علمائے کرام انبیائے کرام کے وارث ہیں اور امتِ محمدیہ (علی صاحبہا صلاۃ و سلام) کے قائد و رہنما ہیں۔ علومِ نبوت اور علمائے دین کی ہدایات اس امت کے اعصابی نظام کی مانند ہیں۔ اس امت کو یرغمال بنانے اور اس کی دنیا و آخرت بگاڑنے کے لیے لادین حکمران ہمیشہ سکیموں اور سازشوں کے جال بنتے رہے ہیں۔ ایوب خان کے زمانے کی ایسی ہی چند کوششوں اور محدثِ عصر حضرت علامہ سیّد یوسُف بَنوری جیسے علمائے ربانی کا مبنی بر حق موقف اور جہاد (کلمۃ حقٍ عند سلطانٍ جائرٍ) کا مختصر احوال ذیل میں، حضرت بنوریؒ کے رفیقِ خاص حضرت مولانا لطف اللہ پشاوریؒ کی تحریر سے منتخب کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ مولانا بنوریؒ کا اسوہ آج ’یکساں نصاب‘ اور ’پیغامِ پاکستان‘ کے دور میں ایک روشن ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔ اللہ پاک علمائے حق کی حفاظت فرمائیں اور ان کے فیوض و برکات کو عام فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین! (ادارہ)
سکندر مرزا کے زمانے میں پاکستان میں مغرب زدہ لوگوں کا طوطی بولتا تھا، حکومت کے اربابِ حل و عقد پربھی ہمیشہ اسی طبقہ کا اثر رہا،ان لوگوں کو یہ تکلیف تھی کہ حکومت جو بھی تجدد پسندانہ نئی حکمتِ عملی تجویز کرے، اس کے لیے صرف علما کا طبقہ سنگِ راہ بن جاتا ہے۔ مولانا نور الحق صاحب، سابق ڈین اسلامیہ کالج پشاور نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ ایک دفعہ سابق صدر ایوب خان نے مجھ سے کہا کہ:
’’تیونس، مراکش، مصر، شام کسی جگہ بھی علما حکومت کے خلاف دم نہیں مار سکتے، محکمہ اوقاف نے سب کو باندھ رکھا ہے، ایک پاکستان ایسا ملک ہے کہ حکومت کچھ کرتی ہے تو کراچی سے پشاور تک علما اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر دیتے ہیں اور ملک میں ایک ہلچل پیدا ہو جاتی ہے۔ تم مصر جاؤ اور وہاں جا کر جائزہ لو کہ حکومتِ مصر نے کس ترکیب سے علما کو باندھ رکھا ہے،پاکستان میں بھی علما کو پابند کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرو۔‘‘
بریگیڈئیر گلزار احمد صاحب نے بھی میرے سامنے اسی قسم کے خیالات صدر ایوب سے نقل کیے تھے۔
چنانچہ ڈین صاحب مصر گئے اور واپسی پر صدر ایوب کے سامنے تمام مساجد اور مدارس عربیہ کو حکومت کی تحویل میں لینے کا نسخۂ کیمیا تجویز کیا۔ صدر ایوب نے جب اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تمام مدارسِ عربیہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ڈین صاحب نے ان سے کہا کہ مصر اور پاکستان کے حالات مختلف ہیں۔ ہماری سب سے بڑی مشکل یہ ہےکہ اگر ہم مدارس کو حکومت کے قبضے میں لے لیں تو مولانا محمد یوسف بنوری جیسے علما مدارس کے بجائے مسجدوں کی چٹائیوں پر بیٹھ کر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔ عرب ممالک میں تو عوام کو مدارس کے لیے چندہ دینے کی عادت نہیں، مگر پاکستان میں ایسے علما ہیں کہ اگر انہوں نے مساجد میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تو عوام اور مخلصین ان کو بغیر رسید کے چندے دیں گے اور مسجدوں میں پھر سےنئے آزاد مدرسے قائم ہو جائیں گے۔ حکومت کے سرکاری مدارس میں تو دینی علوم پڑھنے کے لیے کوئی نہیں آئے گا، اس طرح ہمارا یہ منصوبہ خاک میں مل جائے گا۔
(یہ جان کر)صدر ایوب نے ڈین صاحب کو مدارس کے لیے نیا نصابِ تعلیم بنانے کا حکم دیا۔ڈین صاحب بڑے طمطراق کے ساتھ کراچی تشریف لائے، حیدرآباد یونیورسٹی کے داؤد پوتا بھی ان کے ہمراہ تھے، ڈین صاحب نے مفتی محمد شفیع مرحوم اور مولانا بنوری مرحوم سے ملاقات کی اور انہیں نصابِ تعلیم میں ترمیم کا مشورہ دیا۔ مولانا بنوری ؒ نے ان کی پوری وعظ و تقریر سن کر فرمایا:
’’مدارسِ عربیہ کا نصابِ تعلیم کون بنائے گا؟ حدیث، تفسیر اور فقہ کے نصاب مرتب کرنے میں آپ جیسےسرکاری ملازمین کی کیا حیثیت ہے؟نصاب علما ئے راسخین ہی بنا سکتے ہیں اور وہی بنائیں گے۔‘‘
ڈین صاحب بولے:’’وہ علمائے راسخین کون ہوں گے؟‘‘
آپ نے فرمایا:
’’یہ کام یوسف بنوری اور مفتی محمد شفیع صاحب کا ہے۔ آپ کون آئے نصاب بنانے والے؟‘‘
اس گفتگو سے یہ لوگ سخت خفیف ہوئے اور اس ’نئے نسخے‘ کا ارادہ بھی ترک کر دیا۔انہی مغربی سامراج کے پروردوں نے لادینی عناصر کے ساتھ مل کر ایک اور سکیم بنائی، وہ یہ کہ مختلف ممالکِ اسلامیہ سے علما کو جمع کر کے ایک مجلسِ مباحثہ (کولوکیَم؍ colloquium) منعقد کی جائے۔ان کا خیال تھاکہ پاکستان کے علما تنگ نظری اور قدامت پسندی میں مبتلا ہیں اور مصر و شام وغیرہ کے علما آزاد خیال اور تجدد پسند ہیں۔ یہاں کے علما کا دین سب سے مختلف ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں وہ بینک کے سود کو حرام سمجھتے ہیں، خواتین کی حیا و عصمت کی حفاظت کے لیے پردوں کے حامی ہیں اور ڈاڑھی نہیں منڈاتے، بلکہ اسے اسلام کا شعار، مردانہ چہرے کی زینت اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہیں۔ (غلام احمد)پرویز وغیرہ جیسے ملاحدہ نے حکومت کو یقین دلایا تھا کہ اس مجلسِ مباحثہ سے قدامت پسند طبقہ کو شکست ہو گی اور مصر و شام کے علما یہاں کے مولویوں کو تجدد پسندی کا درس دیں گے۔
چنانچہ مصر سے شیخ مصطفی زرقا، معروف ودالیبی، ابو زہرہ (جو اسکندریہ لائج کالج کے پرنسپل اورحیاتِ ابو حنیفہ ؒ،حیاتِ مالکؒ،حیاتِ شافعیؒ، حیاتِ ابنِ حنبل ؒ، حیاتِ ابنِ حزم ؒ وغیرہ کے مصنف تھے اور اصولِ فقہ کے بہت بڑے عالم اور رومن قانون کے بھی ماہر تھے)، ایک فصیح و بلیغ مصری عالم مہدی علام اور ازہر کے کئی اور جید علما کو بھی دعوت دی گئی۔ پاکستان سے مولانا بنوری، مفتی محمد شفیع اور مسٹر غلام احمد پرویز کو مدعو کیا گیا1۔ مصر و شام کے مندوبین کراچی اترے اور مولانا بنوری ؒ کے مدرسہ عربیہ نیو ٹاؤن میں تشریف لائے۔ مولانا کی عبقری شخصیت سے پہلے ہی متعارف تھے، مگر یہاں آ کرمولانا کے علم سے بہت ہی متاثر ہوئے۔ مولانا نے ان کے سامنےاس مجلسِ مباحثہ کے اغراض و مقاصد کوبے نقاب کیا اور ان تمام مسائل میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ یہ حضرات کراچی سے لاہور پہنچے تو مولانا کے خیالات کی تائید کی۔ازہر کے علما نے واشگاف کہا کہ : ’اسلام میں سود کی کوئی گنجائش نہیں‘۔ پرویز وغیرہ کو اسلام میں رخنہ اندازی کی جرأت نہ ہوئی۔ حکومتِ پاکستان کو بھی معلوم ہو گیا کہ ان مسائل میں دنیا بھر کے علما کے خیالات و معتقدات یکساں ہیں۔ اس کولوکیَم سے دینِ اسلام اور علمائے دین کو فائدہ پہنچا، ملاحدہ کی لادین اسکیم ناکام ہو گئی اور وہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے۔
(ماخوذ از ماہنامہ بینات مولانا یوسف بنوری نمبرمحرم تا ربیع الاول ۱۳۹۸ھ ؍ جنوری فروری ۱۹۷۸ء)
٭٭٭٭٭
1 جہاں تک یاد پڑتا ہےہندوستان سے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اور عبدالماجد دریاآبادی( مدیر’صدقِ جدید‘) کو بلایا گیا تھا۔ (مدیر بینات)

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



