اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام
لا کر بَرہمنوں کو سیاست کے پیچ میں
زُناّریوں کو دَیرِ کُہن سے نکال دو
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات
اسلام کو حِجاز و یمن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
مُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو
اہلِ حرم سے اُن کی روایات چھِین لو
آہُو کو مرغزارِ خُتن سے نکال دو
اقبالؔ کے نفَس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو!
ابلیس کا منشا یہ ہے کہ صدیوں تک بت خانوں میں پوجا پاٹ کرتے زنّار بند ہندوؤں کو ان کے مندِروں سے نکال کر سیاست و سیادت کے ایوانوں میں لایا جائے۔ برِّ صغیر میں جو برہمن صدیوں سے مندروں اور بت خانوں کی نیازیں کھا رہے تھے، وہ مسندِ اقتدار پر بیٹھیں اور اپنا مذہبِ ’ہندوتوا‘ رائج کریں جیسے آج ’مودی‘، ’اَمِت شَا ‘ و ’یوگی ادتیا ناتھ‘ کی صورت میں ہو رہا ہے۔
مسلمانِ غیور اور مومنِ جسور جس کے ہر شوق و مستی کی انتہا ، ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ کی خاطر گردن کٹوا دینا ہے، جو پیٹ پر پتھر باندھ کر، مشقتیں جھیل کر، قربانیاں دے کر دینُ اللّٰہ کو نافذ کرنے کے مشن میں مگن ہے…… اس کے اس جذبے کا سبب ’محمد رسول اللّٰہ‘ پر ایمان ہے۔ یہ روحِ محمد (علیہ الف صلاۃ وسلام) یعنی اتباعِ سنتِ محمدؐ ہے، جو مومن کو ہر مشکل سے ٹکرا جانے کا حوصلہ بخشتی ہے۔ ابلیس نے اپنے سیاسی فرزندوں کو یہی نصیحت کی ہے اور یہ سیاسی فرزند اس نصیحت پر خوب عامل بھی ہیں کہ اگر ’اتباعِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘ اس مسلم و مومن کے قلب و عمل سے نکال دی جائے تو اس کا وجود ایک مٹی کے پتلے سے زیادہ کچھ نہیں۔
جزیرۂ عرب، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مولد و وطن، جہاں سے دینِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پھوٹا ، پھلا اور پھولا، وہاں جدیدیت، ماڈرن ازم، سیکولر ازم، عریانی و فحاشی، بادہ نوشی و عیاشی، موسیقی و مصوری پھیلا کر اسلام کو حجاز و یمن سے نکالنا ابلیس کی خواہش ہے جسے اقبالؒ نے بیان کیا۔ لیکن اقبال کو کیا معلوم کہ آج ابنِ زاید و ابنِ سلمان کی صورت میں وہاں بدیسی فرنگی نہیں، بدیسی فکر و قلب کے یہودی مسلط ہیں جنہوں نے وہاں مطمحِ ابلیس سے بڑھ کر کفرو فسقِ ابلیسیت مسلط کر رکھا ہے۔
ابلیس و اصحابِ ابلیس خوب جانتے ہیں کہ افغانیوں کی غیرتِ دیں کا علاج ’ملّا‘ کو وہاں سے نکال دینا ہے۔ الحمد للہ، یہ ’ملّا‘ ہی ہیں جنہوں نے ’معراجِ انسان پرستی‘ کے دور میں ، دین کو اس کی اصل تعبیر کے ساتھ نافذ کیا ہے۔ دو دِہائیاں پیش تر ابلیس نے اپنے حواریوں کو ابھارا تھا اور وہ ’ملّائے افغان‘ کو مٹانے آئے تھے، لیکن ’پھونکوں سے یہ چراغ بجھائے نہ بجھے گا‘!
ترکستان کا خُتن جس کی مشک دنیا بھر میں مشہور ہے اور آہو یعنی ہرن جس سے مشکِ قیمتی کشید کی جاتی ہے ، اس ہرن کو ترکستان سے نکال دو۔ اشارتاً یہ ہرن جس کی مشک نے دنیا بھر کو معطر کیا، وہ تُرکانِ مسلم ہیں جنہوں نے پرچمِ اسلام کو صدیوں بلند رکھا۔ کاشغر و سمرقند و بخارا، اسی ترکستان کے علاقے ہیں جو علم و تہذیبِ اسلام کے مراکز رہے۔ انہی ترکوں میں وہ ترکانِ عثمانی بھی ہیں جنہوں نے نفاذِ شریعت کی مشک سے دنیا بھر کو معطر کیے رکھا اور ابلیس و اس کے کارندے کسی درجے میں اس سازش میں سقوطِ خلافتِ عثمانیہ کی صورت کامیاب بھی ہوئے اور آج مشرقی ترکستان (سنکیانگ)میں ملحد چینی اژدھا اس ’آہوئے مسلم ‘کو نگلنا چاہتا ہے۔
وہ داعیانِ اسلام جو آج دنیا بھر میں اہلِ ایمان کو بیدار کرنے کی محنت میں لگے ہیں، ان کی آواز کو ہر وسیلہ بروئے کار لا کر دبا دیا جائے کہ ان کی تقریر و تحریر میں، شعر و نثر میں اور ترانے و خطاب میں وہ جِلا دیتی ہوائیں ہیں جس سے آتشِ عشقِ اسلام دِلوں کی بھٹیوں میں بھڑکتی ہے اور رگوں میں دوڑتے خون کو گرماتی ہے۔ اس فرمانِ ابلیس کی تکمیل میں کبھی شاہ عبدالعزیزؒ جیسوں کے شانے اکھڑوائے جاتے ہیں اور کبھی عبدالرشید غازیؒ جیسوں کو قتل کیا جاتا ہے۔



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



