصول پسندی کے معاملے میں تساہل کا عنصر پایا جاتا ہے۔ دنیا کی اکثریت ایک مقررہ وقت اور مقررہ اصولوں پر چلتی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ چلتی نہیں ہے چلائی جاتی ہے، اس میں ’جبر‘ کو دخل حاصل ہے۔ اسی جبر یا اصول پسندی کے سبب اصول پسند لوگ یا اصولوں کو نافذ کرنے والے لوگ عموماً لوگوں میں محبوب نہیں ہوتے بلکہ کثیر تعداد مبغوض ہوتی ہے یا اگر مبغوض سخت تبصرہ ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ کم از کم محبوب نہیں ہوتی۔ مصعب بھائی کو میں نے جس ایک اصول پر سختی سے کاربند پایا تو وہ ’امنیت‘ یا ’احتیاطی تدابیر‘ تھا۔ مصعب بھائی امنیت میں سخت تھے اور بظاہر ’خشک‘ بھی محسوس ہوتے تھے، لیکن اس اصول پسندی اور سختی کے باوجود محبوب بھی تھے۔

میری نظر میں اس کا سبب اولاً ان کی نیک نیتی اور ثانیاً ساتھیوں کے ساتھ نرمی کا اور محبت کا رویہ تھا۔وہ امنیت میں خوب زبردست تھے لیکن جس قدر نرمی کی جاسکتی کرتے اور دیگر تمام معاملات میں بھی نرم ہوتے اور ان کا انگ انگ محبت کا اظہار کر رہا ہوتا۔ بالفرض اگر کسی کو ان کی امنیت میں اصول پسندی کی وجہ سے ان سے طبیعت میں ’دوری‘ محسوس ہوتی بھی تو ان کی دیگر معاملات میں محبت و نرمی مخصوص شخص کو سوچنے پر مجبور کر دیتی کہ یہ آدمی برا نہیں ہے، پھر وہ امنیت میں سختی کا سبب سمجھ پاتا یا نہیں لیکن ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ ایک بار کسی نے ان سے حضرت امیر المومنین سید احمد شہیدؒ کے حوالے سے ’چھیڑنے‘ کی غرض سے پوچھا کہ کیا ان کے یہاں بھی امنیت ہوتی تھی؟ تو مصعب بھائی نے بڑے مزے سے ، لمبا سا ’ہاں‘ کہا اور کہا کہ ’بہت ہوتی تھی‘، محفل میں موجود سب ہی لوگ مسکرا اٹھے۔

مصعب بھائی کا معاملہ ایسا تھا کہ ہر کوئی ان کے بارے میں یہ خیال کرتا کہ یہ مجھ سے ہی زیادہ محبت کرتے ہیں، حالانکہ یہ بات بالکل بھی ضروری نہیں تھی۔

مصعب بھائی وقت کو قیمتی بنانے والوں میں سے ایک تھے۔ اگر کوئی محفل ’فائدہ مند‘ نہ ہوتی تو میں نے اکثر دیکھا کہ ’ایم پی تھری پلیئر‘ سے ائیر فون لگاتے اور کسی درس وغیرہ کو سننے میں مگن ہو جاتے۔ اکثر شیخ انور العولقی کو سنتے جو اس وقت حیات تھے۔ شیخ انور کا ذکر آ ہی گیا تو عرض کروں کہ مصعب بھائی شیخ انور سے بہت خاص تعلق رکھتے تھے (جو ظاہر ہے کہ شیخ شہید کے اکثر محبین و مداحین کی طرح غائبانہ ہی تھا)، لیکن یہ تعلق والہانہ بھی تھا اور دیوانہ وار بھی۔ مجھے یاد ہے کہ شیخ انور کا ایک ویڈیو بیان سنہ ۲۰۱۱ء کے اوائل میں آیا، مصعب بھائی کو معلوم ہوا تو وہ دیوانہ وار اس بیان کو سننے اور دیکھنے کو لپکے۔

ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ گھر رابطہ رکھتے ہیں؟ (مجھے معلوم نہیں تھا کہ ان کا گھرانہ پورا ہی مہاجر ہے)۔ کہنے لگے کہ پہلے رکھتا تھا، پھر اللہ نے غنی کر دیا۔ میں سمجھا نہیں اور کہا کہ میں سمجھا نہیں تو بولے کہ وہ یہیں ہوتے ہیں۔

یوں تو چھوٹی سی بات ہے، ایک بار میں نے ان سے قلم منگوایا۔ انہوں نے فوراً جیب سے ایک ’پوائنٹر‘ نکال کر دے دیا، میں نے کہا، مجھے کالے رنگ کا چاہیے یہ نیلا ہے، تو فوراً واپس لے لیا اور شام کو نیا، کالے رنگ کا لا دیا۔ پھر کئی مہینے یا پھر سال سے بھی زیادہ گزر گیا اور کسی اور محفل میں مجھے قلم کی ضرورت پڑی، کسی نے جیب سے نیلا قلم نکال کر دیا تو انہوں نے فوراً اپنی جیب سے کالا قلم نکال کر دیا اور کہا ’ان کو تو کالا قلم چاہیے‘ اور دھیما سا مسکرائے۔

مستقل تہجد گزار تھے۔ میں نے طویل عرصہ ان کے ساتھ گزارا تو محض اٹھارہ انیس سال کی عمر میں تہجد پڑھتے تھے اور کم بھی نہیں عموماً گھنٹہ گھنٹہ پڑھتے تھے۔

حافظِ قرآن تھے اور خود ہی حفظ کیا تھا۔ حافظِ قرآن بھی تھے اور عاشقِ قرآن بھی۔ مصحف مستقل جیب میں ہوتا، لمبی لمبی تلاوت کرتے، اس کو یاد رکھتے، تفسیر سبقاً پڑھتے اور جو عالِم میسر آتا تو اسے معارف و مسائل پوچھتے اور ان کے اصل استاذ و مرشد تو ’استاذ‘ ہی تھے۔ رمضان میں تراویح میں قرآن پاک تلاوت کرتے اور تراویح میں عموماً رائج طریقۂ تلاوت ’حدر‘ کے بجائے ’ترتیل‘ یعنی خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے اور اہلِ ہمت ہی ان کا ساتھ تراویح میں دے پاتے۔ یہ نفلی نماز کی بات ہے نہ کہ فرض نماز کی، اور نفلی میں بھی وہ کسی کو مجبور تھوڑا ہی کرتے تھے کہ میرے پیچھے نماز پڑھو، اس لیے جیسا علما سے سنا سیکھا ہے تو یہ مستحسن ہی قرار پائے گا۔

والدہ کی بے مثال خدمت کرتے۔ میں بہت زیادہ تفصیل تو نہیں جانتا لیکن سنا کہ والدہ کے بیت الخلاء جانے سے پہلے لوٹے میں پانی بھر کے رکھتے، وضو کرواتے۔ والدہ کے بہت محبوب تھے۔ محبوب تو ماں کو ہر بچہ ہی ہوتا ہے، لیکن یہ محبوب اپنی صفات کے سبب تھے، بلکہ اعلیٰ صفات کے سبب۔

طبعاً درویش مزاج تھے۔ جھوٹا کھا لیا، موٹا پہن لیا۔ بہت سی چیزوں کی خبر ہی نہ ہوتی۔ ہمارے اسلاف میں کئی بزرگوں کے جیسے واقعات سنے ہیں تو اس طرح کی درویشی ان میں دیکھی بھی اور سنی بھی۔

خدمت میں بھی خوب آگے آگے ہوتے۔ میں نے ایسا وقت کم ہی ان کے ساتھ گزارا کہ ہم کسی مرکز میں ہوں اور وہاں خدمت کے مواقع بھی ہوں، اکثر وقت اکٹھے مہمان خانوں میں یا مراکز میں بطورِ مہمان ہی اکٹھا گزرا۔ لیکن جب ان کے گھر سے ہمارا ایک مرکز متصل تھا اور ہم ساتھی اپنا کھانا خود پکاتے تھے تو یہ بھی آ جاتے اور بعض دفعہ تو پورا کھانا ہمارے لیے پکاتے لیکن خود چکھتے بھی نہیں تھے۔ پھر جسمانی خدمت بھی خوب کرتے جس میں تھکاوٹ زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً کسی کے یہاں ہینڈ پمپ ٹھیک کرنے کے لیے پائپ اور سلاخوں کو نکالنا ہے یا پانی کی کنویں میں اتاری جانے والی مشین (submersible) اتارنی ہے یا پانی کے کین ڈھو ڈھو کر پانی بھرنا ہے تو اس سب میں مستعد ہوتے ۔

بلا کے ذہین تھے۔ بہت کم عرصے میں عربی زبان جدید طریقۂ تعلیم کے مطابق سیکھی۔ اس کے لیے ’مدینہ کورس بکس‘ یا ’تعلیم اللغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بہا‘ مؤلفہ دکتور ف. عبد الرحیم سے استفادہ کیا۔ یہ کتاب استاد آصف علی مہر صاحب نے پڑھائی ہے اور اس کی ویڈیوز موجود ہیں، جنہیں دیکھ کر یا سن کر یہ کتاب پوری پڑھی جا سکتی ہے۔ غالباً برادرِ محترم داود غوری نے یہ بات کہی جو خود بھی استاد آصف علی مہر صاحب کے شاگرد ہیں کہ آصف علی مہر صاحب ہر درس کے شروع میں یا آخر میں یہ دعا کرتے ہیں کہ ……وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاماً، تو یہ دعا تو ان کی قبول ہو گئی ان شاء اللہ کہ ان سے کتنے ہی لوگوں نے استفادہ کیا ہے اور عربی سیکھی ہے۔ آصف علی مہر صاحب کے چند متقی شاگردوں میں، جنہیں میں جانتا ہوں تو ان میں شہید انجنيئر ملک محمد عادل (سہیل بھائی، استادِ بارود و برقیات)، شہید انجنیئر حافظ خرم حفیظ (حافظ سعد صاحب جو مصعب بھائی کے بہنوئی بھی تھے)، شہید انجنیئر چودھری عفان غنی ( ریحان بھائی، یہ بھی مصعب بھائی کے بہنوئی تھے1 ما شاء اللہ و الحمدللہ…… ایں خانہ تمام آفتاب است!)، شہید قتادہ کشمیری (یہ بھی مصعب بھائی کے بہنوئی تھے)، شہید سافٹ وئیر انجنیئر علی سلمان اشرف ملک اعوان (ہشام گل بھائی، یہ بھی مصعب بھائی کے بہنوئی تھے)، شہید سافٹ وئیر انجنیئر وقاص احمد (طیب بھائی)، شہید کیڈٹ ڈاکٹر عبد الرافع (عبدالودود زاہد بھائی)، شہید صدام حسین (یعقوب بنگلہ دیشی بھائی) رحمۃ اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں، ان کے علاوہ بھی استاد آصف علی مہر صاحب کے بہت سے حیات مجاہد شاگرد موجود ہیں2ان شاء اللہ، روزِ قیامت اپنے نامۂ اعمال میں اتنے مجاہد شاگردوں کے نام دیکھ کر استاد آصف علی مہر صاحب خوش ہو جائیں گے! (حفظھم اللہ وفقھم اللہ)۔ خیر اس کے بعد مصعب بھائی نے روایتی طریقے سے بھی صرف و نحو پڑھنی شروع کی از کتاب ’عربی کا معلم‘۔

خود اپنے تعلیمی معمول کے متعلق انہوں نے اپنے اور ہمارے شیخ و مرشد ’استاذ احمد فاروق‘ کے نام اپنے آخری خط میں لکھا:

’’میرے وقت کا آدھا حصہ (مکمل نصف حصہ) آپ کے امر کے مطابق تحصیلِ علم کے لیے مختص ہے۔ بلکہ میری اپنی خواہش تو اس نصف کو دو ثلث اور اس سے بھی زیادہ بلکہ کاملاً علم کے لیے وقف ہو جانا ہے……

……تفسیرِ ابنِ کثیر، معارف الحدیث (اور) فقہِ حنفی (کتاب) پڑھ رہا ہوں…… یہ کتاب (عربی کا معلم) باضابطہ شروع کر رکھی ہے۔‘‘

یہاں تین باتیں ’تحصیلِ علم‘ کے ذکر پر مزید ذہن میں آ گئیں، دو مصعب بھائی کے حوالے سے اور ایک عموماً مجاہدین کے حوالے سے۔

مصعب بھائی جب کوئی چیز پڑھتے، خاص کر تعلیمی انداز میں تو اس کو اپنے اندر اتار لیا کرتے تھے یا ہضم کر لیتے تھے۔ لہٰذا جب وہ ذکر کرتے ہیں کہ میں تفسیرِ ابنِ کثیر پڑھ رہا ہوں، معارف الحدیث پڑھ رہا ہوں اور فقہ میں ’فقہِ حنفی‘ تو یہ پڑھنا اس انداز کا نہیں ہے جیسے ہم عام لوگ پڑھتے ہیں کہ ’ آگے دوڑ پیچھے چھوڑ ‘۔ ساتھ میں ایک اور خوبی جو شاید تواضع کا ایک باب ہو، مصعب بھائی میں یہ تھی کہ جو جو علم اندر انڈیلتے تو فوراً ظاہر نہ کرتے یعنی ہر جگہ بولتے نہ تھے۔ ایک بار استاذ نے بتایا کہ شیخ عطیۃ اللہؒ نے ایک محفل میں کہا:

’’طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ جو علم حاصل کرے تو اس کو جذب کرے، فوراً ہی (تقریر و خطبے کی صورت میں ) باہر نہ نکال دے۔‘‘

مجاہدین کے تحصیلِ علم کے حوالے سے بات پر بھی استاذ ہی کا ایک قول یاد آ گیا۔ ایک بار کہنے لگے کہ مجاہدین جو تحصیلِ علم کرتے ہیں تو یہ عموماً رسمی انداز میں نہیں ہوتا اور عموماً رسمی انداز میں مجاہدین کے لیے تحصیل ممکن بھی نہیں ہے۔ پھر استاذ نے میدانِ جہاد کے دو تین علما کا ذکر کیا ۔ للأسف، مجھے ان میں سے صرف شیخ عطیۃ اللہ کانام ہی یاد رہ گیا ہے۔ مجاہدین اور علمِ دین کے تعلق کی بہترین مثال بلکہ وسیع ترین مثال ’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘ ہے۔ ’طالبان‘ کی کثیر تعداد واقعی ’طالبانِ علم‘ ہے۔ عام درجے کا مجاہد یا طالب بنیادی کتبِ درسِ نظامی پڑھا ہوتا ہی ہے، لیکن امارت میں ضلعی قائدین کے درجے پر (جو انتظامی طور پر سب سے چھوٹا درجہ ہے)شاذ ہی کوئی ذمہ دار ایسا ہو گا جو مکمل عالم یا ’مولوی‘ نہ ہو، ورنہ درجۂ مشکوٰۃ شریف تک تو پڑھا ہوتا ہی ہے۔ پھر یہ سب ’ملا‘ و ’مولوی‘ حضرات مجاہد بھی ہوتے ہیں۔ ان کی عمریں عام طور پر پچیس سے پینتیس سال کے پیٹے میں ہوتی ہیں اور ان میں اکثر کو جہاد کرتے ہوئے پندرہ پندرہ سال ہو چکے ہوتے ہیں۔ جہاد اور مجاہدین کی زندگی سے واقف لوگ خوب جانتے ہیں کہ جہاد میں اتنا فاضل وقت نہیں ہوتا کہ باقاعدہ علمِ دین حاصل کیا جائے، جبکہ دوسری طرف یہ ضروری بھی ہے۔ یہ سب طالبان سال میں کم از کم دو سے ڈھائی ماہ رسماً علم حاصل کرتے ہیں۔ ایک کتاب ایک جگہ پڑھی، دوسری دوسری جگہ، تیسری تیسری جگہ۔ جو تحصیلِ علم کے شوقین ہیں یا جو مجاہدین پڑھنے لکھنے کا مزاج رکھتے ہیں یا ذہین ہیں تو ان کو ان کے امرا یا ذمہ داران باقاعدہ مدارس میں بھی داخل کرواتے ہیں۔ دن میں یہ مجاہد طالبِ علم ہوتا ہے اور رات میں یہ طالب مجاہد بن کر پہرہ دیتا ہے۔

علمائے کرام نے حضراتِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حصولِ علم کا طریقہ بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔ کتنے علما صحابہ دورِ مدنی میں ایمان لائے۔ یہ دور کل کتنا ہے؟ محض دس سال! اور دس سال میں ستائیس (۲۷)غزوات بنفسِ نفیس حضور ؐ نے لڑے، جبکہ تہتر (۷۳) سرایا نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمائے۔ سو سے زیادہ جنگیں محض دس سال میں، یعنی تناسب نکالیں تو ہر سال دس جنگیں۔ پھر صحابہ میں کون ہے جو پیچھے رہ جائے، خاص کر غزوات میں تو کوئی بھی پیچھے نہیں رکتا، الّا یہ کہ کوئی عذر ہو یا حضورؐ خود روک دیں۔ اسی کے ساتھ یہ علم بھی حاصل کرتے ہیں۔

آج صحابہؓ کے روحانی بیٹے بھی مثلِ صحابہ ہیں۔ ان میں جو طلبائے علم ہیں وہ کچھ یہاں، کچھ وہاں، کچھ آج، کچھ کل، تھوڑا تھوڑا، آہستہ آہستہ، یوں علمِ دین پڑھتے ہیں۔ اللہ پاک مجھے بھی اپنے دین کا طالبِ علم بنا لے، آمین۔

مصعب بھائی جہاد میں آنے سے قبل ’بیکن ہاؤس‘ میں پڑھتے تھے اور وہاں رائج او لیولز (کیمبرج)کے طریقِ تعلیم کے مطابق تین سالوں میں سیکنڈری درجے کی تعلیم مکمل کروائی جاتی ہے، یعنی آٹھویں جماعت کے بعد تین جماعتیں مزید ہوتی ہیں۔ مصعب بھائی او لیولز کے پہلے درجے میں (O1) تھے جب وہ راہِ ہجرت کے راہی بنے۔ اپنی اس جماعت (O1)میں بھی اور اس سے قبل بھی مستقل اعلیٰ پوزیشن حاصل کرتے رہے۔ ڈسٹنکشن (distinction) کیمبرج و لندن امتحانات میں ایک ایسا درجہ ہوتا ہے (گو یہ نظام ہمارے بعض مدارسِ دینیہ میں بھی موجود رہا ہے) کہ اگر کوئی طالبِ علم غیر معمولی نمبر حاصل کر لے تو اس کو دیا جاتا ہے، یعنی عام اعلیٰ گریڈز اور عام اعلیٰ نمبروں سے بھی زیادہ، حتیٰ کہ بعض مرتبہ سو نمبر کے پرچے میں سو سے زیادہ بھی نمبر قابلیت کے سبب دے دیے جاتے ہیں۔ راقم بیکن ہاؤس کے داخلی امتحانی نظام سے واقف نہیں لیکن مصعب بھائی کے ایک قریبی رشتہ دار کے بقول انہوں نے اس میں (O1 میں)ڈسٹنکشن حاصل کی۔ یہ نظام ہو یا نہ ہو لیکن مصعب بھائی ایسی قابلیت والے شخص ہی تھے۔

مصعب بھائی کے ذکر کی پہلی وعدہ کردہ مجلس یہیں روکتا ہوں۔ اللہ پاک توفیق دے کہ ان کی زندگی کے بعض دیگر پہلو جو شاید زیادہ اہم ہوں خاص کر جہاد و قتال کی خدمت کے پہلو ، تو ان پر اگلی محفلِ استاذ میں لکھ سکوں۔

وما توفیقي إلّا بالله. وآخر دعوانا أن الحمدللہ ربّ العالمین.

و صلی اللہ علی نبینا و قرۃ أعیننا محمد و علی آلہ و صحبہ و من تبعھم بإحسان إلی یوم الدین.

(جاری ہے، ان شاء اللہ)


  • 1
    ما شاء اللہ و الحمدللہ…… ایں خانہ تمام آفتاب است!
  • 2
    ان شاء اللہ، روزِ قیامت اپنے نامۂ اعمال میں اتنے مجاہد شاگردوں کے نام دیکھ کر استاد آصف علی مہر صاحب خوش ہو جائیں گے!
Previous Post

جمہوریت…… ایک دینِ جدید | حصہ اول

Next Post

اللہ کی راہ میں نکلنے والے سب ہی اچھے لوگ ہیں | پندرہواں خط

Related Posts

مع الأستاذ فاروق | انتیسویں نشست
صحبتِ با اہلِ دِل!

مع الأستاذ فاروق | بتیسویں نشست

26 ستمبر 2025
مع الأستاذ فاروق | انتیسویں نشست
صحبتِ با اہلِ دِل!

مع الأستاذ فاروق | اکتیسویں نشست

17 اگست 2025
مع الأستاذ فاروق | انتیسویں نشست
صحبتِ با اہلِ دِل!

مع الأستاذ فاروق | تیسویں نشست

14 جولائی 2025
مع الأستاذ فاروق | انتیسویں نشست
صحبتِ با اہلِ دِل!

مع الأستاذ فاروق | انتیسویں نشست

15 نومبر 2024
مع الأستاذ فاروق | انتیسویں نشست
صحبتِ با اہلِ دِل!

مع الأستاذ فاروق | اٹھائیسویں نشست

28 ستمبر 2023
مع الأستاذ فاروق | انتیسویں نشست
صحبتِ با اہلِ دِل!

مع الأستاذ فاروق | ستائیسویں نشست

23 مئی 2023
Next Post

اللہ کی راہ میں نکلنے والے سب ہی اچھے لوگ ہیں | پندرہواں خط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version