پاکستان آج جن معاشی حالات سے گزر رہا اس میں پاکستان کے بڑھتے قرضوں اور ان پر دئیے جانے والے سود کی بازگشت بار بار سنائی دیتی ہے۔ ایک عرصہ تو قوم کو یہی بتایا بلکہ رٹایا گیا کہ چونکہ سویلین قیادت ، سیاستدان اور بیورو کریسی چور ہے، کرپٹ ہے اس لیے ایسا ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ جرنیلوں نے جنہیں اس قوم پر باری باری مسلط کیا ہے اور ری سائیکل کر کے مسلط کیا وہ کرپٹ تھے ۔ جرنیلوں کو ضرورت بھی ایسے افراد اور رہنماؤں کی رہی جو کرپشن کریں ، اور اسی کرپشن کی وجہ سے وہ جرنیلوں کے احتساب سے باز رہیں، جرنیلوں کے فیصلوں پر کسی قسم کی روک ٹوک نہ لگائیں اور اس پالیسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کی ذمہ داری بھی خود اٹھائیں اور عوام کی گالیاں سہیں۔ لیکن ایک بنیادی حقیقت جو تاریخ کی کتب میں موجود تو رہی لیکن نظر انداز ہوئی وہ یہ کہ جس وقت پاکستان بنا اس وقت اگرچہ عوام کی معاشی حالت ٹھیک نہیں تھی، لاتعداد مسائل تھے لیکن اس وقت بھی ان مسائل کی درستگی کے نام پر قرضوں کے حصول کی ابتدا نہیں کی گئی تھی بلکہ قرضوں کی ابتدا کا بنیادی سبب یہی تھا کہ اتنی بڑی فوج کے اخراجات کو کیسے پورا کیا جائے یعنی اس فوج کو سنبھالا کیسے جائے؟ صاف لفظوں میں اس وقت فوج کے اخراجات پورے کرنے کی فکر سب فکروں پر غالب تھی۔
قیوم نظامی لکھتے ہیں::
’’قیام پاکستان کے وقت مالی مسائل کی سخت کمی تھی ڈھاکہ میں جی ایچ کیو ہائی کورٹ کی بلڈنگ میں قائم کرنا پڑا راولپنڈی میں جی ایچ کیو مالی مشکلات کا شکار تھا فوج کے اخراجات کے لیے 35 سے 50 ملین روپے ماہانہ کی ضرورت تھی۔ مالی حالات اس قدر دگرگوں تھے کہ پاکستان کے وزیر خزانہ چوہدری محمد علی نے گورنر جنرل پاکستان قائد اعظم کی کار ری کنڈیشن کرانے کے لیے فنڈز مہیا کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ خزانہ خالی تھا۔‘‘ 1جرنیل اور سیاست دان تاریخ کی عدالت میں ص 33
برائن کلوگلے اپنی کتاب “A history of Pakistan Army” میں لکھتا ہے:
’’پاکستان کے پاس فوج کے لیے مناسب وسائل نہیں تھے، اکتوبر میں پاکستان نے امریکہ سے دو بلین ڈالر قرضے کی درخواست کی۔ ابتدا میں امریکہ نے پاکستان کے غیر یقینی مستقبل کی بنا پر قرضہ دینے سے گریز کیا۔ کشمیر پر پاکستانی فوج کی ناکامی کے بعد پاکستان کی سکیورٹی کا مسئلہ اس قدر اہمیت اختیار کر گیا کہ ابتدائی سالوں میں پاکستان کو اپنے بجٹ کا ستر فیصد دفاع پر خرچ کرنا پڑا۔‘‘
کشمیر کے نام پر فوج کے لیے بھاری بجٹ مختص کرنے کی جو ابتدا کی گئی وہ دہائیوں تک قوم اپنا پیٹ کاٹ کر برداشت کرتی رہی تاوقتیکہ پاکستانی جرنیلوں نے کشمیر سے دستبرداری کا رسمی طور پر اعلان بھی کر ڈالا۔ لیکن سوال تو سادہ سا ہے کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد کشمیر پر بھارتی قبضے کی وجہ پاکستان کے پاس وسائل کا نہ ہونا تھا یا کچھ اور؟ ایک وجہ تو یہ بتائی جاتی ہے کہ اس وقت کے کمانڈر ان چیف جنرل گریسی نے جناح کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
قیوم نظامی لکھتے ہیں:
’’جنرل شیر خان کی ہدایت پر قدرت اللہ شہاب نے ۱۹۴۷–۴۸ کی کشمیر جنگ کے بارے میں تحقیقات کیں تو یہ راز فاش ہوا کہ کشمیر کی جنگ کے دوران میجر جنرل یحییٰ خان اور لیفٹیننٹ کرنل اعظم خان محاذ سے بھاگ گئے تھے اور انہوں نے اپنی رجمنٹ کے جوانوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا۔‘‘
ایک جگہ وہ یہ بھی لکھتے ہیں :
’’پاکستان کی فوج برطانوی انڈین فوج کی وارث ہے، اس کو روایات و رسومات ورثے میں ملی ہیں ۔ پاک فوج کے رینک فارمیشن اور ٹریننگ کے اصول وہی ہیں جو برطانوی فوج کے تھے اس کے پروٹوکول اور یونیفارم کا ڈیزائن بھی وہی ہے اور اس پر برطانوی ماڈل کے بیج سجائے جاتے ہیں ۔ اسلحہ کے ڈیزائن بھی روایتی ہیں۔ پاک فوج فکر، ذہن و فطرت کے لحاظ سے برطانوی فوج کی روایات کی امین ہے، اسے مزاج، فطرت اور سٹرکچر کے اعتبار سے اسلامی اور پاکستانی فوج بنانے کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ‘‘
یہاں مصنف کی رائے سے اختلاف کرنا پڑے گا ۔ سچ یہ ہے کہ فوج اپنے معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو آہنی ہاتھوں سے نمٹتی اور کچلتی ہے۔ اگرچہ یہ مداخلت یا اصلاح کی کوشش سو فیصد جائز ، قانونی اور ضابطہ اخلاق اور اصولوں کے عین مطابق ہی کیوں نہ ہو۔
الطاف گوہر لکھتے ہیں :
’’سٹیٹ بنک کے گورنر عبد القادر نے اگست 1958ء میں کہا کہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے دفاعی بجٹ اور امریکن ایڈ کم کرنا ضروری ہے۔ ایوب خان نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر گورنر سٹیٹ بینک کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے اور اس کی ناپسندیدہ سرگرمیوں کو روکنے کی ہدایت کی۔‘‘2ایوب خان ـ پاکستان کا پہلا فوجی حکمران ص 144
عائشہ جلال لکھتی ہیں :
’’حسین سہروردی جو مشرقی و مغربی پاکستان کے پاپولر لیڈر تھے ان کو وزیر اعظم ان شرائط پر قبول کیا گیا تھا کہ مغرب نواز خارجہ پالیسی جاری رکھیں گے اور فوج کے امور میں مداخلت نہیں کریں گے۔‘‘ 3The state of martial rule ص 253
بھارتی جہاز گرانے کے منصوبہ ساز ، تمغہ امتیاز حاصل کرنے والے اور ائیر مارشل کے رینک تک ترقی پانے والے جواد سعید ہیں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ائیر چیف کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے تنقید کی جس کے بعد ان پر غداری کے الزامات لگا کر ان کا کورٹ مارشل کر دیا گیا۔ اب وہ قید میں ہیں۔ کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم ایک انٹرویو میں ذکر کرتے ہیں کہ این ایل سی کے ایک افسر میجر اکرم نے تیل کی یومیہ دو کروڑ کی چوری پکڑی جس میں این ایل سی اور فوج کے بڑے افسران ملوث تھے۔ ایف آئی آر کٹوائیں اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے تھے لیکن ان کو اٹھا کر لا پتہ کیا گیا، اتنا تشدد کیا گیا کہ وہ ذہنی توازن کھو بیٹھے پھر انہیں نیم مردہ حالت میں پھینک دیا گیا ۔ ان کی حالت کچھ بحال ہوئی اور انہوں نے جب اس ظلم کے متعلق شکایت اعلیٰ افسران تک پہنچانے کی کوشش کی تو انہیں دوبارہ لا پتہ کر دیا گیا۔ اس ذہن اور نفسیات کی حامل فوج کی لیڈر شپ کسی قسم کی اصلاح اور درستگی کی اجازت کسی کو کیسے دے سکتی ہے ؟
سابق آئی ایس آئی چیف حمید گل اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان میں آرمی چیف کی نامزدگی کہیں اور سے ہوتی ہے، ہمیں آزادی برائے نام ہی ملی ہے۔ یہ صورتحال قیام پاکستان سے ہی چلی آ رہی ہے۔ ایوب خان کو مہاجرین کی آبادکاری کے سلسلے میں سردار عبد الرب نشتر کی معاونت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ انہوں نے جناح کو رپورٹ پیش کی کہ ایوب خان نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور اس کا رویہ پیشہ ورانہ نہیں تھا۔ جناح نے ایوب کے مشرقی پاکستان ٹرانسفر کے احکام جاری کیے اور فائل پر لکھا کہ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔
اسلم منہاس ڈان میں 10 نومبر 2002ء کے اپنے مضمون “Politics and the army” میں لکھتے ہیں کہ ایوب خان کو کمانڈر ان چیف بنانے کی سفارش جنرل گریسی نے اپنی مدت ملازمت ختم ہونے پر کی تھی۔
ایم ایس کوریجو اپنی کتاب “Soldiers of misfortune” میں لکھتے ہیں کہ ’’قائد اعظم زندہ ہوتے تو ایوب فور سٹار جنرل بننے سے پہلے ریٹائر ہو جاتے۔‘‘
چوہدری محمد علی جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم رہے لکھتے ہیں :
’’قومی وسائل جن کی معاشی تعمیر نو اور ترقی کے لیے بہت ضرورت تھی دفاع کی جانب منتقل کیے گئے جس پر نصف اور بعض اوقات قومی بجٹ سے بھی زیادہ صرف کرنا پڑا ۔ عوام نے بڑی خوشی کے ساتھ ان اخراجات کو برداشت کیا ۔ لیاقت علی خان نے کہا ہم ایک دن بھوکے رہ سکتے ہیں مگر ہم ایک منٹ کے لیے بھی غلام بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘ 4The emergence of Pakistan ص 376
آج 78 سال گزرنے کے باوجود بھی دفاع کے نام پر بجٹ بڑھاتے رہنے کو حب الوطنی کی سند سمجھا جاتا ہے۔ اور جو فوج کے مالی احتساب کی بات کرتے ہیں یا بجٹ کم رکھنے کی بات کرتے ہیں غدار قرار پاتے ہیں۔ ایسا اس وجہ سے بھی ہے اور تھا کیونکہ یہ جرنیل بخوبی جانتے تھے کہ ان کے اقتدار کو تحفظ امریکہ و برطانیہ جیسے مالک دے سکتے ہیں ۔ امریکہ و برطانیہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی پاکستان کی خارجہ اور معاشی پالیسی مانیٹر اور کنٹرول کرتے رہے اور اس میں فوجی حکمران براہ راست ملوث رہے۔
عائشہ جلال لکھتی ہیں :
’’ 19 مئی 1958ء تک سکندر مرزا اور ایوب خان نے امریکہ کو اپنی رائے سے مطلع کر دیا تھا کہ پاکستان میں صرف ڈکٹیٹر شپ کام کرے گی۔‘‘5The state of martial rule ص 273
الیگزینڈر سائمن جو کراچی میں برطانوی ہائی کمشنر تھے انہوں نے ایک خط (ریفرنس DO/35/8943) لندن ارسال کیا جس میں تحریر کیا :
’’سابقہ خط میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ بالکل درست تھے صدر (اسکندر مرزا ) کے لیے اگر ممکن ہوا تو وہ انتخابات نہیں ہونے دیں گے۔ ان کے ذہن میں فوج کی حمایت سے انقلاب کے ذریعے ذاتی اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ اس نے خصوصی طور پر مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں مسٹر میکمیلن کو اس بارے میں مطلع کروں۔ اس نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ مسٹر میکمیلن اس بات کا ادراک کریں گے اور وہ جو اقدام اٹھانا چاہتے ہیں اس کی حمایت کریں گے۔‘‘ 6روئیداد خان – The british papers ص 13
اس خط و کتابت سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ ابتدا ہی سے پاکستانی جرنیل پاکستان کے حساس اور اہم معاملات میں فیصلے انہی کی مشاورت اور اجازت سے کرتے۔ اگر یہ حال ایوب و سکندر مرزا کے دور میں تھا تو آج یہ صورتحال اس سے بھی زیادہ بدتر ہو گی۔ لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمن جنرل ایوب کے متعلق لکھتے ہیں:
’’کچھ سینئر جرنیلوں کی رائے تھی کہ ان کا کمانڈر ان چیف فوج کا اعلیٰ ترین منصب حاصل کرنے کے باوجود خواہشات کا اسیر ہے اور اکثر معاملات میں اپنا ذاتی مفاد پیش نظر رکھتا ہے۔‘‘ 7Back to pavilion ص 125
جرنیلوں کے امریکہ سے اتنے قریبی روابط اور تعلق کے باوجود 1965ء کی جنگ کے دوران امریکہ کا کیا رویہ رہا ؟ قیوم نظامی لکھتے ہیں :
’’امریکہ جس کے ساتھ جرنیلوں نے قربت کے رشتے استوار کیے تھے اس نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے باوجود مشکل گھڑی میں کوئی تعاون نہ کیا، یہاں تک کہ جنگ کے دوران فاضل پرزے دینے سے بھی انکار کر دیا، بلکہ پاکستان پر معاشی اور دفاعی پابندیاں عائد کر دیں۔ فوج کے جرنیلوں کے امریکہ کے ساتھ روابط ان کے اپنے اقتدار کے لیے تھے اور ان روابط میں حب الوطنی کا جذبہ پہلا عامل نہ تھا۔ عوامی سطح پر 1965ء کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کے بارے میں تاثر پیدا کیا گیا مگر جب تاشقند میں ایوب خان نے کشمیر کو نظر انداز کر کے معاہدے کی شرائط تسلیم کر لیں تو پاکستان کی کمزوری کا راز کھلا۔‘‘8جرنیل اور سیاست دان: تاریخ کی عدالت میں، ص 76
65ء کی جنگ میں امریکہ کے اس کردار کے باوجود پاکستانی جرنیلوں کا امریکہ سے عشق ختم نہ ہوا۔ سٹیفن کوہن لکھتا ہے :
’’صدر ایوب نے اپنے دور میں پاک فوج کو عملی اور فکری طور پر امریکہ کی فوج بنایا پھر اس کے بعد امریکہ نے اپنی خواہش اور مفاد کے مطابق پاک فوج سے کام لیا۔ صدر ایوب نے امریکی میل کی وجہ سے فوج کے سٹرکچر کو تبدیل کر دیا۔ امریکن ٹریننگ اور تکنیک کے ساتھ امریکن نظریہ بھی فوجی تعلیم کا حصہ بنا۔‘‘ 9The idea of Pakistan ص 102.
جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ نے بھی امریکیوں سے ذاتی تعلقات استوار کرنے کو ترجیح دی۔ ایف ایس اعجاز الدین لکھتے ہیں :
’’ جنرل یحییٰ نے یکم اگست 1969ء کو لاہور میں امریکہ کے صدر نکسن سے علیحدگی میں ملاقات کی اور وزارت خارجہ کو اعتماد میں نہ لیا۔ ‘‘10The white House & Pakistan ص 61
یہ بھی تاریخ کا حصہ رہے گا کہ وہ امریکہ جو دنیا بھر میں جمہوری نظام کا خواہاں رہتا ہے پاکستان میں عملی طور آمرانہ نظام کو ہی وقتاً فوقتاً مسلط کرواتا رہا۔ ڈینس ککس لکھتا ہے:
’’ امریکہ کے سول حکومت کی نسبت پاک فوج سے تعلقات گرم جوش رہے ۔ نواز شریف نے امریکی دورے کی خواہش کا اظہار کیا مگر انہیں امریکہ سے دعوت نہ ملی جبکہ فوج کے جرنیل امریکہ کے دورے پر جاتے رہے۔ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا خیال تھا کہ پاکستان خلیج میں امریکی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے۔‘‘11The United States and Pakistan, 1947-2000 : disenchanted allies.
پاکستان امریکہ تعلقات کو جرنیل جس سطح تک لا چکے تھے نائن الیون کے مبارک حملوں کے بعد ان تعلقات کا ایک نیا سیاہ دور شروع ہوا۔ حسین حقانی لکھتے ہیں:
’’جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ سنٹرل کمانڈ کے جنرل انتھونی زینی کو فون کر کے ان وجوہات سے آگاہ کیا جن کی بنا پر انہیں اقتدار سنبھالنا پڑا۔‘‘ 12“Pakistan between Mosque and Military “ ص 256
گیارہ ستمبر کے مبارک حملوں کے بعد بننے والی صورتحال میں پاکستان کی فوجی قیادت اور امریکہ کے مابین کیا اور کس طرح طے پایا اس کی تفصیل مشہور امریکی مصنف باب وڈورڈ نے اپنی کتاب بش ایٹ وار میں بیان کی ہے جس کا اردو ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔
’’جو بھی کرسکتے ہو کرو ، بش نے پاول سے کہا۔
ان لوگوں کو کس طرح قابو کیا جائے ؟ پاول نے آرمٹیج سے کہا۔
ہمیں ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا:
- پاکستان میں القاعدہ کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان کے ذریعے افغانستان میں ہتھیاروں کی ترسیل بند کی جائے۔ اور اسامہ بن لادن کو پاکستان کے راستے ہر طرح کی اخلاقی اور مادی اعانت رکوائی جائے ۔
- امریکہ پاکستان میں تمام پروازوں اور ہوائی اڈوں وغیرہ پر اترنے کے حقوق حاصل کرے۔
- پاکستان کے تمام عسکری بحری فضائی اڈوں، فوجی مراکز اور سرحدوں کو استعمال کرنے کا حق حاصل کر لیا جائے۔
- انٹیلی جنس اور نقل مکانی کی معلومات کو بہتر بنایا جائے۔
- امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے حوالے سے ایک مذہبی مہم چلائی جائے ۔ امریکہ کے خلاف تخریب کاری کی حمایت میں (پاکستان میں) مقامی طور پر اظہار خیال کو سختی سے کچل دیا جائے۔
- طالبان کو ہر قسم کے ایندھن کی فراہمی مکمل طور پر بند کی جائے اور پاکستان سے رضاکاروں کی طالبان کی حمایت میں روانگی پر پابندی لگوائی جائے۔
- اس مطالبے کا مقصد پاکستان کی حکومت اور پرویز مشرف کے ہاتھ باندھنا ہے۔ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے خلاف ایسی مضبوط شہادتیں سامنے لائی جائیں اور طالبان کے سرپرست ہونے کے تعلق سے پاکستان پر غیر معمولی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ طالبان کی مدد اور حمایت سے بالکل ہاتھ اٹھا لیں اور اس کے بعد اسامہ بن لادن اور القاعدہ نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے امریکہ کی کھلی حمایت اور مدد کرے۔ ‘‘
آرمٹیج نے پاکستانی انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل محمود کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں طلب کیا اور کہا :
’’یہ ہمارے سات مطالبات ہیں جن میں کسی کمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے آپ کو یہ سارے مطالبات من و عن قبول کرنے ہوں گے ۔ ڈیڑھ بجے دوپہر پاول نے جنرل مشرف سے بات کی۔ ‘‘
ایک جنرل دوسرے جنرل سے مخاطب ہے۔ پاول نے کہا ہم اپنے خلاف جنگ میں مدد چاہتے ہیں امریکی عوام یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دے۔
پرویز مشرف نے پاول کو یہ جواب دے کر حیران کر دیا کہ پاکستان امریکہ کے ساتوں مطالبات تسلیم کرتا ہے اور وہ امریکہ کی ہر کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔ اسی دوپہر کو نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس سچویشن روم میں ہوا۔ بش نے کہا وہ افغانستان کے اندر خفیہ آپریشن کو وسعت دینے اور شمالی اتحاد کو مالی اور نیم فوجی امداد کی فراہمی کے لیے سی آئی اے کی تجاویز کی منظوری دے رہا ہے۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ ہم نے آج پاکستانیوں سے کیا کہا۔ پھر اس نے سات امریکی مطالبات کی کاپی نکالی اور اسے اجلاس کے سامنے پیش کیا۔ اسے معلوم تھا کہ بش لمبی تحریروں کو پسند نہیں کرتا لیکن اس نے نہایت فخر کے ساتھ یہ مطالبات بلند آواز سے پڑھے۔ جب اس نے انہیں ختم کیا تو بش نے بتایا کہ جنرل مشرف پہلے ہی ان مطالبات کو قبول کر چکا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہم نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے ۔ 13باب وڈورڈ ۔ بش ایٹ وار (اردو ترجمہ) ص 73ـ69
گیارہ ستمبر کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق، 2001ء سے 2021ء تک اس جنگ کے نتیجے میں ملک کو 150 بلین ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا ہے، جو کہ سکیورٹی آپریشنز، انفراسٹرکچر کی تباہی، برآمدات میں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے ہے۔ اس دوران امریکہ کی جانب سے ملنے والی امداد تقریباً 20 بلین ڈالر تھی، جو نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ مشرف کے بعد ہر آنے والے جرنیل نے پہلے سے بڑھ کر امریکی غلامی کی ۔ اور تقریباً ہر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے بعد اثاثوں اور کاروبار کی تفصیلات ہوش اڑا دینے والی ہوتی ہیں۔
٭٭٭٭٭
- 1جرنیل اور سیاست دان تاریخ کی عدالت میں ص 33
- 2ایوب خان ـ پاکستان کا پہلا فوجی حکمران ص 144
- 3The state of martial rule ص 253
- 4The emergence of Pakistan ص 376
- 5The state of martial rule ص 273
- 6روئیداد خان – The british papers ص 13
- 7Back to pavilion ص 125
- 8جرنیل اور سیاست دان: تاریخ کی عدالت میں، ص 76
- 9The idea of Pakistan ص 102.
- 10The white House & Pakistan ص 61
- 11The United States and Pakistan, 1947-2000 : disenchanted allies.
- 12“Pakistan between Mosque and Military “ ص 256
- 13باب وڈورڈ ۔ بش ایٹ وار (اردو ترجمہ) ص 73ـ69









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



