دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ نے سرخ سوویت خطرہ ٹالنے کے لیے امریکی قیادت میں پینتالیس برس سرد جنگ لڑی۔ اب اسی یورپ کو روس کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ نوبت یہاں تک آ چکی ہے کہ امریکہ کا سب سے قریبی روایتی اتحادی برطانیہ ٹرمپ سے کھل کے احتجاج کر رہا ہے کہ انہوں نے ڈیووس فورم پر امریکہ کے شانہ بشانہ لڑنے اور مرنے والے برطانوی اور دیگر یورپی فوجیوں کی قربانی کی توہین کی ہے۔
نیٹو اتحاد کے ایک بانی رکن اور امریکی ہمسایہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے تو بنا الفاظ چبائے کھل کے کہہ دیا ہے کہ امریکہ سے اختلاف نہیں بلکہ تعلقات میں ایسا شگاف پڑ گیا ہے کہ جس کی بھر پائی بہت مشکل ہو گی۔ کینیڈا اس مفروضے پر ایک نیا فوجی ڈاکٹرائن تشکیل دے رہا ہے کہ کل کلاں امریکی افواج کینیڈا جیسے وسیع و عریض ملک پر دو ہفتے میں قبضہ کر لیتی ہیں تو کینیڈا روایتی جنگ میں امریکی طاقت کے سامنے نہیں ٹھہر پائے گا،تاہم کم از کم چالیس ہزار محبِ وطن کینیڈینز کی ایک شہری ملیشیا بنائی جا سکتی ہے جو افغان مجاہدین اور طالبان کے طرز پر امریکہ کو اتنا زچ کرے کہ وہ ایک دن اپنی فوجیں کینیڈا سے نکالنے پر مجبور ہو جائے ( دیگر نیٹو ارکان کی طرح کینیڈا نے بھی نائن الیون کے بعد افغانستان پر قبضے میں امریکہ کا ساتھ دیا اور کینیڈا کے ڈیڑھ سو سے زائد فوجی افغانوں کے ہاتھوں مرے )۔
ایک اور نیٹو اتحادی ڈنمارک کو گرین لینڈ پر ٹرمپ کے ممکنہ قبضے کے حوالے سے اپنے لالے پڑے ہیں۔ یورپ کے دیگر ممالک بھی بین الاقوامی نظام، ریاستی خود مختاری، سرحدوں کے تقدس، پرامن بقائے باہمی، طاقت ور ممالک کے جارحانہ عزائم، بین الاقوامی قوانین، عالمی اداروں کی بقا، عدم جارحیت اور ایک آزاد جمہوری دنیا کی تشکیل کے لیے اپنی اپنی قربانیوں کی دہائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ یہی یورپ سفارتی ، سیاسی اور اقتصادی طاقت کے اندھے استعمال میں چند روز پہلے تک امریکہ کی بی ٹیم بنا ہوا تھا اور کمزور ایفرو ایشیائی دنیا کی جانب سے بین الاقوامی سسٹم کے احترام کے مطالبے پر ہنس رہا تھا۔
ڈنمارک کو آج گرین لینڈ کے معاملے پر عدل و انصاف اور ریاستی احترام بری طرح یاد آ رہا ہے مگر اس کے منہ سے فلسطینیوں کے حقِ خود ارادی کی کبھی پھوٹے منہ بھی بات نہ نکلی۔ ڈنمارک اب بھی ایف تھرٹی فائیو طیاروں کے فاضل پرزے تیار کرنے کے بین الاقوامی پروجیکٹ کا حصہ ہے، جن طیاروں سے اسرائیل غزہ سمیت اردگرد کے علاقوں میں نسل کشی کر رہا ہے۔
جب ڈینش وزیرِ اعظم میٹ فریڈرکسن سے کچھ عرصہ قبل کسی صحافی نے پوچھا کہ اگر نیتن یاہو کوپن ہیگن میں اترتا ہے تو کیا آپ بین الاقوامی جرائم کی عالمی عدالت کے دائرۂ اختیار کو تسلیم کرنے والی ریاست کے طور پر عدالتی وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے؟ وزیرِ اعظم فریڈرکسن کے جواب کا لبِ لباب یہ تھا کہ ’’ چونکہ چنانچہ اگر مگر لہٰذا آئیں بائیں شائیں……‘‘۔
امریکہ گرین لینڈ اور کینیڈا پر حقِ ملکیت جتانے کے لیے وہی کچھ تو کر رہا ہے جو اس نے یورپ کی سامراجی طاقتوں کی تاریخ سے سیکھا ہے، یعنی دنیا پر کنٹرول کی جنگ میں بین الاقوامی تکلفات برطرف ہو جاتے ہیں۔ یہی تو وہ آئینہ ہے جو مغرب پانچ سو برس سے باقی کمزور دنیا کو دکھاتا رہا اور اب اس آئینے میں اپنا ہی اترا ہوا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔
ڈنمارک اور اس کے یورپی ساجھے داروں کو اب پتہ چل رہا ہے کہ کسی بھی ریاست کا علاقہ برائے فروخت نہیں ہوتا یا بین الاقوامی قوانین کو ہر ملک پر مساوی لاگو ہونا چاہیے۔ ڈنمارک اور اس کے ساتھیوں کو یہ اصول تب یاد نہ آیا جب اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے برعکس، وسیع تر تباہی پھیلانے والے افسانوی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے، اس نے عراق میں، امریکیوں پر اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے، تئیس برس پہلے اپنے فوجی دستے تبرکاً دان کیے تھے۔ یہی کارِ خیر ڈنمارک ، جرمنی ، فرانس ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ وغیرہ نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں انجام دیا۔
لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت تتربتر کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے ان سب ممالک نے امریکی فضائیہ کی قیادت میں لیبیا کو تباہ کر کے اسے بانٹنے میں حصہ نہیں ڈالا ؟ شام کی عوامی مزاحمت کو اپنے مخصوص مقاصد کے تحت ڈھالنے کے کام میں، ڈنمارک سمیت یورپی ممالک نے ہاتھ بٹا کر، شامی ریاست کو علاقائی طاقتوں کے رحم و کرم کے دروازے تک نہیں پہنچا دیا ؟ آج وہی شام اپنے ٹکڑے دوبارہ سے جوڑنے کی تگ و دو میں ہے اور مغربی حمایت یافتہ اسرائیل مسلسل گردن پر گرم گرم پھونکیں مار رہا ہے۔
اس وقت ڈنمارک کو گرین لینڈ کے حوالے سے جو براہ راست امریکی خطرہ درپیش ہے وہ ناانصافی نہیں، مکافاتِ عمل ہے۔ ٹرمپ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی جس عالمی پالیسی پر عمل پیرا ہے، وہ بلا امتیاز ہے، مگر یورپ کو اب یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ بین الاقوامی قوانین و نظائر بلا امتیاز کیسے ہو سکتے ہیں۔ جو توسیع پسندانہ پالیسیاں، بین الاقوامی انتظام کے خوشنما پردے میں، باقی دنیا کو محکوم بنانے کے لیے تشکیل دی گئی تھیں، وہ خود ہم پر کیسے لاگو ہو سکتی ہیں ؟ اور یہ کہ گرین لینڈ کا اقتدارِ اعلیٰ تو مقدس ہو، مگر ترقی پذیر دنیا کے اقتدارِ اعلیٰ کی ٹھینگے برابر اہمیت نہ ہو!
اس رام کتھا سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ کسی طاقت ور سلطنت کے اردلی بننے کے باوجود بھی کوئی ضمانت نہیں کہ ایک دن جب اس ایمپائر کو ضرورت ہو تو وہ حلیفوں کو ہی اپنی توسیع پسندانہ بھوک کا نوالہ بنا لے۔ اندھی وفاداری کا صلہ ہمیشہ دائمی تحفظ کی شکل میں ہی ملتا رہے، یہ ضروری تو نہیں۔
[یہ مضمون ایک معاصر روزنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



