نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن

by ایاد قنیبی
in فروری 2026ء, تزکیہ و احسان
0

آزمائش و ابتلا کو نعمتوں میں کیسے بدلیں؟ آزمائش کی نعمت کا مزہ کیسے حاصل کریں؟ قطع نظر اس سے کہ آپ کو زندگی میں کس کس مشکل کا سامنا ہے، آپ ایک پرسکون زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ آپ ہر معاملے کا سامنا مثبت اندازِ فکر اور امید و حوصلے سے کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ وہ گہرا و قریبی تعلق کیسے بنا سکتے ہیں، کہ آپ کو اس کی ذات کے سوا کسی کا خوف اور کسی سے امید نہ رہے؟ آپ ایک ناقابلِ شکست عزم اور ایک ناقابلِ شکست شخصیت کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ آپ اپنے دل کا تزکیہ کیسے کریں، کہ قسمت و تقدیر کو الزام دینا چھوڑ دیں تاکہ اللہ سے ایک سالم و پاکیزہ دل کے ساتھ ملاقات کر سکیں؟ آپ اپنے خالق و مالک، اپنے ربّ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اپنی محبت کو کیسے خالص و غیر مشروط بنا سکتے ہیں؟ تحریرِ ہٰذا میں آپ کو ان سوالوں کے جواب، اور مزید بہت کچھ ملے گا، ان شاء اللہ! (ادارہ)


تعارف

اللہ، تمام حمد و ثنا اسی کے لیے ہے، ہمارا خالق و رازق،وہ ہستی کہ جس سے ہم سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں، جس کی رحمت ہر شئے کا احاطہ کیے ہوئے ہے! اس نے اپنے بندوں کو پیدا کیا تاکہ وہ اس کی عبادت کریں،اس کی اطاعت کریں،اس سے محبت کریں۔ اس نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا، اور اپنی مخلوق پر اپنے انعام و اکرام کے ذریعےخود کو ان کا محبوب بنا لیا، کہ وہی تو ’الودود‘ ہے (سب سے زیادہ محبت کرنے والا)، تمام تعریفیں اسی کے لائق ہیں۔ اس نے انہیں پیدا کیا اور انہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ لیا، کہ وہی ’الرحیم ‘ہے (نہایت رحم کرنے والا)۔

اس نے انہیں پیدا کیا، اور ان کے گناہوں کے باوجود، ان کے ساتھ نرمی و تحمل کا معاملہ فرمایا، کیونکہ وہ ’اللطیف و الحلیم‘ ہے (نہایت باریک بین اور نہایت مہربان، نہایت حلم والا)۔ اسے اپنے بندوں کی آواز سننا محبوب ہے، وہ آوازیں جو خوشحالی میں شکر کا اظہار کرتی ہوں، اور ابتلا میں عاجزی کا۔اگر اس کا کوئی بندہ اپنے مالک سے دور چلا جائے، تو وہ اسے امتحان و ابتلا سے آزماتا ہے، تاکہ اسے واپس اپنی طرف پلٹا لائےاور اپنے بندے کی دعا و فریاد سنے۔اور اپنے بندوں کو آزمانے میں، اس سے بڑھ کر حکمت والا، اس سے بڑھ کر رحمت والا کوئی نہیں۔

میں زندگی میں مشکل حالات سے گزرا ہوں، لیکن اللہ نے میری رہنمائی فرمائی اور مجھے اپنے ربّ سے، اس کی رحمت سے اور اس کی حکمت سے حسنِ ظن کی توفیق عطا فرمائی۔ نتیجتاً اللہ نے میرے لیے ابتلا کی اذیت کو سکینت و اطمینان میں بدل دیا۔ اور وہ ایسا کیوں نہ کرتا، جب وہ اپنی حدیثِ قدسی میں وعدہ فرماتا ہے کہ:

’’أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي.‘‘ (صحیح بخاری)

’’ میں اپنے بندے کے میرے ساتھ گمان کے مطابق ہوتا ہوں ۔‘‘

اور یہ حقیقت ہے کہ جب آپ اللہ سے اچھا گمان رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں، تو آپ اس کی جانب سے خیر ہی خیر پاتے ہیں۔

اگر آپ کو اس بات پر اعتماد ہے کہ ہر قسم کے حالات و مشکلات کے باوجود، اللہ اس بات پر قادر ہے کہ آپ کے دل کو خوشی، قناعت اور سکینت سے مالا مال کر دے، تو وہ آپ کے لیے ویسا ہی ہو گا جیسا آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں، کیونکہ وہی ہے جو غم و خوشی عطا کرتا ہے۔

وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى (سورۃ النجم: ۴۳)

’’اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے۔‘‘

جی ہاں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مجھے (آزمائش میں مبتلا کر کے) بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ میں نے ان نعمتوں کو ایک فہرست میں مرتب کیا، جیسے جیسے وہ مجھے یاد آتی گئیں۔ اور میرے لیے یہ تجربہ انتہائی پر لطف تھا، ان نعمتوں کولکھنا ، ان کو از سرِ نو شمار کرنا اور ان پر تدبر کرنا! اور پھر جب اللہ نے مجھے میری آزمائش سے نجات عطا فرمائی، تو میں نے اس کے کئی ایک مزید عظیم انعامات کو اپنا منتظر پایا۔

میرے بھائیو اور بہنو! اپنے رحیم و کریم ربّ کے سامنے اپنے تشکر کا اظہار کرنے کے لیے، میں اس کے بعض انعامات آپ کے ساتھ شریک کرنا چاہتا ہوں، تاکہ ہم اللہ سے حسنِ ظن رکھنے کا فن مل کر سیکھ سکیں، تمام عزت و تعریف جس کی ذات کے لیے ہے۔

وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (سورۃ الضحی: ۱۱)

’’اور اپنے رب کی نعمتوں کا بیان کرتے رہنا۔‘‘

اس کتاب میں مذکور تمام باتیں محض ان بعض انعامات کی کچھ تفصیل ہیں، جن کا میں نے اپنی فہرست میں شمار کیا۔ بھائیو اور بہنو! ذرا دیکھیں تو کہ اصحابِ کہف نے کیسے اپنے ربّ سے خوش گمانی کی:

وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗٓا اِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا (سورۃ الکہف: ۱۶)

’’ اور جب ہم نے ان مشرکوں سے اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کنارہ کرلیا تو اب اس غار میں جا بیٹھو‘‘……

ایک غار، ایک اندھیری، ویران اور دورافتادہ جگہ…… جس تک پہنچنا مشکل اور جس کے باسی یقیناً کیڑے مکوڑے، بچھو اور سانپ تھے…… کسی بھی قسم کے پانی یا سبزے سے محروم…… لیکن اللہ کی طاقت نے اسے کسی اور چیز میں بدل دیا:

……’’اب اس غار میں جا بیٹھو تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے معاملہ میں تمہارے واسطے آسانی پیدا کر دے گا۔‘‘

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس غار کو اپنی رحمت و طاقت کے سبب، ایک ایسی جگہ میں تبدیل کر دیا جو رحم و کرم، امن و آرام اور صالح صحبت کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گئی۔

بھائیو اور بہنو، میں قسم کھاتا ہوں کہ تمہارا ربّ بہت مہربان ہے۔ تو آئیے اسے جاننے کا سفر شروع کرتے ہیں۔ اس کے اپنے بندوں کے ساتھ تعامل کو دیکھتے ہوئے، تاکہ ہم اس ربّ کی عظمت کو پہچان سکیں جس کی ہم عبادت کرتے ہیں۔آئیے اپنے ربّ کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ ہم اس سے ہمیشہ بہترین گمان رکھنا سیکھیں، اس امر سے بے نیاز ہو کر کہ اس نے ہمارے لیے کیا مقدّر طے کیا ہے، یا وہ ہمیں کس چیز میں مبتلا کرتا ہے۔

فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَئًْا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا (سورۃ النساء: ۱۹)

’’ یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔ ‘‘

آئیے کہ ہم اللہ سے دوستی کر سکیں، اس کی صحبت و معیت میں رہنا سیکھیں، اور اس کے امن و تحفظ کے سائے تلے خود کو محفوظ کر سکیں۔آئیے کہ اپنے دلوں کو زندہ کریں اور اپنی محفلوں کو اس کی یادو تذکرے سے مزیّن کریں۔ میں اللہ جل جلالہ سے دعا کرتا ہوں جو عرشِ عظیم کا ربّ ہے کہ اس کتاب سے ہمیں فائدہ پہنچائے، اور ہمارے دلوں میں اپنی محبت بڑھا دے۔بے شک تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔

اَن دیکھے مستقبل کے خدشات کو کیسے شکست دیں

تصوّر کیجیے کہ آپ نے کچھ تحائف وصول کیے ہیں، جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ وہ انتہائی قیمتی اور دلپذیر ہیں۔ بعض تحائف بے حد خوبصورت اور چمکدار، نگاہ کو بھانے والی پیکنگ میں لپٹے ہوئے ہیں، جبکہ بعض تحائف بد صورت و بد رنگ کاغذ میں لپیٹے گئے ہیں۔ کیا آپ ان تحائف کی پیکنگ کی پروا کریں گے اگر آپ جانتے ہوں کہ کاغذ کے نیچے موجود سب تحائف ہی نہایت قیمتی ہیں؟

اسی طرح اگر آپ یہ جانتے ہوں کہ آپ اپنے مستقبل میں پیش آنے والے ہر معاملے کو اپنے حق میں مفید و نافع بنا سکتے ہیں، تو آپ کو اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ مستقبل کے یہ واقعات نعمت کی شکل میں آپ کی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں یا آزمائش کی صورت میں، کیونکہ ان شاء اللہ یہ فیصلہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ ہر معاملے کا انجام آپ کے لیے نیک ہے یا بد۔

لوگ عموماً مستقبل کی فکر سے لرزاں و ترساں کیوں رہتے ہیں؟ اس لیے کہ مستقبل ان کے لیے انجانا، اَن دیکھا ہے۔ اس اَن دیکھے مستقبل کے خدشات لوگوں کے قلب و ذہن پر ایسا بوجھ بن جاتے ہیں کہ چاہے ان کے پاس کتنی ہی دنیاوی نعمتیں کیوں نہ ہوں، مستقبل کے یہ خدشات ان کے سکون و اطمینان کے لیے سمِ قاتل بن جاتے ہیں۔ ہر وقت یہی اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ ان کی نعمتیں چھن جائیں گی اور ان کی صورتحال الٹ جائے گی۔

مالدار فقیر بن سکتا ہے، ایک صحتمند شخص جان لیوا مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے، ایک آزاد آدمی قید ہو سکتا ہے، ایک محفوظ شخص اپنی حفاظت کے حوالے سے مستقل اندیشوں میں مبتلا ہو سکتا ہے، ایک اور شخص اپنے قریبی عزیز کھو سکتا ہے، وغیرہ۔

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ خود کو اَن دیکھے مستقبل کے خدشات سے کیسے نجات دلا سکتے ہیں؟

یہ سادہ سا فیصلہ کر لیجیے کہ اللہ عز و جل کی طے کی ہوئی قدر پر آپ ہر حال میں راضی رہیں گے، چاہے وہ کچھ بھی کیوں نہ ہو!!

یہاں یہ بات اہم ہے کہ قناعت کسی واقعے کے بعد حاصل ہوتی ہے، اور یہ اس عمل کے نتیجے میں ملتی ہے جو آپ اس واقعے سے پہلے کر چکے ہوتے ہیں۔

یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ’’ اگر قناعت (یعنی قدر پر راضی و قانع ہو جانا) ایک قلبی عمل ہے جس پر انسان کا کوئی اختیار نہیں، تو یہ ہم سے کیونکر طلب کیا گیا ہے؟‘‘، اس کا جواب یہ ہے کہ آپ اپنے نفس کی اللہ کی مشیّت پر راضی رہنے اور اس کے احکام کی تعمیل کرنے کی تربیت کر سکتے ہیں، تاکہ جب آپ کوصبر و قناعت کی ضرورت پڑے تو اللہ یہ انعام آپ کو عطا کر دے ۔

تو جب بھی اَن دیکھے حالات کی فکر آپ کو ستانے لگے، آپ کو چاہیے کہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کا اعادہ کریں۔ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں، اس کی رضا پر راضی ہو جائیں، اس کے سامنے شکر گزاری اختیار کر لیں، صبر کو اپنا لیں اور پختہ یقین رکھیں کہ اللہ آپ کی مدد کرے گا۔اگر آپ یہ کریں گے تو آپ کے دل سے مستقبل کا خوف ختم ہو جائے گا کیونکہ مستقبل آپ کے لیے اب اَن دیکھا، انجانا نہیں رہا، بلکہ اب وہ شیشے کی طرح شفاف و واضح ہو گیا ہے۔کیوں؟ صرف اس لیے کہ یہ فیصلہ کر لینے کے سبب آپ اب جانتے ہیں کہ مستقبل میں جو کچھ بھی ہو گا وہ آپ کی بھلائی اور فائدے ہی کے لیے ہو گا۔کیا رسولِ خدا، علیہ ألف صلوٰۃ و سلام، نے یہ نہیں فرمایا کہ:

’’عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ.‘‘ (صحیح مسلم)

’’مومن کا بھی عجب حال ہے کہ اس کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے اور یہ بات کسی کو حاصل نہیں سوائے اس مومن کے کہ اگر اسے کوئی تکلیف بھی پہنچی تو اسے نے شکر کیا تو اس کے لیے اس میں بھی ثواب ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچا اور اس نے صبر کیا تو اس کے لیے اس میں بھی ثواب ہے۔ ‘‘

پھر یہ فیصلہ کر لینے کے بعد کہ خوشحالی کے دور میں اللہ کا شکر ادا کریں گے اور بد حالی میں صبر کریں گے، یہ مت کہیے کہ ’’میں نہیں جانتا کہ مستقبل میرے لیے اپنے دامن میں خیر سمیٹے ہوئے ہے یا مشکلات و ابتلا‘‘، کیونکہ ہمارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظِ مبارک کے مطابق، مستقبل اپنے دامن میں مومن کے لیے سوائے خیر کے کچھ نہیں رکھتا۔

اس طرزِ فکر کی خوبصورتی یہ ہے کہ اب آپ فکر و اندیشوں میں ڈوبے ، مستقبل کے اَنجانے فیصلوں کے انتظار میں پریشان و لاچار نہیں بیٹھے ، کہ کب تقدیر اپنا داؤ کھیلے اور آپ کو کسی جانب پٹخ دے۔ اب آپ کے لیے معاملات کی ظاہری شکل و صورت (یہ کہ ہر معاملہ کس قسم کے کاغذ میں لپٹا ہوا آپ کے پاس آتا ہے) کوئی حیثیت نہیں رکھتی، چاہے وہ مال و دولت ہے یا فقر، صحت یا بیماری،آپ کے پیاروں کی موجودگی یا جدائی، کیونکہ آپ کے پاس وہ نسخۂ کیمیا موجود ہے جو کسی بھی قسم کی صورتحال کو اپنے فائدے کی شکل میں ڈھال سکتا ہے۔آپ سے صرف اتنا مطلوب ہے کہ یہ فیصلہ کر لیجیے کہ چاہے کیسے ہی حالات کیوں نہ آ جائیں، آپ ہر حال میں اپنے ربّ کے سامنے شکر گزار اور صابر رہیں گے۔

یہ مت کہیے کہ ’’میں نے اگر صبر اختیار کرنے کی کوشش کی تو بھی ممکن ہے کہ اللہ مجھے صبر عطا نہ کرے‘‘۔ اس کے بجائے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے الفاظ یاد کیجیے:

مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ وَمَنْ يُّؤْمِنْ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ؀(سورۃ التغابن: ۱۱)

’’کوئی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیں آتی، اور جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘۔

اس آیت میں بہت سے اہم مفاہیم پنہاں ہیں۔ جو کوئی بھی اللہ پر پختہ یقین و اعتماد کے ساتھ، اپنے معاملات اس کے سپرد کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہنمائی فرماتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں، کیونکہ صبر و قناعت تو ایک ایمان سے بھرپور دل اور اللہ کے سامنے تسلیم ہوئی روح کا ثمرہ ہیں۔

ان خدشات کا علاج رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

‏‏‏‏‏‏’’وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ…‘‘ (بخاری ومسلم)

’’ اور جو شخص صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور کشادہ تر نعمت نہیں ملی۔ ‘‘

سو قدم اٹھائیے اور یہ فیصلہ کر لیجیے۔ یہ مت کہیں کہ ’’ ہو سکتا ہے کہ اللہ کی قدر و مشیّت ہی یہ ہو کہ میں صبر نہ کروں اگرچہ میں صبر کرنے کی مخلصانہ کوشش بھی کر رہا ہوں‘‘، کیونکہ اللہ اس رویّے کا حامل نہیں، بلکہ وہ اس سے کہیں زیادہ مہربان، اپنے بندے سے درگزر کرنے والا ہے۔ اللہ نے وہ طریقے و راستے مقرر کر دیے ہیں کہ جن کو اپنایا جائے تو وہ ان کو اپنانے والے کو صبر، قناعت اور سکینت کی دولت سے نوازتا ہے۔ یہ آپ کے اپنے اعمال ہیں جو آپ کو اللہ کی جانب سے صبر و ہمت عطا کیے جانے کے قابل بناتے ہیں، یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو آپ کی استعداد سے باہر ہو۔

ہو سکتا ہے کہ آپ کہیں’’اگرچہ میں صبر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری یہ کوشش کامیاب نہیں ہو گی کیونکہ میری آزمائش اتنی بڑی ہے کہ میرا صبر اس کا احاطہ نہیں کر سکتا‘‘۔آئندہ گفتگو میں ہم اللہ کی ذات و صفات کے تذکرے اور اس کے علم و حکمت کے مختلف پہلوؤں، اس کی اپنے بندے کی مدد کرنے کے مختلف انداز پر غور کرتے ہوئےہم مل کر ایسے خدشات کا ازالہ کریں گے، ان شاء اللہ۔

ہو سکتا ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ’’میں ابھی تو اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے دل میں موجود محبت کے سبب یہ فیصلہ کر سکتا ہوں، لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر میری آزمائش انتہائی سخت ہوئی تو اس سے اللہ کے لیے میری محبت بھی متاثر ہو جائے گی‘‘۔ آئندہ سطور میں ہم مل کر یہ کوشش بھی کریں گے ان شاء اللہ، کہ اللہ کے لیے اپنی محبت کا بیج از سرِ نو دل کی زمین میں بوئیں،اور اسے ایسا راسخ کریں کہ اس کی بنیاد کو دوبارہ کوئی ہلا نہ سکے۔ تاکہ زندگی میں کیسے ہی حالات پیش کیوں نہ آئیں، کیسی ہی آزمائشوں کا سامنا ہو، اللہ کی معیت ، اس کے ساتھ اور اس کی مدد کا یقین ہمارے دلوں میں راسخ ہو۔

اس وقت آپ کو صرف اتنا کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ کی حکمت اور اس کی رحمت پر اعتماد کریں، تاکہ آپ قناعت و رضا اختیار کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔اس قناعت و رضا بِقَدِرِ اللہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ دل اس طرح اللہ کے سامنے تسلیم ہو جائے اور ایسا مکمل اطمینان اللہ کی قدر پر حاصل ہو جائے کہ جس میں کسی قسم کا کوئی کھوٹ نہ ہو۔ جس میں اللہ کی حکمت ومشیّت پرکوئی ہلکا سا اعتراض یا بے اطمینانی کی کیفیت نہ ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ مصائب و مشکلات سے متاثر نہیں ہو ں گے یا آپ کو یہ مشکلات محبوب ہو جائیں گی، کہ یہ انسان کی فطرت کے خلاف ہے۔ یہ عین فطرت ہے کہ کسی ابتلا کے وقت، کسی پیارے کی موت و جدائی کے وقت، انسان کا دل غمزدہ و حزین ہو جاتا ہے، لیکن اللہ کے فیصلے کے خلاف دل میں کوئی غصّہ نہیں ہونا چاہیے، اس کی مشیّت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، اس قسم کے خیالات کہ ’’میں ہی کیوں؟ (اس مشکل میں مبتلا ہوا)‘‘ یا ’’ میں نے ایسا کیا کیا جس کا صلہ مجھے اس شکل میں ملا؟‘‘ کے بجائے اللہ رب العزت کا شکر بجا لانا چاہیے اور صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو انعام و اکرام سے نوازے اور اطمینان و سکینت کی دولت سے مالامال کر دے۔ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک دعاؤں میں سے ایک یہ دعا تھی:

’’اللھم رضنی بما قضیت لی‘‘

’’اے اللہ مجھے راضی کر دیجیے اس فیصلے پر جو آپ نےمیرے لیے فرمایا ہے۔‘‘

رات کو جب آپ سونے کے لیے لیٹتے ہیں، اور اپنا سر اپنے تکیے پر رکھتے ہیں، اور وہ دعا پڑھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی:

’’اللھم أسلمت نفسي إلیك وفوضت أمري إلیك‘‘

’’اے اللہ! میں خود کو تیرے حوالے کرتا ہوں، اپنے معاملات تیرے سپرد کرتا ہوں……‘‘

تو یہ الفاظ مکمل یقین اور مکمل تسلیم و رضا کے ساتھ کہیے، تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہو سکیں جو اللہ کی نگہبان نظروں کے سامنے ہمہ وقت رہتے ہیں۔

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَقُوْمُ ؀(سورۃ الطور: ۴۸)

’’اور تم اپنے پروردگار کے حکم پر جمے رہو، کیونکہ تم ہماری نگاہوں میں ہو، اور جب تم اٹھتے ہو اس وقت اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیا کرو۔‘‘

معنی: ڈریں نہیں، اپنے خوف و اندیشے اللہ کے حوالے کر دیجیے، آپ اللہ کی نگہبانی و حفاظت میں ہیں، اس کی رحمت و محبت سے ڈھانپے ہوئے ہیں۔

خلاصۂ کلام:زندگی میں کیسے حالات پیش آتے ہیں، ان سے بے نیاز ہو کر اپنے ربّ سے ہمیشہ راضی رہنے کا فیصلہ کر لیجیے، تاکہ آپ اپنے آپ کو آئندہ پیش آنے والے اَن دیکھے واقعات و حالات کے خوف سے نجات دلا سکیں، بعون اللہ۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Previous Post

اہلِ پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر!

Next Post

قبلۂ اوّل سے خیانت کی داستان (عمان)

Related Posts

استقبالِ رمضان

غنیمتِ رمضان اور حالِ بزرگان

17 فروری 2026
اے آئی (AI) کا وبال
نقطۂ نظر

اے آئی (AI) کا وبال

15 فروری 2026
غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)
غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)

15 فروری 2026
طوفان الأقصی

قبلۂ اوّل سے خیانت کی داستان (عمان)

15 فروری 2026
اہلِ پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر!
اداریہ

اہلِ پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر!

15 فروری 2026
فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

15 فروری 2026
Next Post

قبلۂ اوّل سے خیانت کی داستان (عمان)

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version