ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان شہید مجاہدینِ پاکستان و برِّ صغیر کے درمیان کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ان کے یہاں ڈاکٹر ابو خالد کے نام سے معروف ہیں۔ پیش تر ان کی کتاب ’عصرِ حاضر کے جہاد کی فکری بنیادیں‘ زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو کر عام و خاص قارئین تک آج سے گیارہ سال قبل پہنچ چکی ہے ۔ ڈاکٹر ابو خالد رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری کتاب ’غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں‘ ، مؤلف شہید نے مارچ ۲۰۱۲ء میں مکمل کی، لیکن مختلف النوع وجوہات کی بنا پر اب تک شائع نہ ہو سکی۔
باب اوّل: غزوۂ ہند تعلیماتِ رسول ﷺ کی روشنی میں
غزوۂ ہند سے متعلق احادیث
اس عنوان کے ذیل میں بیان کردہ احادیث مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ کی کتاب ’’تیسری جنگ عظیم اور دجال‘‘،مولانا شاہ رفیع الدین رحمہ اللہ کی کتاب ’’آثار قیامت اور فتنۂ دجال‘‘ اور مولانا ڈاکٹر عصمت اللہ کی کتاب ’’غزوۂ ہند ایک مبارک الہامی پیش گوئی‘‘ سے نقل کی گئی ہیں۔
سب سے پہلے یہاں وہ اہم احادیث بیان کی جاتی ہیں جن میں غزوۂ ہند کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
حدیث: ۱
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
’’میرے جگری دوست رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس امت میں سندھ و ہند کی طرف لشکروں کی روانگی ہو گی۔ اگر مجھے کسی ایسی مہم میں شرکت کا موقع ملا اور (میں اس میں شریک ہو کر) شہید ہو گیا تو ٹھیک، اگر (غازی بن کر) واپس لوٹ آیا تو میں ایک آزاد ابو ہریرہ ہوں گا جسے اللہ تعالیٰ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہو گا۔‘‘1اس حدیث کو امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد میں نقل کیا ہے۔
حدیث : ۲
امام نسائی نے اپنی کتاب سنن المجبتبی اور السنن الکبریٰ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا :
’’نبی کریم ﷺ نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا (آگے ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ) اگر مجھے اس میں شرکت کا موقع مل گیا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کر دوں گا۔ اگر قتل ہو گیا تو میں افضل ترین شہداء میں شمار ہوں گا اور اگر واپس لوٹ آیا تو جہنم سے آزاد ابو ہریرہ ؓ ہوں گا۔‘‘
حدیث:۳
حضرت ثوبانؓ ( نبی کریم ﷺ کے ایک آزاد کردہ غلام اور صحابی) نے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میری امت کی دو جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے محفوظ فرمایا ہے۔ ایک وہ جماعت جو ہندوستان سے جہاد کرے گی دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گی۔‘‘2یہ روایت سنن نسائی کتاب الجہاد میں مسند امام احمد میں موجود ہے۔
حدیث:۴
حضرات صفوان بن عمرو سے مرفوع روایت ہے کہ کہتے ہیں کہ انہیں کچھ لوگوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
’’ میری امت کے کچھ لوگ ہندوستان سے جنگ کریں گے، اللہ تعالیٰ انہیں فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ ہندوستان کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پائیں گے، اللہ ان مجاہدین کی مغفرت فرمائے گا۔ جب وہ شام کی طرف پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو وہاں موجود پائیں گے۔‘‘3اس حدیث کو نعیم بن حمادؒ نے الفتن میں روایت کیا ہے۔
حدیث:۵
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
’’تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جہاد کرے گا جس کو اللہ تعالیٰ فتح دے گا۔ چنانچہ یہ لشکر ہند کے حکمرانوں کو زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر لائے گا۔ اللہ اس لشکر کے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ پھر جب یہ لوگ واپس لوٹیں گے تو شام میں ابن مریم علیہما السلام کو پائیں گے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا:
’’اگر میں نے اس جہاد (ہند) کو پا لیا تو میں اپنی تمام نئی اور پرانی ملکیت فروخت کر دوں گا (اور بیچ کر) ہندوستان سے جہاد کروں گا۔ سو جب اللہ ہمیں فتح دے دے گا اور ہم واپس آئیں گے تو میں (جہنم سے) آزاد ابو ہریرہ ہوں گا اور وہ (ابوہریرہ) شام آئے گا تو وہاں عیسیٰ ابن مریمؑ کو پائے گا چنانچہ میں (ابوہریرہ) ان (عیسیٰؑ) سے قریب ہونے کے لیے انتہائی بے قرار ہوں گا۔ میں ان کو خبر دوں گا کہ یا رسول اللہ (عیسیٰ ابن مریمؑ) میں آپ کے ساتھ شامل ہو گیا ہوں۔‘‘
راوی کہتے ہیں:
’’(حضرت ابو ہریرہؓ کی) اس بات پر نبی کریم ﷺ مسکرائے اور ہنسے پھر فرمایا بہت دور بہت دور۔‘‘4اس حدیث کو نعیم بن حمادؒ نے الفتن میں روایت کیا ہے۔
حدیث: ۶
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’یقیناً تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا اور اللہ ان مجاہدین کو فتح دے گا حتیٰ کہ وہ سندھ کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے، اللہ ان کی مغفرت فرما دے گا۔ پھر جب وہ واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریمؑ کو شام میں پائیں گے۔‘‘
ابو ہریرہؓ بولے :
’’اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنا نیا اور پرانا سب مال بیچ کر اس میں شرکت کروں گا، جب ہمیں اللہ تعالیٰ فتح دے گا تو ہم واپس آئیں گے تو میں ایک آزاد ابو ہریرہؓ ہوں گا جو شام میں آئے گا تو وہاں عیسیٰ ابن مریمؑ سے ملاقات کرے گا۔ یا رسول اللہ ﷺ اس وقت میری شدید خواہش ہو گی کہ میں ان کے قریب پہنچ کر بتاؤں کہ مجھے آپ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔‘‘
(راوی کہتا ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرائے۔5یہ حدیث اسحٰق بن راہویہ ؒ نے اپنی مسند میں نقل کی ہے۔ (مسند اسحٰق بن راھویہ، قسم اول۔ سوم:۱/۴۶۲ حدیث۵۳۷ )
حدیث:۷
حضرت کعبؓ فرماتے ہیں:
’’بیت المقدس کا ایک بادشاہ ہندوستان کی طرف ایک لشکر روانہ کرے گا۔ مجاہدین سر زمین ہند کو پامال کر ڈالیں گے، اس کے خزانوں پر قبضہ کر لیں گے، پھر بادشاہ ان خزانوں کو بیت المقدس کی تزئین و آرائش کے لیے استعمال کرے گا۔ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس بادشاہ کے روبرو پیش کرے گا۔ اس کے مجاہدین بادشاہ کے حکم سے مشرق و مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ فتح کر لیں گے۔ اور دجال کے خروج تک ہندوستان میں قیام کریں گے۔‘‘6اس حدیث کو نعیم بن حمادؒ نے الفتن میں روایت کیا ہے۔
حدیث:۸
کتاب الفتن میں نعیم بن حمادؒ ایک روایت بیان کرتے ہیں:
’’نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ ہندوستان کے خلاف جنگ کریں گے اللہ ان کو فتح عطا فرمائے گا چنانچہ ہندوستان کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرما دے گا پھر وہ شام کی طرف جائیں گے تو شام میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو پائیں گے۔‘‘
حدیث:۹
امام قرطبیؒ نے تذکرۃ میں حضرت حذیفہؓ بن الیمان سے طویل بحث نقل کی ہے جو یہاں سے شروع ہوتی ہے:
’’آنحضرت ﷺ نے فرمایا زمین کے اطراف میں خرابی اور بربادی نمودار ہو گی پھر آگے فرمایا سندھ ہندوستان کے ہاتھوں برباد ہو گا اور ہندوستان کی خرابی اور بربادی چین کے ہاتھوں سے ہو گی۔‘‘
غزوۂ ہند کی وجہ تسمیہ
غزوۂ ہند سے متعلق احادیث کے بیان کے بعد یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہندوستان میں شرعی بنیادوں پر کیے جانے والے جہاد کو غزوہ کیوں کہا جاتا ہے جبکہ دیگر مقامات پر شرعی تقاضوں کے مطابق ہی لڑی جانے والی جنگوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ غزوہ کی اصطلاح شرعی طور پر عموماً ان جنگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن میں نبی کریم ﷺ نے خود شرکت کی ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ غزوات جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی ہو انہیں ’’غزوات موعودہ‘‘ کہا جاتا ہے اور علماء انہیں غزوات کے ہی نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد تابعین اور ان کے بعد کے زمانے میں مسلمان ایسی جنگوں میں شرکت کے لیے بے تاب رہتے تھے جو نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئیوں کا مصداق ہوں تاکہ وہ بھی نبی کریم ﷺ کی بشارتوں میں سے حصہ پالیں۔ تاہم ان غزوات موعودہ کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی بشارتوں کے پیش نظر صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں بھی ان غزوات میں شرکت کی شدید خواہش کا اظہار کرتے تھے۔ اس بات کا اندازہ مندرجہ ذیل حدیث سے لگایا جا سکتا ہے جسے امام نسائی نے اپنی کتاب سنن المجتبیٰ اور السنن الکبریٰ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا:
’’نبی کریم ﷺ نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا (آگے ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ) اگر مجھے اس میں شرکت کا موقع مل گیا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کر دوں گا۔ اگر قتل ہو گیا تو میں افضل ترین شہداء میں شمار ہوں گا اور اگر واپس لوٹ آیا تو جہنم سے آزاد ابو ہریرہ ؓ ہوں گا۔ ‘‘
حضرت ابو ہریرہؓ کی غزوۂ ہند میں شرکت کی خواہش کی وجہ وہ بشارت تھی جو نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے بیان کی تھی اور جسے حضرت ثوبانؓ ( نبی کریم ﷺ کے ایک آزاد کردہ غلام اور صحابی) نے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
’’میری امت کی دو جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے محفوظ فرمایا ہے۔ ایک وہ جماعت جو ہندوستان سے جہاد کرے گی دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گی۔‘‘7یہ روایت سنن نسائی کتاب الجہاد میں مسند امام احمد میں موجود ہے۔
غزوۂ ہند کی تعریف
اوپر بیان کردہ احادیث، اور تاریخی و جغرافیائی حقائق کی روشنی میں اب ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں غزوۂ ہند سے کیا مراد ہے۔ غزوۂ ہند کو سمجھنے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کیا ہندوستان میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان لڑی جانے والی ہر جنگ ہی غزوۂ ہند ہے؟ اس سوال کا پہلا جواب تو علماء نے یہ دیا ہے کہ غزوۂ ہند سے مراد وہ مخصوص جنگ ہے جو آخر الزمان میں بیت المقدس کے بادشاہ کے حکم پر ایک لشکر ہندوستان کے خلاف لڑے گا۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ لشکر خراسان سے نکلے گا۔ یہ لشکر نہ صرف اپنی جنگ میں فتح یاب ہو گا بلکہ ہندوستان (موجودہ انڈیا و پاکستان) کے حکمرانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے۔ اور یہی لشکر جب شام پہنچے گا تو وہاں عیسیٰؑ کو پائے گا۔ غزوۂ ہند کے تعین کے سوال کا دوسرا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ ہندوستان میں اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کی جانے والی ہر جنگ غزوۂ ہند ہی ہے اور اس کے ہر لشکر کے لیے وہی بشارت ہے جو احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدقِ دل اور اخلاصِ نیت کے ساتھ ہندوستان پر حملہ آور ہر مسلمان لشکر کو کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری غزوۂ ہند کی اس تعریف کے مطابق ان شاء اللہ ان بشارتوں کے مستحق ہیں۔
یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا اہم ہے کہ ہوسِ ملک گیری، لوٹ مار، قتل و غارت، قومی و وطنی تعصب کے لیے لڑی جانے والی جنگیں تو جہاد بھی کہلانے کی مستحق نہیں چہ جائیکہ انہیں غزوۂ ہند کہا جائے۔
غزوۂ ہند اور نبوی بشارتیں
غزوۂ ہند کے حوالے سے احادیث نبوی میں بیان کردہ بشارتوں کو ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
غزوۂ ہند لڑنے والے لشکر کو دوزخ سے نجات کی بشارت ہے جو سب سے بڑی کامیابی ہے۔
غزوۂ ہند لڑنے والے لشکر کو فتح نصیب ہو گی۔ پس اعلائے کلمۃ اللہ کی نیت سے شرعی تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر ہندوستان (موجودہ پاکستان و انڈیا) کے خلاف جنگ کرنے والے لشکر کے لیے فتح کی بشارت ہے۔
سندھ و ہند (موجودہ پاکستان و انڈیا) کے حکمران مجاہدین کے ہاتھوں گرفتار ہوں گے جس سے مسلمانوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔
غزوۂ ہند کا لشکر جب شام پہنچے گا تو حضرت عیسیٰؑ سے ملاقات کرے گا۔8یہ بحث آگے کی گئی ہے کہ کیا یہ دور آخری دور ہے اور کیا اس دور میں ہندوستان کے خلاف لڑی جانے والی جنگیں وہی غزوۂ ہند ہے جس کے آخر میں یہ لشکر حضرت عیسٰیؑ سے ملاقات کرے گا۔
عصر حاضر اور غزوۂ ہند
غزوۂ ہند کو بعض اوقات موجودہ انڈیا کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں پر منطبق کیا جاتا ہے حالانکہ تاریخی طور پر موجودہ پاکستان بھی ہندوستان کا مشرقی حصہ ہے خصوصاً دریائے سندھ کے مشرق کی طرف کے علاقے جن میں سندھ و پنجاب کے اکثر علاقے شامل ہیں انہیں تو کسی صورت بھی ہندوستان سے الگ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی کو اس بارے میں ابہام ہو تو اوپر بیان کردہ دو احادیث میں صراحتاً ہند کے ساتھ سندھ کا بھی تذکرہ ہے۔ اگرچہ سندھ کی حیثیت ہندوستان سے الگ نہیں اور اسے ہندوستان کا مغربی دروازہ یا مغربی ہندوستان کہا جا سکتا ہے لیکن اگر حدیث کے ظاہری الفاظ پر غور کرتے ہوئے سندھ اور ہند کو الگ الگ بھی سمجھا جائے تو بھی زمانۂ قدیم میں سندھ کی اصطلاح دریائے سندھ سے متصل علاقوں پر بولی جاتی تھی اور جس میں موجودہ پاکستان کا اکثر علاقہ شامل ہے۔ صرف مثال کے لیے یہ سوچا جا سکتا ہے کہ محمد بن قاسم کے حملوں کو سندھ پر ہی حملہ کہا جاتا ہے حالانکہ محمد بن قاسم کی فتوحات میں ملتان تک کا علاقہ شامل تھا۔
غزوۂ ہند کو موجودہ انڈیا تک محدود کرنے کی ایک وجہ پاکستانی فوج اور اس سے منسلک جہادی تنظیموں کی وہ مخصوص ذہنی ساخت بھی ہے جس میں پاکستان کو ایک اسلامی ریاست سمجھتے ہوئے انڈیا اور کشمیر پر حملے کی بات کی جاتی ہے۔ مجاہدین اپنے جذبۂ ایمانی اور شوقِ شہادت میں انڈیا پر حملے کو غزوۂ ہند سے جوڑتے ہیں اور حکومتِ پاکستان، فوج اور ایجنسیاں اپنی پالیسی کے تسلسل کے طور پر ان اصطلاحات کو مخلص و جذباتی مجاہدین کو استعمال کرنے کے ایک حربے اور پاکستان کے مسلمان عوام کے سامنے اپنی دینی شناخت کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پاکستان تاریخی، منطقی و شرعی کسی بھی اعتبار سے ہندوستان سے الگ نہیں ہے۔ آج پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے شرعی حدود و قیود کی پابندی کرتے ہوئے کیا جانے والا تمام تر جہاد غزوۂ ہند ہی ہے۔ پاکستان تاریخی و جغرافیائی طور پر تو ہندوستان کا حصہ رہا ہی ہے لیکن اپنے نظامِ مملکت و قانون کے اعتبار سے بھی ایک سیکولر ملک سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ پاکستانی نظامِ حکومت اور پاکستان میں موجود تنازعات اور انتشار کے تناظر میں پاکستان میں جہاد کے شرعی جواز کی بحث آگے اپنے مقام پر آئے گی لیکن یہاں سرِ دست صرف اتنا کہنا مقصود ہے کہ جہاد پاکستان نہ صرف غزوۂ ہند کی تمہید ہے بلکہ اس کا حصہ ہی ہے۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جس طرح پاکستان کی طرف سے آنکھیں بند کر کے انڈیا کے خلاف کی جانے والی کوششیں ایک غیر مناسب طرزِ عمل کا اظہار ہیں وہیں جہادِ پاکستان کے علم برداروں کا انڈیا کی طرف سے آنکھیں بند رکھنا اور اپنی منصوبہ بندی میں مکمل ہندوستان کا شامل نہ کرنا جہاد اور خصوصاً غزوۂ ہند کے ناقص فہم کی دلیل ہے۔
غزوۂ ہند کی تاریخ
غزوۂ ہند تاریخِ اسلامی کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جس کا آغاز خلفائے راشدین کے دور میں ہی ہو گیا تھا۔ اگرچہ ہندوستان میں اسلام کی آمد نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہی ہو چکی تھی اور جنوبی ہند میں مسلمانوں کی تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں اور کئی مقامی باشندے اسلام قبول کر چکے تھے لیکن غزوۂ ہند کے لیے ہندوستان کی سرزمین کی طرف پہلا لشکر حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں روانہ کیا گیا جس نے مکران فتح کیا۔ اس کے بعد امیر معاویہ کے زمانے میں ایران کی طرف سے اسلامی لشکروں نے مشرقی ہندوستان کی طرف یلغار کی اور ملتان پر حملہ آور ہوئے۔ محمد بن قاسم نے غزوۂ ہند کے تسلسل میں سندھ پر حملہ کیا اور سندھ کو اسلامی خلافت کا ایک حصہ بنا دیا۔ ۱۰۰۰ء میں محمود غزنوی نے ہندوستان پر اپنا پہلا حملہ کیا اور اس کے بعد پے در پے حملوں سے ایک اسلامی حکومت کی بنیاد رکھ دی۔ غزنوی حکومت کے بعد شہاب الدین غوری نے اس سابقہ حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد اس حکومت کو ہندوستان میں مزید پھیلا دیا۔ غوریوں کے بعد خاندان غلاماں اور ان کے بعد پہلے خلجی خاندان، تغلق خاندان، سادات خاندان ، لودھی خاندان اور اس کے بعد مغلوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کو عروج بخشا۔ ان میں سے جن جن بادشاہوں نے ہندوستان میں اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کوشش کی اور شرعی بنیادوں پر اپنا نظام حکومت استوار کیا انہوں نے ان شاء اللہ غزوۂ ہند کرنے والے لشکروں کے لیے احادیث میں موجود بشارتوں میں سے اپنا حصہ پایا۔
غزوۂ ہند کی اہمیت
یوں تو جہاد خود ایک ایسی عبادت ہے جس کے اجر و ثواب کا کوئی اندازہ ممکن نہیں، لیکن غزوۂ ہند کی خصوصی اہمیت کی بعض مخصوص وجوہات ہیں۔ اول تو وہ مخصوص بشارتیں ہیں جو غزوۂ ہند کے ساتھ مخصوص ہیں۔ دوم یہ کہ غزوۂ ہند سے متعلقہ علاقے یعنی ہندوستان میں آدھی امت مسلمہ رہتی ہے لہٰذا غزوۂ ہند کی صورت میں آدھی امت مسلمہ کو بندوں کے بنائے ہوئے نظاموں کی غلامی سے نکال کر اللہ رب العزت کی غلامی میں لایا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں امت کا وہ حصہ آباد ہے جسے اللہ نے جسمانی و ذہنی صلاحیتوں سے مالامال کیا ہے لیکن طاغوتی نظاموں کے تحت رہتے ہوئے وہ یہود و ہنود کی خدمت کرنے پر مجبور ہیں۔ غزوۂ ہند کے نتیجے میں آدھی امت کفار کے شکنجے سے آزاد ہو کر ان شاء اللہ مشرق اور مغرب کی درمیانی جگہ کو فتح کر لیں گے۔
دور حاضر میں ہندوستان کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ عالمی نظام میں یہود کا اب نیا اور فطری حلیف ہندو ہی ہے۔ ہندو اسرائیل گٹھ جوڑ اب کسی سے پوشیدہ نہیں اور پاکستانی حکمران اب دستر خوان پر بچنے والے ٹکڑوں پر گزارا کرنے کے عادی بن چکے ہیں۔ غزوۂ ہند کے نتیجے میں جہاں مشرک ہندو کا قلع قمع ممکن ہے وہیں عالمی نظام کفر کو بھی کاری ضرب لگائی جا سکتی ہے۔
کیا یہ فتنوں کا دور ہے؟
غالباً یہ وہ اہم ترین سوال ہے جس کے جواب کے بغیر آگے کی ساری تحریر بے معنی ہے۔ یہ وہ کلمۃ سواء (نقطہ اشتراک ) ہے جس کی بنیاد پر مسلم امت کو اس تحریر میں مخاطب کیا گیا ہے۔ جو مسلمان اس دور میں دینِ اسلام کے احکامات کی صریح پامالی اور دنیا بھر میں نیو ورلڈ آرڈر کی صورت میں منصوبۂ یہود کی تنفیذ پر خوشی کے شادیانے بجاتا ہے اسے اس تحریر کو پڑھنے سے پہلے اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح جو شخص اس وقت مسلمان آبادی والے ممالک کی معاشرت کو ہی اسلامی معاشرت، جمہور مسلمانوں کی خواہشات کو اسلامی شریعت کا ہم معنی، اور مسلمان ممالک پر مسلط حکمرانوں کو ان کا اولی الامر سمجھتا ہے تو اس سے بھی ہم معذرت کریں گے۔ اس شخص کے لیے بھی اس تحریر میں کچھ نہیں ہے جو فتنے کی تعریف کو محض مہنگائی، بے روز گاری، غربت اور بیماری تک محدود سمجھتا ہے اور اس کے لیے امریکہ اور یورپ کی حکومتیں وہ مثالی حکومتیں ہیں جہاں تک پہنچنے کے وہ شخص خواب دیکھتا ہے اس کی عقل پر بھی ماتم ہی کر سکتے ہیں۔ غرض ہر وہ شخص جو دور حاضر کا تجزیہ شکم و شہوت کی آنکھ اور یہودی معیارات سے کرتا ہے اسے کسی اور تحریر کی ضرورت ہے۔ ہمارے مخاطب عموماً صرف وہ مسلمان ہیں جو دور حاضر کے فتنوں کو فرامین رسول ﷺ کی روشنی میں سمجھ رہے ہیں اور ان فتنوں کا حل بھی شرعی تعلیمات کی روشنی میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہمارے مخاطب خصوصاً وہ مسلمان ہیں جو فرامین رسول ﷺ کی روشنی میں اجمالاً اور اصولاً ہجرت و جہاد کی راہ کو پہچان چکے ہیں لیکن ان کے پاس تفصیلی لائحہ عمل نہیں اور دجالی سازشوں کی اندھیر نگری میں راستے کا سراغ نہیں مل رہا۔
اگرچہ ہمیں اس دور کے فتنوں کے دور ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں لیکن صرف تذ کیر و برکت کے لیے چند فرامین رسول ﷺ کو یہاں نقل کیا جاتا ہے جن میں دور حاضر کی تشریح نبی کریم ﷺ نے خود فرما دی ہے۔ مزید احادیث کو دیکھنے کے لیے مولانا یوسف لدھیانوی کے ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں‘‘ کے نام سے جمع کردہ مجموعۂ احادیث سے رجوع کر سکتے ہیں۔
حدیث :۱
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنےفرمایا:
’’اعمال صالحہ میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہو جائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے۔ (ان فتنوں کا اثر یہ ہو گا کہ) آدمی صبح ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا یا شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر اٹھے گا۔ اپنا دین و مذہب دنیا کے تھوڑے فائدے کے لیے بیچ ڈالے گا۔‘‘9مسلم ج ۱ ص ۱۱۰، صحیح ابن حبان ج ۱۵ ص ۹۶
حدیث : ۲
حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’تمہارے بعد ایسا دور ہو گا جس میں علم اٹھا لیا جائے گا اور فتنہ و فساد عام ہو گا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! فتنہ و فساد سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل۔‘‘10ترمذی شریف ص ۴۳ ج ۲
حدیث: ۳
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’آخری زمانے میں بہت سے جھوٹے مکار لوگ ہوں گے جو تمہارے سامنے (اسلام کے نام سے نئے نئے نظریات اور ) نئی نئی باتیں پیش کریں گے جو نہ کبھی تم نے سنی ہوں گی اور نہ کبھی تمہارے باپ دادا نے، ان سے بچنا! ان سے بچنا! کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔‘‘11یہ تمام احادیث مولانا یوسف لدھیانوی کے جمع کردہ مجموعہ احادیث ’’عصر حاضر حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینہ میں‘‘ سے نقل کی گئی ہیں۔
آخری دور سے کیا مراد ہے؟
زمانۂ حال کے فتنوں پر گہری نظر رکھنے والے اکثر علماء اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ احادیث میں بیان کردہ نشانیوں کی موجودہ حالات پر محتاط ترین بھی تطبیق کی جائے تو محسوس یہی ہوتا ہے کہ آخری دور بالکل نزدیک آ لگا ہے(واللہ اعلم)۔ یہ جملہ حالات سے پریشان عام مسلمانوں کی ذبانوں پر بھی عام ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخری زمانے سے ہماری کیا مراد ہے۔ یوں تو نبی کریم ﷺ کے فرمان کی روشنی میں نبی کریم ﷺ کی بعثت ہی آخری زمانہ آنے کی دلیل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی آمد اور قیامت میں اتنا ہی فاصلہ بیان کیا جتنا ہاتھ کی دو متصل انگلیوں کے درمیان ہے۔ گویا یہ دور ایک ہی تسلسل میں چلا جا رہا ہے جس کے آخر میں قیامت ہے۔ دنیا میں پیش آنے والے حالات و واقعات اس دور کے نشیب و فراز ہیں۔ اس کی مثال یوں بھی سمجھی جا سکتی ہے جیسے ایک ٹرین ایک طویل فاصلے کو طے کرنے کے لیے ایک راستے پر چلی اور مختلف اسٹیشنوں سے گزرتی ہوئی منزل سے پہلے آخری اسٹیشن پر پہنچی اور اب یہاں سے روانہ ہو کر منزل کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔ اب راستے میں کوئی دوسرا اسٹیشن نہیں جہاں یہ ٹرین رکے البتہ اس راستے میں بھی مختلف مناظر سامنے آئیں گے اور منزل تک پہنچنے میں کچھ وقت بھی لگے گا۔ راستے سے واقف مسافر ان مناظر اور نشانیوں کو دیکھتے رہتے ہیں اور جب وہ نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں جن سے منزل کے قریب پہنچنے کا یقین ہونے لگے تو سامان سمیٹنا شروع کرتے ہیں اور منزل کے لیے مستعد ہو جاتے ہیں۔ ہماری مراد بھی یہاں یہی کہ اب نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی جو تشریحات اور تطبیقات جید علمائے کرام نے کی ہیں ان کی روشنی میں سامان سمیٹنے کا وقت آگیا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ علاماتِ قیامت کی تین قسمیں ہیں۔
علامات بعیدہ : جو نبی کریم ﷺ کے زمانے یا اس سے قریب کے زمانے میں گزر چکی ہیں۔
علامات متوسطہ: جو ظاہر ہو گئی ہیں لیکن اپنی انتہا کو نہیں پہنچیں اور ان کے انتہا پر پہنچنے پر تیسری قسم کی علامات ظاہر ہوں گی۔
علامات قریبہ: یہ علامات بالکل قیامت کے قریب کی ہیں اور ایک دوسرے کے بعد پے در پے ظاہر ہوں گی۔ یہ علامات کل دس ہیں اور جن کے اختتام پر کسی بھی وقت قیامت آ جائے گی۔ اور ان دس علامات میں سے پہلی علامت امام مہدی کا ظہور ہے۔ ہم نے اس تحریر میں آخری وقت یا آخری زمانے سے مراد ان ہی دس علامات کے ظاہر ہونے کے وقت کو لیا ہے۔ ان تمام علامات کی تفصیل کو جاننے کے لیے ہم دوبارہ مولانا عاصم عمر اور مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی تحریروں کو پڑھنے کا مشورہ دیں گے۔
کیا یہ آخری دور ہے؟
لیکن ہمارا مقصود اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ علامات متوسطہ کے اختتام کا وقت آ لگا ہے اور علامات قریبہ کا آغاز کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔ علامات متوسطہ یوں تو بے شمار احادیث میں متفرق طور پر بیان کی گئی ہیں لیکن اختصار کے لیے ہم یہاں صرف ایک حدیث بیان کرتے ہیں جس میں مختلف احادیث میں متفرق طور پر بیان کردہ تقریباً تمام علامات کو یکجا بیان کیا گیا ہے۔
حدیث
حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’بہتّر چیزیں قرب قیامت کی علامات ہیں جب تم دیکھو کہ:
لوگ نمازیں غارت کرنے لگے۔
امانت ضائع کرنے لگے۔
سود کھانے لگے۔
جھوٹ کو حلال سمجھنے لگے۔
معمولی بات پر خون ریزی کرنے لگے۔
اونچی اونچی عمارتیں بنانے لگے۔
دین بیچ کر دنیا سمیٹنے لگے۔
قطع رحمی یعنی رشتہ داروں سے بد سلوکی ہونے لگے۔
انصاف کمزور ہو جائے۔
جھوٹ سچ بن جائے۔
لباس ریشم کا ہو جائے۔
ظلم،
طلاق ،
اور ناگہانی موت عام ہو جائے۔
خیانت کار کو امین اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے۔
جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے۔
تہمت تراشی عام ہو جائے۔
بارش کے باوجود گرمی ہو۔
اولاد غم و غصہ کا موجب ہو۔
کمینوں کے ٹھاٹھ ہوں۔
شریفوں کا ناک میں دم آجائے۔
امیر و وزیر جھوٹ کے عادی بن جائیں۔
امین خیانت کرنے لگیں۔
سردار ظلم پیشہ ہوں۔
عالم اور قاری بد کار ہوں۔
جب لوگ بھیڑ کی کھال (پوستین) پہننے لگیں۔
ان کے دل مردار سے زیادہ بدبو دار اور ایلوے سے زیادہ تلخ ہوں۔
(جب) سونا عام ہوجائے۔
چاندی کی مانگ ہوگی۔
گناہ زیاہ ہو جائیں گے۔
امن کم ہو جائے گا۔
مصاحف (قرآن) کو آراستہ کیا جائے گا۔
مساجد میں نقش و نگار کیے جائیں گے۔
اونچے اونچے مینار بنائیں جائیں گے۔
دل ویران ہوں گے۔
شرابیں پی جائیں گی۔
شرعی سزاؤں کو معطل کردیا جائے گا۔
لونڈی اپنے آقا کو جنے گی۔
جو لوگ (کسی زمانے میں ) برہنہ پا اور ننگے بدن رہا کرتے تھے وہ بادشاہ بن بیٹھیں گے۔
زندگی کی دوڑ میں اور تجارت میں عورت مرد کے ساتھ شریک ہو جائے گی۔
مرد عورتوں کی اور عورتیں مرد وں کی نقّالی کرنے لگیں گی۔
غیر اللہ کی قسمیں کھائی جائیں گی۔
مسلمان بھی بغیر کہے (جھوٹی) گواہی دینے کو تیار ہو گا۔
جان پہچان پر سلام کیا جائے گا۔
غیر دین کے لیے شرعی قانون پڑھایا جائے گا۔
آخرت کے عمل سے دنیا کمائی جائے گی۔
غنیمت کو دولت، امانت کو غنیمت کا مال اور زکوٰۃ کو تاوان قرار دے دیا جائے گا۔
سب سے رذیل آدمی قوم کا قائد بن بیٹھے گا۔
آدمی اپنے باپ کا نافرمان ہو گا۔
ماں سے بدسلوکی کرے گا۔
دوست کو نقصان پہنچانے سے گریز نہ کرے گا۔
اور بیوی کی اطاعت کرے گا۔
بدکاروں کی آوازیں مسجد وں میں بلند ہونے لگیں گی۔
گانے والی عورتیں داشتہ رکھی جائیں گی۔
اور گانے کا سامان رکھا جائے گا۔
سر راہ شرابیں اڑائی جائیں گی۔
ظلم کو فخر سمجھا جائے گا۔
انصاف بکنے لگے گا۔
پولیس کی کثرت ہو جائے گی۔
قرآ ن کو نغمہ سرائی کا ذریعہ بنا لیا جائے گا۔
درندوں کی کھال کے موزے بنائے جائیں گے۔
اور امت کا پچھلا حصہ پہلے لوگوں کو لعن طعن کرنے لگے گا۔
اس وقت سرخ آندھی،
زمین میں دھنس جانے،
شکلیں بگڑ جانے،
اور آسمان سے پتھر برسنے جیسے عذابوں کا انتظار کیا جائے۔‘‘12درمنثور ص ۵۲ ج ۶
اس حدیث کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات پر غور کیا جائے کہ کیا ان علامات میں سے چند، نصف، اکثر یا تقریباً تمام تر نشانیاں پوری ہو چکی ہیں ؟ جواب یقیناً یہی ہو گا کہ چند ایک نشانیاں جو دراصل نشانیوں کے بجائے عذاب ہیں ، کے علاوہ تمام تر نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔
علامات قیامت کی بے شمار نشانیوں میں اجمال ہے لیکن امام مہدیؓ کے ظہور اور اس سے متصل ما قبل اور ما بعد نشانیاں ایسی ہوں گی جن کے بعد آنے والے حالات کے تسلسل میں کوئی اشتباہ نہیں اور ان کی تفصیل احادیث نبوی میں تفصیلا ً دستیاب ہے۔ اس حوالے سے مولانا عاصم عمر کی مشہور کتاب ’’تیسری جنگ عظیم اور دجال‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
اگر آخری دو ر واقعی قریب آ لگا ہے تو؟
اگرچہ امام مہدیؓ کا ظہور ابھی تک نہیں ہوا ہے اور جب تک یہ واقعہ ظہور پذیر نہ ہو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ آنے والے واقعات کے وقوع میں کتنا عرصہ لگے گا لیکن ایک نظر ، یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ امام مہدی کے ظہور اور اس کے ما بعد متصل واقعات کی نوعیت کیا ہے تاکہ اگر امکانی طور پر بھی امام مہدی کے ظہور کا وقت قریب آ لگا ہے تو اس کے لیے امت کے عوام اور خصوصاً مجاہدین کو کس قدر زبردست تیاری کی ضرورت ہے۔ مختصراً یہ واقعات محترم مفتی ابولبابہ شاہ منصور مدظلہ کے الفاظ میں یوں ہیں:
’’واقعات کی ترتیب کچھ اس طرح بنتی ہے کہ پہلے حضرت مہدیؓ کا ظہور ہو گا پھر دجال کا خروج ہو گا اور پھر اس فتنہ عظیم کے خاتمے کے لیے حضرت مسیح آسمان سے اتریں گے۔‘‘
پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ امام مہدیؓ کے ظہور کے بعد کتنے مختصر وقت میں کتنے بڑے واقعات رونما ہوں گے اور اس وقت پہلے سے تیاری نہ کر سکنے والے کس انجام سے دو چار ہو سکتے ہیں۔
مفتی ابولبابہ شاہ منصور مد ظلہ کے الفاظ میں:
’’حضرت امام مہدی اپنے ظہور کے بعد (جو چالیس سال کی عمر کے لگ بھگ ہو گا) سات سال تک دنیا کی تین بڑی کفریہ طاقتوں (ہندو، عیسائی اور یہودی) میں سے دو کے خلاف جہاد فرمائیں گے۔ ہندوؤں اور عیسائیوں کے خلاف شاندار فتح حاصل کریں گے۔ اب پیچھے صرف یہودی رہ جائیں گے۔ آٹھویں سال دجال ظاہر ہو گا اور مسلمانوں کی قلت اور عیسائیوں کی شکست سے فتنۂ یہود عروج پر پہنچ جائے گاجو در حقیقت شیطانی طاقتوں کا فتنہ ہے۔ اسی سال حضرت عیسیٰ ؑنزول فرمائیں گے۔ نواں سال دجال کے قتل اور شر کے گھر اسرائیل کے خاتمے کے بعد مستحکم ترین عالمی اسلامی خلافت کے قیام اور استحکام کا ہو گا۔ ۴۹سال کی عمر میں حضرت مہدی انتقال کر جائیں گے۔ حضرت عیسیٰؑ ان کی نماز جنازہ پڑھ کر بیت المقدس میں ان کو دفن فرمائیں گے اس کے بعد حضرت عیسیٰؑ ۳۸ سال تک زمین پر رہیں گے۔ اس طرح حضرت مہدی ظہور کے بعد زمین پر کل ۹ سال رہیں گے۔ حضرت عیسیٰؑ سے پہلے حضرت مہدی سات سال اور وفات مہدی کے بعد حضرت عیسیٰؑ اڑتیس سال دنیا میں رہیں گے۔ بیچ کے دو سال دونوں قائدین اکٹھے گزاریں گے۔‘‘
یہ بھی ذہن میں رہے کہ امام مہدیؓ کے ظہور سے پہلے سے ہی دجالی فتنہ قائم ہو چکا ہو گا (جو دراصل قائم ہو ہی چکا ہے) گویا دجال کے آنے سے قبل کا بھی سارا دور دجالی فتنوں کا دور ہو گا اور اگر مفتی ابو لبابہ کے الفاظ پر ہی غور کیا جائے (جو یقیناً انہوں نے کسی دلیل کے بغیر نہیں کہے) کہ ’’مسلمانوں کی قلت (ایک ارب سے زائد کلمہ گو افراد کے ہوتے ہوئے) اور عیسائیوں کی شکست سے فتنہ یہود عروج پر پہنچ جائے گا۔‘‘
یہاں پہنچ کر دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔
سوال ۱: کیا ایک ارب سے زیادہ مسلمان اس وقت مر جائیں گے؟ زمین میں دفن ہو جائیں گے؟ ہوا میں تحلیل ہو جائیں گے؟ یا وہ صرف شناختی کارڈ میں مسلمان لکھے جائیں گے جبکہ اللہ کے یہاں وہ مسلمانوں کی فہرست سے خارج ہو چکے ہوں گے؟
سوال ۲: ہندوؤں اور عیسائیوں پر حاصل ہونے والی فتح جمہوری انتخابات کے ذریعے حاصل ہو گی؟ یا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے حاصل ہو گی؟ یا جہاد (قتال) فی سبیل اللہ کے ذریعے حاصل ہو گی؟
پہلے سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے اوپر بیان کردہ حدیث (۱) کو دوبارہ پڑھ لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مسلمان کہلانے والے ممالک میں رائج نظام حکومت، عدالت و تجارت وغیرہ مسلمانوں کو صبح شام کفریہ اعمال پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہاں مقصد صرف اس فتنے کی طرف اشارہ کرنا ہے جس نے امت مسلمہ کو اس طرح جکڑ لیا ہے کہ اب ہجرت و جہاد کی راہ میں نکلے بغیر اپنے ایمان کو بچانا ناممکن ہو چکا ہے (الّا من رحم ربّی)۔
رہا دوسرا سوال تو ترقی پسندوں کی ترقی، روشن خیالوں کی روشن خیالی، دولت مندوں کی دولت جو کام نہیں کر سکتی وہ کام پس ماندہ، قدامت پسند، بنیاد پرست اور فقیر طالبان نے آج بھی کر دکھایا ہے۔ ہندوؤں کی طاقت تو کسی صورت بھی امریکہ سے زیادہ نہیں ہے اور رہا آنے والے وقتوں میں سرزمین شام میں ۸۰ ملکوں کے اتحاد کا تو ۴۴ ملکوں کی ریہرسل تو اللہ تعالیٰ نے کروا ہی دی ہے ان شاء اللہ اب عرب انصار کے ساتھ طالبان مہاجرین اس تجربے کو اللہ کی مدد کے ساتھ ۸۰ ملکوں پر دوبارہ دہرائیں گے۔
اس موضوع پر آخری سوال یہ ہے کہ جو لوگ پہلے سے میدان جہاد میں موجود نہ ہوں اور امام مہدیؓ کے ظہور کے بعد جو لوگ جہاد کا ارادہ باندھیں گے وہ کس وقت تیاری کریں گے؟ ٹریننگ سے کب گزریں گے؟ میدان جہاد کی مشقتوں کے کب عادی ہوں گے؟ اور اتنی پر زور جنگوں میں ان لوگوں کو ٹریننگ کون کروائے گا؟ اور ایسے ناتجربہ کار لوگوں کو کون سا کمانڈر اپنے ساتھ محاذ پر لے جانا پسند کرے گا؟
اس سوال کا سچا جواب بھی قرآن میں ہی موجود ہے جہاں منافقین کے بارے میں یہ فرمایا گیا کہ ان کا نکلنے کا ارادہ ہی نہیں تھا ورنہ وہ تیاری ضرور کرتے۔
اگر یہ آخری دور نہیں تو؟
ایک امکان یہ بہر حال موجود ہے کہ شاید ابھی آخری دور کے آغاز (یعنی امام مہدیؓ کے ظہور) میں زیادہ عرصہ مثلاً ۱۰۰ سال یا اس سے زیادہ ہو۔ اس صورت میں ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ موجودہ حالات کس طرف اشارہ کرتے ہیں۔ حالات پر گہری نظر رکھنے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ امام مہدیؓ کا جتنا انتظار ہمیں ہے اس سے کہیں زیادہ خود یہودیوں کو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوی پیشین گوئیوں کے پیش نظر تمام متوقع جنگ کے میدانوں میں یہودی ہم سے پہلے پہنچ چکے ہیں۔ امام مہدیؓ آئیں یا نہ آئیں یہودی تو جزیرۂ عرب میں داخل ہو چکے ہیں۔ عیسیٰؑ کا نزول ابھی بہت دور بھی ہو تو بیت المقدس تو یہودیوں کے قبضے میں جا چکا ہے۔ یمن سے امام مہدیؓ کی نصرت کا لشکر ابھی نکلے یا نہ نکلے امریکی ڈرون تو وہاں پہنچ چکے ہیں۔ خراسان سے ہندوستان کی فتح کے لیے لشکر نکلے یا نہ نکلے احمد آباد اور گجرات میں تو مسلمان بہنوں کی اجتماعی آبرو ریزی ہو رہی ہے۔ کانا دجال نکل کر لوگوں سے اپنی بندگی کروائے یا نہ کروائے ہر ملک کے کفریہ قانون کی اطاعت تو بہر حال واجب ہے (ورنہ لال مسجد کا انجام ذہن میں رکھیں )۔ عالمی یہودی حکومت قائم ہو یا نہ ہو یہودی عورت کے تحریر کردہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آگے تو اقوام عالم کی گردنیں جھکی ہوئی ہیں۔ ہمیں اگرچہ فرصت ہو لیکن یہودی بہت جلدی میں ہے اور مسجد اقصیٰ کے انہدام کو بالکل تیار بیٹھا ہے۔
مان لیتے ہیں یہ بات کہ امام مہدیؓ کا وقت ابھی دور ہے تو پھر؟ جہاد تو امام مہدیؓ آ کر کریں گے جب تک ہم جمہوریت جمہوریت کھیلیں؟ امارت اسلامیہ تو امام مہدیؓ قائم کریں گے جب تک اقوام متحدہ میں شامل رہیں؟ دجال کو تو حضرت عیسیٰؑ قتل کریں گے جب تک دجالی معیشت اور معاشرت کو ہی چلنے دیں؟
حقیقت یہ ہے کہ اگر امام مہدیؓ کی آمد میں کچھ تاخیر بھی ہو تو اس بات سے کسی بھی راسخ العقیدہ مسلمان کو انکار نہیں کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے۔ وہ تمام نشانیاں اس دور میں پائی جاتی ہیں جو اس دور کو فتنوں کا دور ثابت کرتے ہیں۔ لہٰذا آگے ہم فتنوں کے ادوار میں مسلمانوں کے لیے نبوی ہدایات جو احادیث کی صورت میں محفوظ ہیں مختصراً بیان کرتے ہیں۔
حدیث :
حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’فتنوں کے دور میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام، یا فرمایا، گھوڑے کی نکیل پکڑے اللہ کے دشمنوں کے پیچھے ہو، وہ اللہ کے دشمنوں کو خوفزدہ کرتا ہو اور وہ اس کو ڈراتے ہوں ، یا وہ شخص جو اپنی چراہ گاہ میں گوشہ نشین ہو جائے، اس پر جو اللہ کا حق ہے اس کو ادا کرتا ہو۔‘‘13المستدرک علی الصحیحین ج ۴ ص ۵۱۰
مولانا عاصم عمر اس حدیث کی تشریح اور دور حاضر پر اس کی تطبیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مذکورہ حدیث اور کئی دیگر احادیث میں یہ ذکر ہے کہ دجال کے فتنے سے دو قسم کے لوگ محفوظ رہیں گے۔ پہلی قسم مجاہدین جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کر رہے ہوں گے اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنے مال مویشی لے کر پہاڑوں اور بیابانوں میں چلے جائیں گے اور اللہ کی اطاعت کر رہے ہوں گے۔ دوسری قسم کے لوگ صرف اپنا ایمان بچانے کے لیے پہاڑوں میں چلے جائیں گے اور فتنوں کے دور میں ایمان بچانے کے لیے گھر بار چھوڑ دینا بھی اللہ رب العزّت کے نزدیک بہت فضیلت رکھتاہے۔ جبکہ مجاہدین صرف اپنے ایمان کی فکر نہیں کر رہے ہوں گے بلکہ وہ ساری امت کے ایمان کو بچانے کی خاطر اور دجال کے فتنے کا زور توڑنے کی خاطر دجال اور اس کے ایجنٹوں سے قتال کر رہے ہوں گے۔ اپنا گھر، وطن، ماں ، باپ، بیوی، بچے اور مال و دولت غرض سب کچھ امت کا ایمان بچانے کے لیے قربان کر رہے ہوں گے اس لیے زیادہ فضیلت مجاہدین کی ہی ہو گی۔‘‘14اس موضوع پر مزید احادیث ان کی تشریح و تطبیق کے لیے ہم دوبارہ مولانا عاصم عمر کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیں گے۔
خلاصۂ کلام
یہاں تک پہنچنے کے بعد ہم اپنی گزارشات کا مختصر جائزہ آپ کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔
دور حاضر کا بغور جائزہ لینے والے علمائے کرام تقریباً اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ آخری دور آ لگا ہے اور یقیناً اس دور میں امت کے ہر فرد کے پاس جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت اور اس کی اعداد یا پہاڑوں اور بیابانوں میں نکل جانے کے علاوہ اپنے ایمان کے تحفظ کا کوئی اور طریقہ نہیں۔ پس جسے اپنا ایمان عزیز ہو اسے لامحالہ ان دو راستوں میں سے ایک اختیار کرنا ہو گا۔
غزوۂ ہند کرنے والے لشکر کے لیے فتح اور جنت کی بشارت ہے۔
بالفرض یہ دور آخری دور نہیں بھی ہے تو اس کے فتنوں کا دور ہونے پر کسی کو اختلاف نہیں لہٰذا فتنوں کے دور میں بھی نبی کریم ﷺ کے فرمودات کی روشنی میں ایمان کا تحفظ مذکورہ بالا انہی دو طریقوں سے ممکن ہے۔
آخری یا تیسری صورت میں اگر کوئی فرد اس دور کو بحیثیت مجموعی فتنے کا دور نہیں سمجھتا تو اس کے باوجود بھی جہاد اس وقت اپنی تمام شرائط کے ساتھ ہر ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور کم از کم مسلمانوں کی زمین پر حملہ آور کافر کو مار بھگانے، مسلمانوں کی ماضی قریب و بعید میں قبضہ کردہ زمین جو اب کافروں کے تسلط میں ہو اسے بازیاب کرانے، مسلمان ملکوں پر مسلط مرتد حکمرانوں سے نجات حاصل کر کے کسی راسخ العقیدہ حکمران کے تقرر کرنے، کفار کے قبضے میں موجود تمام مسلمان قیدیوں کی رہائی تک جہاد فرض عین رہے گا۔15ان احکامات کی تفصیل جاننے کے لیے شیخ عبداللہ عزام شہید رحمۃاللہ علیہ کی کتاب کا ترجمہ بعنوان ’’ایمان کے بعد اہم ترین فرض عین‘‘کا مطالعہ مفید رہے گا۔
دور حاضر میں کرنے کا کام
مذکورہ بالا پوری بحث کے بعد ایک مسلمان کے لیے کرنے کے دو ہی کام بچتے ہیں کہ یا تو اپنا ایمان بچانے کے لیے جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جائے اور یا مردانہ وار ہجرت اور جہاد کی راہ میں نکل کر فی سبیل اللہ قتال کی فضیلت حاصل کر لے اور اللہ کے فضل سے شہادت کا رتبہ عظیم پائے۔ آگے کی ساری تحریر ان ہی بلند ہمت جانباز مسلمانوں کے لیے لکھی گئی ہے جو اس دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے میدان عمل میں نکلنے کے لیے بے تاب ہیں اور اس معاملے میں رہنمائی کے خواہش مند ہیں۔
ہم خوش قسمتی سے دنیا کے اس خطے میں رہتے ہیں جہاں ایک طرف تو خطۂ خراسان ہے جہاں سے نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئیوں کے مطابق آخری دور کی عظیم جنگوں میں امام مہدیؓ کی نصرت کے لیے لشکر روانہ ہوں گے تو دوسری طرف اسی جگہ سے غزوۂ ہند (برصغیر) کے لشکر بھی ترتیب پائیں گے۔ خطۂ خراسان کے مسلمانوں نے تاریخی طور پر بھی اپنے کردار سے اپنے آپ کو اس منصب کا اہل ثابت کیا ہے۔ اب مسلمانانِ پاکستان کے پاس دو راستے بچتے ہیں۔ یا تو وہ امام مہدیؓ کی نصرت کے لیے شام کی طرف جانے والے لشکر کا حصہ بننے کے لیے کوششیں کریں اور اس کے لیے تیاری کریں لیکن اس میں یہ معاملہ درپیش ہے کہ اگر امام مہدیؓ کے ظہور میں کچھ وقت لگا تو اس وقت تک یہ افراد ایک فرض کے تارک رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرا معاملہ یہ بھی ہے کہ جب تک جنگ چھڑ نہ جائے کسی غیر عرب کا موجودہ صورتحال میں عرب خطوں میں جا کر اس نیت سے ٹھہرنا اتنا آسان بھی نہیں اور پاک و ہند و خراسانی مسلمانوں کی اکثریت کے لیے فی الحال یہ ممکن بھی نہیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ غزوۂ ہند کی تیاری کریں اور اس کے لیے ضروری تیاری کے بعد میدان عمل میں نکل آئیں۔ یہ معاملہ مسلمانان ہند (برصغیر کے مسلمانوں ) کے لیے پہلی صورت کے مقابلے میں زیادہ آسانی کے ساتھ قابل عمل ہے۔
مسلمانان بھارت و بنگلہ دیش کے لیے ان ممالک کے قیام کے وقت سے ہی جہاد یا اس کی اعداد کے فرض ہونے میں تو کوئی اشکال ممکن ہی نہیں لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلانے والے ملک کے لا دین اور غدار حکمرانوں نے اپنے دھوکے و دجل کی مدد سے ساٹھ سال سے زیادہ مسلمانانِ پاکستان کو غفلت میں رکھ کر اپنے اقتدار کو طول دیا ہے لیکن اس دور میں جب دنیا دو خیموں میں بٹتی جا رہی ہے تو لا دین حکمران کھل کر کفر کی صفوں میں فرنٹ لائن اتحادی کی صورت میں شامل ہو چکے ہیں یوں اب اہالیان پاکستان کے لیے بھی اس معاملے میں نہ کوئی عذر بچا ہے اور نہ کوئی اشکال۔ یوں پورے ہندوستان (برصغیر) میں دین اسلام کی برتری قائم کرنے اور شریعت کے نفاذ کے لیے ایک بھرپور جہاد کے آغاز کا یہ مناسب موقع ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب اللہ تعا لیٰ کے فضل و کرم سے افغانستان میں ۴۴ ملکوں کا کفریہ اتحاد شکست کھانے والا ہے16ڈاکٹر سربلند زبیر خان شہیدؒ نے یہ سطور ۲۰۱۱-۲۰۱۲ء میں لکھی تھیں۔ (ادارہ) تاریخی طور پر افغان حکمرانوں نے ہندوستان خصوصاً مغربی ہند (موجودہ پاکستان) کی تاریخ تبدیل کی ہے اور ہندوستان (برصغیر) میں مسلمانوں کی آمد کے بعد تاریخ کا ایک طویل عرصہ مغربی ہند پر افغان حکمرانوں نے ہی حکومت کی ہے۔ دوسری صورت میں اگر افغان حکومت اہالیان ہندوستان (برصغیر) کی مدد کے لیے فوری لشکر نہیں بھی نکال پاتی تو بھی مسلمانان ہندوستان پر جہاد فرض عین ہے جس کے لیے انہیں اپنے گھروں سے نکلنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ اہالیان ہندوستان اگر تھوڑی ہمت کا مظاہرہ کریں تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان کے مدد گار پیدا کر دے گا۔
پاکستان میں تو جہاد قائم ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان کے شہری علاقوں نے اس جہاد میں خاطر خواہ حصہ نہیں لیا ہے۔ دوسری طرف اہالیان پاکستان کی ذمہ داری اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت میں دبے ہوئے مسلمان براہ راست پاکستانی مسلمانوں کی مدد کے مستحق ہیں۔ قیام پاکستان کے موقع پر پاکستان میں شامل نہ ہونے والے علاقوں کے ہندوستانی مسلمانوں نے اکثر یہ سوچ کر پاکستان کا ساتھ دیا تھا کہ اگر ایک مضبوط مسلمان ملک قائم ہو گیا تو وہ ان کی بھی حفاظت کا ذمہ دار ہو گا۔ آج یہ ذمہ داری جو کسی بھی پاکستانی حکمران نے نہیں نبھائی پاکستانی مسلمانوں نے پوری کرنی ہے اور ان شاء اللہ صرف دہلی کے لال قلعے پر نہیں بلکہ کم از کم مشرق میں بنگال اور جنوب میں سری لنکا اور مالدیپ تک جبکہ شمال میں نیپال و بھوٹان کو ایک امارت اسلامی میں شامل کر کے ہر جگہ اسلام کا پرچم لہرانا ہے۔
غزوۂ ہند
اہالیان ہندوستان (برصغیر) کے لیے ایک خوشی کی خبر یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں جہاد کرتے ہوئے انہیں غزوۂ ہند کی وہ بشارتیں بھی حاصل ہوں گی (ان شاء اللہ) جو نبی کریم ﷺ کی احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ غزوۂ ہند کو غزوہ کیوں کہا جاتا ہے۔ علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جن جنگوں کی پیشین گوئی اور اس کے بارے میں بشارتیں نبی کریم ﷺ نے احادیث میں بیان کی ہیں وہ خواہ کسی بھی دور میں برپا ہوں وہ غزوہ ہی کہلائیں گی۔ پس اگر درست عقیدے کے ساتھ نبوی منہج پر اور شرعی مقصود کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو شخص بھی ہندوستان کی کسی بھی خطے میں کلمہ توحید بلند کرنے اور شریعت کی تنفیذ کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کے راستے کو اختیار کرے گا وہ ان شاء اللہ نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ بشارتوں کو پالے گا۔
غزوۂ ہند کا طریقہ
آگے کی ساری تحریر اسی ذیل میں لکھ گئی ہے کہ غزوۂ ہند کا بھرپور آغاز کس طرح کیا جائے اور اس کے لیے کیا منہج اختیار کیا جائے۔ یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ ہم جن مسلمانوں سے مخاطب ہیں انہوں نے صدیوں تک انگریز کی غلامی برداشت کی ہے اور پھر عرصہ دراز سے انگریز کے غلاموں کی غلامی برداشت کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف عالمی طاغوتی نظام نے مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کر کے، ذہنوں کو مرعوب کر کے، اور امت کے گلے میں مختلف نظاموں کے پھندے ڈال کر اسے بے بس کیا ہوا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے لیے کفر کی مادی طاقت کے رعب سے زیادہ مسئلہ ان کے ذہنی رعب کا ہے۔ دوسری طرف دھوکے اور دجل کا ایسا نظام ہے جس میں حق و باطل خلط ملط ہو گیا ہے۔ اگرچہ مجاہدین بالعموم کفار کی مرعوبیت سے آزاد ہیں لیکن یہ جنگ صرف چند مجاہدین کے لڑنے سے جیتنا مشکل ہے۔ آج افغان طالبان نے جہاں افغانستان میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے اس میں وہاں کے عوام طالبان کی کامیابیوں میں برابر کے شریک ہیں جنہوں نے طالبان کو برحق سمجھتے ہوئے ان کی دامے درمے سخنے ہر طرح سے مدد کی ہے۔ افغانستان میں برسر پیکا مجاہدین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی بھی جگہ اگر ان پر رات آ جائے تو ہر گاؤں کا ہر دروازہ ان کے لیے کھلا ہوتا ہے جو نہ صرف ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں بلکہ ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ دوسری طرفٖ کبھی غلامی میں مبتلا نہ ہونے کی وجہ سے افغانی عوام کا طرز فکر اور زاویہ نظر ہی ہندوستانی عوام سے مختلف ہے۔ ہندوستانی عوام کو کم از کم اس درجہ میں دعوت جہاد کے ساتھ یکسوئی اختیار کرنی ہو گی کہ وہ مجاہدین کی پشت پناہی کی ذمہ داری اٹھائیں۔ ان کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے سے نہ صرف یہ کہ متاثر نہ ہوں بلکہ اس کا بھرپور جواب بھی دیں۔ مجاہدین کی مادی ضروریات کو پورا کریں اور ضرورت پڑنے پر اپنی جان کے ساتھ بھی ان کی مدد کے لیے حاضر ہوں۔ اس سب کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مجاہدین کی دعوت اور منہج جہاد سے پوری طرح واقف اور اس کے ساتھ یکسو ہوں۔ اس کے لیے مجاہدین کے ساتھ ساتھ ان عوام کو بھی (جو دراصل مجاہدین کا ہی ایک حصہ ہیں ) حالات، نظام اور مسائل کے ساتھ ساتھ ان گمراہیوں اور دھوکے کو سمجھنا ہو گا جو اس سارے دجالی نظام کی بنیاد ہے۔ اس نظام کے کفر کو سمجھنا ہو گا۔ اس کے بعد انہیں مسلمانوں کی تاریخ کے ساتھ ان گمراہیوں کی تاریخ کو بھی دیکھنا ہو گا تاکہ اس میں چھپے دھوکے کو آشکار کیا جا سکے۔ دور حاضر میں معاشروں میں ہر سو پھیلے ہوئے فسادات، تنازعات ، انتشار اور اس کے پس منظر پر غور کرنا ہو گا۔ جہاد کو معاشروں میں شرعی اور منطقی بنیادیں فراہم کرنی ہوں گی۔ ان سب کے بعد ایک ایسی قوم جو ایک عرصہ سے غلامی کا شکار رہی ہے اور جہاد کا سبق بھول چکی ہے اسے جنگ کرنے کا ڈھنگ بھی سیکھنا ہو گا۔ انگریزی غلامی کے بعد جس طرح غیر مسلح معاشروں کی تشکیل کی گئی ہے اس میں عوام ہتھیار اٹھانا ہی بھول چکے ہیں اور کبھی اٹھانا پڑے تو شدید افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جنگ کے مختلف پہلو ، اس کے مختلف میدان اور معاشرے کے مختلف طبقوں کا جنگ میں کردار سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔
آگے کی ساری تحریر اور اس کے تسلسل میں لکھی جانے والی مزید تحریریں اسی ذیل میں کی جانے والی حقیر کوششیں ہیں۔ جو کچھ یہاں لکھا جا رہا ہے وہ حرف آخر نہیں بلکہ یہ ایک دعوت ہے تمام درد دل رکھنے والے مسلمانوں ، خصوصاً علمائے کرام کو کہ وہ غزوۂ ہند میں مسلمانان ہند کی قیادت کا منصب سنبھالیں اور اس کے ہر ہر موڑ پر ان کی شرعی رہنمائی کا کار عظیم سر انجام دیں۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
- 1اس حدیث کو امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد میں نقل کیا ہے۔
- 2یہ روایت سنن نسائی کتاب الجہاد میں مسند امام احمد میں موجود ہے۔
- 3اس حدیث کو نعیم بن حمادؒ نے الفتن میں روایت کیا ہے۔
- 4اس حدیث کو نعیم بن حمادؒ نے الفتن میں روایت کیا ہے۔
- 5یہ حدیث اسحٰق بن راہویہ ؒ نے اپنی مسند میں نقل کی ہے۔ (مسند اسحٰق بن راھویہ، قسم اول۔ سوم:۱/۴۶۲ حدیث۵۳۷ )
- 6اس حدیث کو نعیم بن حمادؒ نے الفتن میں روایت کیا ہے۔
- 7یہ روایت سنن نسائی کتاب الجہاد میں مسند امام احمد میں موجود ہے۔
- 8یہ بحث آگے کی گئی ہے کہ کیا یہ دور آخری دور ہے اور کیا اس دور میں ہندوستان کے خلاف لڑی جانے والی جنگیں وہی غزوۂ ہند ہے جس کے آخر میں یہ لشکر حضرت عیسٰیؑ سے ملاقات کرے گا۔
- 9مسلم ج ۱ ص ۱۱۰، صحیح ابن حبان ج ۱۵ ص ۹۶
- 10ترمذی شریف ص ۴۳ ج ۲
- 11یہ تمام احادیث مولانا یوسف لدھیانوی کے جمع کردہ مجموعہ احادیث ’’عصر حاضر حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینہ میں‘‘ سے نقل کی گئی ہیں۔
- 12درمنثور ص ۵۲ ج ۶
- 13المستدرک علی الصحیحین ج ۴ ص ۵۱۰
- 14اس موضوع پر مزید احادیث ان کی تشریح و تطبیق کے لیے ہم دوبارہ مولانا عاصم عمر کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیں گے۔
- 15ان احکامات کی تفصیل جاننے کے لیے شیخ عبداللہ عزام شہید رحمۃاللہ علیہ کی کتاب کا ترجمہ بعنوان ’’ایمان کے بعد اہم ترین فرض عین‘‘کا مطالعہ مفید رہے گا۔
- 16ڈاکٹر سربلند زبیر خان شہیدؒ نے یہ سطور ۲۰۱۱-۲۰۱۲ء میں لکھی تھیں۔ (ادارہ)









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



