اس تحریر میں چند ایسے واقعات ہیں جو مجھے کبھی نہیں بھولتے ان میں سے چند تو میرے ساتھ پیش آئے یعنی میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور چند دوسروں سے سنے۔ یہ واقعات کسی خاص موضوع سے تعلق نہیں رکھتے: ان میں مجاہدین کے ایثار، بہادری، تقویٰ وغیرہ کے واقعات ہیں، چند انصار کے مہاجر مجاہدین کے ساتھ محبت کے قصے ہیں اور چند کافروں کے مظالم کی داستانیں بھی۔ بس ملے جلے واقعات ہیں ، اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس تحریر کو اپنے حضور قبول فرما لے، آمین۔ (ابرار احمد)
عثمان بھائی شہیدؒ
عثمان بھائی کا تعلق جنوبی پنجاب کے علاقے تونسہ شریف سے تھا، میدانِ جہاد ان کو مصعب کے نام سے جانتا ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں ہی حاصل کی۔ آپ نے انجنئیرنگ کی تعلیم کےلیے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ لیا ۔ آپ اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک ہوئے، ادھر آپ کا تعارف القاعدہ سے وابستہ کچھ ساتھیوں سے ہوا جو دعوتی کام کرتے تھے۔ ساتھیوں نے آپ کو بھی جہاد کی دعوت دی، آپ تو جیسے انتظار میں تھے۔ فوراً دعوت قبول کی اور اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے تیار ہو گئے۔ آپ کو ساتھیوں نے بہت کہا کہ آپ کچھ عرصہ یہیں گزار لیں لیکن آپ قطعاً اس معاشرے میں نہیں رہنا چاہتے تھے۔
آپ کے جذبۂ جہاد کو دیکھ کر آپ کو آپ کے امیر نے وزیرستان جانے کی اجازت دے دی۔ آپ کو جب اجازت ملی تھی مجھے آج بھی یاد ہے کہ آپ اتنے خوش تھے کہ آپ کوجیسے دنیا کی سب سے بڑی نعمت مل گئی ہو ۔
آپ اللہ سے شہادت اس تڑپ سے مانگتے تھے کے ساتھی آپ کو زندہ شہید کہا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے عزام بھائیؒ نے بتایا کہ ایک رات میں نیند سے اٹھا اور کمرے کی لائٹ جلائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ مصعب بھائی نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے آنسو تھے کہ رک ہی نہیں رہے تھے۔ عزام بھائیؒ نے کہا مجھے اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ یہ بندہ اپنے رب سے جلد شہادت منوا لے گا اور ہوا بھی ایسا ہی۔ آپ کچھ ہی دن بعد دشمن پر حملے کےلیے جا رہے تھے کہ راستے میں ڈرون حملہ ہوا اور اور آپ اس میں شہید ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون !
ویسے تو عثمان بھائی کے بہت سے واقعات ہیں مگر ایک واقعہ ایسا ہے جس نے مجھے ان کے بہت قریب کر دیا۔
ابھی مجھے ان سے ملے ہوئے تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا ۔ ہم لوگ ایک بار ہاسٹل کی مسجد میں نماز کے لیے گئے۔ میں نماز سے فارغ ہو کے پچھلی صف میں عثمان بھائیؒ کا انتظارکرنے لگا۔ وہ دعا میں مصروف تھے۔ کافی دیر بعد وہ دعا سے فارغ ہوئے۔
انہوں نے پیچھے مڑکے دیکھا۔ مجھے دیکھ کے تھوڑے شرمندہ سے ہوگئے، ان کواندازہ نہیں تھا کہ میں ان کے انتظار میں بیٹھا ہوں ۔ وہ اٹھ کے آئے اور میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ ان کا دامن آنسوؤں سے ایسے بھیگ چکا تھا جیسے ابھی ان پر کسی نے پانی انڈیلا ہو۔
یونیورسٹی کے ماحول میں اپنے اللہ کے آگے اس طرح گڑگڑا کے رونا میرے تصور میں بھی نہ تھا۔ اس واقعے نے مجھے عثمان بھائی کے بہت قریب کر دیا اور اللہ نے انہِیں کو میرے جہاد میں نکلنے کا سبب بنادیا۔ اللہ پاک جنت الفردوس میں بھی مجھے ان کے قریب کر دے، آمین!



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



