جو تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلندی دیتے ہیں!
راغب اصفہانی تواضع کے معنیٰ کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’تواضع اس مرتبے کے لیے اپنے دل سے راضی ہونے کو کہتے ہیں جوانسان کےاستحقاق سے کم ہو۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (سورۃ الشعراء: ۲۱۵)
’’اور جو مومن تمہارے پیچھے چلیں، ان کے لیے انکساری کے ساتھ اپنی شفقت کا بازو جھکا دو ۔ ‘‘
ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
’’اس آیت میں ہر قسم كے حاکم شامل ہیں، لہٰذا ہر حاکم و امیر کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے ماتحت افراد کے ساتھ تواضع اور نرمی کا مظاہرہ کرے کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’تواضع آدمی کو رفعت بخشتی ہے، لہٰذا تواضع اختیار کرو تاکہ اللہ تمہیں بلند کردیں‘۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’صدقہ دینا مال میں کمی نہیں کرتا اور جو شخص کسی کی خطا معاف کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے نیز جو شخص اللہ کے لیے تواضع اور عاجزی اختیار کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کا مرتبہ بلند کر دیتا ہے۔ ‘‘
اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو ذلت و پستی کو قبول کرتے ہوئے تواضع اختیار کرے۔‘‘
المناویؒ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’تواضع یہ نہیں، کہ کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر اور پست کردے یا تواضع اختیار کرنے سے حق دار اپنے حق سے محروم ہوجائے، بلکہ تواضع یہ ہے کہ مومنین کے لیے اپنے کندھوں کو جھکایا جائے اور ان کے ساتھ نرمی اور اچھے اخلاق کا برتاؤ کیا جائے۔ ‘‘
امارت اور مسئولیت انسان میں غرور اور بڑائی پیدا کرتی ہے، لہٰذا امیر کو چاہیے کہ تواضع و عاجزی اختیار کرے اور اگر امیر اس حالت میں تواضع اختیار کرے، تو حقیقت میں یہی تواضع ہے، تواضع سب سے زیادہ امیر کے لیے لازم ہے، کیونکہ لوگوں کی نظریں اس کی طرف ہوتی ہیں اور اس کے مامورین اسی پر مجتمع رہتے ہیں، اگر امرا مومنین کے ساتھ بد اخلاقی اور سخت برتاؤ رکھیں، تو لوگ ان کے سامنے اپنی حاجات نہیں لے جائیں گے، جس کی وجہ سے مشکلات پیدا ہوں گی اور جب مشکلات پیدا ہوجائیں گی تو اپنے ماتحت افراد کے ساتھ بھی امیر کا گزارا کرنا مشکل ہوجائے گا اور ان کا اتحاد ٹوٹ جائے گا ۔
ابنِ حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ تواضع دو قسم کی ہے، ایک اچھی تواضع اور دوسری بری تواضع ہوتی ہے، اچھی تواضع یہ ہے کہ اپنے آپ کو لوگوں سے بہتر نہ سمجھیں اور بری تواضع یہ ہے کہ مال دار شخص کے سامنے صرف اس وجہ سے تواضع اختیار کی جائے تاکہ اس سے دنیا حاصل کرے۔‘‘
تواضع کے فوائد
جب امیر اپنی رعیت کے ساتھ تواضع اختیار کرتا ہے، تو رعیت کے دلوں میں امیر کے لیے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔
جو شخص تواضع اختیار کرے اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔
تواضع کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہوتی ہے۔
تواضع کے ذریعے مال اور عمر میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
تواضع اور سلف صالحین
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن میں نے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کو ایسی حالت میں دیکھا کہ آپؓ نے پانی کا مشکیزہ اپنے کاندھوں پر اٹھا یا ہوا تھا۔ میں نے آپؓ سے کہا ’اے امیر المومنین! آپ کے ساتھ یہ مناسب نہیں لگتا‘۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا’جب میرے پاس لوگوں کے وفوداس حالت کے ساتھ آئے جو سمع و طاعت کرنے والے تھے ، تو میرا نفس تھوڑا بڑھ گیا، لہٰذا میں نے ارادہ کیا کہ اس نفس کو دوبارہ توڑ وں‘۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا’ تم سب افضل ترین عبادت سے غافل ہواور وہ عبادت تواضع ہے‘۔
ایک رات امیر المومنین عمر بن عبدالعزیزؓ کی مجلس میں لوگ کچھ اہم باتوں کی وجہ سے بیٹھے تھے تو کمرے کا چراغ کمزور پڑگیا یعنی بجھنے کے قریب ہوگیا، حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے اُٹھ کر اس چراغ کو درست کردیا۔ لوگوں میں سے ایک نے کہا’اے امیر المومنین! کیا ہم اس کام کے لیے کافی نہیں؟‘، یعنی کے ہم اس چراغ کو ٹھیک کرسکتے تھے! آپؓ نے جواب دیا ’مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا جب میں اُٹھا تو عمر بن عبدالعزیز تھا اور جب واپس بیٹھا تب بھی عمر بن عبدالعزیز تھا‘۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں’جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مال، خوبصورتی، اچھا لباس اور علم عطا کیا جاتا ہےاور وہ تواضع اختیار نہ کرے تو قیامت کے دن یہ ساری نعمتیں اس شخص کے لیے بھاری بھر کم بوجھ ثابت ہوں گی‘۔
التواضع والخمول کتاب میں لکھا ہےکہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے تواضع کا معنیٰ اس طرح بیان کیا ہے کہ ’تواضع یہ ہے کہ جب تم اپنے گھر سے نکلو اور جس مسلمان سے سامنا ہوجائے تو وہ تمہیں اپنے سے بہتر نظر آئے‘۔
حضرت عمر بن قیس فرماتے ہیں، تین چیزیں تواضع کے لیے اہم امور ہیں:
پہلا یہ کہ کسی سے سامنا ہوجائے تو اس کو سب سے پہلے سلام کہے۔
دوسرا یہ کہ مال دار اور جاہ و جلال والوں کی نسبت غریب لوگوں کے ساتھ بیٹھنے پر راضی ہو
اور تیسرا یہ کہ دینی معاملے میں ریا اور تعریف کو ناپسند کرے۔
(وما علینا إلّا البلاغ المبین!)




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



