امرا و مسئولین کو نصیحتیں[۳]
عوام کے حقوق کی حفاظت
ہر امیر کے لیے لازم ہے کہ وہ عوام اور رعیت کے حقوق کی حفاظت کرے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سےسنا:
’’خبردار! تم میں سے ہر شخص اپنی رعیت کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) تم سے ہر شخص کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا، لہٰذا امام یعنی سربراہ مملکت و حکومت جو لوگوں کا نگہبان ہے اس کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی، مرد جو اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس کو اپنے گھر والوں کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی، عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے، اس کو ان کے حقوق کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوگی اور غلام مرد جو اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اس کو اس کے مال کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی۔ لہٰذا آگاہ رہو ! تم میں سے ہر ایک شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا۔ ‘‘(بخاری ومسلم)
دوسری جگہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ:
’’یا اللہ! جس کسی کو میری امت کےامور کی مسئولیت دے دی جائے اور وہ اس میں سختی برتے، یا الٰہی تو بھی اس کے ساتھ سختی کراور جس کسی کو میری امت کے امور کی مسئولیت دے دی جائےاور اس میں نرمی اختیار کرے یا اللہ تو بھی اس کے ساتھ نرمی کر۔‘‘
حضرت عمرو بن مرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ :
’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے کسی کام کا ولی وحاکم بنایا اور اس نے مسلمانوں کی حاجت، عرضداشت اور محتاجگی سے حجاب کیا یعنی اس کو اس کے مطلوب سے دور رکھے گا تو اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرے گا ‘‘۔ حضرت امیر معاویہؓ یہ حدیث سن کر بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے ایک شخص کو اس کام پر مقرر کردیا کہ وہ لوگوں کی ضروریات پر نظر رکھے اور ان کی حاجتوں کو پورا کرتا رہے۔ (ابو داود، ترمذی)
لہٰذا امرا کو چاہیے کہ لوگوں سے اپنے آپ کو دور نہ رکھیں، بلکہ ان کا حال معلوم کریں، مظلوموں کی نصرت کریں اور ظالم کا ہاتھ روکیں۔
جیسا کہ حضرت انسؓ کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، یعنی ظالم کی مدد سے مراد یہ ہے کہ اس کو ظلم سے روکا جائے۔‘‘
امارت کے کارکن ہرگز کسی شخص کے جرم کے بارے میں دوسرے شخص کی بات نہ سنیں، کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان دونوں کے مابین پرانی عدوات ہو۔ بلکہ ان کو چاہیے کہ خود مجرم کے جرم کے بارے میں تحقیق کریں یا اس کام کی تحقیق کے لیے امین شخص کا انتخاب کریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ (سورۃ الحجرات: ۶)
’’اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔‘‘
خلیل بن احمد نے فرمایا:
’’جو شخص تمہارے سامنے کسی دوسرے کی چغلی کرتا ہے وہ دوسروں کے سامنے تمہاری چغلی بھی کرتا ہے، اور جو شخص تمہارے سامنے دوسروں کے عیوب بیان کرتا ہے، وہ دوسروں کے سامنے تمہارے عیوب بھی ظاہر کرتاہے۔‘‘
لیکن جیساکہ امرا پر عوام کے حقوق کی حفاظت کرنا لازم ہے، اسی طرح امرا کے بھی عوام پر کچھ حقوق ہیں، نبی کریمﷺ نے فرمایا:
’’دین نصیحت ہے (یعنی نصیحت اور خیر خواہی اعمال دین میں سے افضل ترین عمل ہے یا نصیحت اور خیر خواہی دین کا ایک مہتم بالشان نصب العین ہے) ۔ حضور نے یہ بات تین بار فرمائی۔ ہم نے (یعنی صحابہ نے )پوچھا کہ یہ نصیحت اور خیر خواہی کسی کے حق میں کرنی چاہیے ؟ حضور نے فرمایا کہ: اللہ کے لیے ، اللہ کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے اماموں یعنی اسلامی حکومت کے سربراہوں اور علما کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے۔‘‘( مسلم)
نصیحت ان الفاظ کو کہتے ہیں، جس میں مخاطب کے لیے خیر اور خیر خواہی کی باتیں ہوں، نصیحت اور نصح اصل میں خلوص کے معنیٰ سے ہے، مسلمانوں کے امیر کے لیے خیرخواہی یہ ہےکہ حق میں ان کی پیروی کی جائے اور اگر ضرورت پڑے، تو احترام و ادب سے ان کو حق کی طرف دعوت دی جائے۔ علامہ خطابی رحمہ اللہ نے فرمایا:مسلمانوں کے امرا کے لیے خیر خواہی یہ ہے، کہ ان کے پیچھے باجماعت نماز پڑھی جائے، ان کے ساتھ مل کر جہادمیں شرکت کی جائے، ان کو صدقہ اور زکوٰۃ ادا کیاجائے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر و خیرخواہی کی دعائیں مانگی جائیں، اگر ان سے کہیں ظلم و فساد ہوجائے تو ان کے خلاف تلوار نہ نکا لی جائے، ان کو عزت و احترام سے نصیحت کی جائے اور جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کریں تب تک ان کی اطاعت کرنا سب مسلمانوں پر لازم ہے۔
وما علینا إلّا البلاغ المبین!
٭٭٭٭٭




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



