تُو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفےٰ پنہاں بگیر
اے اللہ! تو دونوں جہانوں کا مالک و عطا کرنے والا ہے، میں تیرا محتاج و فقیر بندہ ہوں۔ قیامت کے دن میرے عذر قبول فرمانا۔ اگر میرے اعمال کا حساب لینا ناگزیر ہی ہو، تو اسے میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا۔
اہلِ غزہ کے ساتھ یکجہتی کی خاطر مظاہرہ ضرور کیجیے |
لیکن اس مظاہرے کے بعد شام کو گھر واپس لوٹنے پر آپ کو اہلِ غزہ کا حق ادا کر دینے کا احساس ہو، آپ کا ضمیر ایک فیصد بھی کچھ مطمئن ہو، تو جان لیجیے آپ نے کچھ کمایا نہیں، بلکہ سڑک پر ہونے والے اس مظاہرے میں مطلوب جذبہ چھوڑ آئے ہیں!
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں: اقبالیات |
ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں
عاشق نے عشق کے کوہِ طور پر کہا کہ اے محبوب میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں، حالانکہ اس کو معلوم ہے کہ وہ محبوب کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ لیکن دراصل عاشق اتنا شوخ طبع ہے، عشق میں ایسا ڈوبا ہوا ہے کہ محبوب کی آواز بار بار سننے کے لیے ضد کرتا ہے کہ میں نے تجھے دیکھنا ہے۔ تاکہ محبوب جواب میں بار بار کہے ’لن ترانی‘ تُو مجھے دیکھنے کی سکت نہیں رکھتا اور عاشق اس انکار کی صورت محبوب کی آواز سن سن کر محظوظ ہوتا رہے۔
’قراردادِ مقاصد‘ سے ’یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے‘ تک |
’قراردادِ مقاصد‘ میں درج ہے کہ اس ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ لیکن شریعت بل، حسبہ بل ردی کی ٹوکری میں، حقوقِ نسواں بل، ٹرانس جینڈر ایکٹ آئین کا حصہ ہیں۔ (ہم سے بے جا بحث نہ کیجیے گا آئین کو پڑھ لیں)
پاسپورٹ پر درج ہے ’یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے‘ اور اس جملے کی بنیاد پر ’فیصلہ و فتویٰ‘ یہ ہے کہ ہم اسرائیل کو قائدِ اعظم کے قول کے موافق ’ناجائز‘ کہتے ہیں۔ لیکن #شرم_الشيخ جانے سے قبل و بعد ہم کہتے ہیں کہ ہم 1967ء کی سرحدوں کو مانتے ہیں، حالانکہ 1967ء کی سرحد کو ماننے کا مطلب اسرائیل کو ماننا ہی ہے۔ (ہم سے بے جا بحث نہ کیجیے گا ان حدودِ جغرافیہ کا مطالعہ کر لیجیے خود سے)
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
پاکستانی فوج اور امارتِ اسلامیہ کی جنگ |
پاکستانی فوج و افغانستان کی جنگ کے کچھ پہلوؤں کو سمجھنا لازمی ہے۔
پاکستانی فوج نے افغانستان پر ظلماً حملہ کیا، عاصم منیر کے پچھلے اتنے ماہ کی امریکہ یاترا، نایاب معدنیات کی فروخت، امریکہ کو اڈوں کی پیش کش اور اس کے بدلے میں سرزمینِ افغانستان میں مجاہدین کی سرکوبی کے لیے امریکی اجازت، حمایت اور مدد ثم اس سب کے نتیجے میں ایک حساس وقت پر جب افغانستان کے وزیرِ خارجہ ہندوستان کے دورے پر تھے، سیاسی چال چلتے ہوئے پاکستان فوج کا کابل پر حملہ، امارتِ اسلامیہ کا پاکستان فوج پر جوابی حملہ وغیرہ۔
اللہ کی شریعت میں جو حلال ہے وہ حلال ہے اور جو حرام ہے وہ حرام ہے، سیاہی خشک ہو چکی اور قلم رکھا جا چکا ہے۔ تا قیامت اب اگر امام مہدیؓ ہی کیوں نہ آ جائیں وہ اللہ کی شریعت کے پابند و تابع ہوں گے، معاشرت سے تجارت و معیشت تک اور جہاد و خلافت تک۔
امارتِ اسلامیہ نے اگر ہندوستان کے ساتھ تعلق بنایا ہے تو اس کی نوعیت اصولاً تجارتی ہے، اب سوال یہاں سیاسی اٹھتا ہے نہ کہ شرعی، شرعی نکیر امارت پر تب ہو سکتی ہے جب امارت ہندوستان کے کفری اتحاد کا حصہ بن جائے (حاشا وکلّا) اور ان کی اتحادی بن کر مسلمانوں کے خلاف ظلم و تعدی پر آمادہ ہو جائے (فأعاذنا اللہ منہ)۔ جبکہ پاکستانی فوج پچھلے پچیس سال سے امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی ہے اور کابل میں حملہ ہو یا ٹرمپ سے معدنیات و اڈوں کے بدلے عاصم منیر کی ڈیل، یہ سب امریکہ کے مفاد کی خاطر، اس کا اتحادی بن کر مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کے زمرے میں داخل ہے۔
لہٰذا پاکستانی فوج کا اس جنگ میں جرم بہت واضح اور بہت بڑا ہے، خاص کر کہ جب پاکستانی فوج افغانستان کے عوامی مقامات، گھروں اور بازاروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اب اس جنگ میں پاکستانی فوج کی اندھی حمایت، وطنی تعصب پر مبنی ہے، یہ جہالت اور عصبیت کی آواز ہے چاہے اس آواز کو اہلِ دین ہی آج کیوں نہ اٹھا رہے ہوں! مدینہ طیبہ میں انصار و مہاجرین کے درمیان ایک نا خوشگوار واقعے پر رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جہالت و عصبیت ہی سے تعبیر فرمایا تھا، حالانکہ وہ خیر القرون کا زمانہ تھا۔
ساتھ ہی کچھ افغانوں کا اس جنگ کو نظامِ اسلامی اور شرعی حدود کے دفاع کے بجائے پنجابیوں کے خلاف جنگ کا رخ دینا اور پاکستان جو اہلِ افغانستان کا دارِ ہجرت، جہاد میں پاکستانی عوام جو افغانوں کے انصار رہے اور چھ لاکھ مسلمانوں کی شہادتوں کے نتیجے میں بننے والے ملک (اگرچہ وہاں اسلام نافذ نہ ہوا) کو سیدھا سیدھا اسرائیل کہہ دینا بھی ظلم ہے۔
پاکستانی ہو یا کوئی افغانی ہو، دونوں کو اللہ اپنی شریعت کا اتباع اور شریعت کے نفاذ کا حکم دے رہا ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
’’اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کیا کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرو، یقین جانو کہ اللہ تمہارے کاموں سے خوب واقف ہے۔‘‘
بی بی سی ایک مغربی ابلاغی ادارہ! |
بی بی سی، ”نیوز“ یا ”خبروں“ کا کوئی ادارہ نہیں، بلکہ ایک نہایت منظم ابلاغی؍ مشنری؍پروپیگنڈا کا ادارہ ہے۔ جس کا بنیادی مقصد رائے سازی، ذہن سازی اور جدید مغربی نظام کی تبلیغ و ترویج ہے۔ بی بی سی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے حالاتِ حاضرہ اور خبروں کو استعمال کرتے ہوئے تہذیبِ جدید کے افکار، عقائد اور مبادیات کو ”خبروں“ کی شکل میں بیان کرتا ہے، اور بس!
ہماری دیسی فیمنسٹس بھی کمال ہیں |
یہ اعلانیہ نہ سہی تو خفیہ تو ضرور ہی ’میرا جسم میری مرضی‘ کی قائل ہیں۔ لیکن ان Gender Equality کی چیمپئن اور پدر شاہی نظام کی باغی فیمنسٹس کو کوئی ہاتھ لگا دے، تو یہ ’بہن بیٹی‘ بنتے اور ’عورت‘ کی عزت ہونی چاہیے کی قائل ہوتے دیر نہیں لگاتیں۔
وہی قمیض…… قصۂ یوسف و یعقوب علیہما السلام |
وہی قمیض جو کل اُن کے لیے خون آلود ہو کر پیغامِ غم لائی تھی، ایک دن ان کے لیے ان کے محبوب کی خوشبو اور بینائی لوٹنے کا سامان بھی بنی۔
اللہ سے حسنِ ظن رکھیے، وہ غم و حزن کو ختم کرنے والا، دنوں کو پلٹنے والا اور مومنوں کو ضائع نہ کرنے والا ہے!
(ایک عربی دعوتی صفحے سے منقول و ماخوذ)
٭٭٭٭٭












