فضل و رحمت کی مراد اور اس کا حکم
اب قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر دیکھنا چاہیے کہ ان دونوں لفظوں سے کیا مراد ہے۔ تو جاننا چاہیے کہ قرآن مجید میں یہ دونوں لفظ بکثرت آئے ہیں۔ کہیں دونوں سے ایک ہی معنی مراد ہے، کہیں جدا جدا۔ چنانچہ ایک مقام پر ارشاد ہے: ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ 1 ، ’اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو البتہ تم ٹوٹا پانے والوں میں سے ہوجاتے‘۔
یہاں اکثر مفسرین کے نزدیک فضل اور رحمت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باوجود مراد ہے۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے، وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا2، ’اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو بجز تھوڑے لوگوں کے تم شیطان کی پیروی کرتے‘۔ یہاں بھی بقول اکثر مفسرین حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی مراد ہیں۔ ایک مقام پر ارشاد ہے، وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ اَنْ يُّضِلُّوْكَ3 ،’ سو اگر تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو البتہ ان میں سے ایک گروہ نے تجھ کو گمراہ کرنے کا ارادہ کرلیا تھا‘، یہاں مراد فضل اور رحمت سے قرآن مجید ہے اور بعض آیات میں فضل سے مراد راحت دنیوی اور رحمت سے رحمتِ دینی مراد ہے۔ چنانچہ فضل بمعنی رزق، نفعِ دنیوی قرآن مجید میں آیا ہے، چنانچہ ارشاد ہے، لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُم4، یہاں فضل سے مراد تجارت ہے، اس لیے کہ یہ آیت حج کے موقع کی ہے۔ بعض لوگ مالِ تجارت حج کے سفر میں ساتھ لے جانے کو مکروہ جانتے تھے، ان کو ارشاد ہے کہ اس میں کچھ گناہ نہیں کہ تم حج میں اپنے رب کا فضل طلب کرو۔ حدیث شریف میں بھی رحمت سے رحمت دینی اور فضل سے رحمت دنیوی یعنی رزق یا اسبابِ رزق مراد ہے، چنانچہ ارشاد ہے کہ جب مسجد میں داخل ہو تو یہ کہو، اللّٰھم افتح لنا ابواب رحمتک، اے اللہ! ہمارے لیے رحمت کے دروازے کھول دے۔ یہاں رحمت سے رحمتِ دینی مراد ہے، اس لیے کہ مسجد میں وہی مطلوب ہے، اور جب مسجد سے نکلو تو یہ کہو، اللّٰھم افتح لنا ابواب فضلک ، اے اللہ! ہمارے لیے رزق کے دروازے کھول دے، اس لیے کہ مسجد سے باہر جاکر تحصیلِ معاش میں مشغول ہوجاتے ہیں تو وہاں اس کی طلب ہے۔ اور لیجیے سورۂ جمعہ میں ارشاد ہے، فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ5، ’پس جبکہ نماز ادا ہوجائے تو تم زمین میں منتشر ہوجاؤ اور اللہ سے روزی تلاش کرو‘۔ یہاں فضل سے مراد رزق ہے۔ پس مجموعہ تمام تفاسیر کا دنیوی رحمتیں اور دینی رحمتیں ہوا۔
اس مقام پر ہرچند کہ آیت کے سباق پر نظر کرنے کے اعتبار سے قرآن مجید مراد ہے لیکن اگر ایسے معنی عام مراد لیے جاویں تو قرآن مجید بھی اس کا ایک فرد رہے تو یہ زیادہ بہتر ہے، وہ یہ ہے کہ فضل اور رحمت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قدوم مبارک لیا جاوے۔ اس تفسیر کے موافق جتنی نعمتیں اور رحمتیں ہیں خواہ وہ دنیوی ہوں یا دینی، اور اس میں قرآن بھی ہے، سب اس میں داخل ہو جائیں گی۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باوجود اصل ہے تمام نعمتوں کی اور معادہ ہے تمام رحمتوں اور فضل کا، پس یہ تفسیر اجمع التفاسیر ہوجائے گی۔ پس اس تفسیر کی بنا پر حاصل آیت کا یہ ہوگا کہ ہم کو حق تعالیٰ ارشاد فرمارہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باوجود پر خواہ وجود نوری ہو یا ولادت ظاہری اس پر خوش ہونا چاہیے، اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے تمام نعمتوں کے واسطہ ہیں، حتیٰ کہ ہم کو جو روٹیاں دو وقتہ مل رہی ہیں اور عافیت و تندرستی اور ہمارے علوم یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بدولت ہیں۔ اور یہ نعمتیں تو وہ ہیں جو عام ہیں اور سب سے بڑی دولت ایمان ہے جس کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کو پہنچنا بالکل ظاہر ہے۔ غرض اصل الاصول تمام مواد فضل و رحمت کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہوئی، پس ایسی ذات بابرکات کے وجود پر جس قدر بھی خوشی اور فرح ہو کم ہے۔ بہرحال اس آیت سے عموماً یا خصوصاً یہ ثابت ہوا کہ اس نعمت عظیمہ پر خوش ہونا چاہیےاور ثابت بھی ہوا نہایت ابلغ طرز سے، اس لیے کہ اول تو جارمجرور بفضل اللہ کو مقدم لائے کہ جو مفید حصر کو ہے، اس کے بعد رحمت پر پھر جار کا اعادہ فرمایا کہ جس سے اس میں استقلال کا حکم پیدا ہوگیا، پھر اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اس کو مزید تاکید کے لیے ’فبذالک‘ مکرر ذکر فرمایا اور ’ذالک‘ پر جار اور فاء عاطفہ کو لائے تاکہ اس میں اور زیادہ اہتمام ہوجائے، پھر نہایت اہتمام در اہتمام کی غرض سے ’فلیفرحوا‘ پر فاء لائے کہ جو مشیر ہے ایک شرط مقدر کی طرف اور وہ ’ان فرحوا بشئی‘(اگر کسی چیز سے خوش ہوں) ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ اگر کسی شے کے ساتھ خوش ہوں تو اللہ ہی کے فضل و رحمت کے ساتھ، پھر اسی کے ساتھ خوش ہوں یعنی اگر دنیا میں کوئی شے خوشی کی ہے تو بھی نعمت ہے اور اس کے سوا کوئی شے قابل خوشی کے نہیں ہے اور اس سے بدلالۃ النص یہ بھی ثابت ہوگیا کہ یہ نعمت تمام نعمتوں سے بہتر ہے لیکن چونکہ ہم لوگوں کی نظروں میں دنیا اور دنیا ہی کی نعمتیں ہیں اور اسی میں ہم کو انہماک ہے اس لیے اس پر بس نہیں فرمایا، آگے اور نعمتوں پر اس کی تفصیل کے صراحتاً ارشاد ہوا: ’ھو خیرٌ مما یجمعون‘ یعنی (یہ نعمت ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن کو لوگ جمع کرتے ہیں)۔ یعنی دنیا بھر کی نعمتوں سے یہ نعمت افضل اور بہتر ہے۔ پس جس نعمت پر حق تعالیٰ اس شد و مد کے ساتھ خوش ہونے کا حکم فرماویں، وہ کس طرح خوش ہونے کے قابل نہ ہوگی؟ یہ حاصل ہوا اس آیت کا جو مبنی ہے اس پر کہ فضل اور رحمت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مراد لیے جاویں۔
اصلی خوشی کا موقع کون سا ہے؟
اور دوسرے مقام پر اس سے بھی صاف ارشاد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی خوشی کی شے دنیا میں اگر ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور اس میں مابہ الفرح ، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باوجود پر جو خوشی کا امر ہے وہ کس بنا پر ہے اور حیثیت و جہت فرح کی کیا ہے، یہ بھی مذکور ہے۔ وہ آیت یہ ہے : ’ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہِ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ‘6 یعنی ’حق تعالیٰ نے مومنین پر احسان فرمایا کہ ان میں ایک رسول ان کی جنس سے بھیجا کہ وہ ان پر اس کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور ان کو (ظاہری و باطنی نجاستوں و گندگیوں سے) پاک کرتے ہیں اور ان کو کتاب وحکمت سکھلاتے ہیں اور بےشک وہ اس سے پہلے ایک کھلی گمراہی میں تھے‘۔ اس آیت میں: يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہِ وَيُزَكِّيْھِمْ الخ (وہ ان پر اس کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور ان کو پاک کرتے ہیں) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصلی شے خوشی کی اور مابہ الفرح والمنۃ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے سرمایۂ ہدایت ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خوش ہونے کی بہت سی چیزیں ہیں، مثلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر تمام حالات مثلاً معراج وغیرہ یہ سب حالات واقعی خوش ہونے کے ہیں۔ لیکن اس حیثیت سے کہ ہمارے لیے مقدمات ہیں ہدایت و سعادت ابدی کے ، چنانچہ اس آیت سے صاف ظاہر ہے، اس لیے کہ بعثت کے ساتھ یہ صفات بھی بڑھائی ہیں: يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہِ وَيُزَكِّيْھِمْ الخ ۔ پس بقاعدۂ بلاغت ثابت ہوتا ہے کہ اصل مابہ المنۃ (اصل احسان مند ہونے کے قابل) یہ صفات ہیں۔ باقی ولادت شریفہ فی نفسہا یا معراج وہ بھی باعث خوشی زیادہ اسی لیے کہ مقدمہ ہیں اس دولت عظیمہ کے، اس لیے اگر ولادت شریفہ نہ ہوتی تو ہم کو یہ نعمت کیسے ملتی؟ اسی فرق کی وجہ سے اس آیت میں تو اس مقصود کا ذکر تصریحاً اور قصداً فرمایا اور دوسری آیات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باوجود کا ذکر اشارتاً اور ضمناً فرمایا۔
چنانچہ ارشاد ہے: ’ لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ ‘ 7(آپ کی جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں)۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بقا اور وجود کو مقسم بہ بنایا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قسم میں جواب قسم مقصود ہوتا ہے اور مقسم بہ کو تبعاً ذکر کیا جاتا ہے۔ اور ایک مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ کو بھی اسی طرح ذکر فرمایا ہے، فرماتے ہیں: ’ لَآ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ وَاَنْتَ حِـۢلٌّ بِهٰذَا الْبَلَدِ وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ8 (میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی اور آپ کو اس شہر میں لڑائی ہونے والی ہے، قسم ہے باپ کی اور دادا کی)۔ چنانچہ ’ماولد‘ کی تفسیر میں بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے مصداق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے مگر اس اہتمام سے نہیں جیسا آیت: ’لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہِ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ‘9میں نبوت اور بعثت اور ہدایت اور تزکیہ کو بیان فرمایا ہے اور اسی فرق کی وجہ سے فرحت میں بھی تفاوت ہوگا کہ جس قدر ولادت شریفہ پر فرحت ہونا چاہیے اس سے زائد نبوت شریفہ پر ہونا چاہیے۔ اگر ذکر ولادت شریفہ کے لیے مجلس منعقد کی جاوے تو ذکر نبوۃ مبارکہ کے لیے بطریق اولیٰ کی جاوے اور اسی طرح ان اہل مجالس کو چاہیے کہ معراج شریف اور فتح مکہ معظمہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات مبارکہ اور ہجرت کی بھی مجالس منعقد کیا کریں، اس لیے کہ جیسے ولادت شریفہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حال ہے اسی طرح یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے حالات ہیں، بلکہ بعض ان میں سے ولادت شریفہ سے بڑھ کر ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ آج کل مجلس ولادت شریفہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سب حالات کا اور احکام کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت! بس رہنے دیجیے اور حالات کا ذکر محض بطور خانہ پری یا صرف پالا سا چموانے کے طور پر ہوتا ہے، بخلاف ذکر متعلق ولادت شریفہ کے کہ وہ ذکر نور سے لے کر وقت وضع و رضاع وغیرہ تک کیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی مولوی نماز روزہ کے احکام مجلس مولود میں بیان کردیتا ہے تو میں نے اہل مولد میں سے ایک بزرگ سے سنا ہے کہ یہ کہتے تھے لوگوں نے آج کل یہ نئی رسم نکالی ہے کہ وعظ کہتےہیں کہ نماز روزہ کا، اور نام کرتے ہیں ذکر ولادت کا۔ یہ خیالات ہیں اہل مولد کے، حالانکہ حق تعالیٰ کے کلام سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ فرحت کے قابل یہی شے ہے، جیسا میں نے پہلی آیت، لقد من اللہ الخ‘ کے ذیل میں بیان کیا ہے۔
اب بتلائیے اس پر فرحت کون کرتا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ذکر ولادت میں بوجہ اس کے کہ لڑکے خوش الحان گاتے ہیں اور مضامین و روایات بھی اکثر موضوع اور عجیب ہوتی ہیں اور اگر روایات صحیحہ بھی ہوں تو وہ ایک واقعہ اور قصہ ہے جو طبعاً دلکش ہے اس لیے اس کے سننے میں نفس کو حظ ہوتا ہے اور احکام میں کوئی خاص مزہ نہیں اس لیے کہ اس میں تو یہی ہوگا کہ یہ کرو وہ نہ کرو تو اس میں کیا مزہ آیا حالانکہ اصل سب مزوں کی احکام ہیں ۔ ایک مدت تک ان پر التزام کیجیے اور نفس کو خوگر بنائیے پھر اس میں روحانی لطف دیکھیے۔ لیکن اس میں تو لوہے کے چنے چبانے پڑتے ہیں اور زہر کے گھو نٹ پینے پڑتے ہیں ، اس لیے اس سے نفس بھاگتا ہے اور واقعات مولد شریف کے ذکر میں صرف سن لینا ہوتا ہے اس لیے اس میں نفس کو مزا آتا ہے، اسی لیے اس کا اہتمام کرتے ہیں ۔ اسی طرح تصوف کے رنگین مضامین اور عاشقانہ اشعار کی کیفیت ہے۔ چونکہ اس میں افعل لا تفعل نہیں ہے اس لیے خوب مزا آتا ہے، سر ہلتے ہیں بلکہ یہاں تک دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ ان اشعار و مضامین کو سمجھتے بھی نہیں ان کو بھی وجد آتا ہے۔ ایک قوّال یہ شعر گارہا تھا، بگزید مار عشقت جگر کباب کرد مارا (تیرے مارعشق نے ہمارے جگر کو کاٹ کر کباب کردیا) ایک گنوار کو وجد آگیا۔ اس سے پوچھا کہ تو نے کیا سمجھا جو تجھ کو وجد آیا۔ اس نے کہا کہ یہ یوں کہتا ہے، ڈگرے کا باپ مارا۔ ڈگرا کہتے ہیں ہندی میں نفس کو۔ ہم نے یہاں تک دیکھا ہے ہندوؤں کے یہاں اور رنڈیوں کے یہاں مروج مولد شریف ہوتا ہے کہ اس میں حظ نفس ہے ورنہ ہندوؤں کو اس سے کیا تعلق۔ غرض قرآن مجید سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ زیادہ اہتمام کے قابل نبوت اور بعثت کا ذکر ہے اور ذکر ولادت اگر کہیں آیا ہے تو اشارتاً یا اجمالاً آیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ حق تعالیٰ نے سورۂ مریم میں یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا قصہ مفصلاً بیان فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قصہ مولد عیسیٰ و یحییٰ علیہما السلام کی تفصیل بیان کرنا بھی قابل خاص اہتمام کے ہے، پس اس پر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر ولادت کو بھی قیاس کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ حفظت شیئا وغابت عنک اشیاء (ایک چیز تو نے یاد کرلی، بہت چیزیں غائب ہوگئیں)۔ آپ نے یہ تو دیکھ لیا کہ ان حضرات کی ولادت کا قصہ اہتمام سے بیان فرمایا ہے مگر یہ نہیں دیکھا کہ کیوں اور کس حیثیت سے ذکر فرمایا۔ ان کے قصۂ ولادت کے اہتمام کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں حضرات کی ولادت ایک عجیب طریقہ سے خرق عادت کے طور پر ہوئی ہے۔ یحییٰ علیہ السلام کے ماں باپ تو بوڑھے بہت تھے کہ اسباب ظاہرہ کے اعتبار سے ان میں صلاحیت ہی توالد و تناسل کی نہ تھی؛ چنانچہ ارشاد ہے: واصلحنا لہ زوجہ ، اس لیے ان کی ولادت عجیب تھی اور عیسیٰ علیہ السلام بے باپ کے ہوئے، اس لیے ان کی ولادت اس سے بھی زیادہ عجیب تھی۔ پس حق تعالیٰ نے ان دونوں قصوں سے قدرت اور توحید پر استدلال فرمایا ہے۔ یہ وجہ ہے ان قصوں کے بالاہتمام ذکر کرنے کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ عادت کے موافق ہوئی ہے پس اس سے مطلقاً ذکر مولد شریف کی تفصیل کا ذکرِ نبوت و ہجرت کی برابر محل اہتمام ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عام طریقہ پر ہونا کمال حکمت پر مبنی ہے:
مگر آج کل بعض لوگوں نے خود اس مقدمہ میں بھی کلام شروع کیا ہے کہ آپ کی ولادت شریفہ بطریق متعارف ہوئی ہے۔ چنانچہ ایک شخص کا میرے پاس خط آیا تھا، اس میں پوچھا تھا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی والدہ شریفہ کےبطن سے اسی طرح پیدا ہوئے جیسے اور آدمی ہوتے ہیں اور کسی کا قول نقل کیا تھا کہ ران سے پیدا ہوئے ہیں، اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اس سے رفع ہے کہ محل غیر ظاہر سے پیدا ہوں اور پوچھا تھا کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ طریق معہود 10سے پیدا ہوئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ان سائلوں کو ایسے امور کے پوچھنے سے شرم نہیں آتی؟ بہت بے حیائی اور بے ادبی اور گستاخی کی بات ہے۔ میرا جی تو چاہتا نہ تھا کہ اس خط کا جواب لکھوں لیکن طوعاً و کرہاً لکھا تاکہ ان مخالفین کو یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ اہل حق کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ میں نے جواب میں یہ لکھا کہ روایات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے متعلق یہ الفاظ آئے ہیں ’ولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘ اور یہ مقدمہ مسلمہ ہے کہ جب تک مجاز کے قرائن نہ ہوں تو الفاظ اپنے حقائق پر محمول ہوتے ہیں یعنی جب تک معنی حقیقی بن سکیں مجاز کی طرف رجوع نہ کیا جاوے گا اور یہ بھی مسلم ہے کہ علامت حقیقت کی تبادر ’الی الفھم عند الخلو عن القرائن‘ (قرائن سے خالی ہونے پر فہم طرف سے سبقت کرتی ہے)۔ پس ان سب مقدمات سے ولد میں ولادت سے طریق معہود ہی سے پیدا ہونا مراد لیا جاوے گا۔ یہ دلیل ہے اس کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طریق سے دنیا میں تشریف لائے ہیں۔ اب لوگ اس کی کوشش کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ کو عجیب طریق سے ثابت کریں اور عادت معروفہ کے موافق پیدا ہونے کو قدح جانتے ہیں حالانکہ اقرب الی الحکمۃ آپ کی شان کے اعتبار سے یہی ہے کہ جس طرح عادۃ اللہ جاری ہے آپ اسی طرح پیدا ہوں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ یہ امر مسلم ہے کہ آدمی کو زیادہ انس اس شے سے ہوتا ہے جس سے کچھ مناسبت ہو اور جس قدر مناسبت زیادہ ہوگی، انس زیادہ ہوگا اور جس قدر مناسبت کم ہوگی اسی قدر اس سے توحش بڑھے گا۔ اسی واسطے آدمی کو اپنے ہم جنس کی طرف زیادہ میلان ہوتا ہے اور جانورں کی طرف کم ہے اور جنوں سے اور بھی کم، بلکہ توحش ہے اور اسی وجہ سے انبیا علیہم السلام سب آدمی ہوئے ہیں، فرشتوں کو نبی بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے، اس لیے کہ ان سے آدمیوں کو توحش ہوتا اور جب توحش ہوتا تو افادہ اور استفادہ ممکن نہیں۔ اس لیے سب رسول آدمی ہوئے ہیں۔ جب یہ امر سمجھ میں آگیا تو اس کے بعد سمجھنا چاہیے کہ حق تعالیٰ کو منظور ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوبیت کاملہ عطا فرمادیں اور کسی کو ذرہ برابر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے توحش نہ ہو۔ پس اس لیے بجز معجزات کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اور کوئی حالت ولادۃ وغیرہ بھی معمول کے خلاف نہیں بتائی۔ اس لیے کہ اگر عادۃ جاریہ کے ذرا خلاف بھی کوئی بات ہوتی تو مناسبت میں اور پھر اس کے سبب انس میں کمی ضرور ہوجاتی۔ پس ولادت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی نئے طرز سے نہیں ہوئی اور یہی آپ کی شان محبوبیت و افادہ کے لیے مناسب ہے اور اس کے خلاف کو ثابت کرنا اس حکمت کو نظر انداز کرنا ہے۔ بلکہ یہ حکمت یہاں تک مرعی رکھی گئی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر کمالات بھی کہ ان میں معجزات بھی داخل ہیں نہایت لطیف ہیں جن کا عجیب ہونا امعان نظر کو مقتضی ہے، حتیٰ کہ قرآن مجید جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا معجزہ ہے وہ بھی سرسری نظرمیں عجیب اور اعجاز کی شان اس میں معلوم نہیں ہوتی اسی واسطے کفار نے کہا تھا کہ ’ لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَا‘11 یعنی اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ دیں لیکن ان لوگوں نے جب غور کیا اور اپنی انتہائی قوت اس کے مقابلہ میں صرف کردی تو دانت کھٹے ہوگئے حالانکہ بڑے فصیح اور بلیغ تھے لیکن ایک سورت بھی ایسی نہ لاسکے باوجود اس کے کہ حق تعالیٰ نے ان کو جوش دلانے کے لیے علی الاعلان فرمایا ’ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ‘12 یعنی لے آؤ کوئی سورت اس جیسی اس کے بعد ان کے عجز کو بھی خود فرمایا ’ وَلَنْ تَفْعَلُوْا ‘ یعنی تم ہرگز ایسی سورت نہ لاسکو گے، اس کو سن کر اہل عرب کو کیسا کچھ جوش آیا ہوگا اور کس قدر بل کھائے ہوں گے لیکن مقابلہ نہیں کرسکے اور اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ آگے ارشاد ہے ’ فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ ‘13 یعنی اگر تم اس کا مثل نہ لاسکو تو اس آگ سے بچتے رہو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ غرض یہ معجزہ بھی نہایت غامض اور لطیف ہے۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر شان اور کمال ایسا ہی لطیف ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:
یریدک وجھہ حسنا
اذا ما زدتہ نظراً
یعنی محبوب کا چہرہ تیرے لیے حسن کو بڑھا دیا۔ جب تو اس پر نظر زیادہ کرتا ہے ۔ چنانچہ بعضوں کا حسن تو ایسا ہوتا ہے کہ دور سے وہ اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن پاس سے دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ جیسے شیخ شیرازی فرماتے ہیں:
بس قامت خوش کہ زیر چادر باشد
چوں باز کنی مادرِ مادر باشد
(بہت خوش قامت چادر کے اندر ہوتی ہیں۔ جب تم چادر ہٹاؤ تو نانی معلوم ہوتی ہیں)
اور بعضے دور سے اور سرسری نظرمیں معمولی معلوم ہوتے ہیں لیکن جس قدر غور کرو خوبیاں معلوم ہوتی جاتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات بھی ایسے ہی ہیں کہ ان میں سادگی تو اس درجہ ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:
دلفریبان نباتی ہمہ زیور بستند
دلبر مااست کہ باحسن خداداد آمد
(تمام دلفریبیاں نباتی زیور سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔ ہمارے محبوب کا حسن خداداد ہے)
اور نظر تامل کے بعد دلربائی کی یہ حالت ہے۔
زفرق تابقدم ہر کجا کہ می نگرم
کرشمہ دامن دل میکشد کہ جا اینجاست
(سر سے پیر تک جس جگہ نظر کرتا ہوں کرشمہ دان دل کھینچتا ہے کہ یہی جگہ محبوبیت کی ہے۔ یعنی اس کا وہ حسن ہے کہ ہر پہلو سے محبوبیت برستی ہے)
پس ولادت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی عجیب طریقہ سے نہیں ہوئی اور ولادت عیسویہ نہایت عجیب طریقہ سے ہوئی اور چونکہ اس سے توحید پر استدلال مقصود ہے اس لیے اس کو اہتمام سے بیان بھی فرمایا۔
مدار منت و احسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تلاوت و تزکیہ نفوس ہے:
خلاصہ یہ ہے کہ مدار منت وفرحت کا شان يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہِ وَيُزَكِّيْھِمْ وہ ان پر اس کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور ان کا تزکیہ کرتے ہیں، کی ہے اور ولادت شریفہ اور نشوونما کے واقعات کی خوشی بھی اسی واسطے ہے کہ وہ واسطہ ہے اس دولت کی تحصیل کا؛ خوب کہا ہے:
آں روز کہ مہ شدی نمی دانستی
کانگشت نمائے عالمے خواہش شد
(وہ دن کہ تو چاند ہوا نہیں جانتا تھا کہ ایک عالم کا انگشت نما ہوگا)
پس اصل میں تو جو مقصود حالت بدریت کی ہے لیکن ہلالیت کی خوشی بھی اسی واسطے ہے کہ وہ ذریعہ بدریت کا ہے۔ پس اصل سرور تو اس کا ہے کہ ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی نعمت عطافرمائی ۔ باقی اس کے جس قدر اسباب ہیں وہ چونکہ اس کے وسائط ہیں اس لیے ان سے بھی خوشی ہے اسی فرح کو مولانا رومی اپنی مثنوی شریف میں چند ابیات کے اندر بیان فرماتے ہیں جو گویا حاصل ہے ان آیات کے مفہوم کا ان ابیات کو مع مختصر شرح کے یہاں بیان کیاجاتاہے، پس فرماتے ہیں:
ایھا العشاق اقبال جدید
از جہان کہنہ نو در رسید
یعنی اے عشاق مژدہ ہو کہ نیا اقبال چمکا ہے جو ایک پرانے اور نئے جہان سے پہنچا ہے۔
اقبال جدید سے مراد قرآن مجید ہے اور جدید اس کو کلام لفظی کے اعتبار سے کہا ہے ورنہ کلام نفسی اور صفت الٰہی کے مرتبہ میں تو وہ قدیم ہے باقی رہی یہ بات کہ کلام لفظی کے اعتبار سے تو اس کی ایک صفت کو ذکر فرمایا اور کلام نفسی کے اعتبار سے کوئی صفت ذکر نہیں کی تو وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم کو جو خطاب ہوا ہے اور ہم کو جو یہ دولت ملی ہے تو اسی لباس یعنی کلام لفظی کے ساتھ ملی ہے۔ پس ہمارے نفع میں یہ شان جدید ہی زیادہ دخیل اور سبب قریب ہوئی گو فی نفسہٖ قدیم ہے اور اسی صفت کو حق تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے ’ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَـمَعُوْهُ وَهُمْ يَلْعَبُوْنَ ‘14 اور فرمایا ’ وَمَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ ‘15 اور جہان سے مراد عالم غیب ہے اور کہنہ اس کو اس لیے کہا کہ بہت پرانا ہے اور نو اس لیے کہ اس میں تغیر نہیں ہوا الآن کما کان (جیسا کہ پہلے تھا اب بھی ایسا ہی ہے)۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
1 سورۃ البقرۃ: ۶۴
2 سورۃ النساء: ۸۳
3 سورۃ النساء: ۱۱۳
4 سورۃ البقرۃ: ۱۹۸
5 سورۃ الجمعۃ: ۱۰
6 سورۃ آل عمران: ۱۶۴
7 سورۃ الحجر: ۷۲
8 سورۃ البلد: ۱-۳
9 سورۃ آل عمران: ۱۶۴
10 عام طریقے سے
11 سورۃ الانفال: ۳۱
12 سورۃ البقرۃ: ۲۳
13 سورۃ البقرۃ: ۲۴
14 سورۃ الانبیاء: ۲؛ ترجمہ: ’’ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو نصیحت تازہ (حساب حال ان کے) آتی ہے یہ اس کو ایسے طور سے سنتے ہیں کہ (اس کے ساتھ) ہنسی کرتے ہیں۔ ‘‘
15 سورۃ الشعراء: ۵؛ ترجمہ: ’’ اور (ان کی حالت یہ ہے کہ) ان کے پاس کوئی تازہ فہمائش (حضرت) رحمٰن کی طرف سے ایسی نہیں آتی جس سے یہ بےرخی نہ کرتے ہوں سو (اس بےرخی کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ) ۔ ‘‘






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



