بسم الله الرحمان الرحيم
تنظيم حراس الدين
امارتِ اسلامیہ کی فتح پر امتِ مسلمہ کو مبارکباد
الحمد للہ معزّ الإسلام بنصرہ ومذلّ الشرك بقھرہ، والصلاۃ والسلام علی عبدہ ورسولہ محمد المبعوث بالسیف حتی یعبد اللہ وحدہ لا شریك لہ۔
گیارہ ستمبر کے مبارک حملوں کی بیسویں برسی کے موقع پر… ہماری محبوب امتِ مسلمہ کو افغانستان کی زمین سے فتح کی خوشخبریاں بھی موصول ہوئیں۔ دو دہائیوں کے صبر، جہاد، استقامت اور قربانیوں کے نتیجے میں… اللہ کے فضل سے… افغانستان کا پایہ تخت کابل آزاد ہوا اور حملہ آور افواج شکست کھا کر بھاگ نکلیں۔
اس عظیم فتح اور واضح کامیابی نے … جس سے ہمارے رب تعالیٰ نے مجاہدینِ طالبان کو سرفراز فرمایا… امتِ مسلمہ کے بیٹوں میں امید کی روح پھونک دی ہے، اور انھیں اس بات کی بشارت دی ہے کہ جو کوئی اللہ کی مدد کرے، اس کے راستے میں جہاد کرے، اس کے دین کے قیام اور شریعت کے نفاذ کی کوشش کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مد د فرماتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ ﴾
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو، تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے پاؤں جما دے گا۔‘‘ (محمد:۷)
اس عظیم فتح اور واضح کامیابی نے پوری دنیا کے سامنے بالعموم اور مسلمانوں کے سامنے بالخصوص امریکہ اور نیٹو کے جرائم کی حقیقت کھول دی ہے اور ان کی مزعومہ قوت کی حقیقت اور ان کے ظلم وستم کے نتائج بھی واضح کرکے رکھ دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭفَسَيُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُوْنَ ڛ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحْشَرُوْنَ﴾
’’جن لوگوں نے کفر کیا، وہ اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے مال خرچ کرتے ہیں، پس وہ خرچ کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ یہ مال خرچ کرنا ان کے لیے خسارے کا باعث بن جائے گا، پھر وہ شکست کھا جائیں گے۔ اور یہ کافر لوگ جہنم کی طرف ہی ہانکے جائیں گے۔‘‘ (الأنفال:۳۶)
افغانستان کا یہ کامیاب تجربہ امتِ مسلمہ کے بیٹوں کے لیے روشن شمع اور ایک نمونہ ہے، وہ جو معاصر جاہلی نظام سے آزادی اور اسلامی ریاست کے قیام کی چاہت رکھتے ہیں۔ اس فتح کے حوالے سے نہ تو تفریط ہونی چاہیے اور نہ ہی اس کے نتائج کے حصول میں کوتاہی ہونی چاہیے۔ پس یہ (جہاد وفتح کا) راستہ اس کا تقاضہ کرتا ہے کہ خوب مضبوطی سے اس سے چمٹا جائے، اس پر استقامت دکھائی جائے اور اس کے نتائج کماحقہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، اور عالمی طاقتوں کی ہر چال اور حیلے سے ہوشیار رہا جائے جو اس عظیم کامیابی اور فتحِ مبین کے ثمرات ضائع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ﴾
’’اور ہم نےتختیوں پر ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، (اور یہ حکم دیا کہ)اب اسے مضبوطی سے تھام لو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کے بہترین احکام کو لازم پکڑیں، میں عقریب تمہیں نافرمانوں کا گھر دکھا دوں گا۔‘‘ (الأعراف:۱۴۵)
پس جو کوئی عزت اور تمکین کی تلاش میں ہے تو یہ عظیم فتح اور کھلی کامیابی اس کے سامنے واضح کرتی ہے کہ اس کا واحد راستہ ’جہاد فی سبیل اللہ‘ ہے، اپنی جان ومال کے ساتھ اور اپنے جامع مفہوم میں جہاد کرنا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ۭ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا ۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ اَلَّذِيْنَ اِنْ مّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۭ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ﴾
’’جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انہیں اجازت دی جاتی ہے ( کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں صرف اتنی بات پر اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کے شر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتارہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گا ہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کردی جاتیں۔ اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔‘‘(الحج:۳۹ تا ۴۱)
پس پوری امتِ مسلمہ کو عموماً اور افغان عوام، ان کی قیادت اور ان کے مجاہدین کو خصوصاً ہم اس عظیم فتح اور بڑی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امارتِ اسلامیہ افغانستان کی قیادت اور مجاہدین کو ہر خیر کی توفیق عطا فرمائے، ان کے لیے دینِ اسلام کو زمین میں تمکین عطا فرمائے، ان کے قدموں کو جمادے، اور دشمنوں کی چالوں کو ان سے پلٹا دے، آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
مؤسسة الشام الرباط للإنتاج الأعلامي
محرم 1443

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



