نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی شرعی حیثیت | تیسری قسط

by مولانا محمد احمد حافظ
in جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!, اگست 2020
0

تکمیل دین کا انکار

قرآن مجید میں فرما دیا گیا ہے : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً……اکمال دین اور اتمام نعمت کے بعد کافرانہ نظام حکومت کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا اور اس پر مداومت اختیار کیے رکھنا تکمیل دین اور اتمام نعمت کا انکار ہے۔تکمیل دین و اتمام نعمت کا مطلب ہی یہ ہے کہ سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے آغاز ہونے والے دینِ اسلام کا سلسلہ تدریجی مراحل طے کرتا ہوا نبیٔ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر اپنے اوج کمال کو پہنچ گیا،اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب ہدایت نازل کردی اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ہمارے نزدیک عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر زمانہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم کا عین مصداق تھا۔

تمام مسلمانوں کے لیے دین اسلام کی صورت میں ایک خاص طریقہ اور ضابطۂ حیات متعین کر دیا گیا ہے۔اب اس ضابطے سے باہر نکلنا کسی مسلمان کے لیے روا نہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی أَنْ أَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیْہِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَیْہِ(سورۃ الشوریٰ:۱۳)

’’اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اس نے نوح کو فرمائی اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسٰؑی کو دیا کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی طرف تم ان کو دعوت دے رہے ہو۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے:

ثُمَّ جَعَلْنَاکَ عَلَی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْہَا وَلَا تَتَّبِعْ أَہْوَائَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُونَ؀ (سورۃالجاثیۃ:۱۸)

’’پھر ہم نے تم کو ایک واضح شریعت پر قائم کیا تو تم اس کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔‘‘

قرآن مجید کی ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کے لیے طریقۂ زندگی، ضابطۂ حیات،دائرۂ کار خواہ انفرادی معاملات ہوں یا اجتماعی معاملات، قانون شریعت ہی ہے،اس سے انحراف کی راہیں تلاش کرنا اور کسی دوسرے طریقۂ زندگی کو پسند کرنا جائز نہیں،ایسا کرنا بہت بڑا خسارہ ہے۔

ہمارے خیال میں سرمایہ دارانہ نظام میں شمولیت اختیار کرنے اور اس پورے نظام کو اس طرح اپنے اوپر حاوی کرلینا کہ شریعت معطل ہوجائے،احکامِ دین کھلم کھلا پامال ہونے لگیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جانے لگے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص ہندو ہوجائے، عیسائیت قبول کرلے یا بدھ مت اختیار کرلے،اس لیے کہ جمہوری نظام کو قبول کرنے اور اس پر مداومت اختیار کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ شریعت اب چند اجزا مثلاًعبادات کے علاوہ قابل عمل نہیں رہی اور خلافت کا ادارہ بحالتِ موجود ناقابل ِ قیام ہے۔ظاہر ہے یہ فکر اور طرزِ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں سند قبولیت حاصل نہیں کرسکتا،بلکہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے:

وَمَن یَبْتَغِ غَیْرَ الإِسْلاَمِ دِیْناً فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ؀(سورۃ آل عمران:۸۵)

’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب بنے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا۔‘‘

آخرت کی نامرادی اورخسارہ کیا ہے؟اس کی وضاحت بھی ایک دوسری جگہ ارشاد فرما دی گئی ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَائَ تْ مَصِیْراً؀(سورۃ النساء:۱۱۵)

’’اور جو کوئی راہِ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے گا اور مسلمانوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے گا تو ہم اس کے بعد اس کو اسی راہ پر ڈالیں گے جس پر وہ پڑا اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔‘‘

جمہوری نظام کفار کا طرزِ حکومت وسیاست ہے ،چنانچہ غیر سبیل المومنین ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہدایت آچکنے کے بعد کوئی دوسری راہ اختیار کرنا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے مومنین کے راستے سے الگ راہ نکالنا اپنی حقیقت کے اعتبار سے شرک ہے اور شرک ہر طرح کی برائیوں کا منبع ہے کیونکہ مشرک اللہ سے کٹ کر اپنی باگ شیطان کے ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے اور جو شخص اپنی باگ شیطان کے ہاتھوں میں تھما دے وہ معاشرے کا بدترین انسان ہوتا ہے۔غیر سبیل المومنین کے شرک ہونے کا قرینہ اگلی آیت ہے جس میں مذکورہ آیت (ومن یشاقق الرسول الخ)کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے:

اِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاء ُ وَمَنْ یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْداً؀(سورۃالنساء:۱۱۶)

’’بے شک اللہ اس چیز کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے ،اس کے نیچے جس چیز کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا وہ بہت دور کی گمراہی میں جاپڑا۔‘‘

اکثریتی بنیادوں پر فیصلوں کاباطل فلسفہ

جمہوری سسٹم میں فیصلوں کی بنیاد کتاب اللہ ،علم و حکمت نہیں بلکہ اکثریت جس چیز کو چاہے اس چاہت اور خواہش کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔جس امیدوار کو زیادہ ووٹ مل جائیں خواہ وہ کس قدر کرپٹ آدمی ہومگر دوسری طرف کوئی شریف امیدوار تھا اور اہل آدمی بھی ہے تب بھی مقابلے میں چونکہ پہلا شخص زیادہ ووٹ لے چکا ہے اس لیے وہی کامیاب کہلائے گا۔اسی طرح پارلیمنٹ میں بھی قوانین اکثریت کی بنیاد پر مرتب کیے جاتے ہیں۔ اکثریت کی بنیاد پر فیصلوں کا انعقاد بہت بڑی گمراہی اور ضلالت ہے،پھراکثریت بڑی جہلِ مرکب ہو تو اس کی گمراہی اور ضلالت میں کیا شک و شبہ ہو سکتا ہے۔یہ اکثریت جب پارلیمنٹ میں مفادعامہ کے لیے قوانین مرتب کرے گی تو اپنی افتادِ طبع ،نفسانی خواہشات اور جہالت کی بنیاد پر کرے گی۔چنانچہ زنا کا فروغ،سودی کاروبار کا استحکام اس پارلیمنٹ کا خاص وظیفہ ٹھہرتا ہے(جیسا کہ ہم حقوق ِ نسواں بل میں دیکھتے ہیں)۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے محض اکثریت کی بنیاد پر فیصلوں کو رد کیا ہے اور اکثریت کی پیروی کو ضلالت و گمراہی قرار دیا ہے۔ قرآن مجیدمیں ارشاد ہے:

وَإِن تُطِعْ أَکْثَرَ مَن فِیْ الأَرْضِ یُضِلُّوکَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ إِن یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ ہُمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ؀(سورۃالانعام:۱۱۶)

’’اور اس زمین والوں میں سے اکثر ایسے ہیں کہ اگر تم نے ان کی بات مانی تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کردیں گے ۔یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔‘‘

آیت کریمہ میں صرف اکثریت کو رد نہیں کیا گیا بلکہ اس کے بارے میں یہ حقیقت بھی بیان کر دی گئی کہ ان کے فیصلے محکم بنیادوں پر استوار نہیں ہوتے بلکہ وہ ظن وتخمین سے کام لیتے اور ہوا میں تیر چلاتے ہیں……بھلا ایسے لوگ بھی ملت کی قیادت و سیادت کے لیے اہل ہو سکتے ہیں؟ پھر اکثریت کو کسی ایک جگہ قرار نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے ہی عہد کو بارہا بدلتے رہتے ہیں اور یہ فساق و فجار کی خاص نشانی ہے۔دیکھیے قرآن مجید میں کس خوبی سے اس بات کو بیان فرماگیا ہے۔ ارشاد ہے:

وَمَا وَجَدْنَا لِأَکْثَرِہِم مِّنْ عَہْدٍ وَإِن وَجَدْنَا أَکْثَرَہُمْ لَفَاسِقِیْنَ؀ (سورۃ الاعراف:۱۰۲)

’’اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی،ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے۔‘‘

دورنبوت اور دورصحابہ و تابعین میں بھی کبھی اکثریت کی بنیادپر فیصلے نہیں کیے گئے۔ذخیرۂ احادیث میں بھی ہمیں کوئی ایک حدیث نہیں ملتی جس میں اکثریت کے فکرونظر اور فیصلوں کو سراہا گیا ہو اور اکثریت کو بطورِ اصول قبول کیا گیا ہو۔سچ تو یہ ہے کہ اکثریت کا فلسفہ باطل،گمراہی اور فسق فجور کے سوا کچھ نہیں۔

اسلام دین توحیدہے،وہ امت کو وحدت کا عقیدہ و نظریہ دیتا ہے،اسلام کے نزدیک تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں،وہ ایک جسم کی مانندہیں۔قرآن مجید نے مسلمانوں کو ، خواہ عرب کے ہوں یا عجم کے،شرق میں رہتے ہوں یا غرب میں سب کو ’’امت واحدہ ‘‘ کا عقیدہ دیا۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَإِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُونِ ؀ (سورۃالمومنون:۵۲)

’’بے شک تمہاری امت ہی ایک امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں ،پس تم مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

’’مثل المومنین فی توادھم وتراحمھم وتعافطھم مثل الجسد اذا الشتکیٰ عضوتداعی لہ سائراالجسد بالسطروالحسنیٰ. ‘‘(مسلم)

’’مسلمانوں کی مثال باہمی مودت ومرحمت اورمحبت اورہمدردی میں ایسی ہے جیسے ایک جسم کی،اگر اس کے ایک عضو میں کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو سارا جسم اس تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے۔‘‘

اس کے ہم معنی صحیحین کی حدیث ہے:

’’المؤمن للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضا.‘‘

’’ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایسا ہے جیسے کسی دیوار کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دیتی ہے۔‘‘

ان آیات واحادیث سے واضح ہوتا ہے کہ وحدت امت،اتحادواتفاقِ امت اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کتنا اہم ہے۔وحدتِ امت گویا مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا بنیادی مصدر ہے۔اور جو شخص اس وحدت کو ختم کرنے کے درپے ہو اس کے لیے شدید وعیدیں ہیں۔

ایک طرف دین اسلام کا یہ حکم ہے،دوسری طرف تقسیم،پارٹی بازی اور گروہ بندی جمہوری نظام کا بنیادی عنصر ہے۔کامیاب جمہوریت وہی تصور کی جاتی ہے جہاں حزب اقتدار کے مقابلے میں ایک مضبوط حزب اختلاف بھی ہو۔حزب اختلاف ایک پارٹی پر مشتمل ہو سکتی ہے اور کئی پارٹیوں کا مجموعہ بھی، بعینہٖ یہی صورت حال حزب اقتدار کی ہو سکتی ہے۔پارٹی کے اپنے نظریات اور اپنے اہداف ہوتے ہیں۔جمہوری سسٹم میں حصہ لینے والی تمام جماعتیں حقوق کی سیاست کررہی ہوتی ہیں۔حقوق کی سیاست کا مطلب اغراض کی سیاست ہے۔مثلاً ایک قوم پرست جماعت محض اپنی قوم کے مفادات کی سیاست کرتی ہے،وہ اپنے دائرۂ کار میں دوسری قوم کو شامل نہیں کرتی،لسانی بنیادوں پر قائم کوئی بھی جماعت دوسرے فرقے یا جماعت کے لیے کام نہیں کرتی۔مذہبی بنیادوں پر قائم کوئی بھی جماعت دوسرے فرقے یا جماعت کے مفاد کے لیے ہرگز کام نہیں کرتی۔چونکہ اغراض سب کی جدا جدا ہوتی ہیں اس لیے ہر چند افراد کا گروہ یا ایک جماعت بنا کر سرگرم ہوجاتا ہے،یوں تقسیم در تقسیم کا یہ عمل بڑھتا چلا جاتا ہے،آج ہم اس کے بھیانک نتائج کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔سیکولر اور قوم پرست جماعتوں کی ہم بات نہیں کرتے، یہاں تو علما کی جماعتیں ہی کئی کئی گروہوں میں بٹ گئیں۔جمہوری سسٹم میں مسلسل شمولیت کی وجہ سے اہل دین کی قوت بکھر گئی،ان کا رعب اٹھ گیا،وہ اجتماعی موقف نہ ہونے کی وجہ سے کوئی آواز اٹھاتے ہیں تو صدا بصحرا ثابت ہوتی ہے،ان کے جائز مطالبات کو بھی درخوراعتنا نہیں سمجھا جاتا ۔فاسق و فاجر حکمران اتنے جری ہو چکے ہیں کہ مسجدیں شہید کریں،معصوم طلبہ اور حیا وعفت کی پیکر طالبات کا قتل عام کریں، مجاہدین کو تہہ تیغ کریں،جہاد کو دہشت گردی قرار دیں،مجاہدین اسلام کو پکڑ پکڑ کر بگرام ، گوانتاناموبے اور ملک کے کونے کونے میں قائم عقوبت خانوں اوراذیت گاہوں کو آباد کریں…… انہیں کھلی چھوٹ ہے۔

جمہوری ریاست میں پارلیمنٹ کا کردار

پارلیمنٹ جمہوری ریاست کا وہ ادارہ ہے جہاں عوام ووٹ کے ذریعے اپنےنمائندوں کو چنتے ہیں تاکہ وہ ان کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے مفاد میں قانون سازی کریں۔بادی النظر میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ مگر اصلاً پارلیمنٹ سرمایہ داری کے نفاذ کا ادارہ ہے۔ سرمایہ دارانہ اداروں کی اسی کے ذریعے نموہوتی ہے۔پارلیمنٹ میں وہی قانون سازی کی جاتی ہے جو سرمایہ دارانہ مذہب و عقیدہ سے مطابقت رکھتی ہو،اگر عوامی خواہش اس کے برعکس ہوتو اس کی مزاحمت کی جاتی ہے بصورت دیگر اس پورے نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جاتی ہے۔جیسا کہ ہم صوبہ سرحد کی گزشتہ حکومت کے حسبہ بل کے ضمن میں دیکھتے ہیں یا جیسے الجزائر میں اسلامک فرنٹ کی کامیابی کے باوجود پورے نظام کی بساط لپیٹ دی گئی ۔ارکان پارلیمنٹ مقنن یاقانون ساز ہوتے ہیں اور یہ قانون سازی مذہبِ سرمایہ داری کے نصابی صحیفے انسانی حقوق کے چارٹر کے دیے گئے دائرے میں رہتے ہوئے ہوتی ہے۔قرآن و سنت اور اجماع امت کو حوالہ نہیں بنایا جاتا،بلکہ قرآن و سنت کے علی الرغم قانون سازی ہوتی ہے۔

یوں دیکھا جائے تو حکم اور حکومت کے وہ تمام اختیارات جو اللہ رب العزت کو سزا وار ہیں وہ ارکان پارلیمنٹ اپنے لیے خاص کرلیتے ہیں اور خود خدا بن بیٹھتے ہیں۔حقوق نسواں بل،سود کے حق میں گزشتہ حکومت کے فیصلے ،عائلی قوانین اور کئی دیگر ظالمانہ استبدادی قوانین ارکانِ پارلیمنٹ کی اسی الوہیت کے مظہر ہیں۔قرآن کریم اور سنت میں اس قسم کی قانون سازی کی کوئی گنجائش نہیں خصوصاً جو شخص اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلائے او رپھر مقنن بھی بن بیٹھے،یہ ایمان و اسلام کے ساتھ بدترین مذاق ہے۔قرآن مجید میں واضح ارشاد ہے :

۱. إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ(سورۃ یوسف:۴۰)

’’اختیار و اقتدار صرف اللہ ہی کا ہے۔اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو۔‘‘

۲. إِنَّ الأَمْرَ کُلَّہُ لِلَّہِ(سورۃ آل عمران:۱۵۴)

’’تحقیق سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘

ایک طرف قرآن حکیم کی آیاتِ محکمات ہیں دوسری طرف ارکان پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ وہ جو چاہیں قانون بنا دیں خواہ وہ کتاب اللہ کی مخالفت میں ہی کیوں نہ ہو…… یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ ہماری نظر میں:

  • کتاب اللہ کے استرداد(ویٹو) کا مرکز ہے۔

  • انسانوں کی حاکمیت اعلیٰ او راقتدار اعلیٰ کا مظہر ہے۔

  • کافرانہ و مشرکانہ اقتدار کا منبع ہے۔

  • فحاشی و عریانی ،زناوشراب اوراباحیت زدہ معاشرے کے تحفظ اور فروغ کا ادارہ ہے۔

  • سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کی ادارتی صف بندی کرنے کا مرکز ہے۔

یہ ہم نے جمہوریت کے بارے میں چند اصولی باتیں ذکر کی ہیں اور سرمایہ دارانہ مذہب کے چند اساسی نظریات کا تجزیہ کیا ہے۔ابھی ہم نے بہت سی تفصیلات کو چھوڑ دیا ہے۔ابھی جمہوری ریاست کی عدلیہ کا کردار بھی زیر بحث نہیں لایا جا سکا جو سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔یہ بات مخفی نہیں رہنی چاہیے کہ جب سرمایہ دارانہ عدل کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد ظلم ہی ہوتا ہے ،اس لیے کہ سرمایہ دارانہ مذہب جس چیز کو عدل تصور کرتا ہے اسلام کے نزدیک وہ عین ظلم ہے جیسے نظریۂ آزادی اور جس چیز کو اسلام عدل قرار دیتا ہے ، سرمایہ دارانہ مذہب اسے ظلم قرار دیتا ہے۔عبدیت،بندگیٔ الٰہ مثلاً اسلامی احکام جیسے چور کا ہاتھ کاٹنا، زانی کو سنگسار کرنا، شراب پینے پر کوڑے لگانا وغیرہ…… اسی طرح فوج، پولیس، بیوروکریسی، سٹاک ایکسچینج اور بینکنگ سسٹم کو بھی زیربحث نہیں لایا جا سکا۔

دراصل یہ پورا سسٹم تفصیلی تجزیے اور محاسبے کا متقاضی ہے اور یہ کام طویل دورانیے کا ہے۔ان شاء اللہ بتوفیق الٰہی آئندہ کبھی اس کی تکمیل کا بیڑا اٹھایا جائے گا۔ سردست جو تفصیل ہمارے سامنے آئی ہے اس کے مطابق سرمایہ داری جمہوریت ،انسانی حقوق کا چارٹر، کفر مطلق، شرک، ضلالت و گمراہی،بغاوت الٰہی اور بدترین ظلم و تعدی کا مجموعہ ہے۔ہم نے اس نظام کو اسی طرح کفر مطلق کہا ہے جس طرح یہودیت ،عیسائیت ،ہندومت، بدھ مت اور سکھ مت کفر مطلق ہے۔اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد اب ہمارے لیے آسان ہوگیا ہے کہ ووٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں بھی خامہ فرمائی کرسکیں۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

Previous Post

بیت المقدس کے کھونے کا سبب کون؟

Next Post

امامِ برحق | حصہ دوم

Related Posts

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | بارہویں اور آخری قسط

14 جولائی 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط

9 جون 2025
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | دسویں قسط

26 مئی 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | نویں قسط

31 مارچ 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | آٹھویں قسط

14 مارچ 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | ساتویں قسط

15 نومبر 2024
Next Post

امامِ برحق | حصہ دوم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version