بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تمام تعریفیں، بلا شبہ اللہ ہی کے لیے ہیں۔وہ اللہ جو ہمارا ربّ ہے،ہمارا ہے،ہمارا اللہ ہے!اسی نے ہمیں پیدا کیا اور وہی ہمیں موت دیتا ہے اور بلا شبہ اس نے موت و حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ دیکھےکہ ہم میں سے کون ہے جو بہترین عمل کرتا ہے۔
مع الأستاذ فاروق، استاد احمد فاروق کے ساتھ چند ملاقاتیں، ان کی چند یادیں، ان کی قیمتی باتیں، ان کی بعض ایسی باتیں جو مجھے خاص طور پر اچھی لگیں۔ حضرتِ استاذ سے آج تک جتنی ملاقاتیں رہیں، سب کا احوال اور سب کی سب تو یاد نہیں، لیکن جتنی ذہن میں تازہ ہیں سب ہی لکھنے کا ارادہ ہے کہ یہ ان شاء اللہ توشۂ آخرت ہوں گی، مجھ سمیت حضرتِ استاذ کے محبّین کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہوں گی۔اللہ تعالیٰ صحیح بات، صحیح نیت اور صحیح طریقے سے کہنے والوں میں شامل فرما لے۔نوٹ: اس سلسلہ ہائے مضامین میں جہاں بھی ’استاذ‘ کا لفظ آئے گا تو اس سے مراد شہید عالمِ ربّانی استاد احمد فاروق (رحمہ اللہ) ہوں گے۔
جواد عارف شہید[۲]
الحمد للہ وکفیٰ والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء.
اللّٰھم وفقني کما تحب وترضی والطف بنا في تیسیر کل عسیر فإن تیسیر کل عسیر علیک یسیر، آمین!
استاذ علیہ الرحمۃ نے، اپنے دستِ راست و نائب اور میرے مکرم شیخ سے ایک بار فرمایا کہ ’دو ساتھیوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیے گا‘، ان میں سے ایک مصعب بھائی تھے۔ شیخ نے مجھے بتایا کہ ان ساتھیوں خاص کر مصعب بھائی کی صفت یہ تھی کہ غیبت نہ سنتے تھے نہ کرنے دیتے تھے۔ اگر کسی محفل میں غیبت ہوتی تو مصعب بھائی روکتے، اور اگر روکنے کی استطاعت بوجوہ نہ رکھتے تو ناگواری کے احساس کے ساتھ مجلس سے اٹھ جاتے۔ یہ طریقہ بہت کارگر ہے، بعض دفعہ زبانِ قال کے بجائے زبانِ حال کا کہا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
اللہ والوں کا ایک رعب ہوتا ہے، وہ بظاہر بے شک چھوٹے قد کے، دھان پان سے، پتلی ٹانگوں اور بازؤں والے ہی کیوں نہ ہوں، ان کا رعب ان کی للہیت کے سبب ہوتا ہے۔ پھر اگر ظاہر میں وہ عمر و مرتبے میں کم ہی کیوں نہ ہوں، تب بھی ان کا رعب بادشاہوں کے دلوں میں ہوتا ہے اور بادشاہ ان کا نام سن کر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ مصعب بھائی کا رعب ان دونوں مذکور جہتوں میں تھا۔
اہلِ ایمان پر بھی ان کا ایک رعب تھا کہ ان کے سامنے چاہے عمر میں بڑے لوگ ہی کیوں نہ ہوں وہ بعض ’مباح‘ باتیں کرتے بھی جھجکتے تھے۔ میں نے ایک سفید ریش بزرگ کو دیکھا جو مصعب بھائی کے سامنے مؤدب ہو کر بیٹھتے تھے۔ مصعب بھائی بلا ضرورت ’انگریزی‘ کے الفاظ کے استعمال کو اچھا نہیں سمجھتے تھے (جیسا کہ ہمارے معاشرے میں ’ضرورت‘ کے تحت نہیں ’مغرب زدگی‘ کے سبب ’I think‘، ’you know‘ اور ’actually‘ وغیرہ وغیرہ رائج ہو گئے ہیں اور جسے شیخ احسن عزیزؒ کی استعمال کردہ اصطلاح میں ’اُردش‘ کہتے ہیں، یاد آیا کہ مجاہدین میں اس ترکِ انگریزی کی تحریک کے مؤسس شیخ احسن عزیز رحمہ اللہ ہی تھے)۔ یوں ایک بزرگ ساتھی نے ایک محفل میں ایک انگریزی کا لفظ استعمال کیا، تو لفظ ادا کرتے ہی جھجک گئے اور مصعب بھائی کی طرف دیکھا۔ لیکن مصعب بھائی کی تواضع بھی بہت اعلیٰ تھی کہ نہ ان بزرگ کی طرف دیکھا، نہ محفل میں کسی اور کو اس بات کا احساس ہونے دیا تاکہ وہ بزرگ شرمندہ نہ ہوں۔ اب یہ دونوں ہی عرش تلے معلق قنادیلِ ذہبیہ میں ہیں اور ان شاء اللہ جہاں چاہتے ہیں جنت میں اڑتے پھرتے ہیں، أحسبہٗ کذلك۔
رعب کی بات ہو رہی تھی، تو دوسری طرف وقت کے ظالموں پر بھی مصعب بھائی کا بہت رعب تھا۔ یہ بات الگ ہے کہ ظالموں کے پاس طاقت بے شمار ہے جس کے سبب ان کا مرعوب ہونا ہمیشہ ظاہر نہیں ہوتا، لیکن خود سوچیے کہ آج کے دور میں بنا کسی حفاظتی زرہ یا حفاظتی جیکٹ کے ایک عام سے کپڑوں میں ملبوس، کسی بیرک میں نہیں عام سے مسکینوں والے گھر میں موجود، محض کلاشن کوف اور اس کے محدود ایمونیشن والے مجاہد فی سبیل اللہ کے پیچھے جب دشمن اپنے لاکھوں ڈالر کے وسائل جھونک دے تو یہ اس کا خوف نہیں تو اور کیا ہے؟ جب دشمن کے ڈرون طیارے، جاسوس، انٹیلی جنس ایجنٹ اور طرح طرح کے وسائل جن سے ہم واقف بھی نہیں کسی شخص کے پیچھے ہوں تو یہ اس فقیر منش کا خوف ہی تو ہے جو دشمنوں پر طاری ہے! میرے استاذِ ذی قدر مولوی حافظ تائب صاحب (حفظہ اللہ من کل شر وسوء) اکثر فرماتے ہیں کہ ’اللہ پاک نے مجاہدین کو بھی اس رعب میں سے حصہ دیا ہے جو رعب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا کہ حضورؐ نے خود فرمایا: ’’نُصِرتُ بِالرُّعب‘‘، یعنی کفار پر رعب کے ذریعے میری نصرت کی گئی‘۔
مصعب بھائی کا معاملہ ایسا ہی تھا۔ اللہ پاک نے مصعب بھائی رحمہ اللہ سے بہت سے عظیم کام لیے۔ امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی انٹیلی جنس، بلکہ رنگت اور زبان محض مختلف لیکن اپنے باطن میں عقیدے و نظریے کے اعتبار سے امریکی1’ہمارے‘ ان ’دیسی‘ لوگوں کے بارے میں اوریا مقبول جان صاحب نے ایک بڑی اچھی اصطلاح استعمال کی ہے، اور وہ ہے ’ناریل‘۔ کہتے ہیں جیسے ناریل اوپر سے بھورا ہوتا ہے اور اندر سے سفید، اس طرح ہمارے یہ ’دیسی‘ لوگ ہیں، جن کی چمڑی تو ہندوستانی رنگت والی ہے لیکن دل گوروں کے ہیں۔ ، یعنی منافق اور جہنم کا اسفل طبقہ، متعدد بار مصعب بھائی کا ہدف بنا۔
ان اہداف میں جرنیلوں سے لے کر چھوٹے درجے کے افسر لفٹین و کپٹین جہنم رسید ہوتے رہے۔ یہ انٹیلی جنس کا طبقہ وہ ’طائفہ‘ ہے جو اپنے ہی اعلیٰ ترین عہدے پر فائز جرنیلوں کو بھی تعذیب دینے اور قتل کرنے سے نہیں چُوکتا اگر وہ ایمان کی راہ اختیار کر لیں، تفصیل کا یہ مقام نہیں لیکن جنرل شاہد عزیز صاحب شہید (رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ) اس کی ایک بڑی مثال ہیں جنہیں ایمان کی پکار پر لبیک کہنے کے جرم میں آئی ایس آئی کے ٹارچر سیلوں میں شہید کر دیا گیا۔
جب پاکستان میں مصعب بھائی کا امریکی مفادات پر ضربیں لگانے کا علم ایجنسیوں کو ہوا تو وہ اپنے سارے وسائل کے ساتھ ان کے پیچھے پڑ گئے۔ اسلام آباد تا کراچی جا بجا چھاپے مارے گئے لیکن جسے بچانے کا فیصلہ ’مولا‘ کر لے اسے تو کانٹا چبھونا بھی ساری مخلوقات جمع ہو جائیں تو ان کے لیے ممکن نہیں۔
ہم اکثر محمد بن قاسم اور اس طرح کے نو عمر ماضی کے کرداروں کو دیکھ کر fantasise کرتے ہیں2معذرت، مجھے اپنی کم علمی کے سبب اس کا اردو متبادل نہیں ملا۔۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اپنے ارد گرد موجود کرداروں کو بھول جاتے ہیں۔ کراچی کے شاعر ’عابی مکھنوی‘ نے ایک بار لکھا تھا (تصرف کے ساتھ)کہ اگر ہم غور کریں تو ایک سے ایک ’صلاح الدین‘ ہمارے ہاں پڑا ہے لیکن وہ سپاہی موجود نہیں جو جب صلاح الدین کے گرد جمع ہوتے ہیں تو القدس فتح ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ محمد بن قاسموں کے ساتھ بہت سے اور بھی ہوتے ہیں جو سمع و طاعت سے اور اپنی جانیں فدا کر کے اس کو محمد بن قاسم بناتے ہیں، اس بات سے بڑے کرداروں اور شخصیات کی نفی مراد نہیں ہے۔ خیر مقصود یہ ہے کہ مصعب بھائی سے لے کر برہان وانی اور ذاکر موسیٰ تک بہت سے ابنِ قاسم موجود ہیں، کچھ معروف ہو گئے اور کچھ منظرِ عام پر نہ ابھرے اور یہ دنیا تو عبرت کی جا ہے، تماشہ نہیں ہے کہ ہر ابنِ قاسم سٹیج پر ہیرو کے طور پر ابھرے اور مقصودِ اصلی تو رضائے رب ہے، ابنِ قاسم کی صورت میں حاصل ہو یا آخری صف میں لڑتے گمنامی کی زندگی گزارتے مجاہد کی صورت میں۔ یہ تو گاہِ آزمائش ہے، ابنِ قاسم الثقفی سے لے کر آج کے مصعب بھائی جیسوں کا مقصدِ اصلی تو اللہ کو منانا اور جنتوں کا حصول تھا اور ہے۔
جب مصعب بھائی شہید ہوئے اور یہ خبر حضرتِ استاذ نے مجھے سنائی جس کا ذکر پہلے کی نشستوں میں گزرا ہے تو اس سے اگلے دن استاذ نے مجھے ان کی بعض کارروائیوں میں شمولیت کے واقعات سنائے، یہ سن کر بھی پہلے پہل میرے ذہن میں وہی خیالات ابھرے جو پچھلے نثر پارے میں لکھ آیا ہوں۔ یہ خیالات استاذ کے سامنے بھی بیان کیے تو وہ مسکرانے لگے۔
ان کارروائیوں کی تفصیل یہاں بعض مصلحتوں کی بنا پر بیان نہیں کی جا سکتی، لیکن اللہ پاک سے امیدِ قوی ہے کہ وہ دن جلد آئے گا جب مصلحتوں کا یہ پردہ اٹھے گا اور ان باتوں کا ذکر ہو سکے گا۔
بہر کیف ان کی چند ذہن میں گردش کرتی دیگر باتیں عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
مصعب بھائی نے ایک بار اسلحے سے بھری ہائی ایس گاڑی کا سارا اسلحہ کمال ذہانت کے ساتھ منتقل کیا۔ ان کے ذمے لگایا گیا کہ وہ اس اسلحے (کلاشن کوفوں)کو اسلام آباد کے قلب میں پہنچائیں، جہاں امریکی اور ان کی پالتو ’ناریل‘ ایجنسیوں کے مراکز ہیں۔ پھر محض اسلام آباد کی حدود میں اسلحے سے بھری گاڑی کو داخل کر دینا ہی مطلوب نہ تھا بلکہ اس گاڑی سے نکال کر ایک اور جگہ منتقل بھی کرنا تھا۔
اسلحہ ہائی ایس کے مختلف خفیہ مقامات میں چھپا ہوا تھا۔انہوں نے گاڑی کو اپنے ایک رشتہ دار کے گھر کے پاس کھڑا کیا اور دوسری گاڑی لینے کے لیے گئے جس میں اسلحہ مقررہ جگہ پر پہنچانا تھا۔ پھر دوسری گاڑی بھی لے کر قریب میں آ گئے اور دوپہر تک کا انتظار کیا جس وقت لوگ عموماً قیلولہ کرتے ہیں۔ جب انہوں نے اچھی طرح تسلی کر لی کہ گھر والے اب سو رہے ہوں گے تو ان کے گھر کا گیٹ کھولا اور گاڑی کو گیراج کے بالکل سامنے کھڑا کیا اور اس کا انجن بند کر دیا۔ پھر اترے اور اکیلے گاڑی کو دھکا دے کر اندر کیا اور دوسری گاڑی کے ساتھ بھی یہی کیا۔ گیٹ بند کیا اور نہایت سرعت سے ایک گاڑی سے دوسری گاڑی میں اسلحہ منتقل کیا۔
یہاں سرعت سے استاذ ہی کا ایک قول یاد آ گیا۔ بڑے اچھے انداز سے ایک بار آپ نے فرمایا ’جلد بازی ایک چیز ہے اور سرعت یا تیزی سے کام کرنا دوسری چیز ہے، ہم اکثر ان دونوں کو گڈ مڈ کر جاتے ہیں۔ جلد بازی ایک مذموم چیز ہے (کہ ہنگامہ سا کھڑا کر دینا )اور سرعت یا تیزی سے کام کرنا ایک بالکل مختلف چیز ہے اور تیزی سے کام کرنا بعض دفعہ مطلوب ہوتا ہے!‘۔
خیر مصعب بھائی نے اسلحہ منتقل کرنے کے بعد اسی طرح سے گاڑیوں کا انجن چالو کیے بغیر باہر نکالا، گھر کا گیٹ بند کیا اور اسلحہ متعلقہ ساتھیوں تک مقررہ جگہ پر پہنچا دیا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی کہ کون اسلحے سے بھری گاڑی لے کر شہر میں داخل ہوا اور کس گھر میں گیا اور کہاں پہنچایا، الحمدللہ!
مصعب بھائی کی شہادت کا واقعہ تو ’شہادتِ اسماعیل‘ کے عنوان تلے گزر چکا ہے۔ ان کی شہادت کے قریباً ایک سال بعد راقم اپنے مرشد حضرتِ اسامہ ابراہیم غوری شہید ؒ کے پاس بیٹھا تھا اور مصعب بھائی ہی کا ذکر خیر ہو رہا تھا تو مرشد شہیدؒ نے مصعب بھائی کے چند نایاب واقعات سنائے۔ مصعب بھائی سے مرشد کی محبت کا احوال بھی بَالفاظِ استاذ گزر چکا ہے۔
مرشد نے بتایا کہ ’مرکزی جماعت القاعدہ‘ کے ایک سرکردہ قائد شیخ خالد الحبیب شہیدؒ نے غالباً شیخ احسن عزیز شہیدؒ (جو اس وقت مصعب بھائی کے امیر تھے) سے عملِ خارجی (بین الاقوامی کارروائیوں خصوصاً مغربی ممالک میں اہلِ کفر کے خلاف کارروائیوں) کے لیے ’مانگ‘ لیا، یعنی مصعب بھائی کو ان کے حوالے کر دیا جائے۔
مصعب بھائی جب میدانِ جہاد میں آئے تھے تو بہت کم عمر تھے اور چونکہ وہ آئے بھی حضرتِ استاذ ہی کی دعوت و ربط پر تھے تو شیخ احسن عزیز نے تعلیم و تربیت اور حفاظت و خیال کی غرض سے مصعب بھائی کو فاروق بھائیؒ ہی کے حوالہ کر رکھا تھا۔ یوں شیخ احسن عزیز نے اس معاملے میں استاذ سے پوچھا اور آخر کار مصعب بھائی کو شیخ خالد الحبیب کے حوالے کر دیا گیا۔
مصعب بھائی کی اس کارروائی میں شمولیت بطورِ فدائی مجاہد کے تھی۔ لیکن ترتیبات مکمل نہ ہو سکیں اور غالباً چار ماہ تک مصعب بھائی اس کارروائی کی تنفیذ کے انتظار میں رہے۔ پھر اسی انتظار گاہ والے مرکز میں شدید بیمار پڑ گئے اور بالآخر اپنے گھر (جو اس وقت پاکستان کے شہری علاقوں میں ہی تھا) بھیجے گئے اور پھر شفایاب ہو کر میدانِ جہاد کو واپس لوٹے۔
اس واپسی کے بعد مصعب بھائی سے مرشد نے پوچھا کہ آپ کس طرح سے شہید ہو نا چاہتے ہیں اور کیا اگر اب بھی آپ کو فدائی کا موقع ملے تو آپ فدائی کریں گے؟ جواباً مصعب بھائی نے کہا کہ فدائی کا موقع ملے تو فدائی ضرور کروں گا، لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ فدائی مجاہد ہونے کے باوجود کوئی مجھے بتائے نہیں کہ فلاں ہدف کی طرف تم جاؤ اور استشہادی حملہ کرو (یہاں امیر کی اطاعت میں کمی یا نفی غرض نہیں تھی)، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایسے وقت میں شہید ہوں جب مجھے نظر آئے کہ اگر میں ابھی موت کو اللہ کے لیے اختیار کرنا چاہوں تو موت کو اختیار کر سکتا ہوں اور اگر زندگی چاہوں تو زندگی مل سکتی ہے (یہ بھی ظاہر ہے کہ ادائے عاشقی و مستیٔ ایمان میں بات ہو رہی ہے ورنہ بندے کے ہاتھ میں موت و حیات نہیں ہے اور مصعب بھائی خود اس بات کو بہتر جانتے تھے)۔
سبحان اللہ، جب میں نے مرشد سے مصعب بھائی کی تمنا کے یہ الفاظ سنے تو مجھے دو باتیں یاد آ گئیں۔ پہلے پہل تو ان کی شہادت کا منظر جس کو مجاہد قائد خرم سعید کیانی (قاسم بھائیؒ) نے استاذ کے نام اپنے خط میں بیان کیا تھا اور جو دیگر راویوں سے سن کر استاذ نے میرے سامنے بیان کیا تھا۔ جس کارروائی میں مصعب بھائی شہید ہوئے، اس کی ابتدا میں ہی احمد (سیّد فائز شاہؒ) بھائی زخمی ہو گئے تھے اور جاسوسوں کا سرغنہ بھاگ گیا تھا اور دشمن کا علاقہ ہونے نیز بھاری حفاظتی حصار کے سبب کارروائی کو جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ جب ساتھی پسپائی اختیار کرنے کا سوچ رہے تھے (اور یہ سب سوچ یقیناً لحظوں پر مبنی تھی) تو مصعب بھائی ، قاسم بھائی کے الفاظ میں ’شیروں کی طرح اس جاسوس پر لپکے اور جھپٹے‘۔ میں ایک لمحے کو اس سارے منظر کا تصور کرتا ہوں اور چشم تصور سے دیکھتا ہوں، ساتھ ہی مرشد کے بیان کو ذہن میں لاتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ مصعب بھائی کو اس لمحے ’بظاہر‘ زندگی یا موت کا اختیار حاصل ہو گیا تھا اور پھر کسی لحظے انہوں نے عیدِ قربان کے دن اپنی سب سے قیمتی شے قربان کرنے کا ارادہ کیا، ’ لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ ‘3’’تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔‘‘ (سورۃ آلِ عمران: ۹۲)، اور اللہ کے لیے مرنے کو زندگی پر ترجیح دی، وہ مرنا جو دراصل حیاتِ جاودانی کا آغاز ہے۔
دوسری بات وہ ذہن میں ابھری جو میں نے غالباً پہلی بار مصعب بھائی ہی کی زبانی سنی تھی۔ شہید مجاہد قائد ڈاکٹر ارشد وحیدؒ کے بھتیجے احلم وحید شہید کی شہادت پر بنی ایک ویڈیو میں ان کے متعلق چندکلماتِ تحسین مصعب بھائی کے بھی ہیں۔ اس میں مصعب بھائی ان بدوی صحابی (رضی اللہ عنہ) کا قول سناتے ہیں کہ جنہوں نے رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں جہاد میں مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ میرا مطمح تو یہ ہے کہ مجھے یہاں (حلق پر) تِیر لگے اور میں وہاں پر (جنت میں) داخل کر دیا جاؤں اور ان بدوی صحابی کو شہادت کے بعد اسی حالت میں پایا گیا کہ ان کے حلق پر تیر لگا تھا۔ جب رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا توآپ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ وہ اپنے اللہ کے ساتھ سچا تھا تو اللہ نے بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمایا۔
مصعب بھائی رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ، کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا، اللہ پاک ان کی شہادت قبول فرمائیں اور ان کے اس ذکر کو ان کے جنت میں بلندیٔ درجات اور راقم کے کفارۂ سیئات کے طور پر قبول فرما لے، آمین۔
مرشد شہیدؒ نے بتایا کہ ایک بار مجاہدین کے کسی مرکز میں حسبِ معمول رات کے پہرے کی ساتھیوں میں تقسیم ہوئی۔ مصعب بھائی کا بھی پہرہ لگایا گیا۔ لیکن اس رات مصعب بھائی پہرے میں سو گئے اور یوں ان کا پہرہ نہ ہوا اور باقی پہرے بھی اسی سبب سے منقطع ہو گئے۔ مرشد کہتے ہیں کہ امیرِ مرکز مصعب بھائی کے مزاج کو جانتے تھے سو انہوں نے بطورِ سزا مصعب بھائی کا اگلی رات پہرہ نہیں لگایا۔ کچھ لوگ تو اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ چلو رات کو جاگنے سے بچ گئے، لیکن پہرے کی فضیلت کے ’عارف‘ پر یہ سزا بہت ہی گراں گزری اور وہ رونے لگے اور امیر کی منت سماجت کر کے معافی مانگی اور اپنا بھی پہرہ لگوایا۔
مرشد نے مزید بتایا کہ گستاخ صلیبی ملک ڈنمارک کی حکومت سے انتقام لینے کے لیے، اسلام آباد میں واقع ڈنمارک کے سفارت (شرارت) خانے پر حملہ کرنے والے فدائی مجاہد ابو غریب المکیؒ کو وزیرستان سے اسلام آباد تک پہنچانے والے فردِ وحید اور پھر اسلام آباد میں مجاہدین کے مرکز سے ہدف کے قریب تک پہنچانے والوں میں سے ایک مصعب بھائی تھے۔
یہ چند صفحات مصعب بھائی کا حق ادا نہیں کر سکتے اور میں ان کے عارفینِ ناقصین میں سے ہوں۔ مصعب بھائی کی ایک صفت جس کے ذکر کے ساتھ ہی محفلِ استاذ کی حالیہ نشست کو برخاست کرتے ہیں، ان کا ساتھیوں کو نیکی کے کاموں کی تحریض دلانا اور صبر کی تلقین کرنا ہے۔ مصعب بھائی اکثر دیگر مجاہد ساتھیوں کو بوقتِ ملاقات یا اگر ملاقات کی سبیل نہ ہوتی تو بصورتِ خط نیکی کے کاموں کی تلقین کرتے۔ اسی طرح مخصوص ساتھی جس شعبے سے وابستہ ہوتا اس کی اہمیت کو بیان کرتے اور حق پر ثبات اور صبر کی نصیحت کرتے۔ اس طرح کے خطوط مصعب بھائی نے خود راقم کو بھی لکھے اور ایسے ہی ایک خط کا ذکر برادرِ حبیب داود غوری (حفظہ اللہ) نے بھی مجھ سے کیا۔
ایک بار مجھ پر کاموں کا ایک انبار تھا (یا مجھے محسوس ہوتا تھا)اور میں مقررہ وقت پر اپنے کام پورے کرنے میں دِقّت محسوس کر رہا تھا۔ اس کا ذکر میں نے داود بھائی سے کیا تو انہوں نے اپنی جیب سے ایک خط نکالا اور مجھے پڑھنے کو دیا۔ یہ مصعب بھائی کا داود بھائی کے نام لکھا ایک خط تھا۔ اس میں مصعب بھائی نے داود بھائی کو لکھا تھا کہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو شخص چاشت کی چار رکعتیں پڑھتا ہے اللہ پاک اس کے وقت میں برکت عطا فرماتے ہیں۔
اس نسخۂ برکت کو بہت سوں نے آزمایا ہے ، صدق اللہ و صدق رسولہ!
اللہ پاک تمام مجاہدینِ امت کی حفاظت فرمائیں اور ان سب کو حُسنِ خاتمہ عطا فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین!
وما توفیقي إلّا بالله. وآخر دعوانا أن الحمد للہ ربّ العالمین.
وصلی اللہ علی نبینا وقرۃ أعیننا محمد وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین.
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
- 1’ہمارے‘ ان ’دیسی‘ لوگوں کے بارے میں اوریا مقبول جان صاحب نے ایک بڑی اچھی اصطلاح استعمال کی ہے، اور وہ ہے ’ناریل‘۔ کہتے ہیں جیسے ناریل اوپر سے بھورا ہوتا ہے اور اندر سے سفید، اس طرح ہمارے یہ ’دیسی‘ لوگ ہیں، جن کی چمڑی تو ہندوستانی رنگت والی ہے لیکن دل گوروں کے ہیں۔
- 2معذرت، مجھے اپنی کم علمی کے سبب اس کا اردو متبادل نہیں ملا۔
- 3’’تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔‘‘ (سورۃ آلِ عمران: ۹۲)


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



