دُرودوں کی، سلاموں کی ہو بارش ذاتِ اطہرؐ پر
اور اُنؐ کی آل پر، اصحابؓ پر، امت کی ماؤںؓ پر
جنہوں نے غم پہ غم سہہ کر عَلَم دِیں کا اُٹھا رکھا
جنہیں فُسّاق نے گرچہ مسلسل ہی ستا رکھا
مگر غافل ہوئے ہر گز نہ وہ، دِیں کی حفاظت سے
کہ بڑھتی ہی گئی شمع کی لو، خوں کی تمازت سے1
اللّٰھــــــــــــــــــــــــم اجعلــــــــــــنا منھـــــــــم، وصلی اللہ علـــــــــــــی النــــــــــــبی، آمیــــــــن!
موت کیا شے ہے، فقط عالَمِ معنیٰ کا سفر
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے فقط عالَمِ معنیٰ کا سفر
کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اس شعر کا کیا مطلب ہے؟
ذہن میں آنے والے خیالات میں سب سے بہتر اس کی تعبیر جو محسوس ہوتی ہے وہ فدائینِ اسلام کی موت و حیات کی صورت ہوتی ہے۔
یہ فدائین بھی عجیب لوگ ہوتے ہیں، شاید عشاق کا اعلیٰ ترین طبقہ۔ اہلِ دنیا کے درمیان رہتے اور بستے ہیں، کھاتے اور پیتے ہیں، ہنستے اور مسکراتے ہیں، ان کے ماں باپ بھی ہوتے ہیں، بہن بھائی بھی، یہ صاحبِ اہل و اولاد بھی ہوتے ہیں، ان کے محبّین و دوست یار بھی بہت ہوتے ہیں اور یہ لوگوں سے محبت کرتے بھی بہت ہیں، لیکن ان کا دل کسی اور ہی بستی کا مکین اور کسی اور ہی دنیا کا رہین ہوتا ہے۔ ان کے دل میں ہر وقت یہ شمع جلتی رہتی ہے کہ کس طرح اپنی جاں لِوجہِ اللہ نذر کریں؟ کیسے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچیں؟ کیسے حور و خیام کی جا، جنتِ ابدی میں داخل ہوں؟ ان کے جو ساتھی ان سے پہلے نذر پوری کر چکے، کیسے یہ ان سے جا ملیں؟
ان کے لیے یہ حیاتِ دنیوی کوئی چیز نہیں اور موت کا تو کچھ ذکر ہی نہیں۔ موت کے پیچھے یہ خود بھاگتے ہیں اور موت ان کے آگے آگے ہوتی ہے اور پھر رضائے ایزدی سے کسی لمحے یہ موت کو دبوچ لیتے ہیں۔
ہم دنیا کے باسی کیسے ہوتے ہیں؟ موت سے خائف، دبکے دبکے، سہمے سہمے، موت سے فراری۔ یہ انہی کی شان ہے کہ موت ان کے لیے بس عالَمِ معنیٰ کا سفر ہے!
شہیدی جوانو! فدائی مجاہدو! عشاق کے سرخیلو! اے زندہ شہیدو!اے جنتوں میں محوِ پرواز شہیدو!ہماری زندگیاں تمہاری ہی رہینِ منت ہیں، تم ہی وہ ہو جو ہماری زندگیوں کی ضمانت ہو، تم خوش رہو، شاد و آباد رہو۔ ہم تمہارے وسیلے سے مانگتے ہیں: اے اللہ ہمیں بھی ایماں کی لذت چکھا، ہمیں بھی ان سعادت و شجاعت کی راہوں کا، شہادت کی منزلوں کا متلاشی بنا، یا غیاث المستغیثین، یا ربّ المستضعفین، یا ارحم الراحمین، انّك علی کل شئی قدیر، آمین!
لاپتہ افراد
عدالتوں نے ’لاپتہ افراد‘ کو بازیاب نہ کرا سکنے پر بعض حکومتی عہدیداروں کو ایک ایک کروڑ روپے تک کے جرمانے کیے ہیں۔ عدالتوں میں ایک بار پھر اس کیس کی شنوائی کے سبب لاپتہ افراد کا معاملہ کچھ کچھ منظرِ عام پر آیا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ لوگوں کو ریاستی ادارے کیوں لاپتہ کرتے ہیں؟
اس لیے کہ ریاستی ادارے، ریاست کے مفادات کے محافظ ہیں (گو کہ اس محافظ ہونے اور حفاظت کرنے پر سیر حاصل بحث کی جا سکتی ہے کہ یہی ادارے دراصل گھر کے بھیدی ہیں بلکہ ریاست کا گھُن ہیں ہاں ذاتی مفادات کو البتہ ریاستی مفاد ضرورکہتے ہیں)۔
جدید ریاست کیا ہے؟
جدید ریاست مختصراً وہ خیالی شخصیت ہے جو لوگوں کے حقوق کی ضامن، جمہوریت کی علم بردار، مساوات و ترقی کو یقینی بنانے والی ہے۔ اس کے کچھ حقوق ہیں اور کچھ واجبات۔ یہ ریاست ’ماں کے جیسی‘ ہے، جو ’ہر شہری سے پیار کرے گی‘!
لا پتہ افراد کے جرم کا ہمیں اقرار ہے اور خود لاپتہ قیدیوں کو بھی اپنے جرم کا اقرار ہے۔
ان کا جرم کیا ہے؟
بس دو لفظوں میں: ’حمایتِ اسلام‘!
چلیں مان لیا کہ یہ جدید ریاست جس کا نام ’اسلامی جمہوریۂ پاکستان‘ ہے، لا پتہ افراد اس کے خلاف سازشوں اور جرائم میں ملوث تھے۔ لیکن یہ تو ’ماں جیسی‘ ہے، اس نے ’ہر شہری سے پیار کرنا ہے‘، ٹھیک ہے کہ اگر کوئی مجرم ہو تو اس سے بقدرِ جرم ’نفرت‘کی جاسکتی ہے اور اس کی تادیب کے لیے اس کو کڑی سے کڑی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ کیا کہ جس ’جمہوریت‘ کے لیے یہ ریاستی ادارے ’دن رات‘ ’کام‘ کر رہے ہیں(جس کے خلاف یہ ’شہری‘ ریاستی اداروں کے مطابق تھے ) ، اسی ریاست کی بنیاد، جمہوریت و مساوات وحقوق کو پامال کر کے شہریوں کو غائب کر دیا جائے؟
ان سے اچھا تو طاغوتِ اکبر امریکہ ہے کہ ظلم کرتا ہے، لیکن خود ساختہ قانون اور ریاست کے اصولوں کے خلاف تو نہیں کرتا۔ اس نے اپنے قانون میں حیلہ ڈھونڈا اور گوانتانامو آباد کیا، پھر بھی اس کے قیدیوں کے نام تو دنیا کو بتائے، قیدیوں کے اہلِ خانہ کو یہ تو بتایا کہ تمہارے پیاروں کو ہم عقوبت خانوں میں اذیت سے دو چار کرتے ہیں، کرنٹ لگاتے ہیں، واٹر بورڈنگ کرتے ہیں۔ عافیہ صدیقی کے ساتھ ظلم کیا، لیکن عدالت میں پیش تو کیا۔ چھیاسی سال قید کی غیر انسانی سزا سنائی تو کچھ انسانی حقوق چاہے حیوانی قسم کے ہی، لیکن عطا تو کیے(مثلاً حقِ شنوائی)؟
مسعود جنجوعہ کی بیوی کو اور فیصل فراز کی ماں کو، نوید بٹ کی بیٹی کو کم از کم اتنا حق تو دو کہ انہیں یہ بتا دو کہ تم نے ان کے شوہروں، بیٹوں اور باپوں کو اگر مار دیا ہے تو لاش کو کہاں گاڑا ہے؟ اگر وہ زندہ ہیں تو کس حال میں ہیں؟ تم نے جو گوانتانامو سجایا ہے اس کی کس شاخ میں انہیں زندہ درگور کر رکھا ہے؟!
ریاستی اداروں کے غنڈو! تمہارے یہ سب کام تمہاری اپنی ہی ریاست، اس کی پالیسی اور اس کے وجود کے خلاف جاتے ہیں۔ بنگالی برے تھے، چھوٹے قد کے تھے، کالے تھے، انگریزی تمہارے بابوؤں کی طرح نہ بول سکتے تھے، ان کے سب جرم انہیں بھی تسلیم، ہمیں بھی تسلیم، لیکن تم نے جو ’عدل‘ و ’انصاف‘ وہاں بویا، اس کو کس برے طریقے سے کاٹا، بلکہ آج تک کاٹ رہے ہو، سارا زمانہ تمہیں ظالم، زانی اور قاتل کہتا ہے، آج بھی تم ڈھاکہ کا نام سن کر سرخ انگارہ بن جاتے ہو۔
چلو مشرقی پاکستان تو پرایا تھا۔ اسلام و کفر کو بھی چھوڑو۔ سوچو! اب تو تم اپنے گھر میں یہ بیج بو رہے ہو۔ کیسی فصل کاٹنے کی تیاری میں ہو ؟! ۴۷ء سے ۷۱ء، چوبیس سال میں تمہارے ظلم نے پاکستان کو آدھا کر دیا۔ اب بیس سال اس آدھے میں یہ ’لاپتہ‘ کرتے بیج بوتے ہو گئے، چار چھ سال بعد یا تو مریخ پر جا بسنا یا جہنم میں!
مچھ میں شیعوں کا قتل اور شیعوں کی طاقت
ماہِ جنوری کے شروع میں کوئٹہ کے قریب مچھ میں درجن کے قریب شیعوں کا قتل کیا گیا۔ اس کے تین پہلو ہیں۔
پہلا پہلو شیعوں سے جنگ کرنے کا ہے اور اس کے متعلق حکیم الامت شیخ ایمن الظواہری (دامت برکاتہم) فرماتے ہیں:
’’ منحرف گروہوں جیسا کہ رافضیوں، اسماعیلیوں، قادیانیوں اور منحرف صوفی گروہوں سے لڑائی نہ کی جائے جب تک وہ اہلِ سنت سے لڑائی نہیں کرتے۔ اگر وہ لڑیں تو جوابی لڑائی صرف اسی واحد گروہ سے ہونی چاہیے۔ اس صورت میں شفافیت کے لیے وضاحت دینا ضروری ہے کہ ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کے غیرعسکری افراد، خاندانوں، گھروں، عبادت گاہوں، تہواروں، مذہبی جلوسوں کو نشانہ بنانے سے سختی سےگریز کرنا چاہیے۔ تاہم ان کے بہتان اور ان کے عقیدے اور اخلاق کے انحراف کو مسلسل طشت از بام کرتے رہنا چاہیے۔ ‘‘2
اسی طرح شیخ حفظہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ جو ہمارے ساتھی عراق میں شیعہ گروہوں سے لڑ رہے تھے اور اب بھی شام اور یمن میں لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں تو یہ اس لیے کہ یہ مسلح گروہ ہیں جو اہلِ سنت پر حملے اور امریکیوں کے ساتھ تعاون اور سمجھوتے کرتے ہیں۔‘‘3
سو یہ تو اصولی بات ہے کہ بلا وجہ اس وقت شیعوں سے لڑنا ہماری نظر میں مناسب نہیں، ہاں اگر یہ رافضی دہشت گرد ہم اہلِ سنت کے علما کو قتل کرنا شروع کر دیں اور ہم اہلِ سنت کو میدان میں آنے پر مجبور کر دیں تو ان سے لڑا جائے گا، لیکن ان کے ان لوگوں سے ہی جو ہم سے جنگ کرتے ہیں، ان لوگوں سے بہرحال لڑنا ٹھیک نہیں جو ہم سے جنگ نہیں کرتے ۔ پھر یہ بھی اہم بات ہے اور یہ عمومی تبصرہ نہیں، لیکن مچھ میں جس طرح کے شیعہ قتل ہوئے تو ان کے متعلق شاید یہ کہنا ٹھیک ہو کہ رافضی دہشت گرد ریاستی اداروں (خاص کر آئی ایس آئی) سے ڈیل کر کے ہمارے علما کو شہید کرتے ہیں، حق نواز جھنگوی، ضیاء الرحمٰن فاروقی، اعظم طارق، علی شیر حیدری، یوسف لدھیانوی، احسان الٰہی ظہیر، حبیب اللہ مختار، اسلم شیخوپوری…… اور جواب میں کوئلے کی کان میں کام کرتے مزدور؟!
دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ حرکت داعش نے کی ہے۔ داعش کی گمرَہی اپنی فکر اور وجود دونوں میں دم توڑ چکی ہے۔ اہلِ باطل کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ اس طرح کے گمراہ لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ آج جب داعش ختم ہو چکی ہے تو باطل قوتوں کی ایجنسیوں نے اس مردہ پتلے کی ڈور ہلا کر ان سے ایسا کام کروایا ہے۔ اور داعش کی ’مردانگی‘ ملاحظہ ہو کہ غیر مسلح مزدوروں پر ان کے ’عقیدے‘ اور ’بندوق‘ کا زور چلا ہے۔
تیسرا پہلو، شیعہ گردی اور شیعوں کی طاقت کا ہے کہ کیسے یہ اپنے ہلاک شدگان کی لاشیں لے کر سڑکوں پر بیٹھے رہے۔ چند سال قبل بھی ایسا ہی ہوا تھا اور ریاست و حکومت کو شیعوں کے مطالبات پر گھٹنے ٹیکنا پڑے۔ آج بھی ایسا ہی ہے۔ پی ایم، سی ایم اور وزیرِ داخلہ سب ہی ہاتھ جوڑ رہے ہیں، لیکن مجال ہے کہ یہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹیں۔ عجیب بات ہے کہ شیعے ’پیغامِ پاکستان‘ کو بھی چیلنج کرتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان کو بھی، لاشیں بھی نہیں اٹھاتے، حکومتی رِٹ کو چیلنج کرتے ہیں لیکن حکومت و ریاست بے بس ہے۔
یہی معاملہ اگر اہلِ سنت کرتے تو حکومت و ریاست کا جواب آتا کہ ’ہم تمہیں وہاں سے ہِٹ کریں گے جہاں سے تمہارا گمان بھی نہ ہو گا‘!
سوچنے کا مقام اہلِ سنت کے لیے ہے کہ کیا ان کے پاس کوئی منصوبہ ہے؟ کیا اہلِ سنت کے پاس بھی کوئی پلان ہے؟ ایسا منصوبہ و پلان جو اہلِ سنت و الجماعت کے منہج یعنی شریعتِ مطہرہ کو نافذ کرنے والا اور کفر اور تمام منحرف گروہوں کی پھیلائی فکری و عسکری برائیوں کا سدِ باب کرنے والا ہو ؟
بت شکنی سے بت تراشی و بت فروشی و بت پرستی تک
اب ان واقعات کی تعداد ایک آدھ نہیں رہی، دسیوں بیسیوں ایسے واقعات ہیں جو موجودہ ’سمارٹ مارشل لائی‘حکومت کے شرک و بت پرستی کے فروغ کے مظاہر ہیں۔
بڑی مثالوں میں کرتار پور راہداری، اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے لیے سہولت کاری، لاہور کے شاہی قلعے میں رنجیت سنگھ کا مجسمہ اور اب ’گندھارا تہذیب‘ کے مراکز کی بحالی۔
ٹورازم کے نام پر ورلڈ بینک پاکستان کو سات کروڑ دس لاکھ ڈالر (تقریباً گیارہ ارب روپے) ’گندھارا تہذیب‘ کے مراکز کی بحالی کے لیے دے رہا ہے۔ ورلڈ بینک تو عالمی ادارہ ہے اور ’عالمی مذہب‘ کا خزانچی ہے، وہ تو ’عالمی مذہب4‘ کے فروغ کے لیے خرچ کرے گا ہی۔ شکوہ موجودہ حکومت سے بھی نہیں ہے کہ ان کے اعمال و اقوال واضح ہیں۔ شکوہ تو ان حضرات سے ہے جو اس حکومت کو اسلامی سمجھتے ہیں، جنہیں ’خاتونِ اول‘ کا نقاب نظر آتا ہے، جنہیں اس ریاست کے چہرے پر پڑا ’اسلامی‘نقاب نظر آتا ہے، جو اس کے آئین کو اسلامی جانتے ہیں، اس کی فوج کو ’جہادی‘ سمجھتے ہیں۔ وہ لوگ جو بھول گئے ہیں کہ آتش پرست مجوسی اور بت پرست بدھ مذہب کی پیروکار ’گندھارا تہذیب‘ کو نیست و نابود کرنے، اس کے بادشاہوں کو قتل کرنے اور شرک کو مٹا کر توحید کو قائم کرنے والے ہم اہلِ اسلام تھے اور ہم اہلِ اسلام کے اس ’بت شکن‘ کا نام محمود غزنوی تھا جس نے سنہ ۱۰۰۱ء میں پشاور تا کابل قائم اس سلطنت کو روندا تھا۔
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تُو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
علی گڑھ یونیورسٹی: مودی کا صدی تقریبات کا افتتاح
انڈیا ’سیکولر‘ ہے یا ’ہندو‘ یا یہ ’مسلم ہند‘ ہے۔پچھلے ماہ (دسمبر ۲۰۲۰ء) میں یہ بحث علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سو سال پورے ہونے پر ’صدی تقریبات‘ کے حوالے سے مسلمان اساتذہ اور مسلمان طالبِ علموں کے درمیان شروع ہوئی جب جامعہ کی انتظامیہ نے نریندر مودی کو صدی تقریبات کے افتتاح کی (کورونا کے سبب آن لائن)دعوت دی۔ جیت ظاہر ہے کہ ’سیکولر‘ انڈیا والوں کی ہوئی۔ ہندوستان میں آج کل’سیکولر‘ انڈیا کی آڑ میں مودی سے دوستی صرف اپنی مسلم شناخت پر انڈین شناخت غالب دکھانے کے لیے ہے۔ انڈیا میں مانا کہ سیکولرازم کے معنیٰ و مفہوم میں مسلمانوں کا بچاؤ بھی پنہاں ہے، لیکن ہندوستان کے حالیہ واقعات اور ہندوستان میں غالب ہندوؤں اور ان کی حکومت کا رویہ سیکولر نہیں ہے، ایسے میں مودی کو سیکولر جاننا یا تو سادگی ہے یا زیادہ چالاکی۔ بہر کیف ہندوستان کی فضا میں یہ بحث فکر انگیز بھی ہے اور مسلم زندگی کی علامت بھی۔
پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ
حکومتِ پاکستان نے پہلی بار حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو ریڈ زون میں مظاہرہ کرنے کی اجازت دی ہے۔
حکومت تو پہلے ہی ’سمارٹ مارشل لائی‘ ہے، لیکن یہ خاص اجازت تو ’چیف‘ صاحب کی طرف سے ہی آئی ہے۔ پی ڈی ایم کو منانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے چند ہفتے قبل اپنے پرانے اور بوڑھے مُہرے محمد علی درانی کو اتارا جبکہ پون سال پہلے پرویز الٰہی کو اسی کام کے لیے بھیجا گیا تھا۔
سیاسی تجزیے دس قسم کے ہو سکتے ہیں اور سب کے سب ہی غلط ہو سکتے ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ اور اس جعلی جمہوریت کو سمجھنے کے لیے ایک عرض ہے۔
پچھلے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ ’عوام کی طاقت‘ کے ذریعے تحریکِ انصاف کو حکومت میں لے کر آئی اور اس حکومت کے ابھی تین سال پورے نہیں ہوئے کہ حزبِ اختلاف مچلنے لگی ہے5۔ حزب اختلاف کا ایک نیا اتحاد تشکیل پا گیا جو بظاہر وقت کے ساتھ مضبوط ہی ہو ا ہے۔ پاکستان کی ملکی سیاہ ست سیاست کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ اگر کوئی پارٹی اگلے الیکشن (۲۰۲۳ء) میں دوبارہ بر سرِ اقتدار کلی طور پر لائی جا سکتی آ سکتی ہے تو وہ تحریکِ انصاف ہو۔ لیکن تحریکِ انصاف کی پرفارمنس اتنی کمال کی رہی ہے کہ شاید جو گندے انڈے اور ٹماٹر تحریکِ انصاف کو پڑ رہے ہیں ان میں سے بعض ’آملیٹ‘ بنانے کے لیے براہِ راست آبپارہ و جی ایچ کیو میں بھی گر جائیں، اس لیے اسٹیبلشمنٹ اگلے الیکشن میں کسی اور کو لانے کا سوچ سکتی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اب نہ تو نواز شریف کو پوری حکومت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی کو۔ تو ایک نئی آئی جے آئی تیار ہو سکتی ہے جس میں آج کی پی ڈی ایم کی ساری جماعتیں موجود ہوں اور جو سدا بہار لوٹے ہیں، چودھریوں سے پیر پگاڑوں تک، وہ تو ہیں ہی ’لوٹے‘ وہ کسی بھی طرف منہ کر کے کھڑے ہو سکتے ہیں۔
ٹوٹی فروٹی
ٹوٹی فروٹی کھانے والے حضرات ناراض نہ ہوں۔
پہلے وفاقی کابینہ میں کم نمونے تھے جو ایک کی تبدیلی اور ایک نئے کا تقرر ہو گیا؟ بس دو نام پڑھیے ، حظ اٹھائیے اور پھر روئیے:
شیخ رشید احمد:
وفاقی وزیرِ داخلہ
طاہر محمود اشرفی:
مشیرِ وزیرِ اعظم برائے مذہبی امور
سوچیے کہ اسٹیبلشمنٹ کتنی کمزور ہو گئی ہے؟ یا ہم مسلمانانِ پاکستان کتنے کمزور ہیں کہ ایسے لوگ ہم پر مسلط ہیں؟!
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا
’وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا‘، اور کہیں ہو نہ ہو، ’سیاسی‘ و ’جمہوری‘ وعدوں کے لیے یہ بات بہر کیف درست ہے۔ جمہوریت ’اسلامی‘ ہو یا ’مغربی‘، ’انگریزی‘ ہو یا ’امریکی‘، ہر جگہ اس کا ’حُسن‘ ایک سا ہے۔ انتخابات سے پہلے بائیڈن نے کہا تھا کہ ’میں سونامی لے آؤں گا‘، یعنی امریکہ کو جن مسائل کا سامنا ٹرمپ دور میں کرنا پڑا خاص کر ’کورونا‘، تو ان کو اتنے اتنے دنوں میں حل کر دوں گا۔ یہ ٹائم فریم ہے، یہ ہمارا منشور ہے، یہ اہداف ہیں۔
الیکشن ہوئے، بائیڈن جیتا اور جیتنے کی خوشی منائی، مٹھائی وِٹھائی یا جو بھی کچھ وہ لوگ کھاتے پیتے ہیں، وہ ہوا۔ پھر طریقہ وہی ہے کہ شہ سرخی میں اعلان اور یک کالمی و یک سطری تردید۔ پھر یک سطری بیان آیا کہ ہم نے جو وعدے کیے تھے ان کو پہلے بتائے گئے ٹائم فریم میں پورا کرنا ممکن نہیں، کچھ وقت مزید لگے گا۔
بائیڈن کاکا تو ہے نہیں کہ اسے مسائل کا پہلے سے ادراک ہی نہ تھا، نہ ہی ’ٹرمپ‘ ہے کہ دگڑ مگڑ جو منہ میں آئے بَک دے۔ پھر ماجرا کیا ہے؟
’یو ٹرن‘ ہے بھائی!6
یمن میں قحط
ایک ملک ہے یمن۔ یہ قدیم ملک ہے، دنیا کی قدیم و جدید تاریخ اس سے وابستہ ہے اور یہ جزیرۃ العرب کا حصہ ہے۔
اس سال یمن میں قحط کا شکار ہونے والے لوگوں کی امکانی تعداد ایک کروڑ سات لاکھ ہے۔ کل آبادی ڈھائی کروڑ ہے۔ یعنی تقریباً نصف آبادی سے کچھ کم کا قحط کا شکار ہونے کا امکان ہے۔
یمن اس وقت سیاست کا اکھاڑا بھی ہے۔ ایک طرف ایرانی مفادات ہیں کہ موجودہ ’اثنا عشری–جمہوری–صفوی–شہنشاہی‘ ایران کا ماضی میں یمن ماتحت صوبہ رہا ہے، وہاں حُوثیوں کو عسکری خوراک یمن دیتا ہے اور اہلِ سنت میں سے نادار و مفلوک الحال، روتے بلکتے بچوں کے باپ اور بھائی مجبوری میں شیعہ حوثیوں کی طرف سے لڑ کر یومیہ دو چار ڈالر کماتے ہیں۔
اس کے پڑوس میں سعودی عرب بھی ہے اور دنیا کے امیر ترین ممالک کی فہرست میں ایک نام ’سعودی عرب‘ کا ہے۔ ابھی آگے پیچھے کے چند ہفتوں میں اس سال کی G20 ممالک کے سالانہ اجلاس کا میزبان بھی سعودی عرب ہے۔ سعودی عرب بھی اس سیاست میں خوب اترا ہوا ہے۔ وہاں جنگ کا ایک محاذ سعودی عرب ہی کے پاس ہے۔
ایران کے پاس بھی تیل کی دولت ہے اور سعودی عرب کے پاس بھی۔ پھر باقی امت مل جائے تو دنیا کے امیر ترین لوگ اس امت میں شامل ہیں۔ انسانیت کے نام پر ادارے بنانے، بڑی بڑی شیشے کی عمارتوں میں دفتر جمانے کے سیکڑوں ادارے موجود ہیں۔
امت کے اہلِ خیر کو چاہیے کہ فی اللہ اہلِ یمن کی مدد کریں۔
اہلِ دنیا کو سوچنا چاہیے کہ کورونا سے زیادہ بڑی مصیبت میں اہلِ یمن پھنسے ہوئے ہیں۔
ایران و سعودی عرب پر تف ہے کہ وہاں گولیوں وبارود کے ٹِن تو بھیجتے ہیں لیکن روتے بلکتے بچوں کے لیے گندم اور دال کے ٹِن نہیں بھیجتے۔
قطر سعودی ڈِیل
بالآخر تین سال سے زائد تک قطر اور سعودی عرب کی چلنے والی قطع تعلقی اپنے اختتام کو پہنچی۔ باقی سب چھوڑیے ہماری فی الحال صرف ایک نقطے پر توجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں محمد بن سلمان اور تمیم بن حمد الثانی کی ملاقات جس میں یہ مفاہمت رسماً ہوئی، اس ملاقات میں مہمانِ خاص ’جیرڈ کشنر‘ تھا، ٹرمپ کا یہودی داماد۔ ٹرمپ کے ساتھ کشنر بھی رخصت ہو رہا ہے اور ریاستِ اسرائیل کے استحکام و دفاع کی خاطر، جاتے جاتے وہ ایک اور ’خدمت‘ کر گیا ہے۔
٭٭٭٭٭
1 اشعار: شاعرِ جہاد شیخ احسن عزیز شہید رحمۃ اللہ علیہ
2 ’جہادی عمل کے لیے عمومی ہدایات‘، بحوالہ بیان ’ صدی کا بہترین سودا…یا…صدیوں سے جاری صلیبی جنگ؟! ‘
3 بحوالہ بیان ’ صدی کا بہترین سودا…یا…صدیوں سے جاری صلیبی جنگ؟! ‘
4 عالمی مذہب: اسلام اور ضدِ اسلام، توحید اور ضدِ توحید جو کچھ ہے وہ عالمی مذہب ہے۔ اس میں آپ عیسائیت سے لے کر ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور آتش پرستی تک سب کچھ شامل کر سکتے ہیں۔
5 گویا زبانِ قال و حال سے کہہ رہے ہیں : ’سانوں وی لے چل نال وے، باؤ (ستاریاں نال سجی)سوہنی گڈی والیا‘
6 نئی لغت میں یوٹرن کا معنیٰ: دھوکہ، جھوٹ، فریب وغیرہ وغیرہ






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



