المیزان
المیزان یعنی اعمال کے تولے جانے کا مرحلہ الحساب کے بعد آتا ہے۔ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں:
’’حساب، یعنی اعمال کی جانچ پڑتال کے بعد ان کے وزن کا مرحلہ آتا ہے۔ چونکہ اعمال کے وزن کی بنیاد پر ہی اجر عطا کیا جائے گا لہٰذا اس مرحلے کا حساب کے مرحلے کے بعد ہی ہونا منطقی لحاظ سے درست ہے کیونکہ اعمال کا محاسبہ ان کی مقدار معین کرنے کے لیے ہے اور ان کا وزن ان کی قدر کے لحاظ سے اجر عطا کیے جانے کے لیے ہے۔‘‘
اس کو ایک تمثیل کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اس طرح ہے گویا انسان مختلف انواع و اقسام کے اعمال کی بوری بھر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوا۔ اب اللہ رب العزت ان اعمال کے بارے میں انسان سے پرسش فرماتے ہیں، یعنی حساب کتاب فرماتے ہیں، تاکہ اچھے اور برے اعمال چھٹ کر الگ ہو جائیں، کم اجر والے اور زیادہ اجر والے اعمال میں تفریق ہو جائے، قبول اور رد اعمال میں تفریق ہو جائے اور قابلِ اجر اور قابلِ مواخذہ اعمال جدا جدا ہو جائیں۔ یہ ہے حساب کا مرحلہ جس کے ذریعے تمام اعمال کی درجہ بندی کی جائے گی۔ اب اس کے بعد میزان قائم کیا جائے گا جس میں ان چھانٹے گئے اچھے اور برے اعمال کو تولا جائے گا۔ پس اسی وجہ سے میزان کا مرحلہ حساب کے بعد ہے کہ جنس کا وزن اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب وہ مخلوط نہ ہو، بلکہ ہر جنس جدا جدا موجود ہو اور پھر ہر جنس کے وزن اور اس کی قدر کے اعتبار سے اس کی جزا و سزا مقرر فرمائی جائے گی۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا ۭ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ ﴾ (سورۃ الانبیاء: ۴۷)
’’ اور ہم قیامت کے دن عدل و انصاف کی میزانیں لا کر رکھ دیں گے، پھر کسی جان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہو گا کوئی (عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی تو اسے ہم لے آئیں گے اور حساب لینے کے لیے ہم کافی ہیں۔‘‘
یہ تو میزان ہو گیا، جس کے ذریعے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ البتہ علماء کے مابین اس بات پر اختلاف ہے کہ دراصل وزن کس چیز کا کیا جائے گا۔ اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ اعمال مجسم صورت میں اس روز پیش ہوں گے۔ بعض علماء کے نزدیک محض اعمال کا وزن کیا جائے گا اور بعض علماء کے نزدیک اعمال اور عامل، یعنی اس فرد کا بھی وزن کیا جائے گا جس کے وہ اعمال ہوں گے۔ البتہ یہ ایسا چھوٹا اختلاف ہے کہ جس سے کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑتا۔
اللہ رب العزت میزان قائم فرمائیں گے۔ اور اب ہم حدیث سے چار مثالیں ایسی دیکھیں گے جن میں میزان کا ذکر کیا گیا ہے۔
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ۔ (مسند احمد )
’’ حضرت ابودرداء سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے افضل اور بھاری چیز اچھے اخلاق ہوں گے ۔‘‘
کبھی بھی اخلاق کو ہلکی چیز نہ سمجھیں کہ قیامت کے دن اچھے اخلاق میزان عمل میں سب سے وزنی عمل ہوں گے۔ اچھے اخلاق کیا ہیں؟ سچ، امانت داری، نرمی، دوسروں کے حقوق ادا کرنا، وغیرہ۔
ایک اور مثال بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ (صحیح بخاری)
’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو کلمے، زبان پر ہلکے، ترازو میں وزنی اور اللہ کو بہت پیارے ہیں : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ۔‘‘
صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں ہے:
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِوَعْدِهِ فَإِنَّ شِبَعَهُ وَرِيَّهُ وَرَوْثَهُ وَبَوْلَهُ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. (صحیح بخاری)
’’ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے گھوڑا پالے اور محض اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے اس کے وعدوں کو سچا سمجھے تو بےشک اس کا کھانا، اس کا پینا، اس کی لید اور اس کا پیشاب، غرض اس کی ہر چیز ثواب بن کر قیامت کے دن اس جہاد کرنے والے کے اعمال میں وزن کی جائے گی (اور یہ وزن بڑا بھاری ہو گا) ۔‘‘
جامع ترمذی کی ایک حدیث میں ہے:
إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَی رُئُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا کُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَقُولُ أَتُنْکِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا أَظَلَمَکَ کَتَبَتِي الْحَافِظُونَ فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ فَيَقُولُ أَفَلَکَ عُذْرٌ فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ فَيَقُولُ بَلَی إِنَّ لَکَ عِنْدَنَا حَسَنَةً فَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْکَ الْيَوْمَ فَتَخْرُجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولُ احْضُرْ وَزْنَکَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ فَقَالَ إِنَّکَ لَا تُظْلَمُ قَالَ فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي کَفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي کَفَّةٍ فَطَاشَتْ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتْ الْبِطَاقَةُ فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْئٌ (جامع ترمذی)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے (اس کے گناہوں کے) ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک ہو گا، پھر اللہ عزوجل پوچھے گا : کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے ؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا : نہیں اے میرے رب ! پھر اللہ کہے گا : کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ تو وہ کہے گا : نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا (کوئی بات نہیں) تیری ایک نیکی میرے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم (و زیادتی) نہ ہو گی، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ’میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘ لکھا ہو گا۔ اللہ فرمائے گا : جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع (کانٹے) پر موجود رہو، وہ کہے گا : اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہو گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر وہ تمام دفتر (رجسٹر) ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، پھر وہ سارے دفتر اٹھ جائیں گے، اور پرچہ بھاری ہو گا، اور اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی ثابت نہیں ہو سکتی ۔‘‘
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی صحبہ وسلم
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



