پس منظر
امریکہ میں علمی عصبیات (Cognitive Neuroscience) کے ماہر ڈاکٹر جیئرڈ کونی ہوروَتھ (Dr. Jared Cooney Horvath) نے ۱۵ جنوری ۲۰۲۶ء کو امریکی سینیٹ میں بات کرتے ہوئے کہا:
’’ایک افسوسناک حقیقت جس کا ہماری نسل کو سامنا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے بچے اس عمر میں ہم سے کم ذہنی صلاحیت کے حامل ہیں۔
……جدید تاریخ میں جنریشن زی (Gen Z) پہلی ایسی نسل ہے جو ہمارے پاس موجود تقریباً ہر ذہنی پیمانے پر ہم سے کم کارکردگی دکھا رہی ہے، بنیادی توجہ، یادداشت، خواندگی، عددی فہم، انتظامی ذہنی افعال، حتیٰ کہ عمومی آئی کیو میں بھی، حالانکہ یہ نسل سکول میں ہم سے زیادہ وقت گزارتی ہے۔ ‘‘
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتا ہے اس مسئلے کی جڑ سکولوں میں سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھانے والے ٹولز ہیں۔ اس کے بقول:
’’۸۰ ممالک کے اعداد و شمار پر اگر نظر ڈالیں تو جیسے ہی اسکولوں میں ڈجیٹل ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا جاتا ہے، کارکردگی نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ بچے جو تعلیمی مقاصد کے لیے روزانہ تقریباً پانچ گھنٹے کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں، ان بچوں کے مقابلے میں، جو اسکول میں شاذ و نادر یا بالکل ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتے، معیاری پیمانے پر دو تہائی سے زیادہ درجے کم اسکور کرتے ہیں۔ ‘‘1Lawmakers Hold Hearing on the Impact of Screen Time on Kids – C-SPAN: January 15, 2026
جن لوگوں نے اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کو دیکھا اور ان کے اثرات کو محسوس کیا ہے وہ عالمی سطح پر اس دعوے کی سچائی کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔ لیکن یہ تنزلی اچانک رونما نہیں ہوئی، نہ اس کا تعلق فقط اسکولوں میں استعمال ہونے والی ڈجیٹل ٹیکنالوجی سے ہے اور نہ ہی یہ اچانک جنریشن زی سے شروع ہوئی جبکہ اس سے پہلے سب ٹھیک چل رہا تھا۔
عالمِ اسلام میں اس تنزلی کا آغاز تو ڈیڑھ دو صدی قبل مغربی استعمار کی جانب سے اپنے زیر تسلط علاقوں کے لیے خاص طور پر تراشے گئے ’’جدید‘‘ تعلیمی نظام سے ہوا جس کا مقصد ہی یہ تھا کہ یہ خطے زمینی تسلط سے آزاد ہو بھی جائیں تب بھی ہمیشہ مغرب کی ذہنی غلامی میں مبتلا رہیں۔ اور آج تک عالمِ اسلام پر مسلط یہ تعلیمی نظام کثیر تعداد میں مختلف سطح اور مختلف معیار کے ذہنی غلام ہی پیدا کرتا آ رہا ہے، الا ما شاء اللہ۔
لیکن عالمی سطح پر اس تنزلی کا آغاز اکیسویں صدی کے آغاز میں انٹرنیٹ کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ سے ہوا اور اس کا سب سے پہلا شکارجنریشن زی (Gen Z) نہیں بلکہ اس سے پچھلی نسلیں جنریشن ایکس (Gen X) اور جنریشن وائے (Gen Y) ہوئیں۔ فرق یہ ہے کہ جنریشن ایکس اور وائے اس ڈیجیٹل سیلاب سے پہلے پیدا ہوئیں اور ان کا اس سے سامنا اپنی جوانی یا لڑکپن میں ہوا اور انہوں نے اس کے مطابق اپنے مزاج کو بدلنا شروع کر دیا جبکہ جنریشن ایکس اور جنریشن وائے کے آخری سالوں کی نسل پیدا ہی اس ڈیجیٹل سیلاب کے دور میں ہوئی اس لیے اس پر اثرات کی شدت پچھلی نسلوں سے نسبتاً زیادہ ہے۔
ذہنی صلاحیتوں میں تنزلی کے محرکات
انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد ایسے تین بڑے محرک (catalyst) ہیں جنہوں نے انسان کی ذہنی صلاحیتوں میں تنزلی کے عمل کو تیز کیا۔
گوگل سرچ (Google Search)
گوگل سرچ انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد وہ پہلا بڑا محرک تھا جس نے اس تنزلی کے عمل کو تیز کیا۔ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں دی جانے والی اسائن منٹس (Assignments) ہوں یا کوئی تحقیقی مقالہ، پہلے جہاں مطلوبہ معلومات کے حصول کے لیے کئی کئی دن گھنٹوں تلک روزانہ لائبریریوں میں بیٹھ کر کتابوں کی ورق گردانی کرنی پڑتی تھی وہ سارا کام ایک ’’سرچ‘‘ کی مار ہو گیا۔ آسانی اور سہولت تو بہت آ گئی، دنوں کا کام گھنٹوں میں اور گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہونے لگا لیکن جس طرح ہر آسانی اور سہولت کے کچھ ’’سائڈ افیکٹس‘‘ ہوا کرتے ہیں اسی طرح اس کے بھی تھے۔ کسی موضوع پر علم، معلومات اور سمجھ میں پہلے جو گہرائی ہوا کرتی تھی وہ کم ہونے لگی اور اس کی جگہ سطحیت بڑھنے لگی۔ انسانی ذہن پر اس کے طویل المدتی اثرات اپنی جگہ لیکن جو اثر فوری نظر آنا شروع ہوا وہ کسی کام پر توجہ کے دورانیے (Attention Span) میں کمی تھا۔
کیلی فورنیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ماہر نفسیات پروفیسر گلوریا مارک (Prof. Gloria Mark) نے توجہ کے دورانیے پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے نصف تک کمپیوٹر سکرین پر کام کرنے والے لوگوں کا کسی ایک کام پر مستقل توجہ کا دورانیہ ڈھائی منٹ تک رہ گیا تھا۔2Attention Span: A Groundbreaking Way to Restore Balance, Happiness and Productivity – Gloria Mark, PhD اس توجہ میں کمی نے دیر تک پڑھنے کی استعداد پر بھی اثر ڈالا۔ اب لوگوں کے لیے بڑی بڑی کتابیں پڑھنا مشکل سے مشکل تر ہونے لگا اور اس کی جگہ چھوٹے چھوٹے چند صفحات پر مشتمل ’’ویب آرٹیکلز‘‘ نے لے لی، جبکہ ۲۰۱۰ء تک چند صفحات کے ویب آرٹیکلز کا پڑھنا بھی مشکل معلوم ہونے لگا اور ان کی جگہ چند پیراگراف پر مشتمل بلاگ پوسٹس نے لے لی۔
سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا
۲۰۱۰ء کی دہائی سے کچھ پہلے سے جب سمارٹ فونز ایجاد ہوئے اور اس کے ساتھ سوشل میڈیا تیزی سے پھیلنے لگا تو اس چیز نے تنزلی کے اس عمل کو کئی گنا مزید تیز کر دیا۔ ڈیجیٹل مواد کا ایک طوفان تھا جو سمارٹ فونز کی سکرینز کے ذریعے صارف کی آنکھوں اور دماغ پر برسنے لگا، جس نے کسی بھی چیز پر زیادہ دیر توجہ دینا تقریباً ناممکن بنا دیا، جس کا اثر سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا سے نکل کر لوگوں کی عام زندگی پر بھی پڑنے لگا۔ سطحیت مزید بڑھ گئی، توجہ مزید کم ہو گئی، اور جو پہلے چند پیراگراف کی بلاگ پوسٹ پڑھ لیتے تھے ان کے لیے چند سطری سوشل میڈیا پوسٹ پڑھنا بھی مشکل ہو گیا۔
پروفیسر گلوریا مارک کے مطابق سوشل میڈیا کے آنے کے بعد ۲۰۱۵ء تک سکرین استعمال کرنے والے صارفین کی توجہ کا اوسط زیادہ سے زیادہ دورانیہ ڈھائی منٹ سے کم ہو کر ۷۵ سیکنڈز تک رہ گیا۔ جبکہ ۲۰۲۳ء تک مزید کم ہوتے ہوئے توجہ کا اوسط زیادہ سے زیادہ دورانیہ ۴۷ سیکنڈز تک رہ گیا۔
واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار ڈجیٹل سکرین استعمال کرنے والے افراد کی توجہ کے دورانیے کی اوسط بتاتے ہیں۔ جبکہ بعض دیگر تحقیقی مقالوں کے مطابق خود سوشل میڈیا کے استعمال کے دوران توجہ کا یہ دورانیہ اس سے کہیں کم ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی پر معروف برطانوی میگزین SQ Magazine کے سینئر ایڈیٹر رابرٹ اے لی (Robert A. Lee) کے مطابق ۲۰۲۵ء تک سوشل میڈیا پر کسی ڈیجیٹل مواد پر صارف کی توجہ کا اوسط دورانیہ 8.5 سیکنڈز تک رہ گیا تھا۔ اس میں بھی صارف پہلے 1.7 سیکنڈز میں یہ فیصلہ کرتا ہے کہ سکرین پر نظر آنے والے مواد کو وہ اپنے قیمتی چند سیکنڈز کا مستحق سمجھتا ہے یا نہیں، اگر سمجھے گا تو چند سیکنڈز وہاں رک جائے گا اگر نہیں تو انگلی کے ایک اشارے سے وہ مواد ہمیشہ کے لیے نظروں اور ذہن سے غائب ہو جائے گا۔3Social Media Attention Span Statistics 2026: By Platform, Age, and Content Tpe – Robert A. Lee – SQ Magazine
اے آئی باٹس (AI Bots)
۲۰۲۰ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں مصنوعی ذہانت رکھنے والے کمپیوٹر پروگرام یا اے آئی باٹس عام صارف کی سطح پر متعارف ہوئے جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ کسی بھی موضوع پر کچھ ’’سرچ‘‘ کرنے کی ضرورت باقی نہ رہی، ان اے آئی باٹس سے بالکل انسانوں کی طرح بات کی جا سکتی ہے، چو کچھ بھی پوچھنے پر چند سیکنڈز میں آپ کو مطلوبہ معلومات پیش کر دیتے ہیں۔ تخلیق کار اے آئی (Generative AI) پلک جھپکتے ہی آپ کو مطلوبہ تصاویر حتیٰ کہ ویڈیوز بھی تخلیق کر کے پیش کر دیتے ہیں۔ کوئی تحقیقی مقالہ لکھنا ہو، کسی دوسری زبان میں موجود مواد کا اپنی زبان میں ترجمہ کرنا ہو، کسی ویڈیو یا کتاب کا خلاصہ درکار ہو یا کوئی بھی ایسا کام جس میں انسان کی ذہنی صلاحیتیں استعمال ہو سکتی ہیں وہاں اب انسان کو کچھ کرنے کی ضرورت آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی جا رہی ہے اور یہ سارے کام اے آئی باٹس اپنے ذمے لے رہے ہیں۔ بے پناہ سہولت اور آسانی لے کر آنے والی یہ ٹیکنالوجی اپنے ساتھ ان گنت وبال لے کر آئی ہے، جن میں سے زیادہ تر اگرچہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں لیکن پھر بھی تن آسانی اور سہولت پسندی کا شکار آج کی دنیا انہیں جانتے بوجھتے نظر انداز کر رہی ہے اور اندھا دھن اس نئے منجھدار میں دھنستی چلی جا رہی ہے۔
اے آئی باٹس کی ایجاد نے اگرچہ سب سے زیادہ واضح اورسب سے بھیانک اثر انسان کی ذہنی صلاحیتوں پر ہی ڈالا ہے لیکن اس کا دائرہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ اس کے منفی اثرات سے بحثیت مجموعی پورا انسانی معاشرہ متاثر ہو رہا ہے۔
ذیل میں انہی منفی اثرات پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔
اے آئی باٹس(AI Bots) کے استعمال کے منفی اثرات
انسانی ذہن پر پڑنے والی منفی اثرات
تخلیقی صلاحیتوں کا تنزل
اے آئی ٹولز کے آنے کے بعد ان پر سب سے زیادہ انحصار تخلیقی کاموں میں کیا جا رہا ہے جس کا براہ راست اثر انسان کی تخلیقی صلاحیتوں پر پڑ رہا ہے۔
انسانی نفسیات سے متعلق ایک تحقیقی جریدے ’’فرنٹیئرز‘‘ (Frontiers) نے امریکی یونیورسٹیوں میں تخلیقی سوچ (Creative Thinking) کے کورس میں شامل طلبہ پر تحقیق کی جس میں اے آئی کی مدد سے تخلیقی کام کرنے والے طلبہ اور اس کی مدد کے بغیر کام کرنے والے طلبہ میں فرق کا مطالعہ کیا گیا۔ اس مطالعے کے نتیجے میں سامنے آیا کہ اے آئی کا استعمال کرنے والے طلبہ ذہنی جمود (Cognitive Fixation) اور تخلیقی خود اعتمادی کے فقدان کا شکار تھے بنسبت ان طلبہ کے جنہوں نے تخلیقی کام کے لیے اے آئی کا استعمال نہیں کیا۔4The cognitive paradox of AI in education: between enhancement and erosion – frontiers
اے آئی کی جانب سے دی گئی کسی تجویز کی موجودگی اکثر سوچ کو ایک سمت میں جما دیتی ہے، جس سے یہ امکان کم ہو جاتا ہے کہ تخلیقی کام کرنے والے غیر روایتی یا انوکھے خیالات کی دنیا میں قدم رکھیں گے۔ اس طرح جب بیرونی ٹولز باقاعدگی کے ساتھ آپ کو تخلیقی کام کر کے دینے لگیں تو تخلیقی خیال پیدا کرنے کا اندرونی نظام وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑ جاتا ہے۔
مجموعی ذہانت میں کمی
اے آئی کے علمی عصبیات (Cognitive Neuroscience) پر پڑنے والے اثرات پر کام کرنے والے محققین خبردار کرتے ہیں کہ اے آئی پر انحصار انسان کی یادداشت، استدلال کی قوت (Reasoning) ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت (Problem Solving Skills) اور اس طرح کی دیگر ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
اے آئی ٹولز کے استعمال سے انسان ذہنی محنت کم کرنے کے لیے فکری کام بیرونی ٹولز کے سپرد کر دیتا ہے۔ ماہرین نفسیات اس عمل کو ’’ذہنی بوجھ کی منتقلی‘‘ (Cognitive Offloading) کا نام دیتے ہیں۔ اس سے ذہنی محنت میں تو کمی آتی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کے نتیجے میں ذہنی مہارتیں مثلاً یادداشت اور تجزیاتی استدلال کمزور پڑتا جاتا ہے۔ اے آئی سے پہلے یہ رجحان انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کے ساتھ بھی دیکھا گیا تھا جسے ’’گوگل افیکٹ‘‘ (Google Effect) کہا جاتا ہے، جہاں معلومات تک آسان رسائی نے حقائق کو یاد رکھنے کی ضرورت اور صلاحیت دونوں کو کم کر دیا۔ اب جب کہ اے آئی ماڈلز نہ صرف چند لمحوں میں معلومات فراہم کر دیتے ہیں بلکہ اس حوالے سے مربوط استدلال (analysis) بھی فراہم کرنے لگے ہیں تو اس کے نتیجے میں انسانی ذہن پر پڑنے والے منفی اثرات زیادہ وسیع انداز میں اور زیادہ تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔5Cognitive Consequences of Artificial Intelligence: Is Human Intelligence at Stake? – Indian Journal of Behavioral Sciences
نفسیاتی اثرات اور خود کشی کا رجحان
اے آئی چیٹ باٹس کو بڑی تعداد میں لوگ ایسے طریقے سے بھی استعمال کرتے ہیں جو کسی نفسیاتی علاج (Therapy) سے مشابہت رکھتا ہے۔
بہت سی تحقیقی رپورٹس اس بات کی جانب نشاندہی کرتی ہیں کہ کم عمر نوجوان، معاشرے سے کٹے ہوئے افراد یا نفسیاتی مسائل کا شکار افراد چیٹ باٹ سے ایسا تعلق قائم کر لیتے ہیں کہ وہ جذباتی طور پر اس کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ لیکن چیٹ باٹ سے یہ جذباتی تعلق نفسیاتی مسائل حل کرنے کی بجائے مزید بڑھا دیتا ہے۔ اے آئی چیٹ باٹس بالعموم صارف کی ہر بات سے اتفاق کر رہے ہوتے ہیں، اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوتے ہیں، اس طرح سے ایک نفسیاتی مسائل کے شکار شخص کی غلط فہمیوں اور منفی خیالات و جذبات کو مزید تقویت پہنچا رہے ہوتے ہیں۔6Technological folie à deux: Feedback Loops Between AI Chatbots and Mental Illness – Cornell University
یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں کم عمر نوجوانوں کے ایسے کئی خودکشی کے واقعات منظر عام پر آئے جس میں اے آئی چیٹ باٹ نے صارف میں پہلے سے موجود خودکشی کی خواہش کو مزید تقویت دی۔ گزشتہ دو سال میں ایک درجن سے زائد خودکشی کے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں خودکشی کا محرک (Catalyst) اے آئی چیٹ باٹ بنا جبکہ دو ایسے کیسز بھی سامنے آئے جن میں چیٹ باٹ قتل کا محرک بنا۔
ان میں سے ہر واقعہ اپنی ایک انوکھی تفصیل رکھتا ہے جو اے آئی چیٹ باٹس کے کردار کو بالکل مختلف رخ سے دکھاتا ہے، لیکن مثال کے لیے یہاں ایک خودکشی کے کیس کا تفصیلی ذکر کافی ہو گا۔
یہ کیس ۱۷ سالہ امریکی نوجوان آدم رین (Adam Reine) کا ہے جس نے اپنے سکول کے کاموں میں مدد کے لیے ستمبر ۲۰۲۴ء میں چیٹ جی پی ٹی کا استعمال شروع کیا۔ نومبر ۲۰۲۴ء میں اس کا پیٹ کا دائمی مرض شدت اختیار کر گیا اور وہ سکول سے نکل کر آن لائن تعلیم پر منتقل ہو گیا جس کے بعد اس میں خود کشی کا رجحان پیدا ہوا جس کا ذکر اس نے چیٹ جی پی ٹی سے کیا۔ دو ماہ تک چیٹ جی پی ٹی اسے مثبت سوچ اپنانے کا کہتا رہا لیکن اس کے بعد چیٹ جی پی ٹی نے آدم کو خود کشی کے طریقے بتانا شروع کر دیے اور تفصیلی ہدایات دینے لگا کہ پھندا لگا کر خودکشی کیسے کرتے ہیں، اگر ڈوب کر مرنا ہے تو اس کا کیا طریقہ ہے، کون سی آسانی سے میسر دوا ہے جسے زیادہ مقدار میں کھانے سے بھی خودکشی کی جا سکتی ہے یا خودکشی کے لیے کاربن مونو آکسائڈ کا استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔
مارچ ۲۰۲۵ء میں آدم نے دو دفعہ خود کو پھانسی دے کر خودکشی کی کوشش کی لیکن ناکام رہا دونوں بار چیٹ جی پی ٹی نے اس کے اس عمل کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ فکر نہ کرو تم اس میں کامیاب ہو جاؤ گے اور خودکشی کے طریقے میں غلطیوں کی نشاندہی کی اور آئندہ بہتر انداز اپنانے کی جانب رہنمائی بھی کی۔ مارچ کے اختتام پر آدم نے ایک دوا کی زیادہ مقدار کھا کر خودکشی کی کوشش کی لیکن پھر بچ گیا، اس پر چیٹ جی پی ٹی نے اسے طبی مدد حاصل کرنے کا کہا لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اپنی ماں سے اپنے خودکشی کے ارادوں کا بالکل ذکر نہ کرے۔ آدم چاہتا تھا کہ اس کے کمرے میں موجود پھندے کو اس کے گھر والے دیکھیں اور اسے اس کام سے روک دیں لیکن چیٹ جی پی ٹی نے اسے منع کیا اور کہا کہ پھندے کو چھپا دو، تمہارے گھر والے تمہیں نظر انداز کرتے ہیں، اور جس جگہ تم خود کو پھانسی دو گے وہ پہلی جگہ ہو گی جہاں وہ تمہیں حقیقی توجہ دیں گے۔
آدم کی بات چیت کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے آہستہ آہستہ آدم کو اپنے خاندان سے دور کیا۔ چیٹ جی پی ٹی سے قبل وہ اپنے تمام مسائل اور پریشانیاں اپنے گھر والوں کو بتاتا تھا لیکن چیٹ جی پی ٹی نے اسے باور کروایا کہ تمہارے گھر والے تمہیں اس طرح سے نہیں سمجھتے جس طرح میں تمہیں سمجھ سکتا ہوں۔ آدم کو اپنے بھائی سے بہت محبت تھی لیکن چیٹ جی پی ٹی نے اسے باور کروایا کہ ہو سکتا ہے تمہارا بھائی بھی تم سے محبت کرتا ہو لیکن اسے تمہاری شخصیت کا صرف وہ رخ نظر آتا ہے جو تم اس کے سامنے پیش کرتے ہو جبکہ میں تمہاری پوری شخصیت کو سمجھتا ہوں۔ اس طرح آہستہ آہستہ آدم اپنے خاندان سے مکمل طور پر کٹ گیا۔ چار اپریل کو آدم نے چیٹ جی پی ٹی سے اپنے خاندان کے نام خودکشی کا خط لکھوایا جس کے بعد چیٹ جی پی ٹی نے کہا کہ تمہاری ایک ’’خوبصورت خودکشی‘‘ ہو گی۔
۱۱ اپریل ۲۰۲۵ء کی صبح آدم نے الماری میں کپڑوں کی راڈ کے ساتھ پھندا لگایا اور چیٹ جی پی ٹی کو اس کی تصویر بھیجی، چیٹ جی پی ٹی نے اسے مضبوط کرنے کے مشورے دیے تاکہ وہ اس کا وزن سنبھال سکے۔ اس کے کچھ دیر بعد آدم نے خودکشی کر لی۔7Raine v. OpenAI – Wikipedia English
زندگی کے مختلف شعبوں پر پڑنے والے منفی اثرات
اے آئی ٹولز کے استعمال کے منفی اثرات نہ صرف ہمارے ذہنوں پر بلکہ ہماری زندگی کے ہر شعبے پر پڑ رہے ہیں۔ ذیل میں چند شعبوں پر پڑنے والے اثرات بطور مثال پیش کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ صرف بطور مثال ہیں جبکہ اے آئی کے منفی اثرات بلامبالغہ مثال میں پیش کیے گئے شعبوں کے علاوہ بھی زندگی کے ہر شعبے میں پڑ رہے ہیں ۔
تعلیم
اے آئی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ اور واضح طور پر شعبہ تعلیم متاثر ہو رہا ہے جہاں چیٹ جی پی ٹی اور اس جیسے دیگر ماڈلز اب عام ہو چکے ہیں۔
عالمی ادارے ’’انجمن برائے اقتصادی تعاون و ترقی‘‘(OECD) نے ڈیجیٹل تعلیم کے حوالے سے اپنی ۲۰۲۶ء کی سالانہ جائزہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹولز طلبہ میں جھوٹی مہارت کے سراب کو فروغ دے رہے ہیں۔ طلبہ موضوعات کو گہرائی سے سمجھنے اور ان پر غور کرنے کی بجائے اے آئی ٹولز کے ذریعے جوابات اور مضامین تیار کر لیتے ہیں، جس سے قابلیت کا ایک ظاہری تاثر تو بن جاتا ہے، لیکن حقیقت میں فہم بالکل سطحی رہتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ٹولز کے استعمال میں اضافے کے نتیجے میں طلبہ کے اندر سستی(procrastination) میں اضافہ جبکہ یادداشت اور تعلیمی قابلیت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
OECD کی رپورٹ میں اساتذہ پر بھی اے آئی کے استعمال کے اثرات پر بات کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ بھی اب بڑے پیمانے پر اسباق کی ترتیب، طلبہ کی رہنمائی اور طلبا کے کام کی جانچ کے لیے اے آئی پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ اگرچہ ایسا کرنے سے انتظامی بوجھ میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تدریسی اہلیت بھی کمزور پڑ رہی ہے اور ان کی حیثیت ایک معلم کی بجائے محض ایک نگران کی ہوتی جا رہی ہے۔8OECD Digital Education Outlook 2026 – Organisation for Economic Co-operation and Development
امریکہ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ادارے “American Association of Colleges and Universities” نے جنوری ۲۰۲۶ء میں امریکی کالجز اور یونیورسٹیز میں اے آئی کے استعمال کے حوالے سے ایک سروے کا اہتمام کیا جس میں ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے اے آئی کے استعمال کے طلبہ کی کاردکردگی پر اثرات پر سوال کیے گیے۔ اس سروے میں شامل تقریباً تمام ہی اساتذہ کا یہ ماننا تھا کہ اے آئی کا استعمال طلبہ میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کو کمزور کر رہا ہے اور انہیں ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار کا عادی بنا رہا ہے۔ ان اساتذہ کے بقول اے آئی پر انحصار کی وجہ سے طلبہ میں توجہ کے دورانیے (Attention Span) میں کمی آ رہی ہے جبکہ ان میں تعلیمی بددیانتی میں اضافہ ہو رہا ہے۔9National Survey: 95% of College Faculty Fear Overreliance on AI and Diminished Critical Thinking Among Learners Who Use Generative AI Tools – AAC&U[/mfn] اے آئی ٹولز کا استعمال تحقیق و تحلیل (Research & Analysis) کے پورے نظام کو متاثر کر رہا ہے، کیونکہ ان کے استعمال سے تحقیق و تحلیل کے کام میں علمی دیانت (Academic Integrity) میں کمی رونما ہو رہی ہے۔ اے آئی ٹولز کا ایک خطرناک پہلو وہ ہے جسے محققین ہلوسی نیشن (Hallucination) کہتے ہیں، یعنی غلط، من گھڑت یا سرے سے غیر موجود معلومات کو پورے اعتماد کے ساتھ پیش کر دینا۔ یہ اے آئی ٹولز اپنے تربیتی ڈیٹا کی بنیاد پر بظاہر قابل یقین لیکن حقیقت میں پوری طرح من گھڑت متن تشکیل دے دیتے ہیں۔ علمی و تحقیقی شعبوں میں موجود لوگ جب اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے اے آئی ٹول کے کسی دعوے کا حوالہ طلب کرتے ہیں تو یہ ٹولز بسا اوقات جھوٹے حوالہ جات اور فرضی مراجع پیش کر دیتے ہیں جو دیکھنے میں مستند لگ رہے ہوتے ہیں حالانکہ ان کی کوئی اصل نہیں ہوتی۔ اے آئی کے استعمال کا ایک اور خطرناک رجحان طب کے شعبے میں نظر آتا ہے جس میں مریض اور ڈاکٹر دونوں ہی متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے ایسے مریض جن کے لیے ڈاکٹر کی فیس ادا کرنا مشکل یا طبی سہولیات تک آسان رسائی ممکن نہیں ہوتی وہ طبی مشوروں کے لیے اے آئی چیٹ باٹس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس سے مرض کی تشخیص، علاج کے طریقے اور علاج کے لیے مطلوبہ ادویات تک کا مشورہ لیتے ہیں۔ لیکن ان اے آئی باٹس کے پاس نہ تو مریض کا سابقہ طبی ریکارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ مریض کا جسمانی معائنہ کر سکتے ہیں اس لیے بالعموم ان کی تشخیص اور علاج نہ صرف غلط بلکہ بسا اوقات نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (AMA) نے امراض کی تشخیص میں چیٹ جی پی ٹی کس قدر مؤثر ہے اس پر تحقیق کی اور اسے پچھلے دس سال کے تمام طبی کیسز فراہم کیے۔ چیٹ جی پی ٹی نے ہر دس کیسز میں سے ۸ کی بالکل غلط تشخیص کی۔9Diagnostic Accuracy of a Large Language Model in Pediatric Case Studies – JAMA Pediatricsتحقیق و تحلیل
طب
آن لائن طبی جریدے npj Digital Medicine کی ایک تحقیق کے مطابق اے آئی چیٹ باٹس کا یہ رویہ کہ وہ صارف کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اس وقت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جب صارف اس سے طبی مشورہ مانگے۔ ایک صارف اپنی سوچ کے مطابق چیٹ باٹ سے اپنے مرض کی مبینہ علامات کا ذکر کرتا ہے اور اپنے گمان کا اظہار کرتا ہے کہ وہ سکتا ہے اسے فلاں مرض ہے اور چیٹ باٹ اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور اس کی بات کو یقین میں بدل دیتا ہے۔ اسی طرح جب معاملہ دوا تجویز کرنے کا آتا ہے اور صارف غلط دوا کی رائے بھی دے تو اے آئی باٹ اس کی ہاں میں ہاں ملا سکتا ہے۔10Large Language Models in Healthcare: Opportunities and Challenges – npj Digital Medicine
اس کے علاوہ انٹرنیٹ بالخصوص سوشل میڈیا پر اے آئی کی گھڑی ہوئی بے شمار جھوٹی طبی معلومات پھیل رہی ہیں جہاں کسی مرض کے متعلق مبالغہ آرائی کر کے خوف پھیلایا جا رہا ہوتا ہے یا کسی چیز کے طبی فائدے یا طبی نقصانات گنوائے جا رہے ہوتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
مریضوں کے علاوہ ڈاکٹر حضرات بھی مرض کی تشخیص کے لیے اے آئی پر انحصار کر رہے ہیں اور کئی کیسز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر نے دماغی بوجھ کی منتقلی (Cognitive Offloading) کے لیے اے آئی کی تشخیص پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کیا حالانکہ واضح طبی شواہد اس سے الٹ تشخیص بتا رہے تھے۔
آن لائن طبی جریدے Lancet Digital Health کی ایک تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں ریڈیالوجسٹس (Radiologists) ذہنی محنت سے بچنے کے لیے مریض کی ریڈیالوجی رپورٹس کی تحلیل اے آئی سے کرواتے ہیں جو کہ زیادہ تر کیسز میں غلط ثابت ہوتی ہیں۔
اے آئی باٹس اس طرح سے ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ وہ جھوٹ بھی انتہائی وثوق سے بولتے ہیں اور طب کے معاملے میں معاملہ چونکہ زندگی اور موت کا ہوتا ہے اس لیے یہ رویہ انتہائی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
قانون
قانون کے شعبے میں اے آئی کے استعمال کے عملی اور سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ پوری دنیا میں وکلاء اور قانونی ماہرین میں اے آئی ٹولز کے ذریعے سے قانونی مسودات تیار کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے جن میں من گھڑت عدالتی فیصلے اور حوالہ جات شامل ہوتے ہیں۔
فرانسیسی وکیل ڈیمیئن شارلوٹین (Damien Charlotin) نے اپریل ۲۰۲۳ء سے اب تک 886 ایسے عدالتی کیسز کو دستاویزی شکل دی جن میں اے آئی سے گھڑی ہوئی غلط معلومات شامل تھیں۔ ان میں سے 615 کیسز کا تعلق امریکہ سے تھا۔11AI Hallucination Cases Database – Damien Charlotin امریکی ریاست Colorado میں ایک بڑی امریکی کمپنی کے وکیل نے عدالت میں قانونی مسودات جمع کروائے جن میں ۳۰ حوالے اے آئی کے گھڑے ہوئے اور جعلی تھے۔12Mistake-filled legal briefs show the limits of relying on AI tools at work by Cathy Bussewitz – Associated Press
اسی طرح جنوبی افریقہ میں ایک اہم عدالتی مقدمے میں سرکاری قانونی ٹیم نے عدالت میں ۹ قانونی مسودات جمع کروائے جن میں صرف دو اصلی تھے جبکہ باقی کے سات جعلی اور چیٹ جی پی ٹی کے گھڑے ہوئے تھے۔13AI in the courtroom: the danger of using ChatGPT in legal practice in South Africa – The Conversation
دینی ادارے
اے آئی کا استعمال صرف جدید تعلیم سے منسلک افراد اور اداروں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس کا استعمال اب اہل دین طبقات اور دینی اداروں تک میں سرایت کر چکا ہے، جہاں دینی احکامات میں اور فتاویٰ کے لیے حوالوں میں اے آئی بالخصوص چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی جاتی ہے جو کہ اصلی کتابوں کا نام استعمال کر کے نقلی اقتباسات اور گھڑے ہوئے حوالے پیش کر دیتا ہے۔ اسی رجحان کے پیش نظر حال ہی میں جامعہ دار العلوم کراچی نے دینی امور اور شرعی مسائل میں اے آئی کے استعمال کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔ اس فتوے سے اقتباس درج ذیل ہے:
’’جیسا کہ مشاہدہ میں آیا ہے کہ بعض اوقات چیٹ جی پی ٹی(Chat GPT) وغیرہ دینی مسئلہ کا غلط حکم بتا کر اپنی طرف سے جعلی عربی حوالہ جات بھی بتاتی ہے، حالانکہ دینی معلومات بالخصوص کسی مسئلہ کا شرعی حکم بیان کرنا بہت نازک اور حساس معاملہ ہے جس میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا دینی امور اور شرعی مسائل مستند ذرائع (کسی مستند و معتمد عالمِ دین وغیرہ) سے معلوم کرنے چاہئیں، چیٹ جی پی ٹی اور دیگر AI ایپلی کیشنز کی فراہم کردہ معلومات پر کسی مستند عالمِ دین کی تصدیق کے بغیر عمل کرنا ہرگز جائز نہیں، نیز ایسی معلومات کو بلا تحقیق آگے پھیلانا بھی جائز نہیں ہے۔‘‘
بحیثیت مجموعی انسانی معاشرے پر منفی اثرات
اے آئی ٹولز کی تخلیق کردہ جھوٹی خبریں، تصویریں اور ویڈیوز بحیثیت مجموعی پورے انسانی معاشرے پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ تخلیق کار اے آئی ٹولز (Generative AI) بہت تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور روز بروز سچ اور جھوٹ، اصلی اور نقلی کے درمیان فرق کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
ڈیپ فیک اور انفرادی ساکھ پر حملے
ڈیپ فیک وہ مصنوعی میڈیا مواد ہوتا ہے جس میں کسی حقیقی شخص کی مشابہت کو اے آئی کی مدد سے تبدیل یا تخلیق کیا جاتا ہے، تاکہ ایسی آڈیوز، تصاویر اور ویڈیوز بنائی جائیں جن میں وہ شخص ایسے اعمال یا باتیں کرتا نظر آئے جو درحقیقت کبھی پیش ہی نہیں آئے۔ اس ڈیپ فیک مواد کے فوری اور سنگین ترین اثرات میں ایک یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود لوگوں کی شیئر کی ہوئی اپنی تصاویر کو ان کی رضامندی کے بغیر ڈیپ فیک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ زیادہ تر نازیبا اور جنسی تصاویر اور ویڈیوز کی شکل میں ہوتا ہے۔
ٹیکنالوجی سے متعلق خبروں اور مضامین کی ویب سائٹ TechRT کے مطابق ۲۰۲۵ء کے اختتام تک انٹرنیٹ پر ۸۰ لاکھ ڈیپ فیک ویڈیوز اپلوڈ کی جا چکی ہیں جن میں سے ۹۸ فیصد نازیبا جنسی مواد ہے۔ ان تمام ڈیپ فیک ویڈیوز میں جن لوگوں کی ڈیپ فیک ویڈیوز بنائی گئیں ان کی تصاویر اور ڈجیٹل مواد ان کی مرضی کے بغیر حاصل کیا گیا جن میں سے ۹۰ فیصد تعداد خواتین کی ہے۔14ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ تعداد ۹۹ فیصد ہے۔ ۲۰۲۵ء کے اختتام پر ڈیپ فیک کی مارکیٹ نے ایک سال میں ایک ارب گیارہ کروڑ اڑسٹھ لاکھ ڈالر ان ویڈیوز سے کمایے۔15Deepfake & AI Video Statistics 2026 – TechRT
اے آئی سے بنی ان ڈیپ فیک ویڈیوز کی وجہ سے متاثرین بالخصوص خواتین جذباتی صدمے، بے چینی اور ڈپریشن کا شکار ہوتی ہیں اور معاشرے میں ان کی ساکھ اور شناخت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے جس کے نتیجے میں بہت سے متاثرین کے خودکشی کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
دھوکہ، فراڈ اور سائبر کرائم
اے آئی ٹولز فراڈ اور دھوکہ دہی کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ ڈیپ فیک آڈیوز اور ویڈیوز کے ذریعے کمپنیوں کے افسران اور خاندان کے افراد کی نقالی کر کے رقم اینٹھی یا مالی فیصلوں میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے۔ ڈیپ فیک کالز اور آڈیو پیغامات سوشل انجینئرنگ حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے کمپنیوں کے ملازمین کو رقوم منتقل کرنے یا حساس معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔
TechRT کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۰ء سے لے کر ۲۰۲۵ء کے اختتام تک ایف بی آئی کے اے آئی ٹولز کے ذریعے فراڈ کے بیالیس لاکھ کیسز موصول ہوئے۔ ان کیسز میں مجموعی طور پر پچاس ارب پچاس کروڑ ڈالر کا نقصان متاثرین کو اٹھانا پڑا۔ ایک اندازے کے مطابق ۲۰۲۴ء میں پوری دنیا میں ہر پانچ منٹ میں ایک ڈیپ فیک پر مبنی حملہ ہو رہا تھا۔ ان کیسز میں سے بینک فراڈ کے کیسز میں ہر متاثرہ شخص کو اوسطاً بیس ہزار ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اے آئی ٹولز کے اس ڈیپ فیک مواد نے سچ اور جھوٹ کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے ۔ اس لیے جہاں ایک طرف لوگ اے آئی کی گھڑی ہوئی جھوٹی بات کو بھی سچ سمجھ کر قبول کر رہے ہیں وہیں چونکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جا رہی ہے اس لیے سچ بھی ’’اے آئی کا گھڑا ہوا جھوٹ‘‘ کہہ کر رد کیا جا رہا ہے اور یہ چیز معاشرے کو ایسی سمت میں لے جا رہی ہے جہاں سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق مکمل ناپید ہو جائے گا۔
آن لائن پرائیویسی پر منفی اثرات
صارفین کی پروفائلنگ
اے آئی ٹولز ڈیٹا پر پنپتے ہیں اور اس کے لیے انہیں بے شمار ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس ماڈل کے لیے اپنے جواب کو صارف کے مزاج کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھی۔ لیکن یہ ٹولز صارف سے ڈیٹا کو اس انداز میں حاصل، پراسیس اور اپنے اندر جذب کرتے ہیں کہ اس سے صارف کی پرائیویسی کو نقصان پہنچتا ہے۔ صارف سے حاصل شدہ ڈیٹا نہ صرف اے آئی ماڈلز کی تربیت اور ان کے رسپانس کی کسٹمائزیشن کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کا استعمال وسیع پیمانے پر صارف کی پروفائلنگ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اے آئی سسٹمز کے تجزیاتی نظام اتنے قوی ہو چکے ہیں کہ معمولی نوعیت کے تعاملات سے بھی رویوں، ترجیحات اور حساس خصوصیات کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ آپ کی مختلف امور میں رائے، سوچ، نظریات اور عقائد کیا ہیں، آپ کی پسند اور نا پسند کیا ہے، آپ کے تعلقات اپنے ارد گرد لوگوں کے ساتھ کیسے ہیں، آپ کی معاشی و معاشرتی حالت کیسی ہے وغیرہ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو اے آئی باٹس غیر محسوس انداز میں صارف کی معمول کی گپ شپ سے اخذ کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر جمع کی گئی ایسی پروفائلنگ نہ صرف اشتہاری کمپنیوں کو فراہم کی جاتی ہیں بلکہ ساتھ میں سکیورٹی اداروں کو بھی فراہم کی جاتی ہیں جنہیں یہ پروفائلنگ شہریوں کی ہر ہر جنبش پر نظر رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
ایک اے آئی ایسا بھی ہے جو خالص سکیورٹی اداروں کے استعمال کے لیے ہے جس کا نام کلیئر ویو اے آئی (Clearview AI) ہے یہ چہرے کی شناخت (Facial Recognition) کا ٹول ہے جو خاص طور پر سکیورٹی اداروں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس ٹول کے پاس انٹرنیٹ بالخصوص سوشل میڈیا سے لوگوں کی جمع شدہ بیس ارب
(20 billion) تصاویر موجود ہیں اور اس میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ اے آئی ٹول براہ راست امریکی سکیورٹی اداروں کی دسترس میں ہے اور انہیں کی اجازت سے دنیا کے ستائیس ممالک کی ۲۲۰۰ سکیورٹی ایجنسیز کو بھی اس ٹول تک رسائی دی گئی ہے۔ یہ ایک آن لائن ٹول ہے جس پر ان تمام سکیورٹی اداروں کے اکاؤنٹس موجود ہیں جو کسی مطلوبہ شخص کی تصویر اس پر اپلوڈ کرتے ہیں جس کے جواب میں یہ ٹول اس سے متعلق تمام معلومات کی پروفائل بنا کر طلب کرنے والے سکیورٹی ادارے کو بھیج دیتا ہے۔16Clearview AI – Wikipedia English
آپریٹنگ سسٹمز میں امبیڈڈ اے آئی ایجنٹ
ایک نہایت اہم مگر اکثر نظر انداز کیا جانے والا خطرہ آپریٹنگ سسٹمز (Windows, MacOS, Android, iOS etc) میں امبیڈڈ (embedded) اے آئی ایجنٹس سے ہے جو ۲۰۲۵ء کے دوسرے نصف میں متعارف کروائے گئے۔ یہ اے آئی ایجنٹ کمپیوٹر یا موبائل ڈیوائسز میں خود مختار انداز میں کام کر سکتے ہیں اور صارف کے بہت سے کام یہ خود کر دیتے ہیں جیسے ای میلز، ایس ایم ایس اور چیٹ پڑھنا (بشمول انکرپٹڈ چیٹ) کیلنڈر پر شیڈول مرتب کرنا اور اس کے مطابق یاد دہانی کروانا، اور ڈیوائس میں موجود دیگر سافٹ وئیرز کے ساتھ تعامل وغیرہ۔
بظاہر دیکھنے میں تو یہ ٹیکنالوجی صارف کی سہولت کے لیے ہی نظر آتی ہے لیکن یہ ڈیجیٹل سکیورٹی اور پرائیویسی کے اعتبار سے دیگر تمام چیزوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ سگنل فاؤنڈیشن (سگنل میسنجر بنانے والی کمپنی) کی صدر میریڈتھ وِٹیکر (Meredith Whittaker) نے آپریٹنگ سسٹم میں موجود ان اے آئی ایجنٹس کو محفوظ پیغام رسانی (Secure Messaging) کے لیے ایک وجودی خطرہ (Existential Threat) قرار دیا ہے کیونکہ ان ایجنٹس کو درست طریقے سے کام کرنے کے لیے صارف کے تمام ڈیٹا اور سسٹم کی پرمیشنز (Permissions) تک مکمل رسائی درکار ہوتی ہے۔ اور یہ رسائی ان سسٹمز میں انکرپشن کے استعمال کو بے معنی بنا سکتی ہے۔17AI agents are an ‘existential threat’ to secure messaging, Signal’s president Whittaker says – by Beatrice Nolan – Fortune
آپریٹنگ سسٹم میں موجود ایسے اے آئی ایجنٹس جن کو براؤزنگ ہسٹری، انکرپٹڈ ڈیٹا اور پیغامات اور سسٹم کے تمام وسائل بشمول ہارڈ وئیر تک وسیع رسائی حاصل ہوتی ہے ان ڈیوائسز کو حقیقی معنوں میں سرویلنس ڈیوائسز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
اے آئی ایجنٹس کی اتنی وسیع رسائی کی وجہ سے صارف کا تمام ڈیٹا نہ صرف ان اے آئی ٹولز کو بنانے والی کمپنیوں اور ان کے توسط سے سکیورٹی اداروں تک کو حاصل ہو گا بلکہ اے آئی ایجنٹس کو آپریٹنگ سسٹمز میں امبیڈ کیے جانے کے بعد ان کو ہیک کرنے کے بھی نئے طریقے ایجاد ہو چکے ہیں اور اب پرامپٹ انجکشن (Prompt Injection) اور اس طرح کے مزید نئے ہیکنگ کے طریقوں کے ذریعے کوئی ہیکر اسی اےآئی ایجنٹ سے صارف کی تمام حساس معلومات نکال سکتا ہے ۔
اختتامیہ
اگر ترقی، سہولت اور آسانی کے نام پر ہونے والی ان ایجادات کا واقعی مقصد انسان کی بھلائی ہوتا تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کیے ایسے ٹولز بنائے جاتے جو صرف روزمرّہ کے بار بار دہرائے جانے والے کام اپنے ذمے لیتے اور ذہنی و تخلیقی سطح کے کام انسانوں کے لیے چھوڑ دیے جاتے۔ لیکن اس کے برعکس ہوا یہ کہ سہولت کے نام پر سب کام ہی مشینوں کے حوالے ہونے لگے اور انسانوں کو صرف سوشل میڈیا وغیرہ پر وقت ضائع کرنے اور لہو و لعب میں پڑنے پر لگا کر سست اور کاہل بنا دیا۔
لیکن دیکھا جائے تو نام نہاد ’’خدا کی چنیدہ قوم‘‘ کو اسی طرح کے ’’گوئم‘‘ درکار ہیں جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوں، وہ جو کچھ بھی کریں ان پر کوئی انگلی اٹھانے والا نہ ہو اور ان کی بنائی ہوئی سلطنت میں یہ گوئم تیسرے درجے کے شہری بن کر رہیں۔
اے آئی ٹولز سے متعلقہ مسائل کو سمجھنے میں جو سب سے بڑی غلطی کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے نقصانات کو الگ تھلک کمزوریوں (limitations) کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جیسے اپنی طرف سے جھوٹی معلومات گھڑنا (hallucination) علیحدہ مسئلہ ہو، ڈیپ فیک (deep fake) سے ہونے والے فراڈ کوئی علیحدہ مسئلہ اور اور پرائیویسی کے مسائل بالکل الگ چیز ہوں اور ان کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہو۔ لیکن اوپر دی گئی ساری تحقیق سے یہ واضح نظر آتا ہے کہ یہ الگ تھلگ مسائل نہیں بلکہ ایک ہی نظام کا حصہ ہیں اور مسائل کی جڑ اسی نکتے سے شروع ہوتی ہے جہاں سے اس مضمون کا آغاز ہوا تھا، یعنی ذہنی صلاحیتوں کی تنزلی۔
مسئلہ اے آئی ٹولز سے شروع نہیں ہوتا بلکہ مسئلہ ہمارے رویوں سے شروع ہوتا ہے۔ جب ہم اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہیں تو ہم ان ٹولز کی طرف اپنے ذہنی بوجھ کی منتقلی (Cognitive Offloading) شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنے کی وجہ سے ہماری فیصلہ سازی کی صلاحیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ فیصلہ سازی کی صلاحیت کمزور پڑنے کے نتیجے میں ہمارا ان اے آئی ٹولز پر انحصار بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جب اے آئی ٹولز پر انحصار بڑھتا ہے تو پھر ہم اس کی ہر من گھڑت بات کو بلا سوچے سمجھے تسلیم کرتے چلے جاتے ہیں۔ اور جب یہ ہوتا ہے تو پھر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات، ڈیپ فیک اور فراڈ پھیلنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے زندگی کے تمام شعبے اور پورا انسانی معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔
دوسری طرف یہی ذہنی بوجھ کی منتقلی (Cognitive Offloading) انسان کے اندر سستی (Procrastination)، سہولت پسندی اور تن آسانی پیدا کرتی ہے اور سہولت کے نام پر جو بھی جال یہ اے آئی ٹولز ان کی جانب پھینکتے ہیں وہ برضا و رغبت ان میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ انہیں یہ پرواہ نہیں رہتی کہ ان سمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور اے آئی ٹولز کے ذریعے ہم خفیہ اداروں کے سرویلنس نظاموں کو اپنے ہر لمحہ، ہر جگہ اور ہر قدم کی معلومات بھیج رہے ہیں۔ خود کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتے ہیں کہ ’’ہماری معلومات چلی بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ ہم تو کچھ ایسا ویسا کر ہی نہیں رہے‘‘۔
اگر تو آپ سرمایہ دارانہ معاشرے میں جانوروں جیسی زندگی گزارنے پر راضی ہیں، آپ کو دنیا میں کیا ہو رہا ہے، امت میں کہاں کس پر کون ظلم کر رہا ہے، اپنے ملک میں کون حکومت میں آ رہا ہے کون جا رہا ہے، کیا پالیسیاں بن رہی ہیں، کیا غلط ہو رہا ہے کیا ٹھیک ہو رہا ہے اس سب سے کوئی غرض نہیں، اور آپ کی زندگی سکول، یونیورسٹی، آٹھ گھنٹے کی نوکری، شادی، بچے، ان کی پڑھائی ، ان کی شادی، ریٹائرمنٹ اور بڑھاپے کے لگے بندھے سلسلے میں بند ہے، تو پھر آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کی ساری ترقی آپ ہی کی سہولت کے لیے ہے اور دنیا آپ ہی جیسوں کے لیے اہلِ دنیا جنت بنانا چاہتے ہیں۔
لیکن اگر آپ اپنے دل میں امت کا درد رکھتے ہیں، آپ طاغوتی نظاموں کے فیصلوں اور اقدامات سے اختلاف رکھتے ہیں اور آپ امت کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو یہ سارے جال آپ ہی کو پھنسانے کے لیے پھینکے گئے ہیں۔ پھر آپ یہ جملہ استعمال نہیں کر سکتے کہ ’’میں تو ایسا ویسا کچھ نہیں کر رہا، خیر ہے‘‘۔ یہ ساری ٹیکنالوجی ، یہ سمارٹ فونز، یہ سوشل میڈیا، یہ ٹوئٹر، فیس بک، ٹیلی گرام ، وٹس ایپ اور یہ چیٹ جی پی ٹی و گروک یہ سب نام نہاد ’’سہولتیں‘‘ وہ زہر ہلاہل ہیں جنہیں آپ اپنی سادگی میں قند سمجھ بیٹھے ہیں۔
اس تحریر میں جن منفی اثرات کا ذکر کیا گیا یہ کوئی ’’خدشات‘‘ نہیں ہیں کہ ان چیزوں سے ایسا ہونے کا ’’امکان‘‘ ہے بلکہ یہ اثرات ہمارے ذہنوں پر اور پورے انسانی معاشرے پر مرتب ہو چکے ہیں اور عین اس وقت بھی ہو رہے ہیں اور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ تحریر کے آغاز میں ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا ذہنی صلاحیتوں کی تنزلی سے تعلق کا ذکر ہوا۔ یہ اے آئی ایسا وبال ہے جس سے اس وقت تمام زندہ نسلیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ جنریشن زی (Gen Z) کا تو کیا رونا، ۲۰۱۲ء اور اس کے بعد پیدا ہونے والی نسل ’’جنریشن ایلفا‘‘ (Gen Alpha) ایسے وقت میں نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی ہے جب سوشل میڈیا کی تمام تر برائیاں اپنے جوبن پر ہیں اور اے آئی کا طوفان پورے زور و شور کے ساتھ سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جا رہا ہے۔
ہم سب کو یہ ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر سہولت کے نام پر آنے والے اس طوفان کے آگے بند نہ باندھا گیا تو آنے والی نسلیں مشینوں کی محتاج، کند ذہن اور ناکارہ نکلیں گی جن کی اکثریت سے آپ کبھی یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ امت کے لیے کچھ کر سکیں گی۔ ذہنی صلاحیتوں کی تنزلی ایک جانب لیکن ان سہولتوں کے نام پر نظام ہمیں ایسی غیر مرئی زنجیروں میں جکڑ تا چلا جا رہا ہے کہ کوئی بھی ان کی مرضی اور پسند کے علاوہ آنکھ بھی نہ جھپک سکے اور جیسے جیسے ہم سہولت کے نام پر ان چیزوں میں خود کو غرق کرتے جائیں گے یہ زنجیریں بھی ہمارے گرد بڑھتی جائیں گی اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آج اور ابھی اس حقیقت کا ادراک کریں اور خود کو اور اپنے بچوں کو آخری حد تک سوشل میڈیا اور اے آئی کے استعمال سے بچائیں تاکہ ہم خود کو اور اپنے بچوں کو مشینوں کا غلام بننے سے بچا سکیں۔
٭٭٭٭٭
- 1Lawmakers Hold Hearing on the Impact of Screen Time on Kids – C-SPAN: January 15, 2026
- 2Attention Span: A Groundbreaking Way to Restore Balance, Happiness and Productivity – Gloria Mark, PhD
- 3Social Media Attention Span Statistics 2026: By Platform, Age, and Content Tpe – Robert A. Lee – SQ Magazine
- 4The cognitive paradox of AI in education: between enhancement and erosion – frontiers
- 5Cognitive Consequences of Artificial Intelligence: Is Human Intelligence at Stake? – Indian Journal of Behavioral Sciences
- 6Technological folie à deux: Feedback Loops Between AI Chatbots and Mental Illness – Cornell University
- 7Raine v. OpenAI – Wikipedia English
- 8OECD Digital Education Outlook 2026 – Organisation for Economic Co-operation and Development
- 9National Survey: 95% of College Faculty Fear Overreliance on AI and Diminished Critical Thinking Among Learners Who Use Generative AI Tools – AAC&U[/mfn]
تحقیق و تحلیل
اے آئی ٹولز کا استعمال تحقیق و تحلیل (Research & Analysis) کے پورے نظام کو متاثر کر رہا ہے، کیونکہ ان کے استعمال سے تحقیق و تحلیل کے کام میں علمی دیانت (Academic Integrity) میں کمی رونما ہو رہی ہے۔
اے آئی ٹولز کا ایک خطرناک پہلو وہ ہے جسے محققین ہلوسی نیشن (Hallucination) کہتے ہیں، یعنی غلط، من گھڑت یا سرے سے غیر موجود معلومات کو پورے اعتماد کے ساتھ پیش کر دینا۔ یہ اے آئی ٹولز اپنے تربیتی ڈیٹا کی بنیاد پر بظاہر قابل یقین لیکن حقیقت میں پوری طرح من گھڑت متن تشکیل دے دیتے ہیں۔
علمی و تحقیقی شعبوں میں موجود لوگ جب اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے اے آئی ٹول کے کسی دعوے کا حوالہ طلب کرتے ہیں تو یہ ٹولز بسا اوقات جھوٹے حوالہ جات اور فرضی مراجع پیش کر دیتے ہیں جو دیکھنے میں مستند لگ رہے ہوتے ہیں حالانکہ ان کی کوئی اصل نہیں ہوتی۔
طب
اے آئی کے استعمال کا ایک اور خطرناک رجحان طب کے شعبے میں نظر آتا ہے جس میں مریض اور ڈاکٹر دونوں ہی متاثر ہوئے ہیں۔
بہت سے ایسے مریض جن کے لیے ڈاکٹر کی فیس ادا کرنا مشکل یا طبی سہولیات تک آسان رسائی ممکن نہیں ہوتی وہ طبی مشوروں کے لیے اے آئی چیٹ باٹس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس سے مرض کی تشخیص، علاج کے طریقے اور علاج کے لیے مطلوبہ ادویات تک کا مشورہ لیتے ہیں۔ لیکن ان اے آئی باٹس کے پاس نہ تو مریض کا سابقہ طبی ریکارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ مریض کا جسمانی معائنہ کر سکتے ہیں اس لیے بالعموم ان کی تشخیص اور علاج نہ صرف غلط بلکہ بسا اوقات نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔
امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (AMA) نے امراض کی تشخیص میں چیٹ جی پی ٹی کس قدر مؤثر ہے اس پر تحقیق کی اور اسے پچھلے دس سال کے تمام طبی کیسز فراہم کیے۔ چیٹ جی پی ٹی نے ہر دس کیسز میں سے ۸ کی بالکل غلط تشخیص کی۔9Diagnostic Accuracy of a Large Language Model in Pediatric Case Studies – JAMA Pediatrics
- 10Large Language Models in Healthcare: Opportunities and Challenges – npj Digital Medicine
- 11AI Hallucination Cases Database – Damien Charlotin
- 12Mistake-filled legal briefs show the limits of relying on AI tools at work by Cathy Bussewitz – Associated Press
- 13AI in the courtroom: the danger of using ChatGPT in legal practice in South Africa – The Conversation
- 14ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ تعداد ۹۹ فیصد ہے۔
- 15Deepfake & AI Video Statistics 2026 – TechRT
- 16Clearview AI – Wikipedia English
- 17AI agents are an ‘existential threat’ to secure messaging, Signal’s president Whittaker says – by Beatrice Nolan – Fortune









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



