اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف و اکرم بنایا، اس کی فطرت میں نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی ، تابعداری و سرکشی اور خوبی و خامی دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں اور استعداد یکساں طور پر رکھ دی ہے۔ اسی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے کہ کسی بھی انسان سے اچھائی اور برائی دونوں ہی وجود میں آسکتی ہیں۔ ایک انسان سے حسنات بھی ممکن ہیں اور سیئات بھی، اس کے باوجود کوئی سیئات و معصیات سے مجتنب ہو کر اپنی زندگی اور اس کے قیمتی لمحات کو حسنات و طاعات سے مزین اور آراستہ کر لے تو یہ اس کے کامیاب اور خالق و مخلوق کے نزدیک اشرف و اکرم ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے اور یہی تقویٰ و پرہیز گاری ہے جو روزہ کا مقصدِ اصلی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۭ (سورۃ البقرۃ: ۱۸۳، ۱۸۴)
’’اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر، تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔ چند روز ہیں گنتی کے۔‘‘
تقویٰ کا معنی ہے نفس کو برائیوں سے روکنا اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ روزہ ہے، جیسا کہ ایک صحابیؓ نے حضور اکرمﷺ سے عرض کیا:
’’اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجیے جس سے حق تعالیٰ مجھے نفع دے۔‘‘
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
علیک بالصوم، فإنہٗ لامثل لہٗ1سنن نسائی، ج:۱، ص:۱۴۰
’’روزہ رکھا کرو، اس کے مثل کوئی عمل نہیں۔‘‘
اب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، گویا یہ مہینہ نیکیوں اور طاعات کے لیے موسمِ بہار کی طرح ہے، اسی لیے رمضان المبارک سال بھر کے اسلامی مہینوں میں سب سے زیادہ عظمتوں، فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اپنی رضا، محبت و عطا، اپنی ضمانت و اُلفت اور اپنے انوارات سے نوازتے ہیں۔ اس مہینہ میں ہر نیک عمل کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس ماہ میں جب ایمان اور احتساب کی شرط کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے تو اس کی برکت سے پچھلی زندگی کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جب رات کو قیام (تراویح) اسی شرط کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس سے بھی گزشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض ستر فرائض کے برابر ہو جاتا ہے، اس ماہ کی ایک رات جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے۔
رمضان کا روزہ فرض اور تراویح کو نفل (سنت مؤکدہ) بنایا ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور خیر خواہی کا مہینہ ہے، اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، اس میں روزہ افطار کرنے والے کی مغفرت، گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی کے پروانے کے علاوہ روزہ دار کے برابر ثواب دیا جاتا ہے، چاہے وہ افطار ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے ہی کیوں نہ کرائے۔ ہاں! اگر روزہ دار کو پیٹ بھرکر کھلایا یا پلایا تو اللہ تعالیٰ اسے حوضِ کوثر سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہو گا۔ اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔ جس نے اس ماہ میں اپنے ماتحتوں کے کام میں تخفیف کی تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کی مغفرت اور اسے جہنم سے آزادی کا پروانہ دیں گے۔ پورا سال جنت کو رمضان المبارک کے لیے آراستہ کیا جاتا ہے۔ عام قانون یہ ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک دیا جاتا ہے، مگر روزہ اس قانون سے مستثنیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’روزہ صرف میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں خود دوں گا‘‘۔ روزہ دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں۔ ایک افطار کے وقت کہ اس کا روزہ مکمل ہوا اور دعا قبول ہوئی، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے روزہ افطار کیا اور دوسری خوشی جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہو گی۔ روزہ دار کے منہ کی بو (جو معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے آتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ روزہ اور قرآن کریم دونوں بندے کی شفاعت کریں گے اور بندے کے حق میں دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
اب چند وہ باتیں عرض کی جاتی ہیں، جن کا حضور اکرم ﷺ خود بھی اہتمام کیا کرتے تھے اور اُمت کو بھی اس کی تعلیم اور تلقین فرماتے تھے:
حضور اکرم ﷺ شعبان کی تاریخوں کی جس قدر نگہداشت فرماتے تھے اتنا دوسرے مہینوں کی نہیں فرماتے تھے۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: رمضان کی خاطر شعبان کے چاند کا اہتمام کیا کرو۔
آپ ﷺ نے سحری کھانے کا حکم فرمایا کہ: ’’سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔‘‘ اور فرمایا: ’’ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے۔‘‘ یعنی اہلِ کتاب کو سو جانے کے بعد کھانا پینا ممنوع تھا اور ہمیں صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے تک اس کی اجازت ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:’’ لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک کہ (غروب آفتاب کے بعد) افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔‘‘
افطار کی دعا:
ذَہَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللّٰہُ۔
’’پیاس جاتی رہی، آنتیں تر ہو گئیں اور اجر ان شاء اللہ ثابت ہو گیا۔‘‘
اسی طرح :
اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ۔
’’ اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق سے افطار کیا۔‘‘
رمضان میں ذکر کرنے والا بخشا جاتا ہے اور اس ماہ میں مانگنے والا بے مراد نہیں رہتا۔
روزہ دار کی روزانہ ایک دعا قبول ہوتی ہے۔
رمضان میں روزانہ بہت سے لوگ دوزخ سے آزاد کیے جاتے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ رمضان کے اخیر عشرہ میں خود بھی شب بیدار رہتے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی بیدار رکھتے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کو رمضان کے اخیر عشرہ میں تلاش کرو۔
جب لیلۃ القدر آتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی معیت میں نازل ہوتے ہیں اور ہر بندہ جو کھڑا یا بیٹھا اللہ تعالیٰ کا ذکر کررہا ہو (اس میں تلاوت، تسبیح وتہلیل اور نوافل سب شامل ہیں، الغرض کسی طریقے سے ذکر وعبادت میں مشغول ہو) اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
لیلۃ القدر کی دعا:
اَللّٰہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ۔
’’اے اللہ! آپ بہت معاف کرنے والے ہیں، معافی کو پسند فرماتے ہیں، پس مجھے بھی معاف فرمادیجیے۔‘‘
اگر کسی نے بغیر عذر اور بیماری کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیا ، خواہ وہ ساری زندگی روزہ رکھتا رہے، وہ اس کی تلافی نہیں کر سکتا۔
رمضان میں چار کام کثرت سے کیے جائیں: دو کام جن سے اللہ راضی ہوتے ہیں:
’’لاإلٰہ إلا اللّٰہ‘‘ کی کثرت،
استغفار زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے۔
اور دو کام جو ہر انسان کی ضرورت ہیں:
اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کیا جائے،
جہنم سے پناہ مانگی جائے۔
تراویح کے بارے میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
’’جس نے ایمان کے جذبے سے اور ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا، اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے، اور جس نے رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا، ایمان کے جذبے اور ثواب کی نیت سے اس کے پہلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘
اعتکاف کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:
’’جس نے رمضان میں (آخری) دس دن کا اعتکاف کیا، اس کو دو حج اور دو عمرے کا ثواب ہو گا۔‘‘
دوسری حدیث میں ہے:
’’ جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر ایک دن کا بھی اعتکاف کیا، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایسی تین خندقیں بنا دیں گے کہ ہر خندق کا فاصلہ مشرق ومغرب سے زیادہ ہوگا۔‘‘
رمضان میں قرآن کریم کا دور اور جود و سخاوت کی جائے، اس لیے کہ آپ ﷺ جود و سخا میں تمام انسانوں سے بڑھ کر تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت بہت بڑھ جاتی تھی۔ حضرت جبرئیل رمضان کی ہر رات میں آکر آپ ﷺ سے قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے۔
روزے کی حالت میں بے ہودہ باتوںمثلاً غیبت، بہتان، گالی گلوچ، لعن طعن، غلط بیانی غرض تمام گناہوں سے پرہیز کیا جائے، ورنہ سوائے بھوکا پیاسا رہنے کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اگر کوئی دوسرا آ کر ناشائستہ بات کرے تو یہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں، کیونکہ روزہ ڈھال ہے، جب تک کوئی اس کو پھاڑے نہیں اور یہ ڈھال جھوٹ اور غیبت سے پھٹ جاتی ہے۔
یہ مہینہ گویا ایمان اور اعمال کو ریچارج کرنے کے لیے آتا ہے۔ رمضان عربی کا لفظ ہے، جس کا اُردو میں معنی ہی شدتِ حرارت کے ہیں، یعنی اس ماہ میں اللہ رب العزت روزہ کی برکت اور اپنی رحمتِ خاصہ کے ذریعہ اہلِ ایمان کے گناہوں کو جلا دیتے اور ان کی بخشش فرمادیتے ہیں، حضرت ابوہریرہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں:
إذا دخل رمضان فُتحت أبواب السماء، وفی روایۃ: ’’فُتحت أبواب الجنۃ‘‘ وغُلقت أبواب جہنم ، وسُلسلت الشیاطین، وفی روایۃ ’’فُتحت أبواب الرحمۃ۔2متفق علیہ، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الصوم،ص:۱۷۳
’’جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں، اور ایک روایت میں بجائے ابوابِ جنت کے ابوابِ رحمت کھول دیے جانے کا ذکر ہے۔‘‘
قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ
’’یہ حدیث ظاہری معنوں پر بھی محمول ہو سکتی ہے، لہٰذا جنت کے دروازوں کا کھلنا، دوزخ کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہونا اس مہینے کی آمد کی اطلاع اور اس کی عظمت اور حرمت و فضیلت کی وجہ سے ہے، شیاطین کا بند ہونا اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ اہلِ ایمان کو وسوسوں میں مبتلا کر کے ایمانی و روحانی اعتبار سے ایذا نہ پہنچا سکیں، جیسا کہ دستورِ زمانہ بھی ہے کہ جب کوئی اہم موقع ہوتا ہے تو خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں، تمام شر پسندوں کو قید کر دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اس موقع پر کوئی رخنہ و فتنہ پیدا نہ کریں، اور حکومت اپنے حفاظتی دستوں کو ہر طرف پھیلا دیتی ہے۔ یہی حال رمضان المبارک میں بھی ہوتا ہے کہ شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اور اس سے مجازی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہیں، کیوں کہ شیاطین کا اُکسانا اس ماہ میں کم ہو جاتا ہے، اس لیے گویا وہ قید ہو جاتے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جنت کے دروازے کھولنے سے مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر طاعات اور عبادات کے دروازے اس ماہ میں کھول دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جو عبادتیں کسی اور مہینے میں عام طور پر واقع نہیں ہو سکتیں، وہ عموماً رمضان میں بآسانی ادا ہو جاتی ہیں، یعنی روزے رکھنا، قیام کرنا، وغیرہ۔‘‘3نووی شرحِ مسلم، از برکاتِ رمضان ، ص:۴۴
الغرض رمضان المبارک کی بڑی فضیلت ہے، اسی وجہ سے کہا گیا کہ اگر لوگوں کو رمضان المبارک کی ساری فضیلتوں اور برکتوں کا پتہ چل جائے تو وہ تمنائیں کریں کہ کاش! سارا سال رمضان ہو جائے۔
رمضان المبارک کی بے شمار خصوصیتیں ہیں، جن میں چند ایک یہ ہیں:
سال بھر کے مہینوں میں رمضان المبارک ایک ایسا مہینہ ہے جس کا ذکر صراحت کے ساتھ قرآن کریم میں آتا ہے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ (سورۃ البقرۃ: ۱۸۵)
’’رمضان وہ (مبارک) مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے راہنمائی، ہدایت اور حق و باطل میں تمیز کرنے کا ذریعہ ہے، پس جو کوئی یہ (مبارک) مہینہ پائے اُسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے۔‘‘
اسی ماہ کو شبِ قدر میں لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر مکمل قرآن کریم کا نزول ہوا، جیسا کہ ارشادِ خدواندی ہے:
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْر وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْر لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ سَلٰمٌ ڕهِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (سورۃ القدر)
’’ بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز ہے ؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔ ‘‘
گویا رمضان اور قرآن کریم دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے کہ قرآن رمضان میں آیا تو رمضان کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا، اس لیے بعض علماء فرماتے ہیں کہ رمضان اور قرآن کا جسم اور روح کا سا تعلق ہے۔ رمضان جسم ہے تو قرآن کریم روح ہے۔
ماہِ صیام تیرا کیوں نہ ہو احترام
کہ نازل ہوا تجھ میں اللہ کا کلام
اس لیے ہمارے اکابر نے رمضان میں روزہ اور تراویح کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کو سب سے بہتر عبادت قرار دیا۔ نمونے کے طور پر یہاں چند سلف و اکابر کے احوال اور اس ماہ میں ان کا تعلق مع قرآن ملاحظہ ہو۔
سید الاولیاء امام الانبیاء ﷺکا ماہ رمضان میں حال
تین چیزوں کا اہتمام حضور نبی ﷺ کا ماہ مبارک میں نسبتاً بڑھ جاتا تھا:
راتوں کی عبادات کا معاملہ
یوں تو رسول اللہ ﷺ کی عبادات اور تعلق مع اللہ میں پہلے ہی وہ کیفیت رہتی تھی جسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہ کر بیان کیا کہ ’’كل أمره كان عجيبا‘‘ آپ ﷺ کا سارا معاملہ تعجب خیز ہی تھا4رواه ابن حبان في صحيحه لیکن یہ عجیب حال مزید عجیب ہو جاتا جب یہ مبارک زمانہ پیش آتا،چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
کَانَ رَسُولُ اللّہِ صَلَّی اللّہُ عَلَیہِ وَآلِہِ وَسَلَّمْ إذَا دَخَلَ رَمَضَانُ تَغَیَّرَ لَونُہُ وَکُثُرَتْ صَلَاتُہُ وَابْتَہَلَ فِی الدُّعَاءِ وَأشْفَقَ مِنْہ
’’ رسول اللہ ﷺ کی حالت یہ تھی کہ جب رمضان داخل ہوتا تو آپ کا رنگ بدل جاتا، نمازوں میں اضافہ ہو جاتا، دعاوٴں میں خوب الحاح و زاری کرتے، خوف و خشیت کا غلبہ ہوتا۔‘‘5بیہقی شعب الایمان، رقم:۳۶۲۵،إسناده مقبول
پھر ایک جگہ اس طرح سے منقول ہے:
كانَ رسولِ اللَّهِ ﷺ إذا دخلَ رمضانُ شدَّ مئزرَهُ فلم يأوِ إلى فراشِهِ حتّى ينسلخَ رمضانُ.
’’جب ماہ رمضان آتا تو رسول اللہ ﷺ اپنا تہبند کس لیتے (عبادات میں غایت درجے اہتمام اور بیوی سے کنارہ ہو جاتے) چنانچہ رمضان ختم ہونے تک اپنے بستر پر تشریف نہ لاتے۔‘‘6أخرجه ابن خزيمة،٢٢١٦،والبيهقي في شعب الإيمان،٣٣٥۲،فيه عمرو بن عمرو راو ضعيف،قال ابن العدي لا بأس به
قرآن کریم کی تلاوت اور اس کا سننا سنانا بڑھ جاتا
رمضان کے بابرکت مہینے کو قرآن پاک سے بڑی مناسبت ہے، قرآن پاک کی تصریح کے مطابق اللہ تعالی نے اپنے اس پاکیزہ کلام کو لوح محفوظ سے سب آخری آسمان پر اتارنے کے لیے اسی مبارک مہینے اور اس کی بابرکت رات شب قدر کا انتخاب فرمایا۔ احادیث سے بھی قرآن اور روزے میں خاص تعلق کا پتہ چلتا ہے، چنانچہ وارد ہے:
اَلصِّیَامُ وَالْقُرْآنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، یَقُوْلُ الصِّیَامُ: أيْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّہْوَةَ فَشَفِّعْنِيْ فِیْہِ، وَیَقُولُ الْقُرْآنُ:مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ، فَشَفِّعْنِيْ فِیہِ، قَالَ: فَیَشْفَعَانِ۔7مسند احمد ۶۶۲۶،الطبرانی ۱۴۶۷۲
”روزہ اور قرآن دونوں قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے، روزہ کہے گا، اے رب میں نے اس بندے کو کھانے اور خواہشات سے روکا ہے، لہٰذا تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما، اور قرآن کہے گا میں نے اس بندے کورات میں سونے سے روکا ہے(یعنی راتوں کو جاگ کر تراویح اور نفلوں میں قرآن پڑھتا تھا)لہٰذا اس کے بارے میں میری سفارش کو قبول فرما۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تو یہ دونوں ہی سفارش کریں گے۔“
قرآن کریم کی تلاوت رسول اللہ ﷺ کا دائمی معمول تھا، رمضان میں آپ کا یہ معمول مزید بڑھ جاتا تھا، پھر رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے اور رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ مل کر قرآن سنتے اور سناتے تھے چنانچہ حدیث پاک میں وارد ہے:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: کَانَ جِبْرِیْلُ یَلْقَاہُ فِی کُلِّ لَیْلَةٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ فَیُدَارِسُہُ الْقُرْآنَ8سنن النسائی، رقم:۲۰۹۴
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ ’’رمضان میں ہر رات جبریل امین آپ ﷺسے ملتے تھے، اوررسول اللہ ﷺ ان کوقرآن مجید سناتے تھے۔“
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ رمضان میں نہ صرف تلاوت کرتے تھے، بلکہ حضرت جبریل کو قرآن سناتے بھی تھے، لہٰذا رمضان میں حفاظ کرام قرآن کے پاک سننے اور سنانے کا جو اہتمام کرتے ہیں وہ دوہرے اجر کے مستحق ہوتے ہیں، ایک اجر قرآن سننے اور سنانے کا اور دوسرا رسو ل اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ کو زندہ کرنے کا، لہٰذا اس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام ہونا چاہیے۔
صدقات و خیرات اور نفع رسانی کی کثرت
رمضان مبارک میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے، لہٰذا ذکرو تلاوت دعا و تسبیح اور نماز کی کثرت و اہتمام کے ساتھ اپنی بساط بھر زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے مختلف احادیث میں اس کی ترغیب دی ہے ، روزہ داروں کو روزہ افطار کرانے پر بڑے اجر و ثواب کے وعدے کیے گئے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے یہاں یوں ہی سخاوت داد و دہش اور لوگوں کی حاجت روائی کا اہتمام کچھ کم نہ تھا مگر رمضان میں آپ کی طبیعت پر کچھ عجیب کیف و نشاط کا عالم طاری رہتا، چنانچہ جہاں آپ کے اور اعمال میں اضافہ ہوتا، وہیں آپ کی جود و سخا اور لوگوں کو دینی و دنیاوی فائدہ پہنچانے کا جذبہ بھی بہت بڑھ جاتا تھا جس سے ہر کوئی فیض یاب ہوتا۔ ذیل کی حدیث میں مذکور الفاظ پڑھیے اور رسول اللہ ﷺ کی جود و سخا اور جذبہ نفع رسانی کا کچھ اندازه لگائیے:
قَالَ ابن عباس: کَانَ رَسُوْلُ اللّہِ حِیْنَ یَلْقَاہُ جِبْرِیْلُ عَلَیہِ السَّلَامُ أجْوَدَ بِالْخَیرِ مِن الرِّیْحِ الْمُرْسَلَةِ9
”حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا: جب جبریل رسول اللہ ﷺ سے ملتے تھے تو آپ ﷺ کی اس کریمانہ نفع رسانی اور خیر کی بخشش میں اللہ کی بھیجی ہوئی ہواوٴں سے بھی زیادہ تیزی آ جاتی اور زور پیدا ہوتا۔“
جس طرح بارش سے پہلے آنے والے ٹھنڈی ہواوٴں کے مست جھونکے ہر کسی کے بدن کو چھوتے اور اس کے دل کے خوش کر دیتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی جود و سخا کے بابرکت جھونکے اس سے کہیں زیادہ لوگوں کو فیضاب کرتے اور ان کے لیے باعث فرحت و شادمانی بنتے ہیں۔ لہٰذا امت کے افراد کو اپنی اپنی بساط کے مطابق رسول اللہﷺکے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور صدقہ و خیرات اور خیر کی تعلیم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
لیکن یہ ساری عبادات و طاعات نے آپ ﷺ اور ان کے اصحاب کو جہاد سے غافل نہ رکھا، حضور نبی اکرم ﷺ کی عبادات اور آپ کا سلوک طریقت خشک اور راہبانہ گوشہ نشینی سے جدا تھا، دلیل کے طور پر غزوہ بدر، غزوہ احد (غزوہ تو شوال میں ہوا لیکن تیاریاں رمضان میں ہو رہی تھی)اسی طرح غزوہ خندق کی بھی طرف نگاہ ڈالیں تو اس کا بھی معاملہ رمضان سے شروع ہوا نیز فتح مکہ اور پھر سفر تبوک کا ایک حصہ بھی رمضان میں واقع ہوا یہ سب معاملے اس بات پر شاہد ہیں کہ آنحضرت ﷺ امت کے غم اور اسلام کے سیاسی و اجتماعی امور سے بے پرواہ نہیں تھے، دشمنان اسلام ان کی عبادات کو دیکھ کر مطمئن نہیں ہو سکتے تھے کہ ان کی عبادات، ان کے روزے اور اعتکاف وغیرہ انہیں اٹھ کھڑے ہونے سے مانع ہوں گے اور دشمن اس کا فائدہ اٹھا سکے گا۔
مزید بعد میں بھی اہم غزوات اور اسلام کی اہم فتوحات ماہ رمضان میں ہوئیں، مثلاً جنگ قادسیہ، فتح اندلس، معرکہ حطین، فتح قسطنطنیہ، معرکہ عین جالوت وغیرہا، ان سب سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سلف صالحین نے ماہ رمضان کو صرف ماہ عبادات سے نہیں جانا تھا بلکہ جہاد یا اعداد جہاد کا مہینہ جانا تھا اور ان مقدس مشغلوں سے اس مہینے کو مزین کیا تھا۔
حضرات صحابہ کا رمضان
اوپر نبی کریم ﷺ کے احوال رمضان کا مختصر خلاصہ پیش کیا گیا، قریب یہی انداز حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کا تھا ماہ رمضان میں کہ وہ اپنے نبی و محبوب ﷺ کے بالکل پرتو جیسے تھے ان کی اتباع کے حریص تھے، چنانچہ مذکورہ بالا تین کاموں (عبادات قیام، تلاوت، سخاوت) کا ان حضرات کے یہاں بھی رمضان میں غیر رمضان کے مقابلے معمول و اہتمام بڑھ جاتا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ اور آپ کے ساتھی جب روزہ رکھتے تو مسجد میں بیٹھتے۔ یعنی زیادہ تر اوقات مسجد میں عبادت کی مصروفیت سے وابستہ ہوتے۔
حضرت ابن مسعود پورا قرآن ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ختم کرتے تھے، اور رمضان میں ہر تین دن میں ایک ختم کرتے، اور دن میں بہت ہی کم قرآن ختم کرنے پر مدد لیتے تھے۔ 9مختصر قیام اللیل، والسنن الکبری للبیہقی ۲/۳۹۶، المعجم الکبیر:۸۷۰۶، ص ۹/۱۴۲، حلیۃ الاولیاء :۷ /۱۶۶
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ معمول تھا کہ وہ رمضان میں دن کے شروع حصے میں قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں، جب سورج طلوع ہوتا تو سو جاتیں ۔10لطائف المعارف، ص۱۷۱
حسن بصریؒ کہتے ہیں:
’’لوگ عمر بن خطابؓ اور عثمان بن عفانؓ کے زمانے میں رمضان میں عشاء کی نماز رات کے ابتدائی ایک چوتھائی حصے میں پڑھتے، دوسرے ایک تہائی میں قیام کرتے، پھر ایک چوتھائی میں سوتے، اور اس کے بعد پھر نماز پڑھتے۔‘‘11مختصر قیام اللیل للمروزی، ص ۹۷
عبدالرحمٰن بن عراک بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:
’’میں نے رمضان میں لوگوں کو پایا کہ وہ طویل قیام کی وجہ سے اپنے لیے رسیاں باندھتے تھے، تا کہ اس سے سہارا لیں۔‘‘12مصنف ابن ابی شیبۃ: ۷۷۶۰، ص۵/۲۲۲
بیہقی وغیرہ نے سائب بن یزید سے روایت کیا ہے:
’’عمر بن خطاب کے زمانے میں صحابہ رمضان کے مہینے میں بیس رکعت نماز پڑھتے تھے، اور عثمان بن عفان کے زمانے میں طویل قیام کی وجہ سے اپنے عصا پر ٹیک لگاتے تھے ۔‘‘ 13السنن الکبری للبیہقی ، ۲/۴۹۶، مختصر قیام اللیل ، ۹۶
ان متعدد آثار سے پتہ چلتا ہے کہ حضرات صحابہ رمضان میں تقریباً پوری رات عبادت میں صرف کرتے تھے، تراویح کے بعد نوافل میں مشغول ہو جاتے تھے، اپنے قیام میں طویل تلاوت کیا کرتے تھے۔ رات کا اکثر حصہ تلاوت ِ قرآن ، نماز، اور ذکر و اذکار و استغفار میں گزارتے تھے۔
اور سخاوت کا معاملہ بھی عروج پر ہوتا جیسا کہ عرض کیا گیا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے ساتھ کبھی آپ کے شاگرد سحری کھایا کرتے تھے۔14مصنف ابن ابی شیبۃ: ۹۰۲۴
ابو جمرہ نصر بن عمران ضبعی سے روایت ہے:
’’ہم رمضان میں ابن عباسؓ کے ساتھ افطار کیا کرتے تھے اور کھانا بھی کھاتے تھے۔‘‘15مصنف ابن ابی شیبۃ
تابعین و دیگر اسلاف امت کا حال
معلّٰی بن فضل سلف صالحین کے حوالے سے رمضان کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ سلف چھے مہینے تک اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ رمضان کا مہینہ پالیں، اور اگلے چھے ماہ وہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لے۔16لطائف المعارف،1/148
چنانچہ امام مالک کے بارے میں منقول ہے کہ جب ماہ رمضان آتا تو درس حدیث اور دیگر مشاغل دینیہ ترک کر دیتے اور قرآن کریم کی تلاوت میں ہمہ تن گوش ہو جاتے، امام سفیان ثوری کا حال یہ تھا کہ جب رمضان المبارک آتا تو وہ دوسری تمام نفلی عبادات کو موقوف کر دیتے اور پوری توجہ قرآنِ مجید کی تلاوت کی طرف مبذول کر دیتے۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری ، جو صحیح بخاری کے مؤلف ہیں، ان کا معمول یہ تھا کہ رمضان میں دن کے وقت روزانہ ایک ختم قرآن کرتے، اور تراویح کے بعد ہر تین راتوں میں ایک ختم مکمل کرتے تھے۔
حضرت سعید بن جبیر ہر دو راتوں میں ایک مرتبہ قرآن ختم کر لیا کرتے تھے۔ زبید یامی کا طریقہ یہ تھا کہ رمضان آتے ہی مصحف منگواتے اور اپنے شاگردوں کو جمع کر کے قرآن کی مجلس قائم کر دیتے۔
ولید بن عبد الملک ہر تین دن میں ایک ختم کیا کرتے تھے، اور ایک رمضان میں انہوں نے سترہ مرتبہ قرآن ختم کیا۔
ابو عوانہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان میں قتادہ کو قرآن کا درس دیتے ہوئے دیکھا۔قتادہ عام دنوں میں ہر سات راتوں میں ایک ختم کیا کرتے تھے، لیکن جب رمضان آتا تو ہر تین دن میں ایک ختم کرتے، اور جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو ہر رات ایک ختم مکمل کر لیتے۔
ربیع بن سلیمان، جو امام شافعی کے شاگرد تھے، بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی رمضان المبارک میں ساٹھ ختم قرآن کیا کرتے تھے، یعنی ہر رات دو مرتبہ قرآن ختم کرتے، اور رمضان کے علاوہ ہر مہینے میں تیس ختم فرمایا کرتے تھے۔
ذرا سوچیے! اے اللہ کے بندو! ہمارا حال ان بزرگوں کے مقابلے میں کیا ہے؟
وکیع بن الجراح رمضان میں رات کو ایک ختم اور اس کا ایک تہائی حصہ مزید پڑھتے، چاشت کی بارہ رکعت نماز ادا کرتے اور ظہر سے عصر تک نوافل میں مشغول رہتے۔
قاسم بن علی اپنے والد ابنِ عساکر، مصنفِ تاریخِ دمشق، کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ باجماعت نماز اور تلاوتِ قرآن کے نہایت پابند تھے۔ ہر ہفتے ایک ختم قرآن کرتے، اور رمضان میں روزانہ ایک ختم مکمل کرتے، اور جامع دمشق کے مشرقی مینارے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، اسلاف کے یہ معمولات علامہ ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب لطائف المعارف میں جمع کیے ہیں، آگے ابن رجب حنبلی ان حضرات کے معمولات بیان کرنے کے بعد ایک اہم نکتہ واضح کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن کو تین دن سے کم میں ختم کرنے سے متعلق جو ممانعت آئی ہے، اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ آدمی ہمیشہ اسی طریقے کو اختیار کر لے، کیونکہ اس طرح پڑھنے والا قرآن میں تدبر و فہم سے محروم رہ سکتا ہے۔ لیکن فضیلت والے اوقات، جیسے رمضان المبارک خصوصاً وہ راتیں جن میں لیلۃ القدر کی تلاش کی جاتی ہے، یا فضیلت والے مقامات جیسے مکہ مکرمہ جہاں باہر سے آنے والا حاضر ہو، وہاں زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنا مستحب ہے تاکہ زمان و مکان کی برکت سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہی مسلک امام احمد، امام اسحاق اور دیگر ائمہ کا ہے، اور سلف صالحین کا عمل بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔
یہ واقعات ہمیں اس بات پر توجہ دلاتے ہیں کہ رمضان صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ قرآن سے تعلق کو نئی زندگی دینے کا مہینہ ہے، اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں بندہ اپنی توجہ منتشر چیزوں سے ہٹا کر کلامِ الٰہی کے ساتھ خاص نسبت قائم کر سکتا ہے۔
رہا ان حضراتِ سلف کا حال رمضان میں خرچ کرنے، سخاوت اور فیاضی کا، تو اس کے بارے میں جتنا کہا جائے کم ہے۔ وہ اس معاملے میں ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے تھے، جن کی سخاوت رمضان میں اپنے عروج پر ہوتی تھی۔
چنانچہ لطائف میں امام ابنِ رجب نقل کرتے ہیں کہ امام شافعی فرمایا کرتے تھے: میں پسند کرتا ہوں کہ آدمی رمضان کے مہینے میں اپنی سخاوت اور فیاضی میں اضافہ کرے، اس لیے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی اقتدا ہے، اور اس لیے بھی کہ اس مہینے میں لوگوں کو اپنی ضروریات کے لیے زیادہ مدد کی حاجت ہوتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ روزے اور نماز میں مشغول ہو جانے کی وجہ سے اپنی کمائی کے کاموں میں پوری طرح وقت نہیں دے پاتے۔
یونس بن یزید بیان کرتے ہیں کہ امام ابنِ شہاب زہری جب رمضان کا مہینہ آتا تو فرمایا کرتے تھے یہ مہینہ تو بس قرآن کی تلاوت اور لوگوں کو کھانا کھلانے کا وقت ہے۔
گویا ان کی نظر میں رمضان کا خلاصہ ہی یہ دو کام تھے: کلامِ الٰہی سے تعلق اور بندگانِ خدا کی خدمت۔
حماد بن ابی سلیمان کا حال یہ تھا کہ وہ پورے رمضان میں پانچ سو افراد کو روزانہ افطار کرواتے تھے۔ یعنی پورے مہینے ان کے افطار کی ذمہ داری خود اٹھاتے۔ اور بات یہیں تک محدود نہ تھی، بلکہ عید کے بعد ان پانچ سو افراد میں سے ہر ایک کو سو درہم بھی عطا کرتے، تاکہ ان کی ضروریات پوری ہو سکیں اور خوشی کے دنوں میں انہیں کسی تنگی کا سامنا نہ ہو۔
اکابر دیوبند کا رمضان
سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی خاص کر رمضان المبارک کی راتوں میں شب بیداری کا اہتمام فرماتے تھے، مغرب کے بعد دو حافظ اوابین میں سناتے، عشاء کے بعد تراویح میں نصف شب تک تین حافظ سناتے، اس کے بعد نوافل تہجد میں دو حافظ قرآن پاک سناتے تھے، اسی طرح پوری رات گزر جاتی تھی۔
حجتہ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی نے رمضان المبارک سفر حجاز کے دوران روزانہ ایک ایک پارہ یاد کر کے حفظ قرآن مکمل فرمایا تھا، پھر بکثرت قرآن پاک کا ورد رکھتے تھے اور تراویح میں بڑی مقدار میں قرآن پاک پڑھا کرتے تھے،
قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کا رمضان المبارک میں مجاہدہ اس قدر بڑھ جاتا تھا کہ دیکھنے والوں کو رحم آ جاتا۔۷۰ سال کی عمر میں بھی عبادت کا یہ عالم تھا کہ دن بھر کے روزہ کے بعد اوابین کی بیس رکعتوں میں کم از کم دو پارے تلاوت فرماتے، تراویح بھی نہایت اہتمام اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا فرماتے، بچے ہوئے وقت میں زبانی تلاوت جاری رہتی، تہجد میں بھی دو ڈھائی گھنٹے صرف ہوتے، نماز فجر کے بعد اشراق تک وظائف و درود میں مشغول رہتے، دن کے اکثر اوقات بھی تلاوت و اذکار اور مراقبہ میں گزرتے، اس میں بھی یومیہ کم از کم ۱۵ پارے قرآن کریم پڑھنے کا معمول تھا،
حضرت شیخ الہند کے رمضان سے متعلق سفر نامہ ’’اسیر مالٹا‘‘ میں لکھا ہے:
’’چونکہ رمضان کا مہینہ طائف میں نہایت بدامنی کی حالت میں واقع ہوا تھا۔ اس لیے نہ تو دن میں حسب خواہش لوگوں کو خوراک کا انتظام کرنا ممکن ہوتا تھا نہ مساجد میں تراویح وغیرہ کا انتظام حسب ضرورت ہو رہا تھا۔ مسجد ابن عباس وہاں کی بڑی مسجد ہے اس میں بھی تراویح الم ترکیف سے ہوتی تھی۔ اور اس میں بھی بہت کم آدمی آتے تھے باقی لوگ محلہ کی مسجدوں اور اپنے مکانوں میں پڑھتے تھے کیونکہ گولیاں ہر وقت اوپر سے گزرتی رہتی تھیں۔ مولانا نے بھی اولاً مسجد ابن عباس رضی اللہ عنہما میں حسب عادت سابقہ تراویح پڑھنی شروع کی۔ مگر چونکہ راستہ وہاں کا ایسا تھا جہاں پر گولیاں برابر آتی رہتی تھیں۔ اس لئے اس مسجد میں جاتے وقت خطرہ ضرور رہتا تھا اور پھر ایک شب میں یہ واقعہ پیش آیا کہ نماز مغرب پڑھ کر ابھی فارغ ہوئے ہی تھے، ابھی تک نفل وغیرہ پڑھ ہی رہے تھے، اندھیرا ہو چکا تھا کہ بدوؤں نے ہجوم کیا مسجد ابن عباس کی چھت اور میناروں پر بھی ایک بڑا دستہ ترکی فوجیوں کا تھا اور مسجد کے دروازے پر بھی مورچہ تھا غرض کہ طرفین میں خوب تیز گولیوں اور گولوں کی بارش دیر تک ہوتی رہی خود مسجد میں بھی برابر گولیاں برستی رہیں۔ جو لوگ مسجد میں باقی تھے وہ ایک کونے میں جدھر گولیوں کے آنے کا گمان نہ تھا بیٹھ گئے۔ اس روز تراویح بھی نہیں ہوئی فقط چند آدمیوں نے بوقت نماز عشاء فرض عشاء ایک طرف پڑھ کر جب کچھ سکون ہوا چلے گئے، اس کے بعد احباب نے اصرار کیا کہ آپ مسجد ابن عباس میں نماز کے لیے نہ جایا کریں، دروازہ مکان کے قریب جو مسجد ہے اس میں ہمیشہ نماز با جماعت پڑھا کریں۔ چنانچہ تمام رمضان اوقات خمسہ کی نماز وہاں پڑھتے تھے۔ اس سال تراویح فقط الم ترکیف سے پڑھی گئی اس کے بعد مولانا نوافل میں سحر کے وقت تک مسجد میں مشغول رہتے تھے۔ مولوی عزیر گل صاحب اور کاتب الحروف ( حضرت شیخ الاسلام ) اسی مسجد میں علیحدہ علیحدہ نفلوں وغیرہ میں وقت گزارتے۔ چونکہ گرمیوں کی رات تھی جلد تر سحور کا وقت ہو جاتا تھا۔ پھر آ کر کچھ سحری پکاتے جو اکثر میٹھے چاول ہوتے تھے۔ مگر چونکہ شکر وہاں ملتی نہ تھی اس لیے شہد کو بجائے شکر چاول اور چائے میں استعمال کرتے تھے۔ اور اکثر تو نمکین چاول بغیر گوشت پکایا جاتا تھا۔ اس وقت طائف میں چاول وغیرہ بھی دستیاب ہونا مشکل ہوتا تھا۔ ایک آنہ والی روٹی آٹھ آنے کو بمشکل ملتی تھی۔ مگر دہلی کے تاجروں میں سے حاجی ہارون مرحوم نے تھوڑے چاول مولانا مرحوم کے لیے ہدیہ بلا طلب بھیج دیے تھے جو کہ عمدہ قسم کے تھے انہوں نے بہت کام دیا۔ اس مدت میں جو کہ تقریباً دو ماہ تھی ہم نے دس بارہ اشرفی طائف میں بوجہ سخت گرانی کھا ڈالیں۔‘‘
حضرت مولانا الحاج سید اصغر حسین میاں صاحب دیوبندی سوانح شیخ الہند میں تحریر فرماتے ہیں رمضان المبارک میں مولانا کی خاص حالت ہوتی تھی اور دن رات عبادت خداوندی کے سوا کوئی کام ہی نہ ہوتا۔ دن کو لیٹتے اور آرام فرماتے لیکن رات کا اکثر حصہ بلکہ تمام رات قرآن مجید سننے میں گزار دیتے (حضرت شیخ الہند قدس سرہ خود حافظ نہیں تھے)۔ کئی کئی حافظوں کو سنانے پر مقرر رکھتے۔ اگر وہ باہر کے رہنے والے خادم و شاگرد ہوتے تو ان کے قیام و طعام کا اہتمام فرماتے اور تمام مصارف برداشت فرماتے۔ کبھی مولانا حافظ محمد احمد صاحب مہتمم دار العلوم سے اصرار کر کے کئی کئی قرآن مجید سنتے ۔ کبھی اپنے بے تکلف پیر بھائی حافظ انوار الحق مرحوم سے کبھی اپنے چھوٹے بھائی مولوی محمد محسن صاحب کو مقرر فرماتے ۔ اور کبھی اپنے عزیز بھانجے مولوی محمد حنیف صاحب کو اور اخیر زمانہ میں اکثر مولوی حافظ کفایت اللہ صاحب اس خدمت سے سرفراز ہوتے تھے۔ تراویح سے فارغ ہو کر بہت دیر تک حاضرین کو مضامین علمیہ اور حکایات اکابر سے محظوظ فرماتے اور پھر اگر موقع ملتا تو چند منٹ کے لئے لیٹ جاتے۔ اس کے بعد نوافل شروع ہوتے، ایک حافظ دو چار پارے سنا کر فارغ ہو کر آرام کرتا مگر حضرت اسی طرح مستعد رہتے، اور دوسرا حافظ شروع کر دیتا ۔ اسی طرح متعدد حفاظ باری باری کئی کئی پارے سناتے۔ قاری بدلتے رہتے تھے مگر مولا نا کبھی دو تین بجے تک اور کبھی بالکل سحر کے وقت تک اسی طرح کھڑے سنتے رہتے۔ بعض رمضان میں فرائض مسجد میں پڑھ کر مکان میں با جماعت خدام و حاضرین تراویح پڑھتے اور اسی طرح چار چار اور چھ چھ بلکہ کبھی دس دس پارے تراویح میں پڑھے جاتے۔ تراویح ختم ہو جاتی تو کوئی حافظ نوافل میں شروع کر دیتا تمام رات یہی لطف رہتا تھا۔ اور اس قدر طویل قیام کے بعد جب پاؤں ورم کر جاتے تو خدام و خلصین کو رنج ہوتا اور حضرت دل میں خوش ہوتے کہ حتی تو رمت قدماہ میں سید الاولین والآخرین ﷺ کا اتباع نصیب ہوا۔
حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اپنی تمام مصروفیات (مجالس و مکاتیب وغیرہ)ختم کر کے پورے طور پر خلوت نشیں ہو کر مصروف عبادت و ریاضت ہو جاتے، رات دن کے ۲۴ گھنٹے میں صرف ایک گھنٹہ آرام فرماتے، تلاوت قرآن کریم سے نہایت شغف تھا، آپ حافظ قرآن بھی تھے، اس لئے شب کا قریب قریب سارا وقت تلاوت میں صرف ہوتا، جب خود تراویح میں قرآن کریم سناتے تو دو ڈھائی بجے فراغت ہوتی اور اخیر عمر جب خود سنانا موقوف ہو گیا تو تراویح میں پورے مہینہ میں تین چار ختم سن لیا کرتے تھے، عصر و مغرب کے درمیان کا وقت عام دربار اور سب کی ملاقات کے لیے مخصوص ہوتا، اس کے علاوہ بغیر کسی خاص ضرورت کے آپ کسی سے نہ ملتے، اور حجرہ شریف کا دروازہ بند فرما کر خلوت کے مزے لوٹتے اور اپنے مولائے کریم سے راز و نیاز میں مشغول رہتے، اس لئے عشاق و زائرین نماز میں آتے جاتے آپ کی زیارت پر اکتفا کر کے طبعی سکون حاصل کرتے تھے، ماہ رمضان میں تو اس قدر مجاہدہ بڑھ جاتا تھا کہ دیکھنے والوں کو ترس آتا تھا، افطار و سحر دونوں کا کھانا بمشکل دو پیالی چائے اور آدھی یا ایک چپاتی ہوتا تھا۔
محدث کبیر حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری باوجود کثیر علمی مصروفیات اور تصنیفی مشغولیات کے رمضان المبارک کا نہایت اہتمام فرماتے، جب تک طاقت رہی کبھی تراویح میں قرآن پاک سنانا نہیں چھوڑا، عموماً تراویح میں قرآن پاک سوا پارہ پڑھنے کا معمول رہا، جو انتہائی ترتیل کے ساتھ پڑھا جاتا، رات میں تہجد کی نوافل میں انہماک بھی رہتی، دن کے اوقات اکثر تلاوت اور علمی انہماک میں گزارتے تھے اور جوں جوں عمر بڑھتی گئی اس اہتمام میں اضافہ ہوتا گیا۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رمضان المبارک میں کیا لطف حاصل کیا کرتے تھے، رمضان میں اکثر خود قرآن شریف سناتے اور بلا مانع کبھی قرآن سنانا نہیں چھوڑتے، نصف قرآن تک سوا پارہ، پھر ایک پارہ روزانہ پڑھتے، ستائیسویں شب کو اکثر ختم کرتے، یادداشت اتنی اچھی کہ کہیں متشابہ نہیں لگتا، قرآن شریف سے طبعاً حضرت والا کو ایسی مناسبت تھی کہ گویا از اول تا آخر نظر کے سامنے ہے، کوئی آیت پوچھی جائے کہ کہاں آئی ہے تو بغیر کسی دیر جواب حاضر ہوتا، آپ کی تراویح کی جماعت اس قدر مجمع ہوتا کہ کوئی مغرب کے پھرتی سے کھانا کھا کر پہونچ گیا تو جگہ ملی ورنہ محروم ہوتا، اعتکاف میں بھی تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رہتا، آپ کی مشہور کتاب ”قصد السبیل“ اعتکاف ہی میں صرف آٹھ دن میں لکھی گئی، اکثر تہجد کی نماز میں ایک پارہ روزانہ پڑھنے کا معمول رہا، بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ۔17معمولات اشرفی
شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے یہاں رمضان المبارک کا مہینہ باغ و بہار کا زمانہ ہوتا تھا، آپ اپنے تمام دینی و سیاسی اسفار موقوف فرما کر ایک جگہ پورے ماہ قیام فرماتے اور تشنگان معرفت کو اپنے فیوض عالیہ سے پوری طرح سے مستفیض ہونے کا موقع فراہم کرتے تھے، ملک کی تقسیم سے قبل تک سلہٹ(بنگلہ دیش)میں قیام رمضان کا معمول رہا اور تقسیم کے بعد ناقدہ اور بانسکنڈی (آسام)میں قیام فرماتے رہے، دن میں زیادہ تر وقت تلاوت، اصلاح اور ارشاد میں گزارتے، عصر کے بعد قرآن کریم کا دور فرماتے، اس کے بعد افطار تک استغراق کی حالت میں رہتے، مغرب کے بعد ۲ رکعت نفل نہایت طویل ادا فرماتے، تراویح کی امامت عموماً خود ہی نہایت اطمینان کے ساتھ فرماتے اور ہر تراویح میں کافی دیر توقف فرما کر ذکر و اذکار میں مشغول رہتے، تراویح کے بعد مختصر واعظ ہوتا جس میں بہت بڑا مجمع شریک ہوتا، آپ کے یہاں تہجد کی با جماعت ادائیگی کا معمول تھا، ایک قرآن پاک آپ خود پڑھتے، دوسرا مولانا جلیل صاحب مرحوم پڑھا کرتے تھے، ہر سورۃ کے شروع میں جہراً بسم اللہ پڑھنے کا بھی معمول تھا۔ اخیر عمر تک آپ کے مجاہدات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ٹانڈہ کے قیام کے زمانہ میں گرمی سخت تھی، پھر ضعف اور مرض کی وجہ سے خشکی کی بنا پر آپ کے لئے پڑھنا دشوار ہوتا تھا، لیکن اس حال میں بھی آپ نے پورا کلام پاک اسی شان کے ساتھ سنایا جو آپ کا امتیاز تھا۔ رمضان میں متوسلین کے جھرمٹ میں رہنے کے باوجود آپ کا انقطاع عن الخلق قابل رشک تھا اور وہ اور وہ کیفیت رہتی تھی جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، آخری رمضان میں آپ بانسکنڈی(آسا م)میں گزارا، یہاں تراویح میں آپ کے منجھلے صاحب زادے حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ العالی(صدر جمعیۃ العلماء ہند)نے پہلی مرتبہ قرآن پاک سنانے کی سعادت حاصل کی۔
محدث کبیر حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوری خود فرماتے ہیں کہ ایک قاری صاحب جو میرے دوست تھے، میری ملاقات کے لیے تشریف لائے، رمضان شریف کے آخری ایام تھے، وہ بڑا نفیس قرآن پڑھتے تھے، میں نے کہا بجائے وقت گزارنے کے چلو نفل پڑھتے ہیں، چنانچہ ان قاری صاحب نے نفل کی نیت باندھ لی اور میں نے اقتدا کی، بس تو پھر کیا پوچھنا وہ تو پڑھتے چلے گئے اور میں لطف اٹھاتا چلا گیا، وہ ایکسپریس گاڑی کی تر سورتوں کے اسٹیشن طے کرتے چلے گئے اور سحری سے پہلے پورے قرآن کریم دو رکعتوں میں ختم کر ڈالا۔18بینات،بنوری نمبر ۷۰۶،مضمون قاری رفیق صاحب
خادم القرآن حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندوی کو بھی تلاوت قرآن سے بے حد شغف تھا، اسفار میں مسلسل تلاوت جاری رہتی اور دسیوں پارے تلاوت فرما لیتے، رمضان المبارک کے مہینے میں یہ اہتمام مزید بڑھ جاتا، آپ کے بعض سوانح نگاروں نے واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک اہل بدعت کے علاقہ میں تراویح سنانے تشریف لے گئے، تو ایک ہی رات تراویح میں ۲۱ پاروں کی تلاوت فرما دی۔19تذکرہ الصدیق ۱/۴۱۷
یہ سلف صالحین اور اکابر امت کے کچھ نمونے تھے جو سکھا گئے کہ مبارک لمحات کی قدر کیسے کی جاتی ہے، جو بتلا گئے کہ مواقع خیر کو غنیمت کیسے جانا سکتا ہے جو دکھا گئے اگر واقعی کسی کو قدردانی کا جذبہ ہو تو مشکلات، پریشانیاں، رکاوٹیں سب ایک طرف رہ جاتی ہیں اور مراد پانے کا سچا حوصلہ مراد تک پہنچا کر رہتا ہے، غرض یہ کہ دل کی چاہت اور حقیقی ذوق انسان مشکلات بلکہ قریب ناممکنات تک کو پانے والا بنا دیتا ہے۔
الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو
ہر چیز میں لذت ہے اگر دل میں مزہ ہو
اللہ تعالیٰ ماہ مبارک کو اپنی رضا کے مطابق کما حقہ زیادہ زیادہ سے وصول کرنے کی توفیق عطا کرے۔
٭٭٭٭٭
- 1سنن نسائی، ج:۱، ص:۱۴۰
- 2متفق علیہ، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الصوم،ص:۱۷۳
- 3نووی شرحِ مسلم، از برکاتِ رمضان ، ص:۴۴
- 4رواه ابن حبان في صحيحه
- 5بیہقی شعب الایمان، رقم:۳۶۲۵،إسناده مقبول
- 6أخرجه ابن خزيمة،٢٢١٦،والبيهقي في شعب الإيمان،٣٣٥۲،فيه عمرو بن عمرو راو ضعيف،قال ابن العدي لا بأس به
- 7مسند احمد ۶۶۲۶،الطبرانی ۱۴۶۷۲
- 8سنن النسائی، رقم:۲۰۹۴
- 9مختصر قیام اللیل، والسنن الکبری للبیہقی ۲/۳۹۶، المعجم الکبیر:۸۷۰۶، ص ۹/۱۴۲، حلیۃ الاولیاء :۷ /۱۶۶
- 10لطائف المعارف، ص۱۷۱
- 11مختصر قیام اللیل للمروزی، ص ۹۷
- 12مصنف ابن ابی شیبۃ: ۷۷۶۰، ص۵/۲۲۲
- 13السنن الکبری للبیہقی ، ۲/۴۹۶، مختصر قیام اللیل ، ۹۶
- 14مصنف ابن ابی شیبۃ: ۹۰۲۴
- 15مصنف ابن ابی شیبۃ
- 16لطائف المعارف،1/148
- 17معمولات اشرفی
- 18بینات،بنوری نمبر ۷۰۶،مضمون قاری رفیق صاحب
- 19تذکرہ الصدیق ۱/۴۱۷








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



