قابلِ نفرت میکرون کی قیادت میں فرانس کی صلیبی ریاست نے کورونا کی وبا کی لپیٹ میں ہونےکے باوجود، اپنی اسلام دشمنی کو چھپانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اِس کے برعکس اپنی حدودِ سلطنت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و بغض کا عَلم مزید بلند کر دیا اور ذلیل لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں۔ یوں اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اس کی اولین دشمنی اسلام سے ہے، جس کے ساتھ وہ اپنی افواج کے ذریعے افغانستان، عراق، شام، مالی اور دیگر مسلم ممالک میں جنگ لڑ رہا ہے اور اپنے ہوائی جہازوں سے لیس ہو کر ان مسلم خطوں پر بمباریاں کر رہا ہے۔ مزید یہی فرانس اپنی ریاست کے قرب و جوار میں اذان، پاک دامنی اور حجاب جیسے اِسلام کے قابلِ تعظیم شعائر کے خلاف بھی محاذ کھولے ہوئے ہے اور اور دعوت و تبلیغ میں مصروف لوگوں کے خلاف بھی لڑائی لڑ رہا ہے۔
اِس صلیبی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے لازمی تھا کہ ابطالِ اسلام اپنی تلواروں اور اپنے چاقوؤں کی دھاریں تیز کر لیں، اپنے بم اور بارود تیار کر لیں اور نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا دفاع کرنے کے لیے خود کو فی سبیل اللہ قربان کر دیں۔ اسی پکار کے جواب میں اس چیچن بھائی نے وہ الفاظ دہرائے جو عظیم صحابی محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہے تھے کہ:
’’یا رسول اللہ! میں(حاضر ہوں)!‘‘
جب نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ :
’’کون ہے جو کعب بن اشرف کو قتل کرے کہ اس نے اللہ اور اُس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے (گستاخی کی ہے)؟ ‘‘
سو محمد بن مسلمہ ؓنے اپنے مبارک خنجر کو اس ملعون کی گردن پر رکھ دیا، اُن نابینا صحابیؓ کی طرح جنہوں نے خنجر سے اپنی بیوی کا پیٹ چاک کر دیا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر رہی تھی۔ اے چیچن بھائی! تم نے نفع بخش تجارت کی، تمہارا دایاں ہاتھ بابرکت ہے (جس سے گستاخ کی گردن پر تم نے چھری چلائی)، تمہارا چہرہ کامیاب ہوا اور تمہیں مبارک ہو اُنؐ کی معیت جن کی حرمت کا دفاع تم نے اپنی جان پیش کر کے کیا!
اسلام کے خلاف فرانسیسیوں کی دشمنی اور بغض و دیدہ دلیری کو جاننے کے لیے مسلمانوں کو اُن کی عقول کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب کا جائزہ لینا چاہیے جو ان صلیبیوں کی روحوں میں بسی نفرت کو بار بار ہم پر عیاں کرتی ہے ۔ کتاب اللہ ہمیں بتا چکی ہے کہ ہم اُن کی جانب سے بہت سی گستاخیاں سنیں گے، وہ ہمارے دین کو مذاق اور کھیل قرار دیں گے اور جو دشمنی، کینہ اور حسد وہ اپنے نفرت بھرے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اُن کے منہ کی کہی باتوں اور اُن کے قلم سے برآمد شدہ خاکوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے قرب اور اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کے لیےضروری ہے کہ مسلمان ان کے سر تن سے جدا کر دیں۔ پس کواشی برادران کی گولیوں، دلیر شیر محمد بویری اور چیچن بطل کے خنجر، (عامر چیمہ کے چاقو)، پاکستان میں ڈنمارک کے سفارت خانے کو تباہ کرنے والے ابو غریب المکی کے بارود (اللہ تعالیٰ اِن سب کی شہادتیں قبول فرمائیں)کے سوا اور کوئی چیز ان پر اثر نہیں کرتی کیونکہ وہ یہی زبان سمجھتے ہیں!
یورپ اور فرانس میں بسنے والے اہلِ اسلام!
ابوابِ جنت میں سے یہ باب آپ کے سامنے کُھلا ہے، اور عاشقینِ صادقین کے علاوہ کوئی اِس تک نہیں پہنچ سکتا، اللہ اور اس کے رسولؐ کے وہ عاشق جو اپنی جانیں فراخ دلی اور اطمینان سے نثار کر دیں۔ سو اٹھیے اور جہاد کے لیے نکلیے خواہ ہلکے ہوں یا بوجھل، گروہ میں یا اکیلےاوران ہرزہ سرا کافروں کے خلاف اپنی کمر کَس لیجیے، اپنے آپ کو اس مہم میں کھپا دیجیے اور اللہ کو وہ کر دکھائیے جس کے ساتھ اس کی نصرت اترتی ہے اور جس میں اُس کی رضا پنہاں ہے ۔ آپ پر لازم ہے کہ ایک ایسی آگ بھڑکائیں جو معدوم ہونے یا بجھنے والی نہ ہو اور وہ معرکہ برپا کریں جو ختم نہ ہونے والا ہو۔ یہ باتوں کا نہیں عمل کا وقت ہے، احتجاج اور مظاہرے کسی اور دن کے لیے بچا رکھیے اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ورثے میں چھوڑی ہوئی) تلواروں’ صارم‘ اور ’ بَتّار‘ لے کر میدان میں نکل آئیے اور جان لیجیے کہ صلیبی فرانس نے اِن گستاخوں سے کاندھا ملا کر خود کو اُن لوگوں کے لیے نشانہ بنا لیا ہے جونبی الرحمۃ یعنی رحمت والے نبی اور نبی الملحمہ یعنی گھمسان کی جنگوں والے نبی صلی اللہ و علیہ وسلم کا دفاع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
صلیبی مغرب اور اسلام سے مرتد ہو جانے والے دغاباز حکمران ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی کی منحوس راہ پر گامزن تھے، جب انہوں نے چارلی ایبڈو اخبار کے مردار اہلکاروں کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا، جنہیں اپنے کیے کا صلہ محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی کا انتقام لینے والے ابطالِ اسلام، دو بھائیوں، شریف اور سعید کواشی کے ہاتھوں ملا۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی امداد و دفاع کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد صرف امتِ مسلمہ پر ہی بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ہم فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مبارک مہم چلانے پر امت کو سراہتے ہیں اور مزید کی دعوت دیتے ہیں، ہم امت کے تمام احرار اور قابلِ احترام علمائے کرام ، مفکرین اور قائدین کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اِن سنگین جرائم کی مذمت کی۔
ہم ہر ایک شخص کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ صرف اِنہی اقدامات پر مطمئن نہ ہو جائیں بلکہ ان اہلِ کفر کے جرائم اعلانیہ بیان کریں اور ان کی مذمت کریں ، مجاہدین کی مال و جان دونوں سے مدد کریں، خاص طور پر امت کے اُن مجاہدین کی جو مغربِ اسلامی (الجزائر و مالی وغیرہ) میں اِس نئے، پرانے قابض،خباثت کی جڑ ’فرانس ‘ کے خلاف جنگ میں ہراول دستہ ہیں۔
(عربی اشعار کا نثری ترجمہ)
رومیوں نے اہلِ دین میں کمزوری دیکھی
تو انہوں نے آزمانے کو پورا زور لگا ڈالا
اگر مسلمانوں میں ایک بھی مردِ آزاد پایا جاتا ہو
تووہ مسلمان قیدیوں کو رہائی دے گا اور غیرت کا رکھوالا ہو گا
وہ دین کو آزادی دے گا اور اس کی رکھوالی کرے گا
کہ جب کافر اللہ کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں
اے مسلمانو! تمہیں کیاہو گیا ؟
یہ مظاہرے ، ٹاک شو اور بحث و مباحثے کب تک؟
اب اللہ کی دعوت پر لبیک کہو!
یا عذر پیش کر و لیکن اس عذر پر معافی تو نہیں ملے گی
میرا رب گواہ ہے، وہی گواہِ عظیم ہے
اُسی کے نام پر میں تمہیں دعوتِ عام دیتا ہوں
وآخر دعوانا ان الحمدللہ ربّ العالمین!




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



