عام فرد کی زندگی کی طرح، قوموں کی زندگی میں بھی کچھ نازک مراحل آتے ہیں، کچھ فیصلہ کن دوراہے۔ ان فیصلہ کن دوراہوں پر کیا گیا فیصلہ اپنی بادِ بہاری دہائیوں اور صدیوں تک چلائے رکھتا ہے۔ یا اس نازک موڑ پر کیا گیا غلط فیصلہ دہائیوں اور صدیوں تک، بعد میں آنے والی کئی نسلوں تک کے مستقبل کو خراب کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ قوموں کے قائدین ایسے مواقع پر ہمیشہ اپنی قوم کے لیے کچھ ہدایات، کچھ ترشید کا اہتمام و انتظام کرتے ہیں، یہ ہدایات و ترشید بھی صحیح یا غلط ہو سکتی ہیں۔ بچشمِ سر آج ہم ملاحظہ کر رہے ہیں کہ اقوامِ عالم ایک ایسے ہی نازک مرحلے سے گزر رہی ہیں، خصوصاً مسلم اقوام اور مسلم اقوام میں سے بھی خاص طور پر ’اہالیانِ پاکستان‘۔مسلم اقوام اس لیے کہ معرکۂ خیر و شر میں شر تو ہمیشہ واضح ہی ہوتا ہے، شر یعنی کہ فتنہ، یعنی فساد، یعنی کفر و شرک ۔ لیکن کئی بار خیر کے چہرے پر گرد پڑ جاتی ہے، چھانٹی انہی اہلِ خیر میں سے ہوا کرتی ہے، ایمان و نفاق کی چھانٹی۔ پھر پچھلی پون صدی میں ’مسلم‘ اقوام میں سے جس قوم نے من حیث القوم سب سے زیادہ ایمان و دین کے دعوے کیے (اور صرف دعوے ہی نہیں بہت سے میدانوں میں سچی بھی ثابت ہوئی) ان میں سرِ فہرست قومِ پاکستان ہے۔
یہ تمہیدی کلمات کہنے کے بعد تھوڑا سا پیچھے چلتے ہیں۔ ربع صدی پیچھے۔دنیا میں باطل کا غلبہ تھا، اینڈ آف ہسٹری اور تہذیبوں کے ختم ہو جانے کے دعووں کے بعد ایک ایسے ورلڈ آرڈر کا چرچا تھا ، جو نظامِ شمسی کے سیارے ’زمین‘ سے باہر نئے سیارے تلاش رہی تھی تا کہ انسانی زندگی کو، انسانی تہذیب کو نہیں، مکرر انسانی زندگی کو، افراد کی زندگی کو preserve کیا جا سکے اور جدید تعبیرِ تاریخ کے مطابق یہ تہذیب قدیم ذی ارواح کی طرح extinction کا شکار نہ ہو جائے۔ یہ ورلڈ آردڑ، ببانگِ دہلِ خدائے لم یزل کو چیلنج کرتے ہوئے (بزعمِ خود)ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔1دنیا کے امیر ترین آدمی، ایلون مسک کی گفتگوئیں اس پر موجود ہیں جو چاند اور مریخ پر زندگی کو بسانا چاہتا ہے۔ اللّٰہ ﷻ کا فیصلہ تو یہ تھا کہ ’كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ‘، لیکن اس فیصلۂ یزدانی کا کفر کرنے والے کہتے تھے کہ نہیں! ہم موت کو قبول نہیں کرتے۔جبکہ اللّٰہ کے ماننے والے کہتے تھے کہ نہیں، لم یزل ذات تو صرف خدائے برتر و بزرگ کی ہے، اس کا فیصلہ ہے کہ اس نے دو زندگیاں پیدا کی ہیں، ایک میں ہر ایک کو موت دے گا اور اگلی میں ہر ایک کو زندگی بخشے گا۔ اب جو اگلی زندگی میں ہمیشہ کی زندگی، یعنی راحت کی زندگی چاہے اور جہنم سے بچنا چاہے تو وہ اللّٰہ کی بندگی اختیار کر لے اور جو جو اللّٰہ کی بندگی کو اس دنیا میں چیلنج کر کے کسی چاند اور کسی مریخ پر خدا کی نافرمانی والی زندگی بسانا چاہے تو ہم اس سے اعلانِ جنگ کرتے ہیں۔ اسی دنیا میں ہمیشہ کی زندگی کا حصول اور پھر کچھ اللّٰہ والوں کا ایسے دنیا داروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا کوئی انہونی نہیں ہے، یہ محض ربع صدی پہلے برپا ہونے والا انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ تاریخ کا پہیہ ہر کچھ زمانے بعد اسی جگہ آ رکتا ہے۔ البتہ ایک صدی پہلے جس تہذیبِ باطل نے ایسی خدائی کا دعویٰ کیا اور سچے خدا کے ماننے والوں کو دنیا بھر میں روندنا شروع کر دیا، اس کا نام امریکہ تھا اور آج سے ربع صدی پہلے، کچھ اللّٰہ والوں نے اس باطل خدا کو اسی خدا کے گھر میں ذلیل و رسوا کر دیا۔ باطل کی ذلت و رسوائی کے اس واقعے کو ’نائن الیون‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اپنی civilization اور اپنے way of life جس کا سادہ سا ترجمہ ’دین‘ کیا جا سکتا ہے کو بچانے میدان میں نکلا۔ نائن الیون کی صورت میں امریکہ کو ضرب لگانے والے بوریا نشین مردانِ قلندر کو جائے پناہ، انہی درویشوں کے امام ملا عمر نے اپنے وطن میں دے رکھی تھی، لہٰذا امریکہ نے اپنا پہلا ہدف اسی مردِ قلندر کے وطن کو بنایا۔ امریکہ نے ’وار آن ٹیرر‘ کا اعلان کیا اور پھر اپنے حواریوں سمیت افغانستان پر چڑھ دوڑا۔
افغانستان کا ہمسایہ ملک پاکستان تھا۔ ’پاکستان کا مطلب کیا؟‘ ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ کا دیس پاکستان! بش اور اس کے چیلوں نے جب اس وقت پرویز مشرف کو فون کر کے اس وار آن ٹیرر میں شمولیت کی دعوت دی تو وہ چند دن، وہ چند ہفتے، شاید چند ماہ، ربع صدی قبل اہلِ پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن دوراہا تھے۔ پرویز مشرف نے بش کی دعوت پر لبیک کہا۔ پھر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں جیسا ساتھ (پڑوسی ہونے کے سبب) پاکستان نے امریکہ کا دیا تو کوئی اور ایسا ساتھ نہ دے سکا۔ ’ہوائیں ان کی، فضائیں ان کی، سمندر ان کے، جہاز ان کے‘، الغرض جو کچھ پاکستان کا تھا وہ سب امریکہ کا ہوا، ہواؤں اور فضاؤں سے ستاون ہزار بار امریکی جہازوں نے اڑ کر افغانستان کو تہہ و بالا کیا، زمینوں پر ’یومیہ ‘چار چار سو امریکی و نیٹو کنٹینر دندناتے ہوئے کراچی سے چمن و تورخم پہنچتے۔ امارتِ اسلامیہ افغانستان کی اکثر اعلیٰ قیادت کو پاکستانی فوج و انٹیلی جنس نے پشاور تا کوئٹہ اور اسلام آباد تا کراچی گرفتار و قتل کیا۔ چھ سو سے زیادہ مہاجر مجاہدوں کو پرویز مشرف کے اپنے اقرار کے مطابق گرفتار کر کے باگرام و گوانتا نامو بھیجا گیا۔ عافیہ صدیقی کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا۔ جدید و قدیم سبھی سفارتی آداب و قوانین کو پاؤں تلے روند کر افغانستان کے سفیر ملا عبد السلام ضعیف کو مادر زاد برہنہ کر کے، ہتھکڑی لگا کر چکلالہ ائیر بیس سے امریکی حراست میں دیا گیا۔ اس تاریخ کے نازک مرحلے پر، اس فیصلہ کن موڑ پر جو فیصلہ ہوا ،تو اس کے نتیجے میں پاکستان میں ایک ایسا آگ و خون کا کھیل شروع ہوا جس کی آنچ ربع صدی بعد کم نہ ہوئی اور جو خون بہتے بہتے ہماری گردنوں تک کو ڈبو چکا ہے۔ تاریخ کا یہ حوالہ دینا بہت ضروری تھا۔
ربع صدی بعد، دنیا کے ایک اور خطے میں وقت کا ایک اور نائن الیون جیسا حملہ ہوتا ہے۔ دنیا اس کو سات اکتوبر کے نام سے جانتی ہے، طوفان الاقصیٰ! طوفان الاقصیٰ کے محرکات بھی نائن الیون سے کچھ مختلف نہیں، نہ ہی اس کے بعد کے واقعات۔اینڈ آف ہسٹری کا ایک (صہیونیوں کے مطابق)مطلب یہ بھی ہے کہ یہودیوں کا بادشاہ، ان کا مسیحا یعنی مسیح الدجال آئے گا اور سب یہودیوں کو ہزار ہزار یا اس سے زیادہ برس کی زندگی بخشے گا اور باقی سب مخلوق ان یہودیوں کی خادم و غلام ہو گی۔ اس مسیح الدجال کو ’لانے‘ کے لیے یہود کے نزدیک ارضِ مقدس پر قبضہ کر کے اسرائیل کا قیام، پھر مسجدِ اقصیٰ پر قبضہ کر کے اس کا انہدام نہایت ضروری ہے۔ انہی یہود کے ان عزائم کے آگے بند باندھنے کا نام طوفان الاقصیٰ تھا اور ہے۔ ’فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے‘، اسرائیل پر حملہ ہوا تو افرنگ کے سبھی نئے و پرانے مہرے اور حواری حرکت میں آ گئے۔ ابھی چند سطور قبل ربع صدی کا جو حوالہ ہم نے دیا کہ جب پاکستان ’وار آن ٹیرر‘ کا حصہ، نان نیٹو اتحادی اور فرنٹ لائن اتحادی قرار پایا تو کن کن امور میں امریکیوں کی سہولت کاری کی گئی اور اس کا نتیجہ آج پاکستان بھر میں کس طرح ظاہر ہو رہا ہے۔ بالکل ایسا ہی ایک منظر آج پھر دہرایا جا رہا ہے۔
دنیا کے سبھی ذی عقل لوگ جانتے ہیں کہ ٹرمپ صرف امریکہ کا نہیں دنیا بھرکا بے تاج بھی نہیں، بلکہ تاج ور بادشاہ بننا چاہتا ہے۔ وہ اپنے خونیں ساتھی نیتن یاہو کے ساتھ مل کر دنیا میں اس عظیم تبدیلی کی راہ ہموار کرنا چاہ رہا ہے جس کی عملی صورت مسیح الدجال کا خروج ہو گا۔ ٹرمپ کی قیادت میں ’بورڈ آف پیس‘ کا قیام ایک نئی مطلق العنان عالمی بادشاہت کی کوشش ہے، جو موجودہ اقوامِ متحدہ (جس میں پانچ عالمی بدمعاشوں: امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کی منہ زوری ہے) کو ختم کرنے کی طرف ایک بھونڈا قدم ہے۔ یہ بورڈ آف پیس کچھ اور کر پائے یا نہیں، لیکن اس کا پہلا ہدف غزہ کی مکمل و حتمی بربادی ہے۔ اس غزہ کی مکمل و حتمی تباہی، جو پچھلے دو سوا دو سال میں بربادی کی تصویر مسجدِ اقصیٰ کے دفاع کی خاطر ہے۔ وہ غزہ جسے ’نوّے ہزار ٹن(90،000)‘ گولہ و بارود2یہ عدد جیرڈ کشنر نے بورڈ آف پیس کی افتتاحی تقریب میں بیان کیا۔ جیرڈ کشنر ٹرمپ کایہودی داماد ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے امور میں ٹرمپ کے دائیں ہاتھ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ نہیں توڑ سکا ، اسے توڑنے اور مکمل برباد کرنے کے لیے یہ بورڈ آف پیس بنایا گیا ہے، پیس یعنی امن۔ سبحان اللّٰہ، بے شک پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے عظیم کلام میں کس قدر وضاحت سے فرمایا:
وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَ رْضِ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ……(سورۃ البقرۃ: 11-12)
’’ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ مچاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔یاد رکھو یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں……‘‘
اس بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے اسرائیل سے بھی سبقت لے جانے والا ملک، ملکِ پاکستان ہے۔3اسرائیل اس بورڈ کاحصہ ۱۳ فروری ۲۰۲۶ء کو بنا جبکہ پاکستان اس بورڈ کا حصہ 22 جنوری 2026ء کو بن گیا تھا۔ ربع صدی قبل کابل و قندھار کا سودا کیا گیا تھا، لیکن آج بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر القدس و غزہ کا سودا کیا گیا ہے۔ انبیاء کی سرزمین کا سودا، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سرزمینِ اسراء و معراج کا سودا، قبلۂ اول کا سودا۔ اس سودے میں ساتھ دینے والے نام نہاد کلمہ گو ظالموں میں ترکیہ، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ازبکستان، انڈونیشیا، آذر بائیجان، البانیا، بحرین، مصر، اردن، قزاقستان، کوسووو، کویت و مراکش شامل ہیں۔ ابھی دجال کا خروج نہیں ہوا، لیکن یہ سب دجال پر اس کی آمد سے قبل ہی ایمان لا چکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کی تین ریجمنٹیں غزہ میں تعینات کی جائیں گی: انیسویں لانسر ریجمنٹ، تیرہویں لانسر ریجمنٹ اور پانچویں ہارس ریجمنٹ۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ یہ تینوں ریجمنٹیں قبل از قیامِ پاکستان (۱۹۴۷ء) برطانوی مقبوضہ فلسطین اور عراق و شام میں تعینات رہیں او آج ان کے غزہ جانے کی باتیں چل رہی ہیں۔ انیسویں لانسر ریجمنٹ کا نام ۱۹۵۶ء تک 19th King George V’s Own Lancers رہا، تیرہویں لانسر ریجمنٹ کا نام 13th Duke of Connaught’s Own Lancers تھا اور اور پانچویں ہارس ریجمنٹ کا نام 5th King Edward’s Own Lancers Probyn’s Horse تھا۔ پاکستان کے اہلِ دین کی قیادت میں سے ایک محترم شخصیت نے کہا کہ قوم کو کنفیوژن میں نہ ڈالیں کہ غزہ میں جا کر لڑکر مرنے والا فوجی کیا کہلائے گا۔ سچی بات تو بصد احترام یہ عرض ہے کہ قوم کو کنفیوژن میں پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت نے نہیں، ہمارے اپنے لوگوں نے ایسی باتیں کہہ کر ڈالا ہے۔ ذرا سوچیے نیتن یاہو کا مشن پورا کرنے والا پاکستانی فوج کا ایک ’زندہ‘ یا ’مردہ‘سپاہی و افسر کیا کہلائے گا؟ ایسی جرات تو عبد اللّٰہ بن ابی بن سلول رئیس المنافقین میں بھی نہ تھی کہ وہ اپنے سپاہیوں کو یوں قریشِ مکہ کا لشکری بنا دیتا۔ نیتن یاہو کا مشن پورا کرنے والے پاکستانی فوجی بالکل اسی طرح مردار ہوں گے جیسے اسرائیلی فوجی، بلکہ ان فوجیوں اور ان کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں کچھ بات آئندہ سطور میں آئے گی۔
آج اہلِ پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک انتہائی فیصلہ کن دوراہے پر کھڑے ہیں۔
صرف ایسا نہیں ہے کہ ربع صدی قبل امارتِ اسلامیہ افغانستان کی تباہی اور مجاہدینِ القاعدہ کے سودے کے بعد آج مجاہدینِ کتائبِ قسّام اور مجاہدینِ سرایا القدس کو ختم کرنے کے ٹرمپ منصوبے کا حصہ پاکستانی فوج بننے جا رہی ہے۔ یہ کوئی پیٹ پالنے کا مجبوری والا طریقہ نہیں ہے جس میں لقمۂ حرام کی کوئی گنجائش نکل آئی ہے ، بلکہ عین گھر کے اندر کے حالات بھی اللّٰہ کی شریعت سے بغاوت بلکہ جنگ پر آمادگی و اعلان کا اظہار ہیں۔ سود ہماری معیشت ہے اور سبھی اہلِ فکرو دانش جانتے ہیں کہ چھبیسویں آئینی ترمیم میں ’رِبا‘ کا یکم جنوری 2028ء تک خاتمہ محض ایک ڈھکوسلے اور لالی پاپ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر یہ حقیقتاً سود ختم کرنے کا کچھ ارادہ رکھتے تو اس کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھاتے، اٹھتر سال سے جاری کھربوں کی سودی معیشت کو ختم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا گیا۔ معاشرے میں بے راہ روی اور زنا کو پھیلانے کی خاطر اب آئین کا حصہ محض حقوقِ نسواں بل نہیں، بلکہ ٹرانس جینڈر ایکٹ اور اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی بھی ہے۔ پاکستان کے ممتاز علماء و مشائخ و اہلِ دین قائدین نے دو ماہ پیشتر کراچی میں منعقد ہونے والی ایک مجلس میں جتنے نکات بطورِ قرارداد منظور کیے آج ان کی دھجیاں علی الاعلان اڑائی جا رہی ہیں۔ اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے تحت اور صوبہ سندھ و بلوچستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی ہے اور ابھی وسطِ فروری 2026ءمیں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایک آرڈیننس کے ذریعے اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی کو قانوناً جرم قرار دے دیا گیا ہے اور نکاح کرنے والے اور کروانے والے کو سات سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی کو تو ’چائلڈ میرج‘ کہا جاتا ہے لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ پاکستانی فوج میں شمولیت کے لیے اہل عمر سترہ سال ہے۔ ہمیں ہماری اس بے باکی پر معاف کیجیے، آج ہم سب جو اس نئے قانون پر نوحہ زن ہیں اس نکتے کی طرف توجہ نہیں کر رہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی کے قانون و آرڈیننس سے قبل (پنجاب میں)جو ’چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس ۱۹۲۹ء‘ نافذ تھا اس میں بھی لڑکوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر ۱۸ سال اور لڑکیوں کے لیے ۱۶ سال تھی، سوال یہ ہے کہ کیا اس نئے آرڈیننس سے قبل ۱۹۲۹ء والے آرڈیننس میں طے شدہ اٹھارہ اور سولہ سال کی عمر کی حد شرعاً جائز تھی؟
بے شک یہ نئے نئے قوانین و آرڈیننس و ایکٹ ، اللّٰہ ﷻ کی شریعت کی واضح خلاف ورزی ہیں، لیکن مسئلے کی جڑ کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ آئین جس کو ہم ’اسلامی‘ کہتے ہیں کیا یہ واقعی اسلامی ہے ؟ ۱۹۲۹ء میں جو قانون بنا وہ انگریز نے ہی بنایا تو کیا انگریز نے شریعتِ اسلامی کا پابند ہو کریہ قانون بنایا تھا؟
عالمی و مقامی طور پر ریاستِ پاکستان کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بے سود قرار دادوں اور احتجاجوں میں الجھے رہیں گے اور ہمارے پارلیمانوں میں زنا کی سہولت کاری اور ’ہماری‘ افواج ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ساتھ مل کر حماس نہیں دراصل ارضِ قدس میں جہاد کا خاتمہ کرتی رہیں گی؟
اسرائیل کی حمایت کے خلاف تحریکِ لبیک کے کارکنوں کا جو قتلِ عام مریدکے میں ہوا کیا یہ قتلِ عام ہمارے لیے کوئی پیغام نہیں رکھتا؟ حد تو یہ ہے کہ کل تک جس طرح مجاہدین کی عورتوں کو اغوا و بے آبروئی کا نشانہ بنایا جاتا تھا، آج اسی طرز پر پنجاب میں تحریکِ لبیک کی عورتوں کو غائب کیا جا رہا ہے۔ سخت سردی میں خیبر کے علاقے وادیٔ تیراہ میں، برف میں جس طرح وہاں کے قبائلی لوگوں کو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بے گھر و در بدر کیا گیا تو کیا یہ ریاست و فوج کی وحشت و بربریت نہیں ہے؟
آج اہلِ پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک انتہائی فیصلہ کن دوراہے پر کھڑے ہیں۔
اہلِ پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اٹھتر سال سے جس ٹرک کی بتی کے پیچھے بھگائے جا رہے ہیں، کیا وہ اسی ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے ہوئے غزہ کے مسلمانوں کے قتلِ عام میں خاموش حامی بن جائیں گے اور اپنے ملک میں غیر شرعی قوانین پر بس رسمی سی احتجاجی کارروائیوں کے بعد چپ سادھ لیں گے یا اپنے گھروں سے نکل کر فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور فریضۂ دعوت و جہاد ادا کریں گے؟
ہمیں من حیث القوم پارلیمانی قرار دادوں، جمہوریت، احتجاجوں اور مظاہروں کے سرابوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے دہائیاں بیت گئیں۔دہائیاں بیت گئیں ہمیں اسلاف کی راہ چھوڑے ہوئے۔ ہمارے سلف نے تو ’ظالموں‘ کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کیا تھا جبکہ ہمارے زمانے کے حکمران تو اللّٰہ کے نازل کردہ قوانینِ شریعت کی جگہ اپنے بنائے قوانین نافذ کرتے ہیں اور امریکیوں اور اسرائیلیوں کے ساتھی بنتے ہیں۔ ہمیں ذرا سمجھائیے کہ ایسا کون سا اکراہ ہے، کون سی مجبوری ہے کہ جس کے تحت غزہ کو تہہِ تیغ کرنے کے لیے پاکستانی فوج کے پیادہ و آرمرڈ ریجمنٹ کے افسر و جوان بورڈ آف پیس کے تحت جنگ لڑیں گے؟ اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل اور وہ بھی ارضِ مقدس میں؟ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مقامِ معراج کو پائمال کرنے کے لیے جانا کیا ایمان و اسلام کی علامت ہے یا نفاق کی نشانی؟
کیا ایسے حکمرانوں کے خلاف سیّدنا حسین بن علی رضی اللّٰہ عنہما، سیّدنا عبد اللّٰہ ابنِ زبیر رضی اللّٰہ عنہما، سیّدنا زید بن علی، سیّدنا محمد ذوا لنفس الزکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبد اللّٰہ اور ان اصحاب کی تائید میں امامِ اعظم ابو حنیفہ و امام مالک رحمۃ اللّٰہ علیہم کا اسوہ اپنانے کی ضرورت نہیں؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے تو خلیفہ منصور کے خلاف اس کے فوجی افسر حسن بن قحطبہ کو ابھارا اور ابراہیم بن عبد اللّٰہ (ابن الحسن المثنیٰ بن سیّدنا حسن بن علی ) کا مقابلہ کرنے سے باز رکھا اور انہی ابراہیم بن عبد اللّٰہ کی تائید میں رقم بھی بھیجی۔4مؤرخین کا خیال ہے کہ امام ابو حنیفہ کے خلاف منصور نے جو سخت کارروائی کی، اس کی وجہ ان کا عہدۂ قضا سے انکار تھا، بلکہ دراصل محمد و ابراہیم کی حمایت تھی جس کا منصور کو علم تھا، اس باب کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی‘ از مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ۔ (بحوالہ تاریخِ دعوت و عزیمت، ج ۱، ص ۷۳)’سیّدنا محمد ذو النفس الزکیہ نے جب منصور کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا‘5یہ الفاظ مولانا سیّد ابو الحسن علی ندویؒ کے ہیں۔ (تاریخِ دعوت و عزیمت، ج ۱، ص ۷۳) تو امام مالک رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اہلِ مدینہ کو ان کی رفاقت و طاعت کا فتویٰ دیا، اگرچہ وہ منصور کی بیعت کر چکے ہوں۔6تاریخ الکامل، ج ۵، ص ۲۱۴
یہاں سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ سب تحریکات ناکام ہوئیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم پوری دانش و بینش اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ جہد و جہاد کے مکلف ہیں، ان کے نتائج کے نہیں۔ بے شک ہم بے نتیجہ جنگوں کا نہ حصہ بنتے ہیں نہ اپنی قوم کو بے نتیجہ جنگوں کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، لیکن اگر ایک طرف ایمان کے ساتھ موت ہو اور دوسری طرف ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بن کر چار دن مزید جی لینا تو ایمان کے ساتھ مرنا ہی بہتر ہے۔
عزت سے جیے تو جی لیں گے
یا جامِ شہادت پی لیں گے!
بے شک جنگوں سے خون بہتا ہے اور خون بہنا کوئی ممدوح بات نہیں، لیکن اللّٰہ ﷻ نے فرمایا ’وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ‘ اور ’(کفر و شرک کا)فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے‘۔ اسلاف کی انہی جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے مفکرِ اسلام، مؤرخِ ملت حضرت مولانا سیّد ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللّٰہ علیہ رقم طراز ہیں:
’اگرچہ یہ سب کوششیں ناکام رہیں، لیکن انہوں نے امت میں غلط اقتدار کے خلاف جد و جہد اور اعلانِ حق کی ایک نظیر قائم کر دی، اگرچہ عملاً وہ کامیاب نہیں ہو سکے لیکن ان کی کوششوں کا یہ ذہنی اثر، قربانی، اور جد و جہد کا یہ تسلسل کچھ کم قیمتی نہیں، اسلامی تاریخ کی آبرو انہی جواں مردوں سے قائم ہے، جنہوں نے غلط اقتدار اور مادّی ترغیبات کے سامنے سپر نہیں ڈالی اور صحیح مقصد کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دیا۔’’مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ ‘‘۔‘7تاریخِ دعوت و عزیمت، ج ۱، ص ۷۳
مسجدِ اقصیٰ زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، پوری امت پر جہادِ قدس کی نصرت ، حمایت اور اس میں حصہ لینا فرضِ عین ہے۔ پس امت پر لازم ہے کہ دامے، درمے ، قدمے، سخنے اس جہاد کا حصہ بنے۔ نصرتِ قدس اور آزادیٔ مسجدِ اقصیٰ کے قافلے کا حصہ بنیں۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم پوری قوت و شدت سے اسرائیل اور اس کے پشت پناہ، اسرائیل ہی کے دوسرے نام امریکہ سے ٹکرائیں اور اس ناکام فلسفے کو بھی ترک کر دیں کہ فلسطین کی آزادی کی جنگ محض اسرائیل کے خلاف لڑی جائے گی۔ بورڈ آف پیس اسرائیل نے نہیں امریکہ نے تشکیل دیا ہے۔ پس سانپ کا سر اور برائی کا منبع امریکہ ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم محاذوں والوں سے رابطے قائم رکھیں، اپنے آپ کو اہلِ جہاد کے سپرد کریں اور پھر جہاں جہاں، جس جس میدان میں ہماری تشکیل ہو تو پوری تندہی سے اپنا فریضہ ادا کریں، مقصد نصرتِ قدس رکھیں، امریکہ کو نشانہ بنائیں، بے شک امریکہ کے اہداف پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔بقولِ شہید سپہ سالارِ اسلام ابو خالد محمد الضیف رحمۃ اللّٰہ علیہ، تاریخ نے اپنے سب سے زیادہ عزت و وقار کے ممتاز ترین اوراق پھیلا رکھے ہیں، کون ہے جو اپنا نام آزادیٔ قدس کی خاطر ان صفحات میں لکھوائے۔ پس اس جنگ میں جو امریکہ کا حواری بنے اور دعوت و زبانی امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے بات نہ سمجھے تو اس کو بھی اسی انجام سے دو چار کرنا ہم پر لازم ہے جو انجام و حق امریکہ و اسرائیل کا ہے۔
اللھم اهدنا فيمن هديت وعافنا فيمن عافيت وتولنا فيمن توليت وبارك لنا فيما أعطيت وقنا شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضی عليك وإنه لا يذل من واليت ولا يعز من عاديت تبارکت ربنا وتعاليت!
اللھم وفقنا لما تحب وترضى وخذ من دمائنا حتى ترضى .اللھم اهدنا لما اختلف فيه من الحق بإذنك. اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وارضنا وارض عنا. اللھم إنّا نسئلك الثّبات في الأمر ونسئلك عزیمۃ الرشد ونسئلك شكر نعمتك وحسن عبادتك. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!
٭٭٭٭٭
- 1دنیا کے امیر ترین آدمی، ایلون مسک کی گفتگوئیں اس پر موجود ہیں جو چاند اور مریخ پر زندگی کو بسانا چاہتا ہے۔
- 2یہ عدد جیرڈ کشنر نے بورڈ آف پیس کی افتتاحی تقریب میں بیان کیا۔ جیرڈ کشنر ٹرمپ کایہودی داماد ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے امور میں ٹرمپ کے دائیں ہاتھ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
- 3اسرائیل اس بورڈ کاحصہ ۱۳ فروری ۲۰۲۶ء کو بنا جبکہ پاکستان اس بورڈ کا حصہ 22 جنوری 2026ء کو بن گیا تھا۔
- 4مؤرخین کا خیال ہے کہ امام ابو حنیفہ کے خلاف منصور نے جو سخت کارروائی کی، اس کی وجہ ان کا عہدۂ قضا سے انکار تھا، بلکہ دراصل محمد و ابراہیم کی حمایت تھی جس کا منصور کو علم تھا، اس باب کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی‘ از مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ۔ (بحوالہ تاریخِ دعوت و عزیمت، ج ۱، ص ۷۳)
- 5یہ الفاظ مولانا سیّد ابو الحسن علی ندویؒ کے ہیں۔ (تاریخِ دعوت و عزیمت، ج ۱، ص ۷۳)
- 6تاریخ الکامل، ج ۵، ص ۲۱۴
- 7تاریخِ دعوت و عزیمت، ج ۱، ص ۷۳








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



