اسی طرح چوتھی صفت پھر آتی ہے …… وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ ……اور اپنے ساتھیوں کے لیے راحت کا باعث بنے، آسانی کا باعث بنے، یسر کا باعث بنے ،تو یہ چوتھی شرط ہے اور یہ بلاشبہ میدان جہاد کے داخلے کا سب سے بڑا دروازہ ہے۔ اگر اس شرط کوپورا نہ کیا جائے، ساتھیوں کی راحت کا خیال نہ رکھا جائے …… ہم جس نبی ﷺ کے امتی ہیں وہ اتنی احتیاط سکھاتے ہیں اس مسئلے پر…… یعنی یہ ایک ایسا ادب ہے جس کی کم جگہ پر میں نے پابندی ہوتے ہوئے دیکھی ہے۔ کہ ساتھی سو رہے ہوں تو ان کی نیند کا اتنا خیال رکھنا کہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت مقداد بن اسود ؓ مسلم کی حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ ہم سو رہے تھے رسول اکرم ﷺنے اپنے گھر میں ٹھہرایا ہوا تھا۔ فاقے کے عالم میں تھے، کسی صحابی کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا ۔ کوئی اپنے گھر نہیں لے جا سکا تو رسول اکرم ﷺہمیں اپنے گھر لے گئے۔ کہتے ہیں کہ اتنی شدید بھوک کے عالم میں تھے کہ بھوک کی شدت سے ہماری دیکھنے اور سننے کی صلاحیت ختم ہو گئی تھی ۔اتنے دنوں سے فاقے کی حالت میں تھے ۔میں اور میرے دو ساتھی تھے، کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو ایک ایک صحابی کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا کہ کوئی ہمیں کھانے کو دے۔ سب اتنی تنگی میں تھے کہ وہ جو اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے چاہے وہ خود تنگی میں ہوں وہ بھی کچھ نہیں دے سکے ان کو۔ تو بالآخر رسول اکرم ﷺ کے پاس گئے اور رسول اکرم ﷺکے گھر میں ایک بکری تھی جو دودھ دیا کرتی تھی۔ تو رسول اکرم ﷺ نے اپنے گھر ٹھہرایا اور بکری کے دودھ کو سب میں برابر روز تقسیم کیا جاتا۔ تو کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺجب رات کو داخل ہوتے تو یوں سلام کرتے کہ جو سو رہا ہو وہ جاگے نہ اس سلام کی آواز سے اور جو جاگ رہا ہو وہ سن لے۔ یعنی اتنی درمیانی آواز میں سلام ہوتا کہ جو جاگ رہا ہو وہ سن لے اور جو سو رہا ہو اس کی نیند خراب نہ ہو ۔
تو یہ چھوٹی سی چیز ہے ناں، کسی کی راحت کا (خیال رکھنا)، یہ کسی کے دل کی نرمی کی ،اہلِ ایمان کے لیے محبت و شفقت پر دلالت کرتی ہے کہ میں اتنا حساس ہوں، تکلیف سے ان کو اتنا بچانا چاہتا ہوں کہ ان کی نیند تک خراب نہ ہو اور سلام تک کرتے ہوئے میں اس کا پاس کرتا ہوں۔ تو بھائیو! یہ وہ آسانی کی مطلوبہ سطح ہے کہ اپنے ساتھیوں کے لیے میں اتنا نرم ہوں کہ کوئی سختی، لڑنا، جھگڑنا گالم گلوچ تو بہت دور کی بات ہے ……یہ تو وہ درجہ ہے جو ہونا ہی نہیں چاہیے۔ کبھی یہ توقع ہی نہیں ہونی چاہیے کسی مجاہد سے۔ اس کا اتنا احساس ہو کہ وہ کسی کی نیند تک خراب کرنا گوارا نہ کرے، ان کو کوئی ادنیٰ سی تکلیف دینا، کوئی ایسی بات جو فی نفسہ جائز ہو لیکن ساتھی کو اس سے تکلیف ہوتی ہوتو اس بات سے بھی گریز کریں چاہے وہ فی نفسہ جائز ہو۔
بعض مذاق ایسے ہوتے ہیں جو درست بھی ہوں، لیکن بعض ساتھی حساس ہیں وہ اجتماعی محفل میں ایسے مذاق نہیں برداشت کر سکتے، کیوں نہیں میں اپنی زبان کو روک لیتا ؟ کیوں اس کے چہرے کی ناگواری سے تکلیف میرے دل پر نہیں گزرتی ؟ اسی طرح سونے کا مسئلہ ہے، میں کیوں اپنے لیے اچھا بستر چنوں اور ساتھیوں کے لیے برا بستر چنوں؟ کھانے کے اندر بھی اپنے لیے اچھی بوٹی دیکھوں اور ساتھیوں کے لیے جو بچا کھچاہے وہ دیکھوں، تو یہ چھوٹی چھوٹی جگہیں ہوتی ہیں جہاں سے آپس میں محبتیں پیدا ہوتی ہیں۔ مجاہدین کا مرکز جو ہے وہ پھر وہ مرکز بنتا ہے جو اللہ تعالی کو مطلوب ہے ۔ اللہ کو کون سے مجاہد محبوب ہیں؟ اللہ کو وہ مجاہد محبوب ہیں جو اللہ کے رستے میں یوں لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہو ۔تو یہ دیوار آپس کی تنگیوں اور رنجشوں کے ساتھ نہیں بنتی۔ یہ دیوار تو تب بنتی ہے جب دل ایک دوسرے کے لیے اتنے نرم ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ اتنی محبت ہو۔ رباط کے ماحول میں جب یہ والی محبتیں پیدا ہوتی ہیں تو تب ہی یہ ممکن ہے کہ جب عین گولوں کے بیچ میں کچھ ساتھی زخمی ہوں تو آپ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس کو اٹھا کے لے آئیں۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے کہ جب جان دینے کا مرحلہ آئے تو آپ کا سینہ آپ کے ساتھی سے پہلے گولیوں کے سامنے آئے ۔
تو پیارے بھائیو! یہ مطلوبہ سطح ہے اگر جہاد مقبول کرانا ہے۔ عند اللہ ساتھیوں کی راحت کا بہانہ ڈھونڈیں۔ ایسے طریقے سوچیں کہ جن سے ساتھیوں کو راحت ملے۔اور ہمارے سامنے کتنے شہدا ساتھی ایسے گزرے ہیں جو مجسم نمونہ تھے ساتھیوں کے لیے نرمی کا، کہ جو جس مرکز میں ہوتے تھے وہاں کسی کو کپڑے دھونے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔ مثلاً عثمان شہید ؒ(برادر مولانا سعید اللہ خان شہیدؒ)…… وہ رات کو کسی وقت اٹھ کر کپڑے دھو کے فارغ بھی ہو جاتا تھا، حتی کہ سردیوں میں بھی۔ صبح ہوتی تو ساتھی حیران ہوتے تھے کہ یہ کیا ہوا کہ سب کے کپڑے دھلے ہوئے لٹک رہے ہیں۔ تو عثمان شہید ؒ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی مرکز میں ہوتا تو وہاں کھانا پکانے کے لیے بھی اس سے لڑنا پڑتا تھا۔ کپڑے دھونے کے لیے بھی اس سے لڑنا پڑتا تھا ۔ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے اس سے ریس لگانی پڑتی تھی اور بالعموم وہ ہی آگے نکلتا تھا۔ تو ایک مرکز میں ایسا ایک بھائی بھی ہو ناں تو سارے مرکز کا ماحول جنت کا ماحول بن جاتا ہے اور اگر ایک بھائی ایسا ہو جو ساتھیوں کی راحت کا خیال نہ کرتا ہوں تو پورے مرکز کا ماحول مکدر ہو جاتا ہے۔ سب کچھ آپس میں (خراب ہو جاتا ہے)،تلخیاں اور رنجشیں دلوں میں آجاتی ہیں اور شیطان کو گھسنے کے موقعے ملتے ہیں۔
پیارے بھائیو! آخری جو شرط ہے ……فساد فی الارض …… وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ……کہ زمین میں فساد سے اجتناب کرے، تو یہ بھی اس میدان کی آزمائشوں میں سے ایک بڑی آزمائش ہے۔
زمین میں فساد سے کیا مراد ہے؟ ہر ایک یہ سوچے گا کہ یار میں تو یہ نہیں کر سکتا۔
مگر آپ کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں! جو شخص غیبتیں کرتا ہے، جو شخص مجاہدین کے ذمہ داران کے پیچھے باتیں بناتا ہے، چاہے وہ اس کے مجموعے کا ہو یا کسی اور مجموعے کا ہو۔ جو شخص اپنے مجموعے کو دوسرے مجموعے پر، اپنی ترتیب کو دوسرے کی ترتیب پر، اپنی تنظیم کو دوسری تنظیم پر ترجیح دینے والی باتیں کرتا ہے ، آپس میں بیٹھ کر مناظرے کرتے ہیں ان باتوں پر۔ کوئی بھی ایسی بات جو مجاہدین میں تفریق کا باعث بنے، مجاہدین کے دلوں کو ایک دوسرے سے کاٹنے کا ذریعہ بنے، ظاہر ہے یہ بات اللہ کو ناراض کرنے والی اور زمین میں فساد کرنے والی بات ہے۔
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو چھوٹے چھوٹے ساتھیوں سے مرکزوں میں چلنا شروع ہوتی ہیں اور پھر بڑی سطح پر پہنچتے پہنچتے اتنے بڑے مسائل کا سبب بن جاتی ہیں کہ پھر بات قتل و قتال سے پہلے نہیں رکتی ۔ تو صرف اگر زبانوں کو لگام ڈالی جائے…… صرف ہم اپنی زبانوں کو لگام دے دیں تو کتنے ہی مسائل، کتنے ہی اختلافات، کتنی ہی مشکلات مجاہدین کے درمیان ختم ہو جائیں اور یہ واقعی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں تبدیل ہو جائیں ۔
صرف زبان کا فسادی قسم کا استعمال اس سارے ماحول کو خراب کرتا ہے۔ غیبت پر غیبت اور پھربہت سی غیبتوں کو مباح سمجھا جاتا ہے ۔علما کی غیبت کو بہت سے ساتھی مباح سمجھتے ہیں اور ان کے حوالے سے بلا تفریق ایک عمومی بات کرتے ہیں، جس میں پورے طبقۂ علما کو رگڑ دیتے ہیں ۔ (غور کرنا چاہیے کہ جس عالم پر نقد کر رہے ہیں)کیایہ وہ عالم ہے کہ جس کے بارے میں ثقہ علما نے کہا ہے کہ یہ عالم سوء ہے یا یہ کوئی بھی عالم ہے؟ تو ایک عمومی طعن تمام طبقے پر کرنا ، اور طبقہ بھی وہ جس نے دین سکھایا ۔ اور ان کے سکھائے ہوئے دین کے نتیجے میں ہم یہاں بیٹھے ہیں اور آج یہاں جو بھی جہاد شرعی منہج پر چل رہا ہے تو علما کی برکتوں سے ہی چل رہا ہے ، اللہ تعالی کے فضل کے بعد۔ تو ان کے بارے میں عمومی زبان کھولنا۔ اسی طرح کسی اور تنظیم کے تمام افراد اور ان کی قیادتوں کو مباح سمجھنا کہ وہ تو ہمارے نہیں ہیں، گویا تو وہ کیا اس امت کا جزو نہیں ہیں؟ کیا وہ ہمارے بھائی نہیں ہیں؟ ایک ہی خندق میں ایک ہی محاذ پر ایک ہی دشمن کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے نہیں لڑ رہے؟ ایک ہی جگہ ……بعض اوقات ایک ہی مراکز میں ہمارا اور ان کاخون نہیں بہا؟۔ تو جو بھی صالح ہوگا ان میں سے ایک ہی جنت میں جائے گا، نعوذ باللہ اور جو بد بخت ہوگا وہ ایک ہی جہنم میں جائے گا ۔تو پھر یہ تفریق کس بنیاد پر؟ پھر کیوں ایسی باتیں کی جائیں جو اللہ کو ناراض کرنے کا باعث بنیں؟ کیوں ہمارے مراکز میں اس بات کو برداشت کیا جائے کہ ہمارے سامنے بیٹھ کے کہ ’یہ اِس مجموعے کا اور وہ اُس مجموعے کا‘ ؟ وہ اُس انصار کے مجموعہ کا ہو یا مقامی مجموعہ ہو یا وہ مہاجر مجموعات ہوں ان کے اوپر باتیں بنائی جا رہی ہوں ! اور سب بیٹھ کے اس سے مزے لے رہے ہوں۔ کوئی نہ ہو جو ٹوکتا ہو!کوئی تو ہو جو کہتا ہو کہ یہ فعل حرام ہے، غیبت ہے، کبیرہ گناہوں میں شامل ہے، آخرت برباد کرنے کا ذریعہ ہے! تو کیوں نہیں ہم زبان بند کرتے؟ غیبت بولنا بھی حرام ہے، غیبت سننا بھی حرام ہے ۔
تو پیارے بھائیو!اجتناب کرنا فساد سے۔ ہر ایسی بات سے جو تفریق کا، اختلاف کا، جھگڑوں کا…… مجاہدین کے قدم اکھاڑنے کا باعث بنے۔ اسی طرح افواہیں، فساد کا ایک ذریعہ ہیں۔ اسی طرح افواہوں کا گردش کرنا ، ’میں نے سنا ہے، میں نے سنا ہے، یہ سنا ہے، وہ سنا ہے……‘ میں بغیر تحقیق کے اتنی بڑ ی بڑی باتیں نقل ہو جاتی ہیں، اور اتنے بڑے بڑے لوگوں کے بارے میں جن کی زندگیوں کو جہاد میں بیس بیس سال گزر گئے۔ ان کے بارے میں کسی کے ذہن میں ایک شیطانی بات ہوتی ہے جو نقل ہوتی ہے اور پھر وہ نقل ہوتے ہوتے بھی اتنا اس میں مبالغہ ہو چکا ہوتا ہے کہ اگر وہ پہلے رائی ہوتی ہے تو پہنچتے پہنچتے پہاڑ بن چکا ہوتا ہے۔ تو یہ کیوں نہیں اپنی زبانوں کو روکتے؟ کیوں نہیں تحقیق کرتے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا ……اگر فاسق کوئی خبر لے کے آئے تمہارے پاس اے ایمان والو! تو پہلے تحقیق کر لیا کر ۔ تو فاسق کا کیامطلب ہے ؟ ایک شخص ہے کہ جو جھوٹ بولتا ہے ۔وہ فاسق نہیں ہے ؟ چاہے وہ مجاہد بھی ہو، اگر جھوٹ بولتا ہے تو وہ اس پہلو سے فسق میں مبتلاہے۔ اس کی خبر لینے سے پہلے احتیاط کرنی چاہیے ۔ ایک شخص کو مبالغے کا مرض ہے، وہ چھوٹی سی باتوں کو بڑا کرکے پیش کرتا ہے ۔اسی طرح کسی کے بارے میں آپ کو معلوم ہے ، معروف ہے پہلے سے کہ اُس کے قبیلے کی اِس کے قبیلے سے نہیں بنتی، پھر کیوں اُس کی گواہی اِس کے بارے میں قبول کرتے ہو؟ کیوں پہلے تحقیق نہیں کر لیتے ؟! اللہ نے جو بات کہی کہ جب ایسی خبریں پہنچیں تو قرآن کہتا ہے کہ ……اہلِ علم کی طرف لوٹا دو تاکہ وہ اس میں سے کام کی بات کو اخذ کر لیں ۔ ان کا کام ہے کہ ان چیزوں میں ذمہ داران تک بات پہنچائیں، ان کا کام ہے کہ علما تک بات پہنچائیں اگر ایسی خبریں گھوم رہی ہوں ۔ اگر کسی کی اصلاح مقصود ہو تو وہ ان تک پہنچائے کہ بھئی یہ تشویش کی ایک بات سنی ہے آپ اس کی تحقیق کر لیں! ا س کو مجالس بنانے کا ذریعہ کیوں بنایا جائے؟ کیوں اللہ کی ناراضگی اور اللہ کے غضب کو دعوت دیں ان چیزوں سے ؟
ہمارے بیشتر مسائل یہاں سے پھوٹتے ہیں۔ بڑی بڑی جنگوں، بڑے بڑے اختلافات اور بالخصوص سابقہ جہاد کی مثالیں ہیں جو بالآخر قتال پر منتج ہوئیں۔ پیچھے لوٹ کر دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی ایک مرکز میں کسی ایک احمق کی چھوٹی سی بے تکی بات، غیر تحقیق شدہ بات کو آگے چلا دینے سے وہ سارا فساد پھیلا ۔ حدیث میں آتا ہے کہ آدمی کے جھوٹے ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو بات سنتا ہے اس کو آگے نقل کر دیتا ہے۔ تو یہ اتنی بڑی بات ہے، جھوٹ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔جھوٹا قرار دیا رسول اللہ ﷺ نے اس کو جو بغیر تحقیق کے باتیں نقل کرتا جاتا ہے۔ تو پہلے رکیں تو سہی۔ تھوڑا سا اپنی زبان کو روکیں تو سہی۔ پوچھیں پہلے کسی صاحب علم سے کہ جس کی بات واقعی وزن رکھتی ہے اور کسی صاحب امر سے کہ یہ بات درست بھی ہے کہ نہیں ؟ تو بھائیو! فسا دمیں یہ سب کچھ شامل ہے ۔
یہاں سے فساد شروع ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں تک بات جاتی ہے۔ تو یہ سارا فساد ہے ۔ اس سارے فساد سے اپنے آپ کو روکنا ہے، تمام اہل ِایمان سے یکساں محبت رکھنی ہے۔ وہ کسی تنظیم سے، کسی مجموعے سے، کسی محاذ پر کسی بھی نام سے کام کر رہے ہیں ……جب تک شریعت کے مطابق جہاد میں ہیں تب تک تووہ لائقِ محبت ہیں۔ تب تک وہ ہمارے بھائی ہیں اور اگر ان میں سےکوئی بندہ میرے ساتھ بیٹھے، میرے مجموعے میں موجود میرے امیر سے، میرے مسئول سے بھی زیادہ صالح ہے تو وہ زیادہ لائقِ محبت ہے میرے اپنے مجموعے میں بیٹھے ہوئے فرد سے۔ یہ کوئی پیمانے نہیں ہیں کسی سے محبت کرنے کے کہ یہ میرے مجموعے کا ہے، یہ میری تنظیم کا ہے اور وہ دوسرے کے مجموعے کا ہے اور وہ دوسرے کی تنظیم کا ہے۔ یہ اختلافات توڑتے ہیں امت کو ۔ یہ اختلافات توڑتے ہیں مجاہدین کو۔ تو پیارو! ایک دیوار بننا ہے۔ یہ پانچ شرائط ہیں کہ جو شریعت نے بتائی ہیں کہ کسی کو اپنا جہاد قبول کرانا ہے تو تھوڑی دیر کے لیے ہی دیکھ لے کہ اس میں سے میرے اندر کون سی شرط کو پورا کرنے میں کمی ہے ۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



