نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home آخرت

اسبابِ سُوءِ خاتمہ | دوسرا درس

by انور العولقی
in جنوری 2021, آخرت
0

ألحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیّدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم!

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا انتقال

عبداللہ ابن احمد ابن حنبل سے منقول ہے کہ جب ان کے والد کا وقتِ وفات آیا تو وہ اپنے والد کے پاس موجود تھے۔ ان کے والد پر سکرات الموت کی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے۔ یہ وقت ہر انسان کے لیے نہایت مشکل ہوتا ہے۔ جب آپ دنیا میں ساٹھ ستر سال گزارنے کے بعد ایک نئی دنیا کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہیں تو ایک انتہائی مشکل تبدیلی کے مرحلے سے گزرتے ہیں۔ جیسے کوئی نومولود بھی جب رحمِ مادر سے دنیا میں آتا ہے تو تبدیلی اور تکلیف کے انتہائی مشکل اور کٹھن مرحلے سے گزرتا ہے، دو دنیاؤں کے درمیان انتقال کا یہ مرحلہ سب کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے گو کہ تکلیف کی شدت میں فرق ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات انسان فوری طور پر ایک دنیا سے دوسری میں منتقل نہیں ہو پاتا، بلکہ دونوں دنیاؤں کے درمیان لٹکا ہوا، کبھی ایک میں اور کبھی دوسری میں آتا جاتا رہتا ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے نیند کی مثال لیجیے۔ کیونکہ نیند کو موتِ صغریٰ کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اَللہُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا (سورۃ الزمر: ۴۲)

’’وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے۔‘‘

نیند میں آپ دو کیفیات کے مابین ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ نہ آپ سو رہے ہوتے ہیں اور نہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ موت سے پہلے بھی انسان اسی کیفیت سے گزرتا ہے کہ وہ موت اور زندگی کے مابین ایک سرحد پر کھڑاہوتا ہے۔ اس پر بعض لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب وہ زندوں میں شمار نہیں ہوتا بلکہ اس سرحد کو پار کر کے دوسری طرف چلا جاتا ہے، جبکہ بعض لمحات میں وہ سرحد کے اِس پار، یعنی اس دنیا میں ہوتا ہے۔

عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو کہتے سنا:’’لا بعد! لا بعد!‘‘……(نہیں! ابھی نہیں……نہیں ! ابھی نہیں……)۔ فطری طور پہ اس امر سے عبداللہ پریشان ہو گئے۔ آپ تصور کیجیے اگر موت کے وقت آپ کے والد یہ کہنا شروع کر دیں کہ ابھی نہیں ! ابھی نہیں! تو آپ اس سے کیا مفہوم اخذ کریں گے؟ یہی کہ نہیں! میں ابھی مرنا نہیں چاہتا!۔ سو جب امام احمد ابن حنبل کو ہوش آیا تو عبداللہ نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ کچھ دیر پہلے یہ کیوں فرما رہے تھے کہ ’نہیں! ابھی نہیں……‘؟۔

امام احمدنے جواب دیا:’شیطان میرے سرہانے آکر کھڑا ہو گیا تھا اور اپنی انگلیاں چبا رہا تھا، اور کہہ رہا تھا کہ ’اے احمد! تم میرے ہاتھ سے نکل گئے۔ اے احمد! تم مجھ سے بچ گئے!‘‘۔ میں اس کو جواب دے رہا تھا کہ ’نہیں ابھی نہیں! یہاں تک کہ موت کا لمحہ آ جائے……!‘۔

آپ سچے مومن کو دیکھیے کہ مومن اور شیطان کے مابین جنگ زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہتی ہے۔ یہاں تک کہ انسان موت کی آغوش میں چلا جائے، وہ شیطان اور اس کے وساوس سے کلی طور پر محفوظ نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک شیطان سے برسرِ پیکار رہتا ہے۔ وہ کبھی اس جنگ سے تھکتا نہیں، کبھی ہار نہیں مانتا۔ اگر ہم امام احمد بن حنبل کی جگہ پر ہوتے، تو ایسے موقع پر یقیناً تفاخر سے کہتے کہ ہاں! میں نے تمہیں ہرا دیا۔ ہاں! میں تمہارے دامِ فریب سے بچ نکلا۔ لیکن یہ ایک انتہائی خطرناک بات ہے۔ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ شیطان یہ بات جانتا ہے کہ یہ اس کے پاس آپ کو بہکانے کا آخری موقع ہے۔ اگر اس نے ان آخری لمحات کا موقع گنوا دیا، تو اس نے آپ کو گنوا دیا۔ پھر آپ اس سے بچ گئے، پھر وہ آپ کو بہکا نہیں سکتا۔ اس لیے شیطان مومن کی زندگی کے آخری لمحات کو خصوصی اہمیت اور توجہ دیتا ہے۔

اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم ابھی شیطان کے مقابلے پر ہار رہے ہیں جبکہ ابھی جنگ آسان ہے، ابھی تو وہ محض اپنی آدھی توجہ اورنصف صلاحیتیں ہی ہم پر صرف کر رہا ہے……تو زندگی کے آخری لمحات میں کیا حال ہو گا جب وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہمارے مقابل آئے گا؟یہ وہ فتنےہیں جن سے بچنے کے لیے ہم یہ دعا کرتے ہیں:

’’اعوذ باللہ من فتنۃ المحیا والممات.‘‘

اسباب سوءِ خاتمہ:

زندگی کا سب سے اہم ترین مرحلہ اس کا اختتام ہے۔ جو شخص جس چیز پر مرے گا، وہ اسی پر زندہ کیا جائے گا۔ اگر آپ دورانِ حج، احرام کی حالت میں ، تلبیہ کہتے ہوئے فوت ہو جاتے ہیں تو حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق روزِ قیامت آپ لبّیک اللہم لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’میرے آخری اعمال کو میری زندگی کے بہترین اعمال بنا دے‘۔ اسی طرح ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کہ ’تم میں سے ایک شخص اہلِ جنت کے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت سے محض ایک قدم کے فاصلے پر رہ جاتا ہے۔ مگر پھر آخر میں وہ اہلِ جہنم کے سے اعمال انجام دیتا ہے اور اسی پر وفات پاتا ہے اور پھر انہی میں شمار ہوتا ہے‘ ۔ اور اس کے بر عکس، ’ایک شخص ساری زندگی اہلِ جہنم کے سے اعمال کرتا ہے مگر آخر میں اہلِ جنت جیسے اعمال کرنے کے نتیجے میں جنت میں داخل ہو جاتا ہے‘۔

برے انجام کے اسباب کیا ہیں؟

۱.) الفساد فی الاعتقاد:

یعنی عقیدے میں ہی کوئی ایسی ٹیڑھ اور خرابی ہونا جو برے انجام کی جانب لے جائے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ آپ ایک کمپیوٹر خریدتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہیں۔ چند ماہ وہ بہت اچھی کارکردگی دکھاتا رہتا ہے۔ پھر آپ اس پر کوئی سخت اور مشکل اپلیکیشن استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر کمپیوٹر اسے برداشت نہیں کر پاتا اور خراب ہو جاتا ہے۔ اب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ کمپیوٹر میں خرابی تو پہلے دن سے تھی، وہ صرف اس لیے آپ کی نظروں سے اوجھل تھی کیونکہ آپ کمپیوٹر کو نرمی سے استعمال کر رہے تھے۔ جونہی ایک مشکل امتحان آیا، تو کمپیوٹر میں موجود خرابی سامنے آ گئی اور کمپیوٹر اس امتحان میں ناکام رہا۔ اسی طرح آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ بالکل درست اور بہت مضبوط ہے۔ اس میں کوئی کمی اور خرابی نہیں ہے۔ ہاں……دل کے کسی کونے کھدرے میں چند شکوک و شبہات ہیں اللہ کے بارے میں، یا مثلاً انبیاؑ کے بارے میں…… مگر مجموعی طور پر عقیدہ بہت اچھا ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے، موت آتی ہے اور شیطان امتحان بن کر آ جاتا ہے۔ اب عقیدے میں جو چھپا ہوا مسئلہ تھا وہ سامنے آ جاتا ہے۔ جیسے ہی آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے عقیدے میں کہیں یہ مسئلہ ہے، آپ کیا کرتے ہیں کہ اپنا پورا عقیدہ ہی لپیٹ کر سائڈ پر رکھ دیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ اگر یہ ایک خرابی سامنے آئی ہے تو یقیناً پورا عقیدہ ہی فاسد ہے۔ آپ سب سے بری ہو جاتے ہیں اور یوں پوری جنگ ہار جاتے ہیں۔ اپنے آخری لمحات میں اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں۔

اسی لیے ابن قیم ؒ فرماتے ہیں: ’ہمیں اللہ کی رحمت پر یقین ہے کہ اگر کوئی شخص حقیقت و واقعہ میں صالح ہو، تو اللہ اسے گمراہ نہیں کرتا‘۔ یعنی گمراہ کون ہوتا ہے؟ جس کے اپنے اندر کچھ خرابی ہوتی ہو چاہے وہ ظاہر میں نظر نہ آتی ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالاً؀الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاً؀ (سورۃ الکہف: ۱۰۳، ۱۰۴)

’’ کہہ دو کہ : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ کون لوگ ہیں جو اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ دنیوی زندگی میں ان کی ساری دوڑ دھوپ سیدھے راستے سے بھٹکی رہی، اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ ‘‘

سب سے زیادہ خسارہ پانے والے وہ ہیں جو یہ سمجھتے تھے کہ ہم ٹھیک ہیں، ہم درست اعمال کر رہے ہیں، مگر در حقیقت وہ غلط تھے۔ مثال کے طور پر آپ کو ایک ایسا شخص ملتا ہے جو بہت سے نیکی کے کام کرتا ہے، مگر وہ اس طریقے سے نہیں کرتا جو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ تو اس کے تمام اعمال ضائع ہوئے اور اس میں سے کچھ بھی قبول نہ ہوا۔

۲.) العدول عن الاستقامۃ:

العدول عن الاستقامۃ، یعنی سیدھی راہ سے ہٹنا۔ ایک شخص سیدھی راہ پر چلتے چلتے ذرا سا رخ بدلنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ سیدھی راہ سے محض چند قدم ہی دور جاتا ہے، مگر یہاں سے اس کا سفر ایک دوسرے رخ پر شروع ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا جاتا ہے، سیدھی راہ اور اس کی اختیار کردہ راہ میں فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ شیطانِ لعین ابلیس صالحین میں سے تھا۔ اس نے اپنے اندر موجود ایک بڑے مسئلے(کبر ) کی وجہ سے ایک چھوٹی سی غلطی کی، اور وہ مخلوقات میں سے سب سے برا بن گیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ ؀ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ؀(سورۃ الاعراف: ۱۷۵،۱۷۶)

’’ اور (اے رسول) ان کو اس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں مگر وہ ان کو بالکل چھوڑ نکلا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی بدولت اسے سربلند کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا، اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا رہا، اس لیے اس کی مثال اس کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی وہ زبان لٹکا کر ہانپے گا، اور اگر اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپے گا۔ یہ ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ لہذا تم یہ واقعات ان کو سناتے رہو، تاکہ یہ کچھ سوچیں۔ ‘‘

ایک شخص نے اللہ کی آیات اور نشانیاں پائیں، مگر اس کے باوجود اس نے اپنی خواہشِ نفس کو مقدم ٹھہرایا اور اللہ کی آیات سے خود کو دور کر لیا۔ علم رکھتے ہوئے بھی وہ اس لیے گمراہ ہو گیا کیونکہ اس نے دنیا سے اپنی محبت کے سبب اپنی خواہشات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف اس چیز کا ہے کہ ایک شخص قرآن مجید سیکھتا ہے یہاں تک کہ قرآن کا نور اس کے چہرے پر ظاہر ہو جاتا ہے، اور پھر وہ اپنے آپ کو اللہ کی آیات سے علیحدہ کر لیتا ہے ، پھر وہ اپنے ہمسائے پر تلوار تان لیتا ہے اور اس پر شرک کا الزام لگاتا ہے‘۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ نے سوال کیا:’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان دونوں میں سے مشرک کون ہے؟ الزام لگانے والا یا ملزم؟‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’الزام لگانے والا‘۔

اسی کی ایک اور مثال لیجیے۔ بنی اسرائیل کی مشہور کہانی ہے کہ ان میں ایک مشہور عابد گزرا ہے جس کا نام برصیصہ تھا۔ وہ ہر وقت اپنی عبادت گاہ میں رہتا اور وہاں عبادت میں مشغول رہتا۔ بنی اسرائیل میں تین بھائی تھے جنہیں جنگ کے لیے جانا تھا۔ ان کی ایک بہن بھی تھی اور انہیں یہ سمجھ نہ آ رہی تھی کہ وہ اپنی بہن کو کس کے حوالے کر کے جائیں۔ وہ اسے تنہا چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ آخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان کی بہن کے لیے سب سے محفوظ جگہ برصیصہ کی تحویل میں دینا ہے، کیونکہ وہ ایسا متقی و پرہیز گار اور امین ہے کہ وہ اپنی بہن کے معاملے میں اس پر اعتماد کر سکتے ہیں۔

لہذا تینوں بھائی اس عابد کے پاس گئے اور اسے پوری صورتحال بتا کر اس سے گزارش کی کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں ان کی بہن کا خیال رکھے۔ برصیصہ نے انہیں جواب دیا:’میں تم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں‘، اور ان کی بہن کو اپنی پناہ میں لینے سے انکار کر دیا۔ وہ تینوں بھائی مایوس ہو کر لوٹ گئے۔ جب وہ چلے گئے تو شیطان برصیصہ کے پاس آیا اور اسے خوب لعنت ملامت کی اور کہا کہ’تم اس بیچاری عورت کو کس کے آسرے پر چھوڑتے ہو؟ اگر تم اس کو اپنی پناہ میں نہیں لیتے تو اس کے بھائی یقیناً کسی دوسرے شخص کو اس پر نگران مقرر کر کے چلے جائیں گے۔ یہ شخص برا بھی ہو سکتا ہے، اور پھر وہ ان بھائیوں کی غیر موجودگی میں بہن کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تم جانتے ہو۔ کیا اس کی ذمہ داری تم پر عائد نہیں ہوتی؟ کیا کسی بے کس و مسکین کا خیال رکھنا نیکی نہیں؟ تم کیسے خیر کے اس کام کو ہاتھ سے جانے دے سکتے ہو؟‘۔یوں شیطان نے اسے نیکی اور خیر کے کام کے لیے ابھارا اور برصیصہ نے ان تینوں بھائیوں کو واپس بلوایا اور ان کی بہن کا خیال رکھنے کی ہامی بھر لی بشرطیکہ وہ اس کی عبادت گاہ سے ذرا فاصلے پر بنے ایک گھر میں رہے اور برصیصہ خود اپنی عبادت گاہ میں ہی مقیم رہے گا۔

سو وہ تینوں بھائی اپنی بہن کو برصیصہ کے حوالے کر کے چلے گئے۔ برصیصہ روزانہ خاتون کے لیے کھانا اپنی عبادت گاہ کے باہر رکھ دیتا اور وہ خاتون آتی اور کھانا لے جاتی۔وہ اس خاتون کو دیکھنا بھی نہ چاہتا تھا۔ چند دن یونہی گزرے اور پھر شیطان اس کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ جب وہ خاتون اپنے کمرے سے نکل کر یہاں تمہاری عبادت گاہ تک آتی ہو گی تو لوگ اسے دیکھتے ہوں گے؟ تمہیں چاہیے کہ تم اس کی دہلیز تک کھانا پہنچا کر آؤ!۔ برصیصہ نے اس بات پر غور کیا تو اسے محسوس ہوا کہ بات درست ہے، اور اس نے کھانا لے جا کر خاتون کے دروازے کے باہر رکھنا شروع کر دیا۔ یاد رہے کہ شیطان یہ سب باتیں برصیصہ سے آمنے سامنے نہیں کرتا تھا، یہ تو محض وساوس ہوتے تھے جو شیطان کان میں پھونک جاتا تھا۔

چند روز اسی طرح گزرے۔پھر ایک روز شیطان دوبارہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کھانا اٹھانے کے لیے خاتون کو بہر حال کمرے سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ یوں وہ لوگوں کی نظروں میں آ سکتی ہے۔ تمہیں چاہیے کہ تم کھانا کمرے کے اندر پہنچایا کرو۔یوں برصیصہ نے کھانا کمرے کے اندر پہنچانا شروع کر دیا۔ کچھ وقت اسی طرح گزر گیا۔دوسری جانب تینوں بھائیوں کو واپسی میں تاخیر ہو گئی۔ وہ جس جنگ میں شریک تھے وہ طویل ہو گئی تھی۔ سو شیطان ایک بار پھر برصیصہ کے پاس آیا اور کہنے لگا:’کیا تم اس بیچاری خاتون کو یونہی اکیلا چھوڑ دو گے؟ اس کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں۔ وہ اتنے عرصے سےاس کمرے میں ایسے رہ رہی ہے جیسے کوئی قیدی قید میں رہتا ہے۔ اس کے پاس بات کر نے کے لیے کوئی نہیں۔ کیا تم اتنی سی نیکی بھی نہیں کر سکتے کہ اس سے چند جملے تسلّی کے کہہ دو؟ اس سے کچھ بات چیت کر لیا کرو؟ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تنہائی سے تنگ آ کر وہ باہر نکل جائے اور کسی دوسرے شخص سے باتیں کرے اور یوں کسی سے تعلق بنائے‘۔ یوں برصیصہ نے خاتون سے کچھ کچھ بات کرنا شروع کی۔ وہ کمرے کے باہر سے ہی بلند آواز میں بات کرتا اور خاتون کمرے کے اندر سے اسے جواب دے دیتی۔مگر یوں انہیں ایک دوسرے کی بات سننے اور جواب دینے میں شدید دشواری پیش آتی اور بعض اوقات بات کرنے کی خاطر بہت اونچا اونچا بولنا پڑتا۔ اب شیطان نے اسے سمجھایا کہ تم ایک دوسرے کے لیے کچھ آسانی کیوں نہیں پیدا کرتے؟ ایک دوسرے سے چلّا چلّا کر بات کرنے کے بجائےتم بھی اندر جا کر بیٹھ جاؤ اور ذرا سی بات کر کے لوٹ آؤ۔ یوں برصیصہ نے خاتون کے ساتھ کمرے میں جا کر بات کرنا شروع کر دی۔

آہستہ آہستہ انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا شروع کر دیا۔اور وہ ایک دوسرے کے قریب تر ہوتے گئے یہاں تک کہ انجام یہ ہوا کہ اتنے بڑے عابد نے زنا کا ارتکاب کر لیا۔

خاتون کو حمل ٹھہر گیا اور آخر اس نے ایک بچے کو جنم دیا۔ اب شیطان برصیصہ کے پاس آیا اور کہنے لگا:’یہ تم نے کیا کر دیا؟! کیا تم جانتے نہیں کہ جب وہ تینوں بھائی واپس آئیں گے تو وہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟وہ تمہیں قتل کر دیں گے! اگر تم یہ بھی کہہ دو کہ یہ تمہارا بچہ نہیں ہے تو بھی وہ کہیں گے کہ ہم اپنی بہن تمہارے سپرد کر کے گئے تھے اور تم ہی اس کے ذمہ دار ہو! اب تمہارے پاس ایک ہی حل ہے، اور وہ یہ کہ تم بچے کو قتل کر دو اور کہیں دفنا دو!‘۔ برصیصہ نے شیطان کی یہ بات بھی مان لی، بچے کا سر علیحدہ کر دیا اور اسے زمین میں دفنا دیا۔ اب شیطان اس کے پاس اگلاخیال لے کر آیا اور کہنے لگا،’تمہارا کیا خیال ہے کہ جس ماں کا بچہ تم نے مار دیا ہے، وہ ماں تمہارے راز کی حفاظت کرے گی اور خاموش رہے گی؟ اگر تم یہ سمجھتے ہو تو تم سے بڑا احمق کوئی نہیں۔ تمہیں چاہیے کہ تم ماں کو بھی قتل کر دو‘۔ برصیصہ نے اسے بھی قتل کر دیا اور ماں اور بچے دونوں کو اسی کمرے میں دفن کر دیا۔

کچھ عرصے بعد تینوں بھائیوں کی واپسی ہوئی تو وہ اپنی بہن کا پتہ کرنے اس کے پاس آئے۔ انہوں نے اپنی بہن کا پوچھا تو برصیصہ نے انہیں جواب دیا:’تمہاری بہن بیمار ہو گئی اور اسی مرض میں وہ فوت ہو گئی۔ انّا للہ وانّا الیہ راجعون۔ اسے میں نے فلاں جگہ دفنا دیا ہے‘، اور اس نے انہیں ایک دوسری جگہ پر ایک فرضی قبر دکھا دی۔ بھائی بہت افسردہ ہوئے، انہوں نے اپنی بہن کے لیے دعا کی اور رخصت ہو گئے۔

اس رات ایک بھائی نے ایک خواب دیکھا۔ اس نے خواب میں شیطان کو دیکھا جو اسے کہہ رہا تھا’کیا تم نے برصیصہ کی کہانی پر یقین کر لیا؟! یقیناً تم سے زیادہ بیوقوف کوئی نہیں۔ وہ جھوٹ کہتا ہے! اس نے تمہاری بہن سے زنا کیا اور پھر اسے اور اس کے بچے کو قتل کر دیا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ تمہاری بہن اس جگہ دفن نہیں ہے جہاں وہ کہتا ہے۔ بلکہ اس نے اسے اس کے کمرے کے اندر قتل کیا اور اس کی قبر وہیں پتھر کے نیچے ہے‘۔ جب اس بھائی کی آنکھ کھلی تو اس نے باقی دونوں بھائیوں کو اپنا خواب سنایا۔ وہ کہنے لگے کہ ہم نے بھی یہی خواب دیکھا ہے، سو یقیناً اس میں کچھ سچائی ہو گی۔ لہذا وہ تینوں اس فرضی قبر پر گئے اور اسے کھودنا شروع کر دیا۔ جب وہاں کچھ نہ ملا تو وہ تینوں اپنی بہن کے کمرے میں گئے اور شیطان کی بتلائی ہوئی جگہ پر کھدائی کی۔ جب انہوں نے زمین کھودی تو انہیں اپنی بہن ایک بچے کے ساتھ دفنائی ہوئی ملی۔

اب انہوں نے برصیصہ کو پکڑ لیا اور کہا’اے جھوٹے اور کذّاب! یہ ہیں تمہارے کرتوت!‘، اور وہ اسے بادشاہ کے پاس لے گئے۔ جب وہ اسے لے جا رہے تھے تو ایک بار پھر شیطان برصیصہ کے پاس آیا۔ اب شیطان کسی وسوسے یا الہام کی صورت میں نہیں آیا، بلکہ انسانی شکل میں برصیصہ کے سامنے آیا اور کہنے لگا:’اے برصیصہ! کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ میں شیطان ہوں، تمہاری یہ ساری مشکل میری پیدا کی ہوئی ہے اور اب ایک میں ہی ہوں جو تمہیں اس مشکل سے نکال سکتا ہوں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں بچا لوں، تو میں تمہیں بچا سکتا ہوں!‘۔ برصیصہ نے کہا’ خدارا مجھے بچا لو!‘۔ شیطان نے مطالبہ کیا:’پہلے تم مجھے سجدہ کرو!‘، اور برصیصہ نے اس کی یہ بات بھی مان لی! برصیصہ نے اسے سجدہ کر دیا۔آپ جانتے ہیں شیطان نے کیا کہا؟ اس نے کہا:’آپ کا بہت شکریہ! آپ سے مل کر خوشی ہوئی!‘۔ اور اس کے بعد اسےدوبارہ کبھی برصیصہ کو دیکھنے کی ضرورت نہ پڑی۔

آپ نے دیکھا کہ شیطان نے برصیصہ کے ساتھ کون سی پالیسی اپنائی؟ وہ اسے قدم بہ قدم لے کر چلا۔ اگر شیطان پہلے دن ہی برصیصہ سے مطالبہ کرتا کہ مجھے سجدہ کرو، تو کیا برصیصہ اسے سجدہ کرتا؟ نہیں، وہ کبھی بھی اسے سجدہ نہ کرتا۔ لیکن شیطان اسے چھوٹے چھوٹے، بظاہر بے ضرر بلکہ نیکی اور خیر کے کام نظر آنے والے اعمال کی صورت میں سیدھی راہ سے ہٹاتا چلا گیا یہاں تک برصیصہ اس سے اتنا دور ہو گیا کہ واپسی کی کوئی راہ بچی ہی نہیں۔

برصیصہ نے شیطان کو سجدہ کیا اور یہ عمل اس کی زندگی کا آخری عمل ثابت ہوا۔ کیونکہ اس سے کچھ دیر بعد ہی بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم جاری کر دیا اور وہ قتل کر دیا گیا۔ مگر سیدھی راہ پر چلنے والے ایک عابد کایہ انجام ہوا کہ زندگی کا آخری عمل شیطان کے لیے سجدہ کرنا تھا۔ اس نے مصلحت کے نام پر سیدھی راہ سے ایک چھوٹا سے قدم ہٹایا تھا۔ اور بڑھتے بڑھتے وہ چھوٹا سا قدم اسے کہاں لے گیا اور کس انجام سے دوچار کیا۔ اپنی خواہشات کا اتباع کرنے میں یہ نقصان اور خطرہ ہے۔ بعض اوقات ہم اپنے قرآن کے علم یا وہ عبادت جو ہم کرتے ہیں، اس کی بنیاد پر بہت پُر اعتماد ہوتے ہیں کہ شیطان ہمیں نہیں بہکا سکتا۔ لیکن ہمیں ہمیشہ تیار اور چوکس رہنا چاہیے، اور یہی اصل علم ہے۔

إِنَّمَا يَخْشَى اللّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء (سورة الفاطر: ۲۸)

’’ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ ‘‘

جو عالم خشیت کا حامل نہیں، وہ جتنا بھی صاحبِ علم کیوں نہ ہو، لیکن اس کا علم رٹے ہوئے الفاظ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ ۲۷۰ ھ میں ایک شخص گزرا ہے جو ابن عبد الرحیم کے نام سے معروف تھا۔ وہ رومی سلطنت کے خلاف جہاد کرنے والے لشکروں میں شامل تھا۔ انہی جنگوں کے دوران ایک روز مسلمان لشکر نے رومیوں کے قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ محاصرہ کے دوران اچانک اس کی نظر قلعے میں موجود ایک رومی عورت پر پڑی اور وہ اس کے لیے فتنہ بن گئی۔ اس شخص نے اس عورت سے کسی طرح رابطہ استوار کیا اور اس سے پوچھا کہ وہ قلعے میں کیسے داخل ہو سکتا ہے؟ اس عورت نے جواب دیا کہ اگر عیسائیت قبول کر لو تو میں تمہیں اندر آنے کا راستہ دکھا دوں گی۔ اس نے اس عورت کی خاطر اسلام کو خیر باد کہا اور عیسائیت قبول کر لی۔ اگلے روز، اس کے ساتھیوں نے دیکھا کہ کل تک جو شخص ان کے شانہ بشانہ رومیوں سے لڑتا تھا، آج وہ ان کے مقابل کھڑا ہے اور رومیوں کی صف میں شامل ہے۔اس واقعہ سے مسلمانوں میں بہت بد دلی پھیلی۔ ابن عبد الرحیم نے ان کے ساتھ ایک لمبا وقت گزارا تھا، وہ قرآن کے ایک بڑے حصّے کا حافظ تھا، بہت سا علم اس کے سینے میں محفوظ تھا، اور یکایک وہ اپنا دین ترک کر کے ایک عورت کی خاطر عیسائی ہو گیا تھا۔

اس واقعہ کے دس سال بعد بعض مسلمان جو ابن عبد الرحیم سے واقف تھے، اس علاقے سے گزرے۔ جب انہوں نے اس کو دیکھا تو اسے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ مگر اس نے یہ عذر پیش کیا کہ اب وہ شادی شدہ اور بال بچوں والا تھا، اپنے گھر اور کاروبار کو چھوڑ کر وہ ان کے ساتھ نہیں جا سکتا تھا۔ اس پر ان مسلمانوں نے اس سے پوچھا کہ ’تمہارےجہاد کا کیا ہوا؟ تمہارے علم کا کیا بنا؟ تم جو قرآن کی آیات جانتے تھے، ان کا کیا ہوا؟‘۔ اس نے جواب دیا کہ وہ اپنا سارا علم بھلا چکا تھا۔ وہ جتنا قرآن جانتا تھا، وہ سب آیات بھول چکا تھا، سوائے ایک آیت کے۔

رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ؀ ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ؀(سورۃ الحجر: ۲،۳)

’’ ایک وقت آئے گا جب یہ کافر لوگ بڑی تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ (اے پیغمبر) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو کہ یہ خوب کھا لیں، مزے اڑا لیں، اور خیالی امیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، کیونکہ عنقریب انہیں پتہ چلا جائے گا ( کہ حقیقت کیا تھی)۔ ‘‘

جب آپ سیدھے راستے کو چھوڑ کر کسی ٹیڑھے راستے پر قدم بڑھاتے ہیں، تو یہ نتیجہ نکلتا ہے۔ یہ شخص بہت صاحب ِ علم تھا، مگر اس نے خود کو سیدھے راستے سے جوڑ کر نہ رکھا۔ ایک صحابی ؓ نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی بہترین نصیحت کرنے کی فرمائش کی کہ جو ان کے لیے ہر معاملے میں کافی ہو جائے اور انہیں کسی اور سے کچھ پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’ قل آمنت باللہ ثم استقم‘۔ یعنی محض ایمان لانا، یہ کہہ دینا کہ میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں کافی نہیں، اس کے بعد اس پر جمنا، اس پر استقامت اختیار کرنا ضروری ہے۔ ایمان کا زبان سے اقرار کرنا تو آسان ہے، مگر اصل امتحان تو یہ ہے کہ کیا ایمان لانے کے بعد سیدھے راستے پر استقامت سے چلتے بھی رہو گے؟ اصل امتحان تو یہ ہے اور یہیں اکثر لوگ ناکام ہو جاتے ہیں۔ وہ صراطِ مستقیم پر سفر کا آغاز تو کرتے ہیں، مگر پھر اس دنیا کی تبدیلی کی ہوائیں انہیں کبھی دائیں اڑا لے جاتی ہے تو کبھی بائیں۔

۳.) الاصرار علی المعاصی:

الاصرار علی المعاصی یعنی گناہوں پر اصرار کرنا۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا گناہ ایک بڑے گناہ میں تبدیل ہو جاتا ہے، اگر اس سے توبہ نہ کی جائے اور اسے بار بار دہرایا جائے۔ گناہ پر اصرار کرنے سے، یعنی اسے ترک نہ کرنے اور اس پر مداومت اختیار کرنے سے چھوٹا گناہ بھی کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ ذہبیؒ اپنی کتاب ’الکبائر‘ میں سوء خاتمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک شخص کا ذکر کرتے ہیں جو تمام زندگی شطرنج کا شوقین رہا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو لوگ اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کرتے رہے، مگراس کی زبان پر لا الہ کا کلمہ جاری نہ ہوا، اور وہ ’شاہ مات! شاہ مات!‘ کہتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ اسی طرح ذہبی ایک دوسرے شخص کا تذکرہ کرتے ہیں جو مرتے وقت بار بار شراب کے جام کا مطالبہ کرتا تھا۔ وہ شراب کا عادی تھا، لہٰذا مرتے ہوئے بھی یہ گناہ اس سے چھوٹ نہ سکا۔ اسی طرح ایک اور شخص تھا جو منشی تھا، اور وہ بس ’دس، گیارہ، بارہ……‘ کی گنتی کرتا جاتا یہاں تک کہ موت نے اسے آ لیا۔

ابنِ قیم ؒ ایک شخص کا قصّہ بیان کرتے ہیں کہ جسے مرتے وقت لا الٰہ پڑھنے کی تلقین کی گئی، مگر اس نے جواب دیا کہ وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔ وہ تمام باتیں آرام سے کر سکتا تھا، اس کی زبان بالکل صحیح سالم تھی، لیکن اللہ نے اسے لا الٰہ الا اللہ کی توفیق نہیں دی تھی۔

آپ اس نقطے کو اس طرح سمجھیےکہ ہر روز جب آپ سونے کے لیے لیٹتے ہیں ، تو آپ اپنے خوابوں میں کیا دیکھتے ہیں؟ یقیناً وہ ان چیزوں پر مبنی ہوں گے جن کے بارے میں آپ دن بھر سوچتے رہے یا جو آپ کے ذہن میں رہیں۔ اگر آپ کسی خاص چیز کے بارے میں سارا دن سوچتے رہیں، تو قوی امکان ہے کہ رات کو آپ اسی کے حوالے سے خواب بھی دیکھیں گے۔ یہ جانچنے کا کہ آپ کے ذہن میں سرِ فہرست کیا چیز یا بات ہے، ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس بات پر غور کریں کہ صبح اٹھتے ہی آپ کو سب سے پہلے کس چیز کا خیال آتا ہے؟

موت نیند کی مانند ہے۔ نیند کو موتِ صغریٰ بھی کہا جاتا ہے۔ جب انسان نیند کی حالت سے بیداری کی حالت میں آتا ہے، تو دو حالتوں کی یہ تبدیلی سکرات الموت کی مانند ہے۔ اسی لیے ساری زندگی جو عادات، مشاغل اور فکریں آپ کے ذہن پر سوار رہیں، وہ سکرات الموت کے وقت ، زندگی کے آخری لمحات میں ظاہر ہوتی ہیں۔

ہم ہمیشہ اسی مغالطے میں رہتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق گزار سکتے ہیں، اور جتنے چاہیں گناہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ پھر موت سے پانچ منٹ پہلے ہم آرام سے کلمہ پڑھیں گے، توحید و رسالت کی گواہی دیں گے اور جنت کا پروانہ حاصل کر لیں گے۔ مگر یہ سب اس قدر آسان نہیں ہے۔ یہ تصور درحقیقت اللہ کو دھوکہ دینے کی سازش ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ وہ ہمیں اپنی زندگی کی ہر رات اور دن عبادت کا حکم دیتے ہیں، جبکہ ہم یہ نیت اور ارادہ کرتے ہیں کہ ہم زندگی کے آخری لمحات تک اللہ کی عبادت نہ کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کو اس حیلے سے دھوکہ دے لیں گے اور مرنے سے پہلے توبہ کر لیں گے۔

وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ؀ (سورۃ آلِ عمران: ۵۴)

’’ اور ان کافروں نے تدبیر کی، اور اللہ نے بھی تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ ‘‘

ایک عالم کہتے ہیں کہ وہ ایک شخص کی عیادت کرنے گئے جبکہ اس کی موت کا وقت آ چکا تھا۔ جب وہ اس کے گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ گھر کے تمام افراد ٹیپ ریکارڈر پر اونچی آواز میں لگائے گئے عرب موسیقار امّ کلثوم کے گانوں اور موسیقی کو سن رہے ہیں۔ اس پر ان عالم نے انہیں ملامت کی اور کہا کہ اللہ سے ڈرو! یہ شخص مر رہا ہے اور تم سب گانے سن رہے ہو؟۔ لہٰذا گھر والوں نے موسیقی بند کر دی اور اس کی جگہ قرآن مجید کی تلاوت لگا دی۔ جب مرنے والے بوڑھے آدمی نے تلاوت کی آواز سنی تو اس نے کہا:’اسے بند کر دو اور ام ّ کلثوم کو دوبارہ لگا دو کیونکہ اس سے میرے دل کو سکون ملتا ہے!‘۔ اور کچھ دیر بعد وہ مر گیا!

’من شبّ علی شئی، شاب علیہ‘۔ جب آپ اپنی پوری زندگی کسی فعل پر گزارتے ہیں، تو آپ کو موت بھی اسی فعل پر نصیب ہوتی ہے۔

یہ کبھی مت سمجھیے کہ آپ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے لیں گے۔ اللہ (کے غضب اور سزا)سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے ، اور وہ یہ کہ دل میں اللہ کی خشیت پیدا کی جائے۔ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے وہ لوگ ہیں جو خود کو اللہ کے غضب اور سزا سے محفوظ اور مامون تصور کرتے ہیں۔

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ؀(سورۃ الاعراف: ۹۹)

’’ بھلا کیا یہ لوگ اللہ کی دی ہوئی ڈھیل (کے انجام) سے بےفکر ہوچکے ہیں ؟ (اگر ایسا ہے) تو (یہ یاد رکھیں کہ) اللہ کی دی ہوئی ڈھیل سے وہی لوگ بےفکر ہو بیٹھتے ہیں جو آخر کار نقصان اٹھانے والے ہوتے ہیں۔ ‘‘

ایک مسلمان کے کردار کے لیے خشیت بنیادی وصف ہے، مسلمان ہونے کے لیے دل میں اللہ کا خوف ہونا ضروری ہے۔

۴.) ضعف الایمان:

ضعف الایمان یعنی ایمان کی کمزوری۔ اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے ایک بار مکّہ و مدینہ کا دورہ کیا۔ وہ لوگوں سے پوچھتا کہ کیا یہاں کوئی ایسا بھی ہے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓ کی صحبت پائی ہو؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہاں! ایک ابو حازمؒ ہیں ۔ سلیمان نے لوگوں سے کہا کہ انہیں میرے پاس لے کر آؤ۔ جب ابو حازم ؒ سلیمان کے پاس آئے تو اس نے ان سے ایک سوال کیا:’ہم موت سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟‘۔ ابو حازم نے جواب دیا: ’لانکم عمرتم الدنیا و خربتم الاآخرۃ، فتکرھون الخروج من العمرت الی الخراب‘،’تم نے اس دنیا کو بنایا اور تعمیر کیا ہے، جبکہ اپنی آخرت کو تباہ و برباد کیا ہے۔ سو تم ایک بنی سنوری جگہ سے ایک تباہ و برباد مقام کی جانب جانے سے نفرت کرتے ہو‘۔

یہ تو فطری نتیجہ ہے۔جب تک ہم نے آخرت کی تیاری ہی نہیں کی، تو ہم کیونکر وہاں جانا پسند کر سکتے ہیں۔ اور زندگی کے اختتام پر جو امتحان درپیش ہوتے ہیں وہ نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ علما فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کے دل میں دنیا کی محبت بسیرا کر لیتی ہے، تو موت سے عین پہلے، جب اس شخص کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ اب دنیا کی کہانی ختم اور آخرت کا باب شروع ہونے والا ہے، تو اس کا دل اس چیز کے لیے تڑپنے اور مچلنے لگتا ہے جس کی محبت اس کے اندر بھری ہے(یعنی دنیا)۔ پھر وہ شخص اللہ تعالیٰ سے نفرت کرنے لگتا ہے کیونکہ یہ اللہ کی ذات ہے جو اسے اس دنیا سے علیحدہ کر رہی ہے اور آخرت کی جانب لے جا رہی ہے۔ اگر خدا نخواستہ کسی شخص کا ایسا معاملہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے لیے خلود فی النار (جہنم میں ہمیشگی کے عذاب ) کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ جب آپ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کریں گے اور اس سے نفرت کریں گے، تو اللہ تعالیٰ بھی آپ سے ملاقات سے نفرت کریں گے۔

جب حضرت معاذ بن جبل ؓ کا وقتِ انتقال آیا، اور موت انہیں اپنے سامنے نظر آنے لگی تو انہوں نے فرمایا: ’اے موت تجھے خوش آمدید! میں ایک لمبی مدت سے تیرا انتظار کر رہا ہوں۔ میں اللہ کے وعدوں کے پورا ہونے کا منتظر ہوں۔ اے موت تجھے خوش آمدید!‘۔ آپ نے دیکھاکہ جس نے آخرت کی تیاری کر رکھی تھی، اپنی آخرت کو بنایا اور سنوارا تھا، وہ کس شدت سے موت کے منتظر تھے کہ جب موت آئی تو وہ اس کے آنے پر خوش اور مطمئن تھے؟! حضرت معاذؓ نے فرمایا:’اے موت! تو یہ خیال نہ کر کہ میں کبھی بھی اس دنیا کی محبت کی وجہ سے یہاں رہنا چاہتا تھا۔ میں یہاں صرف اس لیے رہنا چاہتا تھا تاکہ میں گرما کے طویل اور سخت گرم دنوں میں روزے رکھوں اور سرما کی شدید ٹھنڈی راتوں میں نماز پڑھوں۔سو اب اگر اس دنیا سے میرے رخصت ہونے کا وقت آ گیا ہے تو میں تیرا استقبال کرتا ہوں، آ اور میری روح قبض کر لے!‘۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ملاقات کو محبوب رکھتے ہیں، سو اللہ تعالیٰ بھی ان سے ملاقات کو محبوب رکھتے ہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’ہر نبی کو موت سے پہلےجنت میں ان کا مقام دکھایا جاتا ہے۔ پھر انہیں یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں رہنا چاہتے ہیں یا موت کو اختیار کرنا چاہتے ہیں ‘۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت آیا تو وہ اپنا سر مبارک میری گود میں رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر کچھ دیر بعد ہوش آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی جانب دیکھنا شروع کیا اور فرمایا:’اللہم رفیق الاعلیٰ!‘۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس لمحے میں نے جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اختیار دیا گیا ہے اور وہ ہمیں (یعنی دنیا اور دنیا میں موجود ساتھیوں کو) اختیار نہیں کر رہے۔ اور یہ وہ آخری الفاظ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائے۔ (بخاری)

صلی اللہ علی سیدنا محمد، و علی آلہ و صحبہ وسلم!


[یہ سلسلۂ مضامین نابغۂ روزگار، مجاہد و داعی، مبلغ و مقاتل فی سبیل اللہ شیخ انور العولقی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے انگریزی میں ارشاد کیے گئے سلسلۂ دروس ’Al-Aakhirah – The Hereafter‘ کا اردو ترجمہ ہیں، جو بِتوفیق اللہ، قسط وار مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ میں شائع کیے جا رہے ہیں ۔ ]

Previous Post

میلاد النبی پر خوشی منانے کا صحیح طریقہ | دوسری قسط

Next Post

قبولیتِ جِہاد کی شرائِط | ۳

Related Posts

موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | انتیسواں درس

15 فروری 2026
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | اٹھائیسواں درس

20 جنوری 2026
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | ستائیسواں درس

4 نومبر 2025
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | چھبیسواں درس

26 ستمبر 2025
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | پچیسواں درس

14 اگست 2025
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس

14 جولائی 2025
Next Post

قبولیتِ جِہاد کی شرائِط | ۳

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version