یہاں درج فاضل لكهاريوں کے تمام افکارسے ادارہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
خدارا یہ نہ کیجیے | عبد اللہ احمد نے لکھا
شہباز گل کا ہسپتال سے خان ساب کے نام پیغام:
خان ساب خدا کا واسطہ ہے، بے شک میری حمایت نہ کریں مگر اپنا منہ بند رکھیں۔
فرض پہچانیں | عبد الباسط نے لکھا
ہم نے منکر سے روکنا چھوڑ دیا…… یہاں تک کہ اہل منکر اس قدر جری ہوئے کہ ہمیں معروف سے روکنے لگے!
صنفی امتیاز |مہتاب عزیز نے لکھا
مسلمان معاشروں میں ہر موقعہ پر محدب عدسہ لگا کر معمولی چیزوں کو ڈھونڈ کر انہیں صنفی امتیاز (Gender Discrimination) قرار دینے، اور پھر اسے تنقید کا نشانہ بنانے والی قوم کی ملکہ کے تابوت کے ساتھ ایک بھی خاتون کو چلنے کی اجازت نہیں ملی۔
یہ ہے ان کے نام نہاد معیارات کی حقیقت۔
’’ہم پہ روئیں ہماری ہی مائیں……‘‘ | ڈاکٹر رضوان اسد خان نے لکھا
کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین تھے۔ وہ اگر آج ہوتے تو کبھی یہ پسند نہ فرماتے کہ ان کے گستاخ کی جان لی جائے۔
دیکھیں یہ تو ہم نہیں جانتے کہ وہ آج ہوتے تو کیا فرماتے؛ جو بھی فرماتے، ہم آنکھیں بند کر کے لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیتے……
لیکن یہ ہم ضرور جانتے ہیں کہ جو بد بخت کائنات کے رحیم ترین انسان (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھی گالی دینے سے باز نہ آئے، وہ سب سے بڑا فتنہ پرور ہے اور قرآن کے مطابق فتنہ تو قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔ تو جب قتل کی سزا قتل ہے، تو منطقی طور پر فتنے کی سزا تو قتل سے بھی بڑی ہونی چاہیے۔
پس ثابت ہوا کہ اس قسم کے لوگ جن کی انسانیت اس قدر مسخ ہو چکی ہو کہ ان کی دریدہ دہنی سے افضل ترین انسانوں(یعنی انبیاء) سے بھی افضل تر شخصیت تک نہ بچ سکے، ان کے ناپاک بوجھ سے زمین کو پاک کر دینا ہی بہترین حل ہے……کیونکہ یہ اس ذہنی کینسر کی آخری، خطرناک ترین اور لاعلاج سٹیج ہے۔
بے بسی | حاشر نواز نے لکھا
ہیلی کاپٹرز نواز شریف کے لیے ناشتہ لے کر جانے کے لیے ہیں، عمران خان کی بہن کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیں، ہیلی کاپٹرز ائیر چیف فاتحہ خوانی کرنے اپنے دادا کی قبر پر جانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ہیلی کاپٹرز آئی ایس پی آر کے گانوں کی شوٹنگ کے لیے دستیاب ہیں۔ ہیلی کاپٹرز پی ایس ایل کے میچز کے دوران مسلسل کئی گھنٹے فضا میں رہ کر نگرانی کرنے کے لیے ہیں۔
مگر ہمارے لیے نہیں۔
اب جب بھی کرکٹ سٹیڈیم کی گیلی پچ سکھانے کے لیے ہیلی کاپٹر آئے گا آپکو سیلاب میں بہتی لاشیں یاد آنی چاہییں۔ ایسے ہر کھیل ایسی ہر تفریح سے نفرت جو غریب کی بے بسی کا مذاق بناتی ہو……!
Distraction | ظفر رامے نے لکھا
سرمایہ دارانہ عالمی نظام میں کھیل بھی ایک distraction ہیں جن کے ذریعے عوام کو ایسی غیرحقیقی خوشیوں کے پیچھےلگادیاجاتاہےجن کاعملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔
یہی دیکھ لیں۔
جس ملک میں سیلاب کے مارے تین کروڑ لوگ بھوکے سو رہے تھے وہاں کروڑوں لوگ تین گھنٹے سکرینوں سے جڑے رہے۔
ووٹ کی طاقت پہ یقین | حسن عبداللہ نے لکھا
جمہوریت میں ووٹ ہر وقت سر پر سوار ہوتے ہیں سیلاب زدگان کو ایک تھیلا دیتے ہوئے بھی تصویریں کھنچوانی پڑتی ہیں۔ خوف خدا کے تحت چلنے والے اسلامی نظام میں طاقتور خلیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ریاکاری سے بچنے کے لیے رات کے اندھیرے میں خاموشی سے غریبوں میں سامان بانٹتے پھرتے ہیں……
نسخہ | شاہد رانجھا نے لکھا
بچپن میں جب کبھی تیز بھاگنا ہوتا تو سارے بچے بوٹ یا جوتے اتار کر بھاگتے تھے۔ آج بھی یہ ایک حقیقت ہے اور تیز بھاگنے کے لیے ایک آزمودہ فارمولا ہے……
اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ ترقی کی دوڑ میں پاکستان کیسے شامل ہو سکتا ہے یا آگے نکل سکتا ہے؟؟
تو اس کا ایک ہی جواب ہے:
’’……’بوٹ‘ اُتار کر بھاگنا ہو گا!‘‘
ہر گھر سے ملکہ نکلے گی……| زبیر منصوری نے لکھا
برطانیہ میں ہائی الرٹ، ریڈ زون جانے والے راستے کنٹینر لگا کر بند۔ موبائل سگنلز جام۔ ڈبل سواری پر پابندی۔
آرمی چیف بالمورل کیسل پہنچ گئے۔ ہنگامی طور پر مشاورتی کور کمانڈرز کانفرنس طلب۔ نئے بادشاہ کی تقرری کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
برطانوی شہریوں کی نعرہ بازی۔ کل بھی ملکہ زندہ تھی آج بھی ملکہ زندہ ہے۔
ہماری لوکل تہذیب و شناخت|وسیم گُل نے لکھا
محمد بن قاسم عرب تھا جبکہ ملکہ الزبتھ گوجرانولہ کہ نواحی علاقے میں پیدا ہوئی، اس کا مقامی نام علیزہ بٹ تھا جو بعد میں الزبتھ ہو گیا……
ترقی کا راز |طلحہ حیدر نے لکھا
اگر ملکہ کی آخری رسومات کے موقعہ پر ’’چارلس‘‘اعلان کر دے کہ اماں کے ذمّے کسی کا کوئی لین دین ہو تو وہ تدفین سے قبل ہی ورثا سے رابطہ کر لے۔
تو برطانیہ کی ایک اینٹ بھی باقی نہ بچے۔
غیبی مدد| مصطفیٰ کامران نے لکھا
غیبی مدد نہ اسپین کے وقت آئی نہ خلافت عثمانیہ کوبچانے کے لیے آئی، نہ اسرائیل کا قیام روکنے کےلیے آئی، نہ بابری مسجد کے وقت آئی، نہ عراق اور شام کے وقت آئی، نہ میانمار کے وقت آئی، نہ گجرات کے وقت آئی، نہ کشمیر کے لیے آئی۔
پھر بھی گھروں اور مسجدوں میں بیٹھ کر غیبی مدد کی صدا ؟؟
غیبی مدد جنگ بدر میں آئی۔ جب 1000 کے مقابلے میں 313 میدان جنگ میں اُترے۔
غیبی مدد جنگ خندق میں آئی جب اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹ پر دو پتھر باندھے اور خود خندق کھودی اور میدان جنگ میں اُترے۔
غیبی مدد افغانستان میں آئی۔ جب بھوکے پیاسے مسلمان بے سرو سامانی کے عالم میں میدان جنگ اترے۔
دنیا کا قیمتی لباس پہن کر، مال و زر جمع کر کے، لگژری ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر، جھک جھک کر لوگوں سے ہاتھ چوموانے کی خواہش لے کر، لوگوں کی واہ واہ کی ہنکار کی خواہشات لیے بیٹھ کر بددعائیں کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟
طاغوت کے نظام پر راضی اور پھر غیبی مدد کے منتظر ؟
اللہ کی زمین پر اللہ اور اُس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کے بجائے صرف نعت خوانی، محفل میلاد یا تسبیح کے دانوں کو دس لاکھ بيس لاکھ گھما کر غیبی مدد کے منتظر ؟
آفاقی دین کو چند جزئیات وعبادت میں محصور و مقید کر کے غیبی مدد کے منتظر؟
مسلمانوں کو مجاہد کے بجائے مجاور بنا دینے کے بعد غیبی مدد کے منتظر ؟
جہاد فی سبیل اللہ اور جذبہ شہادت سے دور رہ کر اور دور رکھ کر مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و جبر اور مصائب و مشکلات دیکھ کر
اللہ دشمن کو غرق کر دے۔
اللہ دشمن کو تباہ و برباد کر دے۔
یا اللہ مظلوموں کی مدد فرما۔
یا اللہ دشمنوں کو ہدایت عطا فرما اور اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہیں تو انہیں غرق کر دے۔
جیسی بددعاؤں پر اکتفاء کر کے سکوت اختیار کر لینے اور سکون سے نوالہ حلق سے نیچے اُتار کر پیٹ بھر بھر کر گہری نیند سونے والے غیبی مدد کے منتظر؟
یعنی سب کچھ اللہ کے ذمہ لگا کر اور خود کنارہ کشی اختیار کر کے غیبی مدد کے منتظر؟
میدان جہاد میں اترنے سے ڈرتے اور کتراتے ہوئے آسمانوں سے فرشتوں کے نازل ہو کر مسلمانوں کی غیبی مدد کے منتظر؟
کیا نعوذ باللہ اللہ اور اُس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ سے ڈرامہ کرتے ہو؟
اتنی جرأت تو شیطان میں بھی نہ تھی اور نہ ہے۔
سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ہمیں بتاتی ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدان جنگ سجایا اور بعد میں اللہ کی غیبی مدد کے لیے دعا کے لیے ہاتھ بلند فرمائے۔
جبکہ آج کا جہاد صرف بددعا کی دعا ہے اور نہ دعا سے پہلے اور نہ دعا کے بعد کوئی عملی اقدامات و جدوجہد ۔
ایسی صورت میں صرف اللہ کی پکڑ اور عذاب آتا ہے نہ کہ کوئی غیبی مدد۔
#9/11 | محمد عیسیٰ نے لکھا
تاریخ اور دیگر علوم کی کم فہمی، احساس کمتری اور شکست خوردہ ذہنیت کو جنم دیتی ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ دشمن کی کمزوری، نااہلی اور ناکامیوں کو بھی انسان دشمن کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی سمجھ بیٹھتا ہے۔
٭٭٭٭٭







