الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ان دعوؤں کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے کہ اطالویوں نے بوسنیا پر سرب جنگ کے دوران ’’سنائپر سفاریز‘‘ کے خونی کھیل کے لیے سرائیوو کا سفر کیا تاکہ شہر پر سرب فوج کے محاصرے کے دوران شہریوں پر سنائپر سے گولیاں چلانے کا شوق پورا کر سکیں۔ مبینہ ’’سنائپر سفاری‘‘ اس وقت کا واقعہ ہے جب سرب فورس نے شہر کا محاصرہ کیا جو جدید یورپی تاریخ میں کسی شہر کا طویل ترین محاصرہ بن گیا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق، تفتیش کاروں کو امید ہے کہ وہ ایسے لوگوں کا سراغ لگائیں گے جنہوں نے مبینہ ’’سفاری‘‘ میں حصہ لیا تھا۔ پانچ مردوں کی پہلے ہی شناخت ہو چکی ہے۔ صحافی اور ناول نگار ایزیو گاوازینی (Ezio Gavazzeni) ، جنہوں نے اپنے تمام ثبوت استغاثہ کے حوالے کر دیے ہیں، نے منگل کے روز اطالوی نیوز آؤٹ لیٹ لا ری پبلیکا (La Republica) کو بتایا کہ ان کا کیس ’’معاشرے کے اس حصے کو بے نقاب کرتا ہے جو قالین کے نیچے اپنی سچائی کو چھپاتا ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’چونکہ ہم ایسے امیر افراد کی بات کر رہے ہیں جو اپنی ایک ساکھ رکھتے ہیں، کاروباری افراد، جنہوں نے سرائیوو کے محاصرے کے دوران نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے رقوم ادا کیں‘‘۔
1992 اور 1996 کے درمیان، اطالوی شہری اور دیگر جو بنیادی طور پر اسلحے کے شوقین تھے، جمعہ کے روز ہفتہ وار چھٹی کے دنوں میں ’’شکار‘‘ کھیلنے کے لیے سابق یوگوسلاویہ کی سرحد پر شمال مغربی اٹلی کے علاقے ٹریسٹی (Trieste) میں جمع ہوتے تھے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ مبینہ گروپوں کو لے جانے کے لیے دوروں کا اہتمام کس نے کیا تھا۔ اس کے بعد شرکاء کو مبینہ طور پر یوگوسلاو؍سربیائی ایویوجینیکس ایئر لائن (Aviogenex Airline) کے ذریعے سرائیوو کے گرد موجود پہاڑیوں پر لے جایا جاتا، جہاں وہ صدر راڈووان کاراڈزک (Radovan Karadzic) کی وفادار بوسنیائی سرب ملیشیا کو ادائیگی کرتے، صدر راڈووان کاراڈزک کو بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل برائے سابق یوگوسلاویہ کی طرف سے نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا اور 2016ء میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ لا ری پبلیکا (La Republica) کے مطابق، ان ’’سیاحوں‘‘ نے ایک لاکھ یورو (ایک لاکھ سولہ ہزار امریکی ڈالر)کے برابر تک کی ادائیگی کی، تاکہ قتل کے ارتکاب کے لیے سرائیوو کے دوروں میں شامل ہوں۔ گاواززینی (Gavazzeni) کا دعویٰ ہے کہ شرکاء کو قتل کی قسم کے لیے قیمت کی فہرست دی جاتی کہ وہ کس کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، سب سے زیادہ قیمت بچوں کے قتل کی تھی، اس کے بعد پھر مرد، خواتین اور بوڑھے، جنہیں مفت میں بھی مارا جا سکتا تھا۔
تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ سربیا کی انٹیلی جنس سروسز کو سیاحوں کے ان سنائپر سفاری دوروں کا علم تھا۔
میلان میں بوسنیا کے قونصل ڈاگ ڈمروکچ (Dag Dumrukcic) نے منگل کو لا ری پبلیکا کو بتایا کہ ان کی حکومت تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔ ہم اس طرح کے ظالمانہ معاملے کی حقیقت سے پردہ اٹھانے اور احتساب کے لیے بے تاب ہیں۔ میرے پاس کچھ معلومات ہیں جو میں تفتیش کاروں کو دے دوں گا۔
42 سالہ ڈزیمل ہوڈزک (Dzemil Hodzic) جو 1990ء کی دہائی میں سرائیوو میں پلے بڑھے اور محاصرہ شروع ہونے کے وقت نو سال کے تھے، Sniper Alley Photo Project کے بانی ہیں، اس پروجیکٹ کے تحت محاصرے کے دوران لی گئی تصاویر محفوظ کی گئی ہیں۔ اس نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ نتائج ان کے لیے حیران کن نہیں تھے، کیونکہ اس وقت سرائیوو میں ویک اینڈ ہمیشہ ’’خاص طور پر خطرناک‘‘ ہوتے تھے۔ ہوڈزک نے کہا کہ ہمیشہ اس بارے میں معلومات گردش کرتی رہتی تھیں کہ باہر سے لوگ ہم پر گولی چلانے کے لیے آ رہے ہیں۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے، لیکن بدقسمتی سے، اس کا کوئی مطلب نہیں جب قاتل اور سنائپرز جو چار سال سے ہم پر گولی چلاتے رہے، فرار ہو گئے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بوسنیائی پراسیکیوٹر کا دفتر اس کے بارے میں کچھ نہیں کر رہا ہے۔ میں صرف امید کرتا ہوں کہ اٹلی کا یہ کیس ہمارے میڈیا سے غائب نہیں ہو گا اور ہمیں حقیقت میں کچھ مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ میرے بھائی کو ایک سرب سنائپر نے اس وقت مار دیا جب وہ ہمارے پڑوس میں ٹینس کھیل رہا تھا۔ ہمیں کبھی پتہ نہیں لگ سکے گا کہ کیا یہ ان لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے ایسا کرنے کے لیے ادائیگی کی تھی یا نہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ متعدد ممالک کے شہریوں نے سنائپر سفاری کے اس خونیں کھیل میں شرکت کی۔ 2022ء میں، بوسنیائی فلم ڈائریکٹر میران زوپانک (Miran Zupanic) کی دستاویزی فلم، سرائیوو سفاری، نے ان دولت مند غیر ملکیوں کی چھان بین کی جنہوں نے حصہ لیا تھا، جن میں سے کچھ امریکہ اور روس سے تھے۔ ایک قابل ذکر مثال روسی قوم پرست مصنف اور سیاست دان ایڈورڈ لیمونوف (Eduard Limonov) کی تھی، جسے 1992 میں پاول پاولیکووسکی (Pawel Pawlikowski) کی بوسنیائی جنگ پر ایک دستاویزی فلم کے دوران فلمایا گیا تھا، جب وہ ذاتی طور پر کاراڈزیک (Karadzic) کے ساتھ سرائیوو شہر کی طرف مشین گن سے شوٹنگ کر رہا تھا۔
اس کے علاوہ 2007ء میں، سابق امریکی فوجی جان جارڈن (John Jordan)نے سابق یوگوسلاویہ کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل کے سامنے گواہی دی کہ ’’سیاح شوٹر‘‘ سرائیوو آئے تھے۔
فاطمہ پوپوواک، جن کا چھ سالہ بیٹا عدنان اسنائپر فائر سے شہید ہوا، نے کہا کہ اس نے سچ کی تلاش میں کئی دہائیاں گزاریں۔ انہوں نے انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ میں سمجھ نہیں سکتی کہ کوئی بچے کو تفریح کے لیے کیسے مار سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ گولی چلانے والوں اور ان کو مدد دینے والوں دونوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ چھ سال کا بچہ کسی کو کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟
فاطمہ نے کہا کہ وہ اب بھی اس قتل کے پیچھے ذہنیت کو سمجھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ جن لوگوں نے یہ حرکتیں کی ہیں وہ انسانی شکل میں ہو سکتے ہیں۔
ہمارے یہاں سیکولرزم و لبرلزم کے داعی حضرات مغرب کی انسانیت پرستی کا راگ الاپتے ہوئے کبھی کسی جیوگرافک چینل کا کلپ دکھاتے ہوئے کہیں گے دیکھو ان انگریزوں نے ایک جانور کو کیسے ریسکیو کیا تو کبھی کوئی اور دلیل پیش کریں گے لیکن اس تاریخ کا تذکرہ ان کے سامنے کوئی کر دے تو ایسے منہ پھیریں گے جیسے گالی دی ہو۔ ڈاکٹر سبحان اللہ لکھتے ہیں کہ انگریز دور میں ہندوستان میں ایک انجمن خالص استعماری مقاصد کے لیے بنائی گئی جس کا مقصد تعلیمی نصاب کے لیے ایسی نظمیں تخلیق کرنا تھا جس کی مدد سے ہندوستانی تہذیب و تاریخ کو کم تر ثابت کرنا تھا اور استعماری جبر و ستم کی بجائے انگریز سامراج کی اعلیٰ برتر شبیہ لوگوں کے سامنے پیش کرنا تھا۔ اس انجمن کے پلیٹ فارم سے کل دس مشاعرے ہوئے اور ہر مشاعرے میں زیادہ تر ایسی نظمیں پیش کی گئیں جن میں استعمار کو مثبت اور نمایاں شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اللہ کا کرنا دیکھیے انہی مشاعروں میں استعمار مخالف نظمیں پیش کی جانے لگیں اور ان نظموں نے عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی۔ بعد ازاں یہی ان مشاعروں کی بندش کا سبب بن گئی۔ الطاف حسین حالی نے ان مشاعروں کی بندش کے بعد علی گڑھ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے انہیں خوب آئینہ دکھایا۔ ان کے اشعار ملاحظہ ہوں :
وہ قومیں جو ہیں آج غم خوار انساں
درندوں کی اور ان کی طینت تھی یکساں
جہاں عدل کے آج جاری ہیں فرماں
بہت دور پہنچا تھا واں ظلم و طغیاں
بنے آج جو گلہ باں ہیں ہمارے
وہ تھے بھیڑئیے آدمی خور سارے
٭٭٭٭٭












