اصولاً تو جشن بہاراں، بہار ہی میں منایا جانا چاہیے، لیکن کیا کیجیے کہ حسنِ کرشمہ ساز، معاف کیجیے گا، کہنے کا مطلب ہے کہ اربابِ اختیار کے یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول ہی چلتا ہے۔ پس گر انہوں نے کہہ دیا کہ بہار، شدید سردی میں منائی جائے گی تو بھلا کسی کی کیا مجال کہ چوں بھی کرے۔ لہٰذا فٹ کپڑے اتار، یعنی گرم کپڑے، ڈوریں پتنگیں زنانیاں گاجے باجے سنبھالے، شیر (شیر تو بوڑھا بھی ہو تو شیر ہی ہوتا ہے) چھتوں پر جا پہنچے، پھر نہ ملک کی دگرگوں معیشت انہیں روک سکی اور نہ ہی لوڈشیڈنگ ان کے عزائم کے آڑے آئی، نہ سردی اور چادر و چاردیواری کا لحاظ ہی ان کی راہ میں حائل ہوا اور نہ ہی پڑوسیوں کے بنائے اور دیگر فحش گانوں وغیرہ پر بین ہی ان کا راستہ روک سکا۔ بو کاٹا کی گونج میں، اسلام آباد میں ہونے والے قتل عام کی خبر بھی معدوم ہو گئی اور زخمیوں اور مقتولین کے لواحقین کی آہ و بکا کی آوازیں بھی دب گئیں۔ بھئی وہ جوش ہی کیا جسے کسی دوسرے کا غم ٹھنڈا کر دے اور وہ جشن ہی کیا کہ جو خون کے چند چھینٹوں سے داغ دار ہو جائے! ہم تو وہ ہیں کہ جنہوں نے تاروں پر کمندیں ڈالنی تھیں، آسمان کے تاروں پر نہ سہی، بجلی کے تاروں پر ہی سہی۔ پس اسی ہاؤ ہو اور جوش و خروش میں کوئی اس جشن کی کوریج کرتے ہوئے چھت سے گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، تو کسی کا گلا کٹا، کسی کا سر پھٹا، کوئی بجلی کے جھٹکے سے چل بسا تو کوئی بے حسی کا تماشا دیکھتے دیکھتے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گیا، پر ہمیں کیا! ہمیں تو جشن منانے سے غرض تھی سو منا لیا۔ بس برا ہو حملہ آوروں کا کہ عین بسنت کے دنوں میں حملہ کر دیا اور یوں محترمہ وزیر اعلیٰ صاحبہ کو دنیا دکھانے کو بسنت کی تقریبات میں اعلانیہ شرکت سے معذرت کرنی پڑی، البتہ ان کے ابا جان، جن کے بارے میں کسی زمانے میں سنا تھا کہ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں، اور آج مرے کہ کل، اپنی آل اولاد کے ساتھ بھر پور تازگی و شادابی چہرے پر لیے چھت پر چڑھے بسنت مناتے پائے گئے۔
کینیڈا کے حوالے سے پچھلے دنوں ایک خبر اور متعلقہ ویڈیو نگاہ سے گزری اور دل و دماغ کو حیران و پریشان چھوڑ گئی۔ خبر یہ تھی کہ تین ہم جنس پرست مرد، جو اپنے آپ کو ایک فیملی کہتے ہیں، اب یہ چاہتے تھے کہ ان کے یہاں بچہ بھی پیدا ہو۔ چونکہ وہ فطرت سے جتنا بھی لڑیں، بہر طور یہ ممکن ہو نہیں سکتا، لہٰذا ان کی نگاہِ انتخاب یتیم بچوں پر پڑی اور انہوں نے سوچا کہ چلو ایک نیکی یہ بھی کر گزرتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے ایک تین سالہ بچی کو گود لینے کی درخواست پیش کی۔ یتیم خانے کی انتظامیہ حیران کہ بھئی دو مردوں کو تو دیکھا کہ اپنے آپ کو میاں بیوی کہہ کر متعارف کرواتے ہیں اور بچہ گود لے لیتے ہیں، دو عورتوں کو بھی بطور میاں بیوی یہ کرتے دیکھا، مگر اب یہ ان تین کی کیا حیثیت ہے؟ کیا ان میں سے ایک شوہر اور اس کی دو بیویاں ہیں؟ توبہ توبہ! یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ اس کی اجازت تو صرف اسلام دیتا ہے کہ ایک شوہر کی چار تک بیویاں ہو سکتی ہیں، جن میں حقیقتاً شوہر مرد ہو اور بیویاں عورتیں ہوں، نہ کہ وہ اپنے آپ کو مرد اور عورتیں کہلوائیں، تو بھئی اسلام سے تو ہمیں دشمنی ہے اور تعدد ازواج تو ہمارا پسندیدہ موضوعِ تنقید ہے، لہٰذا ہم یہ کیسے کہیں کہ وہ ایک شوہر اور اس کی دو بیویاں ہیں؟ تو پھر کیا وہ تینوں ہی بیویاں ہیں اور ان میں کوئی شوہر نہیں یا پھر معاملہ بالعکس ہے؟ البتہ ہندو معاشرے کی طرح یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ شوہر دو ہوں اور بیوی ایک! یہ تو طے شدہ ہے کہ ہر وہ چیز جو اسلام کے سوا کہیں سے بھی آئے گی، ہمارے لیے قابل قبول ہو گی، تو چلو ہندوؤں ہی کا طریقہ سہی! بہرحال جب یتیم خانے کی انتظامیہ کا سر چکرانا بند نہ ہوا اور وہ کسی طرح اس گتھی کو نہ سلجھا پائے تو انہوں نے اپنے ہی جیسوں کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ قصہ مختصر کہ طویل قانونی پیچیدگیوں میں الجھنے کے بعد، انہی جیسوں کی عدالت نے یہ فیصلہ دے دیا کہ یہ تین مرد، بطور ایک فیملی، ایک تین سالہ بچی کو گود لے سکتے ہیں، پس یوں انہوں نے اس بچی کو گود لے لیا۔ انہوں نے تو اپنا کام کر لیا مگر ہمارا ناکارہ ذہن یہ سمجھنے سے قاصر رہ گیا کہ جو مرد خود کو مرد نہیں سمجھتا، بلکہ جن میں کے بعض خود کو عورت سمجھتے ہیں، مگر دکھائی مرد ہی دیتے ہیں کہ مذکورہ تین میں سے دو مردوں کی داڑھی (ایک کی باقاعدہ داڑھی اور ایک کی خاصی بڑھی ہوئی شیو) بھی ہے، اور وہ ایک ایسے رشتے میں بندھے ہیں کہ جسے قبول کروانے کے لیے عدالت کا سہارا لینا پڑتا ہے، تو وہ اس گود لی ہوئی بچی کا حق کیسے ادا کریں گے؟ ان کا اس بچی سے کیا رشتہ ہو گا؟ کل کو وہ بچی معاشرے میں انہیں کیا کہہ کر متعارف کروائے گی؟ اور کیا اس طرح اس بچی کے دل، ذہن اور شخصیت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں گے؟ اور وہ تین، اسے معروف معنوں میں، ایک گھر کا ماحول کیسے فراہم کر سکیں گے؟ اور وہ ایسا کرنا بھی کیوں چاہیں گے جبکہ وہ خود ہی نارمل نہیں ہیں اور معروف کے کسی خانے میں فٹ نہیں بیٹھتے؟ خیر! دل و دماغ میں ایسی کھچڑی پکی کہ جس کا نہ کوئی سر ہے اور نہ پیر، بس ذہن میں ایک ہی فقرہ گردش کرتا رہا کہ:
جنوں کا نام خرد رکھ دیا، خرد کا جنوں
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
٭٭٭٭٭




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



