غزوۂ ہند کے مقدمۃ الجیش میں شامل ’القاعدہ برِّ صغیر‘ سے وابستہ مجاہدفی سبیل اللہ ’شاہ مطیع الرحمٰن صدیقی‘کا تذکرہ، جو وادیٔ کشمیر کے برف پوش پہاڑی سلسلے ’پیر پنجال‘میں ہندو فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے مقامِ شہادت سے سرفراز ہوا۔ یہ چند صفحات مطیع الرحمٰن شہید کی شخصیت کی ایک جھلک ہیں ، اللہ پاک مجھے بھی خاتمہ بالخیر بصورتِ شہادت عطا فرمائیں، مقبلاً غیر مدبرٍ، آمین! (راقم)
دل غمگین ہے، ذہن پر ابرِ غم کا سایہ ہے، آنکھوں سے غم ٹپک رہا لیکن ہم زبان سے وہی کہیں گے جس کی تعلیم ہمارے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی۔
إن العين تدمع والقلب يحزن ولا نقول إلا ما يرضي ربنا!
شہادتیں راہِ وفا کا خاصہ ہیں، شاید صبح و شام کا معمول ہیں سو غم سہنے اور برداشت کرنے کی ایک بظاہر عادت سی ہو جاتی ہے۔ لیکن ایک طویل عرصے بعد ایک ایسے ساتھی کی شہادت کی اطلاع ملی، جس سے دل غم گرفتہ ہو گیا اور آنکھیں بہانے بہانے سے بہتی رہیں۔
بیسویں صدی، ۱۹۹۹ء کا سورج غروب ہو رہا تھا جب حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی نسل میں ایک ستارہ طلوع ہوا۔ حضرتِ صدیقؓ سے نسبت کے سبب اس خاندان کے افراد ’شاہ‘ اور ’صدیقی‘ کہلاتے ہیں، والدین نے اس نومولود کا نام ’مطیع الرحمٰن‘ رکھا۔جائے پیدائش، شہرِ ملتان کا ایک چھوٹا سا محلہ تھی۔
مطیع الرحمٰن نے خود بتایا کہ اس کے آبا واجداد، برِّ صغیر کے صوبۂ سندھ میں سید عثمان مروندی المعروف بہ لعل شہباز قلندر کے ساتھ بغرضِ تبلیغ و اشاعتِ دین آئے اور بعداً ملتان میں سکونت اختیار کی۔
مطیع الرحمٰن صدیقی نے ساری زندگی ’مقابلوں اور معرکوں‘ میں گزاری۔ وہ عام بچوں کی طرح سکول میں داخل ہوا لیکن اس کی بعض صلاحیتیں دیگر کے مقابل نہایت ممتاز تھیں۔ سکول میں ابتدائی جماعتوں ہی سے وہ تقریری مقابلوں میں شرکت کرنے لگا اور ہمیشہ اول آتا۔ ۲۰۱۵ء میں انٹر میڈیٹ لیول کے ’کُل ملتان‘ مقابلے میں اول آیا، وہاں سے ڈویژن لیول کے مقابلے میں اول آیا، پھر مذکور مراحل طے کرنے کے بعد جب ’کُل پنجاب‘ تقریری مقابلہ لاہور میں منعقد ہوا تو اس میں بھی اول ٹھہرا اور پنجاب کا سال ۲۰۱۶ء میں انٹر میڈیٹ لیول کا اردو زبان میں بہترین مقرر قرار پایا، سرکاری سطح کا میڈل، سند اور نقد انعام وصول کیا۔ دیگر عصری تعلیمی و تکنیکی سرگرمیوں میں بھی ممتاز رہا، سرکاری سطح کا تعلیمی و تکنیکی وظیفہ (سکالرشپ) پاتا رہا اور سال ۲۰۱۷ء میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے فنونِ کمپیوٹر کے خصوصی تکنیکی دس ماہی پروگرام کے لیے قابلیت (میرٹ) کی بنیاد پر منتخب ہوا ۔
ابتدائے بچپن میں سایۂ پدری سے محروم ہو گیا، کئی بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، بہنوں کی شادیاں ہو گئیں اور وہ اپنے گھر سدھار گئیں۔ والدہ نے دوسرا نکاح کیا اور مطیع الرحمٰن اپنی والدہ اور سوتیلے والد کے ساتھ رہتا رہا۔ سوتیلے والد نے محاورے میں ’سوتیلوں‘ جیسا سلوک روا نہ رکھا بلکہ اپنے بیٹے کی طرح پالا۔ وہ نہایت معمر تھے اور ۲۰۱۷ء میں انتقال کر گئے۔ ذریعۂ معاش والد کی پنشن تھی اور وہ ان کے انتقال کے بعد آدھی ہو گئی۔ چھ آٹھ ہزار روپے پنشن، ملتان کے ایک چھوٹے سے محلے میں مختصر سے صحن، ایک کمرے و باورچی خانے اور ایک بیت الخلاء پر مبنی، کٹیا نما مکان میں رہتا مطیع الرحمٰن بے شمار نعمتوں سے مالا مال تھا، جن میں ایک فقرِ غیور بھی تھا۔ میری مطیع الرحمٰن کے ساتھ پہلی ملاقات تھی اور مجھے ابھی اس کے معاشی حالات کی خبر نہ تھی، از راہِ ’تہادوا تحابوا‘1 میں نے اس کو کچھ پیسے دینا چاہے۔ کہنے لگا ’میری امی نے سختی سے منع کر رکھا ہے کہ کسی سے پیسے نہیں لینے‘۔ میں نے کہا ’یہ پیسے نہیں ہیں، تحفہ ہے، تم میرے چھوٹے بھائی نہیں ہو کیا؟‘۔ ’الفقر فخری‘ کا استعارہ کہنے لگا ’اللہ کے لیے مجھے پیسے نہ دیں، میں رو پڑوں گا‘۔ تحفہ دینے والے کا ہاتھ رک گیا اور اس کی کیفیت بزبانِ اقبالؒ اس سے کچھ مختلف نہ تھی:
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا2
گھریلو معیشت کی ایک طرف یہ حالت تھی تو دوسری طرف ’ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ3‘ کا عالم یہ تھا کہ وہ خود اور اس کی اللہ والی والدہ، پائی پائی جوڑ کر سارا سال پیسے جمع کرتے اور محاذوں پر اور ہجرتوں کی زندگی بسر کرتے مجاہدین اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے عیدِ قربان پرقربانی کے پیسے بھجوایا کرتے۔ مالک نے جب یہ فرمایا تو بے شک سچ فرمایا:
لَن يَنَالَ اللّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ (سورۃ الحج: ۳۷)
’’ اللہ کو (ان کی قربانی کا)نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتاہے ۔‘‘
مجھ سے ملنے جب بھی آتا تو میں اس سے اس کے شہر کی سوغات، ملتانی سوہن حلوہ ضرور منگواتا، لیکن اسے اس کی قیمت ادا کرنا ایک پورا معرکہ بن جاتا اور بڑا ہونے کی دھونس جما کر زبردستی پیسے دیا کرتا۔
بیت المال کو استعمال کرنے سے اپنے آپ کو حد درجہ بچاتا۔ ایک بار اس کے جہادی ذمہ دار نے اس کوکاموں کے لیے ایک فون خریدنے کے لیے چھ ہزار روپے دیے۔ اس نے فون خریدا، لیکن فون میں کوئی تکنیکی خرابی تھی اس کا وائی فائی نہ چلتا تھا جو کام کے لیے ناگزیر تھا، سو وہ کاموں میں استعمال نہ ہو سکا۔ اس نے فون بازار میں بیچ کر بیت المال کا خسارہ گوارا نہ کیا (کہ فون خرید کر چاہے آپ نے ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ استعمال کیا ہو دوبارہ بیچیں تو اس کی کم از کم ایک تہائی قیمت عموماً گر جاتی ہے)، بلکہ اپنی بچت کیے ہوئے پیسوں سے خود خرید لیا اور چھ ہزار روپے الگ سے محفوظ کر لیے اور اپنے ذمہ دار کو اس کی اطلاع دے دی اور کہا کہ ’بیت المال کی امانت مبلغ چھ ہزار روپے میرے پاس رکھے ہوئے ہیں‘۔
میری معرفت، مطیع الرحمٰن سے ۲۰۱۵ء میں ہوئی، اس کی عمر محض سولہ سال تھی۔ اس عمر کے نوجوانوں کے آج کی دنیا میں مشاغل کیا ہوتے ہیں؟ اچھی تعلیم تا کہ اچھی جگہ مزید تعلیم کے لیے داخلہ مل سکے، پھر اچھے کیرئیر کا خیال، عشق معشوقیٔ عبث، آوارہ گھومنا، سیر سپاٹے کرنا، دنیا کو تاڑنا۔ مطیع الرحمٰن سے ملا تو پہلے سے تعارف اور سببِ ملاقات جہاد تھا، شجاعت، مردانگی، سرفروشی اور عشقِ حقیقی کی راہ۔ میں نے پوچھا ’جہاد سے کیسے جڑے؟‘۔ اس نے بتایا:
’ بچپن سے جہادِ کشمیر کے ترانے سنے تھے۔ خاندانی تعلق ’’لشکرِ طیبہ‘ ‘سے تھا۔ میں کچھ بڑا ہوا تو ایجنسیوں کے ہاتھوں جہادِ کشمیر کو یرغمال پایا۔ ساتھ ہی جہاد کو فرضِ عین پایا۔گھر کے قریب ایک جہادی و دینی تقریروں اور ترانوں کی کیسٹوں کی دکان تھی، اکثر اس دکان پر جاتا ، کوئی کیسٹ خرید کر لاتا اور گھر میں سنتا۔ ایک دن دکان دار نے کہا کہ ’’کیسٹیں ہی سنتے رہو گے یا جہاد کے لیے بھی جاؤ گے؟‘‘۔ میں نے دکان دار سے کہا کہ میرا تو مجاہدین سے کوئی رابطہ نہیں، آپ ہی ملوا دیں۔ پھر اسی دکان دار کے توسط سے ۲۰۱۴ء میں افغانستان جاتے کچھ مجاہد مل گئے۔ ان کا تعلق ’’کمانڈر حاجی عبدالجبار صاحب‘‘ کے ساتھ تھا۔ سو میں بھی پہلے پہل انہی کے ساتھ ہو کر قندھار پہنچ گیا، وہاں تدریب کی اور سکول سے گرمیوں کی چھٹیوں کا عرصہ محاذ پر گزارا۔‘
’آپ تو چھوٹے سے ہوں گے اس وقت؟ چودہ پندرہ سال کے؟‘ میں گاڑی چلا رہا تھا، چلاتے چلاتے اس کی طرف مڑ کر دیکھا اور پوچھا۔
’ہاں جی! چھوٹا ہی تھا جی!‘
’آپ تو مسلکاً سلفی ہیں، آپ گئے بھی قندھار…… وہاں مشکل نہیں ہوئی؟ رفع الیدین نہیں کرتے تھے کیا؟‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’شیخ! کرتا تھا جی رفع الیدین۔ بڑی مشکل ہوئی شیخ مجھے وہاں پر!‘ ، مطیع الرحمٰن جن سے محبت کرتا انہیں اکثر شیخ کہتا تھا۔
’پھر کیا کیا آپ نے؟‘ میرا تعجب برقرار تھا۔
’حنفی طریقے سے نماز شروع کر دی جی‘
’کس نے سمجھائی آپ کو یہ بات؟‘
’وقت اور تجربے نے جی۔ جہاد تو فرض تھاجی، یہ تو کرنا ہی تھا۔ رفع الیدین تو فرض نہیں تھا ناں شیخ! بس رفع الیدین اور سلفی طریقے سے نماز پڑھنا حنفی ساتھیوں کے سامنے چھوڑ دی جی، اس کے بعد کبھی مشکل نہیں ہوئی جی!‘
اللہ تعالیٰ نے مطیع الرحمٰن کو فہمِ سلیم عطا فرمایا تھا۔ وہ پیدا ہوا تھا تو ایک سلفی گھرانے میں۔ ہمارے یہاں مسالک کی عبث ’برتری‘ ثابت کرنے کی فضا میں اس نے آنکھ کھولی تھی۔ لیکن یہ فہم اللہ نے اسے وہب کیا تھا کہ وہ جہاد کی فرضیت کو سمجھا اور جہاد کی خاطر اس نے مسلک پر عمل کو قربان کر کے زیادہ اجر والے اور زیادہ فضیلت والے اعمال کیے۔ بعد میں اسے شیخ عبداللہ عزام شہیدؒ کا فتویٰ بھی معلوم ہو گیا کہ مصلحتِ جہاد کی خاطر اپنے مسلک کو چھوڑنا افضل بلکہ مطلوب ہے سو اس کا دل اس عمل پر مزید مطمئن اور شاد ہو گیا۔
مطیع الرحمٰن ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں قندھار جاتا اور پھر اللہ نے اسے اس کی خواہش کے مطابق القاعدہ کے ساتھ جڑنے کا راستہ عطا کر دیا۔ اسے القاعدہ سے محبت، القاعدہ والوں کے کردار کے سبب تھی، پابندیٔ شرعِ متین کے سبب اور طاغوتی ایجنسیوں کے مفادات و غلامی سے آزادی کے سبب، اس کے قائدین کی خود جان و مال کی قربانیاں دینے کے سبب۔ ورنہ القاعدہ کیا ہے؟ اسی امت کا ایک حصہ، افراط و تفریط اور ارجاء و تکفیریت سے بچتی، منہجِ شرعی کے مطابق جہاد و قیامِ خلافت کے لیے کوشاں، دعوت دیتی اور جہاد کرتی ایک جماعت، امت کا درد رکھنے والی اور امت پر ہونے والے وار کو اپنی استطاعت کے مطابق اپنے سینے پر روکنے والوں کا ایک گروہ، امت جیسا نا کہ امت سے فوق تر! اسی بات کا اظہار مطیع الرحمٰن نے اپنی آخری وصیت میں بھی کیا:
’’کروڑوں رحمتیں ہوں اللہ تعالیٰ کی عالمی جہاد کے قائدین پر، ان کے سپاہیوں پر، انصار و اعوان پر، محبین اور دعا خوانوں پر۔ اپنی ہمہ قسم کی غربت، کسمپرسی اور لاچاری کے باوجود یہ نہ صرف امت کے قاتل باغی خوارج کی راہوں میں حائل رہے بلکہ ہمہ قسم کے ارجائی طبقات سے بھی مقابلہ جاری رکھا۔ بے شک یہ اہلِ سنت پر ان کا احسانِ عظیم ہے۔ اللہ ان کی شہادتوں کو قبول فرمائے، ان کی کاوشوں کو جِلا بخشے، ان کے جانشینوں کو قوت دے اور ہمیں ان کے منہج پر استقامت۔‘‘
میں مطیع الرحمٰن کو اپنے شہید ہونے والے ایک قریبی رشتے دار کے نام کی نسبت سے ’طارق‘ کے نام سے پکارا کرتا، پہلے طارق ’والد نما‘ تھے اور یہ دوسرا طارق، بھائی بلکہ سچ یہ ہے کہ تعلق و اعانت میں ’بیٹا نما‘۔ مطیع الرحمٰن، سوشل میڈیا کی دنیا میں ’ثاقب گیلانی‘ کے نام سے معروف ہوا۔ وہ پوری دنیا کے جہاد کا غم خوار تھا اور پوری دنیا کے جہاد کا خبر نگار۔ شام سے مالی تک، فلسطین سے یمن و صومالیہ تک، افغانستان سے عراق تک اور کاشغر و کشمیر کے مجاہدین کی خبروں کا ایک مستند ذریعہ ثاقب گیلانی تھا۔ اس کے سوشل میڈیا صفحات پر امت کا غم اور دعوتِ جہاد ہی دِکھتے۔ شر پسند چاہے وطنی تعصب کو لے کر بڑھے یا تنظیمی و مسلکی تعصب کی تلوار کو، اس کے لیے ثاقب گیلانی کے زیرِ انتظام چلتے سوشل میڈیا صفحات و چینلوں پر کوئی جگہ نہ ہوتی۔ جہادی خبروں اور دعوتی مواد کی تشہیر و توزیع کے لیے اس نے اپنے امرا کی اجازت سے ’مختصر قطعات‘ کے نام سے کام شروع کیا جس میں اللہ پاک نے بے پناہ برکت رکھی۔
مطیع الرحمٰن کے ذمہ داران نے، سائبر سکیورٹی اور سائبر سرویلنس کے زمانے میں اسے ’شریعت یاشہادت‘ نامی سوشل میڈیا منصوبے کا حصہ بنایا اور ایک کثیر تکنیکی کام اس کے حوالے کیا، دعوتی کام تو وہ پہلے سے ہی کر رہا تھا۔ مطیع الرحمٰن کا ایک ایک فعل (activity) اور لکھا ایک ایک حرف اس کے متعلقہ ذمہ دار دیکھتے، اصلاح و تنبیہ کرتے۔ مطیع الرحمٰن نے سوشل میڈیا پر جہاد و نفاذِ شریعت کی دعوت کو ایسے انداز سے پھیلایا کہ اس کا کام ایک فرد نہیں کسی ’سائبر ٹیم‘ کا ثمرہ معلوم ہوتا۔ مطیع الرحمٰن کو کام سونپ دیجیے، پھر اسے چاہے ایک روپے کے وسائل بھی نہ دیجیے، بس نتائج پوچھیے، وہ آپ کے سامنے رپورٹوں کا ڈھیر لگا دے گا۔ وہ ایک وقت میں درجنوں ناموں سے کام کرتا۔ بے لوث داعی تھا، نام و نمود سے بے پروا، کبر و عجب سے پاک۔پنجاب بھر کا تقریروں کا چیمپئن تو تھا ہی درجنوں تحریریں بھی اس نے لکھیں۔ چھوٹی سی عمر تھی، تجربہ وسیع تھا اور سفر بے پناہ کرتا، کبھی قندھار کے معسکر میں، کبھی قندھار کے کسی محاذ پر، کبھی غزنی میں، کبھی داعشی خارجیوں کے خلاف ہندوکش کے کوہِ سفید و جلال آباد میں، کبھی کراچی میں کسی جہادی دورے میں، کبھی لاہور میں کسی دورۂ شرعیہ میں، کبھی بھمبر و کوٹلی کے معسکرات میں تو کبھی جموں کے کسی محاذ پر، ان سب اسفار و تجرباتِ جہادیہ نے قلم میں خوب تاثیر رکھ دی تھی۔
مطیع الرحمٰن کی تحریرات مجلّہ’نوائے افغان جہاد‘ و بعداً ’نوائے غزوۂ ہند‘ ، ’شریعت یا شہادت‘ کے بلاگ اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے دعوتی و جہادی شاخچوں پر کلیاں اور پھول کھِلاتی رہیں۔ سوشل میڈیا کی مہمات (Social Media Campaigns) میں ایک سو چالیس (۱۴۰) حروف کی قید میں رہتے ہوئے درجنوں فکری، تحریضی، دعوتی، جہادی اور جذباتی جملےونعرے اس کے قلم سے برآمد ہوتے رہے۔ ایک پھول نما نعرہ جو کھِل کر اپنی لطافت کی کما حقہ داد نہ پا سکا ’کشمیر شریعت چاہتا ہے‘، مطیع الرحمٰن کے قلم سے ہی ظاہر ہوا۔
اپنی تکنیکی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اس نے مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ کے سرورق و پس ورق اور اندرونی رنگین صفحات بھی ڈیزائن کیے۔ راقم کو مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کی مجلسِ ادارت کے ایک رکن ساتھی نے بتایا کہ مطیع الرحمٰن کی صلاحیتوں اور جہاد و اخلاص کے پیشِ نظر ’نوائے غزوۂ ہند‘ کی ’مجلسِ ادارت‘ کی خواہش تھی کہ مطیع الرحمٰن کو مجلّے کی ٹیم میں باقاعدہ شامل کیا جائے۔
مطیع الرحمٰن اطاعتِ امیر میں یکتا تھا۔ ایک بار اس کو کہا گیا کہ ’ٹیلی گرام‘ کی ایپ کچھ عرصہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر استعمال نہیں کرنی۔ یہ ہدایت دینے والا میعادِ ترکِ استعمال بتانا بھول گیا جو چند دن تھی، لیکن جب چار ماہ بعد یونہی پوچھا تو جواب ملا ’جب سے آپ نے حکم دیا ہے تو ٹیلی گرام کے آئکن (icon) کو چھوا بھی نہیں، کھولنا تو دور کی بات ہے‘۔ امیر بھی یہ سن کر تصویرِ حیرت بن گیا۔
؏یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
مطیع الرحمٰن نے مجھے پہلی بار کشمیری مجاہد قائد ذاکر موسیٰ سے متعارف کروایا۔ آئی ایس آئی نے جس طرح ’جہادِ کشمیر‘ کی تحریک کو سازشوں کا اکھاڑا اور پیسے کا کھیل بنایا تھا، تو کشمیر سے آنے والی ہر آواز ہی (اس دین سے خائن ایجنسی کے سبب) مشکوک لگتی تھی، گو کہ جہادِ کشمیر ہمارے لیے ایسا تھا گویا دل کا کوئی ٹکڑا یا جگر کا کوئی پارہ۔ پھر بھائی ذاکر موسیٰ کا تعارف بڑھتا گیا اور ان کے ساتھیوں نے اپنے نعرۂ ’شریعت یا شہادت‘ کو اپنے عمل اور شہادت کے خون سے جلا بھی بخشی، اثر بھی اور حقانیت کی دلیل بھی۔ مطیع الرحمٰن نے اس زمانے میں بھائی ذاکر موسیٰ، برہان وانی اور منہجِ شریعت یا شہادت کے وابستگان کے متعلق لکھنا شروع کیا جو ’نوائے افغان جہاد‘ کے فاضل مدیر و برادرِ حبیب جنابِ میاں طلحہ احمد صاحب نے مجلّے میں شامل کرنا شروع کیا۔ جہاد سے اس کی محبت تو انگ انگ سے، اس کے قول و عمل سے ظاہر تھی لیکن جہادِ کشمیر سے اس کا لگاؤ کچھ زیادہ ہی عجیب تھا۔ کشمیر کے متعلق یوں لکھتا گویا خود وادی میں موجود ہو، گویا پیر پنجال کی کسی چوٹی پر ہو، کسی چنار کے سائے میں بیٹھا ہو۔ شہدائے کشمیر میں سے تین درجن سے زائد شہدا کی سیرتیں اس نے لکھیں، درجن کے قریب نوائے افغان جہاد میں شائع ہوئیں جن میں مفتی ہلال، سبزار احمد بھٹ، عبد القیوم نجار، ابو دجانہ بلتستانی، ہارون عباس وغیرہ کے متعلق مضامین شامل ہیں اور باقی کثیر ذخیرہ اس نے مجھے ارسال کیا کہ متعلقہ حضرات تک پہنچا دوں، لیکن للاسف کہ وہ راقم کو پیش آنے والے ایک حادثے میں ضائع ہو گئیں۔ یہ بھی ایک عجیب واقعہ ہے کہ مطیع الرحمٰن نے کبھی مجھ سے اس کا شکوہ نہ کیا۔ اس کی نظر تو کہیں اور تھی، وہ تحریر کے شائع ہونے یا لوگوں تک پہنچنے نہ پہنچنے سے غنی تھا۔
جس کا عمل ہے بے غرض، اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر
اس کے اخلاق و اطوار، فکر و کردار، تبلیغ و دعوت اور قتال و جہاد کو دیکھ سن کر راقم کے ایک قریبی ساتھی کی عرصے سے خواہش تھی کہ اس کی بہن کا نکاح مطیع الرحمٰن سے کیا جائے۔ مطیع الرحمٰن اس بات سے بے خبر تھا۔ اپنی بہن کو مطیع الرحمٰن کے عقد میں باندھنے کی خواہش رکھنے والا میرا ساتھی بخوبی مطیع الرحمٰن کی معاشی حالت کو جانتا تھا اور میں نے اپنے اس ساتھی کو بار ہا تفصیلاً بتایا بھی، لیکن مطیع الرحمٰن کا کردار اتنا متاثر کن تھا کہ حسبِ قولِ شاعر
ان کے اخلاق کیسے ہیں قاصد؟
ان کی صورت کی بات رہنے دے
دراصل مطیع الرحمٰن نے جائے نکاح کا انتخاب خود کر رکھا تھا، جنت کی کوئی بڑی بڑی آنکھوں، ستّر پوشاکوں، جنت کے لہنگوں اور غراروں، خوشبودار و آنکھوں کو بھاتے رنگوں کی اوڑھنیوں کو اوڑھنے پہننے والی حور اس کا انتخاب تھی۔
رسولِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانک لے تو تمام زمین کو روشن کر دے اور رُوئے زمین معطر کر دے، اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا و ما فیہا سے زیادہ قیمتی ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
اور پردہ نشین دوشیزہ سے بھی زیادہ حیا دار (صلی اللہ علیہ وسلم) نےفرمایا:
’’جنت میں ایک نور چمکا، جب لوگوں نے اپنے سروں کو اٹھا کر دیکھا تو وہ ایک حور کی مسکراہٹ تھی جس نے اپنے خاوند کے چہرے کو دیکھ کر مسکراہٹ ظاہر کی تھی۔‘‘ (بخاری و مسلم)
اور ساری زندگی غموں میں بسر کرتے مجاہدین سے زیادہ دِلوں کو لبھاتی، ہنستی و گنگناتی حوروں کا مستحق کون ہے اور مجاہدین سے بڑھ کر حوروں کاپاکیزہ وحیا دار، سچا عاشق تمام دیگر اہلِ ایمان میں کوئی ہے؟!
مطیع الرحمٰن نے ایک کثیر وقت جہادی قائد ’کمانڈر حاجی مولانا عبد الجبار صاحب‘ کے ساتھ گزارا اور القاعدہ سے باقاعدہ جڑ جانے کے بعد بھی کمانڈر عبد الجبار صاحب کی تنظیم کے ساتھ اپنے القاعدہ کے ذمہ داران ہی کے منشا پر تشکیلات گزارتا رہا۔ کمانڈر صاحب شہید ایک سچے مجاہد قائد اور مقاتل فی سبیل اللہ تھے اور ’آزاد جہاد‘ کے قائل بھی۔ مطیع الرحمٰن نے مجھے کمانڈر صاحب شہیدؒ کے متعلق بتایا کہ :
’’ میری خود موجودگی میں کی گئی (کمانڈر حاجی صاحب شہیدؒ کی)باتیں یہی رہی ہیں کہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اگر اسلامی انقلاب آیا تو وہ خون کی ندیوں سے گزر کر آئے گا !‘‘
کمانڈر صاحب شہیدؒ کے ایک ساتھی نے جب امریکی اتحادی اور شریعت کی دشمن انٹیلی جنس ایجنسی ’سی ٹی ڈی‘ کے تین اہلکاروں کو جہنم واصل کیا ، نیز دیگر جہادی کاموں کو روکنے کا مطالبہ جب طاغوتی ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کے ایک کرنل نے ان سے کیا تو مطیع الرحمٰن کے بقول کمانڈر حاجی صاحب نے امریکی غلام ایجنسی کے کرنل کو جواب دیا:
’’ میں یہ کام نہیں روکوں گا !‘‘
اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ کمانڈر مولانا حاجی عبد الجبار صاحب کو اولاً نظر بند و قید کیا گیا اور بعداً انہیں قید خانے سے نکال کر ڈیرہ غازی خان کے پاس رڑکن کےمقام پر ہاتھ پیچھے باندھ کر شہید کر دیا گیا اور آپ کی نعش کو ایک برساتی نالے میں پھینک دیا۔ حاجی صاحب شہید کے ذکر پر مبنی مضمون مطیع الرحمان نے لکھا جو اکتوبر ۲۰۱۹ء کے مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ کے شمارے میں شائع ہوا۔
مطیع الرحمٰن اذکار و تلاوت کا بے حد اہتمام کرتا اور اپنے امرا کو ذاتی معمولات سے مستقل آگاہ رکھتا۔ اپنی زندگی کے آخری مہ و سال جو اس نے باقاعدہ اپنے گھر میں گزارے اور جب وہ کمپیوٹر کا تکنیکی کورس کر رہا تھا تو اس کے دن کا نہایت قلیل حصہ نیند کے لیے وقف ہوتا، فجر سے دوپہر بارہ بجے تک اولاً معمولاتِ اذکار و امورِ جہادیہ انجام دیتا پھر کالج چلا جاتا اور شام کو واپس آ کردوبارہ دعوتِ جہاد کی خدمت میں جُت جاتا اور تب تک کاموں میں لگا رہتا یہاں تک کہ نیند اس پر غالب آ جاتی اور وہ کسی انجان لمحے سو جاتا۔
مطیع الرحمٰن کو اپنی والدہ سے بے حد محبت تھی، ظاہر ہے ماں رشتہ ہی ایسا ہے جس سے ہر کسی کو محبت ہوتی ہے، لیکن جس قدر محبت یہ دونوں ماں بیٹا ایک دوجے سے کرتے وہ واقعی بے نظیر ہے۔ لیکن ’مطیع الرحمٰن‘ نام رکھنے والی ماں سے بھی بڑھ کر دولتِ ایمان کے سبب اس کو زیادہ محبت اللہ سے تھی، وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبّاً لِّلّهِ4! یہ مصرعے گو کہ عہدِ رواں کے ہر مہاجر مجاہد کا حال بیان کرتے ہیں لیکن ان میں اکثر مطیع الرحمٰن کے لیے تو بلا مبالغہ حقیقت تھے:
انہیں یہ بھی بتا دینا جو ہم اس راہ پہ نکلے
سوائے دردِ امت کے، ہمیں درپیش غم نہ تھے
وگرنہ زندگی کے امتحاں کچھ اور ____کم نہ تھے
ابھی بہنوں کی رخصت کا ہمیں سامان کرنا تھا
ابھی بیمار ماں کو بھی معالج کو دکھانا تھا
ضعیف اک باپ کا بھی ہاتھ پھر ہم کو بٹانا تھا
مگر ہم سر ہتھیلی پر لیے، فی اللہ نکل آئے
یہ فرضِ عین بھی آخر ہمِیں کو تو نبھانا تھا!
اپنی آخری وصیت میں، مطیع نے اپنی والدہ کے نام لکھا:
’’اے ماں!
نہیں معلوم یہ پیغام کب اور کس حالت میں آپ تک پہنچ پائے، مگر اللہ کی دی بشارت سے آپ کو تسلی دینا چاہوں گا۔
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُواْ وَأُخْرِجُواْ مِن دِيَارِهِمْ وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُواْ وَقُتِلُواْ لأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ ثَوَاباً مِّن عِندِ اللّهِ وَاللّهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ(سورۃ آلِ عمران: ۱۹۵)5
اللہ کی قسم! میں آپ سے ملاقات کا شدید متمنی ہوں اور آپ سے جدائی کا ہر لمحہ میرے چھلنی دل سے رِستے ہوئے خون کے قطروں کی مانند ہے۔ مگر اس کا واحد مرہم حوضِ کوثر پر حضور صلی اللہ علیہ وسل کے ہاتھوں سے ملنے والا جام ہے اور اللہ وہیں آپ سے ملاقات کروا دیں!‘‘
مطیع الرحمٰن کے جہاد سے جڑنے اور جہاد میں بھی جسے عرفِ عام میں ’عالمی جہاد‘ کہتے ہیں سے جڑنے میں اہم کردار اس کی والدہ ماجدہ کا بھی تھا۔ مطیع نے اپنے ایک مضمون میں لکھا (جو ’نوائے افغان جہاد‘ کے ’فتحِ مبین نمبر‘ مارچ ۲۰۲۰ء میں شائع ہوا):
’’میں حقیقت میں ایک نالائق طالبِ علم ہوں۔ اللہ راضی ہو جائیں امی سے اور ان کی تکالیف کو راحت میں بدل دیں، وہ سکول بھیجنے سے پہلے ابتدائی حساب کتاب کی پمفلٹ نما کتاب سے پہاڑے پڑھاتی تھیں، جس کی شکل مخمس سی ہوتی تھی۔ اب انگریزی میں شاید اسے Five sided polygon کہتے ہیں۔ اس پر ہاتھ رکھ کر کئی بار بتایا کہ ’امریکہ کا پنٹاگان ایسا ہی ہے، جسے مجاہدین نے جہاز مار کر تباہ کیا ہے‘۔ نیم کے بڑے سے درخت کے نیچے سکھایا گیا وہ سبق مجھے ابھی تک یاد ہے، الحمدللہ۔‘‘ 6
۲۰۱۸ء میں آئی ایس آئی نے اس کی تلاش شروع کر دی اور وہ اپنے وطن میں ہی رہتے ہوئے اجنبی اور بے گھرہو گیا۔ بعداً جب نوائے افغان جہاد کے مدیرِ ثانی جناب میاں طلحہ احمد(فک اللہ اسرہٗ)، جرمِ دعوتِ جہاد و محنتِ نفاذِ شریعت میں گرفتار ہو گئے تو ان کے بعض برقی اکاؤنٹس استعمال کر کے آئی ایس آئی نے مطیع الرحمٰن کو جھانسا دے کر خانیوال میں بلایا، لیکن اللہ نے اس پر رحم فرمایا اور اپنے نورِ ایمانی سے دیکھنے کے سبب اور القاعدہ برِّ صغیر کے فاضل قائدین کے حکیمانہ فیصلوں کے سبب مطیع الرحمٰن اس دھوکے میں آنے سے بچ گیا۔ بعد ازاں ایجنسی کے اہلکاروں نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا لیکن وہ پہلے ہی محاذوں پر پہنچ چکا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی سال فی سبیل اللہ در بدری، بے گھری اور بے گانگی میں گزارے، لیکن اس کے دعوت، جہاد اور قتال میں کوئی فرق نہ آیا۔ بلکہ اسی زمانے میں وہ داعش کے خلاف امارتِ اسلامیہ افغانستان کی تشکیل میں جلال آباد کی طرف بھی روانہ ہوا۔
آخر کار اپنے مخلص تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے ضلع بھمبر پہنچ گیا، تقریباً ایک سال وہیں مختلف معسکرات و جہادی مراکز میں گزارا اور متعدد بارڈر کارروائیوں میں شریک ہوتا رہا۔ بلکہ خونی لکیر یعنی لائن آف کنٹرول کئی بار پار کر کے بھارتی مقبوضہ جموں کے علاقوں میں جا کر ہاون (مارٹر) و کاتیوشا بی ایم (زمین سے زمین پر مار کرنے والا راکٹ) بھارتی بھگوا دہشت گرد فوج پر برساتا رہا ۔ مطیع الرحمٰن نے اوائلِ سال ۲۰۲۰ء میں ایک کارروائی کا احوال خط میں لکھتے ہوئے مجھے بتایا کہ جب وہ بھارتی فوج پر کارروائی کر کے مجاہد ساتھیوں کے ہمراہ واپس ہوا تو ہندو فوج پر حملہ کرنے کے ’جرم‘ میں ایل او سی پر متعین اپنی ہی ’محسن‘ پاک فوج نے ان مجاہدینِ غزوۂ ہند پر فائر کھول دیا۔ اس طرح کے پاک فوج کے حملوں کے سبب جموں و کشمیر میں موجود کئی مجاہدینِ غزوۂ ہند متعدد بار زخمی ہو چکے ہیں۔
مطیع الرحمٰن نہایت راز داری سےآزاد کشمیرمیں رہ رہا تھا اور پاکستانی خفیہ ایجنسیاں اس کو ڈھونڈنے میں ناکام رہ رہی تھیں۔ ایسے میں ایجنسیوں کے ’نامردوں‘ نے مطیع الرحمٰن کے گھر دھاوا بولا اور اس کی بوڑھی و ضعیف ماں پر تشدد کیا، اللہ پاک ان ہاتھوں کو شل کر دے جو اس مجاہد کی بوڑھی ماں پر اٹھے، آمین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ ’مجاہد کے اہلِ خانہ کی حرمت ایسی ہے جیسے کسی کی اپنی ماں کی حرمت‘۔ سوچیے مجاہد کی بیوی کی حرمت ایسی ہے، مجاہد کی ماں کی حرمت کیسی ہو گی اور جو کسی مجاہد کی ماں پر ہاتھ اٹھائے اس سے زیادہ بد بخت دنیا و آخرت میں کوئی ہو سکتا ہے؟
ان حالات میں مطیع الرحمٰن کے لیے گھر جانا یا کسی اور طرف نکلنا بالکل نا ممکن ہو گیا۔ یوں کئی ماہ کی شب و روز کوششوں کے بعد جہادِ غزوۂ ہند میں شرکت کے دیوانہ وار تمنائیوں میں سے اس ایک تمنائی کے ایل او سی پار کر کے داخل کشمیر میں جانے کی ترتیب بن گئی۔ ماہِ دسمبر ۲۰۲۰ءکے شروع میں مطیع الرحمٰن آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ (جموں) سے بھارتی مقبوضہ جموں میں داخل ہو گیا اور چند دن کے پیدل سفر کے بعد بھارتی مقبوضہ جموں سے وادی (کشمیر) میں داخل ہو گیا۔ ۱۲ دسمبر کو مطیع الرحمٰن پیر پنجال کے برفانی پہاڑی سلسلے میں داخل ہوا۔ اس موسم میں بے تحاشا برف باری کے سبب بہت سے راستے مسدود تھے اور اسی حالت میں مطیع الرحمٰن اور اس کے ساتھ موجود دوسرے مجاہد ساتھی سے راستہ گم ہو گیا۔ یہ دونوں مجاہد ایک قریبی گاؤں میں گئے اور ایک مقامی ہمدرد انصار کو ساتھ لے کر سفر پھر سے شروع کر دیا۔ گاؤں میں موجود بھارتی انٹیلی جنس کے ایک جاسوس نے بھارتی پولیس کو مخبری کر دی اورپیر پنجال کے برفانی پہاڑی سلسلے کے ایک پہاڑ کو بھارتی فوج نے گھیرے میں لے لیا۔ بچپن سے مقابلوں اور معرکوں میں مگن مطیع الرحمٰن کو ایک اور معرکہ پیش آیا۔ بھارتی بھگوا دہشت گرد فوج کے ساتھ ایک طویل معرکے کے بعد اکیس (۲۱) سالہ ، ’الرحمٰن ‘ کا اطاعت گزار، کشمیر کے لیے تقریریں کرنے اور تحریریں لکھنے والا، غازیٔ گفتار و کردار مطیع الرحمٰن، مشرک ہندوؤں سے لڑتا ہوا پیر پنجال کے سفید برفانی پہاڑوں کو اپنے سرخ و گرم لہو سے گل و گلزار کر کے راہیٔ جنت ہو گیا۔ ۱۹۹۹ء میں طلوع ہونے والا ستارہ، ۱۳ دسمبر ۲۰۲۰ء کو کہکشاں کی صورت دھار گیا!
شہادت سے قبل مطیع الرحمٰن کا توشۂ خوراک ختم ہو چکا تھا اور وہ فاقے کی حالت میں تھا۔ ظالم و وحشی دشمن اور سخت برف باری کے منفی درجۂ حرارت والے موسم کے محاصرے میں، بھوک برداشت کرتے ہوئے، اپنی حیاتِ دنیوی کے آخری گھنٹوں میں مطیع الرحمٰن نہایت صبر کے ساتھ تھا، زبان پر مستقل ذکر اللہ جاری تھا اور دیگر ساتھیوں کو اپنی ان آخری گھڑیوں میں صبر اور حق کی تلقین کر رہا تھا۔
بھوک کے عالَم میں دنیا سے رخصت ہونے والے مطیع الرحمٰن کا استقبال، ان شاء اللہ جنت کے اعلیٰ دسترخوانوں پر ہوا ہوگا جن کے سامنے دنیا کا ہر طعام و اہتمامِ طعام ہیچ ہے:
عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ (سورۃ آلِ عمران: ۱۶۹)
’’ انہیں اپنے رب کے پاس رزق دیا جاتا ہے۔ ‘‘
ان شاء اللہ حدیث کے مصداق 7جب مطیع الرحمٰن اپنی زندگی کا آخری معرکہ لڑ رہا ہو گا تو اس کی عفیفہ زوجۂ جنت، اپنی سہیلیوں اور خادماؤں کے جلو میں جنت سے اتر کر آسمانِ دنیا پر اس کی شجاعت کا نظارہ کرنے آ گئی ہو گی، وہ اپنے محبوب کی جہاد میں شجاعت کو دیکھ کر فخر کرتی ہو گی اور ابھی مطیع کی روح، اللہ نے اپنی قدرت سے قبض نہیں فرمائی ہو گی کہ اس کا نکاح اس بی بی سے ہو چکا ہو گا۔ تصویروں میں بھگوا ہندو دہشت گردو فوجیوں کے ہاتھوں مطیع کا لاشۂ پامال برف میں گھسٹتا تو ہم نے دیکھا ہے لیکن اس کی روحِ سعید تو حوروں کے ساتھ راہیٔ خیمۂ جنت ہو چکی ہو گی!
فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ (سورۃ آلِ عمران: ۱۷۰)
’’اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس میں مگن ہیں۔‘‘
مطیع الرحمٰن کے ساتھ میری ایک طویل زمانہ خط و کتابت رہی اور اس کے بیسیوں خطوط میرے پاس الحمد للہ محفوظ ہیں۔ میں چند دن قبل اس کے لکھے پرانے خطوط دیکھ رہا تھا، اس کا کوئی خط بھی ایسا نہیں جس میں وہ شہادت کی تمنا کا اظہار نہ کرتا ہو یا جس میں وہ شہادت کی دعا نہ طلب کرتا ہو۔ ایک خط میں اس نے مجھے لکھا:
’’ بس اب دعا یہ ہے کہ اللہ اب تو میدانوں کے لیے بھی چن لیں، (اس دنیا میں) تقریباً ساری ہی خواہشیں پوری ہوگئیں ہیں سوائے شہادت کے……‘‘
بالآخر یہ خواہش بھی پوری ہو گئی، نحسبہ کذلك والله حسيبهٗ ولا نزكي على الله أحدا!
بلا شبہ ہندو فوج اور بھارت پر قابض بھگوا دہشت گرد ہمارے دشمن ہیں اور ہمیں ان سے یہ جذبۂ دشمنی ہمیشہ سے تھا۔ لیکن میرا ذاتی معاملہ یہ ہے کہ میرا اپنا یہ ایک بھائی، جو کچھ مہ و سال پہلے میرے ساتھ تھا، جس کے ساتھ میں اٹھتا بیٹھتا تھا، کھاتا پیتا تھا، ہم اکٹھے ہنستے مسکراتے تھے اور اپنے غم بانٹتے تھے، یہ بھائی انہی بھگوا دہشت گرد ہندو فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا ہے اور میرے دل میں انتقام کی آگ کا ایک نیا الاؤ بھڑک اٹھا ہے۔ مطیع الرحمٰن نے کشمیر میں شہید ہو کر مجھے ان بھگوا دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کا ایک نیا جذبہ عطا کر دیا ہے۔
تیری شہادت نے پیارے بھائی! ہمیں نیا ولولہ دیا ہے
ہمیں قسم ہے خدائے حق کی، کہ تیرا بدلہ ضرور لیں گے!
اے وادیٔ کشمیر! ہم تیرے فی اللہ متوالے و دیوانے، بہت جلد تجھے مشرک ہندوؤں سے چھڑانے اور تیرے دروازے سے غزوۂ ہند لڑنے کے لیے پہنچنے والے ہیں!
وادیٔ کشمیر میں منتظر ہماری ماؤں، بہنو اور بیٹیو! غم نہ کرو، مطیع الرحمٰن جیسے مہاجر بیٹے، بھائی اور باپ بہت جلد تمہاری دہلیز پر پہرہ دیں گے، تمہاری جانب اٹھنے اور بڑھنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، آنکھ پھوڑی جائے گی اور دشمن کا دل سینہ چاک کر کے نکالا جائے گا!
کشمیر کے نہتے مجاہدو اور مرابط سنگ باز نوجوانو! ہمت جمع رکھو، ہم تمہارے مہاجر و انصار بھائی گولیوں سے بھرا ایک جعبہ اپنے سینے پر اور دوسرا اپنی کمر پر لاد کر، ایک کلاشن کوف اپنے ایک کاندھے پر اپنے لیے اور دوسرے کاندھے پر ایک بندوق تمہارے لیے اٹھائے بہت جلد خونی لکیر کو پامال کر کے تم سے ملنے والے ہیں۔
جہادِ کشمیر کی راہ میں حائل خائن ’محسنو‘! وقت کے محمودوں اور ابنِ قاسموں کی راہ سے ہٹ جاؤ، اگر تم ہندوؤں کے خیموں کو بچانے بڑھے تو امریکیوں کی چاکری میں تم نے جو نقصان اٹھایا ہے ، اس سے ہزار گنا زیادہ نقصان تمہیں اٹھانا پڑے گا ، امریکہ تو یہاں سے چلا گیا لیکن مشرک ہندوؤں نے اسی گنگا و جمنا میں غرق ہونا ہے اور مشرکوں کا فرنٹ لائنیا بننے سے تم بھی مشرکوں کی طرح، مثلِ عاد و ثمود نیست و نابود کر دیے جاؤ گے، کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کا وعدہ سچا ہے، غزوۂ ہند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ برپا ہو گا اور سندھ و ہند کے حکمران بیڑیوں میں جکڑے جائیں گے اور برِّ صغیر کی فتح کی خوش خبریاں سیاہ و سفید پرچموں والے سیّدنا مسیح علیہ السلام اور سیّدنا مہدی علیہ الرضوان کے پاس شام و فلسطین میں پہنچائیں گے!
اور اے مشرک ہندوؤ! تمہیں ہمارا کوئی پیغام پڑھنے اور سننے کی ضرورت نہیں۔ بہت جلد اپنا انجام تم خود دِلّی و بمبئی، لکھنؤ و احمد آباد اور مدراس و کلکتہ میں دیکھو گے!
آخر میں اپنے سگے بھائی کی طرح عزیز و محبوب، مطیع الرحمٰن شہید کی شہادت سے تقریباً تین ہفتے قبل لکھی آخری وصیت کے بعض اقتباسات نقل کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں:
’’بسم الله الرحمٰن الرحیم
جہاد فریضہ ہے، اور فرض سے رو گردانی اللہ کے عتاب کا باعث۔
إِلاَّ تَنفِرُواْ يُعَذِّبْكُمْ عَذَاباً أَلِيماً وَيَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ وَلاَ تَضُرُّوهُ شَيْئاً وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (سورۃ التوبۃ: ۳۹)
’ اگر تم (جہاد کے لیے) نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا، اور تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا، اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ‘
دجل کا زمانہ ہے اور اصطلاحات کی چوری ایک ٹرینڈ۔
جہاد محض اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ہے، جب کہ ذیلی مقاصد کو بھی اعلائے کلمۃ اللہ کا اعلیٰ و ارفع مقصد ہی ’کور‘(cover) کرتا ہے۔ دیگر دنیوی اور وطنی عَلَم ہر کچھ ہو سکتے ہیں جہاد نہیں!
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلہ (سورۃ الانفال: ۳۹)
’ اور (مسلمانو) ان کافروں سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔ ‘
بندۂ فقیر نے دنیا کو دیکھا اور وہ بھی قریب سے، بے جا افکار و نظریات اور کالعدم سی پریشانیوں کا خزانہ۔ جب کہ مومن کو اللہ ’احدی الحسنیین‘ (دو بھلائیوں میں سے ایک) کی طرف بلاتے ہیں۔
میں اپنے کثیر کرم فرماؤں، محبت کرنے والے بزرگوں اور محفل کی رونق دوستوں، سب کو یاد رکھے ہوئے ہوں۔ آئیے اپنی قلیل مگر قیمتی ترین حیات ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ ہم دنیا میں کسی کام پر آئے ہیں اور اس کی جواب دہی بھی ہو گی۔
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ (سورۃ المومنون: ۱۱۵)
’ بھلا کیا تم یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہیں یونہی بےمقصد پیدا کردیا، اور تمہیں واپس ہمارے پاس نہیں لایا جائے گا ؟ ‘
مجاہدینِ کشمیر!
ہم بد ترین خائن اور قابلِ ملامت ٹھہریں اگر ہم مشرک بھگوا فوجوں سے کوئی بھی نرمی برتیں یا پھر خود کو، اپنے رازوں یا ترتیبوں کو صلیبی اتحادیوں کے حوالے کر دیں، کیونکہ مومن تو ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا۔
احباب!
قلیل زندگی کے با وجود سفر طویل اور منزل دور ہے، تو آئیے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ شاعرِ جہاد، مرشد احسن عزیز رحمہ اللہ کے الفاظ میں:
تخت اور تاج تلک، سلطنت و راج تلک
جن کی خاطر یہ سفر جاری رہا آج تلک
محفلِ حور تلک، نقرئی قصور تلک
راحتِ عین تلک، زمرۂ حضورؐ تلک
مجھے جانا ہے بہت دور، بہت دور تلک
ہاں مری جاں! بہت دور بہت دور تلک
اللھم قدر فتح الہند بایدینا، و یسرہ لنا ثم بارک لنا فیہ یا ارحم الراحمین. اللھم وفقنا لما تحب. اللھم خذ دمائنا حتیٰ ترضی!
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
۱۹ نومبر ۲۰۲۰ء، جمعرات‘‘
٭٭٭٭٭
1 رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’ تَهَادَوْا تَحَابُّوا‘، ’تحفہ و ہدیہ دو اور محبت بڑھاؤ!‘ (مؤطا امام مالک)
2 یہاں گدائی سے مراد فقیری ہے، گدا سے مراد فقیر (نہ کہ خدانخواستہ بھکاری) اور ہم جیسے ’منعِم‘ نہیں!
3 ’’ اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں ۔‘‘ (سورۃ الحشر: ۹)
4 ’’اور جو مومن ہیں ان کو صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہایت قوی محبت ہے۔‘‘ [(سورۃ البقرۃ: ۱۶۵) ترجمہ از حضرت تھانویؒ]
5 ترجمۂ آیت: ’’ چنانچہ ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کی (اور کہا) کہ : میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع نہیں کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ تم سب آپس میں ایک جیسے ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے ہجرت کی، اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا، اور میرے راستے میں تکلیفیں دی گئیں، اور جنہوں نے (دین کی خاطر) لڑائی لڑی اور قتل ہوئے، میں ان سب کی برائیوں کا ضرور کفارہ کردوں گا، اور انہیں ضرور بالضرور ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے انعام ہوگا، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بہترین انعام ہے۔‘‘
6 پھر یہی سبق مطیع الرحمٰن کو ان مجاہدینِ عالی قدر کے پاس جنت میں بھی لے گیا جنہوں نے جہاز مار کر امریکہ کے تکبر کو توڑنے والا پہلا کاری وار کیا تھا! اللہ پاک انہی مجاہدین کے ساتھ اس کا معاملہ فرمائیں (نحسبہم کذلك والله حسيبهم)۔ اللہ پاک اپنے خزانۂ غیب سے اس کی والدہ کی حمایت و نصرت فرمائیں اور انہیں صبرِ جمیل و اجرِ جزیل عطا فرمائیں، آمین!
7 بحوالہ مشاری الاشواق



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



