سب سے پہلے امت مسلمہ کی توجہ اِس نکتے پر مبذول کروانا ضروری ہے، جو اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک خصوصیت سے میڈیا پر زیر بحث لایا گیااور وہ یہ ہے کہ ’یہ دراصل عرب اسرائیل مسئلہ ہے‘۔ عرب ممالک کے حکمرانوں کا رویہ بھی ایسا ہی ہے اور ان کا اسرائیلیوں کے ساتھ آج معاہدے کرنا بھی یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ دو قوموں ’عربوں‘ اور ’یہودیوں‘ کے درمیان ایک تنازع ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ پچھلی ایک صدی کی غلامی نے مسلمانوں کے اذہان کو اس حدتک پراگندہ کر دیا ہے کہ وہ مغرب کے تمام نظریات پر ایمان لانا شروع ہو گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک نظریہ جغرافیائی حدود کے تحت جدید قومیت کا نظریہ ہے۔ اسی بنیاد پر مسئلۂ فلسطین کو عرب اسرائیل مسئلہ بنا دیا گیا۔ پس میری یہاں یہی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے اذہان سے مغربی نظریات کے خول کو ہٹا پھینکوں۔ آئیے! تاریخ کے آئینے میں اس معاملے کی تنقیح کرتے ہیں۔
بنی اسرائیل حضرت یوشع بن نون ؑ کے دور میں سرزمینِ بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داود ؑ کو یہاں اقتدار عطا فرمایا۔ آپ ؑ کے بعد حضرت سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نے حکومت عطا فرمائی۔ آپ ؑ نے بیت المقدس کو اپنا مرکز بنایااور یہاں اسلام کی عظیم عبادت گاہ تعمیر کروائی جسے ہم مسلمان مسجدِ اقصیٰ کے نام سے جانتے ہیں، جبکہ یہود اس عبادت گاہ کو اپنا ہیکلِ سلیمانی کہتے ہیں۔ آپ ؑ کی وفات کے بعدبنی اسرائیل نے اپنی سرکشی جاری رکھی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں غرق رہے۔ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے طور پر بخت نصر کو ان پر مسلط کر دیا۔ بخت نصر نے انہیں بیت المقدس سے نکال کر غلام بنا لیا اور بابل لے آیا، اور ہیکلِ سلیمانی کو بھی ڈھا دیا۔ تاہم اس کے بعد حضرت دانیال ؑ نے ان کے حق میں دعا کی کہ’’۱۔یہ دوبارہ بیت المقدس میں جا بسیں،۲۔ہیکلِ سلیمانی دوبارہ تعمیر ہو جائے،۳۔ انہیں حضرت سلیمان ؑ والی سلطنت مل جائے‘‘۔
یہی دعائے دانیال ؑ آج کے یہودیوں کا مقصدِ اعظم ہے۔ یہ دعا قبول ہوئی اور اس کے نتیجے میں بنی اسرائیل جن کا نام اس وقت تک یہود پڑ چکا تھا، واپس بیت المقدس میں جا بسے اور ہیکل دوبارہ تعمیر ہو گیا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی ان میں آتے رہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی سرکشی پر اڑے رہے، اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور انہیں ناحق قتل کیا۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ ؑکے قتل کی سازش کی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے عذاب کے طور پر حضرت عیسیٰ ؑ کی سازشِ قتل کے پچاس سال بعد رومی بادشاہ کو ان پر مسلط کر دیا۔ اس نے انہیں دوبارہ بیت المقدس سے بے دخل کر دیا، یوں بیت المقدس یہودیوں سے عیسایئوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ اس کے بعد سے انیسویں صدی تک عیسایئوں نے یہودیوں کو کہیں چین سے رہنے نہیں دیا۔ بیت المقدس عیسائیوں کے ہاتھوں میں جانے کے قریباً ۵۶۰ سال بعد اللہ تعالیٰ نے حجاز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو کامل صورت میں آپؐ پر نازل فرمایا اور آپؐ ہی پر دینِ اسلام کی تکمیل فرما دی۔ لہٰذا اسلام کے دورِ آغاز میں اسلام کی عظیم عبادت گاہ یعنی مسجدِ اقصیٰ ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا، جو ہجرتِ مدینہ کے بعد تبدیل ہو کر مسجدِحرام بن گیا۔ اب دنیا کی امامت مسلمانوں کے ہاتھ میں آگئی۔ بیت المقدس چونکہ انبیا کی سرزمین تھی، اس لیے بیت المقدس کی وراثت بھی مسلمانوں کو دے دی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات مسجدِاقصیٰ میں ہی تمام انبیا کی امامت کی تھی، لہٰذا اس وراثت کو وصول کرنے آپ کی رحلت کے بعد حضرت عمرؓ اپنے دورِ خلافت میں خودفلسطین گئے۔ یوں بیت المقدس عیسائیوں سے مسلمانوں نے حاصل کر لیا اور خلافتِ اسلامیہ کا حصہ بن گیا۔
امید ہے کہ یہاں تک تاریخ کے تذکرے سے بیت المقدس اور مسجدِ اقصیٰ کی اہمیت واضح ہو گئی ہو گی۔ اسی تناظر کی وجہ سے عیسائی اور یہودی بیت المقدس(موجودہ فلسطین)پر اپنا حق جتاتے ہیں۔ اس تناظر کو سمجھتے ہوئے بعد کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
حضرت عمرؓ کے دور میں فلسطین خلافت کا حصہ بن چکا تھا اور پھر ۳۵۰ سال تک مسلمانوں کے پاس رہا۔ اس کے بعد عیسائیوں کے پوپ اربن دوم نے پوری عیسائی دنیا میں صلیبی جنگ کی آگ بھڑکائی اور اس آگ کی حرارت نے صلیبیوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں لا کھڑا کیا۔ یوں صلیبی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور عیسائیوں نے فلسطین مسلمانوں سے چھین لیا۔ تاہم اس وقت کے مسلمان جانتے تھے کہ فلسطین ہمارے انبیا کی سرزمین ہے ا ور مسجدِاقصیٰ ہمارا قبلۂ اول ہے۔ اس دور کے مسلمانوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ عربوں کا مسئلہ ہے لہٰذا عرب جانیں اور عیسائی جانیں۔ نہیں، بلکہ وہ جانتے تھے کہ یہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا کرد نسل کے ایک سپہ سالار ا ٹھے اور صلیبیوں کو شکست دیتے ہوئے بیت المقدس اور مسجدِ اقصیٰ کو واپس حاصل کرلیا اور وہاں دوبارہ اسلام کا جھنڈا گاڑ دیا۔ اس سپہ سالار کو دنیا سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے نام سے جانتی ہے، اور رہتی دنیا تک مسلمان اور کافر سب ان کے نام سے واقف رہیں گے، ان شاء اللہ۔ اس کے بعد برابر نو صدیوں تک فلسطین پر اسلام کا جھنڈا لہراتا رہا۔ لیکن بیسویں صدی عیسوی میں صلیبی اور صہیونی پھر اٹھے اور آپس میں صلیبی صہیونی اتحاد قائم کیا، اور امتِ مسلمہ کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا، امتِ مسلمہ ٹکڑوں میں بٹ گئی تاہم افسوس کہ مسلمان ان حالات میں بے خبر اور غافل سوتے رہے۔ اس کے بعد برطانیہ کی مدد سے یہودی فلسطین میں داخل ہوگئے، وہاں سے مسلمانوں کو بے دخل کر دیاگیا اور جدید اسرائیل کی ریاست قا ئم کر دی گئی۔ نہایت افسوسناک امر ہے کہ صلیبی و صہیونی تو جانتے ہیں کہ وہ یہ سب کچھ مذہب کی بنیاد پر کر رہے ہیں، جس کا اظہار وہ کئی بار کر بھی چکے ہیں، لیکن مسلمان ابھی تک یہ سب سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ستر سال سے فلسطین کے مسلمان ،یہودیوں کے مظالم اکیلے سہہ رہے ہیں، بیت المقدس پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ وہ اپنے مقصدِ اعظم کے حصول میں مشغول ہیں۔ فلسطین میں دوبارہ آباد کاری وہ کر چکے ہیں، ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر بھی جاری ہے (مسجدِ اقصیٰ کی بنیادیں کھودنے کی صورت میں)اور گریٹر اسرائیل کا نقشہ بھی ان کی پارلیمنٹ کے دروازے پر چسپاں ہے۔ اسرائیل کے غزہ پر دس سےزائد حملے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ گولان کی پہاڑیاں رسماً اب اسرائیل ہیں۔ امریکہ کا سفارت خانہ یروشلم میں کھل چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین و سوڈان اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں، سعودی ابنِ سلمان عربی عبا و قبا کے اندر یہودی دل و دماغ کا حامل ہے اور عمران خان پر بھی اسرائیل کو تسلیم کر لینے کا دباؤ ہے۔ شریعت تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اگر مسلمانوں کی چپہ بھر زمین بھی کفار کے قبضے میں چلی جائے تو اسے واپس حاصل کرنے کے لیے امتِ مسلمہ کے ہر فرد پر جہاد فرضِ عین ہو جاتا ہے۔ ابھی تو ہمارا قبلہِ اول بھی اخبث الکفار یہود کے ہاتھوں میں ہے اور مسلمان اپنی زندگیوں میں مگن اور دنیا کی آلائشوں میں محو ہیں۔ قران مجیدہمیں پکارتا ہے:
وَمَالَکُمْ لَاتُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا (سورۃ النساء:۷۵)
’’اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں کہ: اے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں،اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔‘‘
ہم یہ پکار تو سن لیتے ہیں لیکن اپنے گھر میں بیٹھ کر تمنا کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کوئی صلاح الدین ایوبیؒ آ جائے۔ لیکن افسوس! ہم یہ سوچتے ہی نہیں کہ صلاح الدین ایوبیؒ آسمان سے تو نہیں اتریں گے بلکہ ہم میں سے ہی کسی کو صلاح الدین ایوبیؒ بننا ہے۔
مجھے تو امت کی ماؤں سے شکایت ہے کہ ان کی مہد میں وہ بچے ہی نہیں جو صلاح الدین ایوبیؒ بنیں۔ ہر ماں دوسر وں کے بچوں میں صلاح الدین ایوبیؒ تلاش کرتی ہے اور اپنے بچوں کو اپنے سینے سے لگا کر رکھتی ہے۔ وہ انہیں تیغ و تفنگ اوردشنہ وخنجر کے کھلونے کیوں نہیں دیتی اور ان میں صلاح الدین ایوبیؒ کے کردار کی جھلک کیوں پیدا نہیں کرتی؟! پھر بھی یہ تمنا ہے کہ امت کی بقا کی جنگ لڑنے اور مسجدِ اقصیٰ کو صہیونیوں سے چھڑانے کی خاطر کوئی صلاح الدین ایوبیؒ آ جائے۔
مجھے امت کی بہنوں سے بھی گلہ ہے کہ کیا وہ حضرت صفیہ ؓ کے کردار سے واقف نہیں۔ کیوں وہ اپنے بھائیوں کو مجبور نہیں کرتیں کہ وہ گھروں سے نکلیں، صلیبی ا ور صہیونی کفار کے خلاف برسرِپیکار ہوں اور فلسطین سمیت تمام مقبوضہ علاقوں پر دوبارہ اسلام کا جھنڈا گاڑیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں خنجر کیوں نہیں دکھاتیں!مجھے اپنے بھائیوں اور بزرگوں سے بھی شکوہ ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کے تمام حالات دیکھ کر بھی اس سے نظریں چراتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ آنسو بہاتے ہیں اور جلوس نکالتے ہیں۔ اپنے بھائیوں اور بہنوں کو سسکتا، بلکتا دیکھ کر بھی ان میں دینی حمیت کیوں جوش نہیں مارتی؟ وہ اپنے اسلاف کے کردار سے اس قدر بعید ہو گئے ہیں کہ فلسطین کی مائیں اپنے شہید بچوں کود یکھ کر چیختی، چلاتی، روتی ہیں مگر ان کے اندر کچھ حرکت پیدا نہیں ہوتی۔ فلسطین کی بہنوں کی ردائیں چھنتی ہیں، عصمتیں لٹتی ہیں اور ان میں کچھ ایمانی حرارت پیدا نہیں ہوتی۔ فلسطین کے نوجوان پتھروں کے ساتھ اکیلے یہودیوں سے لڑتے ہیں اور ان میں غیرت پیدا نہیں ہوتی کہ ان کی مدد کو پہنچیں۔ اس سب کے باوجود وہ مطمئن بیٹھے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ کو کچھ جواب نہیں دینا؟ کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت یونہی مل جائے گی؟ کیا جنت اسی طرح ان کا مقدر بن جائے گی؟
نہ خوئے مسلم ہے کچھ بھی باقی، نہ حسِ ایماں کا کچھ پتہ ہے
ہیں چلتی پھرتی ہوئی یہ لاشیں کہ جن پہ انسان کا گماں ہے
جہاں میں جیسے بھی کوئی تڑپے، انہیں مگر اس سے غرض کیا ہے
رگوں میں ان کے لہو نہیں ہے، اور حد سے اب بڑھ گیا زیاں ہے
خدارا! اب تو مسلمان بیدار ہو جائیں۔ دینی غیرت و حمیت کوجوش میں لائیں اور اپنے اندر ایمانی رمق پیدا کریں۔ جہادِ فی سبیل اللہ میں اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے پیش کر دیں۔ یہاں تک کہ صلیبی و صہیونی دشمن مسلمان علاقوں سے دفع ہو جائیں، قبلۂ اول مسلمانوں کے پاس دوبارہ آجائے اور دنیا میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو جائے۔

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



