قبلۂ اوّل سے خیانت کی داستان میں اب تک جن کرداروں کا ذکر ہوا وہ ایسے صلیبی صہیونی غلام تھے جن کے چہروں سے نقاب اتر چکا ہے اور ان کے مکروہ چہرے ساری دنیا کے سامنے واضح ہو چکے ہیں۔ لیکن امت مسلمہ پر مسلط طاغوتی حکمرانوں کی اکثریت اب بھی اپنے چہروں پر مختلف نقاب سجائے بیٹھی ہے اور اپنی اصلیت اپنی مکاری اور چرب زبانی اور اپنے عوام کی سادگی بلکہ اکثر کی عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے کھل کر سامنے نہیں آنے دیتے۔ ان میں کوئی خود کو حرمین شریفین کا خادم قرار دیتا ہے، کوئی اسلام کے قلعے کا محافظ، تو کوئی خلافتِ عثمانیہ کا وارث۔ کوئی خود کو عالم اسلام کی اسلامی تحریکات کا پشت پناہ ہونے کا تاثر دیتا ہے تو کوئی عالمِ اسلام کے تنازعات میں ثالثی کرنے کے لیے پیش پیش نظر آتا ہے۔ لیکن یہ سب درحقیقت اپنے مفادات کے پجاری ہیں اور انہی مفادات کی خاطر کبھی ایک در پہ ماتھا ٹیکتے ہیں تو کبھی دوسرے پہ، لیکن اپنے چہرے پر سجے نقاب کبھی اترنے نہیں دیتے۔ یہ کھل کر اسرائیل کو تسلیم بھی نہیں کرتے اور اس کے خلاف وقتاً فوقتاً سیاسی بیان بازی بھی کرتے رہتے ہیں لیکن پس پردہ کبھی اسرائیل سے بگاڑنا بھی نہیں چاہتے اور اس سے تعلقات بھی قائم رکھتے ہیں اور موقع آنے پر فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسی اسرائیل کے، کبھی خفیہ اور کبھی کھل کر، دست و بازو بننے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منافقین بھی ان خائنین کے ساتھ قبلہ اوّل سے خیانت میں برابر کے شریک ہیں جن کے چہروں سے نقاب اتر چکا ہے۔ انہیں میں سے ایک عمان کا حکمران خاندان بھی ہے۔
پس منظر
سلطنتِ عمان عالمِ عرب کی سب سے قدیم آزاد سلطنت ہے اور ۱۷۴۴ء سے ایک ہی خاندان آل بو سعید اس پر حکومت کرتا چلا آ رہا ہے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں سلطنت برطانیہ نے سلطنتِ عمان کے ساتھ معاہدے شروع کیے جن کا مقصد عمان میں اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کو فروغ دینا تھا، بدلے میں ان معاہدوں میں سلطنتِ عمان کو عسکری تحفظ دینے کا وعدہ کیا گیا۔ حالانکہ اس دور میں سلطنتِ عمان خطے میں ایک بڑی بحری طاقت تھی اور آنے والے وقتوں نے بھی ثابت کیا کہ ان معاہدوں میں جس عسکری تحفظ کا وعدہ کیا گیا تھا وہ معاہدے کی رو سے تو سلطنتِ برطانیہ کی جانب سے سلطنت عمان کو فراہم کیا جانا تھا لیکن عملی طور پر یہ الٹ ہی رہا اور خطے میں سلطنتِ عمان ہی سلطنت برطانیہ کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی، یہاں تک کہ برطانیہ نے اسے معاشی طور پر نچوڑ کر بہت کمزور کر دیا اور پھر وہ واقعی اپنے تحفظ کے لیے سلطنتِ برطانیہ کی محتاج ہو گئی۔1The Oman Question: The Background to the Political Geography of South-East Arabia by J. C. Wilkinson
ان میں سب سے پہلا معاہدہ ۱۷۹۸ میں ہوا جس میں سلطنتِ عمان کی جانب سے معاہدے پر دستخط سعید سلطان بن احمد نے کیے جو کہ اس وقت سلطنتِ عمان کا حکمران تھا جبکہ سلطنتِ برطانیہ کی جانب سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نمائندے مرزا مہدی علی خان نے کیے۔ اس معاہدے کے تحت سلطنتِ عمان برطانوی حریفوں فرانس اور ہالینڈ کے مقابلے میں برطانوی مفادات کا تحفظ کرے گی اور اپنی حدود میں ان حریفوں کو گھسنے کی اجازت نہیں دے گی اور ایسٹ انڈیا کمپنی بندر عباس2ایران کی بندرگاہ۔ جب سلطنتِ عمان ایک بحری طاقت تھی تو بندر عباس، گوادر اور مکران سمیت پاکستان اور ایران میں اب موجود یہ پوری ساحلی پٹی سلطنتِ عمان کے قبضے میں تھی۔ عمان نے بندر عباس کو ایران سے اجارے پر لے رکھا تھا۔ ۱۸۶۸ء میں ایران نے یہ بندرگاہ اجارے کا معاہدہ ختم کرتے ہوئے عمان سے واپس لے لی۔ مکران کی ساحلی پٹی ۱۹۵۵ء تک عمان کے تحت رہی اور ۱۹۵۵ء میں اسے پاکستان میں شامل کر دیا گیا جبکہ گوادر کی بندرگاہ کو ۸ ستمبر ۱۹۵۸ء کو پاکستان نے عمان سے تیس لاکھ امریکی ڈالر میں خریدا۔ پر ایک فیکٹری اور تجارتی پوسٹ بنائے گی جبکہ تاجِ برطانیہ کا ایک نمائندہ مستقل دار الحکومت مسقط میں مقیم رہے گا۔ بدلے میں سلطنت برطانیہ سلطنتِ عمان کی فرانسیسی پیش قدمی سے ’’حفاظت‘‘ کرے گی۔ بالفاظ دیگر تاجِ برطانیہ سلطنتِ عمان کو فرانس کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ کرنے سے ’’محفوظ‘‘ رکھے گا جو اس نے تاجِ برطانیہ سے کیا۔3History of the Imams and Seyyids of Oman by Salil ibn Razik
۱۸۵۴ء میں برطانیہ نے سلطنتِ عمان سے پانچ جزائر کا مطالبہ کیا جنہیں کوریا موریا کے جزائر یا جزائر حلانیات کہا جاتا ہے۔ عمان کے سلطان نے یہ جزائر ملکہ وکٹوریہ کو تحفے میں دے دیے، اس طرح یہ عمانی جزائر مکمل برطانوی ملکیت میں چلے گئے۔4A Collection of Treaties and Engagements – British National Archives
افریقہ کے جزائر زنجبار (Zanzibar) اس وقت تک سلطنتِ عمان کے تحت تھے اور عمان کے حکمران سعید بن سلطان نے ۱۸۳۰ء سے ۱۸۴۰ء کے عرصے میں سلطنتِ عمان کا سیاسی و معاشی مرکز جزائر زنجبار کو بنا دیا تھا، یہاں تک کہ سلطنتِ عمان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار جزائر زنجبار پر ہو گیا۔ ۱۸۵۶ء میں سلطان بن سعید کی وفات کے بعد حکومت کے معاملے میں اس کے دو بیٹوں ثوینی بن سعید اور ماجد بن سعید کے درمیان اختلاف شروع ہو گیا۔ ماجد بن سعید جزائر زنجبار میں مضبوط تھا جبکہ ثوینی بن سعید مرکزی عمان میں مضبوط تھا۔
سلطنتِ برطانیہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو ثالث کے طور پر پیش کر دیا۔ جس کے بعد ہند کے وائسرائے لارڈ چارلس کاننگ (Charles Canning) نے سلطنتِ عمان کے دو ٹکڑے کرتے ہوئے علیحدہ سلطنتِ زنجبار تشکیل دے دی جس کا سلطان ماجد بن سعید کو بنایا گیا۔5Family Strife and Foreign Intervention: Causes in the Separation of Zanzibar from Oman: A Reappraisal by M. Reda Bhacker
اس اقدام سے ایک طرف سلطنتِ عمان انتہائی کمزور ہو گئی اور وہ معاشی اور عسکری طور پر مکمل طور پر سلطنتِ برطانیہ کی محتاج بن گئی تو دوسری طرف سلطنتِ زنجبار پر برطانیہ کا اثرو رسوخ بڑھتا گیا اور اس کے قیام کے کچھ ہی سالوں بعد وہ برطانیہ کی باقاعدہ کالونی بن گئی۔6Historical Dictionary of European Imperialism by James Stuart Olson & Robert Shadle[/mfn] سلطنتِ عمان کے اس ضعف کے باعث ۱۸۹۱ء میں اس وقت کے سلطان فیصل بن ترکی نے سلطنتِ برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کیا کہ عمان برطانیہ کی اجازت کے بغیر اپنی زمین کا کوئی ٹکڑا کسی کو نہ کرائے پر دے گا، نہ بیچے گا نہ رہن رکھوائے گا۔ اس کے علاوہ تمام اہم معاملات میں سلطان سلطنتِ برطانیہ سے اجازت کا پابند ہو گا۔6The Making of The Modern Gulf States by Rosemarie Said Zahlan – Routledge Library Edition: The Gulf
۱۹۲۳ء میں سلطنتِ عمان اور برطانیہ کے درمیان ایک اور معاہدہ طے پایا جس کے تحت سلطنتِ عمان اپنی سرزمین سے تیل نکالنے کے لیے مسقط میں موجود برطانوی نمائندے اور حکومتِ ہند سے اجازت کی پابند ہو گی۔ اس وقت عمان پر سلطان تیمور بن فیصل کی حکومت تھی۔7Undertaking by Sultan Taimur Regarding Oil – British National Archives
۱۹۳۱ء کے اختتام پر سلطان تیمور بن فیصل حکومت سے علیحدہ ہو گیا اور حکومت اپنے بیٹے سعید بن تیمور کے حوالے کر دی جس سے برطانی اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا۔ اس کے دورِ حکومت میں سلطان کے صرف دو وزیر عمان کے ہوتے تھے جبکہ وزیر دفاع، انٹیلی جنس چیف سمیت سلطان کے تمام مشیر اور دیگر وزراء برطانوی ہوتے تھے۔8The Guardian: Britain’s secret wars by Ian Cobain
برطانوی تسلط کے اس سارے عرصے میں اگرچہ سلطنتِ عمان آزاد نہیں تھی لیکن خود مختار تھی۔ خود مختار ان معنوں میں کہ عمان کا حکمران آل بو سعید کے خاندان کا سلطان ہی رہتا تھا چاہے وہ سلطان جتنا ہی کمزور اور برطانوی احکامات کا پابند کیوں نہ ہو۔
دسمبر ۱۹۵۱ء میں برطانیہ نے سلطنتِ عمان کو ایک آزاد مملکت کے طور پر تسلیم کر لیا۔
سلطان قابوس بن سعید
قابوس بن سعید سلطان سعید بن تیمور کا واحد بیٹا تھا اس کے علاوہ سلطان کی دو بیٹیاں تھیں۔ بیس سال کی عمر میں قابوس نے برطانوی فوج کی رائل ملٹری اکیڈمی (Royal Military Academy Sandhurst) میں داخلہ لیا۔ ستمبر ۱۹۶۲ء میں وہاں سے فراغت کے بعد اس کی پوسٹنگ برطانوی فوج کی ’’سکاٹش رائفلز‘‘ میں ہو گئی۔ اپنی فوجی خدمات کے بعد قابوس نے انگلینڈ میں حکومتی امور کی تعلیم حاصل کی اور تعلیم کا اختتام پوری دنیا کے دورے پر کیا، اور ۱۹۶۶ء میں عمان واپس لوٹ گیا۔
قابوس کے عمان لوٹنے سے قبل ۱۹۶۵ء میں عمان کے علاقے ظُفار میں آل بو سعید کی حکومت اور عمان پر برطانوی اثر و رسوخ کے خلاف ایک اشتراکیت پسند انقلابی تحریک کا آغاز ہو چکا تھا جس نے بعد میں گوریلا جنگ کی شکل اختیار کر لی۔
قابوس کے عمان واپس لوٹنے کے بعد سلطان سعید بن تیمور نے اسے اس کے جدت پسند اور آزاد خیال نظریات کے پیش نظر محل میں بند کر دیا اور وہاں اسے اسلام اور ملک کی تاریخ پڑھنے پر مصروف کیا۔ وہاں اسے صرف محدود لوگوں سے ہی ملنے کی اجازت تھی اور حکومتی امور سے اسے دور رکھا جاتا تھا۔ لیکن برطانوی فوج میں اپنے دوستوں سے اسے ملنے کی اجازت تھی۔
ظُفار کے علاقے میں جاری اس گوریلا جنگ کا بہانہ کرتے ہوئے برطانوی فوج نے ۱۹۷۰ء میں سلطان سعید بن تیمور کا تختہ الٹ دیا اور اس کی جگہ قابوس بن سعید کو سلطان بنا دیا۔
سلطان قابوس نے تخت سنبھالنے کے بعد فوراً ہی جدید اصلاحات نافذ کیں اور ملک کو جدت پسندی کی طرف مائل کر دیا۔ وہ امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کا خواہاں تھا۔ لیکن اس وقت ظفار کے علاقے میں بغاوت اپنے عروج پر تھی۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے عمان کو برطانیہ کی طرف سے سپیشل فورسز اور فضائی مدد حاصل تھی، شاہ ایران نے اسے کچلنے کی خاطر ہزاروں فوجی عمان بھیج رکھے تھے اسی طرح اردن بھی اس بغاوت کو کچلنے میں مدد کر رہا تھا۔ لیکن سلطان قابوس نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسی بغاوت کو بنیاد بناتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات کا آغاز کر دیا۔ اسرائیل نے انٹیلی جنس شیئرنگ اور اسلحے کی ترسیل کے ذریعے سے اس بغاوت کے خلاف عمان کی مدد کی۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے موساد کا اس وقت کا سربراہ افرائیم ہلیفی خود بھی عمان میں کافی عرصہ موجود رہا۔ یہ بغاوت ۱۹۷۵ء کے اختتام تک مکمل طور پر کچل دی گئی۔ لیکن اس کی وجہ سے عمان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ڈل چکی تھی جو مستقل جاری رہے۔
سکیورٹی تعاون کے علاوہ اس عرصے میں اسرائیل نے عمان کو کھارے پانی کو میٹھا بنانے کی ٹیکنالوجی اور ڈرپ اریگیشن (Drip Irrigation) کا نظام بھی فراہم کیا۔9A Diplomatic History of Israel’s Relations with Oman: From Clandestine Ties to the Abraham Accords by Dr. Jonathan Ghariani – The Azrieli Institute of Israel Studies – Concordia University
۱۹۷۹ء میں جب مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کے ذریعے سے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اس کے ساتھ باضابطہ تعلقات کا آغاز کیا تو مراکش کے علاوہ عمان وہ دوسرا عرب ملک تھا جس نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا، اس کی حمایت کی اور عمان کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات منقطع نہیں کیے۔
۱۹۸۰ء کی دہائی میں سلطان قابوس نے موساد کے ساتھ براہ راست روابط قائم کیے اور موساد کے اہلکاروں سے مستقل بنیادوں پر ملاقات کرتا رہا۔
تب سے ۱۹۹۰ء کی دہائی کے آغاز تک عمان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات خفیہ طور پر جاری رہے۔ اس عرصے میں عمان مصر کی عرب لیگ میں واپسی کی اور کیمپ ڈیوڈ کی طرز پر اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان امن عمل کے آغاز کی بھرپور وکالت کرتا رہا۔
۱۹۹۱ء کی میڈرڈ کانفرنس کے بعد عمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کھل کر سامنے آنے لگا۔ میڈرڈ کانفرنس سے اوسلو معاہدے کے درمیانی عرصے میں دونوں ملکوں کے وفود کی کئی ملاقاتیں ہوئیں جن میں سے بعض نیو یارک میں اقوام متحدہ کے دفتر میں ہوئیں جبکہ ایک ملاقات اپریل ۱۹۹۳ء میں جنیوا میں ہوئی۔ اس عرصے میں عمان نے دیگر عرب ممالک کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات آگے بڑھانے میں تیزی لائی۔10History of the Foreign Ministry – Foreign Ministry of Oman
اپریل ۱۹۹۴ء میں عمان نے خطے میں پانی کے مسائل کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ پہلی بار اسرائیل کو بھی باضابطہ طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے عمان جانے والے وفد کی سربراہی اس وقت کے نائب وزیر خارجہ یوسی بیلن نے کی۔ اس اجلاس میں عمان نے اسرائیل کی سربراہی میں خطے میں کھارے پانی کو میٹھا بنانے کا سنٹر کھولنے کی حمایت کی۔11International Scientific Organizations and Israel’s Relations with the Arab World by Joseph Dubroff – Foreign Policy Research Institute
اکتوبر ۱۹۹۴ء میں جب اردن نے اسرائیل کو تسلیم کر کے باضابطہ تعلقات کا آغاز کیا تو مصر اسرائیل کے تعلقات کی طرح اس اقدام کی بھی عمان نے بھرپور حمایت کی۔
دسمبر ۱۹۹۴ء میں سلطان قابوس کی دعوت پر اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن نے عمان کا دورہ کیا۔ یہ کسی اسرائیلی رہنما کا کسی خلیجی عرب ملک کا پہلا باضابطہ دورہ تھا۔12Rabin Visits Oman, Taking Step To Widen Link to Gulf Region by Joel Greenberg – The New York Times (December 28, 1994)
۴ نومبر ۱۹۹۵ء کو جب اسحاق رابن کا قتل ہوا تو عمان کی جانب سے وزیر خارجہ یوسف بن علوی بن عبد اللہ نے ۶ نومبر کو بیت المقدس میں اس کی آخری رسومات میں شرکت کی اور قائم مقام وزیر اعظم شمون پیریز سے ملاقات کی۔13Israel and the Gulf states: It’s complicated by Raphael Ahren – The Times of Israel
جنوری ۱۹۹۶ء میں اسرائیل اور عمان کے درمیان اپنے تجارتی نمائندہ دفاتر ایک دوسرے کے ممالک میں کھولنے کا معاہدہ طے پایا۔ اسرائیل کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنے والا یہ دوسرا خلیجی ملک تھا۔ اس سے پہلے اس طرح کا معاہدہ قطر اسرائیل کے ساتھ کر چکا تھا۔ اپریل ۱۹۹۶ء میں اسرائیلی وزیر اعظم شمون پریز نے مسقط میں اپنے تجارتی دفتر کا افتتاح کرنے کے لیے عمان کا دورہ کیا۔ عمان نے اگست ۱۹۹۶ء میں تل ابیب میں اپنے تجارتی دفتر کا آغاز کیا۔14Foreign Ministry Statement on Israel-Oman Agreement – Jewish Virtual Library (January 28, 1996)
۱۹۹۶ء میں ہی مسقط میں Middle East Desalination Research Centre (MEDRC) کا دفتر قائم ہوا ا ور اسرائیل نے اس ادارے کے ساتھ مالی تعاون کرنے کی حامی بھری۔15A Diplomatic History of Israel’s Relations with Oman: From Clandestine Ties to the Abraham Accords by Dr. Jonathan Ghariani – The Azrieli Institute of Israel Studies – Concordia University
لیکن ۱۹۹۶ء میں نیتن یاہو کے وزیر اعظم بننے کے بعد عمان اور اسرائیل کے تعلقات کچھ سرد مہری کا شکار ہو گئے اور جہاں یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ جلد عمان اسرائیل کو تسلیم کر کے باضابطہ سفارتی تعلقات شروع کر دے گا وہ معاملہ رک گیا۔ لیکن اس عرصے میں بھی عمان نے اسرائیل کے دیگر عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں جاری رکھیں اور اسرائیل کے شام کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کیں۔ سلطان قابوس نے اپنے وزیرخارجہ یوسف بن علوی کو یہ ہدف دیا کہ وہ نیتن یاہو اور شام کے حافظ الاسد کے درمیان ایک معاہدہ کروانے کی کوشش کرے۔ ان امور پر بات چیت کے لیے نیتن یاہو کے سفارتی مشیر اور موساد کے ایک سینئر اہلکار اوزی اراد نے یوسف بن علوی سے یورپ میں ۱۹۹۶ء سے ۱۹۹۸ء کے درمیان تین بار ملاقات کی، جہاں شام کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔16The Oman File: Inside the Mossad’s Alliance with Muscat, Israel’s Window into Iran by Yossi Melman – Haaretz
نیتن یاہو کے دورِ اقتدار میں عمان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نسبتاً سرد مہری کا شکار رہے اور یورپ میں ان تین ملاقاتوں کےعلاوہ کچھ خاص پیش رفت نہ ہوئی۔ لیکن ۱۹۹۹ء کے انتخابات میں جب ایہود بارک وزیر اعظم بنا تو سلطان قابوس نے پھر سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اور عمان نے پھر سے عرب اسرائیل امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ اس سلسلے میں عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی بن عبد اللہ نے ستمبر ۱۹۹۹ء میں اسرائیل کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیوی سے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی اور تمام عالمِ عرب اور اسرائیل کے ساتھ امن عمل کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ لیکن ۲۰۰۰ء میں دوسرے انتفاضہ کے آغاز کے بعد جب ستمبر ۲۰۰۰ء میں کیمپ ڈیوڈ مذاکرات ناکام ہو گئے تو عرب لیگ کے دباؤ پر عمان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پھر سے منقطع کر لیے۔ اور مسقط و تل ابیب میں موجود تجارتی دفاتر بھی بند کر دیے گئے۔
لیکن یہ تعلقات لیکن پوری طرح ختم نہیں ہوئے بلکہ ۱۹۹۱ء سے پہلے کی سطح پر چلے گئے جہاں پس پردہ تعلقات اور تعاون موجود تھا لیکن رسمی طور پر کچھ نہیں تھا۔ MEDRC کا دفتر چلتا رہا اور عمان نے اس کے پس پردہ اسرائیلی سفارتی اہلکاروں کو عمان میں مقیم رہنے کی اجازت بھی دیے رکھی اور اسی کے ذریعے اسرائیل اور عمان کے درمیان تعاون بھی جاری رہا۔17A Diplomatic History of Israel’s Relations with Oman: From Clandestine Ties to the Abraham Accords by Dr. Jonathan Ghariani – The Azrieli Institute of Israel Studies – Concordia University
اس کے علاوہ اس عرصے میں سلطان قابوس نے موساد کے ساتھ اپنے روابط بھی جاری رکھے۔ اس عرصے میں عمان اسرائیل کے لیے ایران کے حوالے سے بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔ چونکہ عمان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے کسی ایک فریق کی طرف جھکنے کی بجائے سب کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی رہی اس لیے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات تھے۔ اس عرصے میں جب بظاہر عمان کے تعلقات اسرائیل کے ساتھ ختم ہو چکے تھے اس کے ایران کے ساتھ تعلقات بڑھے اور عمان ایران کے اندر کی خبریں موساد کو دیتا رہا۔18The Oman File: Muscat’s Mossad Links by Yossi Melman – Haaretz
۲۰۰۰ء سے ۲۰۱۸ء تک سوائے اس کے کہ عمان کا موساد کے ساتھ پس پردہ تعاون جاری رہا عمان اور اسرائیل کی باضابطہ ایک ہی ملاقات میڈیا پر آئی۔۱۴ اپریل ۲۰۰۸ء کو عمانی وزیر خارجہ یوسف بن علوی کی اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لیونی سے دوحہ، قطر میں اس کے ہوٹل کے کمرے میں ملاقات ہوئی جہاں ان دونوں نے خطے میں امن و تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر بات چیت کی۔19Israeli and Omani Foreign Ministers meet in Qatar – Muscat Confidential (April 15, 2008)
۲۰۱۸ء میں عمان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے بات چیت شروع ہوئی۔ جس کے بعد سلطان قابوس نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو عمان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ نیتن یاہو نے ۲۶ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو موساد کے سربراہ یوسی کوہن اور قومی سلامتی کے مشیر بین شبات کے ساتھ مسقط کا ایک روزہ دورہ کیا اور سلطان قابوس سے اس کے محل میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پورے عرب خطے کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر بات چیت ہوئی۔ نیتن یاہو کے دفتر نے اس دورے کے حوالے سے بیان جاری کیا کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل مدت سے جاری روابط کے بعد طے پایا۔20The Prime Minister’s Visit to Oman – The Institute for National Security Studies – Tel Aviv University (November 15, 2018)
اس ملاقات کے اثرات اگلے ہی دن واضح ہو گئے جب بحرین میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس میں عمانی وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے اسرائیل کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ’’صدی کی سب سے بڑی ڈیل‘‘ (Deal of The Century) کے نام سے عرب ممالک کی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی اور کہا:
’’اسرائیل خطے میں موجود ایک ریاست ہے، اور ہم سب یہ بات سمجھتے ہیں۔ دنیا بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ (دیگر ریاستوں کی طرح) مساوی انداز میں تعامل کیا جائے اور اس پر بھی باقیوں کی طرح وہی ذمہ داریاں عاید ہوں……
……ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ راستہ آسان اور پھولوں سے ڈھکا ہو گا، لیکن ہماری ترجیح ہے کہ اب اس تنازع کو ختم کر کے ایک نئی دنیا میں داخل ہوا جائے۔‘‘21Oman says ‘Israel is a state’ in the Middle East – Aljazeera (27 Oct 2018)
فروری ۲۰۱۹ء میں ٹرمپ نے پولینڈ کے دار الحکومت وارسا میں ایران کے خلاف ایک کانفرنس منعقد کی جس میں اسرائیل سے نیتن یاہو نے شرکت کی اور اس کے علاوہ عمان سمیت تمام عرب ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ میڈرڈ کانفرنس کے بعد پہلی ایسی کانفرنس تھی جس میں تمام عرب ممالک اور اسرائیل ایک جگہ جمع ہوئے۔ اس کانفرنس کو اگلے سال طے پانے والے ابراہام معاہدوں کا پیش خیمہ قرار دیا گیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس کانفرنس کے دوران عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کے دو ماہ بعد اپریل ۲۰۱۹ء میں اردن میں ہونے والے عالمی معاشی فورم (World Economic Forum) کے اجلاس سے بات کرتے ہوئے عمان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کو خطے میں اپنے مستقبل کے حوالے سے خوف لاحق ہے اور عربوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسرائیل کو اس خوف سے باہر نکالنے کے لیے اقدامات کریں۔ اس نے کہا:
’’مغرب اسرائیل کو سیاسی، معاشی اور عسکری مدد فراہم کر رہا ہے اور اب اس کے پاس طاقت کے ہر طرح کے اسباب موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ چالیس کروڑ عربوں کے درمیان گھرے ہوئے ایک غیر عرب ملک کے طور پر اپنے مستقبل کے حوالے سے خوفزدہ ہے۔
…… میرا ماننا ہے کہ عربوں کو اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے اور اسرائیل کے ساتھ حقیقی معاہدوں اور اقدامات کے ذریعے سے اسے اس خوف سے باہر نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا عمان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے، وزیر خارجہ نے جواب دیا:
’’نہیں! تسلیم تو نہیں کر رہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ وہ (اسرائیل) خود یہ محسوس کرے کہ اب اس کے مستقبل کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔‘‘22Oman calls on Arabs to ease Israel’s ‘fear for its future’ – Aljazeera (7 April 2019)
اگرچہ ۲۰۱۹ء کے اواخر میں سلطان قابوس کی طرف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ عمان بھی ابراہام معاہدوں میں شمولیت کے لیے تیار ہے، لیکن ابراہام معاہدوں سے چند ماہ قبل ۱۰ جنوری ۲۰۲۰ء کو سلطان قابوس کی موت واقع ہو گئی جس کے بعد اسرائیل سے تعلقات کی بحالی میں تمام پیش رفت رک گئی۔ سلطان قابوس کے مرنے پر نیتن یاہو نے تعزیتی پیغام جاری کیا اور سلطان قابوس کے خطے میں جاری امن عمل میں کردار کو سراہا۔
سلطان قابوس کی نہ تو کوئی اولاد تھی اور نہ ہی کوئی بھائی اس لیے اس نے اپنے بعد اپنے چچا زاد بھائی ہیثم بن طارق کو سلطان بنانے کی وصیت کی تھی۔
ہیثم بن طارق کے سلطان بننے کے بعد اسرائیل عمان تعلقات پرانی نہج پر لوٹ گئے۔ سلطان ہیثم نے ابراہام معاہدوں کو سراہا اور اگست ۲۰۲۰ء میں ہونے والے اسرائیل متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے، ستمبر ۲۰۲۰ء میں اسرائیل اور بحرین کے درمیان ہونے والے معاہدے اور دسمبر ۲۰۲۰ء میں مراکش اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھرپور حمایت کی اور ان معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں عمانی سفیر نے شرکت بھی کی لیکن خود اس میں شمولیت اختیار نہیں کی۔23Israel Oman relations – Jewish Virtual Library
۲۳ فروری ۲۰۲۳ء کو عمان نےاسرائیلی جہازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی لیکن اس کے بعد سے اب تک اسرائیل عمان تعلقات میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔24Oman Allows Israeli Flights Into Airspace, FM Praises ‘Historic Decision’ – Haaretz (February 23, 2023)
نہ تو دیگر عرب ممالک کی طرح عمان نے دوبارہ اسرائیل سے تعلقات کو نارملائز کرنے کا عندیہ دیا اور نہ ہی دو سال تک غزہ میں جاری جنگ کے دوران سیاسی و مذمتی بیانات سے بڑھ کر عمان نے اسرائیل کے خلاف کوئی عملی اقدام کیا۔
ٹرمپ کی جانب سے اعلان کیے گئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے حوالے سے عمان نے ہمیشہ کی طرح اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور اس عمل کو خوش آئند قرار دیا۔ اگرچہ عمان نے ابھی تک ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں باضابطہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے سلطان ہیثم کی جانب سے مثبت اشارے مل رہے ہیں ۔25Oman welcomes US-led peace efforts for Gaza – Muscat Daily (22 January 2026)
اختتامیہ
عمان کے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ صرف پچاس لاکھ کی آبادی والے اس ملک کی ۸۰ فیصد عوام اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی مخالف ہے اس لیے عمان کے حکمران خواہش کے باوجود یہ اقدام اٹھا کر اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
عمان کے حکمران خاندان کی تاریخ واضح کرتی ہے کہ وہ بھی ان بہت سے مسلم ممالک کے حکمرانوں میں سے ایک ہیں جن کا واحد نظریہ اپنے مفادات ہوتے ہیں اور وہ کسی ایک فریق کی جانب جھکاؤ اختیار کر کے دوسرے فریق سے بگاڑنے اور خود کو مشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ نہ تو ان میں اتنا دم خم ہے کہ کسی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے جس اقدام کا وہ پچھلے پچاس سال سے دوسرے عرب ممالک کے لیے خیر مقدم کرتا آ رہا ہے اور اس کی حمایت کرتا آ رہا ہے اور اسے خطے میں امن کا واحد ذریعہ قرار دیتا آ رہا ہے وہی قدم خود بھی اٹھا لے اور نہ ہی اتنی اخلاقی جرأت کہ تقریباً اسّی سال سے جاری مسلمان عرب سرزمین پر موجود ناجائز صہیونی وجود کے ساتھ خفیہ تعلقات ختم کرے اور اس کے خلاف کوئی عملی اقدام اٹھائے۔ ریڑھ کی ہڈی کے بغیر زمین پر رینگنے والی مخلوق جیسے ان حکمرانوں کو اپنے اقتدار اور اپنے مفادات کی حدود سے آگے کچھ نظر نہیں آتا اور وہ کبھی ایسا کوئی قدم اٹھانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے جس سے ان کے ہاتھ سے اقتدار چھن جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔
اور یہی قبلۂ اوّل سے خیانت کرنے والے اس قبیل کے تمام خائنین کی داستان ہے!
٭٭٭٭٭
- 1The Oman Question: The Background to the Political Geography of South-East Arabia by J. C. Wilkinson
- 2ایران کی بندرگاہ۔ جب سلطنتِ عمان ایک بحری طاقت تھی تو بندر عباس، گوادر اور مکران سمیت پاکستان اور ایران میں اب موجود یہ پوری ساحلی پٹی سلطنتِ عمان کے قبضے میں تھی۔ عمان نے بندر عباس کو ایران سے اجارے پر لے رکھا تھا۔ ۱۸۶۸ء میں ایران نے یہ بندرگاہ اجارے کا معاہدہ ختم کرتے ہوئے عمان سے واپس لے لی۔ مکران کی ساحلی پٹی ۱۹۵۵ء تک عمان کے تحت رہی اور ۱۹۵۵ء میں اسے پاکستان میں شامل کر دیا گیا جبکہ گوادر کی بندرگاہ کو ۸ ستمبر ۱۹۵۸ء کو پاکستان نے عمان سے تیس لاکھ امریکی ڈالر میں خریدا۔
- 3History of the Imams and Seyyids of Oman by Salil ibn Razik
- 4A Collection of Treaties and Engagements – British National Archives
- 5Family Strife and Foreign Intervention: Causes in the Separation of Zanzibar from Oman: A Reappraisal by M. Reda Bhacker
- 6Historical Dictionary of European Imperialism by James Stuart Olson & Robert Shadle[/mfn]
سلطنتِ عمان کے اس ضعف کے باعث ۱۸۹۱ء میں اس وقت کے سلطان فیصل بن ترکی نے سلطنتِ برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کیا کہ عمان برطانیہ کی اجازت کے بغیر اپنی زمین کا کوئی ٹکڑا کسی کو نہ کرائے پر دے گا، نہ بیچے گا نہ رہن رکھوائے گا۔ اس کے علاوہ تمام اہم معاملات میں سلطان سلطنتِ برطانیہ سے اجازت کا پابند ہو گا۔6The Making of The Modern Gulf States by Rosemarie Said Zahlan – Routledge Library Edition: The Gulf
- 7Undertaking by Sultan Taimur Regarding Oil – British National Archives
- 8The Guardian: Britain’s secret wars by Ian Cobain
- 9A Diplomatic History of Israel’s Relations with Oman: From Clandestine Ties to the Abraham Accords by Dr. Jonathan Ghariani – The Azrieli Institute of Israel Studies – Concordia University
- 10History of the Foreign Ministry – Foreign Ministry of Oman
- 11International Scientific Organizations and Israel’s Relations with the Arab World by Joseph Dubroff – Foreign Policy Research Institute
- 12Rabin Visits Oman, Taking Step To Widen Link to Gulf Region by Joel Greenberg – The New York Times (December 28, 1994)
- 13Israel and the Gulf states: It’s complicated by Raphael Ahren – The Times of Israel
- 14Foreign Ministry Statement on Israel-Oman Agreement – Jewish Virtual Library (January 28, 1996)
- 15A Diplomatic History of Israel’s Relations with Oman: From Clandestine Ties to the Abraham Accords by Dr. Jonathan Ghariani – The Azrieli Institute of Israel Studies – Concordia University
- 16The Oman File: Inside the Mossad’s Alliance with Muscat, Israel’s Window into Iran by Yossi Melman – Haaretz
- 17A Diplomatic History of Israel’s Relations with Oman: From Clandestine Ties to the Abraham Accords by Dr. Jonathan Ghariani – The Azrieli Institute of Israel Studies – Concordia University
- 18The Oman File: Muscat’s Mossad Links by Yossi Melman – Haaretz
- 19Israeli and Omani Foreign Ministers meet in Qatar – Muscat Confidential (April 15, 2008)
- 20The Prime Minister’s Visit to Oman – The Institute for National Security Studies – Tel Aviv University (November 15, 2018)
- 21Oman says ‘Israel is a state’ in the Middle East – Aljazeera (27 Oct 2018)
- 22Oman calls on Arabs to ease Israel’s ‘fear for its future’ – Aljazeera (7 April 2019)
- 23Israel Oman relations – Jewish Virtual Library
- 24Oman Allows Israeli Flights Into Airspace, FM Praises ‘Historic Decision’ – Haaretz (February 23, 2023)
- 25Oman welcomes US-led peace efforts for Gaza – Muscat Daily (22 January 2026)









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



