حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’خوشخبری ہے اجنبیوں کے لیے‘‘، تو پوچھا گیا کون اجنبی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ فرمایا ’’برے لوگوں کی کثرت میں (گھِرے ہوئے) نیک لوگ ۔ جو ان کی نافرمانی کریں گے، وہ ان کا کہنا ماننے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں گے ‘‘ ۔ (مسند احمد)
یہ وہ اجنبی ہیں جو موت کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اگر یہ موت سے اس قدر محبت کرنے والے نہ ہوتے تو اتنے بڑے لشکر، غیر معمولی چھاپہ ماردستوں، جنگی جہازوں، بری فوج کے توپ خانوں کے سامنے کبھی نہ ٹھہر پاتے، مگر ایمان کی حلاوت، جذبوں کی صداقت، عزائم کی پختگی، اخلاص و شجاعت، رب کی جنتوں کا حصول انہیں موت کے ان پیغامبرں سے الجھنے کا حوصلہ دیے ہوئے ہے۔ پھر ایمان کی طاقت ہی تو ہے جو ان اجنبیوں کا سب سے قوی ہتھیارہے، اللہ کی ذات پر کامل یقین اور اس کی ذات پر توکل ( بھروسہ) ہی ہے کہ ان کا ایمان اپنے معجزات بھی دکھاتا ہے جبھی تو كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةًۢ بِإِذْنِ اللَّهِ کی عملی تصویر ہر دور میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔
یہ اجنبیوں کا قافلہ ہے جس کے راہیوں نے اپنے رب کی طرف جانے والے راستے کو پہچان لیا ہے، جو کامیابی اور ناکامی کے اصل معیار سمجھ چکے ہیں، جو علم پرعمل کرتے ہیں۔ ان اجنبیوں نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا جو آزمائشوں اور سختیوں سے گھیرا گیا ہے۔ ایک ایسی راہ جس پرقدم قدم پرزخم، معذوری، قید و بند کی صعوبتیں، ظلم وتشدد، تعذیب اور بالآخر موت سامنے کھڑی رہتی ہے ۔ یہ اجنبی تعداد میں بہت کم تھے کہ اسلام آباد سے اٹھنے والی شریعت یا شہادت کی صدا، بہنوں کے بہتے لہو، پاک دامن عزتوں کی پامالی، بھائیوں کے پامال ہوتے لاشے، قرآن کے جلتے اوراق اور جامعہ حفصہ و لال مسجد کی شہادت نے سوتوں کو جگایا بے، بےحمیت لوگوں کو حمیت دلائی، غیرت مسلم جاگ اٹھی، خواب غفلت میں غرق جسموں میں بجلیاں کوندیں پھر یکا یک دیکھتے ہی دیکھتے ان اجنبیوں میں اضافہ ہونے لگا۔ قافلوں کی صورت، ٹولیوں کی شکل میں، انفرادیت میں، خاندانوں کے روپ میں، دوستوں کے گرہوں میں، ہر کوئی جس طرح راہ پاتا اجنبیوں کے قافلے میں شامل ہونے کے لیے نکل پڑتا ۔ یہ لوگ اجنبی ہیں اپنے وجود میں، اپنی سوچ میں، اپنی فکر میں، اپنے قول میں، اپنے کردار وعمل میں، اپنی تہذیب و معاشرت میں، اپنی ضروریات و ترجیحات میں ۔ یہ لوگ دنیاداروں سے بالکل مختلف ہیں ۔ انہوں نے اس دنیا کو جوتے کی نوک پر رکھ کر ٹھکرا دیا کہ جس دنیا کی چوکھٹ پریہ دنیا دار لوگ سجدہ ریز ہیں ۔ جو اپنے آپ کو الحکیم سمجھتے ہیں مگر پھر بھی آنکھوں دیکھے فتنوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ان اجنبیوں نے اس دنیا کی زیب و زینت کو ٹھکرا دیا کہ جس کی چاہ میں بہت سے حب دنیا رکھنے والے جان سے ہاتھ دھو کر خاک میں مل گئے ۔
سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا ‘‘۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، ابن ماجہ)
یہ وہ اجنبی ہیں جو عرب و عجم کی بستیوں سے نکل کر گھروں سے دور گھنے جنگلوں، سنگلاخ پہاڑوں، ویرانوں اور بیابانوں میں امت کا غم دل میں لیے نکلے ہیں دل ان کی عظمت اور بلند رتبے پر فخر کرتا ہے، نگاہیں ان کی محبت و عقیدت میں آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتی ہیں، یہ اجنبی اگر رات کو راہب ہوتے ہیں تو دن کو میدان قِتال کے شہسوار، یہ راتوں کو اپنے رخساروں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں تو دن کو چمنِ اسلام کی آبیاری کے لیے اپنے جسموں کو ٹکڑوں میں بٹوا دیتے ہیں ۔ ہمارے دل ان کی طرف جھکے چلے جاتے ہیں، سینوں میں رب کعبہ کے دیدار کی تمنا انگڑائی لیتی رہتی ہے کہ جس کے شوق میں یہ اجنبی جان تک سے گزر جاتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی اس سعادت پر شاداں و فرحاں رہتے ہیں ۔ درہم و دینار کے بندے حب دنیا کے اسیر انہیں بار بار دنیا کی رنگینیوں، پر تعیش زندگی، نرم گرم بستروں، اعلیٰ عہدوں، بڑے بڑے بنگلوں، رنگین خوبصورت گاڑیوں، مال و دولت کی ریل پیل کے حسین خواب دکھا کر راہِ شوق سے موڑنے کی کوشش کر چکے مگر ان کے دلوں کو کبھی خوداری اور لالچ و طمع کا اسیر نہ بنا سکے ۔ ان اجنبیوں نے جہالت کی تاریکیوں میں اپنے لیے سیرتِ نبوی سے منور راستہ تلاش کیا ، وہ راستہ جو کامیابی کا راستہ ہے، یہ وہ راستہ ہے جو عزت و رفعت کی معراج پر پہنچا دیتا ہے ۔ اس کارواں میں شامل بہت سے اجنبی اپنی نذر پوری کر چکے ہیں اور بہت سے اپنی باری کے منتظر ہیں ۔
مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عٰهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضٰى نَحْبَهُۥ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ( سورۃ الاحزاب)
’’مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا اسے سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقع کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔‘‘
یہ اجنبی موت کی تلاش میں اس طرح سرگرداں رہتے ہیں جیسے درہم و دینار کے بندے حصول دنیا کی حرص میں مادی چیزوں کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ اس کارواں میں شامل بہت سے اجنبی ایسے بھی ہیں کہ آج دنیا ان کے نام تک سے واقف نہیں مگر تاریخ کے کاتب کو اگرچہ ان کے نام و احوال نہ بھی معلوم ہوں تو بھی وہ ان کا ذکر کیے بغیر تاریخ مکمل نہیں کر پائے گا، ایسے ہی تین پرنور ستارے شفیق بھائی، عبدالصبور بھائی اور حیدر بھائی بھی ہیں جو اس اجنبیت کی راہ میں اپنی جان تک وار گئے ۔ (نحسبه کذالک واللہ حسیبه)
شفیق شہید
ہر شخص کو اپنے نام سے کچھ حصہ ضرور ملتا ہے، اگر چہ آپ کا اصل نام عامر تھا مگر آپ اپنے جہادی نام کی طرح طبعاً شفیق تھے۔ آپ رحمہ اللہ کو اللہ پاک نے آپ کے نام کی طرح انتہائی شفقت و محبت کرنے والا اورساتھیوں کا خیال رکھنے والا بنایا تھا۔ بے حد پیارا انداز گفتگو ، حلیم و شفیق طبیعت کے مالک، ساتھیوں سے محبت کرنے والے، ساتھیوں کو جب بھی پکارتے تو اپنے مخصوص پنچابی لہجے میں پیارے بھائی کہہ کر پکارتے ۔ شفیق بھائی کا یہ شفقت بھرا انداز آج بھی کانوں میں گونجتا۔ ہے جب کبھی آپ کی یاد آتی ہے تو آنکھیں آپ کو آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرنے لگ جاتی ہیں ۔ آپ کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ سےتھا۔ دیہاتی ماحول میں پروش پانے کی وجہ سے فطری طور پر جفاکشی و سخت جانی کا مادہ زیادہ تھا۔ سخت مشقت والے کام بھی آپ انتہائی جانفشانی سے کرتے ۔ کام لگن یکسوئی اور توجہ سے کرتے ۔ مراکز کی تعمیر ہو یا ساتھیوں کی ضروریات پوری کرنی ہوں آپ ہر کام میں پیش پیش رہتے۔ مجھے یاد ہے جب ہماری تدریب چل رہی تھی تو مون سون کی بارشوں کی وجہ سے ہمارے کمرے کی چھت ٹپکنے لگ گئی۔ یہ چھت کیا تھی ایک پھٹا پرانا ٹاٹ تھا جس میں جا بجا سوارخ تھے۔ بارش بہت شدید تھی آپ اسی حالت میں باہر گئے اور چھت کو ٹھیک کرنے لگے ۔ اے شفیق بھائی مجھے یاد ہے میں پاکستان میں تھا۔ جب آپ کی شہادت کی خبر ملی تو دل غم زدہ ہوگیا تھا، آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک لڑی سی روانہ ہوگئی ۔ یہ آپ کا حق بھی تھا کہ آنکھیں آپ جیسے محبت و شفقت رکھنے والے بھائی کی شہادت پہ روئیں ۔
شرم و حیا کے پیکر شفیق بھائی مجاہدین میں ہر دلعزیز تھے۔ چھوٹی چھوٹی سنتوں پہ عمل پیرا رہتے۔ علم و عمل ایسا کہ جب بھی کوئی اچھی بات یا حدیث سنتے تو فوراً اس پر عمل کرتے ۔ نمازیں انتہائی عاجزی اور خشوع و خضوع سے ادا کرتے، نوافل اور قیام الیل کا خوب اہتمام کرتے، آپ کی کوئی رات ایسی نہ گزرتی جب نالۂ نیم شب میں آپ اپنے رب سے محو دعا نہ رہتے ہوں ۔
شجاعت و بہادری آپ کا خاصہ تھا۔ آپ بڑے اسلحے کے ماہر بھی تھے ۔ وزیرستان میں رخہ کے محاذ پر موجود نوااڈہ میں قائم کینیڈین فوج اور ان کے غلاموں کے خلاف اور انگور اڈہ کے خط اول سے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں موجود امریکی ائیربیس مچہ داد اور غلام ملی آرمی کے کیمپ مدا شامی پرمصروف قتال رہے ۔
حیدر اور عبد الصبور شہید
جہاد پاکستان کے راہیوں کے ہمرکاب ہوئے ابھی چند دن ہی ہوئے تھے کہ ہمیں تدریب کے لیے رخہ کی طرف لے جایا گیا۔ دراصل یہ خط اول پر موجود مجاہدین کا مرکز تھا۔ یہ مرکز ایک ایسی وادی میں تھا جہاں چاروں طرف بلند بالا پہاڑ اور اونچے اونچے چلغوزے کے درخت تھے اور ان پہاڑوں کے درمیان جا بجا قدرتی صاف پانی کے چشمے اور آبشاریں جاری تھیں۔ جب اس درے میں قدم رکھا تو نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ الفاظ کانوں میں گونجنے لگے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو اس وقت کہے جب انہوں نے آپ سے سیاحت کی اجازت مانگی ۔ نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جہاد کرو یہی میری امت کی سیاحت ہے ‘‘۔
اس سر سبز و شاداب علاقے کا موسم بہت ہی خوشگوار ہے ۔ یہ علاقہ انتہائی خوبصورت اور سرد علاقہ ہے اس مرکز سے مغرب کی جانب افغان سرحد تھی جسے اللہ کے شیر مجاہدین اسلام ہر روز یا ہفتے میں دو تین بارضرور اپنے پاؤں تلے روند کر اندر داخل ہوتے اور صلیب کے پجاریوں پہ مختلف نوعیت کی کارتوائیاں کرتے ۔ اس مرکز میں پہنچنے کے بعد سب سے پہلی ملاقات حیدر بھائی سے ہوئی اور اسی مرکز میں عبد الصبور بھائی کو پہلی دفعہ دیکھا ۔ مجھے اپنے ان شہداء کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقعہ تو نہ مل سکا البتہ ہفتہ بھر ساتھ رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
حیدر و عبد الصبور بھائی کا تعلق بھی صوبہ پنجاب سے تھا ۔ دونوں بھائیوں کو ہی مثالی کردار و عمل کا حامل پایا ۔ قربانی ایثار کرنے والے اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینے والے گویا ’’ وَیُؤُثِرُونَ عَلیٰ اَنفُسِھِِم لَو کَانَ بِھِم خَصَاصَۃ ‘‘۔ ہر وقت رب کی جنتوں کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ۔ اکثر بھائیوں سے ذکر خیر ہی سنا ۔ غیبت فضول گوئی اور لایعنی باتوں سے اجتناب برتنے والے، اپنی زبانوں کو ذکر خیر اور تلاوت قرآن سے تر رکھنے والے، دونوں بھائی شہادت کی تلاش میں سرگرداں اکھٹے ہی نظر آتے۔ ان کی آپس کی دوستی بھی مثالی تھی، میدان جہاد و رباط میں بھی اکھٹے رہے اور شہادت بھی اکھٹے پائی ۔
تو اپنے تیر و تفنگ آزما اے دشمن
مگر یہ سن لے میرا حوصلہ نہ ٹوٹے گا
ہر شہید کے بعد آئے گا اک اور شہید
شہادتوں کا یہ حسیں سلسلہ نہ ٹوٹے گا
یکم رمضان المبارک چودہ سو اٹھائیس ہجری بمطابق اگست دوہزار آٹھ، جنوبی وزیرستان وانا سے چند کلو میٹر دور زڑی نور میں مجاہدین اپنے مرکز میں بعد از نماز ِظہر ذکر اللہ اور تلاوتِ قرآن پاک میں مصروف تھے …… کہ فضا میں اڑتے ڈرون طیارے نے یکے بعد دو میزائل فائر کیے۔ اس حملے میں پانچ مجاہدین شفیق بھائی، حیدر بھائی، عبدالصبور بھائی (پنجاب) شبیر بھائی (کراچی) جبکہ عثمان بھائی (دِیر) فوراً ہی محو پرواز جنتاں ہوئے، جبکہ عثمان بھائی کے بڑے بھائی مولانا سعید اللہ شدید زخمی ہوئے جو بعد از دس روز گیارہ رمضان المبارک کو اپنی منزلِ مراد پا گئے ۔ (نحسبہ کذالک واللہ حسیبہ)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے شہداء کو فردوس اعلیٰ میں انبیاء، صدیقین، شہداء و صالحین کی معیت نصیب فرمائیں اور ہمیں بھی اپنے ان پیش روؤں کے نقش پا پر چلتے ہوئے مقبول شہادت نصیب فرمائیں، آمین!






