مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب (زید مجدہٗ) کی تالیف ’أصول الغزو الفکری‘ یعنی ’نظریاتی جنگ کے اصول‘، نذرِ قارئین ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو اہل باطل کی جانب سے ایک ہمہ گیر اور نہایت تند و تیز فکری و نظریاتی یلغار کا سامنا ہے۔ اس یلغار کے مقابلے کے لیے ’الغزو الفکری‘ کو دینی و عصری درس گاہوں کے نصاب میں شامل کرنا از حد ضروری ہوچکا ہے۔دینی و عصری درس گاہوں میں اس مضمون کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ’الغزو الفکری‘ یعنی نظریاتی جنگ کے مضمون و عنوان کو معاشرے کے فعال طبقات خصوصاً اہلِ قلم، اسلامی ادیبوں اور شاعروں، اہلِ دانش، صحافیوں، پیشہ ور (پروفیشنل)حضرات نیز معاشرے کہ ہر مؤثر طبقے میں بھی عام کرنا از حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ’اصول الغزو الفکری‘کے عنوان سے اس علم کے اہم مباحث کو مختصر طور پر مولانا موصوف نے پیش کیا ہے۔ مولانا موصوف ہی کے الفاظ میں ’در حقیقت یہ اس موضوع پر تحریر کردہ درجنوں تصانیف کا خلاصہ ہے جس ميں پاک و ہند کے پس منظر کا نسبتاً زیادہ خیال رکھا گیا ہے‘۔ یہ تحریر اصلاً نصابی انداز میں لکھی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود خشکی سے پاک ہے اور متوسط درجۂ فہم والے کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کو نظریاتی و عسکری محاذوں کو سمجھنے، ان محاذوں کے لیے اعداد و تیاری کرنے اور پھر ہر محاذ پر اہلِ باطل کے خلاف ڈٹنے کی توفیق ملے۔ اللہ پاک مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب کو جزائے خیر سے نوازیں کہ انہوں نے ایسے اہم موضوع کے متعلق قلم اٹھایا، اللہ پاک انہیں اور ہم سب اہلِ ایمان کو حق پر ثبات اور دین کا صحیح فہم عطا فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین! (ادارہ)
افکار الغزو الفکری
یہاں دو اہم فکری تحریکوں کا جائزہ لیں گے جو کہ مسلمانوں کی اعتقادی، نظریاتی اور عملی بیخ کنی کر رہی ہیں۔ یہ تحریکیں ’’العَلمانیۃ‘‘(سیکولرازم) اور ’’التغریب‘‘(ماڈرن ازم) ہیں۔
العَلمانیۃ ؍ سیکولر ازم(Secularism):
العَلمانیۃ یا سیکولرازم کی تعریف یہ ہے: ’’فصل الدین عن الدول والحیاۃ‘‘۔ یعنی دین کو زندگیوں اور حکومت سے الگ کرنا۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب ’’لادینیت‘‘ہے۔ سیکولرازم کی ابتدا یورپ میں اصلاح مذہب کی تحریک کے بعد ہوئی۔ یورپ نے یہ دیکھ لیا کہ نصرانیت کی خلافِ عقل تعلیمات زندگی کے حقائق کا ساتھ نہیں دے سکتیں اس لیے انھوں نے دین اور دنیا کو الگ الگ کرلیا۔ اسی طرح بدھ مت اور ہندو مت سمیت ہر مذہب کے پیروکاروں کو یہ بات سمجھ آگئی کہ ان کے مذاہب جیتی جاگتی زندگی کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں اس لیے وہ سیکولرازم کے قائل ہوگئے۔ مگر اسلام زندگی سے فرار نہیں چاہتا بلکہ گھر سے لے کر حکومت تک زندگی کے تمام مسائل کو حل کرتا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں نافذ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے مغربی مفکرین اسلامی دنیا میں سیکولرازم کو زیادہ شدت کے ساتھ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیکولرازم کے داعی غلط طور پر مسلمانوں کے ذہن میں یہ بٹھاتے ہیں کہ دین اور دنیا دو الگ الگ چیزیں ہیں اور دیگر ادیان کی طرح اسلام بھی زندگی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتا۔ اس مقصد کے لیے مغرب نے مستشرقین کے شاگردوں کو بطور خاص استعمال کیا۔ جو شریعت، سیرت اور تاریخ کو مسخ کرکے سیکولرازم کو قابل قبول بنانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔
سیکولرازم کے بنیادی اہداف:
عالم اسلام سے متعلق سیکولرازم کے بنیادی اہداف یہ ہیں:
مسلمانوں کے عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کرنا۔
مغرب کے ملحدانہ افکار اور مادیت پرستانہ خیالات کو رواج دینا۔
اسلام کو حکومت، سیاست اور معاشرت سے خارج کرکے مغربی اقدار کے مطابق ’’سیکولر‘‘حکومتیں تشکیل دینا۔
سیکولرازم کے تین خطرناک حربے:
سیکولرازم کے تین اہم حربے ہیں:
جاہلی عصبیت کو فروغ دینا۔
مسلمانوں کو صالح قیادت سے متنفر کرنا۔
آزادئ نسواں۔
التغریب؍ماڈرن ازم(Modernism)
التغریب کا مطلب ’’مغربیت زدگی‘‘ہے۔ یہ تحریک بتاتی ہے کہ مذہب ایک فرسودہ اور اَز کارِ رفتہ چیز ہے، جو چیز حواس، مشاہدے، تجربے اور عقلیت کے زمرے میں نہ آئے وہ قابل ترک ہے چاہے وہ قومی رسم و رواج ہو یا مذہبی عقائد و اقدار۔ مغرب خود اسی راہ پر چل رہا ہے اور دنیا سے بھی اپنی تقلید کروانا چاہتا ہے اس لیے یہ ’’تحریک التغریب‘‘کہلاتی ہے۔ اسے ماڈرن ازم یا جدت پسندی بھی کہا جاتا ہے۔ جدت پسندوں کے اہم ترین اہداف یہ ہیں:
صورتِ اسلام کو مسخ کرکے نیا اسلام تشکیل دینا۔
مسلمانوں کو اپنے ماضی سے شرمسار کرنا۔
مسلمانوں کو موجودہ حالات سے مایوس کرنا۔
مستقبل سے ناامید کرنا۔
امت کی شخصیت کو موم کی گڑیا بنا دینا۔
ماڈرن ثقافت کا فروغ۔
اسلامی تحریکوں اور قیادتوں کو سبوتاژ کرنا۔
وسائل الغزو الفکری
اب ہم ان وسائل و ذرائع اور ہتھیاروں کا جائزہ لیں گے جن کو ہمارے حریف ہمارے اذہان کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ وسائل درج ذیل ہیں:
نظام تعلیم۔
میڈیا۔
معلومات کے ذرائع۔
میدان سیاست۔
قانون۔
معیشت و تجارت۔
رفاہی ادارے، این جی اوز۔
جدت پسند اسلامی مفکرین۔
فنون لطیفہ۔
ادب۔
کھیل کود اور تفریح۔
ثقافتی ہیرو۔
علاقائی تہذیب و ثقافت۔
جاہلی عصبیت کا فروغ۔
صالح قیادت سے متنفر کرنا۔
آزادئ نسواں۔
(۱) تعلیم (Education)
تعلیم اہل باطل کی فکری پیش قدمیوں کا سرچشمہ ہے۔ باطل نظریات کے فروغ میں نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کا بنیادی کردار ہے۔ اس نئے نظام تعلیم سے عالم اسلام کی درسگاہوں میں درج ذیل اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں:
تدریسی زبان کی تبدیلی۔
رسم الخط کی تبدیلی۔
غیر ملکی زبانوں کو لازمی قرار دینا۔
دین کا احترام ختم۔
لادینیت پر مبنی مواد کی شمولیت۔
علمائے دین اور طلبہ دین کی تحقیر۔
لادین مدرسین کا چناؤ۔
مخلوط تعلیم۔
دینی مدارس کے گرد گھیرا تنگ۔
دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں میں خلیج۔
نصابِ تعلیم کی خصوصیات:
نصاب تعلیم میں درج ذیل خصوصیات پیدا کردی گئی ہیں:
مغربی اقدار کا فروغ۔
ملحدانہ و مادہ پرستانہ ذہن سازی۔
تاریخ سے جاہل رکھنا، غلط تاریخ پڑھانا۔
مغرب اور مغربی ایجنٹوں کے معائب (عیبوں)اور زیادتیوں کو چھپانا۔
اسلامیات کو محض ایک نظری چیز بنا دینا۔
جغرافیائی اور سیاسی تقسیمات پختہ کرنا۔
نظام تعلیم پر گرفت:
مسلم دنیا کے تعلیمی نظام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیےگئے ہیں:
عالمی سطح پر یونیسکو (Unesco) اور یونی سیف (Unicef)جیسے علمی و ثقافتی اداروں کا قیام۔
مسلم دنیا میں مغربی اداروں کے تحت ٹیچر ٹریننگ کورس کے پروگرام۔
تعلیمی شعبے میں غیر ملکی امداد۔
مسلم دنیا کی تعلیمی وزارتوں پر غیر ملکی ماہرین تعلیم کی اجارہ داری۔
مسلم درسگاہوں میں غیر ملکی مدرسین اور دانشوروں کی آمد و رفت۔
ذہین مسلم طلبہ کے لیے تعلیمی اسکالر شپ۔
نظام تعلیم کے اثرات:
ہمارے طلبہ برائے نام مسلمان رہ گئے۔
علم دین سے متنفر ہوگئے۔
علم دنیا اور علم دین کے راستے الگ الگ ہوگئے ہیں۔
ارباب اقتدار دن بدن دین سے دور ہوگئے۔
مسلمان اپنی علمی وراثت سے قطعاً بیگانہ ہوگئے۔
علمی، تمدنی اور سیاسی قیادت مغرب کے پاس چلی گئی۔
دین اور اہل دین کا سرعام مذاق اڑانا معمول بن گیا ہے۔
نسل نو ذہنی طور پر مغرب کی غلام بن گئی۔
(۲) میڈیا (Media)
میڈیا ہر محاذ پر حریف کا سب سے زیادہ خطرناک اور مؤثر ہتھیار ہے۔ میڈیا پر جس نظریے کا غلبہ ہوتا ہے، عوام اسی ذہن کو اختیار کرلیتے ہیں۔ ہر جنگ مضبوط اعصاب کے بل بوتے پر لڑی جاتی ہے۔ ہمارا حریف میڈیا کے ذریعے ہمارے اعصاب پر حملہ آور ہے اور ہمیں عمومی طور پر مایوسی، کم ہمتی اور کج فہمی کا شکار بنا رہا ہے۔
لوگوں کی دو قسمیں اور میڈیا کا شبہاتی اور شہوانی جال:
لوگوں کی دو قسمیں ہیں: (الف) ذمہ دار لوگ۔ (ب) غیر ذمہ دار لوگ۔
میڈیا ذمہ دار لوگوں کو شبہات کے ذریعہ پھنساتا ہے۔ شبہات پھیلانے کا ذریعہ خبری شعبہ (News) ہے جس میں خبروں اور تجزیوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ غیر ذمہ دار طبقے کو شہوات میں ڈبوتا ہے۔ اس کا راستہ تفریح (Entertainment) ہے۔ جس میں موسیقی، رقص، فلمیں، ڈرامے وغیرہ شامل ہیں۔
یہودی لابی اور میڈیا:
اس وقت دنیا میں میڈیا پر یہودیوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ ان کے مشہور زمانہ پروٹوکولز میں سے بارہویں پرٹوکول میں یہ طے کرلیا گیا تھا کہ دنیا میں خبروں کے تمام ذرائع یہود کے پاس ہوں گے۔ دنیا کی مشہور ترین خبررساں ایجنسیاں رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل اور فرانسیسی نیوز ایجنسی انھیں کے پاس ہیں۔ میڈیا پر یہودی سرمایہ داروں کی اجارہ داری کا تناسب ۹۰ فیصد تک ہے۔ میڈیا پر مسلط یہودی اور عیسائی پالیسی سازوں نے تین باتوں پر اتفاق کر رکھا ہے۔
مسیحی اور یہودی اتحاد پر زد نہیں پڑنے دی جائے گی۔
امریکی سیاست کی ہمیشہ باعظمت ترجمانی ہوتی رہے گی۔
سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام کی ہمیشہ وکالت ہوگی۔
(۳) ذرائع معلومات: الاعلام(Knowledge)
اہل مغرب نے دنیا کو درکار معلومات کے راستوں پر تسلط حاصل کرلیا ہے۔ کسی بھی موضوع پر تلاش کیا جانے والا مواد ہمیں عموماً مغربی مصنفین، مغربی کتب خانوں، مغربی انسائکلوپیڈیاز اور انھیں کی ویب سائٹوں سے ملتا ہے۔ اس سے لوگ بے دین مصنفین، صحافیوں اور محققین کی مہارتِ فن اور کارکردگی سے متاثر ہوجاتے ہیں اور بعد میں ان کے دیگر خیالات سے بھی اتفاق کرنے لگتے ہیں۔
(۴) میدان سیاست (Politics)
جمہوری نظام اور سیاست کا میدان مغربی افکار و اقتدار کے فروغ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ جمہوریت کو فروغ دے کر اسلام کے خالص سیاسی نظام پر یقین رکھنے والے مسلم رہنماؤں کو سیاست سے بے دخل کردیا گیا ہے۔ جمہوری سیاست کے میدان میں سیاسی پارٹیاں مملکت کے شہریوں کے مطالبات، خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کرتی ہیں۔ جمہوری مملکت میں جمہوری عمل اور انتخابات پر یقین رکھنے والی پارٹی ہی کو سیاسی عمل میں کوئی کردار ادا کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ انتخابی عمل کے نتیجے میں کچھ لوگ عوام کے نمائندے بن کر قانون ساز اداروں میں آتے ہیں جنھیں پارلیمنٹ (ایوانِ زیریں) اور سینیٹ (ایوانِ بالا) کہا جاتا ہے۔ یہاں ملک کا نظام چلانے کے لیے قانون سازی کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔
(۵) قانون: (Laws)
باطل نظریات و افکار کے فروغ کا چوتھا بڑا سرچشمہ غیر اسلامی قانون ہے۔ اس وقت اکثر اسلامی ممالک میں مغربی قانون ہی نافذ ہے۔ اس کا نفاذ عدالتوں اور بیورو کریسی کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ عدالت وہ ادارہ ہے کہ جہاں ملک میں رائج قوانین کے تحت مختلف تنازعات کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ماضی میں ہماری عدالتوں میں صرف فقہ اسلامی کے تحت فیصلے ہوتے تھے مگر اب مغربی قوانین کے نفاذ کی وجہ سے فقہاء، مجتہدین، محدثین اور علماء کی ساڑھے تیرہ سو سالہ محنت برباد ہوکر رہ گئی ہے۔
عدلیہ ملکی قوانین کے مطابق جو فیصلے دیتی ہے، اسے نافذ کرنے کا کام بیوروکریسی (نوکر شاہی) انجام دیتی ہے۔ اس کا سلسلہ پولیس، ڈپٹی کمشنر اور گورنر سے لے کر صدر مملکت تک پہنچتا ہے۔ یہ ادارے قانون کے محافظ ادارے کہلاتے ہیں مگر حقیقت میں یہ سیکولر اور لبرل نظام کے محافظ ہیں۔
(۶) معیشت و تجارت
معیشت و تجارت کا استحکام کسی بھی قوم کی ترقی اور استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دشمن نے معاشی و اقتصادی طور پر عالم اسلام کو محصور کرلیا ہے۔
(۷) رفاہی خدمات۔این جی اوز
دنیا بھر میں مغربی ممالک کے ہزاروں رفاہی ادارے کام کر رہے ہیں جو مسلم ممالک کے پس ماندہ عوام کا اعتماد حاصل کرکے اپنے افکار و نظریات کو فروغ دیتے ہیں۔
(۸) جدت پسند اسلامی مفکرین
جدت پسند اسلامی مفکرین اہل باطل کے خاص آلۂ کار ہیں۔ مغرب کو راضی کرنے کے لیے اسلام کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرنے کے درپے رہتے ہیں۔
(۹) فنون لطیفہ
فنون لطیفہ یعنی موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی، رقص و سرود وغیرہ پر نفس کی لذتوں کی انتہا ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کو بے دین بنانے مین ان ہتھکنڈوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔
(۱۰) ادب
ادب کے نام پر عشقیہ، اور ملحدانہ نظم و نثر کو فروغ دیا جارہا ہے۔ دین اور خدا کا تمسخر اڑانے والے ادیبوں اور شاعروں کی جسارت کو قابل داد ٹھہرایا جاتا ہے۔
(۱۱) تفریح، سپورٹس
تفریح اور کھیل کود کے میدان بھی اغیار کی تہذیبی یلغار کا ایک ذریعہ ہیں۔ کھیل کے میدانوں میں ایمان کُش ماحول نسل نو کو دین و مذہب سے بالکل بےگانہ بنا دیتا ہے۔
(۱۲) ثقافتی ہیرو
ثقافتی ہیرو وہ کھلاڑی، اداکار اور فن کار ہیں جو معاشرے کے آئیڈیل بن گئے ہیں۔ لوگ ان کے قول کو کسی عالم دین کے فتوے سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
(۱۳) علاقائی تہذیب و ثقافت
مغربی دنیا اربوں ڈالر خرچ کرکے اسلامی ممالک میں دبے ہوئے ہزاروں سال پرانے آثار اور زمانۂ جاہلیت کے کھنڈرات سامنے لا رہی ہے تاکہ مسلمانوں کو علاقائی تہذیب و ثقافت کے عنوان سے اسلامی تاریخ اور شناخت سے برگشتہ کیا جائے۔
(۱۴) جاہلی عصبیت، قومی و وطنی عصبیت کو فروغ دینا
قومی اور وطنی عصبیت کا فروغ، عالمگیر اسلامی وحدت کو توڑ کر کئی چھوٹی چھوٹی وحدتیں پیدا کردیتا ہے اور یوں لادینیت کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔
(۱۵) مسلمانوں کو صالح قیادت سے متنفر کرنا
لادین طاقتوں کی خواہش ہے کہ مسلمانوں کے پاس کوئی صالح قائد نہ رہے۔ اس مقصد کے لیے مسلمانوں میں ابھرنے والی ہر صالح قیادت کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔
(۱۶) ’’آزادئ نسواں‘‘
حدیث میں عورتوں کو شیطان کا جال کہا گیا ہے1۔مغرب اس جال کو پوری عیاری سے استعمال کر رہا ہے۔ آزادیٔ نسواں کا نعرہ لگا کر خود عورت کو گمراہ کیا گیا اور پھر عورتوں کو بازاری جنس بناکر ان کی تذلیل اور مردوں کی گمراہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اسلامی دنیا میں آزدائ نسواں کے نعرے کے پیچھے اہل باطل کے تین بڑے مقاصد ہیں:
۱۔ اسلامی اخلاق و معاشرت کی بربادی:
اسلامی اعلیٰ اخلاق و اقدار مغرب کے لیے حسد کا باعث بن گئی تھیں۔ پس وہ انھیں برباد کرنے پر تل گئے۔
۲۔ اسلامی معاشرہ کی خصوصیات کا خاتمہ:
وہ مسلمانوں کے ہاں رائج عفت و عصمت کے مثالی نظام کو تہس نہس کرنے پر اس لیے بھی آمادہ ہوئے تاکہ اسلامی معاشرے کی طرف غیر مسلموں کے رجحان کا امکان نہ رہے۔
۳۔ مسلمان عورتوں کو بازاری جنس بنادینے کی قدیم خواہش:
مسلمان عورتیں گزشتہ تیرہ صدیوں سے مستور تھیں۔ اہل مغرب نے اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لیے مسلمان عورت کا ذہن تبدیل کردیا تاکہ وہ خود ان کی جھولی میں آگرے۔
آزادئ نسواں کے لیے پراپیگنڈا مہم:
آزادئ نسواں کو فروغ دینے اور مسلم عورت کا ذہن بدلنے کے لیے اہل مغرب نے جو پراپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے اس کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ اسلام میں عورت مظلوم ہے۔ وہ ہر معاملے میں مردوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ اسلام کو عورت کے بنیادی حقوق کا غاصب مذہب قرار دیا جاتا ہے۔(نعوذباللہ)
اس سلسلے میں درج ذیل نکات خاص طور پر اٹھائے جاتے ہیں:
اسلام میں عورت کو گھر کا قیدی بنادیا گیا ہے۔
عورت کو خود کفیل ہونے اور کمائی کے لیے باہر نکلنے سے منع کیا ہے۔
اسلام نے تو عورتوں کو ناقصات العقل قرار دیا ہے۔
اسلام میں عورت کو میراث میں مردوں سے کم حصہ دیا جاتا ہے۔
اسلام میں طلاق کا حق صرف مردوں کو دیا گیا ہے۔
مردوں کو بیک وقت چار چار شادیوں کی اجازت ہے مگر عورت کو نہیں۔
عورت کی گواہی نصف مانی جاتی ہے۔
مستشرقین کے گھڑے ہوئے ان اعتراضات کا پرچار کرکے مسلمان عورت کو خالص اسلامی اقدار سے برگشتہ کرنے کا کام تقریباً ڈیڑھ صدی سے جاری ہے۔
۱۹۱۳ء میں ایک باقاعدہ سازش کے تحت ایسی جدت پسند مسلمان عورتوں کو سامنے لایا گیا جنھوں نے سرِعام نقاب اتارے اور برقع و چادر کو اٹھا کر پھینک دیا۔ مصر میں ’ہدیٰ شعراوی‘ پہلی عورت تھی جس نے پردے کے خلاف آواز اٹھائی۔
۱۹۲۳ء میں ’’مؤتمرالنساء‘‘ کے نام سے اٹلی کے شہر روم میں خواتین کی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ’ہدیٰ شعراوی‘ نے برقع اتار کر اپنے پاؤں کے نیچے رکھا اور اسے مسل کر اعلان کیا ’’آج کے بعد پردے کا رواج ختم۔ جو عورت جس طرح کا چاہے لباس پہنے‘‘۔
آزادیٔ نسواں کے نقیب بے پردگی کی دعوت پانچ مراحل میں دیتے ہیں:
پہلا مرحلہ، نقاب کھولنا:
قرآن پاک کی آیات اور احادیث کی غلط تاویلات کرکے عورتوں کو نقاب کھولنے یا برقعے کو اتارنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔
دوسرا مرحلہ، غیر محرم مردوں سے میل ملاپ:
عورتوں کو مردوں کے ساتھ ملنے جلنے اور مخلوط تقاریب میں شریک ہونے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ نرسری سکولوں میں بچوں اور بچیوں کو اکٹھے بٹھانے سے مخلوط ماحول ان کی عادت بن جاتا ہے۔
تیسرا مرحلہ، چہار دیواری کی قید سے آزادی:
گھر سے باہر قدم رکھ کر دنیا کا نظارہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس کے لیے جدت پسند مسلمان قائدین کی بیگمات کو نمونہ بنا کر بھی پیش کیا جاتا ہے۔
چوتھا مرحلہ، مردوں کے شانہ بشانہ کام کاج:
مخلوط ماحول میں وقت گزارنے والی جدید عورت مردوں کے شانہ بشانہ کام کے لیے بہت جلد تیار ہوجاتی ہے اور تعلیم، تجارت اور ٹرانسپورٹ سے لے کر فوج، پولیس اور سیاست تک مردوں کے سنگ سنگ کام کرتی ہے۔
پانچواں مرحلہ، فن و ثقافت میں عورت کی آمد:
پانچویں مرحلے میں عورت کو زیادہ آمدن اور شہرت کا لالچ دے کر ماڈل، اداکارہ، رقاصہ اور کال گرل بنادیا جاتا ہے۔
بے پردگی کے مفاسد
بے پردگی کے بے شمار مفاسد ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں:
میاں بیوی میں بد اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے۔
گھروں میں محبت کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔ محبت سے محروم ہوکر اولاد آوارہ ہوجاتی ہے۔
خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے لہٰذا جب خاندان بگڑتے ہیں تو پورا معاشرہ برباد ہوجاتا ہے۔
بے پردہ ماحول اور عصمت سے ناآشنا معاشرے میں خاندانی نظام ختم ہوجاتا ہے۔
مغرب میں عورت کو کیا ملا؟
مغرب میں آزدائ نسواں کے کھوکھلے نعرے کی حقیقت عیاں ہوچکی ہے۔ مغربی عورتیں اب بھی شوہروں کے تشدد کا شکار ہیں۔ زنا کی قانوناً اجازت کے باوجود ہر سال ہزاروں کی تعداد میں زنا بالجبر کے کیس رجسٹر ہوتے ہیں۔ سکول میں پڑھنے والی بچیوں کے ماں بننے کے واقعات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ کم سن ماؤں کے الگ سکول بن چکے ہیں، ان مفاسد کو دیکھنے کے بعد یورپ میں یہ تحریک شروع ہوچکی ہے کہ آزاد عورت کو دوبارہ گھریلو عورت بنایا جائے تاکہ خاندان کا تصور دوبارہ فروغ پا سکے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
1 یہ موقع تفصیل کا نہیں ہے، ورنہ مولانا کا اس حدیث کو نقل کرنے کا مقصد عورتوں کو حقیر دکھانا یا عیسائیت و دیگر ادیان و نظریاتِ باطلہ میں عورت کے متعلق جو خیالات ہیں ان کی طرز اختیار کرنا نہیں، بلکہ عورت کا ایک خاص تناظر میں ذکر کیا جا رہا ہے، ورنہ عورت (ماں) ہی کے پاؤں تلے جنت ہے اور اس سے بڑھ کر عورت کے لیے کیا اعزاز ہو گا کہ بندۂ مومن کی زندگی کے مقصد(رضائے الٰہی و حصولِ جنت) کو عورت سے جوڑ دیا گیا ہے۔(ادارہ)






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



