جب ہم جمہوریت کا جائزہ لیتے ہیں تو اس حقیقت تک پہنچتے ہیں کہ جمہوریت تو ایک مکمل و مستقل دین ہے۔ دیگر ادیان کی طرح اس کے اپنے مفاہیم ، اصول و قواعد ،نظریات اوراقدار ہیں۔ اس حقیقت کو جان لیا جائے تو بیان کردہ عبارتوں کی قباحت و بدصورتی مزید نمایاں ہوجاتی ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی کہے :یہودی اسلام، عیسائی اسلام، اسلامی یہودیت، اسلامی نصرانیت یا اسلامی مجوسیت۔ کیا اس روئے زمین پر کوئی جاہل اور گناہ گار مسلمان ایسا بھی ہوگا جو ان ناموں کو قبول کر نے کے لیے تیار ہو؟ یا اپنے لیے بطورِ دین انہیں پسند کرے؟یقینا ًزمین کے کسی دور دراز کنارے پر بسنے والی ایک بوڑھی مسلمان خاتون، کہ جسے نئی تہذیب اور ثقافت کے جراثیم نہ پہنچے ہوں وہ بھی یہ کلمات سنتے ہی فوراً ہی ان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے گی۔ اور یہ کلمات ان کے کہنے والوں کے منہ پر دے مارے گی اور کہے گی کہ مجھے ایسا کوئی دین نہیں چاہیے۔ سمندر یا فضا میں کھیت اگ سکتے ہیں؛ یہ بات شاید اس عورت کو اس عبارت کو تسلیم کروانے سے زیادہ آسان ہو۔ اگر آپ کو اس بات میں کوئی شک ہو تو تجربہ کرکے دیکھ لیجیے۔
تو پھر ہم جمہوریت کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی مذموم کوشش کیوں کریں؟ جبکہ یہ بات ہمیں سخت ناپسند ہے اور ہر مسلمان بھی اس بات کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ اسلام کو یہودیت، عیسائیت یا مجوسیت کے ساتھ جوڑا جائے۔
لہٰذا اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ جمہوریت ہر اعتبار سے دینِ اسلام کی ضد ہے اور اسلام مخالف ادیان کی طرح ایک مکمل دین ہے۔ جمہوریت کی اس حقیقت کو جاننا اس لیے لازم ہے کہ وہ لوگ جو اس دینِ جدید کے پھیلائے جال میں الجھ کر رہ گئے ہیں انہیں اس بات کا حقیقی ادراک ہوسکے کہ جب وہ جمہوریت کے تانے بانے اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو درحقیقت اسلام کی توحید کو جمہوریت کے شرک کے ساتھ اور اسلام کے نور کو جمہوریت کے اندھیروں کے ساتھ ملانے کے جرمِ عظیم میں ملوث ہوتے ہیں۔ بھلا اسلام کی اعلیٰ اقدار ، پاکیزہ اخلاق اور عدل و انصاف کا خود ساختہ جمہوریت کے ظلم و جبر اور بے انصافیوں سے کیا تعلق؟ کیا تاریکیوں کا رشتہ اجالوں کے ساتھ جوڑا جاسکتا؟ کیا اللہ کی غلامی و عبودیت (اسلام) اور خواہشاتِ نفس کی پیروی (جمہوریت) ایک ہوسکتے ہیں؟
لہٰذا جمہوری اسلام کے دعویداروں سے ہمارا پہلا سوال تو یہ ہے کہ تم ڈیموکریسی کا لفظ اسلام میں ثابت کرکے دکھلاؤ۔ اس مقصد کے لیے عربی لغت کی تمام کتابیں چھان مارو، تمام اشعار عرب کو پڑھ کر دیکھ لو ، اہل فصاحت و بلاغت میں سے جس سے چاہو پوچھ لو بلکہ گاؤں میں رہنے والی بوڑھی عرب خواتین سے پتہ کر لو اور بادیہ نشین دیہاتیوں سے استفسار کرلو۔ کیا اصل وفصیح لغتِ عرب میں تمہیں ڈیموکریسی کا لفظ مل سکتا ہے؟ فصیح تو کجا غیر فصیح عرب لغت میں بھی تم یہ لفظ نہیں پاؤ گے۔ ثابت ہوا کہ یہ لفظ ہماری زبان میں اجنبی ہے جو مغرب سے درآمد شدہ ہے۔ اسے گھڑنے والوں کے نزدیک اس کے خاص اصطلاحی معنی ہیں جن سے اسے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری زبان میں ان معنی کو’’ عوام کی حاکمیت‘‘ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اسی ایک فقرے میں جمہوریت کا نچوڑ اور خلاصہ موجود ہے اور اگر اس معنی کو جمہوریت سے نکال دیا جائے تو جمہوریت کا وجود ہی باقی نہیں رہتا۔تمام جمہوری نظام اگرچہ متعدد راہیں رکھتے ہیں لیکن ان سب کی منزل ایک ہے…… یعنی ’’ عوام کی حاکمیت‘‘ ۔ کوئی بھی مسلم یا غیر مسلم یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں جس جمہوریت کو مانتا ہوں وہ اِس معنی سے عاری ہے اور عوام کی حاکمیت کا اقرار نہیں کرتی۔ اور اگر کوئی عقل سے عاری شخص یہ دعویٰ کرتا ہے تو اس کا حال اُسی شخص کی طرح ہوگا جو یہ کہے کہ میں ایسی یہودیت کی طرف دعوت دے رہا ہوں جو اپنے بنیادی مضامین و معانی سے خالی ہے۔ تو کیا ایسے شخص کے دعوے کی تصدیق کی جائے گی؟ کیا کوئی مسلمان ایسی یہودیت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگا؟
دینِ جمہوریت میں عوام کو حاکم تصور کیا جاتا ہے، اس طور پر کہ عوام کی طاقت ہی اصل طاقت ہے اور عوام کا فیصلہ ہی نافذ العمل ہے۔ عوام کا ارادہ ہی دینِ جمہوریت میں رائج ہوگااور عوام کے قوانین ہی لاگو و قابلِ احترام ہوں گے۔ اس نظام کے مطابق کسی کو جرأت نہیں کہ عوام کے حکم پر نظرِ ثانی کر سکے یا ان کے فیصلے کو ٹال سکے، گو کہ عوام اپنی حکمرانی میں کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گے۔
مجھے یہ بات بھی معلوم ہے کہ کوئی مسلمان بھی ان کلمات کو پسندنہیں کرے گا۔ بلکہ انہیں انتہائی نا پسندیدگی اور نفرت و ملامت کی نگاہ سے دیکھے گا۔ اور اللہ کی قسم! یہ نفرت کے حقدار ہی ہیں…… اور ملامت کے حقدار تو وہ لوگ ہیں جو اسلامی جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں اور عوام کے سامنے اس کی اصل حقیقت کا اظہار نہیں کرتے اور جمہوریت کے بدصورت چہرے کا نقاب نہیں الٹتے بلکہ فاسد تاویلات اور حیلہ سازیوں کے ذریعے اس کی قباحتوں پر پردہ ڈالتے اور اسے مستحسن قرار دیتے ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔
چونکہ یہ نا ممکن ہے کہ تمام عوام کو ایک میدان میں جمع کردیا جائے تاکہ وہ اپنی اجتماعی یا اکثریتی رائے سے قانون سازی کرسکیں، لہٰذا مغرب نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک خاص نظام وضع کیا ہے۔ اس نظام میں عوامی نمائندے عوام کی مرضی اور رائے سے منتخب ہوکر ان کی ترجمانی کرتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے پارلیمان کو تشکیل دیا جاتا ہے جس کا ہر رکن اپنے حلقے کے عوام کا ترجمان اور قائم مقام ہوتا ہے ،اس کی رائے عوام کی رائے سمجھتی جاتی ہے اور اس کا فیصلہ عوامی فیصلہ کہلاتا ہے ، جمہوری نظام میں پارلیمنٹ ہی قانون سازی کا بالاتر ادارہ ہوتا ہے اور اسے ہر طرح کے قانون بنانے کی کھلی آزادی ہوتی ہے صرف اس شرط پر کہ وہ قانون آئین سے متصادم نہ ہوں (یہ بات پیشِ نظر رہے کہ پاکستان کے آئین میں پارلیمان کی دو تہائی اکثریت کے ذریعے سے ترمیم واضافہ کیا جاسکتا ہے …… مترجم)۔اس شرط کا لحاظ رکھنے کے بعد پھر پارلیمان کو کھلی چھوٹ ہے کہ شریعت کے مطابق یا مخالف، جیسے چاہے قانون بنائے کیونکہ یہ عوام کا منتخب شدہ ادارہ ہے اور جمہوریت یہ کہتی ہے کہ حاکمیت صرف عوام کا حق ہے۔ لہٰذا اس پر کسی کو اعتراض کرنے یا تلملانے کا حق نہیں ہے۔ الاسآء مایحکمون (بہت برا ہے جو یہ فیصلہ کرتے ہیں)۔
پارلیمان کی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ قانون سازی کرے ، خواہ اس کا نام پارلیمنٹ ہو، دستور ساز اسمبلی یا ایوانِ نمائندگان۔ یہ ایک ہی ادارے کے مختلف نام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:
مَاتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (سورۃ یوسف:۴۰)
’’ تم اُس (ذ اتِ باری تعالیٰ) کے سوا صرف ناموں ہی کی عبادت کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے مقرر کیے ہیں ،جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں کی،حکم تو صرف اللہ کے لیے خالص ہے ، اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے علاوہ کسی کی عبادت مت کرو، یہی مضبوط اور مستحکم دین ہے،لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘
جس کے دل میں ایمان کا نور موجود ہے اسے یقین کی حد تک یہ معلوم ہے کہ یہ دین ِ جدید (جمہوریت ) ایک لحظے کے لیے بھی نہ تو دل و دماغ میں اور نہ ہی عملی زندگی میں ایمان کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ جب کوئی شخص اس دینِ جدید (جمہوریت ) کو قبول کرتا ہے تو دوسرے دین کو منہدم کرکے ہی نئے دین میں داخل ہوتا ہے۔ جس نے یہ حقیقت جان لی، سو جان لی اور جو اس حقیقت سے جاہل رہا، سو جاہل رہا۔ اور بہت بری ہے وہ جہالت جو انسان کو ایمان کی سربلندی سے اٹھا کر کفر کی کھائیوں میں جاگراتی ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔
یہ حقیقت ہر اس شخص پر واضح اور عیاں ہوچکی ہے جو حق سے عناد اور بغض نہیں رکھتا۔ البتہ مزید وضاحت کے لیے ہم جمہوریت کے بعض اہم امور کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو دین اسلام سے مکمل تضاد رکھتے ہیں۔ یہ اس لیے تاکہ ہمیں اس عظیم جرم کا ادراک ہوسکے جسے جمہوری اسلام کے دعویدار اسلام اور مسلمانوں کے سروں پر مسلط کر کے انہیں ہلاکت کی راہوں پر دھکیلانا چاہتے ہیں، بلکہ دھکیل چکے ہیں اور آج حیرت و اضطراب اور نحوست و عذاب کی شکل میں امتِ مسلمہ اس جمہوری تماشے کا مزہ چکھ رہی ہے۔
اولاً : وہ بنیادی اصول جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے، یہ ہے کہ اللہ ربّ العزت کی نازل کردہ شریعت کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرلیا جائے۔ اسی میں بندوں کا امتحان بھی ہے اور یہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کسوٹی بھی ہے۔ اگر بندہ اپنے رب کی غیر مشروط اطاعت نہ کرے تو وہ بندہ نہ ہوا۔ لہٰذا بندے کا یہ کام نہیں کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے، اپنی عادت کو اس پر ترجیح دے ، اپنے تجربے کی بنیاد پر حکم الٰہی سے سرتابی کرے یا اپنی رائے کو اللہ کے حکم کے مقابلے میں قابلِ احترام سمجھے۔ خواہ فرد ہو یاجماعت، پارلیمنٹ ہو یا عوام، کوئی قبیلہ ہو یا تنظیم سب پر لازم ہے کہ اللہ کے احکامات کے سامنے جھک جائیں اور اس کی نازل کردہ شریعت کو دل و جان اور قلب و قالب سے تسلیم کرلیں۔ کوئی مسلمان خواہ کتنے ہی دعوے یا زعم کیوں نہ رکھتا ہو اس وقت تک حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اسلام کی یہ حقیقت اس کے دل میں ثبت نہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا (سورۃ النسآء :۱۲۵)
’’ اور اس شخص سے اچھا دین کس کا ہوسکتا ہے جس نے خود کو اللہ کے (حکم کے ) سامنے جھکا دیا اور وہ نیکوکار بھی ہے اور ملتِ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کی جو یکسو تھے۔‘‘
تو جب اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو پھر کسی کے لیے اس بارے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا اورا للہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو من و عن تسلیم کر لینا اور اس کے سامنے جھک جانا ہر مسلمان پر فرض ہو جا تا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا(سورۃ الاحزاب :۳۶)
’’ اور کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تو وہ صریح گمراہ ہوگیا۔‘‘
یہی اسلام کا بنیادی اصول ہے جس کی طرف انتہائی تاکید کے ساتھ دعوت دی گئی ہے۔ جبکہ دینِ جمہوریت میں تو اسلام کے مندرجہ بالا اصول کو بالکل منہدم کر دیا گیاہے۔ نظامِ جمہوریت میں بلکہ صحیح تر الفاظ میں دینِ جمہوریت میں انسانوں کو ہر قسم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور جب تک کوئی قانون پارلیمنٹ سے منظور نہ ہو اس وقت تک اس کو کوئی تقدس ، احترام یا حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔
آسمانوں سے نازل ہونے والے احکامات ِ الٰہی کہ جنہیں سن کر ہر مسلمان مرد و زن پر یہ کہنا واجب ہوتا ہے کہ سمعنا واطعنا……ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ لیکن ان کے بارے میں جمہوریت کہتی ہے کہ ہم ابھی ان پر نظر ثانی کریں گے۔ بحث و مباحثہ ہوگا ، ترمیم و اضافہ ہوگا،جسے چاہیں گے مانیں گے اور جسے چاہیں گے رد کر دیں گے۔ گویا دینِ جمہوریت میں اللہ رب العزت کے حقوق ارکان پارلیمنٹ کو تفویض کردیے گئے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا ہے ، اب اگر روئے زمین پر مشرق سے مغرب تک بسنے والے تمام جن و انس مل جائیں اور شراب کے جواز یا حرمت کا ازسرنو جائزہ لیں تو صرف اسی بات پر وہ معاند کفار بن جائیں گے خواہ اس جائزے کے بعد اسے حرام ہی کیوں نہ قرار دیں ۔ یہ تو ایک مسئلہ ہے جبکہ جمہوریت نے تو تمام احکاماتِ الٰہیہ پر نظر ثانی اور حک و تنسیخ کے دروازے چوپٹ کھول رکھے ہیں۔ پورا دین گویا کہ عوامی اختیار اور ارادے کا ماتحت ہو کر رہ گیا ہے کہ اگر عوام اسے قبول کر لیں پھر تو یہ محترم و مقدس و قابل عمل دین قرار پائے گا اور اگر عوام اسے رد کر دیں تو نعوذ باللہ یہ بے وزن، بے وقعت اور مردود ٹھہرے گا۔یہاں تک کہ جمہوری اسلام کے بعض دعویداروں نے تو بصراحت کہا ہے کہ اگر عوام ملحد کیمونسٹ طرزِ حکومت اختیار کریں تب بھی ان کے اختیار کا احترام کیا جائے گا اور اگر خود عوام ہی اسلامی حکومت کو رد کر دیں تو تب بھی ان کی پسند و اختیار کو تقدیس حاصل ہوگی ۔جبکہ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے:
وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ(سورۃ الرعد:۴۱)
’’اللہ فیصلہ کرتا ہے … …کوئی اس کے فیصلے پر نظرِ ثانی نہیں کر سکتا۔‘‘
اس کے برعکس جمہوریت کہتی ہے کہ نہیں ،ہزار با رنہیں…… بلکہ عوام فیصلہ کرتے ہیں اور عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
قرآنِ کریم کہتا ہے:
وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ(الاحزاب:۳۶)
’’اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔‘‘
جبکہ جمہوریت کہتی ہے نہیں…… بلکہ عوام کو تمام اختیارات حاصل ہیں ، حق وہ ہے جسے عوام قبول کریں اور باطل وہ ہے جسے عوام رد کردیں۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی مرضی سے جیسے چاہیں احکام و قوانین اختیار کریں۔
قرآن پاک کا فرمان ہے :
اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا(سورۃ النور :۵۱)
’’ مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم ) سن لیا اور مان لیا۔‘‘
جبکہ جمہوریت کہتی ہے کہ نہیں…… بلکہ جب لوگوں کو عوامی فیصلے کی طرف بلایا جائے تو انہیں کہنا چاہیے کہ سمعنا و اطعنا…… ہم نے سنا اور اطاعت کی۔
قرآن مجید کہتا ہے :
وَھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْم(سورۃ الزخرف:۸۴)
’’اور وہی ذاتِ باری تعالیٰ آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین پر بھی معبود ہے۔‘‘
لیکن نعوذ باللہ! جمہوریت گویا اللہ تعالیٰ کو خطاب کرتے ہوئے کہتی ہے ٹھیک ہے آسمان تو تیرا ہے لیکن زمین عوام کی ہے اور اس پر حکمرانی اور قانون سازی کا حق بھی صرف عوام کو حاصل ہے۔ اللہ رب العزت نے سچ فرمایا:
وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَھُمْ مُّشْرِکُوْن (سورۃ یوسف : ۱۰۶)
’’ اور اکثر لوگ اللہ پر ایمان کا (دعویٰ) رکھنے کے ساتھ اس کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔‘‘
اللہ کی قسم ! جمہوریت تو قریش اور عرب کی انہی پامال راہوں پر گامزن ہے جو دورانِ حج کہا کرتے تھے :
’’لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لہ، الا شریک ھو لک تملکہ وما ملک۔‘‘
’’حاضر ہیں اے اللہ ! ہم حاضر ہیں! ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جو تیرا ہی ہے تو ہی اس کا مالک ہے اور اس کے اختیارات بھی تیری ملکیت ہیں۔‘‘
قرآن مجید نے واشگاف انداز میں مسئلۂ حاکمیت کی حقیقت بیان کی ہے:
فَلَا وَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(سورۃ النسآء:۶۵)
’’تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ تب تک مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں۔‘‘
اس آیت کے سبب ِ نزول کے حوالے سے بعض علما نے لکھا ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحق کے حق میں فیصلہ دے دیا تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا اس نے کہا کہ میں اس فیصلہ پر راضی نہیں ۔ دوسرے فریق نے پوچھا کہ پھر تم کیا چاہتے ہو؟ تو اس نے کہا کہ ابو بکر صدیقؓ سے فیصلہ کرانا چاہتا ہوں۔ وہ دونوں سیدھا حضرت ابوبکرؓکے پاس گئے اور جس فریق کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اس نے انہیں بتایا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے حق میں کر چکے ہیں۔ ابو بکر صدیؓق نے فرمایا کہ جو فیصلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کردیا وہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ لیکن دوسرا فریق اب بھی راضی نہیں ہوا اور کہنے لگا کہ ہم عمر بن خطابؓ کے پاس جائیں گے۔ لہٰذا وہ دونوں سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے پاس پہنچے اور جس فریق کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے حق میں کر چکے ہیں لیکن دوسرا فریق اس پر راضی نہ ہوا اور پھر ہم ابوبکر صدیق ؓ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا تمہارے لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ بہترہے لیکن دوسرے فریق نے ان کی بات ماننے سے بھی انکار کردیا۔ عمر فاروقؓ نے دوسرے فریق سے استفسار کیا کہ آیا یہ معاملہ اسی طرح ہوا ہے؟ اس نے اقرار کیا۔ عمر فاروق ؓ اپنے گھر کے اندر چلے گئے۔ واپس نکلے تو ان کے ہاتھ میں بے نیام تلوار تھی جس سے انہوں نے اس شخص کا سر قلم کر دیا اور فرمایا کہ جو شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہ ہو اس کے لیے میرا فیصلہ یہی ہے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی : فَلَا وَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(تفسیر ابن کثیر ۲۔ ۳۵۲)۔
تو جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر نظرِ ثانی کی درخواست کرنے والے ایک شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ دوٹوک فیصلہ صادر فرمایا، حالانکہ اس نے صرف ایک معاملے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے کہا تھا اور رجوع بھی ان عظیم القدر شخصیات کی طرف کیا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین ہیں، تو ان لوگوں کا کیا معاملہ ہوگا جو دینِ جمہوریت کی طرف بلاتے ہیں جبکہ دینِ جمہوریت میں تو پورا اسلام ہی عوام کے ارادے پر معلق ہوتا ہے۔ عوام چاہے گی تو اس کا نفاذ ہوگا ورنہ نہیں۔ اس بدترین دینِ جمہوریت میں تو اللہ تعالیٰ کے قطعی احکامات مثلاً شراب، زنا اور فواحش کی آزادی کو بھی پارلیمان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ غور کرے کہ آیا ان کی تحریم مناسب ہے یا تحلیل۔ احکامِ الٰہی پر نظر ثانی کرنے والے یہ ارکان پارلیمنٹ آخر کون ہیں؟ کیا یہ ابوبکر ؓ و عمر ؓ ہیں یا پاکباز و نیکوکار ہیں؟ اللہ کی پناہ ! بھلا یہ متقی و پاکباز نفوس ان ارکان پارلیمنٹ سے کیا نسبت رکھتے ہیں۔ یہ تو کائنات کے گھٹیا اور جاہل ترین افراد ہیں، جو فسق و فجور میں لت پت ہیں۔ ان میں سے بظاہر قدرے بہتر وہ لوگ ہیں جو اسلامی جماعتوں کی طرف نسبت رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مصلحین ہیں لیکن
اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْن (سورۃ البقرہ:۱۲)
’’سن لو ! یہی لوگ مفسد ین ہیں لیکن انہیں شعور نہیں۔‘‘
(جاری ہے، ان شاء اللہ)




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



