احکامِ الٰہی کا خیال رکھ، اللہ تیرا خیال رکھے گا
اللہ جل جلالہ نے جس طرح اپنی قدرت سے حضرت عاصم کے جسد کی حفاظت کی اور اسے کفار کے ہاتھ لگنے سے بچایا، انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ اللہ نے بھڑوں کا جتھہ بھیجا، جس نے ہالہ بنا کر اور ڈنک مار مار کر کفار کو دور رکھا اور حضرت عاصم کے جسم اور کفار کے درمیان آڑ بن گیا، بعد ازاں اللہ نے سیلاب بھیجا ،جو حضرت عاصم کے جسد کو بہا کر کفار کی پہنچ سے دور لے گیا۔
حضرت عاصم نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ کوئی مشرک انہیں نہیں چھوئے گا اور وہ بھی کسی نجس مشرک کو نہیں چھوئیں گے، سو جب حضرت عمر کو پتہ چلا کہ بھِڑوں نے مشرکین سے ان کے جسد کی حفاظت کی ہے تو آپ نے کہا: اللہ مومن بندے کی حفاظت کرتا ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں نذر مانی تھی کہ نہ ان کو کوئی مشرک چھوئے گا اور نہ وہ کسی مشرک کو چھوئیں گے، سو ان کی وفات کے بعد بھی اللہ نے ان کی حفاظت کی ،جیسے وہ اپنی زندگی میں خود کو بچاتے رہے۔1ابن ہشام ،ج ۲،ص۱۰۹،فتح الباری
اور جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وصیت فرمائی:
احفظ اللہ یحفظک، احفظ اللہ تجدہ تجاھک2صحیح،مسند احمد ۲۵۳۷،ترمذی۲۵۱۶
’’تو اللہ [کے احکام] کی حفاظت کر، اللہ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ [کے احکام کی] حفاظت کر ،تو اس کو [ہر ضرورت میں] اپنے سامنے پائے گا)۔‘‘
اللہ کی حفاظت کا مطلب ہے اس کے احکام کی حفاظت، اس کی مقرر کردہ حدود کو پامال نہ کرنا، اس کے عائد کردہ حقوق کی ادائیگی، اس کے اوامر کو بجا لانا، اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب۔ جو ان امور کی پاسداری کرے تو اس کا شمار اللہ کی حدود کے ان حفاظت کرنے والوں میں ہو گا جن کی تعریف اللہ نے قرآن کریم میں کی ہے:
ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ (سورۃ ق: ۳۲، ۳۳)
’’ (اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے یہ وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے ہو، (اور) اپنی نگرانی رکھنے والا ہو۔ جو خدائے رحمن سے اسے دیکھے بغیر ڈرتا ہو، اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والا دل لے کر آئے۔‘‘
اور (اللہ تیری حفاظت کرے گا) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کے حقوق کی حفاظت کرے گا، کیونکہ عمل کے بدلے کی نوعیت عمل جیسی ہوتی ہے، بندے نے اللہ کی حدود کی حفاظت کی تو اللہ اس کے حقوق کی حفاظت کرے گا، یہ اصول قرآن میں جابجا مذکور ہے۔
وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ ۚ (سورۃ البقرۃ: ۴۰)
’’اور تم مجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو تاکہ میں بھی تم سے کیا ہوا عہد پورا کروں۔‘‘
فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ (سورۃ البقرۃ: ۱۵۲)
’’تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔‘‘
اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ (سورۃ محمد: ۷)
’’اگر تم اللہ[کے دین] کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا۔‘‘
[حفاظت کی اقسام]
اللہ بندے کی دو طرح سے حفاظت کرتا ہے :
اول: اللہ اس کے دنیاوی مصالح کی حفاظت کرتا ہے ،اس کے بدن و صحت کی، اس کے اہل و عیال اور مال کی حفاظت کرتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ (سورۃ الرعد: ۱۱)
’’ ہر شخص کے آگے اور پیچھے وہ نگران (فرشتے) مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :یہ فرشتے اللہ کے حکم سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں ،اور جب تقدیر کا فیصلہ آ جائے تو حفاظت چھوڑ دیتے ہیں ۔
اور جو اپنی جوانی اور قوت کے عالم میں احکام الہٰی کی پاسداری کرتا ہے ،اللہ جل جلالہ اس کے ضعف میں اس کی دست گیری کرتا ہے اور اسے سماعت، بصارت ،قوت اور عقل سے نوازے رکھتا ہے۔ ایک عالم کی عمر سو سال سے متجاوز تھی ،لیکن جسمانی قوت اور عقل سے بہرہ ور تھے، ایک دن انہوں نے خطرناک چھلانگ لگائی ،لوگوں نے ان پر غصہ کیا کہ کچھ اپنے بڑھاپے پر رحم کھائیں، اس پر اس عالم نے کہا: کم عمری میں ہم نے اپنے ان اعضا کو اللہ کی نافرمانی سے بچائے رکھا تو اللہ نے بڑی عمر میں بھی ان کو ہمارے لیے صحیح سالم رکھا ہے۔
اور اللہ انسان کی نیکی کی بنا پر اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشادِ خداوندی ہے:
وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا ۚ (سورۃ الکہف: ۸۲)
’’اور ان دو[یتیم لڑکوں ]کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔‘‘
یعنی باپ کی نیکی کی وجہ سے اللہ نے ان دونوں کے خزانے کی حفاظت کی۔ سعید بن مسیب نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تیری خاطر اپنی نماز میں اضافہ کرتا ہوں تاکہ تیری من جانب اللہ حفاظت ہو، پھر آپ نے مذکورہ بالا آیت پڑھی۔
دوم: حفاظت کی دوسری قسم پہلی سے اعلیٰ ہے، یعنی اللہ اپنے بندے کے دین و ایمان کی حفاظت کرتا ہے، گمراہ کن شبہات اور حرام شہوات سے اس کی زندگی میں اسے بچاتا ہے اور موت کے وقت اسے دین پر ثابت قدم رکھ کر ایمان پر اسے موت دیتا ہے ۔
سو نبوی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی ہے جو آپ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کو سکھائی:
اللھم احفظنی بالاسلام قائما واحفظنی بالاسلام قاعدا واحفظنی بالاسلام راقدا ولاتطمع فی عدوا و لا حاسدا۔3حدیث حسن،ابن حبان :۲۴۳۰
’’اے اللہ ! کھڑے ہونے کی حالت میں میری حفاظت فرما اسلام کے ساتھ، اور بیٹھے ہونے کی حالت میں میری حفاظت فرما اسلام کے ساتھ اور سونے کی حالت میں میری حفاظت فرما اسلام کے ساتھ، اور میرے متعلق کسی دشمن اور حاسد کو طمع کا موقع نہ دے۔‘‘
[اہلِ جہاد اور حفاظتِ الٰہی]
اللہ جل جلالہ کی ان دونوں حفاظتوں کے سب سے زیادہ حق دار اہلِ جہاد ہیں ،جنہوں نے اللہ کے دین کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگا دی ہیں۔ اللہ نے ان کی جس طرح حفاظت فرمائی ہے اس کے واقعات بے شمار ہیں۔ ایک تو خود حضرت عاصم کا واقعہ ہے، نیز حضرت عامر بن فہیرہ کو ان کی شہادت کے بعد فرشتوں نے ڈھانپ لیا اور مشرکین انہیں نہ دیکھ سکے ۔4خصائص کبری ج۱،ص ۳۷۰
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک گھر کی ایک خاتون مسلمانوں کے ایک دستے کے ساتھ نکلیں ،گھر میں پیچھے اس نے بار بکریا ں اور ایک چرخہ چھوڑا جس سے کپڑا بُنتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب وہ واپس آئی تو ایک بکری اور چرخہ گم تھا، اس خاتون نے دعا کی: اے میرے رب! جو تیرے راستے میں نکلے اس کی حفاظت کی تو نے ضمانت لی ہے، میری ایک بکری اور چرخہ گم ہو گیا ہے، میں اپنی بکری اور چرخے کی دہائی دیتی ہوں ۔پھر رسول اللہ ﷺ نے ذکر فرمایا کہ وہ کیسی شدت اور آہ و زاری کے ساتھ اپنے رب کو دہائیاں دے رہی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تو اسے وہ بکری اور اس جیسی ایک اور مل گئی ۔5مسند احمد،۱۹۷۴۳
مجاہدین ہمیشہ اس حفاظتِ الہی کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں، جن سے ان کا یقین بڑھتا رہتا ہے۔ کتنے ہی شہداء کا جسم شہادت کے کافی عرصے بعد اس حالت میں ملا کہ بالکل تازہ اور صحیح سالم تھا، بلکہ بعض کے بال بھی بڑھتے ہیں اور جسم سے خون بھی بہتا رہتا ہے ،اور جسم سے پھوٹنے والی خوشبو اس سب پر مستزاد۔ سبحان اللہ!
ایک مجاہد ساتھی ٹینک کے اوپر تھے کہ ایک امریکی طیارے نے ان پر میزائل داغا، وہ اتنے شدید زخمی ہو گئے کہ حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا کہ اس کا دوبارہ تندرست ہونا ناممکن ہے، اس پر اس مجاہد نے کہا کہ شفا اللہ کے اختیار میں ہے ،اور واقعتاً وہ ساتھی کچھ ہی عرصے بعد ایسا بھلا چنگا ہو گیا کہ ڈاکٹر حیران رہ گئے ۔6شیخ منصور شامی شہید رحمہ اللہ یہاں شیخ خالد حبیب شہید رحمہ اللہ کا واقعہ بغیر نام لیے سنا رہے ہیں ۔تقبلھما اللہ
سو اللہ کی جانب سے اس خصوصی حفاظت اور اعزاز پر مجاہدین کو خوش ہونا چاہیے، انہیں چاہیے کہ خود کو اللہ کے حوالے کر دیں، وہی ان کی حفاظت کرنے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے پاس جب کوئی چیز رکھوائی جاتی ہے تو وہ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔7صحیح حدیث،عمل الیوم واللیلہ نسائی ۵۱۷،صحیح ابن حبان ۲۳۷۶
اخلاقی جرات اور قانون کی پاسداری
جب مشرکین نے حضرت خبیب کو پکڑا تو انہیں قید کرنے میں بد اخلاقی دکھائی،اس پر آپ نے انہیں کہا: یہ عزت دار قوم بھی اپنے قیدی کے ساتھ بدسلوکی کرنے لگی؟ اس پر انہوں نے حضرت خبیب کے ساتھ اچھا سلوک کرنا شروع کر دیا اور آپ کو ایک عورت کی نگرانی میں دے دیا ۔8فتح الباری،ج۷،ص۳۸۵
کفار حضرت خبیب کو شہید کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کو انہوں نے مؤخر کیا ،تاکہ حرمت والے مہینے گزر جائیں، بعد ازاں انہیں حدودِ حرم سے باہر لے جا کر شہید کیا۔
ابن حجر نے اس حدیث کے فوائد میں لکھا ہے: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین حرم اور حرمت والے مہینوں کی تعظیم کیا کرتے تھے ۔9فتح الباری ج۷،ص۳۸۵
قریش بہادری اور سخاوت میں ممتاز تھے، حرم اور حرمت والے مہینوں کی تعظیم کرتے تھے، اگرچہ اپنے کفر میں اور اللہ و رسول ﷺ کی دشمنی میں بہت سخت تھے، مقصد یہ بتانا ہے کہ ان میں بھی کچھ اچھی صفات تھیں، وہ اپنے قوانین کی تعظیم کرتے تھے۔ قارئین کرام قریش کا معاملہ بھی دیکھیں اور آج کے کفر کا طرزِ عمل بھی دیکھے کہ کیسے قیدیوں اور دیگر انسانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے، اور کیسے یہ کفار خود اپنے ہی بنائے قوانین کو پامال کرتے ہیں۔ یہ معاملہ تو امریکہ ،برطانیہ اور یہود وغیرہ کفار اصلی کا ہے۔
[یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کےشرمائیں یہود]
اور اگر کفارِ قریش اور نام نہاد مسلمان حکام کا موازنہ کیا جائے تو اصلاً یہ موازنہ بنتا ہی نہیں، کیونکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ان کو نہ کوئی قانون و ضابطہ روکتا ہے اور نہ انسانی حقوق کی پامالی میں انہیں کوئی عار محسوس ہوتی ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ کوئی شخص اژدھے کے جبڑوں میں دبا ہو اور وہ حضرت خبیب کا یہ مقولہ دہرائے: کیا معزز لوگ اپنے قیدی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں؟ تو نتیجے میں اسے سوائے مزید تکلیف اور شکنجے کی تنگی کے اور کیا ہاتھ آئے گا؟ ان طواغیت کے جیل خانوں کے حوالے سے یہ مقولہ لوگوں میں زبان زدِ عام ہے: ان میں داخل ہونے والا گم ہو جاتا ہے اور نکلنے والا از سرِ نو پیدا ہوتا ہے۔
دعا کا ہتھیار
نصرت اور غلبے کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے کچھ اسباب مقرر کر رکھے ہیں اور ان میں ایک بڑا سبب جو دشمن کو خوب نقصان پہنچاتا ہے ،وہ’’ دعا‘‘ ہے۔
جب دل پورے یقین اور حسنِ ظن کے ساتھ اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو پھر دعا کے یہ تیر دشمن کو ہلاک کر کے رکھ دیتے ہیں، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے، ہر چیز کا اختیار و ملکیت اس کے پاس ہے، جب کوئی مجبور اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی پکار کو سنتا ہے اور پریشانی کو دور کرتا ہے۔
[دعا کی اقسام]
رجیع اور بئر معونہ کے واقعات میں تین طرح کی دعائیں ملتی ہیں:
اول: خود اپنے لیے دعا کرنا
جیسے حضرت عاصم نے اپنی لیے دعا کی: ’’اے اللہ! میں آج تیری خاطر تیرے دین کی حفاظت کر رہا ہوں، پس تو میرے گوشت[جسم] کی حفاظت فرما‘‘ ۔10فتح الباری:کتاب المغازی،باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان وبئر معونۃ
دوم: دشمن کے خلاف بددعا
جیسا کہ حضرت خبیب نے سولی دیے جاتے وقت مشرکین کے خلاف بد دعا کی : ’’اے اللہ! انہیں گن کر رکھ، اور انہیں الگ الگ کر کے مار اور ان میں سے کسی کو نہ چھوڑ‘‘۔
خود رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز میں ایک ماہ عرب کے قبائل :رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے خلاف بددعا کی ۔11صحیح بخاری،حدیث نمبر۴۰۹۰
سوم: مسلمانوں کے حق میں دعا کرنا
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: ’’اے اللہ !ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام ،عیاش بن ابی ربیعہ اور دیگر کمزور و مظلوم مسلمانوں کو نجات دے ۔‘‘12صحیح مسلم،حدیث نمبر:۶۷۵
دعا کی یہ آخری دو اقسام جہاد فی سبیل اللہ میں داخل ہیں۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا (سورۃ آل عمران: ۱۶۷)
’’آؤ، اللہ کے راستے میں لڑو یا دفاع کرو۔‘‘
اس کی تفسیر میں یہ بات کہی گئی ہے کہ دفاع کرنے سے مراد ہے کہ دعا کے ذریعے دفاع کرو۔13المصباح المنیر فی تھذیب تفسیر ابن کثیر:۲۵۸
مسلمان دوسرے مسلمانوں کی نصرت اور کفار کی تباہی کے لیے دعا کو بطورِ ہتھیار استعمال کرتے تھے۔
براء بن مالک کا واقعہ ہے کہ ایک جنگ میں کفار نے مسلمانوں کو بہت تکلیف پہنچائی، مسلمانوں نے ان سے کہا: اے براء! رسول اللہ ﷺ نے تیرے بارے میں فرمایا تھا :یہ شخص اگر اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کرے گا۔ تو آپ اللہ پر قسم کھائیں، حضرت براء نے دعا کی :اے اللہ! میں آپ پر قسم کھاتا ہوں کہ آپ ہمیں ان کفار پر غلبہ دیں اور مجھے[شہادت دے کر]اپنے نبی ﷺ کے ساتھ ملا دیں۔ مسلمانوں کو کفار پر فتح ہوئی اور حضرت براء بن مالک شہید ہو گئے ۔14ابو نعیم،حاکم
[عجیب کرامت]
سب سے عجیب واقعہ حضرت ابو معاویہ اسود کا ہے ،یہ نابینا تھے، لیکن جب مصحف میں دیکھ کر تلاوت شروع کرتے تو اللہ کے حکم سے انہیں نظر آنے لگتا۔ احمد بن فضیل عکی کہتے ہیں کہ ابو معاویہ اسود ایک غزوہ میں تھے، مسلمانوں نے ایک قلعے کا محاصرہ کیا، وہاں ایک کافر جنگجو تھا، اس کا پھینکا ہوا ہر پتھر و تیر نشانے پر لگتا [جس سے مسلمانوں کو بڑا نقصان ہوا]، لوگوں نے ابو معاویہ سے اس کی شکایت کی، آپ نے یہ آیت پڑھی:
وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى (سورۃ الانفال: ۱۷)
’’اور جب تم نے ان پر مٹی پھینکی تھی تو تم نے نہیں پھینکی تھی، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔‘‘
اور کہا کہ مجھے اس کافر سے چھپا کر قریب لے جاؤ، جب ممکنہ قریب ترین جگہ تک انہیں پہنچا دیا اور وہ وہاں کھڑے ہو گئے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا: اللہ کے حکم سے تم اس کے جسم کے کون سے حصے کو نشانہ بنانا چاہتے ہو؟ لوگوں نے کہا: شرمگاہ کو۔ انہوں نے دعا کی: اے میرے رب! ان لوگوں نے مجھ سے جو کہا ہے وہ آپ نے سن لیا ہے تو ایک تیر سے ہی میرا یہ ہدف پورا کر دے۔ پھر تیر چلایا تو وہ کافر ہلاک ہو گیا ۔15السِیَر للذھبی،ج۹،ص۷۸
[کفار کے خلاف بد دعا ضرور کریں]
بہت سے مسلمان اہلِ اسلام کی نصرت اور کفار کی ہلاکت کی دعا میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں، حالانکہ جو شخص عذر کی بنا پر جہاد میں نہ نکلے تو گناہ سے بچنے کے لیے اس کے لیے بھی قرآن نے شرط رکھی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ مخلص و خیر خواہ ہو۔
لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (سورۃ التوبہ: ۹۱)
’’کمزور لوگوں پر [جہاد میں نہ جانے کا]کوئی گناہ نہیں ،نہ بیماروں پراور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے، جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخلص ہوں۔ نیک لوگوں پر کوئی الزام نہیں اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘
خیر خواہی میں یہ داخل ہے کہ مسلمانوں کی حفاظت اور فتح اور کفار کی ہلاکت و ہزیمت کی دعا کرے، یہ شرط تو معذور حضرات کے لیے ہے ،تو جو معذور بھی نہ ہو اور اس کے باوجود قتال میں حصہ نہ لے تو اس کی بابت کیا خیال ہے؟ [کیا اس کے لیے دعا کی تاکید کہیں زیادہ بڑھ نہیں جاتی؟ یقیناً بڑھ جاتی ہے۔]
مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ وہ اس کی نصرت میں اپنی پوری قوت لگا دے، نہایت افسوس ناک بات ہے کہ وہ دیکھے کہ دوسرے مسلمان پر سختیاں ٹوٹ رہی ہیں، زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے ،لیکن وہ کوئی حرکت نہ کرے، آنکھیں موندے سویا پڑا رہے، اسے اتنی بھی توفیق نہ ہو کہ ہاتھ اٹھا کر دعا ہی کر لے۔
[صرف دعا کافی نہیں]
البتہ ایک اہم بات کی طرف توجہ لازم ہے ،وہ یہ کہ دعا اگر چہ نصرت کا سبب ہے ،لیکن یہ اُن بہت سے اسباب میں سے ایک ہے کہ جن کے اکٹھا ہوئے بغیر نصرت نہیں ملتی، اسباب و نتائج سے متعلق یہ اللہ کی سنت و تقدیر ہے۔
بعض لوگوں سے یہ سنگین غلطی ہوئی کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا دعا، ذکر، نماز اور دیگر نیک اعمال نصرت کے حصول کے لیے کافی ہیں ،جنگ کی ضرورت نہیں ،پھر یہیں تک محدود نہیں رہے ،بلکہ اس کو جہاد کی فرضیت کی شرائط میں داخل کر دیا کہ ایمان کے اعلیٰ درجے کے حصول کے بعد اور پوری امت یا اس کی اکثریت کی اصلاح کے بعد ہی جہاد کیا جائے گا۔ سو انہوں نے بھی در حقیقت جہاد کو معطل کر دیا ،جس سے سب جگہ فساد اور پھیل گیا [اصلاح کیا خاک ہونی ہے!]۔
یہ رائے دراصل جبریہ کے مذہب کا شاخسانہ ہے اور انہی کی چھوڑی ہوئی میراث ہے، اللہ تعالیٰ نے تو تمام ممکن اسباب کو اپنانے و آزمانے کا حکم دیا ہے، جن میں اہم ترین سبب اِعداد و قتال ہے ،یہ نظریہ اس امرِ خداوندی کی صریح مخالفت ہے ۔
جو شخص قتال کے بغیر محض دعا [یا اپنے گھڑے کسی اور طریقے مثلا: جمہوری سیاست، طلبِ نصرت وغیرہ] کے ذریعے فتح و غلبہ چاہتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کوئی پھل کی تمنا تو کرے، لیکن درخت بونے کی زحمت نہ اٹھائے اور شادی کیے بغیر حصولِ اولاد کی دعائیں کرے [چلے کاٹے، ریاضتیں کرے]۔
یہ سب ایک ہی جیسے ہیں ،ان میں کیا فرق ہے؟
جو لڑنے سے گھبرائے،وہ فتح کیا پائے؟
جو بوئے نہ کچھ، فصل کہاں سے لائے؟
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
- 1ابن ہشام ،ج ۲،ص۱۰۹،فتح الباری
- 2صحیح،مسند احمد ۲۵۳۷،ترمذی۲۵۱۶
- 3حدیث حسن،ابن حبان :۲۴۳۰
- 4خصائص کبری ج۱،ص ۳۷۰
- 5مسند احمد،۱۹۷۴۳
- 6شیخ منصور شامی شہید رحمہ اللہ یہاں شیخ خالد حبیب شہید رحمہ اللہ کا واقعہ بغیر نام لیے سنا رہے ہیں ۔تقبلھما اللہ
- 7صحیح حدیث،عمل الیوم واللیلہ نسائی ۵۱۷،صحیح ابن حبان ۲۳۷۶
- 8فتح الباری،ج۷،ص۳۸۵
- 9فتح الباری ج۷،ص۳۸۵
- 10فتح الباری:کتاب المغازی،باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان وبئر معونۃ
- 11صحیح بخاری،حدیث نمبر۴۰۹۰
- 12صحیح مسلم،حدیث نمبر:۶۷۵
- 13المصباح المنیر فی تھذیب تفسیر ابن کثیر:۲۵۸
- 14ابو نعیم،حاکم
- 15السِیَر للذھبی،ج۹،ص۷۸









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



