یہ سن ۲۰۰۹ء کی سردیوں کی بات ہے۔ میرانشاہ سے لواڑہ بارڈر کی طرف جاتے ہوئے دتہ خیل سے گزر ہوا تو ایک بھائی نے یاد کرایا کہ دتہ خیل میں وزیر قوم کی شاخ خدر خیل وزیر قبیلے کے مجاہدین اور عوام کے ساتھ ایبٹ آباد کے مجاہد کماندان، جرأت وکردار کے پیکر شہید ابوتراب رحمہ اللہ کا بہت قریبی تعلق رہا ہے اور خدرخیل قبیلے کے مجاہدین شہید ابوتراب رحمہ اللہ اور ان سے نسبت رکھنے والے مجاہدین کو بہت محبت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ دتہ خیل کے مقامی مجاہدین نے اپنے گروپ کا نام بھی ابوتراب رحمہ اللہ کی نسبت سے ’تراب کاروان‘ رکھا ہے۔
فخرِ سرزمینِ ہزارہ
سرزمینِ ہزارہ کے باسی عالم زیب جو بعد میں ابوتراب الباکستانی کے نام سے مجاہدین میں مشہور ہوئے، ایک باہمت اور اعلیٰ صفات کے حامل پاکستانی مجاہد کماندان تھے۔ جہادِ کشمیر سے جڑنے کے بعد امارتِ اسلامیہ کے زمانے ہی سے محاذِ اول کی جان و رونق تھے۔ شریعتِ اسلامیہ کا علم سنبھالے طالبان کی مغربی آلۂ کار شمالی اتحاد سے لڑائیوں میں بگرام اور اس کے گردونواح میں مختلف محاذوں پر دادِ شجاعت دیتے رہے۔ اسی زمانے سے عرب مجاہدین سے جڑ گئے اور بگرام کے محاذ پر عرب و عجم کے مجاہدین کے ایک گروپ کے قائد رہے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کے حالات میں مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دینے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے کاموں میں مصروف رہے۔ وزیرستان نے جب دارالہجرت والجہاد کی صورتِ حال اختیار کرلی تو شہید ابوتراب بھی اپنے امرا ءکے امر پر وزیرستان تشریف لے گئے۔ یہاں تنظیم القاعدہ میں مختلف ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اپنی آخری عمر میں پاک افغان سرحد پر واقع لواڑہ نامی بارڈر پر قائم محاذِ جنگ کے تنظیم القاعدہ کے مسئول بنے۔ اپنی اسی مسئولیت کے دوران کسی مشورے کے لیے تنظیم القاعدہ کے مسئولِ عسکری شیخ ابو عبداللہ ابراہیم المہاجر المصری سے ملاقات کے لیے میرانشاہ کے گاؤں نغر کلی میں شیخ ابراہیم کے مکان پر تشریف لے گئے جہاں پر رات میں بدبخت بزدل امریکیوں نے ڈرون طیاروں سے شیخ کے مکان کو نشانہ بنایا اور شیخ ابراہیم مصری، نعیم عراقی، ایک اور عرب بھائی سمیت ابوتراب بھائی اور ان کے ساتھی خوشاب کے ملک عاطف اعوان، یہ کل پانچ مجاہدین اس حملے میں شہید ہوگئے۔ اللہ ان سب سے راضی ہو اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔
شہید ابوتراب اپنے اعلیٰ اخلاق، سادگی، خندہ پیشانی، مہمان نوازی، محبت و شفقت، جرأت و شجاعت کی وجہ سے انصار و مہاجرین، عرب و عجم ہر ایک میں ہر دلعزیز اور محبوب تھے۔ الغرض ابوتراب بھائی سے تعلق کی نسبت سے ہماری ملاقات خدر خیل قوم کے علماء و مجاہدین سے ہوئی۔ مجاہدین نے ہمارا خندہ پیشانی سے استقبال کیا اور مجاہدین کے امیر نے ہر قسم کی مدد و نصرت کرنے اور اپنے گھر بار کو ہمارے لیے وقف کرنے کے ارادے کا اظہار کیا۔ ہم ان مجاہدین کے اخلاق سے اتنے متاثر ہوئے کہ ہمارے امیر صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں انہی مجاہدین کے ساتھ اپنی رہائش کی ترتیب بناؤں۔ ابھی ہم مقامی مجاہدین کے امیر کے ساتھ گھر کی ترتیب کے حوالے سے مشورہ کر ہی رہے تھے کہ اچانک مقامیوں کے مرکز میں ہنستا مسکراتا اور حیا و شرم کی وجہ سے جھکائی نظروں والا ایک بائیس تئیس سالہ مقامی بھائی نمودار ہوا۔ ہمیں دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ محبت آمیز مسکراہٹ سے ہمیں دیکھتا رہا اور ’ستڑے ماشے‘ (ابتدائی حال احوال) کے بعد ہم سے ہنسی مذاق اور مہاجرین سے منسوب کچھ لطیفے ہمیں سنانے لگا۔ ہمارے ساتھ اس وقت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے مجاہد شہید بلال ظہور بھی تھے جو کہ شاکر اللہ بھائی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ شاکر اللہ بھائی کو بعد میں ۲۰۱۶ء میں آئی ایس آئی کے وحشی درندوں نے جعلی انکاؤنٹر میں شہید کردیا۔ شاکر اللہ بھائی نے میرا تعارف اس مقامی بھائی سے کروایا کہ یہ بھائی ’بے زڑہ وزیر‘ ہے اور یہ شہید ابوتراب رحمہ اللہ کے قریبی انصاروں میں سے رہا ہے اور مہاجر مجاہدین سے کافی دلی تعلق رکھتا ہے۔ غرض یہ میری اپنے دوست ’بے زڑہ‘ سے پہلی ملاقات تھی۔
نور باقی جان کا ابتدائی تعارف
’بے زڑہ‘ کا حقیقی نام نور باقی جان وزیر تھا۔ اس کا تخلص اس وقت ’بے زڑہ‘ تھا۔ مجاہدین کے ہاں یہ روایت ہے کہ وہ مخابروں پر گفتگو کے لیے یا دوسرے عسکری کاموں کے لیے اپنا نام تبدیل کرکے رمزی1 نام اختیار کرتے ہیں، ان ناموں کو تخلص کہا جاتا ہے۔ مجاہدین کی معاشرت میں ایک دوسرے کو انہیں تخلصات ہی سے شناخت کیا جاتا ہے۔ پہلے تو ہم اس تخلص کو سن کر ڈر گئے، کیونکہ پشتو میں ’زڑہ‘ دراصل دل کو کہتے ہیں اور ہماری پشتو دانی نے بے زڑہ کا ترجمہ بے دل یا بے رحم سے کیا جو کوئی مثبت صفت نہیں تھی کہ جس کو تخلص بنایا جائے۔ مگر بعد میں علم ہوا کہ ’بے زڑہ‘ کی تعبیر بے باک، بہادر اور دلیر شخصیت سے کی جاتی ہے۔ نور باقی جان کو بعد ازاں ’شہیدی‘ اور پھر ’خیبر‘ کے تخلص سے بھی مجاہدین میں جانا گیا۔ بالآخر ۲۰۱۴ء کے امریکی پاکستانی ضربِ عضب آپریشن کے دوران مجاہدین کے سامان کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کرتے ہوئے نور باقی جان، پاکستانی فوج کے جاسوسی نظام کی مدد سے ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں شہید ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو، جنت الفردوس کو اس کا ٹھکانہ بنائے، آمین۔
۲۰۰۹ء سے لے کر ۲۰۱۴ء کے اواخر میں اس کی شہادت تک تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہوگا کہ جس میں نور باقی جان اور میں اکثر اوقات میں اکھٹے رہے۔ ان پانچ سالوں میں بیشتر وقت میری رہائش نور باقی جان کے گھر کے قریب ہی رہی اور مجاہدین کی اصطلاح کے مطابق وہ ہمارا اس عرصے میں انصار رہا۔ ایک ایسا انصار کہ جس پر انصار و نصرت کی ہر تعریف صادر آتی ہے۔ حالات جس قسم کے بھی ہوں اور موسم کی جو بھی صورتِ حال ہو، اللہ کا یہ شیر اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر جہاد اور اہلِ جہاد کی مدد و نصرت پر کمر بستہ رہا۔ وہ ہماری نصرت کرنے کی بدولت ہمارا انصار بھی تھا اور ہمارا حصہ و دست و بازو ہونے کی وجہ سے ہمارا اپنا ساتھی بھی۔ وزیرستان میں مقامی انصاروں کی دو قسمیں تھیں۔ ایک وہ جو کہ اپنے مقامی جہادی گروپوں کا حصہ ہوتے ہوئے اور مقامی سرگرمیوں میں شمولیت کرتے ہوئے اپنے فارغ وقت کو مہاجرین کی مدد و نصرت کے لیے وقف کردیتے تھے۔ اور دوسرے وہ جو باقاعدہ مہاجر مجاہدین کے گروپوں کا حصہ ہوتے تھے اور ہر قسم کی مصروفیات کو چھوڑ کر جہاد کی نصرت کے لیے کمربستہ ہوتے تھے۔ ہمارا نور باقی جان انصار کی ان دونوں صفات پر پورا اترتا تھا۔
ہمارے تعارف کے ابتدائی ایام میں ہی مقامی امیر نے نور باقی جان کو ہماری خدمت اور نصرت کے لیے وقف کردیا۔ اللہ ان کو دنیا و آخرت میں اس کی بہترین جزا دے اور ان کا اپنی شان کے مطابق اعزاز و اکرام کرے۔ ایسا نہیں تھا کہ نور باقی جان کوئی فارغ یا بیکار انسان تھا، بلکہ وہ تو مقامی مجاہدین کا سب سے زیادہ فعال، دلیر اور باصلاحیت نوجوان تھا۔ وہ ان شخصیات میں سے تھا کہ جو کسی جہادی گروپ کی جان ہوتے ہیں اور بیشتر مشکل اور اہم مواقع پر جنہیں یاد کیا جاتا ہے۔ جو خطرات میں کودتے اور مشکل میں کام آتے ہیں۔مگر کیا کہیں وزیرستان کے عظیم مجاہدین کی ایثار و احسان کی کیفیت کہ جس میں وہ اپنی ضرورت پر اپنے مہاجر بھائیوں کی ضرورت کو ترجیح دیتے اور اپنا سب سے قیمتی اور نفیس حصہ نکال کر مہاجرین کو پیش کرتے۔ اس طرح نور باقی جان ہمارا انصار بھی تھا، رہبر بھی تھا، مقامی مشاور بھی تھا، رازدار ساتھی بھی تھا، جنگی کماندان بھی تھا اور اداریات (لاجسٹک)کا ذمہ دار بھی تھا۔
ان پانچ سالوں میں کئی دفعہ ایسے مواقع آئے کہ جب صادق اور کاذب میں فرق ہوجاتا ہے۔ سچی محبت اور جھوٹے دعووں کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ فوجی آپریشن، ڈرون کی تباہ کاریاں، اقتصادی مشکلات، مقامی منافقین کے پیدا کردہ فتنے، موسمی شدائد، بیماریاں اور گھریلو ٹینشنیں…… یعنی کتنے ہی مواقع ایسے آئے کہ شاید ایک عام آدمی کے لیے اس میں پیچھے ہٹنے کا بہانہ بن سکتا ہو، مگر نور باقی جان تو کوئی عام آدمی نہیں تھا۔ وہ تو اللہ کا ایک ایسا ولی تھا جس کا دل اور دماغ بس اپنے رب کے دین کی مدد کرنے کے لیے ہی کام کرتا تھا۔ اسلام کی نصرت، کلمۂ طیبہ لا الہ الا اللہ کو دنیا بھر میں نافذ کرنے کی کوشش کرنا اور اس کلمے کے رشتے کی خاطر اپنے مہاجر بھائیوں کو سہولیات فراہم کرنے کا یہ جذبہ اس کو بیٹھنے ہی نہیں دیتا تھا۔ اس کو ہر کام کرنا آتا تھا مگر تھکنا یا پیچھے ہٹنا نہیں آتا تھا۔
نور باقی جان ایک سادہ سا مسلمان تھا۔ اٹک اٹک کر ناظرہ قرآن پڑھنا اور نماز میں پڑھی جانے والی چند آخری سورتوں کے علاوہ اس کی کوئی نہ دینی تعلیم تھی اور نہ ہی دنیاوی۔ اہلِ دنیا کی تعریف میں وہ بالکل ان پڑھ تھا۔ لیکن جتنا ہم نے اس کو دیکھا اور جانا، ایمان اور ایمانی جذبات اس کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے پائے۔ اسلام سے محبت اور بنیادی دینی اخلاقیات اس کی شخصیت کا عام مظہر تھے۔ میں اس کے اخلاق اور کردار کو سوچتا ہوں تو اپنے پاکیزہ دینِ اسلام کی عظمت دل میں مزید بڑھ جاتی ہے کہ کیسے ایک سادے ان پڑھ نوجون کے دل و جان کو بھی ایسے ہی منور کردیتا ہے کہ جیسا کہ ایک عالم فاضل کو۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا دین فطرت کا دین ہے، یہ سب کا دین ہے، ہر قوم، ہر زبان، ہر وطن، ہر زمانے اور ہر قسم کے سابقے اور پسِ منظر رکھنے والے کے جسم و جان میں گھس سکتا ہے اور پھر اس گوشت پوست کے انسان کو اتنی عظمت پر پہنچا سکتا ہے کہ جس پر فرشتے بھی رشک کریں۔
نور باقی جان ان لوگوں میں سے تھا کہ جن سے مجھے بے حد محبت تھی اور ہے اور شاید وہ ان لوگوں میں سے بھی ہے کہ جن کے مجھ پر بے انتہا احسانات ہیں۔ اس شیرِ خدا کی صفات کا احاطہ تو میرے بس کی بات نہیں البتہ اس کے ساتھ بیتے ایام کی یادوں کے کچھ جھروکے بیان کرنا مفید محسوس ہوتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے ایک اہم موضوع!
انصار سے محبت ایمان کی علامت
دفاعِ دین یا غلبۂ دین کی جو کوئی بھی تحریک اٹھے، اس کے بنیادی دو گروہ انصار و مہاجرین ہوتے ہیں۔ ایک گروہ اللہ کے دین کی خاطر اپنا گھر بار، اعزاء و اقارب، مال و اجداد کو چھوڑ کر کسی ایسے علاقے کی طرف ہجرت کرتا ہے جہاں پر وہ اپنے دین کی نصرت و مدد آسانی کے ساتھ کرسکے اور دوسرا گروہ بے سرو سامان غریب الدیار مہاجرین کو اپنے گھروں اور علاقوں میں ٹھکانہ دیتا ہے، ان کی حفاظت و نصرت کرتا ہے اور غلبۂ دین کی تحریک میں ان کا ممد و معاون بن جاتا ہے۔ ان ہی دونوں گروہوں کو قرآنِ عظیم الشان میں حقیقی مومن کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الانفال میں فرماتے ہیں:
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ(سورۃ الانفال:۷۴)
’’اور جو لوگ ایمان لائے اور اپنے گھر چھوڑے اور لڑے اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے ان کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور روزی عزت کی۔‘‘
پھر ہمارا دین تو ایک زندہ دین ہے، قرآن ایک زندہ کتاب ہے۔ وہ طبقات جو اوائلِ اسلام میں موجود تھے اور جن کو قرآن مخاطب کرتا ہے اور ان کی صفات بیان کرتا ہے وہی طبقات آج بھی اسی طرح موجود ہیں۔ اہلِ ایمان، مجاہدین، مہاجرین، انصار، کفار، منافقین وغیرہ وغیرہ جس طرح پہلے زمانے کے اندر موجود تھے آج بھی اپنے اولین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آخرین میں بھی ایسے طبقات اور شخصیات نظر آتی ہیں۔ پہلوں کی صفات کا پرتو اور جھلک اس آخر الزمان میں بھی نظر آتا ہے۔ جس طرح انصارانِ مدینہ علیہم رضوان اللہ نے اپنے گھروں اور بستیوں میں اپنے مہاجر بھائیوں کو بسایا اور پھر ان کے دفاع اور نصرت میں کسی قسم کی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا، بالکل اسی طرح آج چودہ صدیاں بیت جانے کے بعد انصارانِ وزیرستان اور دیگر قبائل نے اپنے مہاجر بھائیوں کے دفاع اور ان کی نصرت میں ایسے ایسے کام سرانجام دیے کہ جن کو سن کر آج اس مادیت کی پرستش کے دور میں ان کا تصور بھی مشکل ہے۔ اپنے مہاجر بھائیوں کے دفاع ہی کا جذبہ تو تھا کہ جس کی خاطر یہ قبائل، طاقت اور قوت میں کئی گنا بڑی اور دنیا کی بعض منظم ترین فوجوں میں سے ایک فوج، پاکستانی فوج تک سے ٹکرا گئے اور اسے قبائل کے کوہ و دمن میں ناکوں چنے چبوائے۔ پھر اسی راہ میں شہادتیں، قید و بند، نقل مکانی و دربدری، جائیداد اور معیشت کے تباہ ہونے، غرض کسی قسم کی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے۔ جب بھی حالات خراب ہوتے اور خطرات بڑھ جاتے تو اپنے سینوں کو آگے کر کے اپنے مہاجرین بھائیوں اور بہنوں کا دفاع کرتے اور بے خطر آتشِ نمرود میں کود جاتے۔ کتنی دفعہ ایسا بھی دیکھنے میں آتا کہ جب کبھی رات میں ڈرون طیاروں کی پروازیں بہت بڑھ جاتیں اور مہاجرین جو کہ ڈرون طیاروں کا عمومی ہدف ہوتے تھے، کے لیے خطرہ زیادہ محسوس ہوتا تو انصار بھائی اس کمرے، کہ جس میں مہاجرین کو سونا ہوتا تھا، کی چھت پر جاکر سوجاتا تاکہ اگر رات کے کسی پہر میں ڈرون اس کمرے پر میزائل کا وار کرے تو پہلے انصاری خود شہید ہو اور اس کے ٹکڑے ہونے کے بعد اس کے مہاجر بھائی کو تکلیف پہنچنے کا کوئی امکان بنے۔ یہ محض ایک مثال ہے ورنہ ہجرتِ وزیرستان کے زمانے میں روز مرہ کی زندگی میں ایسے کتنے ہی واقعات دیکھنے میں آتے تھے۔
پھر انصار سے محبت تو ایمان کا حصہ ہے، کیونکہ ان سے محبت ان کے دین کی محبت اور اس کی نصرت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور جتنا انصار و مہاجرین میں محبت و قربت بڑھے، ایک دوسرے پر اعتماد و بھروسہ بڑھے، اتنا ہی کسی جہادی تحریک کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اپنے انصار سے دلی قربت، ان سے محبت و شفقت، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، ان کے دلی احساسات کو سمجھنا اور ان کا اعتبار کرنا، ان کی عزت و اکرام کرنا، ان کے احسان کا حتی الامکان بہترین بدل دینے کی کوشش کرنا، ان کی خوشی و غمی میں ان کے ساتھ شریک رہنا، ان کے دینی و اخلاقی معاملات میں اصلاح و تربیت کرنا، ان پر ضرورت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا۔ انصار کے ساتھ تعامل میں اگر ان سب معاملات کو نگاہ میں رکھا جائے تو نہ صرف یہ کہ باہمی تعلق بڑھتا جاتا ہے بلکہ جہادی صفوف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط ہوجاتی ہیں۔
انصار و مہاجرین کے تعلق کی اہمیت اور کفر کے لیے اس کے خطر کو سمجھنے کی وجہ سے ہر زمانے میں کفار اور منافقین کی یہ خواہش رہتی ہے کہ مختلف بہانوں اور فتنوں کے ذریعے سے ان دونوں گروہوں کے درمیان بدگمانی پھیلا کر فاصلے پیدا کیے جائیں۔ اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب اِس زمانے میں انصارانِ مدینہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انصار موجود ہوں تو عبداللہ بن ابی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایسے منافقین نہ ہوں کہ جو قومیت اور وطنیت کی عصبیتوں کے عَلم اٹھا کر اہلِ ایمان کے ان دونوں عظیم گروہوں میں فساد برپا کریں۔ پس دفاعِ دین کی ہر تحریک کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر اس فتنے سے ہوشیار رہیں اور اس کے سد باب کی کوشش کریں کہ جو انصار اور مہاجرین کے رشتے میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرے۔
انصار اور بالخصوص انصارانِ وزیرستان کے موضوع پر تمہیدی نکات کے بعد، بات کا رخ پھر اپنے محبوب بھائی نور باقی جان وزیر کی طرف موڑتے ہیں۔
خاندانی تعارف
نور باقی جان کا تعلق شمالی وزیرستان کے اتمانزئی وزیر قبائل کی ذیلی شاخ مامید خیل2 کی ذیلی شاخ خدر خیل سے تھا۔ اس قبیلے کے خاندان دتہ خیل بازار کے شمال اور جنوب میں دریائے ٹوچی کے اطراف میں آباد ہیں۔ نور باقی جان کا گھرانہ ایک باشرع دیندار اور علاقے کا معزز گھرانہ تھا۔ ان کا خاندان ’فقیران‘ کے نام سے جانا جاتا تھا جو کہ وزیرستان میں بالعموم سادات کو کہا جاتا ہے۔ اس کے نانا تاریخِ اسلام کے عظیم مجاہد حاجی میرزا علی خان (ایپی فقیر) رحمہ اللہ کے قریبی جانثار مجاہدین میں سے تھے۔ خود نور باقی جان کے بزرگ والد صاحب چالیس اور پچاس کی دہائیوں میں حاجی صاحب میرزا علی خان رحمہ اللہ کی انگریزی لشکر سے ہونے والی لڑائیوں میں شریک رہے تھے۔ انگریزوں کے لشکر کو دتہ خیل کی سڑک پر روک کر توڑے دار بندوقوں، پتھروں اور تلواروں سے تہس نہس کرنے کے واقعے کو اپنے خاندانی بزرگوں سے سن کر نور باقی جان ہمیں مزے لے لے کر سنایا کرتا تھا۔ نور باقی جان کے دو بڑے بھائی تھے جن میں سے ایک خدا ترس عالمِ دین تھے اور مقامی مدرسے میں استاد تھے اور دوسرے مزدوری کرنے کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ اپنے گھرانے میں محض نور باقی جان ہی غیر شادی شدہ تھا۔
اے خدا! صرف تیرے لیے
پہلے دن سے لے کر اس کی شہادت تک اس کے ہر عمل اور ہر رویے سے اخلاص جھلکتا تھا۔ اس طویل جہادی زندگی میں اس نے ہمارا کتنا ساتھ دیا اور اس راہ میں اس نے کتنی تکلیفیں برداشت کیں مگر اس کے چہرے پر اطمینان ہوتا تھا کہ یہ سب کچھ بس اللہ کے لیے ہے۔ اس کے تاثرات کا ایک ہی عنوان تھا کہ ’حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘۔ دین کی نصرت اور مدد کے عوض میں دنیا کی نہ کسی چیز کی اس نے کبھی خواہش کی اور نہ ہی کسی دنیاوی مقصد کے لیے اس نے اپنے اعمال کو بیان کیا۔ اس نے اپنا سب کچھ اور ساری صلاحیت جہاد کی نصرت میں لٹا دی مگر کبھی کسی ایک سوئی جتنی چیز کا بھی مطالبہ نہیں کیا۔ اس کے گھرانے کی معاشی صورتِ حال کچھ اچھی نہیں تھی۔ بڑے بھائی کی مدرسے کی تنخواہ تو نہ ہونے کے برابر تھی جبکہ دوسرے بڑے بھائی کی مزدوری کے پیسے اس قرضے کو اتارنے میں لگائے جاتے تھے کہ جو ان کے سعودی عرب کے ویزے اور سفر کے لیے لیا گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود اس گھرانے نے کبھی ہم سے کچھ نہ مانگا اور نہ ہی اپنی غربت کا ایسا رونا رویا کہ جس سے دوسرا خود ہی صدقہ دینے پر تیار ہوجائے۔ ان کی بیٹھک میں مہمانوں کے علاوہ ہمارے ساتھی مستقل ہی موجود ہوتے تھے، جہاں پر ان کی خدمت اور خاطر تواضع میں نہ کبھی کمی آئی اور نہ ہی اس کے ماتھے پر کوئی شکن پڑی۔ بعض اوقات حالات اتنے خراب ہوجاتے اور لوگ بھی کہنے لگتے کے نور باقی جان کا گھر امریکیوں کے نشانے پر ہے اور اگلا ڈرون حملہ اس کے گھر پر ہوگا مگر پھر بھی کبھی نہ اس نے اور نہ ہی اس کے گھر کے کسی اور فرد نے ہمیں وہاں سے کہیں اور جانے کا کہا۔
اس کی بیٹھک ہمارا مہمان خانہ بھی ہوتا اور مرکز بھی۔ ایک طرف ہم مہاجرین کی وہاں پر کثرت سے آمد و رفت اور دوسری طرف اس گھرانے کی ابتر معاشی صورتِ حال، یہ جان کر ہم نے مشورہ کیا کہ ماہانہ بنیاد پر کچھ رقم نور باقی جان کے گھرانے کو دی جائے جس سے وہ ہمارے ساتھیوں کی مستقل مہمان نوازی پر آنے والے اخراجات کو ادا کرسکیں۔ مگر اس بات کو ماننے سے اس نے اور اس کے بھائیوں نے سختی سے انکار کردیا۔ ان کے انکار کا انداز اتنا سخت اور قطعی تھا کہ ہمیں دوبارہ بات کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ پھر کچھ عرصے بعد ہم نے سوچا کہ جتنے ہمارے ساتھی مستقل ان کے مہمان خانے میں آتے جاتے ہیں اسی اندازے سے ہم راشن خرید کر ان کے گھر دے دیتے ہیں کیونکہ وہ ویسے تو پیسے نہیں لیتے شاید اس بہانے راشن وصول کرلیں۔ الغرض ہم نے آٹا ،گھی ،چینی ،چاول وغیرہ مناسب مقدار میں ان کے گھر میں دے دیے اور ہمارے زور و اصرار پر انہوں نے یہ اپنے گھر میں رکھ ہی لیے۔ مگر کچھ عرصے بعد دوبارہ یہ راشن بھی واپس کردیا کہ ہم سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ ہم اپنے مہاجر بھائیوں سے کچھ وصول کریں، ہم تو آپ کو دینے کی تمنائیں کرتے ہیں، لے کیسے سکتے ہیں؟
’میں گاڑی نہیں چلا سکتا‘۔ عجیب تواضع
نور باقی جان کے اعلیٰ اخلاق اور تواضع کی ایک مثال اس وقت کی ہے کہ جب میری اس سے جان پہچان کو کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ ویسے بھی سفر میں ہی کسی کے اخلاق کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔ ہوا یوں کہ پاکستانی فوج نے بنوں میرانشاہ عمومی شاہراہ پر تلاشی اور سختی بڑھا دی تھی اور کسی باہر کے فرد کو خصوصی اجازت کے بغیر وہاں جانے سے روک دیا تھا۔ ایسے میں مجاہدین کے لیے پاکستان کے بندوبستی علاقوں سے آمد و رفت رکھنا بہت دشوار ہوگیا۔ ایسے میں مجاہدین نے ایک اور راستے کو اپنے سفر کے لیے اختیار کرنا شروع کیا جو کہ بنوں کے بجائے ضلع ہنگو میں جاکر نکلتا تھا۔ اسی نئے راستے کی ترتیب بنانے کے لیے میں اور نور باقی جان ضلع ہنگو سے متصل وزیرستان کی تحصیل شاوہ کی طرف گئے اور وہاں پر کچھ وقت گزارا اور وہاں کے مجاہدین اور ہمدرد انصاروں سے ملاقاتیں کیں۔ ہمارے پاس ٹویوٹا ہائی لکس ڈبل کیبن گاڑی تھی۔ واپسی پر ہم تھکے ہوئے بھی تھے اور پہنچنے کی جلدی بھی تھی مگر جوں ہی ہم نے گاڑی کا رخ واپسی کے لیے میرانشاہ کی طرف موڑا تو ہماری نظر کچھ ایسے مجاہدین کی طرف پڑی جو کہ پیدل چلے آرہے ہیں اور ان کے چہروں اور لباس سے تھکاوٹ اور طویل سفر کی علامات واضح ہیں۔ یہ مجاہدین کئی دن کا تھکا دینے والا سفر کرکے خیبر ایجنسی سے شمالی وزیرستان پہنچے تھے۔ نور باقی جان نے مشورہ دیا کہ ہمیں ان مجاہدین کو لازماً اپنی گاڑی پر بٹھا کر ان کی منزل پر پہچانا چاہیے کیونکہ مجاہد جو بھی ہو اور جہاں کا بھی، اس کی مدد اور نصرت کرنا تو ہم پر فرض ہے۔ پھر نور باقی جان نے ان مجاہدین کو گاڑی کی سیٹوں پر بیٹھنے کا کہا اور خود اتر کر گاڑی کے پیچھے کی باڈی پر اچھل کر بیٹھ گیا۔ یہ دیکھ کر میں اترا اور اسے منانے لگا کہ وہ آگے بیٹھے بلکہ خود گاڑی چلائے، میں پیچھے یا پھر مزید ساتھیوں کے ساتھ تنگ ہوکر سیٹوں پر بیٹھ جاؤں گا۔ مگر وہ مصر رہا کہ میں پیچھے ہی بیٹھوں گا۔ پھر جب میں نے اصرار بڑھایا اور گفتگو طول پکڑتی گئی تو اس نے کہا کہ ’’مجھے گاڑی کہاں چلانا آتی ہے، میں تو یہ گاڑی نہیں چلا سکتا‘‘۔ مجھے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی کیونکہ عمومی وزیرستانی مجاہدین کو گاڑی نہ صرف چلانا آتی تھی اور ہوتے بھی وہ اس کے بہت ماہر تھے۔ خیر اس کی بات سن کر مجھے تسلیم ہونا پڑا اور پھر طویل سفر اس نے اکیلے ہی باڈی پر بیٹھ کر کیا۔ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد میں دتہ خیل کے مجاہدین کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا جہاں پر مجاہدین آپس میں گاڑیوں کے چلانے کے موضوع پر بات کررہے تھے۔ ایک مجاہد نے باتوں باتوں میں دتہ خیل کے عمدہ ڈرائیوروں کا نام لیا تو ان میں نور باقی جان کا ذکر سرِفہرست کیا۔ میرا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ میں نے کہا کیا نور باقی جان کو گاڑی چلانی بھی آتی ہے؟، تو وہ مقامی مجاہد ہنسا اور کہا کہ نور باقی جان تو علاقے کے اکثر مجاہدین کو گاڑی چلانا سکھاتا ہے اور وہ ماہر ڈرائیور ہے، اس نے اگر آپ کے سامنے گاڑی چلانے سے انکار کیا ہے تو یہ صرف اس کی تواضع اور آپ کا اکرام تھا۔
خیر، اس واقعے سے جب مجھ پر اس کا ایک اعلیٰ خلق واضح ہوا تو مجھے اس پر مزید اعتماد ہوا کہ اس پر کام کا بوجھ ڈالا جاسکتا ہے۔ پھر اس کے بعد سے لے کر اس کی شہادت تک وہ مہاجرین کی کئی گاڑیوں کی نگرانی، ان کی مرمت اور ان میں اہم سفر کروانے کا ذمہ دار رہا۔ پھر گاڑی ہی سے بات نکلی تو اس سے متعلق اس کے اعلیٰ خلق کا ایک اور واقعہ یاد آیا۔
باہمت و باعزم
۲۰۰۹ء میں پاکستانی افواج نے شیروں کی کچھار خطۂ محسود میں ظالمانہ آپریشن کا آغاز کیا۔ مہاجر مجاہدین پہلے ہی دن سے اپنے محسودی بھائیوں کے دفاع میں شانہ بشانہ کھڑے ہوئے اور محسود کے مختلف علاقوں میں مراکز بنا کر وہاں پر ظالم و وحشی فوج سے دفاعی جنگ کرنے لگے۔ اسی طرح کا ایک مرکز سپن قمر کے علاقے میں بھی تھا۔ سپن قمر کا محاذ، دتہ خیل کے مغرب میں فلک بوس پہاڑی سلسلوں پر قائم تھا۔ یہ علاقہ سردیوں میں برف میں دھنسا رہتا تھا اور موسمِ بہار میں برف پگھلنے کے بعد یہاں مجاہدین جمع ہو کر غاصبوں کے خلاف کارروائیاں کرتے تھے۔ سردی کی یہ حالت ہوتی کہ جون و جولائی کے مہینوں میں بھی ٹھنڈ سے پانی جم جایا کرتا تھا۔ پھر جب موسمِ سرما کی آمد آمد ہوتی اور برف پڑنے کا وقت قریب آتا تو مجاہدین اپنی کچھاروں سے نیچے اتر جاتے اور پھر سردیوں میں خطۂ محسود کے مشرق کے قدرے گرم علاقوں میں اپنی کارروائیاں تیز کرتے۔ سپن قمر کے ایک مرکز میں مجاہدین کو سامان، اسلحے، خوراکی مواد، زخمیوں کی منتقلی اور ساتھیوں کے محاذ پر آمد و رفت کی ذمہ داری نور باقی جان پر تھی۔ ڈبل کیبن گاڑی نور باقی جان کے پاس ہوتی اور مخابرہ اس کے پاس ہوتا۔ پس جس وقت بھی مجاہدین کو محاذ پر ضرورت ہوتی نور باقی جان حالات، وقت، موسم کی پروا کیے بغیر محاذ کی ضروریات پورے کرنے میں سر دھڑ کی باز ی لگا دیتا۔ یہ ذمہ داری کئی سال تک اس نے بحسنِ خوبی نبھائی۔ غالباً یہ ۲۰۱۲ء کے موسمِ خزاں کے آخر کی بات ہے، سردی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی تھی۔ بادل آتے اور جاتے تھے، بس ایسا لگتا تھا کہ برف بس پڑا ہی چاہتی ہے۔ ساتھیوں نے نور باقی جان کو مخابرہ پر رابطہ کر کے بلوایا کہ وہ گاڑی لے کر آئے اور محاذ کے مرکز سے ساتھیوں کو لے جائے۔ سپن قمر کی طرف جانے کا راستہ انتہائی دشوار گزار تھا، سینکڑوں فٹ گہری کھائیوں کے اوپر بل کھاتی اور تن تناتی، پتلی، پھسلن والی سڑک جو بعض اوقات اچانک ایسے اونچائی کی طرف اٹھتی تھی جیسے کسی عمارت کی کوئی لفٹ اٹھتی ہو۔ عام حالات میں بھی کہنہ مشق ڈرائیور یا پشتو کی اصطلاح میں ’بے زڑہ‘3 ڈرائیور ہی اس اونچے اور خطرناک راستے پر گاڑی لے جاسکتا تھا۔ خیر شام کو مرکز میں نور باقی جان پہنچا اور ساتھیوں سے ملاقات اور خوش گپیوں کے بعد اگلی صبح ساتھیوں کو لے کر واپسی کا ارادہ ہوا۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ رات گئے برفباری شروع ہوگئی اور صبح جب ساتھی اٹھے تو برف وزیرستان کے کوہساروں کو ڈھانپ چکی تھی۔ اب واپسی کا سفر انتہائی خطرناک تھا۔ ایک ایسی سڑک پر سفر کہ جس میں عام حالات میں بھی پیدل چلنے والے کو بعض اوقات پکڑ پکڑ کر اترنا پڑتا ہے، اب اس سڑک پر برف پڑچکی تھی۔ بظاہر اس پر اب گاڑی کو اتارنا ناممکن تھا مگر نور باقی جان کی ہمت تو آہنی تھی اور اس کے عزم کو توڑنا مشکل تھا۔ اس نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سامان کو گاڑی میں بھرا اور اللہ پر توکل کا نعرہ لگا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ سامان سے بھری گاڑی میں تقریباً پندرہ ساتھی سوار تھے۔ اور گاڑی سڑک پر چلنے کے بجائے پھسلتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوئی۔ پھر جب سخت اترائیاں شروع ہوئیں تو گاڑی پہلی اترائی ہی پر ایسا پھسلی کہ ساتھیوں کی چیخیں نکل گئیں۔ اللہ کا شکر کہ گاڑی ایک چٹان سے ٹکرا کر رک گئی ورنہ سینکڑوں میٹر گہری کھائی میں پہنچے بغیر رکنے والی نہیں تھی۔ ساتھیوں نے فوراً گاڑیوں سے چھلانگ لگائی اور کہا کہ ہم گاڑی میں سفر نہیں کریں گے بلکہ پیدل اتریں گے۔ اور نور باقی جان کو بھی یہی کہا کہ گاڑی اور سامان کو فی الحال یہیں چھوڑتے ہیں اور خود پیدل پہاڑوں سےاترنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ مگر نور باقی جان نے کہا کہ آپ سب پیدل جائیں مگر میں اکیلا ہی گاڑی کو اتارتا ہوں اور میں بیت المال کی گاڑی اور سامان کو کیسے یہاں چھوڑ دوں، ہاں! اگر آج میری شہادت لکھی ہوئی ہے تو اسے کون روک سکتا ہے۔ یہ کہہ کر نور باقی جان نے کود کر پھر سٹیرنگ سنبھالا اور گاڑی کو ساتھ ہی جھٹکا دیا۔ وہاں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والا عابد و زاہد، دلیر و جرأت مند مجاہد نوجوان حافظ جنید ادریس بھی موجود تھا۔ حافظ جنید جو کہ حافظ وقاص کے نام سے مجاہدین میں تعارف رکھتا تھا، اپنی خوش الحانی کے حوالے سے بھی مجاہدین میں مشہور تھا۔ حافظ وقاص نے بعد میں ۲۰۱۴ء کے اواخر میں صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں امریکی غلام افغان ملی فوج سے ایک ٹکراؤ میں جامِ شہادت نوش کیا۔ حافظ وقاص سے رہا نہیں گیا کہ نور باقی جان اکیلا موت کے منہ میں چھلانگ لگائے اور ہم اس کو چھوڑ دیں۔ الغرض اس نے چھلانگ لگائی اور پھسلتی گاڑی میں سوار ہوگیا اور نور باقی جان سے کہا کہ اگر آج تم شہید ہوگے تو میں بھی تمہارے ساتھ شہید ہوں گا۔ بعد میں نور باقی جان جب اپنے معصومانہ ظریفانہ انداز میں اس واقعے کو سناتا تھا تو یاد کرتا تھا کہ ایک وقاص ہی تھا کہ جس نے اس دن مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔ الغرض اللہ نے ان کی مدد فرمائی اور گاڑی پھسلتی، چلتی، پتھروں چٹانوں سے ٹکراتی بالآخر اتر ہی گئی اور ساتھی بخیر و عافیت اپنے ٹھکانوں پر پہنچے۔
صلیبی جنگ کے گرم محاذوں پر
نور باقی جان جہاد کا عاشق تھا۔ محاذوں پر جانے کے لیے مچلتا تھا۔ رات گئے بھی اسے اگر معلوم ہوجائے کہ مجاہدین کہیں دشمن پر حملہ کرنے کے لیے جارہے ہیں تو اس کا بس چلتا تو اڑتا ہوا ان کے پاس پہنچ جاتا۔ ہمارے ساتھ تعلق بننے کے بعد شاید نور باقی جان کو سب سے زیادہ تکلیف اسی وقت پہنچی ہوگی کہ جب اسے مہاجرین کی خدمات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے افغانستان کی موسمِ گرما کی تشکیل میں جانے سے روک دیا جاتا تھا۔ دو دہائیوں پر پھیلے افغانستان پر امریکی وحشیانہ حملے کے دوران امتِ مسلمہ کے دفاع کے لیے موسمِ بہار اور گرما میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں جہادی تشکیلات کی جاتی تھیں۔ ان تشکیلات میں بلامبالغہ ہر سال قبائل کے ہزاروں نوجوان، جوق درجوق امتِ مسلمہ کے دفاع اور لیلائے شہادت کی تلاش میں جایا کرتے تھے۔ خاص طور پر وزیرستانی قبائل وزیر، محسود اور داوڑوں کے جذبات تو دیدنی ہوتے تھے۔ امریکیوں، یہودیوں سے جنگ کے لیے جانا اور اس جنگ میں مارا جانا، یہ ان کو اتنا محبوب ہوتا تھا کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی اور آنکھیں امت کی اس بیداری پر کبھی خوشی اور کبھی ان شہداء کے جنازوں میں غم میں روتی رہتی تھیں۔ ان تشکیلات میں کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ بیسیوں ساتھیوں پر مشتمل مجاہدین کا کوئی گروپ راستے میں ہی امریکی بمباری کا شکار ہوجاتا یا کسی امریکی کیمپ پر حملے کے بعد واپسی کے سفر میں امریکی طیاروں کے وار میں اپنی جانیں اس دین کی خاطر قربان کردیتا۔ مگر یہ شہادتیں وزیرستان کے ان قبائلی نوجوانوں میں جہاد کا جذبہ اور بڑھاتیں اور جس قبیلے کے جتنے مجاہد پچھلے سال شہید ہوتے اگلے سال اس سے دگنے نئی تشکیل کے لیے تیار ہوکر گھروں سے نکل آتے۔ موسمِ بہار آتے ہی نوجوانوں کی خوشی کا وہ عالم ہوتا تھا کہ عید اور شادی کی خوشیاں بھی اس کے مقابلے میں کم محسوس ہوتی تھیں۔ پھر نوجوان ہی کیا سفید ریش بوڑھے بزرگ بھی اس جذبے میں پیچھے نہیں ہوتے تھے۔ مسلمانانِ قبائل کے یہ بیٹے افغانستان کے صوبہ پکتیکا، خوست، گردیز، ننگرہار، کنڑ، پکتیا، غزنی، وردگ، لوگر اور زابل کے اکثر اہم معرکوں میں شریک ہوئے اور بلا مبالغہ ان کی شہادتوں کی تعداد اگر گنی جائے تو ہزاروں میں ہوگی۔ وزیرستان کے نوجوانوں کو اس جہاد میں شرکت کروانے اور ان کو منظم کرنے میں بڑا کردار فخرِ اسلام خانوادۂ حقانی اور خاص طور پر مجاہدین کے سالار الحاج خلیفہ سراج الدین حقانی حفظہ اللہ اور ان کے رفیقِ خاص شیرِ افغان ملا سنگین رحمہ اللہ کو جاتا ہےکہ جن کی جرأت و کردار اور تدبیر و تنظیم کی بدولت مسلمانانِ قبائل کے لیے اس جہاد میں فعال کردار ادا کرنا اور وحشی امریکیوں سے دفاع کے لیے امت کے آگے بند باندھنے کا کام ممکن ہوا۔ اللہ امتِ مسلمہ کے ان محسنوں سے راضی ہوجائے اور ان کی قربانیوں کے نتیجے میں پوری دنیا میں اسلام کو غالب اور کفر کو مغلوب فرما دے، آمین۔
ہمارا دوست نور باقی جان بھی باقاعدگی سے ہر سال ان تشکیلات میں نہ صرف شرکت کرتا بلکہ اکثر مجاہدین کے کسی دستے کی کمان بھی اس کے ہاتھ میں ہوتی۔ پکتیکا، پکتیا اور خوست، ان تین صوبوں کے مختلف اضلاع میں حقانی صاحب اور ملا سنگین کے دستوں میں شامل ہو کر امریکہ اور اس کے غلاموں کے کیمپوں پر حملہ آور ہوتا۔ اس تجربے کی وجہ سے افغانستان کے ان صوبوں کے راستوں سے بھی وہ اچھا واقف تھا اور علاقائی حالات اور مشکلات سے بھی آگاہ ہوتا تھا۔ ہمارے ساتھ جڑنے کے بعد اب اس کی ذمہ داریوں میں یہ اضافہ بھی ہوگیا کہ وہ ہمارے مہاجر بھائیوں اور پشتو زبان سے ناواقف بھائیوں کو تشکیلات میں شریک کروانے کے لیے محاذوں تک چھوڑ کر آتا۔ اسی عرصے میں ہمارے دس بھائیوں پر مشتمل ایک دستے کی تشکیل پکتیا کے ضلع سٹاکنڈاؤ میں ہوئی۔ سٹاکنڈاؤ کا ضلع حقانی خاندان کا آبائی علاقہ ہے اور دشوار گزار پہاڑیوں میں گھرے ہوئے علاقے تک پہنچنے کے لیے وزیرستان کے بارڈر سے کئی دنوں کا تھکا دینے والا پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔ آسمان سے باتیں کرتے پہاڑوں پر اسلحہ اور گولہ بارود اٹھا کر سفر ایک انتہائی پرمشقت اور تھکا دینے والا عمل ہوتا تھا، مگر اپنے رب کی جنت کے سوداگر حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا ورد کرتے ہوئے آہستہ آہستہ چلتے چلتے بالآخر منزل پر پہنچ ہی جاتے تھے۔ لیکن نور باقی جان نے اپنی بھائیوں کو آسانی پہنچانے کے لیے اس دفعہ گاڑی سے جانے کا فیصلہ کیا۔ گاڑی کا سفر اُس زمانے تک کافی خطرات میں گھرا ہوا تھا۔ ایک تو راستہ نہ ہونے کے برابر تھا، راستے میں رک رک کر راستہ خود بنانا ہوتا تھا، دوسرا طوفانی بارشوں کی وجہ سے راستے میں موسمی دریا گاڑی کا راستہ بند کردیتے تھے، تیسرا گاڑی کی خرابی کی صورت میں مرمت کا کوئی امکان نہیں ہوتا تھا اور چوتھا امریکی چھاپوں اور بمباریوں کی وجہ سے گاڑی پر سفر کرنے سے بالعموم مجاہدین اجتناب ہی کرتے تھے۔ مگر نور باقی جان نے توکل کرکے اعلان کیا کہ میں خود جاؤں گا اور ساتھیوں کو سٹاکنڈاؤ تک چھوڑ کر آؤں گا۔ الغرض اللہ کا یہ ولی ایک دفعہ پھر خطرات میں کودا اور بھائیوں کو محاذِ جنگ پر پہنچا کر آیا۔ اس تشکیل کے شرکاء بھائی بھی نور باقی جان کی جرأت، حوصلہ، حسنِ انتظام اور استقامت سے بہت متاثر ہوئے۔
قلوب الأبرار قبور الأسرار
نور باقی جان کی ایک اور اہم اور پیاری صفت اس کے رازدان ہونے کی تھی۔ جہاد میں رازداری کا خیال رکھنا ایک بنیادی اصول ہے اور تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ مجاہدین میں جو جتنا رازدار ہوتا ہے اتنا ہی اس پر اعتماد بڑھتا ہے اور اتنا ہی اسے جہاد میں اعلیٰ خدمت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اپنے کاموں کو مکمل کرنے کے لیے رازداری سے کام لو۔ اسی لیے صحابہ کرام علیہم رضوان اللہ کی تربیت میں بھی نبی پاک ﷺ نے رازداری کی تعلیم کا بہت خیال رکھا۔ یہاں تک کہ بچوں اور خواتین تک میں رازداری کا خیال رکھنے کا مزاج پیدا کیا۔ خاص طور پر جنگوں میں اور جہادی معاملات میں تو انتہائی قریبی مگر اس کام سے غیر متعلق افراد پر جنگی راز نہیں ظاہر کیے گئے۔ پھر آقا مدنی ﷺ کے مطابق اچھا انسان وہ ہے جو اپنے کام سے کام رکھتا ہو، یعنی نہ لایعنی کام میں پڑتا ہو اور نہ ہی کسی ایسی بات کی ٹوہ میں لگا رہتا ہو کہ جس کو جاننا اس کے لیے ضروری نہ ہو۔ پس رازداری اور ’ترکِ لایعنی‘ یہ دونوں صفات ایسی ہیں کہ ان صفات کا حامل مجاہد اگر باقی دیگر صفات میں کچھ کمزور بھی ہو، جیسا کہ علم، تجربہ وغیرہ میں، مگر اس صفت کی وجہ سے اسے دین کے دفاع میں بعض اہم اور بڑی خدمات کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔
شہید نور باقی جان رحمہ اللہ کی بڑی عجیب صفت تھی کہ اگر اس سے کوئی بات راز کے انداز میں ہی کہہ دی جائے خواہ یہ کہا جائے کہ یہ راز ہے یا نہ کہا جائے، مگر مجال ہے کہ وہ بات اس کی زبان سے بعد میں کہیں نکلے۔ بالکل جیسا کہ عربی کا مقولہ ہے کہ نیک لوگوں کے دل رازوں کے قبرستان ہوتے ہیں، اسی طرح نور باقی جان کا دل بھی تھا۔ جہاد اور مجاہدین کی حفاظت کے لیے اہم راز اس کے دل میں دفن تھے اور وہ کسی قریبی ترین شخص کے سامنے بھی اس کا اظہار نہیں کرتا تھا۔ ساتھ ساتھ اسی صفتِ رازداری کا دوسرا پہلو یعنی ترکِ لایعنی، بے کار بات کے پیچھے نہ پڑنا، یہ بھی نور باقی جان کی خاص صفت تھی۔ میرے نزدیک یہ دونوں صفات لازم ملزوم ہیں، یعنی جو کہ رازدار ہوگا وہ لازماً معاملات کی ٹوہ میں نہیں لگا رہے گا، اپنے کام سے کام رکھے گا، بے جا سوالات نہیں کرے گا۔ اور اس کے برعکس جو بےکار میں ہر آنے جانے والے کی ٹوہ میں لگا رہے گا وہ لازماً رازدار بھی نہیں ہوگا اور جو اس کے دل میں آئے گا وہ زبان سے بھی ظاہر ہوجایا کرے گا۔
نور باقی جان نے اس عرصے میں بہت خدمات کیں۔ کئی مجاہدین کی نصرت کی اور ان کو سہولیات فراہم کیں۔ مگر جو کیا، ایک تو وہ کسی کو بتایا نہیں اور دوسرا جو اس کو پتہ نہیں تھا اس میں سوال نہیں کیا۔ اس کی ایک مثال شہید مجاہدِ کبیر، داعی و مفکرِ جہاد جناب عزام یحییٰ الامریکی رحمہ اللہ کی خدمت کرنے کا کام تھا۔ دتہ خیل میں ان کے طویل عرصے تک قیام کے دوران ان کے گھر کے انتظام سے لے کر ان کی دیگر ضروریاتِ زندگی کو فراہم کرنے کی ذمہ داری نور باقی جان ہی کی تھی۔ مگر اس نے کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ یہ صاحب کون ہیں اور کیا کام کرتے ہیں اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ بس ایک مجاہد بھائی ہیں اور ہمیں ان کی خدمت کرنی ہے، یہی بات بتانا اس کو مطمئن کرنے کے لیے کافی تھا۔ یہاں تک کہ اس نے ان کے کیمرے، کمپیوٹر اور دیگر کام کے آلات بھی دیکھے اور ان کی مرمت بھی کر کے دی مگر پھر بھی کبھی سوال نہیں کیا۔ یہاں تک کہ کافی عرصے بعد جب میران شاہ کے ایک مرکز میں مجاہدین ایک جہادی ویڈیو دیکھ رہے تھے تو اچانک اس میں شہید عزام امریکی رحمہ اللہ کا ایک بیان شروع ہوگیا جس کو دیکھ کر نور باقی جان سمجھ ضرور گیا کہ یہ شخصیت کون ہیں مگر پھر بھی اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی یہ راز اس نے پوری زندگی کسی پر ظاہر کیا، اور نہ ہی وہ اس بات پر ناراض ہوا کہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا تھا کہ یہ کون ہیں۔ ایک مشاہدہ جو مجھے میادینِ جہاد میں ہوا کہ جو شخص رازدار ہوتا ہے اور لایعنی کو ترک کرتا ہے وہ کبھی بھی اس بات پر اپنے امیر یا ذمہ دار سے ناراض نہیں ہوتا کہ مجھے فلاں بات کیوں نہیں بتائی یا فلاں سے کیوں نہیں ملوایا یا فلاں جگہ پر کیوں نہیں لے کر گئے اور کیا آپ میرے اوپر اعتماد نہیں کرتے، یا مجھے مخلص مجاہد نہیں سمجھتے، وغیرہ وغیرہ۔ ایک اچھے مجاہد کو تو اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ میرے دین کا کام آگے بڑھتا رہے، اسے خود کسی بات کا علم ہو یا نہ ہو اس سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔
میں نور باقی جان کی اس صفت پر غور کرتا ہوں تو بڑا حیران ہوتا ہوں کہ کیسے اس نے اپنے نفس پر اتنا قابو پایا کہ نہ وہ راز کسی کو بتاتا اور نہ ہی راز کی ٹوہ میں رہتا، حالانکہ وہ ایک سادہ سا قبائلی نوجوان تھا۔ اس کی کوئی خاص تعلیم بھی نہیں تھی، نہ کسی ادارے سے وہ پڑھا تھا اور نہ ہی مجاہدین کے کہنہ مشق استادوں سے اس نے عسکری دورے کیے تھے۔ مگر اس کے باوجود خود ہی سے رازداری میں مضبوط ہونے کی ایک ہی وجہ مجھے سمجھ میں آتی ہے، مگر اس بات کو تھوڑا سا تفصیل سے بیان کرنا پڑے گا۔
عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی کو کوئی راز کی بات معلوم ہوتی ہے تو نفس اس کو اس کام کے لیے اکساتا ہے کہ وہ یہ راز کسی اور سے بھی بیان کرے۔ شیطان دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ بھائی! دوسرے بھی تو اپنے دوستوں اور قریبی لوگوں کو راز بتاتے ہیں تو میں کیوں نہ بتاؤں۔ یا پھر یہ بات دل میں ڈالتا ہے کہ یار! یہ راز کوئی اتنا اہم تو نہیں ہے کہ اسے نہ بیان کیا جائے، یا یہ کہ میں جس کو بتا رہا ہوں وہ بڑا رازدار ہے وہ کسی کو نہیں بتائے گا۔ الغرض اس طرح کے وسوسوں اور خیالات کا اسیر ہوکر ایک کمزور انسان غلط جگہ پر راز ظاہر کردیتا ہے۔ اسی طرح باتوں کی ٹوہ میں لگے رہنے اور تجسس کی صفت ہے۔ شیطان جو کہ رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، وہ انسان کو اکساتا رہتا ہے کہ اس معاملے کی تفصیل جاننے کی کوشش کرو۔ پس تجسس کا مرض ایک ایسی بیماری ہے کہ جو کہ پیٹ کے درد کی طرح مریض کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی اور اس کا ہر وقت کا وظیفہ دوسروں کے رازوں اور معاملات کی ٹوہ میں لگے رہنا بنا دیتی ہے۔ پس رازداری کی صفت ایک ایسا خلق ہے کہ جسے باقاعدہ نفس پر بوجھ ڈال کر، اللہ کے خوف اور تقویٰ کو بڑھا کر، مجاہدہ کرکے، باقاعدہ تربیت سے گزر کر پیدا کیا جاتا ہے۔ ہاں! مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مجاہد میں اپنے مشن اور مقصد سے لگاؤ اور محبت انتہائی شدید ہوتی ہے اور وہ اس کو نقصان پہنچانے سے اتنا ڈرتا اور خوف کھاتا ہے کہ یہ دل کا شدید لگاؤ اور اپنے مقصد سے لگن اس کو پکا رازدار بنا دیتی ہے، خواہ اس نے کسی معسکر سے یا کسی کتاب سے یہ تعلیم حاصل کی ہو یا نہیں۔ میرے خیال میں یہی جہاد اور مجاہدین سے شدید محبت اور اس مقصد میں اخلاص ہی نور باقی جان کے ایک اعلیٰ رازدار ہونے کی بڑی وجہ تھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم!
من کان فی حاجۃ أخیہ
نور باقی جان بہت حساس دل تھا۔ مجاہدین کی تکلیف پر وہ بےچین ہوجاتا تھا اور جہاں تک اس کا بس چلتا، ان کی مدد کرنے اور ان کو سکون فراہم کرنے کے لیے مصروف ہوجاتا تھا۔ اس کی اسی دلی محبت اور حساسیت نے ایک دفعہ لطیفے کی صورت اختیار کرلی۔ ہوا یوں کہ ہم نے تو ابتدا میں اس کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا تھا کہ شیخ عزام امریکی رحمہ اللہ ایک انتہائی مطلوب شخصیت ہیں اور ان کی حفاظت کی خاطر ان کا بازاروں میں اور اِدھر اُدھر گھومنا پھرنا مناسب نہیں ہے۔ نور باقی جان تو حساس اور نازک دل کا مسلمان تھا۔ وہ اس بات پر بہت کڑھنا شروع ہوگیا کہ کیوں باقی ساتھی تو گھومتے پھرتے ہیں مگر یہ بھائی (شیخ عزام امریکیؒ) کیوں نہیں گھومتے پھرتے اور دیگر ساتھیوں سے قدرے ناراض ہوگیا کہ وہ کیوں ان کو بھی اپنے ساتھ گھمانے پھرانے یا دیگر جہادی کاموں سے نہیں لے جاتے۔ پھر ایک دن اس کو جوش چڑھا اور وہ شیخ کو گاڑی میں بٹھا کر بازار لے گیا۔ دتہ خیل اور اس کے گردو نواح کی سیر کروائی اور جب اس کا دل مطمئن ہوگیا کہ اس نے اپنے اس مہاجر بھائی کی اچھی تفریح کروا دی ہے تو پھر واپس لا کر ان کو ان کے گھر چھوڑا۔ بعد میں جب ذمہ داران کو علم ہوا تو وہ سر پکڑ کر رہ گئے کہ یہ کیا ہوگیا۔ نور باقی جان سے پوچھا تو اس نے انتہائی معصومیت سے بتایا کہ میں چاہتا تھا کہ ان بھائی کو خوشی دے دوں اس لیے میں نے یہ کام کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہر ساتھی کو خوشی دینے اور اس کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے وہ کوشاں رہتا تھا اور اس کا یہ رویہ ذمہ دار یا عام ساتھی سب کے لیے یکساں ہوتا تھا۔ جب اسے علم ہوتا کہ کسی دور دراز کے مرکز میں بھی کوئی بھائی بیمار ہے یا اسے کسی دوا کی ضرورت ہے تو وہ اپنے آرام یا حالات کی پرواہ کیے بغیر فوراً روانہ ہوجاتا اور مشکل پہاڑی راستوں میں کئی گھنٹے کے پرتھکن سفر کر کے مجاہدین کے علاج یا کسی سہولت کا انتظام کرتا۔
نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ جو اپنے بھائی کی حاجت کو پورا کرنے میں لگا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا کرتا ہے۔ اپنے مجاہد بھائیوں اور بالخصوص غریب الدیار مہاجر بھائیوں کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہنا اس کی ایک خاص صفت تھی۔ اس کا گھر دریائے ٹوچی کے کنارے اس عام سڑک کے بالکل قریب تھا جو کہ افغان بارڈر لواڑہ کی طرف جاتی تھی۔ اس جگہ سے گاڑیاں دریائے ٹوچی کو پار کرتی تھیں اور پھر پہاڑی گزرگاہوں سے ہوتے ہوئے بارڈر تک پہنچتی تھیں۔ دریا میں اکثر ہی اور خاص طور پر بارشوں کے زمانے میں پانی زیادہ ہوتا تھا جس کی وجہ سے ناواقف ڈرائیوروں کی گاڑیاں دریا میں پھنس جایا کرتی تھیں۔ مقامی ڈرائیور تو دریا کی صفات سے واقف ہی ہوتے تھے لیکن اکثر مہاجرین کی گاڑیاں ہی دریا کے مزاج سے ناوقفیت کی وجہ سے پانی میں پھنس کر خراب ہوجاتیں۔ ایسے میں نور باقی جان اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے پہنچ جاتا۔ ان کے لیے گاڑی کو نکالنے کا بندوبست کرتا، پھر ان کو اپنے گھر لے جاکر کھانا کھلاتا اور پانی میں بھیگے کپڑوں کو تبدیل کروانے کے لیے کپڑوں اور غسل کا بندوبست کرواتا۔ رات اپنے گھر میں ٹھہراتا اور پھر اگلے دن جب تک ان بھائیوں کی گاڑی کی مرمت نہ ہو جاتی اس وقت تک ان کی خدمت کے لیے حاضر رہتا۔ اور پھر جو ایک دفعہ اس کے پاس سے ہوکر گزر جاتا اس سے اس کی شناخت اور دوستی پکی ہوجاتی۔ شاید خدائی خدمتگار اسی کو کہتے ہیں، اللہ کے لیے خدمت کرنے والا۔
محبت کا ایک انوکھا انداز
اپنے مہاجر بھائیوں سے ان کی زندگی میں محبت تو اس کی واضح تھی ہی مگر ان کی شہادت کے بعد ان سے محبت کا ایک عجیب انداز میں نے اس میں دیکھا۔ وہ یہ کہ اس بات کی کوشش کرنا اور اس پر اصرار کرنا کہ یہ مہاجر شہداء لازماً اس کے قبیلے کے قبرستان میں ہی دفن ہوں۔ یہ اس کے لیے فخر کی بات ہوتی اور اپنے مہاجر بھائیوں سے ایک انجانا قربت کا احساس ہوتا۔ اس کا علاقہ دتہ خیل پاکستان کو افغانستان سے ملانے والی عمومی شاہراہ پر واقع تھا۔ اس شاہراہ پر مجاہدین کی آمد و رفت عموماً کافی زیادہ ہوتی تھی، جس کی وجہ سے امریکیوں اور ان کے غلام پاکستانی فوج کے لیے اس شاہراہ پر ان کے ہدف بنانے کے مواقع بھی زیادہ ہوتے تھے۔ آئے دن دتہ خیل کے علاقے میں ڈرون حملوں کی اطلاعات آتی رہتی تھیں۔ جیسے ہی کہیں ڈرون میزائل کی آواز آئے یا مخابرے پر ڈرون حملے کی اطلاع ملتی، نور باقی جان ماہیٔ بے آب کی طرح بےچین ہوجاتا، پلک جھپکتے ہی اپنی سواری پر سوار ہوتا اور اس مقام پر پہنچنے میں جلدی کرتا کہ جہاں ڈرون حملہ ہوا ہوتا۔ اس کو اس بات کی ٹینشن ہوتی تھی کہ شاید امت کے ان بیٹوں میں سے کوئی باقی بچ گیا ہو، یا زخمی ہو تو میں جلدی پہنچ کر اس کی مدد کرسکوں۔ بالعموم ڈرون حملوں کے بعد بھی کئی گھنٹوں تک ڈرون طیارے فضا میں موجود رہتے تھے اور ایک حملے کے بعد وہاں جمع ہونے والے لوگوں پر دوبارہ حملہ کرنا بھی بزدل امریکیوں کی عادت تھی، اس لیے بیشتر ناصحین اس کو یہی سمجھاتے کہ یہ وقت حملے کی جگہ پر جانے کا نہیں ہے، کچھ دیر انتظار کرلو۔ مگر اس کے کسی بھائی کو اس کی ضرورت ہونے کا امکان بھی ہو اور وہ رکا رہے، یہ اس کے لیے ناممکن ہوتا۔ حملے کے بعد ابھی آگ کے شعلے بجھے نہیں ہوتے تھے کہ وہ پہنچ جاتا اور زخمیوں کو نکال کر علاج کی جگہ تک پہنچانے کی کوشش کرتا۔ پھر اگر زخمی نہ ہوں تو سب سے پہلے شہداء کے قیمتی سامان اور اسلحے کو محفوظ کرواتا پھر شہداء کے ٹکڑوں کو جمع کرتا۔ اور پھر اس کی شہداء کے متعلقین سے ہی ضد ہوتی کہ یہ شہداء ہمارے قبرستان میں دفن ہوں گے اور اگر اس کی اجازت مل جاتی تو پھر شہداء کو دفنانے اور پھر ان کے سامان اور اسلحے کو ان کے متعلقین تک پہنچانے تک نور باقی جان اسی کام میں مصروف رہتا۔
سن ۲۰۱۲ء میں شیرِ اسلام ملا سنگین رحمہ اللہ کی قیادت میں مجاہدین نے غلام خان بارڈر کے اُس پار افغانستان کے صوبہ خوست میں امریکیوں اور ان کی غلام افغان آرمی کے ایک کیمپ پر حملے کا منصوبہ بنایا۔ دیگر مجاہدین کے ہمراہ مہاجر مجاہدین کی بھی ایک بڑی تعداد نے اس حملے میں شریک ہونا تھا۔ مہاجرین کُل تین گاڑیوں میں سوار تھے، جن میں سوار ساتھیوں کی تعداد تین درجن کے قریب تھی۔ ان ساتھیوں میں عرب، پنجابی، پشتون، ازبک، شیشانی مجاہدین شامل تھے۔ میرانشاہ سے کوئی دس کلومیٹر کے فاصلے پر ڈرون طیاروں نے امتِ محمدی ﷺکے اس ہراول دستے کو نشانہ بنایا۔ شہداء کی تعداد کافی زیادہ تھی، کُل بائیس یا تیئس شہداء تھے جو سب کے سب مہاجرین تھے۔ دتہ خیل میں رات گئے ہمیں اس کی اطلاع ملی تو آدھی رات میں جبکہ راستے میں پاکستانی فوج کی پوسٹوں پر خطرے کا امکان بھی تھا، نور باقی جان شہداء کے پاس پہنچنے کے لیے بیتاب ہوگیا۔ میرانشاہ بازار کی ایک عمارت میں ان تمام شہداء کو رکھا گیا تھا۔ شہداء کے سرہانے مجاہدین کے قائد، جرأت و عزم کے پیکر کماندان بدر منصور رحمہ اللہ کھڑے تھے اور شہداء کی تدفین کے مراحل طے کر رہے تھے۔ ڈرون طیاروں کے شدید گھومنے کی وجہ سے اس بات کا امکان موجود تھا کہ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کو دفناتے وقت پھر کہیں خسیس امریکی کوئی وار نہ کر دیں۔ نور باقی جان نے فوراً اپنے آپ کو پیش کیا کہ میں ان شہداء کو دتہ خیل لے جاکر دفنانے کا بندوست کرتا ہوں، مگر بدر منصور رحمہ اللہ نے کہا کہ اتنے زیادہ ایک جگہ نہیں دفناتے بلکہ تقسیم کرکے مختلف قبرستانوں میں دفناتے ہیں۔ اس طرح چار شہداء کی تدفین نور باقی جان کے ذمہ لگی جو ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے مجاہد منظور (قاسم) اور حافظ عبدالمتین (سعیداللہ)، ضلع لیہ کے عثمان اور کوہاٹ کے شہید داد اللہ رحمہم اللہ تھے۔ میرانشاہ سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر واقع اپنے گاؤں میں پہنچ کر پھر اس نے ان شہداء کی تدفین کے انتظامات کروائے۔ پورے گاؤں میں ایسا ماحول تھا کہ جیسے آج ان کے کوئی قریبی رشتہ دار شہید ہوگئے ہیں۔ اپنی قوم اور رشتہ داروں سے سینکڑوں میل دور بیٹھے ان مہاجرین کے لیے اس غم کے موقع پر اپنے ان ایمانی بھائیوں کی محبت اور اپنائیت ایک ایسا اکرام تھا کہ جس کی حلاوت بُھلائی نہیں جاسکتی۔ شہداء کا یہ اعزاز اور اپنی زمینوں میں ان کو دفنانے پر فخر کرنا اور اس کے لیے مسابقت کرنا انصارانِ وزیرستان کی مہاجرین سے انوکھی محبت کا ایک انداز تھا۔
قومیت نہیں، اسلامیت!
نور باقی جان نے مہاجرین کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ کبھی دتہ خیل کی شاہراہ پر بھری ڈاٹسن ڈبل کیبن میں پنجاب سے آئے ہوئے مہاجر مجاہدین کو معسکر پہنچاتے ہوئے نظر آتا اور کبھی صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والےکسی مجاہد کو علاج کی غرض سے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوا پایا جاتا۔ کبھی مالدیپ کے غازیوں کی کسی عسکری ورکشاپ کے پرزے پورے کرنے کے کام کر رہا ہوتا تو کبھی کسی عرب یا ازبک مجاہد کو منزلِ مقصود تک پہچانے میں مدد کر رہا ہوتا۔ اس کی صبح و شام ان اللہ والوں کے لیے وقف تھی، جو دنیا سے کٹ کر بس اللہ کے ہوگئے تھے۔ جنہوں نے یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس کے نظام ہی کو دنیا میں غالب ہونا ضروری ہے۔ جو یہ کہتے تھے کہ تاریخ کی سب سے بڑی اس صلیبی جنگ میں اپنے افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ ہمیں بھی امتِ مسلمہ کے دفاع کے لیے نکلنا ہے۔ پس اُن کے وطنوں کی حکومتیں ان کے درپے ہوئیں، ان کے لیے جینا حرام کیا، ظلم و ستم کا ہر حربہ ان پر آزمایا گیا، پس وہ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر سرزمینِ ایمان و غیرت وزیرستان ہجرت کرگئے۔
ظاہر سی بات ہے کہ سالہا سال تک مہاجرین کی نصرت میں لگے رہنے کی وجہ سے نور باقی جان اس حوالے سے جانا جانے لگا۔ پھر بالخصوص اس کا زیادہ وقت پاکستان کے شہری علاقوں سے آنے والے مجاہدین بھائیوں کے ساتھ گزرتا تھا، جن کو وزیرستان کے عرفِ عام میں پنجابی مجاہد4 کہا جاتا تھا۔ جہاں قبائل میں دین کی بنیاد پر نصرت و مدد کرنے والوں کی اکثریت ہے وہیں پر کچھ ایسے افراد بھی موجود تھے جو کہ کفار کی پیدا کردہ اور ان کے مکر وفریب سے نشونما پانے والی قومی عصبیتوں اور نفرتوں کو پھیلایا کرتے تھے۔ وزیرستان ہمارا ہے اور یہاں سے باہر سے آنے والوں کو نکل جانا چاہیے، باہر سے آنے والے اپنے ملک میں کیوں جہاد نہیں کرتے ہمارے وزیرستان کو کیوں خراب کرتے ہیں، ان مہاجرین کے اندر بہت سے خراب لوگ اور خفیہ ایجنسیوں کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں اس لیے ان سے دور ہوجانا چاہیے، وزیرستان وزیریوں کا ہے اس میں باہر سے آنے والوں کو کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔ الغرض اس طرح کے پُرفریب نعرے بلند کرکے اور پروپیگنڈے کر کے مہاجرین اور ان کے انصار کے درمیان میں تفریق ڈالنے کی کوششیں کی جاتیں۔ ان تمام تبلیغات کا مرکز اور منبع میرانشاہ، وانا اور دیگر ایجنسی ہیڈکوارٹروں کی چھاؤنیاں ہوتیں، جہاں سے فوج کے کسی افسر کی زیرِ نگرانی اس پروپیگنڈہ مہم کو چلایا جاتا۔
دینی و ملی غیرت سے سرشار دیگر وزیرستانی مجاہدین کی طرح نور باقی جان بھی منافقین کے ان فتنوں کے آگے آہنی دیوار بن کر ڈٹ جاتا تھا اور ہر بازار، محفل اور حلقۂ اثر میں ان نظریات کی گندگی کو بیان کیا کرتا۔ وہ بیان کرتا کہ اگر یہ پنجابی مہاجرین ہمارے علاقے میں باہر سے آئے ہیں تو ہمارے نبیﷺ بھی تو مدینہ میں باہر سے آئے تھے۔ وہ واضح کرتا کہ مہاجروں کو نکال باہر کرنے اور ذلیل کرنے کے خواب دیکھنے والے عین رئیس المنافقین عبداللہ ابنِ ابی کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں جس نے اپنی مختلف چالیں، مکر و فریب، فتنوں، بہتانوں اور پروپیگنڈے کرکے مہاجرین کو مدینۂ طیبہ سے نکالنے کی کوششیں کیں اور اللہ کے نزدیک ملعون و مغضوب ہوا۔ وہ زیادہ علم تو نہیں رکھتا تھا مگر اپنی ایمانی بصیرت سے بیان کرتا کہ اسلام کا عقیدہ تو قوم پرستی کے عقیدے کی ضد ہے۔ اسلام تو دین کی بنیاد پر مدد و نصرت کے لیے اکساتا ہے، جبکہ قوم پرست اپنا ہم قوم یا ہم زبان ہونے کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اگر قوم یا زبان ہی ہماری محبت اور قربتوں کا معیار ہے تو پھر سرکارِ دو عالم نبی اکرم ﷺ جو نہ ہمارے ہم قوم ہیں اور نہ ہی ہم زبان، ان سے محبت اور عشق کیونکر پیدا ہوسکتا ہے۔ پھر نماز اور دیگر عبادات سے کیا تعلق کہ وہ تو ہماری زبان میں ہی نہیں اور پھر حج و عمرے اور مدینہ طیبہ زادھا اللہ شرفا سے کیا نسبت کیونکہ وہ تو ہمارے وطن سے ہزاروں میل کی دوریوں پر ہیں۔ پس دینِ مصطفویﷺ کا پاسدار نور باقی جان ہر فتنہ گر کے مقابلے میں ڈٹا رہا اور ببانگِ دہل بیان کرتا رہا کہ جو بھی دین کی بنیاد پر مظلوم ہوا، اس کی مدد ہم پر فرض ہے خواہ وہ جہاں کا بھی ہو، اور اسی راستے میں وہ بالآخر شہید ہوا۔ اللہ اس سے راضی ہو۔
امتِ محمدیہ ﷺ کے خلاف یہود و نصاریٰ کا پچھلی کچھ صدیوں سے سب سے خطرناک حربہ قوم پرستی کو رائج کرنا اور خلافت اور امت کے تصور کو توڑ کر قومیت، لسانیت یا وطنیت کی بنیاد پر حکوتوں کا قیام کرنا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کو ختم کرنے کے لیے سب سے گھناؤنی چال قوم پرستی کے بیج بونے کی تھی، جس کے ذریعے عرب اقوام میں ترک عثمانیوں کی نفرت کو پروان چڑھایا گیا اور دوسری طرف ترکوں کے اندر عربوں سے بغض اور بیزاری کے جذبات پیدا کیے گئے۔ اس مقصد کے لیے ذرائع ابلاغ کے تمام موجودہ ذرائع کو استعمال کیا گیا اور نام نہاد دانشوروں اور مفکرین کے ذریعے سے قوم پرستی کے نظریات متعلقہ اقوام میں پھیلائے گئے۔ دونوں طرف کے قوم پرست لیڈروں اور مفکرین کی بڑی تعداد خود عیسائی یا یہودی ہوتے یا ملحدانہ نظریات رکھنے والے ایسے نام کے مسلمان جو کہ محمدِ عربی ﷺ کے بجائے ’لینن‘ اور ’سٹالن‘ کو اپنا راہنما کہا کرتے تھے۔ پھر خلافت کے سقوط کے بعد اسی متعصب قومی نظریات پر ریاستیں قائم کی گئیں، جن کی حکومتوں اور افواج کی بنیادی ذمہ داری اپنے وطن اور قوم کا دفاع قرار دیا گیا، خواہ اس راہ میں انہیں دین اور امتِ مسلمہ کے مفاد کو داؤ پر ہی کیوں نہ لگانا پڑے۔ پھر انہی عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں کسی ایک ملک کے اندر بھی ایک قوم یا طبقے کی طرف سے دوسری قوم پر ظلم وستم5، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور دوسرے استحصالی طریقے اختیار کروا کر نفرتیں اور تعصب کی ایسی دیواریں قائم کی جاتی ہیں کہ جس کے بعد مظلوم و مقہور قوم کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور باب نہیں بچتا کہ وہ عالمی کفار کی پناہ لے کر مقامی حریف کے ظلم و ستم سے بچنے کی راہ تلاش کرے۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ وہی امریکہ کہ جس کے کہنے پر، بلکہ اصرار پر اور بار بار امداد دے دے کر، پاکستان کی وحشی افواج نے قبائل کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور ہزاروں پشتون مسلمانوں کو شہید کیا اور ایسے مظالم ڈھائے کہ جن کو سن کر حقیقی کفار بھی شرما جائیں، وہی امریکہ دوسری طرف پشتونوں کے حقوق کے دفاع کرنے اور پشتون قوم پرستی کے نعرے کو ترویج دینے کے لیے پچھلی دو دہائیوں سے اپنے تمام ابلاغی ادارے وقف کیے ہوئے ہے۔
قوم پرست کبھی اسلام پر فخر نہیں کرتا بلکہ اسے فخر کرنے کے لیے اپنی قوم ہی میں سے کسی قوم پرست کو تلاش کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ اس کی قوم کا ارذل ترین شخص یا غلیظ ترین کافر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ کفار کی کاشت کردہ قوم پرستی کا ثمرہ ہی تھا کہ عرب قومیت کا نعرہ لگانے والے عرب، رسولِ عربیﷺ کے بجائے عیسائی عرب ’مشیل عفلق‘ کو اپنا قائد کہتے تھے جو سرِعام اسلام کی توہین کرتا، بنگالی قوم پرست متعصب ہندو بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کو اپنا راہنما کہتے، مصری قوم پرست فراعنۂ مصر کو اپنا مورثِ اعلیٰ کہتے اور اپنے آپ کو ابنائے فرعون کہلانے پر فخر کرتے اور سندھی قوم پرست سندھ کے ہندو راجہ داہر کو ہیرو اور قائد جبکہ محمد بن قاسم رحمہ اللہ کو ظالم لٹیرا اور پرایا کہتے۔ مگر نور باقی جان جانتا تھا کہ اسلام ہی سے پشتون قوم کی عزت اور اسلام ہی سے اس کا تعارف ہے۔ اس عظیم قوم کی غیرت، حمیت، جرأت اور علو ہمتی کی ہر تاریخ اسلام کی عزت اور شان و شوکت کی تاریخ ہے اور اسلام کو اس سے جدا کرنے یا محض قومیت کے نعرے کے گرد اکٹھا کرنے سے زیادہ اس غیور قوم سے بڑی اور کوئی زیادتی نہیں ہوسکتی۔
اسلحے کی حفاظت
نور باقی جان کی امانت اور صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اسلحہ و گولہ بارود کی حفاظت کا کام اس کے سپرد کردیا گیا۔ دتہ خیل میں گولہ بارود کاایک بڑا ذخیرہ اس کے سپرد تھا جسے اس نے اپنے متعلقین کے پاس محفوظ کیا ہوا تھا۔ اس سامان میں چھوٹے گولوں سے لے کر بڑے میزائل اور توپوں کے گولے تک شامل ہوتے تھے۔ نور باقی جان نے بہت امانت داری اور دیانت سے اسلحے کے مخازن کا حساب کتاب رکھا اور اس کام کا حق ادا کیا۔ وہ زمین دوز کیے ہوئے اسلحے اور گولوں کا وقتا فوقتا جائزہ بھی لیتا رہتا، ان کی صفائی اور مرمت کا خیال بھی رکھتا اور اگر ان میں سے کوئی زیادہ پرانا ہونے یا کسی اور خامی کی وجہ سے استعمال کے لیے نامناسب ہوتا تو اس کو تبدیل کروا کر دوسری مناسب چیز بھی خریدتا۔ اس کے علاوہ بھی بازاروں میں گھومتے پھرتے ہوئے اسے کوئی مناسب ہتھیار مجاہدین کے لیے ملتا تو اس کی بھی خریداری کی کوشش کرتا۔
جب سن ۲۰۱۳ء کے اواخر میں قائدِ جہاد فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری کی ہدایات کے مطابق جماعت القاعدہ برِّصغیر کا قیام کیا گیا تو جماعت میں اسلحے اور اس کے مخازن اور حساب کتاب کے لیے مستقل شعبے کا قیام کیا گیا۔ نور باقی جان کو بھی خدمات کے لیے اسی شعبے کے ساتھیوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور اس نے اپنے پاس موجودہ تمام کا تمام سامان شعبے کے مسئولین کی ہدایات کے مطابق نئی جگہوں اور ٹھکانوں پر منتقل کیا۔
کہیں میں پیچھے نہ رہ جاؤں!
جس طرح جماعت کی تاسیس کے بعد نور باقی جان کو نئے شعبے کی خدمات میں مصروف ہونا پڑا، اسی طرح راقم کو بھی قائدِ جہادِ برِّ صغیر امیرِ محترم مولانا عاصم عمر کی ہدایات کی روشنی میں بعض دوسرے جہادی کاموں میں مصروف ہونا پڑا، جس کی وجہ سے نور باقی جان سے کچھ عرصے کے لیے میرا رابطہ کٹ گیا۔ یہ عین وہی زمانہ تھا کہ جب ظالم و وحشی پاکستان آرمی نے امریکی حکم اور تعاون پر شمالی وزیرستان آپریشن کا آغاز کردیا تھا۔ مسلمانانِ وزیرستان اور مہاجرین پر آتش و آہن کی بمباری شروع تھی۔ ایک طرف پاکستان آرمی کی آرٹلری کی توپیں آگ اگلتی تھیں، دوسری طرف پاکستانی جیٹ طیارے دقیق بمباری کے لیے امریکہ سے جی پی ایس سسٹم خرید کر وحشی بمباری کرتے تھے اور تیسری طرف امریکی ڈرون طیارے تاک تاک کر اہم مجاہدین کو نشانہ بناتے تھے۔ اسلام اور کلمۂ طیبہ کے نام پر آئے ہوئے مہاجرین کی نصرت کے جرم میں وزیرستان کی ایک دفعہ پھر سے اینٹ سے اینٹ بجائی جارہی تھی۔ علاقے کی عام آبادیاں بھی تیزی سے انخلا کر رہی تھیں۔ بمباری کی شدت کی وجہ سے مجاہدین کی قیادت نے مجاہدین کی بڑی تعداد کو دیگر علاقوں میں منتشر کرنے کا کام شروع کروایا دیا تھا۔ میں تو اپنے کاموں کے سلسلے میں وانا کی طرف تھا اور جن ساتھیوں کے حوالے نور باقی جان کو کیا تھا انہوں نے آپریشن کے نئے حالات میں اپنے نئے ٹھکانے بنائے تھے اور اس طرح وہ بھی نور باقی جان کے رابطے سے کٹ گئے تھے۔ پھر دتہ خیل کا علاقہ فوجی کیمپ سے قریب ہونے کی وجہ سے خطرناک بھی ہوچکا تھا، جس کی وجہ سے ہمارے دیگر بھائیوں کااس طرف جانا بھی انتہائی کم ہوگیا تھا۔ چنانچہ نور باقی جان کسی ساتھی سے رابطے میں نہ رہا۔ یہ مرحلہ نور باقی جان کے لیے انتہائی اذیت اور تکلیف دہ تھا۔ اس کا دل اس غم سے پھٹا جارہا تھا کہ وہ اس نازک موقع پر کیوں اپنے بھائیوں سے دور ہے اور کیوں اس وقت اپنے مہاجرین بھائیوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کرپا رہا۔
دوسری طرف اس کی قوم خدر خیل کے سرکردہ افراد کے حوالے سے مشہور ہوا کہ انہوں نے فوج سے جنگ نہ کرنے کا اور فوج کی پیش قدمی کی صورت میں افغانستان ہجرت کرجانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کے مشہور ہونے کے بعد ہمارے کچھ بھائیوں کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ شاید نور باقی جان بھی اپنی قوم کی اس ممکنہ پالیسی کی وجہ سے ہماری مدد سے کترا رہا ہے، مگر اسلام کا یہ شیر مرغِ بسمل کی طرح تڑپ رہا تھا اور اس کسک میں گھلا جارہا تھا کہ وہ کیوں اس وقت اپنے بھائیوں کے ساتھ رابطے میں نہیں ہے۔ اس دوران اس نے مجھ سے رابطے کی کوشش بھی کی مگر اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ پھر ایک دن اسے اتفاقاً ایک ساتھی ملا۔ نور باقی جان نے چھوٹتے ہی اس سے گزارش کی کہ کسی طرح راقم تک یہ پیغام پہنچ جائے کہ وہ ملنے کے لیے بیتاب ہے اور جس قسم کی خدمت بھی اس کے ذمے لگائی جائے گی وہ سر دھڑ کی بازی لگا کر اسے پورا کرے گا۔ نور باقی جان نے ساتھی سے اپنی دل کی تڑپ اور رابطے میں نہ ہونے کے غم کا ایسا اظہار کیا کہ جس نے بھی یہ سنا اس کا دل بھر آیا۔ البتہ نور باقی جان کا یہ پیغام مجھے جنوبی وزیرستان میں کئی دن کے بعد ملا، مگر نور باقی جان میں اپنے بھائیوں سے دور رہنے کی مزید برداشت ختم ہوچکی تھی، اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا، لہٰذا وہ گھر سے نکل پڑا۔
نور باقی جان نے اپنے ماموں زاد بھائی ’کاکا‘ کو اپنے ساتھ جانے کے لیے تیار کیا۔ کاکا جو کہ ’موسمِ بہار‘ کے تخلص سے جانا جاتا تھا، ایک غیور و بہادر نوجوان تھا۔ ہمارا نور باقی جان سے جب سے تعلق بنا تھا اس وقت سے اس کا کزن کاکا بھی ہر کام میں مدد اور تعاون کے لیے حاضر رہتا تھا۔ خاص طور پر اگر کبھی نور باقی جان کو کسی اہم کام سے جانا پڑتا یا وہ مریض ہوتا تو اس صورت میں وہ لازماً کاکا کو اپنے متبادل کے طور پر ہمارے ساتھ کردیتا۔ کاکا کا گھر بھی نور باقی جان کے گھر کی طرح مجاہدین کی خدمت کے لیے وقف ہوتا۔ عام حالات میں کاکا دتہ خیل کے مقامی مجاہدین کے مختلف کاموں کو سنبھالے رکھتا۔ الغرض نور باقی جان نے کاکا کو ہمراہ کیا، اپنی اپنی کلاشن کوفیں کندھوں پر لٹکائیں، چند جوڑے ایک تھیلے میں ڈالے اور دونوں ہماری تلاش میں روانہ ہوگئے۔ بارڈر کے علاقے میں مجاہدین سے معلومات کرکے القاعدہ برِّصغیر کے مراکز میں پہنچے اور دونوں نے اپنے آپ کو ہر قسم کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب کہ جماعت کے مراکز اور ساتھیوں پر شدت سے ڈرون حملے جاری تھے جن میں کئی ذمہ داران اور دیگر ساتھی جامِ شہادت نوش کرچکے تھے۔ ڈرون طیاروں کی پروازیں اتنی شدید تھیں کہ ان میں کئی کئی ہفتوں تک لمحے بھر کا سکون نہیں آتا تھا اور ہمارے سائے سے بھی اس زمانے میں لوگ گھبرایا کرتے تھے۔ مگر اس خطرناک ترین وقت میں نور باقی جان اور کاکا، اپنے ایمان کی پکار پر لبیک کہہ کر نکل پڑے اور ان خطرات میں کود پڑے۔ بلکہ ان کی تو سوچ اور تڑپ ہی یہ تھی کہ اس وقت جب کہ ہمارے ان مہاجر بھائیوں پر حملوں کی شدت ہے تو ہمیں چاہیے کہ آگے بڑھ کر ان کا بوجھ ہلکا کریں اور ان کی مدد و نصرت کریں۔
امیر المجاہدین مولانا عاصم عمر کی طرف سے اس وقت شمالی وزیرستان میں موجود جماعت کے ساتھیوں کے عمومی مسئول داعی و مربیٔ جہاد شہید استاد احمد فاروق رحمہ اللہ کو مقرر کیا گیا تھا، جب کہ ان کی نیابت اور بالخصوص عسکری امور کی ذمہ داری پیکرِ شجاعت و جرأت مولانا قاری عبیداللہ عمران شہید رحمہ اللہ کر رہے تھے۔ ساتھیوں نے نور باقی جان اور کاکا کی آمد کی خبر قاری عمران رحمہ اللہ تک پہنچائی۔ قاری صاحب نے ان دونوں سے ملاقات کی اور ان کے جذبات جان کر بہت خوش ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ان دونوں کو مختلف اداریاتی کاموں کی ذمہ داری سونپ ڈالی، جن میں ساتھیوں کی منتقلی، اسلحے اور سامان کی محفوظ مقامات پر شفٹنگ اور دیگر انتظامی نوعیت کے کام تھے۔
آخری اکٹھے سفر
اللہ نے راقم کی قسمت میں ایک دفعہ دوبارہ نور باقی جان کی رفاقت و قربت لکھی تھی۔ ہوا یہ کہ امیرِ محترم نے جماعت کے قائد استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ اور راقم کو بعض جہادی امور کے لیے خیبر ایجنسی کی طرف جانے کا امر کیا۔ حکم کی تعمیل میں ہم روانہ ہوئے۔ خیبر ایجنسی کے طرف سفر کرنے کے لیے ہمیں لواڑہ بارڈر سے افغانستان کے صوبہ خوست میں داخل ہونا تھا، پھر وہاں سے صوبہ پکتیکا، لوگر، پکتیا، ننگرہار کو پار کر کے بالآخر وادیٔ تیراہ، خیبر ایجنسی میں داخل ہونا تھا۔ سفر میں جابجا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کئی دن پر مشتمل اس سفر میں بلند و بالا پہاڑی سلسلوں پر مشتمل اس سفر میں جہاں ایک طرف امریکی ڈرون حملے کے خطرات سر پر ہوتے تو دوسری طرف راتوں کے چھاپے اور افغان آرمی کی گھاتوں کا خطر بھی ہوتا۔ پھر ضربِ عضب آپریشن کی خاصیت ہی یہ تھی کہ پاکستانی علاقے میں خود امریکی غلام پاکستانی فوج اور امریکی ڈرون مل کر یہ آپریشن چلا رہے تھے جبکہ افغانستان کی طرف نکلنے والے مجاہدین کے خلاف امریکی فوج اور اس کی غلام افغان آرمی مل کرگھات لگائے بیٹھے تھے۔ الغرض سفر کی اس نزاکت کی وجہ سے امیرِ محترم کی ہدایات کی روشنی میں یہ طے پایا کہ سفر کو دو قسطوں میں کیا جائے۔ پہلے میں کچھ ساتھیوں کو لے کر سفر کروں اور میرے پہنچنے کے بعد استادِ محترم اسامہ محمود حفظہ اللہ سفر کریں۔ خیر، میں انگور اڈہ سے روانہ ہوا اور مختلف مراحل کو طے کرتا ہوا لواڑہ کے علاقے میں پہنچا۔ وہاں میرا استقبال میرے رفیق اور دوست نور باقی جان نے کیا۔ ملاقات پر اس نے وہی کہا کہ جو ایک طویل عرصے کے بچھڑنے کے بعد دو دوست کہا کرتے ہیں۔ یہی کہ آپ مجھے بھول گئے تھے اور مجھے پیچھے چھوڑ بیٹھے اور اسی طرح کے گلے شکوے!۔ مجھ سے جو عذر بن پایا وہ میں نے بیان کردیا، مگر نور باقی جان اب مصر تھا کہ اب کی بار میں آپ کو ایسے نہیں جانے دوں گا بلکہ جہاں بھی جائیں گے ساتھ ہی جاؤں گا۔ میں نے سمجھایا کہ ایک تو ہمارا سفر بہت دور کا ہے، پھر واپسی اور دوبارہ رابطے کا بھی کوئی علم نہیں اور راستہ بھی خطرات سے پُر ہے، مگر وہ پُرعزم اور بضد تھا کہ میں بھی سفر میں ساتھ رہوں گا۔ دلی خواہش تو میرے بھی یہی تھی کہ وہ ہمارے ساتھ جائے۔ ایک تو اس کی ہمسفری ویسے بھی خوشی کی بات تھی، پھر مشکل پہاڑی راستوں پر وہ گاڑی چلانے کا اور راستے یاد کرنے کا بھی ماہر تھا۔ پھر ذہن میں یہ بھی آیا کہ وہ ہمیں پہنچا کر واپس آجائے گا اور پھر استادِ محترم اور ان کے ساتھ آنے والے بھائیوں کو لے آئے گا۔ مگر ایک مشکل یہ تھی کہ محاذِ جنگ کے مسئول قاری عمران شہید رحمہ اللہ نے نور باقی جان کے حوالے کچھ ایسے کام لگائے تھے جن کو بیچ میں چھوڑ دینا بھی مناسب نہیں معلوم ہوتا تھا۔ قاری صاحب رحمہ اللہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے نور باقی جان کی اور اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا اور اپنی سفری مشکلات بھی بیان کیں۔ قاری صاحب رحمہ اللہ انتہائی شفیق اور مہربان شخصیت تھے، آپ نے ایثار و قربانی کی عملی تصویر بنتے ہوئے اپنی ضرورت پر ہماری ضرورت کو ترجیح دی اور ہمیں اجازت مرحمت فرمائی کہ ہم نور باقی جان کو ساتھ لے جاسکتے ہیں۔ اللہ آپ سے راضی ہو اور جنت الفردوس میں آپ کا اکرام فرمائے، آمین۔
خ،یر اکتوبر ۲۰۱۴ء کے آخری ہفتے میں ہمارا سفر شروع ہوا اور سفر میں نفاذِ شریعت کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑ کر آئے سوات کے مہاجر بھائی ہمارے رہبر تھے۔ بہترین اخلاق، منظم تدبیر اور جرأت کے ساتھ انہوں نے یہ سفر ہمیں کروایا۔ اللہ ان کو اس کی بہترین جزا دنیا و آخرت میں عطا فرمائے۔ نور باقی جان بھی ہمارے ہمراہ تھا۔ گاڑی چلاتے ہوئے آئینے میں دیکھ کر بار بار مسکرانا اور راستے کی مشکلات اور پریشانی کے باوجود اپنے حواس کو قائم رکھنا اور بھائیوں کو تسلی دینا، یہ اس کا پورے راستے شیوہ رہا۔ وہ ویسے بھی کثیر الابتسامہ تھا مگر اس سفر میں تو اس کی مسکراہٹ اور خلقِ حسن مزید بڑھ چکا تھا۔ ساتھیوں کے آرام کا خیال رکھنے اور ہر کسی کی دل آزاری سے بچنے کی کوشش میں لگا رہتا۔ ہاں! شہادت کا تذکرہ اب اس کی باتوں اور خوش گپیوں میں بڑھتا جارہا تھا۔ اس سفر میں وہ عجیب عجیب سا لگنے لگا تھا۔ دل میں ایک دھڑکا سا تھا کہ کہیں وہ بھی……
ہم تیسری شام کو ننگرہار کے ضلع ’دیہ بالا‘ پہنچے۔ یہاں سے آگے ابھی مزید تین چار دن کا سفر تھا جو کہ ہمیں کچھ خچروں پر اور کچھ پیدل کرنا تھا۔ یہاں سے گاڑیوں نے واپس جانا تھا اور اب ہمارا نور باقی جان سے جدائی کا وقت آپہنچا تھا۔ گوکہ اس نے کچھ دن بعد دوبارہ استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ کو لانا تھا مگر دل میں ایک کھٹکا سا تھا، کیا پتہ دوبارہ ملاقات ہوپائے یا نہیں۔ الوداعی ملاقات پر اس کو جلد واپسی کی یاد دہانی کرائی، دعاؤں کی درخواست کی اور جب جدا ہونے لگے تو دل غم سے بھر آیا۔ اس کے چہرے پر عجیب مسکراہٹ تھی، خوشی سے اس کا چہرہ کِھلا ہوا، عجیب شرارتی سی مسکراہٹ اور حیا سے آنکھیں جھکیں ہوئیں تھیں۔ ایسی عجیب خوشیاں اور مسکراہٹیں اکثر شہداء کے آخری زمانے میں دیکھی جاتی ہیں۔ لبوں پر اس کے لیے دعائیں تھیں۔ وہ سلام کرکے پہاڑی سے اترا، بھاگ کر اپنی ڈاٹسن میں بیٹھا، پیچھے مڑ مڑ کر، مسکرا مسکرا کر ہمیں دیکھتا اور ہاتھ ہلاتا روانہ ہوگیا اور ہم پھر خچروں پر سوار ہوکر خیبر ایجنسی کی طرف روانہ ہوئے۔
نور باقی جان جب واپس وزیرستان پہنچا تو سردی نے شدت اختیار کرلی اور راستے میں ہندوکش کی پہاڑیوں پر برف پڑ گئی۔ لہٰذا اب اگلی بہار تک کے لیے یہ راستہ بند ہوگیا جس کی وجہ سے استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ اور نور باقی جان کا سفر ملتوی ہوگیا۔
بالآخر وہ شام آگئی کہ جس کا انتظار تھا!
ہجرت کے راہیوں کی
نصرت کا یہ سفر خود
جس شام کے لیے ہی
میں نے بھی طے کیا تھا
وہ شام آگئی تو___ پھر انتظار کیسا؟
جنت ہے منتظر گر___ اس سے فرار کیسا؟
پرواز کے لیے ہیں
تیار بال وپر بھی
اللہ کے راستے میں
حاضر ہے میرا سر بھی!
بالآخر وہ وقت آہی گیا کہ جس کی خاطر سالہا سال تک امتِ مسلمہ کا یہ بیٹا، وزیر قوم کا ہیرا، دینِ اسلام کی لیلیٰ کا عاشق، ہجرت کے راہیوں کی نصرت کرتا رہا۔ ہر وقت اللہ کے راستے میں اپنے سر کٹانے کے لیے تیار گھومتا رہا۔ اس کی مِلک میں ایک اس کی جان ہی تو تھی سو اس نے وہ ہی اس دین کی نصرت میں قربان کردی۔ ننگرہار سے واپسی پر وزیرستان پہنچ کر اس نے ڈاٹسن کی مرمت کروائی، اپنے گھر والوں کو الوداع کہا اور پھر سے دوبارہ نصرتِ دین کے کام میں منہمک ہوگیا۔ چونکہ موسم اور برفباری کی وجہ سے اس کا ہماری طرف کا سفر ملتوی ہوچکا تھا، اس لیے قاری عمران شہید رحمہ اللہ نے اس کے ذمے جماعت کے اسلحے کے ذخائر کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام لگا دیا۔ یہ نومبر ۲۰۱۴ء کے دوسرے ہفتے کی بات تھی۔ ایک صبح وہ لواڑہ سے روانہ ہوا۔ وہاں اسلحے کا ایک ذخیرہ تھا جسے حالات کی وجہ سے شوال کی پہاڑیوں میں منتقل کرنا تھا۔ اس نے گاڑی کو اسلحے اور دیگر سامان سے بھرا۔ اس کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے لاہور کا ایک بھائی سعد سلطان (عیسیٰ) اور کراچی کا ایک بھائی ضرار ہمراہ تھے۔ فضا میں بہت زیادہ ڈرون طیاروں کی بھنبھناہٹ تھی مگر راہِ حق کے دیوانے، اپنے دین کی سربلندی کے لیے کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے روں دواں تھے۔ راستے کی بیشتر آبادیاں انخلا کرچکی تھیں، اکا دکا افراد اور گاڑیاں راستے میں نظر آتی تھیں۔ گاڑی جب ’مائزر مداخیل‘ کی آبادیوں کو پار کرکے ’دواتوئی‘ کے نالے کے قریب پہنچی تو اللہ کے دشمنوں، صلیب اور شیطان کے پجاری امریکیوں نے اپنی غلام پاکستانی فوج کی مدد سے چلنے والے ڈرون طیاروں سے امتِ محمدی ﷺکے ان محسنوں کی گاڑی پر حملہ کیا۔ میزائل گاڑی کے بالکل قریب لگے اور یہ تینوں بھائی شہید ہوگئے۔ ان کی گاڑی بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور ان کے اجسام بھی کٹ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کا ساتھ ان کو نصیب فرمائے۔ اللہ ان کے پاکیزہ خون کی برکت سے پورے عالم میں اسلام کے کلمے کو بلند فرمائے اور کفر کے کلمے کو ذلیل و خوار فرمائے، آمین۔
میں وادیٔ تیراہ کے ایک گاؤں میں خیبر ایجنسی کےانصار مجاہدین کے ساتھ بیٹھا تھا کہ شہید عالمِ ربانی استاد احمد فاروق رحمہ اللہ کا ایک خط راقم کو وصول ہوا۔ خط سے معلوم ہوا کہ نور باقی جان شہید ہوگیا ہے۔ دل پر جو گزری اسے قلمبند کرنا ممکن نہیں تھا۔ دل کی ہر دھڑکن کے ساتھ یہ آواز محسوس ہوتی تھی؛ اے ہمارے انصار! اے اللہ کے دین کے مددگار! اللہ تم سے راضی ہوجائے، اللہ تم سے راضی ہوجائے! دل اس خیال پر ندامت کے احساس میں غم سے نڈھال ہو جاتا ہے کہ ہم اس حقیر دنیا میں اپنے ان محسنوں کے احسانات کا کوئی بدلہ نہیں چکا سکے اور نہ ہی چکا سکتے ہیں۔ پھر دل اس احساس سے دوبارہ کِھل اٹھتا ہے کہ جس ذات سے صلہ لینے کے لیے امت کے یہ عظیم بیٹے اپنے سروں کو کٹواتے آئے ہیں، وہ رب ان کی کوئی ایک نیکی بھی نہیں بھولا، اس نے سب کچھ دیکھا ہے اور گن گن کر بدلا بھی دے گا اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ دے گا۔ اُس ذاتِ باری کا اعلان ہے کہ:
وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ غَيْرَ بَعِيْدٍ ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُوْدِ لَهُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ فِيْهَا وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ (سورۃ ق: ۳۱ تا ۳۵)
’’اور جنت متقیوں کے قریب لائی جائے گی کہ کچھ دور نہ رہے گی۔ یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر رجوع ہوجانے والے، پابندی رکھنے والے کے لیے ہے۔ (غرض) جو کوئی بھی (خدائے) رحمٰن سے بےدیکھے ڈرتا ہوگا اور رجوع ہونے والا دل لے کر آئے گا (اس کو حکم ہوگا کہ) داخل ہوجاؤ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ، یہ دن ہمیشگی کا ہے ان لوگوں کو وہاں سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اور بھی زائد ہے۔‘‘
آج نور باقی جان ہمارے درمیان نہیں ہے مگر یہ کارواں رکا نہیں۔ انصارِ مدینہ سے لے کر انصارِ وزیرستان تک عشق و وفا کی ایک ہی داستان ہے۔ افغانستان سے لے کر یمن، صومالیہ اور صحرائے افریقہ تک انصار و مہاجرین کی ایک ہی کہانی ہے۔ ہر جگہ ہر محاذ پر کتنے ہی نور باقی جان موجود ہیں۔ نام اور اقوام مختلف، مگر عمل و کردار ایک ہی ہے۔ اور کیوں نہ ہو جب ان سب کا دین ہر جگہ ایک ہی ہے۔ اسلام اور کفر کی ٹکر ہمیشہ سے جاری ہے اور جاری رہے گی، اور جب تک یہ کشمکش جاری ہے اسلام کی شمع کے کچھ پروانے مہاجر بن بن کر اس شمع پر منڈلاتے رہیں گے اور کچھ پروانے اُن کے انصار بن بن کر اس شمعِ توحید پر قربان ہوتے رہیں گے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا! یہ دین کا رشتہ، یہ کلمۂ طیبہ کی خاطر دوستی، اللہ کے لیے محبت، اور اس کے نام لیواؤں کی نصرت، یہ اسلام کی سب سے مضبوط کڑی ہے، یہ دین کا سب سے واضح اور مضبوط پہلو ہے، یہ اسلام کا سب سے روشن اور نمایاں چہرہ ہے۔ جس کو اللہ کے دشمن جتنا بھی توڑنا چاہیں، بگاڑنا چاہیں، فساد برپا کرنا چاہیں، کبھی نہ کرسکیں گے۔ انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات رحمت للعالمین ﷺنے خود کروایا تھا۔ پس جس رشتے کی بنیاد خود آقا مدنی ﷺ نے ڈالی ہو، اس سے زیادہ محکم رشتہ اور کون سا ہوگا۔ اے اللہ! اس دین کے انصاروں سے راضی ہوجا، ان کی ازواج و اولاد سے راضی ہوجا، ان کے اقربا اور قبیلے والوں سے راضی ہوجا، اور ان کو دنیا و آخرت میں اتنی خوشیاں دے کہ وہ بھی تجھ سے راضی ہوجائیں، آمین۔
وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم
٭٭٭٭٭
1 کوڈ نام
2 غالباً یہ لفظ ’محمود خیل‘ ہوگا مگر وزیری لہجے میں اسے ’مامید خیل‘ ہی کہا جاتا ہے۔
3 بے باک، جو کہ نور باقی جان کا پرانا تخلص تھا۔
4 قبائل میں بالعموم غیر پشتون پاکستانیوں کو پنجابی کہا جاتا ہے۔
5 وار آن ٹیرر میں قبائل کی بیخ کنی کرنے کے لیے ریاستِ پاکستان کی طرف سے جو کچھ کیا گیا، کیا وہ امریکی سرپرستی میں نہ تھا؟






